معذرت! اس مضمون میں بعض ایسے موضوعات کو اٹھایا گیا ہے جن سے انسانی طبیعت کو بالعموم کراہت اور شرم آتی ہےلیکن موضوع کی حساسیت اور اہمیت کے لیے ان اشیا کا تذکرہ یہاں ناگزیر ہے! (داود غوری)
ایک زمانے میں فرانس کے صدر ’’نکولس سرکوزے‘‘ کا عالمی اتحاد کی ایک کانفرنس میں’ناک کی غلاظت‘ کھانے کا منظر کیمرے میں محفوظ ہو کر پوری دنیا کے سامنے آیا……خوب مذاق بنا!
یورپ خصوصاً فرانسیسی قوم کے کفر سے بھرے دل، نورِ ایمانی سے کوسوں دور ہیں۔ عقل وخرد سے خالی بے شرموں کو ان کے ماں باپ 1نے بنیادی صفائی ستھرائی کے آداب تک نہیں سکھائے کجا یہ ان کو سکھاتے کہ مسلمانوں اور اُن کے مذہبی شعائر کا استہزا اِن کو بہت مہنگا پڑے گا۔ جس قوم کا صدر اس قدر رذیل ہو کہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ ایک عالمی کانفرنس میں کیمروں کے سامنے یہ فعلِ شنیع کرتا ہو، اس قوم سے آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی بے حرمتی کا انتقام لینے کا موقع اور توفیق دے، آمین!
خیر! ایک مجلس میں اسی ویڈیو کلپ کا تذکرہ ہوا توسامنے بیٹھے ایک ساتھی نے بڑی معصومیت سے بتایا کہ ان کے بچپن کے ایک دوست نے ان کو بتایا تھا کہ ’’ میں نے انٹرنیٹ پر تحقیق کی ہے کہ یہ ایک مرض ہوتا ہےجس کا نام Rhinotillexis ہوتا ہے‘‘۔
اب میں نے سوچا کہ’’ ہائیں ! مرض‘‘……؟! مرض تو مِن جانبِ خدا ہوتاہے…… اس میں انسان کا کیا قصور؟! پھر تو انسان اس گندی عادت کو چھوڑنے کا مکلف ہی نہیں رہا۔
پھر تو بندۂ فقیر نے اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پاس موجو د انگریزی معلومات کے مصادر کو ٹٹولنا شروع کیا تو یہ دیکھ کر مجھے دھچکا لگا کہ مغربی مفکرین اور دانشوروں کے یہاں اس غلاظت کو ’قابلِ قبول عادات‘ 2کے نام سے جائز قرار دیا جاتا ہے۔ بلکہ وکی پیڈیا میں درج معلومات میں تو جرمنی کے ایک بد طینت و بد خصلت پروفیسر صاحب اسے ’قوتِ مدافعت کے لیے مفید ‘3 قرار دے گئے۔ أعاذنا الله من شر هؤلاء الكفرة والحمد لله على نعمة الإسلام!
کچھ آگے پڑھا…… تو پتہ یہ چلاکہ یہ تو محض ایک قبیح حرکت تھی! اس کے مثل یا اس سے بڑھ کر دنیا کی ہر غلاظت، بے ہودگی، فحاشی اور ہر غیر انسانی فعل کو شاطر مغرب ’’مرض‘‘ کا نام دیتا ہے۔ پھر اس کے بارے میں رپورٹیں اور سروے تیار کیے جاتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ اتنے فیصد لوگ بچپن سے ہی اس گندی عادت کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ان کی ’نیچر‘ میں ہی یہ ’پرابلم‘ ہوتا ہے۔ اس طرح اس کو ایک خاص قسم کا disorder یا syndrome کا عنوان دے کر عوام کے سامنےایک ’پیکج ‘کی صورت میں رکھ دیا جاتا ہے۔
اور یہی تو اہلِ مغرب اور اُن سے متاثر ذہنوں کا مسئلہ ہے کہ دنیا کا ہر گناہ اور ہر گندگی جب ایک مرض ٹھہری تو یہ تو ایک انسانی مجبوری بن جاتی ہے …… جائز ٹھہرتی ہے …… ان کے معاشرے میں اس کو ’برداشت‘ کیا جاتا ہے۔ یوں ایک انسانی نہیں بلکہ ’حیوانی درندوں‘ کی معاشرت وجود میں آتی ہے۔ عفت و پاکیزگی کی دھجیاں بکھیرنا ہو یا خواتین کی عزتوں پر حملے…… بہن اور بیٹی کی اپنے سگے بھائی اور باپ سے عصمت غیر محفوظ ہونے کا معاملہ ہو یا بچوں کے ساتھ زیادتیاں…… بوڑھے ماں باپ کو سردٹھٹھرتی راتوں میں سڑکوں یا ’ہٹس‘ پر چھوڑ دینے کا معاملہ ہو یا نشے میں دُھت ہو کر بیسیوں انسانوں کو ’شوقیہ‘ گاڑی تلے کچل دینے کا معاملہ……! پھر ایسی ہی نسل پروان چڑھتی ہے۔
’’ماں باپ کو آداب و اخلاق سکھانے کا کسی قسم کا حق نہیں ! ہم آزاد ہیں! ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں! میرا جسم میری مرضی!بہن میری اپنی، جسم اس کا اپنا! ‘‘4
پھر ایسے ہی عنوانات اور نعروں کی بازگشت ہوتی ہے۔ کچھ تو اپنے دنیا میں آنے پر ہی ’سیڈ‘5 رہتے ہیں۔اور اپنے والدین کے اس جرم پر کہ ان کی وجہ سے میں دنیا میں آیا…… مقدے دائر کرواتے ہیں۔ اور جب کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی تو خودکشی کر کے جہنم کی آگ کا ایندھن بنتے ہیں۔ أعاذنا اللہ منہ!
نہیں بدلتے تو خود کو نہیں بدلتے…… اپنے بچوں کی تربیت نہیں کرتے……اپنی اصلاح نہیں کرتے …… توبہ نہیں کرتے …… ایمان نہیں لاتے!اپنے گناہ پر شرمندہ اور نادم نہیں ہوتے !لیکن جب کوئی ان کی غلط حرکات پر انگلی اٹھانے لگے تو اپنی ذات کو بچانے کی خاطر ’مرض‘کے نام کا سہارا لے کر،سارا الزام اپنے خالق ’اللہ‘ پرتھوپ دیتے ہیں۔نعوذ باللہ من ذلك وسبحانك هذا بھتان عظیم!
دورِ حاضر کےکافروں کا کفر کون سی نئی چیز ہے……؟ یہ تو محض اسی صدیوں پرانے کفر کی ’جدید لیپائی‘ ہے۔ زمانۂ قدیم کے کافر بھی اپنے کفر وشرک اور جملہ گناہوں کا الزام اللہ ہی پر تھوپتے تھے اور آج کا جدید کفر بھی یہی کر رہا ہے۔ اللہ ہمیں ان کافروں کے حال سے با خبر کرتا ہے:
سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ لَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم حَتَّى ذَاقُواْ بَأْسَنَا…… (سورۃ الانعام: ۱۴۸)
’’جن لوگوں نے شرک اپنایا ہوا ہے وہ یہ کہیں گے کہ: اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے، نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ کسی بھی چیز کو حرام قرار دیتے، ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اسی طرح (رسولوں کو ) جھٹلایا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔‘‘
لیکن کام اس سے بھی نہیں چلتا! دراصل انسان کے اندر ضمیر یا نفسِ لوامہ کا ’’تھرماسٹیٹ‘‘ ہوتا ہے۔ جو ہر گناہ اور غیر انسانی حرکت پر جوش مارتا ہے۔ گناہوں کی کثرت سے اس کی کارکردگی ماند پڑ تی جاتی ہے۔ لیکن اللہ کا کرم ہے کہ یہ کلیتاً کام نہیں چھوڑتا۔
’’مغربی جانوروں‘‘ کے ضمیر کے کسی کونے کُھدرے سے اگر کبھی ملامت کی آواز اٹھتی ہےتو اس کو کسی سائکاٹرسٹ کی دکان کو چمکا کر دبا نے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن وہ دبتی کہاں ہے؟ ڈپریشن دور کرنے والی دوائیاں کھا کھا کر ان کی زندگی اور اجیرن ہو جاتی ہے۔ اس سے بھی زور نہیں چلتا تو شراب نوشی کی اس قدر کثرت کرتے ہیں کہ موت واقع ہوجاتی ہے۔ دیگر بہت سے افراد خودکشی کر کے ’ضمیر کی اس آواز‘ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرلیتے ہیں۔
وکی پیڈیا میں درج، اس قسم کے لوگوں کی خودکشیوں کے حوالے سے ایک حیرت انگیز انکشاف دیکھنے کو ملا۔ ملاحظہ ہو:
“A number of reviews have found an increased risk of suicide among transgender, lesbian, gay, and bisexual people. Among transgender persons rates of attempted suicide are between 30 and 50%.”
’’بہت سی رپورٹیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اپنی جنس تبدیل کرنے والوں میں، ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں میں اور دونوں جنسیت پرست لوگوں میں خودکشیوں کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اپنی جنس تبدیل کرنے والوں میں خود کشی کی کوشش کرنے والوں کی تعداد تیس سے پچاس فیصدہے ۔‘‘
اور کیوں نہ ہو……؟ اللہ اور اس کے دین کے باغیوں کا یہی انجام ہوا کرتا ہے:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى(سورة طہ:۱۲۴)
’’اور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔‘‘
درحقیقت یورپ انسانوں کی نہیں بلکہ جرائم پیشہ غنڈوں اور جنونیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ پچھلے سال’بے نور لائٹوں کے شہر‘ پیرس کی لاکھوں خواتین نے اپنے ہی معاشرے کے خلاف مظاہرے کیے کیونکہ یہ خواتین خود کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے پر سخت پریشان تھیں۔
اس لیے گزارش یہ ہے کہ اس قسم کے ’حقائق اور اعداد و شمار‘ کو پڑھتے وقت اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ کہیں آپ اس گناہ اور اس گندگی کو ہلکا نہ سمجھ بیٹھیں!بہت سے اعداد و شما ر لکھنے والوں کے دماغوں میں در اصل یہ دُھن کارفرما ہوتی ہےکہ اتنے لوگوں کو اس گناہ میں مبتلا دیکھ کر رپورٹ پڑھنے والا انسان بھی پھسل جائے۔
وزیرستان میں شہید ہونے والے حسین گلدستۂ شہدا کے ایک مہکتے پھول ’نبیل مالدیپی بھائی‘ تھے۔ آپ ابو حمزہ المالدیپی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ راہِ جہاد میں ڈرون طیاروں کی ایک بمباری میں آپ اپنی ایک ٹانگ اللہ کی راہ میں قربان کرچکے تھے۔بلا کی ذہانت رکھنے والے ہمارے یہ پیارے بھائی کئی سال تک بقیہ ایک ٹانگ اور بیساکھیوں کے سہارے جہادی خدمات سرانجام دیتے رہے۔بالآخر ڈرون طیاروں ہی کے خلاف ایک منصوبہ بناتے ہوئے آپ کو ڈرون طیاروں نے نشانہ بنایا اور آپ مثلِ سیدنا جعفر طیار ؓ جنتو ں کو پرواز کرگئے۔ نحسبہ کذالک.آپ رحمہ اللہ ہمیں بتایا کرتےتھے کہ جب وہ سکول کے زمانے میں تھے، تو مالدیپ میں چرس نوشی اور دیگر منشیات کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔ لیکن اچانک ان کے ملک کے تعلیمی اداروں میں غیر ملکی این جی اوز نے اپنی سرگرمیاں بڑھائیں۔ اور آئے روز منشیات کے خلاف بڑے بڑے سیمینارز کروانا شروع کیے۔ جن میں وہ بتاتے کہ چرس فلاں پودے سے حاصل کی جاتی ہے۔ اور دنیا کے فلاں اور فلاں ملک میں اتنے فیصد عوام اس کے عادی ہوچکے ہیں۔ انسانی صحت پر اس کے برے اثرات پڑتے ہیں۔ لیکن ان سیمینارز سے کیا نتیجہ برآمد ہوا……؟وہ یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے نوجوانوں خصوصاً طالب علموں کی ایک بہت بڑی تعداد چرس کی عادی ہوگئی۔ یوں وہ مالدیپی عوام جو شاید چرس کے نام سے بھی ناآشنا تھی اس کی نوجوان نسل ضائع ہوتی چلی گئی۔
اسی طرح مجھے یاد ہے کہ ۲۰۱۰ میں مَیں نے وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے ہیپاٹائٹس کے خلاف عوام میں بٹنے والے ایک پمفلٹ کا مطالعہ کیا تھا۔ یہ پمفلٹ اردو اور پشتو زبان میں تھا جو کہ خاص طور پر قبائلی علاقوں کے لیے نشر کیا گیا تھا۔ میری یادداشت کے مطابق اس پمفلٹ کا اول نکتہ ہی یہ تھا کہ ’ہیپاٹائٹس سے بچنے کے لیے صرف اپنی شریکِ حیات تک محدود رہیں‘۔ تھوڑا آگے چل کر کچھ یوں بھی درج تھا کہ ’جن افراد میں ہیپاٹائٹس مرض مثبت آچکا ہوان سے جنسی تعلقات بنانے سے احتراز کریں!‘۔ اب آپ خود سوچیئے کہ قبائل کی غیرت مند اور باعزت قوم سے اس قسم کی باتیں کرکے فوج کا مقصد کیا ہے؟ یہی ہے کہ ’بدکاری کوئی بڑا جرم نہیں صرف اس سے ہیپاٹائٹس ہونے کا خطرہ ہے، باقی آپ کی اپنی مرضی!!!‘دراصل یورپ و امریکہ کے نظام کو یہاں نافذ کرنے والی فوج، اس معاشرے کو بھی مغرب کی طرح ’حیوان‘ بنانا چاہتی ہے۔ 6
پھر جن سرویز (surveys)کو یہ عالمی حقائق بنا کر بیان کرتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہوتی ہے۔ ان میں کتنی عدالت اور کتنی احتیاط ہوتی ہے یہ سب متنازع ہے۔سروے تیار کرنے والے اکثر ادارے اپنی سوچ اور نظریے کے مطابق تین چار مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ایک ایک فرد سے چند سوالات پوچھ کر ایک مکمل رپورٹ تیار کرلیتے ہیں اور اس کو عوام کی رائے کے عنوان سے چسپاں کر دیا جاتا ہے۔فيا للظلم! 7
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے سینوں میں کفر اور کافروں کی تہذیب کی دشمنی مزید بڑھائے۔ ہمارا ایمان، عقیدہ، اعتماد اور یقین وحی کی لائی ہوئی تعلیمات پر مضبوط کرے۔ اور اپنے معاشرے کو نورِ ایمانی سے مزین کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کی توفیق بھی دے کہ ہمارے ہر ہر فعل، اقدام اور جہاد سے مغربی اقوام کو بھی ایمان کی دولت نصیب ہو۔ آمین ثم آمین!
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین.
1 بشرط یہ کہ باپ نامعلوم نہ ہو۔
2 Passing behaviours
3 Beneficial for the immune system.
4 نہایت افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ مذکورہ جملے مغرب سے متاثر ایک پاکستانی نوجوان کے منہ سے ادا ہوتے ہیں، اور اس کا یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا۔
5 افسردہ؍ Sad
6 گناہوں کے طبی نقصانات بتانا شرعاً کوئی ناجائز امر نہیں لیکن جب اس میں سے آپ گناہ اورسزا کی بحث کو نکال کر محض طبی نقصانات بتائیں گے تو اس گناہ کی حرمت اور اس سے اجتناب بہت مشکل ہو جائے گا۔جبکہ اس کے برعکس شرعی اور طبی دونوں نکات بیان کرنے سے اجتناب یقینی ہوگا۔
7 اس طرح کے مخصوص سروے وغیرہ کی حقیقت کے متعلق حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’’اسلام اور ہماری زندگی ‘‘ میں حضرت کے وعظ ’’عقل کا دائرۂ کار‘‘ کے ذیل میں ’آج کل کا سروے‘ کا عنوان دیکھنا مفیدہے(اسلام اور ہماری زندگی، ج ۱، ص ۵۵)۔ ہماری یہ بات تمام سروے کرنے والے اداروں کے متعلق نہیں ہے اکثریت کے بارے میں ہے، ہاں قلیل ادارے ایسے بھی ہیں جو اپنے ذرائع، مقاصد اور دیگر تفاصیل کا اعلان کرتے ہیں، تو ان کے سروے پر ان کے ذرائع، مقاصد اور دیگر تفاصیل کے مطابق ہی رائے قائم کرنی چاہیے۔ پھر یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ فی زمانہ سروے دراصل ’میڈیا وار‘ کا حصہ ہیں اور شاذ ہی ایسے ادارے پائے جاتے ہیں جو حقیقتاً ’غیر جانبدارانہ اور عادلانہ‘ سروے کرتے ہوں۔انہیں سروے وغیرہ کی ایک قسم آج کل سوشل میڈیا ٹرینڈز ہیں، اصولی و تکنیکی طور پر وہ چیزیں ’ٹرینڈ‘ کرتی ہیں جن کے متعلق لوگ بات کر رہے ہوں، لیکن درپردہ حقائق اور سازشی نظریات (Conspiracy Theories) چھوڑیے کچھ سال قبل فیس بک کے مالک ’مارک زکر برگ‘ کی معافی کہ ’ہم فیس بک پر حقیقی ٹرینڈز کے بجائے جو خود مناسب جانتے اس کو ٹاپ ٹرینڈ دکھاتے تھے‘ ہی کافی ہے۔ اور اصل بات یہ ہے کہ سروے وغیرہ میں پیش کردہ ’حقائق اور اعداد و شمار‘اگر حقیقت کے عکاس بھی ہوں تو ان کو پرکھنے کی کسوٹی ’شریعتِ مطہرہ‘ ہے، محض ان کا شفاف ہونا یا اکثریت کی رائے ہونا وغیرہ کافی نہیں!






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



