نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

وار آن ٹیرر کی حقیقت

مجاہد فی سبیل اللہ، لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز شہید ﷬

by لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز
in اکتوبر 2020, فکر و منہج
0

لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز پاکستان کی ملٹری ایلیٹ میں ایک نمایاں نام ہیں۔ چیف آف جنرل سٹاف اور کور کمانڈر لاہور جیسے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل نیب (قومی احتساب بیورو) رہے۔ فوج کو آپ نے قریب سے دیکھا اور اس کو باطل جانا۔ بعد از ریٹائرمنٹ آپ نے اپنے ضمیر کی آواز پر اپنی خود نوشت ’یہ خاموشی کہاں تک‘ لکھی اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ کو القاعدہ برِّ صغیر کے سرکردہ ذمہ دار اور مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ (’نوائے غزوۂ ہند‘ کا سابقہ نام)کے بانی مدیر حافظ طیب نوازؒ صاحب کے ذریعےبراہ راست حق کی دعوت ملی۔ آپ نے حق کی دعوت کو سمجھا اور اس پر لبیک کہتے ہوئے جہاد سے وابستہ ہو گئے۔ ایمان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے، بطورِ کفارہ آپ نے بہتر جانا کہ آپ جہاد، خصوصاً عصرِ حاضر میں امریکہ کے خلاف جاری جہاد کے متعلق لکھیں اور دعوتِ جہاد میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اس غرض سے آپ نے اپنی دوسری کتاب ’War against Terrorism and the concept of Jihad‘ تصنیف کی۔ آپ کو یقین تھا کہ اس کتاب کو لکھنے کے جرم میں آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا، لہٰذا اس کتاب کی تکمیل تک آپ نے اس بات کو صیغۂ راز میں رکھا۔ سنہ ۲۰۱۵ء کے نصفِ آخر میں آپ کی یہ کتاب مکمل ہوئی تو اس کتاب کا ایک نسخہ القاعدہ برِّ صغیر کے مرکزی ذمہ داران تک اس پیغام کے ساتھ پہنچایا کہ ’میں ارضِ جہاد کی طرف ہجرت کرنا چاہتا ہوں ‘،ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’اگریہ کتاب شائع ہو جائے اور پھر میں گرفتار کر لیا جاؤں تو مجھے کچھ غم نہیں!‘ ۔ آپ کی گرفتاری یا شہادت کی صورت میں اس کتاب کے ’مستند‘ ہونے پر کوئی اعتراض نہ کرے تو آپ نے خود ہی اس کا بندو بست بھی فرمایا کہ اسے’بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد‘ کے شعبۂ اسلامیات میں ’ایم اے‘ کی سند کے مقالے کے طور پر جمع کروایا۔لیکن اس سے پہلے کہ آپ میدانِ جہاد میں پہنچتے پاکستان کے خفیہ اداروں نے آپ کو گرفتار کر کے پسِ زنداں ڈالا اور یوں امریکی ’وار آن ٹیرر‘ میں فرنٹ لائن اتحادی اور امریکی وفاداری میں دین تو دین، اپنے ’ادارے کی وفاداری ‘ (Military Comradeship) کو بھی پامال کیا۔ سال ۲۰۱۸ء کے وسط میں آپ کی شہادت کی خبریں منظرِ عام پر آئیں۔ بعض ذرائع نے شہادت کی اطلاعات کی تردید کی، لیکن مجاہدینِ القاعدہ برِّ صغیر کو اپنے ذرائع سے جو خبریں ملیں، ان کے مطابق مجاہد فی سبیل اللہ شاہد عزیز صاحب، شہید ہو چکے ہیں، اللہ پاک آپ سے راضی ہو جائیں اور آپ کو انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کی معیتِ حسنہ عطا فرمائیں، آمین۔ لیکن (گو کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے) اگر آپ بحالتِ گرفتاری حیات بھی ہیں تو ہم دعا گو ہیں کہ اللہ پاک آپ کو ایمان پر استقامت کے ساتھ رہائی عطا فرمائیں۔

زیرِ نظر مضمون شاہد عزیز صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ بالا ’انگریزی‘ تصنیف کے زیرِ طبع و ترتیب اردو ترجمے سے لیا گیا ہے۔ اردو ترجمہ ’قاضی ابو احمد‘ نے کیاہے۔ زیرِ نظر منتخب مضمون شاہد عزیز صاحب کی کتاب کا چھٹا باب ہے جس میں آپ نے وار آن ٹیرر کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ (ادارہ)


يہاں ہم ان غلط مفاہیم پر روشنی ڈالیں گے، جنہیں مغرب نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو جاری رکھنے کے لیے تخلیق کیا ہے ، ان غلط مفاہیم کا جائزہ ایک امریکی ماہر نے لیا ہے۔ یہ باب مائیکل ایف شوئیر کی شاندار کتاب Imperial Hubris: Why the West Is Losing the War on Terror کے اقتباسات اور تبصروں پر مبنی ہے ۔ شوئیر سابقہ سی آئی اے انٹیلی جنس افسر ، مصنف، تاریخ دان، خارجہ پالیسی اور سیاسی امور کے تجزیہ کار ہیں۔ اپنی بائیس سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے ۱۹۹۶ء سے ۱۹۹۹ء تک مرکز برائے امورِ بن لادن کے چیف کی حیثیت سے،محکمہ برائے انسدادِ دہشت گردی میں اسامہ بن لادن کی سراغ رسانی کے یونٹ میں کام کیا۔ پھر دوبارہ ستمبر ۲۰۰۱ء سے نومبر ۲۰۰۴ء تک انہوں نے بن لادن یونٹ کے چیف کے مشیرِ خصوصی کی حیثیت سے کام کیا۔ شوئیر کو ۲۰۰۴ء میں اپنی کتاب Imperial Hubris کے بعد عوامی مقبولیت حاصل ہوئی، جس میں انہوں نے دنیا میں اس وقت برپا اسلامی بغاوت کے متعلق امریکہ کے کئی مفروضوں پر تنقید کی ہے۔

انہوں نےمجاہدینِ اسلام کی کارروائیوں کو دہشت گردی کی بجائے جنگ قرار دیتے ہوئے امریکی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ یہ جان لیں کہ وہ کسی مجرم ذہنیت یا دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ ایک عالمگیر اسلامی بغاوت کے خلاف برسرِ پیکار ہیں؛ کیونکہ یہ (جہادی) کارروائیاں اس دفاعی جہاد کا حصہ ہیں جس کی اجازت اللہ رب العزت کے کلام قرآن پاک اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور سنت میں دی گئی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت اپنے مخالفین کو قابلِ ذکر نقصان پہنچانے میں ناکام اسی لیے رہی ہے کہ اس نے حقیقت کو واشگاف انداز میں قبول نہیں کیا۔ گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کی دہشت گردی مخالف پالیسیوں اور کارروائیوں نے دنیا کو محفوظ تر بنانے کی بجائے مسلم دنیا میں مزید انتہا پسندی پیدا کی۔

شوئیر نے لکھا ہے کہ ’’ بدقسمتی سے،تہذیبِ اسلامی کے بارے میں اس تجزیے نے کہ یہ ایک ناکام تہذیب ہے، امریکی اشرافیہ، پالیسی سازوں اور ووٹروں کے اس تاثر کومزید پختہ کردیا کہ اسلامی دنیا دیوانگی کی حدوں کو چھو رہی ہے،ورنہ امریکہ نےتو ایسا کچھ نہیں کیا جو القاعدہ کے حملوں کی بنیاد بنا ہو یا جس کی وجہ سے اسلامی دنیا میں بڑے پیمانے پر امریکہ مخالف جذبات پیدا ہوئے۔یہ تجزیہ محض اس تصور کو تقویت دے سکتا ہے کہ اس قسم کے حملے نہ صرف غیر منطقی ہیں بلکہ یہ اپنے وقت کی شاندار اور عالمگیر اسلامی تہذیب کے دم توڑنے پر مسلمانوں کا جنونی ردعمل ہیں۔ نیز یہ تجزیہ اس تصور کو بھی تقویت دیتا ہے کہ تشدد کا مقصد صرف اور صرف انھیں تباہ و برباد کرناہے جنھوں نے اسلام کی زوال پذیری میں اپنا حصہ ڈالا‘‘۔

ایک اور جگہ شوئیر نے لکھا کہ ’’ سینئر امریکی قائدین یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی ہم سے نفرت اور ہم پر حملے کرنے کی وجہ ہمارے افعال نہیں بلکہ ہماری سوچ اور ہمارا وجود ہے؛ اور امریکیوں کے لیے یہ فیصلہ کرنے میں کہ اہل اسلام کے خطرے کا مقابلہ کس طرح کیا جائے، یہی تصورسب سے بڑا مانع ہے۔ اسلامی دنیا، ہمارے جمہوری سیاسی نظام، شخصی حقوق اور شہری آزادیوں کی ضمانت، اور دین ودنیا کو الگ الگ رکھنے پر اس قدر کبیدہ بھی نہیں ہے کہ امریکیوں کو محض انتخابات، آزادیٔ رائے اور اپنی مرضی سے عبادت کرنے یا نہ کرنے سے روکنے کی خاطر ایسی جنگ چھیڑ دے جس میں ان کی کامیابی بعید از امکان ہو۔ (…) اسلامی دنیا کی ہم سے نفرت اور ہم پر حملوں کا تعلق کسی طرح بھی ہماری آزادی، حریت اور جمہوریت سے نہیں ہے بلکہ ان کا براہ راست تعلق اسلامی دنیا میں امریکی پالیسیوں اور حرکتوں سے ہے‘‘۔

پوری اسلامی دنیا میں امریکہ سے اس کی خاص حکومتی پالیسیوں اور حرکتوں کی بنا پر نفرت کی جاتی ہے۔ یہ نفرت حقیقی ہےخیالی نہیں۔ یہ نفرت محض سوچ تک محدود نہیں بلکہ جنگی صورت دھارے ہوئے ہے اور مستقبل قریب میں اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ امریکہ میں سرکردہ افراد کے یہ دعوے کہ مسلمان امریکی پالیسی کا اصل مقصد نہیں سمجھتے اور عرب سیٹیلائٹ ٹی وی چینل جان بوجھ کر امریکی پالیسیوں کو مسخ کرکے بیان کرتے ہیں اور یہ کہ بہتر عوامی سفارت کاری ہی اس کا حل ہے، غلط ہیں۔ امریکہ سے نفرت اور اس پر حملے اس لیے کیے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ یقین ہے کہ امریکہ جو کچھ اسلامی دنیا میں کررہا ہے ، وہ اس کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں ۔

دنیا کے ایک اعشاریہ تین ارب مسلمانوں میں سے بیشتر ، امریکی پالیسیوں اور افعال کے مقاصد کے فہم میں جنگجوؤں (مجاہدینِ اسلام) کے ساتھ متفق ہیں ۔ اختلافات اگر ہیں بھی تو وہ امریکہ کے ارادوں اور مقاصد کے بارے میں نہیں بلکہ ان سے نمٹنے کے طریقۂ کار سے متعلق ہیں۔ شوئیر ایک اہم سوال پوچھتا ہے کہ ’’مسلمان ہم سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ آیا وہ ہم سے ہماری سوچ اور ہمارے طرز زندگی کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں یا ان کی نفرت کی وجہ مسلم دنیا میں کیے جانے والے ہمارے اقدامات ہیں؟‘‘، اور پھر امریکی پالیسیوں اور افعال پر جنگجوؤں کے نقطہ ہائے نظرکی چند وجوہات کی نشاندہی کرتا ہے:

  1. مرتد، فاسد اور سفاک مسلمان حکومتوں کے لیے امریکی حمایت۔
  2. سستے اور سہل الحصول تیل کی خاطر واشنگٹن اور مغرب، ان جابر مسلمان حکومتوں کی حمایت کرتے رہے ہیں جنہیں اسلام پسند ختم کرنا چاہتے ہیں۔
  3. امریکہ نے اعلان کیا کہ اسلام پر حملہ آوروں کے خلاف جہاد کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے اور پھر پوری دنیا سے اکثر بلا تحقیق ، سیکڑوں مجاہدین کوگرفتار کیا اور جیلوں میں ڈال دیا۔ ایک مسلمان کے لیے اسلام کے تحفظ کی خاطر دفاعی جہاد سے پیچھے رہنے کا مطلب شریعتِ الٰہی کی نافرمانی اور عذاب کا مستحق ہونا ہے۔ مصنف تسلیم کرتا ہے کہ ایمان کی حفاظت کے عمل کو عام طور پر ’’جہاد‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا حکم قرآن پاک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور چودہ صدیوں سے زیادہ اسلامی علوم اور فقہ میں بہ تکرار درج ہے۔
  4. امریکہ نے مسلمان مختارانِ تعلیم و تدریس سے مطالبہ کیا کہ وہ نصاب میں تبدیلی لائیں اور اس قسم کے اسلام کی تعلیم دیں جو جدیدیت کے تقاضوں سے ہم آہنگی اورامریکی مفادات سے زیادہ موافقت رکھتا ہو۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اس طرح مسلمان امریکی احکام اور انسانوں کے بنائے نظام کے عوض، اللہ کے اس کلام کو جو اللہ نے قرآن کی صورت میں نازل فرمایا(جسے مسلمان کامل اور ناقابل تغیر سمجھتے ہیں )اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور سنت کو ترک کردیں۔
  5. امریکہ اکثر عراق، شام، سوڈان، افغانستان ، لیبیا، پاکستان، ایران اور انڈونیشیا کے مسلمان عوام پر، بذات خود یا اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر، معاشی اور عسکری پابندیاں لگاتا ہے ۔ یہ حرکتیں مسلمانوں کو امریکی اوامر کی تعمیل پر مجبور کرتی ہیں ؛ مثلاً جوہری ہتھیار بنانے کی وجہ سے پاکستان پر پابندیاں لگانا، جبکہ ایسے ہی ہتھیار رکھنے پر بھارت اور اسرائیل سے اغماض برتنا۔
  6. امریکی حکومت اور تیل کی کمپنیاں جزیرۂ عرب پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس کے توانائی کے وسائل مغرب کوبازاری نرخ سے کم پر فروخت کیے جائیں۔
  7. امریکہ نے، حق خود اختیاری کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، انڈونیشیا سے اس کی سب سے زیادہ آبادی والی مسلم ریاست، مشرقی تیمور لے کر، اس میں ایک نئی عیسائی ریاست کی تشکیل میں اقوام متحدہ کی مدد کی۔اگست ۲۰۰۳ء کے حملے کا محرک بیان کرتے ہوئے، جس میں عراق کے لیے اقوام متحدہ کا نمائندۂ خصوصی سرجیو وییرا ڈی میلو (Sergio Viera de Mello)مارا گیا تھا، القاعدہ نے کہا کہ ’’یہ وہ صلیبی تھا جس نے اسلامی سرزمین (مشرقی تیمور) کے ایک حصے کو کاٹا تھا‘‘۔اقوام متحدہ کےاسلام مخالف قانون میں، حریتِ مسلم کی ممانعت ہے؛ آزادی، (عیسائی) مشرقی تیمور کے لیے روا مگر کشمیر کے لیے ممنوع ہے؛ نصرانی جورجیا کے لیے خودمختاری جائز ہے مگر چیچنیا کے لیے ناجائز؛ صلیبی کرویشیا کےلیے آزاد ہونا حلال ہے، مگر بوسنیا کے لیے حرام۔
  8. فی الوقت امریکہ افغانستان، عراق اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش، جزیرۂ عرب کی مسلمان ریاستوں پر نہ صرف قابض ہے بلکہ ان پر باقاعدہ حکومت بھی کررہا ہے۔ القاعدہ کے مجلّے’الانصار‘نے ۲۰۰۳ء کی امریکہ عراق جنگ کے دور میں لکھا، ’’ شرم ناک حقیقت، جسے ہمیں بالکل بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، یہ ہے کہ خلیجی تعاون کی تنظیم (Gulf Cooperation Council) میں شامل تمام ممالک مقبوضہ ہیں۔ چونکہ یہ قبضہ غیر مشروط، مکمل دست برداری کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا لہٰذا اس قبضے میں دشمن کی صفوں کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا۔ کویت، بغیر کسی جنگ و جدل کے امریکی اڈہ بن گیا۔ قطر میں ایک چھوٹا پنٹاگون بلا جنگ ہی قائم ہوگیا۔ سرزمینِ حرمین (سعودی عرب) میں عسکری تجاوازت، جنہوں نے مکہ اور مدینہ کو گھیرا ہوا ہے، بلا مزاحمت قائم ہیں۔ غرض پورا خطہ ہی بیرونی طاقتوں کےقبضے میں ہے‘‘۔
  9. اس میں کچھ شک نہیں کہ امریکہ مسلم فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی پشت پناہی کرتا ہے اور اس نے یہودیوں کے نیل تا فرات ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کے قیام کے ہدف کو ترقی دینے کے لیے ہی عراق پر حملہ کیا۔ نتیجتاً تاثر یہ بنا کہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو، خود مسلمانوں کو اگرنہیں بھی تو، اسلام کے ان تمام پہلوؤں کو نابود کرنے پر ضرور کمربستہ ہے جو اسے غیر اطمینان بخش محسوس ہوتے ہیں ۔
  10. ایک اور عنصر بھی ایسا ہے جو امریکہ کے مسلمان دشمنوں کی نفرت کو انگیز کرتا ہے۔ بن لادن، القاعدہ، ملا عمر، اور ’مجاہدین‘ایک ایسی دنیا میں نجات دہندہ کی شہرت کے حامل بن کر ابھرے جہاں اکثر مسلمان قائدین ایسے بے اختیار بادشاہ اور شہزادے ہیں جو تبلیغ تو کٹّر اسلام کی کرتے ہیں مگر خود بے اندازہ عیاشی میں گھرے رہتے ہیں؛ یا پھر قتل و قتال پر آمادہ خاندانی آمریتیں ہیں، (…) یا مسلمان ممالک پر قابض وہ جرنیل ہیں جنہوں نے سیاست دانوں کے ملکی خزانہ خالی کرچکنے کے بعد کامیاب سازشوں کے نتیجے میں اقتدار سنبھالا ۔ اہلِ حق مجاہد قائدین کو یہ مقام کچھ تو ان کی شجاعت اور تقویٰ کی وجہ سے ملا اور کچھ مسلمانوں میں قیادت کے فقدان کی آگہی کے سبب۔ (…) مجاہدین کے لیے متعدد مسلمان عزت و احترام، احسان مندی اور محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔ (…) ایک ایسی مسلم دنیا میں جو عسکری میدان میں عظیم شکستوں، حکمرانوں کے نام پر اسلامی عطائیوں ، اور امریکہ کے پالتو اور پناہ یافتہ ظالموں و جابروں کی ماری ہوئی ہے میں ان (مجاہدین) سے محض مسلمانوں کے دین و ایمان کے محافظ ہونے کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ امید کی ایک کرن کے طور پر بھی محبت کی جاتی ہے۔
  11. مجاہدین، اسرائیل کے لیے امریکی امداد اور اسرائیلی ریاست کا مکمل خاتمہ؛ جزیرۂ عرب سے امریکی اور مغربی طاقتوں کا انخلا؛ عراق ، افغانستان اور دیگر مسلم سرزمینوں سے امریکی اور مغربی فوجوں کا انخلا؛ روس، چین اور بھارت کی طرف سے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی امریکی حمایت کا خاتمہ؛ سعودی عرب،کویت، مصر، اردن وغیرہ کی جابر مرتد مسلمان حکومتوں کی امریکی پشت پناہی کا خاتمہ اور مسلم دنیا کے توانائی کے وسائل کی حفاظت اور زیادہ نرخ پر ان کی فروخت چاہتے ہیں۔ (…) امریکی پالیسیاں نہیں بدلیں گی تو آنے والے وقت میں امریکہ اور اسلام پسندوں کے مابین جنگ جاری ہی رہے گی۔

متعدد کبار سعودی علما نے طالبان رہنما ملا محمد عمر کو انٹرنیٹ کے ذریعے ایک اعلامیہ بھیجا ، بعنوان ’’امیر المومنین ملا محمد عمر اور ان کے ساتھی مجاہدین کی خدمت میں ‘‘۔ انہوں نے ملا محمد عمر کو ’’دنیا کو دو دھڑوں میں تقسیم کرنے پر‘‘ طالبان کی کامیابی پر مبارک باد دی اور کہا، ’’ آپ جیسے لوگوں کی ہماری امت سے نسبت ہم تمام علما کے لیے ایک اعزاز ہے، کیونکہ آپ نے حقیقتاً، اہل ایمان کی برتری اور سربلندی کا اعلان کیا ہے۔ اور ہم گواہی دیں گے کہ آپ لوگ تنہا تھے کہ جس وقت آپ نے اپنے سر کافر اور صلیبی امریکہ کے سامنے اٹھائے، اس وقت کہ جب مسلمانوں میں کا کوئی ایک بھی فرد امریکہ کے مطالبات پر قطعیت کے ساتھ ’’نہیں!‘‘کہہ کر امت کو سرخرو کرنے والا نہ تھا ۔ صرف آپ نے یہ کردکھایا۔ پس آپ کی(جرأتِ ایمانی کی) وجہ سے مسلمانوں کو مبارک ہو‘‘۔ ’’شیخ حمود بن عقلا الشعیبی، شیخ علی الخضیر، اور شیخ سلیمان العلوان کی جانب سے امیر المومنین محمد عمر اور ان کے ساتھی مجاہدین (اللہ انہیں فتح نصیب فرمائے) کی خدمت میں ‘‘۔

امریکی حکومت نے یقیناً یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر ہم ایسی اسلامی اصلاحی مہم چلا ئیں جو مسلمانوں کو مغرب کی طرح لادین بنادے، تو مذاہب کی جنگ کے بارے میں یہ فضول اور لایعنی باتیں دم توڑ جائیں گی اور مسلمان بھی خدا کو اسی قسم کی ایک چھوٹی سی بوتل میں بند کردینا چاہیں گے جس میں کہ مغرب بتدریج اسے (خدا کو) قید کر رہا ہے(نعوذ باللہ)۔

ظاہر ہے کہ امریکی قائدین تو یہ نہیں کہیں گے کہ امریکہ اسلام کے خلاف جنگ لڑرہا ہے، بلکہ یہ کہیں گے کہ اسلام کا ہی کچھ حصہ (یعنی بعض پیروکار) امریکہ کے خلاف جنگ کررہا ہے اور دیگر بھی اسی مقام کی طرف بڑھ رہےہیں۔ (…) ہمارے قائدین کے دعوؤں کے علی الرغم ، امریکہ کے خلاف جنگ مخصوص اورمتعین وجوہات کی بنا پر برپا کی گئی ہے، چند متعصب مسلمانوں کی جمہوریت اور آزادی سے نفرت کی وجہ سے نہیں۔ بطور ایک قوم، جو کچھ ہم اسلامی دنیا میں کررہے ہیں، اسی کی وجہ سے ہم پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ شوئیر، اسامہ بن لادن کا ایک بیان نقل کرتا ہے:

’’یہ ہمارے تحفظ کا معاملہ ہے۔ بش کے دعوے کے برخلاف کہ ہم آزادی سے نفرت کرتے ہیں، مردانِ حر یونہی اپنا تحفظ داؤ پر نہیں لگا دیا کرتے۔ اگر ہم آزادی سے ہی نفرت کرتے ہوتے، تو وہ ہمیں بتائے کہ پھر ہم سویڈن پر حملہ کیوں نہیں کرتے؟‘‘ بن لادن ، اکتوبر ۲۰۰۴ء

امریکہ کی دہشت گردی مخالف مہم میں مذہبی رنگ بہت نمایاں ہے۔ نیوز ویک کی خبرکے مطابق صدر بش نے مذہبی ناشرین (broadcasters) کو بتایا کہ ’’دہشت گرد اس حقیقت سے نفرت کرتے ہیں کہ (…) ہم اس طرح خدا کی عبادت کرسکتے ہیں جیسے ہم چاہتے ہیں‘‘، اور یہ کہ امریکہ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدا کے تحفۂ حریّت کو ’’دنیا کے ہر انسان‘‘ تک پہنچائے۔ اس نے اعتراف کیا کہ عراق کے خلاف ممکنہ جنگ اس پر ’’ بوجھ‘‘ ہے۔ وہ جانتا تھا کہ بشمول چند حاضرین، بہت سے لوگ اس تنازع کو شُفعی (pre-emptive) اور غیر منصفانہ سمجھتےہیں۔ صدر نے کہا: مگر امریکہ یہ جانتا تھا کہ صدام حسین کی شکل میں دراصل یہ ’’بدی سے مقابلہ‘‘ ہے۔ ضرورت پڑنے پر امریکہ کے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، خواہ یہ مقابلہ جنگ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ بش نے کہا کہ ’’اگر کوئی اس امر سے مطمئن ہوسکتا ہےتو میں اس بارے میں مطمئن ہونے والوں میں سے ہوں‘‘۔ اس نے طے کرلیا کہ صدام منبعِ شر ہے، اور یہی بات ہر چیز کا جواز بن گئی۔

ہاورڈ فائن مین سمجھتا ہے کہ بش کی صدارت سب سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ ’’ مبنی بر اعتقاد‘‘ تھی؛ ایک ایسی حکومت جس کی تاسیس، حمایت اور رہنمائی کی بنیاد خدا کی ظاہری اور باطنی طاقت پر اعتماد تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’وہ (صدر بش) اسلام کی تعریف اسے ’پرامن مذہب‘ کہہ کر کرتا ہے۔ مگر متعدد مسلمانوں، بالخصوص عربوں کے نزدیک وہ منحوس ہے؛ ایک ایسا نیا صلیبی جو عیسائیت کی خاطر مشرق کو واپس لینے پر کمربستہ ہے‘‘۔

۹نومبر ۲۰۱۲ء کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شوئیر نے اسلامی جنگجوؤں کے خطرےکے بارے میں تنقید کرتے ہوئے اسے اوبامہ انتظامیہ کا فریب قرار دیا اور اوبامہ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں عوام کو دھوکے میں رکھنے کے لیے لفظ جہاد کی جو غلط تشریح یہ کہہ کر کی تھی کہ جہاد کا کچھ لینا دینا عسکری معاملات سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تو ’’اصلاحِ نفس اور اصلاحِ معاشرہ‘‘ سے ہے، شوئیر نے اسے سفید جھوٹ قرار دیا۔

(اللہ پاک ہم سب کو فہمِ سلیم عطا فرمائیں، آمین! وما علینا الا البلاغ المبین!)

٭٭٭٭٭

Previous Post

نظریاتی جنگیں | چوتھی قسط

Next Post

بنگلہ دیش میں ہندوتوا کا خطرناک مرحلہ | دوسراحصہ (آخری)

Related Posts

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط
فکر و منہج

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | پانچویں قسط

25 مئی 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | تیرہویں قسط

25 مئی 2026
اَلقاعِدہ کیوں؟ | چوتھی قسط
فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | نویں قسط

25 مئی 2026
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط
فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | چھٹی قسط

25 مئی 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | آٹھویں قسط

25 مئی 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | ساتویں قسط

1 مئی 2026
Next Post

بنگلہ دیش میں ہندوتوا کا خطرناک مرحلہ | دوسراحصہ (آخری)

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version