نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

بنگلہ دیش میں ہندوتوا کا خطرناک مرحلہ | دوسراحصہ (آخری)

بنگلہ دیش میں القاعدہ برِّصغیر سے وابستہ مجاہدین کی مرتب کردہ رپورٹ

by ادارہ
in اکتوبر 2020, فکر و منہج
0

یوں تو یہ رپورٹ بنگلہ دیشی حضرات نے بنگلہ دیش ہی کے حوالے سے تیار کی ہے، لیکن یہ رپورٹ پورے برِّ صغیر (پاکستان، کشمیر و ہندوستان)کے اہلِ ایمان کے لیے بھی نہایت اہم اسباق لیے ہوئے ہے۔ (ادارہ)


اسکون (ISKCON1)

شاید بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اداروں میں نفوذ کے ان کے رویوں اور نفسیات پر اثرات کی بہترین مثال ’اسکون‘ نامی تنظیم کی سرگرمیوں میں ملتی ہے۔

۲۰۱۴ء میں اسکون نے ہفتہ بھر طویل ایک پوجا (رتھ یاترا) کا اہتمام کیا۔ اسکون کا مرکزی مندر شامی باغ ڈھاکہ میں ایک بڑی مسجد کے پہلو میں واقع ہے۔ اپنے تہوار میں اسکون کے ارکان لاؤڈ سپیکر پر موسیقی چلاتے رہے، حتیٰ کہ مسجد میں رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز کے دوران بھی اسے بند نہیں کیا گیا۔بلکہ وہ اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تہوار کی وجہ سے تراویح کی نماز دس بجے تک مکمل ہو جانی چاہیے۔ جب مسجد کی انتطامیہ نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا تو اسکون کے ارکان نے مسجد پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس موقع پر پولیس آگئی، لیکن پولیس کے اس دستے کی سربراہی ایک ہندو انسپکٹر کر رہا تھا۔ اس انسپکٹر نے فوری طور پر مسجد کے امام کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، لیکن مسجد میں موجود نمازیوں نے ایسا ہونے نہیں دیا۔

پھر ہندو انسپکٹر نے مسلمانوں کو دھمکی دی کہ اگر تراویح کی نماز دس بجے تک ختم نہیں کی جاتی تو پھر مسجد کو تالا لگا دیا جائے گا۔ اس کی وجہ سے مسلمان طیش میں آگئے اور ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اسکون کے ارکان نے پولیس کے سامنے ہی مسلمانوں پر چاقوؤں اور لاٹھیوں سے حملے کر نے شروع کر دیے۔ کچھ دیر بعد دونوں طرف کے مقامی بڑوں کی مدد سے حالات پر قابو پالیا گیا۔

یہ سارا واقعہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح انتظامیہ میں ہندوؤں کا اثرو رسوخ، اسکون جیسی تنظیموں کو طاقتور بنا رہا ہے اور ان کواتنا اعتماد دے رہا ہے کہ یہ کھلے عام مسلمانوں کو للکاریں۔ اس کے علاوہ یہ واقعہ کھلی مثال ہے کہ کیسے پولیس اور حکومتی انتظامیہ ایسے معاملات میں ہندوؤں کی طرف داری کرتی ہے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ ۲۰۱۶ء میں سلہٹ میں پیش آیا۔ کاجل شاہ جامعہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھی جا رہی تھی کہ اسکون کے لگائے گئے لاؤڈ سپیکروں سے موسیقی چلا دی گئی۔ جب نماز کے بعد نمازیوں کا مجمع اسکون کی انتظامیہ سے بات کرنے گیا تو اسکون کے ارکان مشتعل ہو گئے۔ اس دوران انہوں نے مندرکے اندر سے مسلمانوں پر پتھراؤ بھی کیا اور مسلمانوں نے بھی اس کا جواب دیا۔ پھر اسکون کے ارکان نے مسلمانوں پر متعدد تیز دھار ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کر دیا۔ اسی دوران پولیس آگئی اور پولیس نے بھی مسلمانوں پر براہ راست فائرنگ اور آنسو گیس کے گولے برسانا شروع کر دیے۔ اس واقعے میں بارہ (12)مسلمان زخمی ہوئے جن میں سے سات (7)کو گولیوں کی وجہ سے زخم آئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بہت سے مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا لیکن اسکون کے کسی ایک رکن کو تفتیش تک کے لیے بھی نہیں بلایا گیا۔

اس واقعہ کے بعد، عثمانی نگر مسجد سلہٹ کے خطیب نے اپنے فیس بک کے سٹیٹس پر اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور کچھ دن بعد ان کے گھر سے ان کی لاش برآمد ہوئی۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے تھے اور انہیں گلا گھونٹ کر شہید کیا گیا تھا۔

یہ کوئی اِکّا دُکّا واقعات نہیں ہیں۔ اسکون جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلا کر اس طرح کے ہنگامے کھڑے کرتی ہے۔ اسکون کے وابستگان سارا دن اور خاص کر نماز کے اوقات میں لاؤڈ سپیکر پر موسیقی چلانے کا طریقۂ کار دہراتے رہتے ہیں، ۲۰۱۹ء کی رتھ یاترا میں بھی یہی کام کیا گیا۔ اس تہوار میں ہندوؤں نے بھالوں کے ساتھ مارچ بھی کیا۔

جولائی ۲۰۱۹ء میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ بھی اسکون کے مسلمانوں کو جان بوجھ کر اکسانے کے رجحان کو واضح کرتا ہے۔ رتھ یاترا کے جشن کے طور پر اسکون نے فیصلہ کیا کہ چٹاگانگ کے تیس اسکولوں میں مفت کھانا تقسیم کیا جائے گا۔ ان اسکولوں میں زیادہ تر سرکاری اسکول تھے۔ جو کھانا دیا گیا وہ پرشاد اور ان کے جھوٹے خداؤں پر چڑھائے گئے چڑھاوے میں سے تھا۔ اسکون کے ارکان اسکولوں کی کلاسوں میں گئے اور مسلمان طلبہ کو یہ حرام کھانا کھانے پر مجبور کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے طلبہ کو مجبور کیا کہ وہ ’ہرے رام، ہرے کرشنا‘ دہرائیں۔ ان لوگوں نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اس پورے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کی اور پھر اسے فیس بک کے صفحات پر بڑے پیمانے پر پھیلایا۔ اس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا۔ ایک اسلامی جمہوری پارٹی (چارمنائی) نے ان لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی ، لیکن حسب معمول عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔

مسلمان طالب علموں کے ’ہرے رام، ہرے کرشنا‘ دہرانے کی ویڈیو کے پھیلنے اور اس کے ساتھ ساتھ پریا ساہا کے معاملے کے بعد ملک میں ہندو مخالف جذبات اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ اسی موقع پر باریہ کی ایک مسجد کو رات کے اندھیرے میں جلا کر بھسم کر دیا گیا۔ جب ایک مفتی صاحب نے اس سانحے کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی تو انھیں آر اے بی 2نے فوری طور پر گرفتار کر لیا۔

کئی سالوں سے اسکون مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ اس کو بہانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکے۔ ڈھاکہ، سلہٹ اور چٹاگانگ میں ہونے والے یہ واقعات کا تعلق بھی اسکون کی انہی کوششوں سے ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ اسکون سرکاری ملازمتوں میں زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کی بھرتیوں کے لیے کوشاں ہے۔ یہ کام سرکاری عہدوں پر پہلے سے موجود ہندوؤں کی مدد سے اور اپنے خاطر خواہ مالی وسائل کو استعمال میں لا کر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی فنڈنگ کے لیے اربوں کی مالیت کی رقوم بیرون ملک سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر آر ایس ایس نے ساڑھے سات کروڑ ٹکے3 اسکون کو ساور ، ڈھاکہ میں ایک مندر تعمیر کرنے کے لیے دیے۔ اس بات کا اعلان ایک اور انتہا پسند ہندو تنظیم ’جاتیو ہندومہاجت‘ نے بڑے فخریہ انداز میں کیا۔ ان رقوم کی مدد سے اسکون پورے ملک میں مندر اور اپنا نیٹ ورک بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسکون پورے ملک سے غریب اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو بھی بھرتی کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے مراکز اب پورے ملک میں سو سے بھی زیادہ مقامات پر موجود ہیں۔

متعدد متشدد ہندو تنظیمیں جیسے ہندو مہاجت، جاگو ہندو، ویدانتا وغیرہ پچھلے چند سالوں میں بہت پھلی پھولی اور متحرک ہوئی ہیں۔ ان تنظیموں کے زیادہ تر ارکان اسکون کے بھی ارکان ہیں۔ جب کامیلا یونیورسٹی کے ایک ہندو طالب علم کو، جو اسکون کا رکن بھی تھا، طلبہ نے احتجاج کے دوران اسلام کی شان میں گستاخی کرنے پر گرفتار کر لیا ، تو بھارتی ہائی کمیشن نے اس معاملے میں مداخلت کی اور اس کی رہائی کو یقینی بنایا۔ پھر اس کے بعد وہ مسلمان طلبہ جنہوں نے اس ہندو کے جرم کے خلاف احتجاج کیا تھا انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح اسکون سے تعلق رکھنے والے ہندو اساتذہ پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں نقاب اور حجاب پر پابندی لگانے کی کوششوں میں صف اوّل پر ہیں۔

ان سب کے ساتھ ساتھ، اسکون سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں موجود اعلیٰ سطح کے ہندو افسران سے رابطے میں بھی رہتی ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا۔ غرض یہ کہ اسکون صہیونیوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے اور صہیونیوں کے ہی نفوذ کے طریقۂ کار پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ بھارتی ریاست اسکون کی پشت پناہی کر رہی ہےیہ بات اس امر سے بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بھارتی ہائی کمشنر اسکون کی نئی بلڈنگ کے افتتاح کے لیے خود سلہٹ گیا۔ سابق چیف جسٹس سریندر سنہا کا معاملہ بھی بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے اثرورسوخ کا واضح ثبوت ہے۔ سنہا اپنے عہد میں عوامی لیگ کو کھل کر چیلنج کر سکتا تھا کیونکہ اس کی پشت پر اسکون، بھارتی ہائی کمیشن اور سول سروسز میں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ معاملہ ایک بھارتی ایجنٹ کا دوسرے بھارتی ایجنٹ کو للکارنے کا ہے۔ لیکن عوامی لیگ نے پھر بھی سریندر سنہا کو استعفیٰ دینے اور ملک چھوڑنے پر مجبور کر ہی دیا۔ سنہا کے علاوہ پجوش اور رانا داس گپتا جن کا تعلق شامپریتی بنگلہ دیش اور ہندو ، بدھ، عیسائی اتحاد سے تھا، جس کا ذکر پہلے آیا ہے، بھی اسکون کے ساتھ روابط رکھتے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک مضبوط نیٹ ورک بنانے اور اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کے علاوہ اسکون مسلمانوں کے ساتھ تعارض اور ٹکراؤ کے حالات پیدا کرنے کے لیے بھی متحرک ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں ایک صحافی نے سکیورٹی فورسز کے ایک سابق رکن کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ:

’’اسکون بنگلہ دیش کے مختلف حلقوں میں بھارتی تسلط قائم کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اسکون مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تناؤ پیداکرنے اور تصادم کے لیے میدان ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ جب بھی مسلمان ہندوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ظلم و ستم کی مخالفت کریں گے اور اس کے خلاف احتجاج کریں گے تو ایک شورش ضرور برپا ہو گی۔ اس شورش کا سہارا لے کر بھارتی ایجنٹ بعض مندروں پر حملے بھی کریں گے، اور ہندوؤں کے گھر اور کاروباری مراکز بھی جلائیں گے۔ پھر بھارت عالمی برادری کو یہ باور کروائے گا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ظلم خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے اور اس موقع پر بھارت کے پاس مداخلت کے لیے اپنی فوجیں بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘‘

اگرچہ اس بیان کی تصدیق کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے لیکن اُن معلومات کی روشنی میں جو ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ سچ ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ بیان بھی غلط نہیں ہے۔ جو صحافی یہ حقائق منظرِ عام پر لایا ہے اس کا ریکارڈ بھی بطور آزاد اور بااصول صحافی ہونے کے اچھا ہے۔ لیکن ایک بات بہت واضح ہے، جتنی بھی سرگرمیاں ہم نے اسکون کی یہاں ذکر کی ہیں، مثلاً نیٹ ورک مضبوط کرنا، مندروں کی تعمیر، ریاستی ڈھانچے میں نفوذ، تمام ملک میں مراکز کا قیام، عمداً مسلمانوں کو مشتعل کرنا، یہ سب چیزیں بذات خود مقصد نہیں بلکہ مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں۔یہ سب سرگرمیاں ان کے اساسی مقصد کے حصول کی تیاری کا حصہ ہیں۔ اور ان کارروائیوں کی ساخت اور طریقۂ کار کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو کارروائیاں خود اتنی شیطانی ہیں وہ جس اساسی مقصد کے حصول کے لیے کی جا رہی ہیں وہ کتنا شیطانی ہو گا۔

ہندو مہاجت اور گووندا پرامانک

بنگلہ دیش میں ہندوتوا منصوبے پر کام کرنے والے سارے ہندو گروہوں میں شاید سب سے زیادہ متشدد گروہ ’بنگلہ دیش جاتیو ہندو مہاجت‘ ہے۔ اس گروہ کا سیکرٹری جنرل گووندا پرامانک نامی ایک خبیث ہندو ہے جو کہ کھلم کھلا بنگلہ دیش کو بھارت کا حصہ بنانے کے اپنے ارادوں کا اظہار اور آر ایس ایس کے ’اکھنڈ بھارت‘ بنانے کے نعرے کی تشہیر کرتا ہے۔ ہندو مہاجت کی طرف سے منعقد کی گئی ایک مجلس میں رمنا کالی مندر کے پنڈت نے کھل کر بنگلہ دیش کو بھارت کا حصہ بنانے کی بات کی۔ اسی طرح اسی مجلس میں، دلیپ گوش جو کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کا رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کا رکن ہے، اس نے بھی بنگلہ دیش کو اکھنڈ بھارت کا حصہ بنانےکا نعرہ دہرایا۔ پرامانک سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو تقریریں نشر کرتا رہتا ہے، جن میں وہ کھل کر حکومت اور اس کے وزیروں کو تنقید و تحقیر کا نشانہ بناتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہندوؤں کو اپنے گھروں میں بھالے اور ترشول رکھنے کی بھی دعوت دیتا ہے تاکہ مسلمانوں سے لڑا جاسکے۔ اس کے علاوہ اس نے ہندوؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے رتھ یاترا کے تہوار کے دوران ہتھیار بند رہیں۔ پرامانک بنگلہ دیش میں آر ایس ایس کا متحرک رہنما ہے، اور سارے ملک میں سفر کر کے ہندو نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ یونٹوں کی شکل میں متحد ہو جائیں اور آر ایس ایس کے اکھنڈ بھارت بنانے کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محنت کریں۔

پرامانک کھل کر اظہار کرتا ہے کہ آرایس ایس نے اربوں مالیت کی رقوم کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ بنگلہ دیش میں نئے مندر بنائے جائیں اور موجود مندروں کی فنڈنگ کی جائے۔ ان میں سے نمایاں، ساور میں اسکون مندر، رمنا کالی مندر، ملک کے جنوبی علاقوں میں موجود مندر ہیں۔ اس سب کے ساتھ ساتھ اگر تمام میں نہیں تو زیادہ تر مجلسوں میں جو ہندو مہاجت کی طرف سے منعقد کی جاتی ہیں، پرامانک اور اس کے مہمان بشمول دلیپ گوش کبھی کھل کر اور کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں ہندوؤں کو اسلحہ اٹھانے اور لڑنے کے لیے تحریض دلاتے ہیں۔

ان تنظیموں کی سرگرمیوں اور سرکاری انتظامیہ میں ان کی طاقت کا اثر عام ہندوؤں کے مزاج پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس کی ایک مثال چٹاگانگ میں ملتی ہے جہاں دو سال قبل ہندوؤں نے عید کے موقع پر مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے سے روک دیا۔ جب مسلمان عید پر گائے ذبح کرنے لگے تو ہندوؤں نے انہیں دھمکی دی کہ اگر انہوں نے گائے ذبح کی تو بدلے میں مسلمانوں کو ذبح کیا جائے گا۔ ایسی صورتحال میں مسلمانوں کو رکنا پڑا۔ مقامی تھانے میں اس واقعے سے متعلق ایک مقدمہ درج کروایا گیا لیکن اس پر آج تک کسی قسم کا عمل درآمد نہیں ہوا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں شامپریتی بنگلہ دیش اور ہندو، بدھ، عیسائی اتحاد جیسے نسبتاً اعتدال پسند اور عوامی لیگ کے حلیف ہندو گروہ اب پیچھےہو چکے ہیں اور ان کی جگہ اسکون اور ہندو مہاجت جیسے زیادہ متشدد اور آر ایس آیس کے حلیف گروہوں نے لے لی ہے۔ اس عرصے میں ان گروہوں کی طاقت، ان کے فنڈز اور ان کی رکنیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ اعتدال پسند اور بنیاد پرست دونوں ہی اصل میں ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں لیکن یہ تبدیلی بنگلہ دیشی ہندوؤں میں متشدد ہندوتوا نظریے کے فروغ کے بڑھے ہوئے اثر و نفوذ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کے خلاف زیادہ جارحانہ، اشتعال انگیز اور تعارض والا رویہ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ماضی میں ہمیشہ یہ ہندو عوامی لیگ کے طفیلیے بنے رہے ہیں لیکن اب یہ عوامی لیگ کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ،اور براہ راست بھارت اور بی جے پی کی طرف سے بات کرتے ہیں۔ سالوں کی تیاری کرنے اور قوت حاصل کرنے کے بعد اب ہندو زیادہ پر اعتماد اور اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ جیسے اب یہ مسلمانوں کے خلاف کھل کر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

اختتامیہ

ہندوتوا کا منصوبہ بنگلہ دیش میں ایک نئے زیادہ پر اعتماد اور زیادہ جارحانہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ بی جے پی کی کھلی حمایت، کھلم کھلا بنگلہ دیش کو بھارت کا حصہ بنانے کا نعرہ، مسلمانوں کو عمداً مشتعل کرنے کی کوششیں،ہندوؤں کو ڈھکے چھپے الفاظ میں یا کھلم کھلا ہتھیار اٹھانے کی دعوت، عوامی لیگ کی کھلم کھلا مخالفت، بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف نام نہاد زیادتیوں سے متعلق بین الاقوامی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش، عام آدمی کی سطح پر تنظیم سازی، بی جے پی اور آرایس ایس کی طرف سے مدد حاصل کرنے کو کھل کر تسلیم کرنا، اس نئے مرحلے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے اہم عہدوں تک بتدریج نفوذ کا عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ تیز بھی ہو چکا ہے اور اس کا دائرۂ کار بھی وسیع ہو چکا ہے۔ حالات جس سمت جا رہے ہیں ایسے میں بھارت کا عمل دخل کیا ہو گااس حوالے سے چند اندازے لگائے جا سکتے ہیں:

  • بی جے پی مغربی بنگال میں حکومت آنے تک انتظار کرےگی۔ جب وہاں حکومت قائم ہو جائے گی تو پھر یہ آر ایس ایس کے غنڈوں کو بارڈر کے دونوں جانب مسلح کرنا شروع کر دے گی۔ اور ان کے ذریعے یہ کھلنہ، جیسور، فریدپور، کشتیا، بڑیشال اور پاٹو کھالی پر قبضہ کر کے ان کو مغربی بنگال کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے۔

  • اس عمل کے دوران یا اس سے پہلے ہی ممکن ہے ہندوؤں کے بڑھتے ہوئے نفوذ کی وجہ سے ملک میں شورش برپاہوجائے جس کی وجہ سے ہندوؤں کو ہلاک کیا جائے، ان کے مندروں اور ان کے کاروباروں کو تباہ کیا جائے اور اس کے نتیجے میں ہندو بڑی تعداد میں سرحد پار کر کے بھارت میں پناہ لینا شروع کر دیں۔ اس موقع پر بی جے پی اور آر ایس ایس ان ہندوؤں کو مسلح کر کے پھر سے بنگلہ دیش میں داخل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اوپر ذکر کیے گئے علاقوں پر قبضہ کر کے آزاد ہندو اکثریتی ’’بانگابھومی‘‘ بنائی جا سکے۔

  • حسینہ واجد بطور رہنما یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ پورے ملک میں عوامی لیگ کے حمایتیوں کو متحد اور متحرک کرے۔ اس طاقت کے ساتھ پچھلے عرصے میں عوامی لیگ نے بعض مواقع پر بھارت کی مرضی کے خلاف کام بھی کیے ہیں جیسے سریندر سنہا کا معاملہ۔ اس کے علاوہ پچھلے عرصے کے بعض بیانات میں بھی حکومت کا جھکاؤ چین کی طرف زیادہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر یہ ممکن ہے کہ بھارت کوشش کرے کہ حسینہ واجد کو ہٹا کر کسی اور زیادہ تابع فرمان کو حکومت میں لایا جائے۔ اس طرح کی کٹھ پتلی کو حکومت میں لانے سے بنگلہ دیش پہلے سے کہیں زیادہ بھارت کا غلام بن جائے گا۔ اس کے ساتھ بھارت کی کوشش ہو گی کہ بنگلہ دیشی فوج اور پولیس کو استعمال کرتے ہوئے اس حکومت کے تمام مخالفین کو خاموش کروا دیا جائے۔

  • آسام میں اب جبکہ حکومت نے تیس سے چالیس لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی ہے تو یہ بات واضح نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق تو اتنی بڑی تعداد میں ’غیر قانونی تارکین وطن‘ کو واپس ان کے اصلی وطن نہیں بھیجا جا سکتا۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ بی جے پی کا اتنی بڑی تعداد کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ ہے۔ امکان یہ بھی ہے کہ ان مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں بند کر دیا جائے جیسے چین ایغور مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بی جے پی ریاستی پشت پناہی کے ساتھ فسادات کا آغاز کر دے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو جائے۔ اور اس قتل عام کی وجہ سے مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی سرحد کی طرف دھکیلا جائے۔ اس عمل کے نتیجے میں ممکن ہے بنگلہ دیش میں شورش برپا ہو جائے اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو مسلح کرنا شروع کر دیں اور آزاد ہندو اکثریتی ’’بانگا بھومی‘‘ بنانے کا خواب پورا کر سکیں۔

اس سے قطع نظر کے بھارت مستقبل میں کیا اقدامات اٹھاتا ہے، حالات جس سمت میں جا رہے ہیں یہ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے لیے بالخصوص اور پورے برصغیر کے لیے بالعموم بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اس خطرے کو بعید سمجھ کر اس سے صرفِ نظر کرنے کی بجائے بحیثیت امت سوچنا شروع کریں اور پاکستان، بنگلہ دیش، برما اور افغانستان کو ان کے عوام کا مسئلہ سمجھنے کی بجائے اسلامی سرزمین کے تصور کو دل و ذہن میں پختہ کریں اور یہ یاد رکھیں کہ مسلمانوں کی چپہ بھر زمین بھی اگر قبضۂ کفار میں ہو تو بتدریج امت کے تمام مسلمانو ں پر جہاد فرض عین ہوجاتاہے۔ ہمارے رب نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں سب سے سخت یہود اور مشرکین ہیں، پس ان سے مقابلے کے لیے قوت مجتمع کیجیے، ان کی چالوں کو سمجھیے اور ان کے سدّباب کی کوشش کیجیے، اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے۔

وما علينا الا البلاغ المبين!


1 International Society for Krishna Consciousness

2 Rapid Action Battalion

3 ٹکا: بنگلہ دیشی کرنسی

Previous Post

وار آن ٹیرر کی حقیقت

Next Post

لَوْ لَا الْمَشَقَّۃ……

Related Posts

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط
فکر و منہج

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | پانچویں قسط

25 مئی 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | تیرہویں قسط

25 مئی 2026
اَلقاعِدہ کیوں؟ | چوتھی قسط
فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | نویں قسط

25 مئی 2026
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط
فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | چھٹی قسط

25 مئی 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | آٹھویں قسط

25 مئی 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | ساتویں قسط

1 مئی 2026
Next Post

لَوْ لَا الْمَشَقَّۃ……

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version