مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب (زید مجدہٗ) کی تالیف ’أصول الغزو الفکری‘ یعنی ’نظریاتی جنگ کے اصول‘، نذرِ قارئین ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو اہل باطل کی جانب سے ایک ہمہ گیر اور نہایت تند و تیز فکری و نظریاتی یلغار کا سامنا ہے۔ اس یلغار کے مقابلے کے لیے ’الغزو الفکری‘ کو دینی و عصری درس گاہوں کے نصاب میں شامل کرنا از حد ضروری ہوچکا ہے۔دینی و عصری درس گاہوں میں اس مضمون کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ’الغزو الفکری‘ یعنی نظریاتی جنگ کے مضمون و عنوان کو معاشرے کے فعال طبقات خصوصاً اہلِ قلم، اسلامی ادیبوں اور شاعروں، اہلِ دانش، صحافیوں، پیشہ ور (پروفیشنل)حضرات نیز معاشرے کہ ہر مؤثر طبقے میں بھی عام کرنا از حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ’اصول الغزو الفکری‘کے عنوان سے اس علم کے اہم مباحث کو مختصر طور پر مولانا موصوف نے پیش کیا ہے۔ مولانا موصوف ہی کے الفاظ میں ’در حقیقت یہ اس موضوع پر تحریر کردہ درجنوں تصانیف کا خلاصہ ہے جس ميں پاک و ہند کے پس منظر کا نسبتاً زیادہ خیال رکھا گیا ہے‘۔ یہ تحریر اصلاً نصابی انداز میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود خشکی سے پاک ہے اور متوسط درجۂ فہم والے کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کو نظریاتی و عسکری محاذوں کو سمجھنے، ان محاذوں کے لیے اعداد و تیاری کرنے اور پھر ہر محاذ پر اہلِ باطل کے خلاف ڈٹنے کی توفیق ملے۔ اللہ پاک مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب کو جزائے خیر سے نوازیں کہ انہوں نے ایسے اہم موضوع کے متعلق قلم اٹھایا، اللہ پاک انہیں اور ہم سب اہلِ ایمان کو حق پر ثبات اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین! (ادارہ)
الساحۃ الثالثۃ–عالمگیریت (العولمۃ)
گلوبلائزیشن (Globalization)
عالمگیریت، استشراق اور استعمار کا نیا ایڈیشن ہے جس کی قیادت امریکہ اور یہودی لابی کے ہاتھ میں ہے۔ عالمگیریت ایک ایسی تحریک ہے، جس کا مقصد اقتصادی، ثقافتی، معاشرتی، دینی، قومی اور وطنی امتیازات کو ختم کرکے پوری دنیا کو یہودی اہداف اور امریکی نظریے کے مطابق جدید سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں لانا ہے۔
عالمگیریت کا اصل ہدف عالم اسلام کیوں؟
عالمگیریت تمام دنیا پر مسلط کی جارہی ہے مگر اس کا اصل ہدف عالم اسلام اور مسلمانوں کو قرار دیا گیا ہے۔ اس کی چار وجوہ ہیں:
(۱) پوری دنیا میں اسلامی ممالک جغرافیائی لحاظ سے بہترین خطوں میں واقع ہیں۔
(۲) اسلامی دنیا حیرت انگیز معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔
(۳) تین بڑے مذاہب اسلام، نصرانیت اور یہودیت کے مقامات مقدسہ اسلامی دنیا میں واقع ہیں۔
(۴) عالمگیریت کا جواب صرف اسلامی نظام ہی دے سکتا ہے، اس لیے عالمگیریت کو صرف اسلامی نظام سے خطرہ ہے۔
عالمگیریت (Globalization) کے چار میدان
چار میدانوں میں عالمگیریت کے فروغ کی کوشش جاری ہے:
(۱) سیاسی عالمگیریت (۲) اقتصادی عالمگیریت (۳) تہذیبی عالمگیریت (۴) معاشرتی عالمگیریت
(۱) سیاسی عالمگیریت
امریکیوں نے ابتدا میں براعظم شمالی و جنوبی امریکہ کے حقیقی باشندوں(ریڈ انڈینز) سے ان کے علاقے چھینے، پھر انیسویں صدی کے وسط میں اپنی حدود سے باہر جارحیت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا۔ جاپان، فلپائن، کیوبا، کمبوڈیا، ویت نام، ہیٹی، لبنان اور لیبیا کو نشانہ بنایا۔ ۱۹۴۵ء میں جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بموں کا تجربہ کیا۔ امریکہ کے استعماری عزائم اور وسائل کو دیکھ کر یہودیوں نے سیاسی عالمگیریت کے لیے اسے بھر پور طور پر استعمال کیا۔ سیاسی عالمگیریت کی خاطر امریکہ کے یہودی سرمایہ داروں نے لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو اقوامِ متحدہ کے منشور کا اعلان ہوا، یہی ادارہ اس وقت سیاسی عالمگیریت کا مرکز ہے۔
نیو ورلڈ آرڈر
افغانستان میں سوویت یونین کی شکستِ فاش اور نظریۂ کمیونزم کی ناکامی کے بعد ۱۹۹۱ء میں امریکہ کی جانب سے نیو ورلڈ آرڈر سیاسی عالمگیریت کا آغاز تھا۔ ۱۹۹۵ء میں امریکہ میں منعقدہ ایک اجلاس میں گلوبلائزیشن کے آغاز کا باقاعدہ اعلان ہوا۔
(۲) اقتصادی عالمگیریت
عالمگیریت کا دوسرا میدان اقتصادی ہے۔ اس کا مقصد دنیا کی اقتصادیات پر قابو پاکر اسے چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مرکوز کرنا ہے۔
اس مقصد کے لیے چار اہم اقدامات کیے گئے۔
(۱) سونے کے ذخائر پر قبضہ (۲) عالمی تجارتی اداروں کا قیام (۳) تجارت سے متعلقہ عالمی معاہدے (۴) ملٹی نیشنل کمپنیوں کا فروغ ۔
(پہلا اقدام) سونے کے ذخائر پر قبضہ
سونے کے ذخائر پر قبضہ یہود کا قدیم خواب تھا۔ یہ خواب تب ہی پورا ہوسکا جب سونے چاندی کے سکوں کی جگہ نوٹوں نے لے لی۔۱۹۷۱ء تک تمام ممالک کی کرنسیاں ڈالر سے جبکہ ڈالر سونے سے وابستہ تھا۔۱۹۷۱ء میں دنیا کے ہاتھوں میں صرف کرنسی رہ گئی۔ سونے کے اکثر ذخائر پر یہود کا مکمل قبضہ ہوگیا۔
(دوسرا اقدام) عالمی مالیاتی ادارے
امریکی اور صہیونی لابی نے اقتصادی عالمگیریت کے لیے دوسرے بڑے قدم کے طور پر عالمی مالیاتی ادارے قائم کیے ان کا تعارف حسب ذیل ہے۔
(الف) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(IMF): یہ ادارہ پوری دنیا کا مرکزی بینک ہے جو ضرورت مند ملکوں کو تین سے پانچ سال تک کی مدت کے لیے قرض دیتا ہے۔
(ب) عالمی بینک (World Bank): یہ ادارہ ممبر ممالک کو طویل مدت کے لیے قرضے دیتا ہے۔ قرضے کی میعاد پندرہ سے تیس سال تک ہوتی ہے۔
(ج) ’ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن‘ (WTO): اس تنظیم کا اصل مقصد ایم آئی ایف اور عالمی بینک کے تعاون سے عالمی تجارتی نظام کے لیے بنیادی اور قانونی دائرۂ کار تشکیل دینا ہے۔
(تیسرا اقدام) عالمی تجارتی معاہدوں کا قیام
اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی مدد سے امریکہ اور یہودی سرمایہ داروں نے کثیرالملکی معاہدوں کو فروغ دیا ہے جن کے ذریعے بین الاقوامی آزادانہ تجارت کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ آزاد عالمی تجارت کا مطلب یہ ہے کہ تمام ملکوں کی منڈیوں کے دروازے پوری دنیا کے تجارتی اداروں کے لیے کھلے ہوئے ہوں اور کوئی حکومت کسی غیر ملکی کمپنیوں پر کوئی پابندی عائد نہ کرسکے۔ ۱۹۴۷ ء کا گاٹ معاہدہ بہت اہم تھا جس کا بڑا مقصد یہ تھا کہ مصنوعات کے سلسلے میں ہونے والا مقابلہ حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ صرف مختلف کمپنیوں کے درمیان ہو۔
(چوتھا اقدام) ملٹی نیشنل کمپنیوں کا فروغ
چند چھوٹی کمپنیاں ایک دوسرے میں ضم ہوکر ایک بڑی ملٹی نیشنل کی شکل اختیار کرلیتی ہیں، ان کے مالکان تجارت میں باہم شریک بن جاتے ہیں۔ ان کمپنیوں کی وجہ سے مقامی مصنوعات تدریجاً ختم ہوجاتی ہیں، اور غیر ملکی سامان ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ اس وقت چند ملکوں کی ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا پر چھا چکی ہیں۔
اقتصادی عالمگیریت کے اثرات اور خطرات:
اقتصادی عالمگیریت کی وجہ سے(۱) دنیا بھر میں چھوٹی کمپنیوں، مقامی صنعتوں اور چھوٹے تاجروں کے گرد گھیرا انتہائی تنگ ہوگیا ہے۔(۲) بے روزگاری کے تناسب میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔(۳) نئے صنعتکاروں کے سامنے ترقی کے تمام دروازے بند ہوچکے ہیں۔(۴) مستقبل میں ایک چیز ایک ہی کمپنی تیار کرکے پوری دنیا کو فراہم کرے گی اور منہ مانگی قیمت لگائے گی۔(۵) پوری دنیا کی دولت سمٹ کر چند افراد کے پاس آگئی۔(۶) امریکہ کے یہودی سرمایہ دار بیٹھے بٹھائے سودی چکر کے ذریعے پوری دنیا کی کمائی اکیلے ہڑپ کرتے جارہے ہیں۔
(۳) تہذیبی و ثقافتی عالمگیریت
عالمگیریت کا تیسرا بڑا میدان تہذیبی و ثقافتی عالمگیریت ہے۔ تہذیبی تصادم کے خطرے کا پرچار کرکے تہذیبوں کے درمیان مذاکرات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ مگر اس کا مقصد اسلام سمیت دنیا کی تمام تہذیبوں کو ختم کرکے صرف مغربی تہذیب کو مسلط کرنا ہے۔ تہذیبی حملے نے امریکی لباس کو ترقی اور بلند معیارِ زندگی کی سند بنادیا۔ اسی طرح امریکی پکوان اور مشروبات بھی دنیا بھر میں عام ہوچکے ہیں۔ عورتیں مغربی فیشن اور میک اپ کی عادی بن چکی ہيں۔ انٹرنیٹ جو تہذیبی عالمگیریت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جنسی انارکی اور فحاشی کو حد سے زیادہ فروغ دے رہا ہے۔
تہذیبی عالمگیریت کے لیے امیریکن انگلش کو عالمی سطح پر فروغ دینے اور عربی زبان کو بالخصوص اور دوسری علاقائی و قومی زبانوں کو بالعموم متروک بنانے کی سازشیں بھی جاری ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں نصف مقامی زبانیں زوال پذیر ہیں اور دو سو چونتیس (۲۳۴) معاصر زبانیں مکمل طور پر ختم ہوچکی ہیں۔
(۴) معاشرتی عالمگیریت
معاشرے کی تبدیلی کے لیے ’’خاندان‘‘ کو بدلنا ضروری ہے اور خاندان کا سب سے آسان شکار ’’عورت‘‘ہے جسے استعمال کرکے پہلے ’’خاندان‘‘ اور پھر پورے معاشرے کی اخلاقی اقدار تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
معاشرتی عالمگیریت اور اقوام متحدہ
معاشرتی عالمگیریت کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں، نیز عالمی کانفرنسوں نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا دستور اور چارٹر کی شق نمبر ۸ میں صراحت ہے: ’’اقوام متحدہ ایسی پابندیاں لاگو نہیں کرے گی جس سے مرد و عورت کے درمیان مساوات کا کوئی بھی پہلو متاثر ہو‘‘۔
۱۹۷۹ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ’’عورت کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے‘‘ کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد کرکے تمام دنیا کی حمایت حاصل کی۔
قاہرہ کانفرنس: ستمبر ۱۹۹۴ء میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں آبادی و ترقی کے موضوع پر عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں اتفاق کیا گیا کہ عقد نکاح کے بغیر ہی جنسیت کا عمل ہونا چاہیے، ہم جنس پرستی کو بری نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اس کو فروغ دینا چاہیے، جلد شادی نہایت غلط ہے، کیوں کہ یہ شرح پیدائش میں اضافے کا سبب ہے۔
بیکن کانفرنس: ۱۹۹۵ء میں ’’بیکن‘‘میں خواتین سے متعلق اقوام متحدہ کی چوتھی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں منظور کیا گیا کہ کم سن لڑکے اور لڑکیوں کو جنسی آزادی دینے کی سفارش کی جائے۔ خاندان کا یہ مفہوم رائج کیا جائے کہ ایک خاندان دو انسانوں سے مل کر بنتا ہے، چاہے وہ دو مرد ہوں یا دو عورتیں۔ گھریلو کام کاج ترک کرنے پر عورت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ مسلم ممالک کے احتجاج کو بالکل نظر انداز کردیا جائے۔
عالمگیریت(Globalization) کا مقابلہ کیسے؟
عورتوں اور بچوں کو مغربی اور لادینی اثرات سے بچانے کے لیے مستقل کوشش کی جائے۔
میڈیا پر عوامی دباؤ بڑھایا جائے کہ غیر اخلاقی مواد کی اشاعت کو مزید آزادی نہ مل سکے۔
مغربی زبانوں کے مقابلے میں عربی کو فروغ دیا جائے۔
غیر ملکی زبانوں بالخصوص انگلش کے دائرے کو محدود کیا جائے۔ ضرورت کے بغیر اسے استعمال نہ کیا جائے۔ اپنی زبانوں کو غیر ملکی اثرات سے پاک رکھیں۔
غیر ملکی مصنوعات کا حتی الامکان بائیکاٹ کیا جائے۔
مسلمانوں کو وطنی، علاقائی اور لسانی مفادات پسِ پشت ڈال کر متحد کیا جائے۔
احیائے خلافت کو اصل ہدف بنا کر کام کیا جائے۔
ایسی جماعتیں وجود میں لائی جائیں جو مروجہ سیاست کی آلودگیوں سے پاک رہ کر عوام کو اعتماد میں لیں۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



