’مفتی فضل الرحمٰن قاسمی ‘ حفظہ اللہ کا تعلق شہید سراج الدولہ، سید تیتومیر اور حاجی شریعت اللہ کی سرزمین سے ہے جس کے بیشتر حصے کو آج بنگلہ دیش کے نام سے جانا جاتا ہے اور آپ نے یہ تحریر بنگلہ دیش میں ہی قلم بند کی ہے۔(ادارہ)
الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذین اصطفى، اما بعد
اسلامی دنیا اور مسلمانوں كے غالب طبقے كے موجوده حالات سے ایسا معلوم ہوتا ہے كہ مسلمانوں نے اپنے لیے یہ بات تسلیم کر لی اور اپنی قسمت كے لیے یہ طے كر بیٹھے ہیں كہ وه آئنده كبھی دنیا اورا ہل دنیا كی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں نہیں تھامیں گے جو اس دنیا کے سفر كی ابتدا سے انہیں كے ہاتھ میں تھی۔
انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں ان لوگوں كے حوالے كردی ہیں جو ان كے معبود ِحقیقی، یعنی الله کے دشمن ہیں، ان كی جان سے محبوب الله كے پیارے رسول صلى الله علیہ وسلم کے دشمن ہیں، تمام مسلمانوں کے دشمن ہیں، خود ان كے جانی ومالی دشمن ہیں اور ساری موجودات وكائنات کے دشمن ہیں۔ وه اپنی ذمہ داریاں خود سنبھالنے كی ہمت ایك دم كھو چكے ہیں، چاہے وه ذمہ داری اپنے معبودِ حق كی وحدانیت كی تائید واثبات كے بارے میں ہو، یا وه ذمہ داری اپنے طرزِ حكمرانی میں ہو، یا وه ذمہ داری اپنے قوانینِ زندگانی كے بارے میں ہو، یا وه ذمہ داری اپنی ذاتی، عائلی اور سوسائٹی كی بول چال اور شب وروز كے چھوٹے بڑے ہر قول وفعل كے بارے میں ہو۔
ایسا معلوم ہوتا ہے كہ، مسلمانوں کے عقیدے ”معبود حق ایك الله تعالىٰ ہے اس كا كوئی شریك نہیں“ کو کسی رام جی اور کسی مسٹر جی سے منظور كروانا ہوگا، مسلمان اپنے ملك اور اپنی عدالتیں كس آئین اور كس قانون سے چلائیں گے یہ قرآن ،حدیث اور فقہ اسلامی كے بجائے غیر مسلم سربراہوں سے پوچھنا اور ان سے سیكھنا پڑے گا، كوئی مسلمان اپنی شخصی اور عائلی زندگی میں كس طرز عمل پر زندگی بسر كرے گا یہ الله كے كسی دشمن سے پوچھنا پڑے گا، كوئی مسلمان اگر اپنی بیوی كو تین طلاق دے كر اس كو زندگی كے لیے اپنے اوپر حرام كر لے تو اس حرام بیوی كے ساتھ باقی زندگی گزارنی پڑےگی یا نہیں یہ فتوىٰ كسی ہندو سے لینا پڑے گا، مسلمان لڑكے کی كسی لڑكی سے قربت كے لیے شادی ضروری ہے یا نہیں یہ فتوىٰ بھی كسی عیسائی یا كسی ایسے شخص سے طلب كرنا ہوگا جو اس كائنات كے لیےنہ كسی خالق كو مانتا ہے اور نہ وه اس دنیا کے فنا ہو جانے كے بعد كسی زندگی كا قائل ہے۔
آج كی دنیا میں یہ باتیں كوئی خیالی اور احتمالی چیز نہیں، یا یہ كسی مایوس اور لاچار آدمی كا خوابِ بد (برا خواب)نہیں، بلكہ یہ روز مرہ كی حقیقت ہے اور صبح و شام كا واقعہ ہے۔ البتہ احساس اور نظرِ عبرت كا حال اتنا ہی مختلف ہے كہ، ان حالات سے دوچار ہوكر كسی كی نیند تك حرام ہو گئی ہے، منہ کا ذائقہ تك خراب ہو گیا ہے، چین كی زندگی عرصے سے مفقود ہے اور اس كے برخلاف كسی كی بے فكری اور خوشی كا عالم ایسا ہے كہ، صبح وشام كی سیر و تفریح اور دن رات كی آسائش و زیبائشِ عمر كی فكر میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑا۔ اور اس آسمان وزمین جیسے فرق كے مابین ہم جیسوں كے اتنے درجے ہیں كہ جن کی كوئی انتہا نہیں۔
حالت یہاں تك جا پہنچی كہ قطعی اور واضح فرائض شبہات اور خیالات شمارکیے جارہے ہیں، روزانہ كی ضروریاتِ دینیہ كو بے فائده كہا جا رہا ہے، صبح وشام كے واجبات كو بے ثمره اور بے نتیجہ قرار دیا جارہا ہے، قرآن، حدیث اور فقہِ اسلامی كے حوالوں كو غیر علمیت اور سطحیت سے تعبیر كیا جارہا ہے، نقدِ علمی كو سوئے ادب وبدتمیزی كا عنوان دیا جارہا ہے۔
ان حالات سے متاثر ہو كر اور گھبرا كر اہلِ قلم اور اہلِ فكرحالات حاضره كے بعض خاص مسائل میں اپنے قلم اٹھاتے ہوئے بے حد جھجك محسوس كرتے ہیں، وه اپنی فكر و خیالات كو دلیل كی رو سے پیش كرنے كی ہمت نہیں كرتے، جب تك کہ وه فكر اور وه خیالات معاشرے میں رائج فكر و خیالات كے موافق نہ ہوں۔
لیكن اخروی جواب دہی ایك ایسا مرحلہ ہے جس سے كسی كو چھٹكارا نہیں، الله رب العزت كے سامنے ہر امیر و فقیر کا کھڑا ہونا ایك بدیہی حقیقت ہے، اور ہر آدمی کا اپنی ہر ذمہ داری كے لیے جواب دہ ہونا ایك نا قابلِ انكار حقیقت ہے۔
لہٰذا ہم كہتے ہیں كہ:
برِّ صغیر یعنی آج کا پاكستان، بنگلہ دیش اور بھارت تاریخ كی رو سے ہمارا دیس ہےیا ہمارے دشمنوں كا دیس ہے؟ یا دوست و دشمن سب كا دیس ہے؟ یہ سوال اٹھاتے ہوئے مجھے یہ بات صاف طور پرمعلوم ہے كہ، آج یہ ایک ایسا سوال ہے جس كا سائل دوست و دشمن ہر ایك كی نظر میں مخدوش اور موردِ الزام ہے، بلكہ اگر كہا جائے کہ یہ سوال آج كی دنیا میں عجائبِ دنیا اور غرائبِ عالم میں شامل ہے تو یہ كوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔
جس وقت میں ’ہمارے‘ سے ہم مسلمان اور ’دشمن‘سے غیر مسلم اقوام مراد لے رہا ہوں اس وقت دنیا میں اقوام انسانی میں یہ فرق اور یہ تقسیم روا نہیں ہے، اور ایسی تفریق كی اجازت نہیں۔
لیكن، جس خالقِ كائنات سے ہمارا رشتہ ہے، جس رسولِ عربی سے ہماری پہچان ہے، اور جن سلفِ امت كے ہم وارث ہیں…… اس خالقِ كائنات كا حكم، اس رسولِ عربیﷺ كی راہنمائی اور ان اسلاف كی تاریخ سےہمیں یہ سبق ملتا ہے كہ، ہم حق بات کو كہے بغیر نہ رہیں۔ ہمارے رب سے ہمیں یہ اجازت نہیں ملے گی، ہمارے پیارے رسول صلى الله علیہ وسلم كے ساتھ یہ بے وفائی ہوگی اور اسلاف كی امانت كے ساتھ یہ خیانت ہوگی، لہٰذا ہم حق بات تو ضرور کہیں گے، شرعی ذمہ داری كی رو سے کہیں گے، قرآن ،سنت اور فقہِ اسلامی كی روشنی میں کہیں گے۔ والله الموفق والمعین۔
تاریخ بتاتی ہے كہ برصغیر، یعنی پاكستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے علاقوں نے مسلمان حكمران اور اسلامی قانون كے تحت ایك طویل مدت گزاری، جس مدت میں یہ سرزمین قرآن، حدیث اور فقہِ اسلامی كی رو سے دار الاسلام تھی۔ البتہ اس حقیقت سے ہمیں انكار نہیں كہ اس برِّ صغیر كے تاریخی ادوار بہت ہی مختلف بلكہ پیچیده بھی ہیں، آپ اگر كہیں كہ اس كی ہرصدی اپنی اگلی اور پچھلی صدی سے مختلف ہے تو یہ خلافِ واقع نہیں ہوگا۔ خاص طور پر اس كی جغرافیائی حدود بہت ہی مختلف ہوتی رہیں اور مسلمان حكمرانوں كے ایمان و عقائد كی حالت بہت ہی مختلف رہی، جن میں بعض تو ایسے بھی گزرے جن كو شریعت كی رو سے مسلمان كہنا مشكل ہے اور بعض ایسے تھے جن كو اگر چہ مسلمان كہا جا سكتا ہے لیکن وه نہ تو صحیح عقیدے كے حامل تھے اور نہ ہی صحیح عقیدے كے ساتھ ان کی كوئی پہچان تھی۔ ان وجوه کی بنا پر تاریخ كے ہر دور كے حالات كی تشخیص ذرا مشكل ہے۔
لیكن تاریخ کے جس حصے كے بارے میں كسی کو كوئی اختلاف نہیں اور جس حصہ پر كوئی پرده نہیں اس كی شرعی حیثیت ہمارے سامنے آجائے تو ہمارے موجوده مسائل حل كرنے میں ان شاء الله بہت مدد ملےگی اور ہم جن مسائل كی پیچیدگی كی وجہ سے دوٹوك بات كہنے كی ہمت نہیں كرتے وه بھی اجاگر ہو كر سامنے آجائے گی، ان شاء الله۔
برِّصغیر (ہندوستان) كی تاریخ میں جن مسلم حكمرانوں نے اسلامی آئین اور شرعی قانون كے مطابق حكومت چلانے كی كوشش كی اور قرآن وسنت كے احكام كو نافذ كرنے میں كچھ حصہ لیا وہ مندرجہ ذیل ہیں:
الملك الصالح ناصر الدین محمود (۶۶۴ھ)
الملك العادل غیاث الدین بلبن (۶۸۶ھ)
الملك الفاتح علاء الدین خلجی (۷۱۶ھ)
السلطان الكامل شمس الدین التمش (۷۳۳ھ)
الملك القاہر محمد تغلق (۷۵۲ھ)
الملك الكریم فیروز شاه (۷۹۹ھ)
الملك الفاضل سكندر بن بہلول لودھی (۹۲۳ھ)
الاداری النابغۃشیر شاه سوری (۹۵۲ھ)
شاه جہاں تیموری (۱۰۶۸ھ)
ناصر الدین والسنۃ اورنگ زیب عالم گیر (۱۱۱۸ھ)
ان كے علاوه اور بھی حكمران اور امرا ءگزرے جنہوں نے ہندوستان كے مختلف خطوں میں اسلامی حكومت قائم كرنے كی كوشش كی اور ایك حد تك وه كامیاب بھی ہوئے۔ اس سلسلے كی آخری جو كڑی تھی ،وه ہے سلطنتِ مغلیہ كے آخری سلطان بہادر شاه ظفر کہ جن كے بعد حكومت اسلامیہ کے نام سے جو سلطنت باقی تھی وه بھی مٹ کر رہ گئی۔ یہاں پر ہندوستان كو دار الحرب قرار دینے كے بارے میں شاه عبد العزیز محدث دہلو ی رحمۃالله علیہ كا جو تاریخی فتوىٰ ہے اس كا كچھ پس منظر بھی ہماری گفتگو میں آجائے تو مناسب ہوگا اور زیرِ بحث مسئلہ كو حل كرنے میں ان شاء الله تعالىٰ آسانی ہوگی۔
ہم اس تاریخی پسِ منظر كی تفصیل میں جانا نہیں چاہتے ہیں، بلكہ اس كے اس حصہ كو ہم زیر بحث لائیں گےجس حصے كے ساتھ ہمارے اس مسئلے كی وابستگی ہے، اور جس حصے كو اجاگر كرنے سے ان شاء الله ہمیں اس مسئلے کے نتیجے پر پہنچنے میں كوئی تردد نہیں ہوگا، اور جس حصے کے سامنے آجانے سے مسئلے كے حتمی نتیجے كے لیے دوسرے حصوں كی طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
ہندوستان (برِّ صغیر)میں جب تك مسلمان حكمرانوں كے ما تحت اسلامی شریعت نافذ رہی تب تك اس سرزمین كو دار الحرب قرار دینے كی كوئی ضرورت نہیں تھی، بلكہ اس كا جواز بھی نہیں تھا۔ لیكن جب حالت بدل گئی اور حكومت وحكمرانی مسلمان حكمرانوں كے ہاتھوں سے غیر مسلموں كے ہاتھ میں چلی گئی تو اس برصغیر كی اصلی حالت یعنی شرعی حیثیت كو بیان كرنا ضروری تھا، خاص طورپر ۱۷۵۷ ءمیں جب نواب سراج الدولہ اور۱۷۹۹ ء میں سلطان فتح علی ٹیپو انگریز كے ہاتھوں شہید ہو گئے اور مسلمان فوج نے شكست کھائی۔ تو اس برّصغیر (ہندوستان) میں مسلمانوں كے پاس ایسی كوئی دفاعی طاقت باقی نہ رہی جس سے انگریزوں كا مقابلہ كر سكیں یا اپنے دائرۂ حكومت میں اسلامی آئین اور اسلامی شریعت كو نافذ كر سكیں۔
دہلی میں اس وقت تك مغل سلطنت كا ٹمٹماتا چراغ بجھانہیں تھا، سلطنتِ مغلیہ شاه عالم ثانی كے ہاتھ میں تھی، حقیقت میں شاه عالم كے ہاتھ میں فقط دہلی كے لال قلعہ كے محض كھنڈرات اور شاہی آسائش اور زیبائش کا سامان تھا اورمسلمانوں كے حکمران ہونے كی حیثیت سے ان كے ہاتھ میں كچھ نہ تھا۔ ہندوستان پر نہ مركزی حكومت كا كوئی كنٹرول تھا، اور نہ كسی مقامی حكومت كا كنٹرول تھا۔ انگریز اور دیگر غیر اسلامی طاقتیں ان حالات كو صحیح طریقہ سے بھانپ چکی تھیں، اور سو فی صد آزادی كے ساتھ حكومت كے مركزی اداروں كو اپنے ہاتھ میں لے چکی تھیں، قانون ساز اداروں اور تنفیذی اداروں پر ا پنا سكہ جما چکی تھیں، فوجی طاقتیں تو ان کےہاتھ میں پہلے ہی تھیں، یعنی ہندوستان كا ایسا حال تھا جو كسی ذمہ دار عالم كو اور امت كے كسی راہبر كو چین كے ساتھ جینے نہیں دے سکتا تھا، یہاں تك وه اپنے کاندھوں پر موجود شرعی ذمہ داری كو ادا نہ كر لےاور اپنے فریضۂ منصبی کو بجا نہ لائے۔
سراج الہند شاه عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ الله علیہ نے ہندوستان کے دار الحرب ہونے کا فتویٰ دیا اور ایك راہبر ہونے كی حیثیت سے امت كو یہ پیغام پہنچا دیا كہ اب سے تمہاری ذمہ داری میں كچھ ایسے فرائض شامل ہو گئے ہیں جو تم پر ایك دار الاسلام كے باشندے ہونے كی حیثیت سے پہلے نہ تھے۔
جس پس منظر اور جن وجوه کی بنا پر یہ فتویٰ وقت كا حتمی فریضہ تھا وه یہ ہیں:
ہندوستان میں اسلام كی قانونی حیثیت مفقود ہو گئی تھی۔
ہندوستان کا حاكمِ اعلى مسلمان ہونے كے باوجود اسلامی قانون نافذ كرنے پر قادر نہ تھا۔
آئینی اداروں، عدالتوں، قانون ساز اسمبلیوں پر قرآن، حدیث اور اسلامی شریعت كی نگرانی نہ چلتی تھی۔
سارے آئینی ادارے، عدالتیں اور قانون ساز اسمبلیاں غیر اسلامی طاقتوں كی اپنی رائے اور ان كے فیصلہ كی نگرانی اور ان كے خیال كے قبضے میں تھیں۔
مسلمان اپنی عبادات، معاملات اور اسلامی چال چلن میں اتنا ہی كر سكتا تھا جتنا اس كو غیر اسلامی آئین اور غیر اسلامی حكمرانوں سے كرنے كی اجازت ملتی تھی۔
وه حكومت اپنے خرچ سے مدارس چلاتی تھی، لیكن مدارس میں پڑھائے گئے مسائل كو سماج میں نافذ كرنے نہیں دیتی تھی۔
اس حكومت كی باگ ڈور پكڑنے والے مدارس كے صدر بھی بنتے تھے، لیكن قرآن و حدیث كے ضوابط و قوانین كو وه دل سے ناپسند كرتے تھے۔
یہ وه حالات تھے جن كا دوست دشمن كوئی انكار نہیں كر سكتا، اور نہ انكار كرنے كی كوئی ضرورت ان كے دل میں ہے، كیونكہ ان حالات نے ایسی ایك باریك اور پوشیده تار اور پائپ لائن كے ذریعے اس سماج كو گھیر لیا تھا كہ اكثر و بیشتر كو پتہ بھی نہ چلا كہ كہاں كا پانی كہاں پہنچ رہا ہے۔
لیكن اسلام كے بیدار ذمہ داروں كی آنكھیں اس طرح كھلی ہوتی ہیں كہ ان كے سامنے سے خلاف شرع كوئی حالات اور خلاف شرع كوئی مرحلہ چھپ کر گزر نہیں سكتا، شاه عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ الله علیہ نے اس بر صغیر کے دار الحرب ہونے کا فتوىٰ دیا اور الله كے بندوں کا ایك طائفہ ایسا كھڑا ہو گیا جو اس فتوے كی رو سے جو جو كرنا چاہیے تھا وہ سب كرنے كے لیے تیار ہوگیا۔
اس فتوے كا پس منظر اور جن جن وجوه کی بنیاد پر یہ جاری کیا گیا تھا آج تك برابر ویسی ہی باقی ہیں جیسے دمِ اجرائے فتویٰ تھیں۔
اس فتوے كے تقریباً دو صدی اور ایك ربع صدی كے بعد كا زمانہ آج ہم گزار رہے ہیں، تو ہم دیكھتے ہیں كہ جس پسِ منظر اور جن وجوه سے دو سو، سوا دو سو برس پہلے بر صغیر (ہندوستان) كو دار الحرب قرار دیا گیا تھا وه وجوه اور حالات آج تك مسلسل وہی چلے آرہے ہیں یا نہیں؟
اس بات کا كوئی انكار نہیں كر سكتا كہ پچھلی ان دو صدیوں میں حالات بدلتے رہے، اور یہ ایك ناممكن بات ہے كہ اتنی لمبی مدت تك حالات بدلے بغیر دنیا چلے، یہ نہیں ہو سكتا، لیكن ہماری بات جو چل رہی ہے وه شرعی حیثیت سےہے۔ ہم كہنا چاہتے ہیں كہ شریعت كی میزان میں اگر تولا جائے تو ہر صاحبِ بصیرت آدمی كو یہ كہنا پڑے گا كہ دو سو برس پہلے كے حالات اور دو سو برس بعد كے حالات میں كوئی فرق نہیں آیا۔
غور کیجیے کہ:
ہندوستان، پاكستان اور بنگلہ دیش كی قانون ساز اسمبلیاں، عدالتیں اور كسی آئینی ادارے پر قرآن حدیث اور اسلامی شریعت كی كسی قسم كی نگرانی اور كسی قسم كا غلبہ اور قبضہ نہیں ہے۔
برصغیر كے ان تینوں ملكوں میں ہر قانون اور ہر آئین ان ملكوں كے سربراہوں كی رائے اور فیصلے پر بنتے ہیں چاہے وه سربراه مسلم ہو یا غیر مسلم ہو۔
بلكہ برٹش نے جس آئین پر اس ملك كو چلا كر ایك دار الاسلام كو دار الحرب تك پہنچا دیا، وہی برٹش آئین اور قانون آج بھی اس برصغیر كے ملكوں میں قانون ساز كی حیثیت سے اپنی پوری قدرت ،طاقت اور پوری تازگی كے ساتھ كارگر اور برقرار ہے۔
ان ملكوں پر ایسے حكمرانوں كا تسلط ہے جواخروی نجات كے لیے صرف ایك دین یعنی دینِ اسلام كے اتباع كو ضروری نہیں سمجھتے۔
برصغیر كے ان ملكوں كے جو حكمران ہیں ان كا عقیده یہ ہے كہ کسی مسلمان کواپنے اسلامی قانون پر چلنے كے لیے حكمرانوں كے بنائے ہوئے قانون سے اجازت لینی ہوگی، غیر مسلموں كے بنائے ہوئے قانون سے، الله اور الله كے رسول كے دشمنوں كے بنائے ہوئے قانون سے اجازت لینی ہوگی۔
ان حكمرانوں كا عقیده یہ ہے كہ اسلام كے نام پر قرآن وحدیث كے حوالہ سے كوئی قانون بنانا اور اس كو نافذ كرناجرم ہے اور قابل سزا جرم ہے۔
ان امور میں بھارت، پاكستان اور بنگلہ دیش یعنی سابق ہندوستان (برِّ صغیر)كے ان تینوں ملكوں كا حال برابر ہے۔ فرق جتنا ہے وه بھی ہم ذكر كر رہے ہیں، اسی طرح شاه عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ الله علیہ نے جب اس برِّ صغیر كے دار الحرب ہونے كا فتویٰ دیا تو اس وقت كی حالت اور آج كل كی حالت بھی برابر ہے، فرق جتنا ہے وه بھی ہم ذكر كریں گے۔
اس موقع پر ایك بات یاد رہنی چاہیے كہ ہندوستان پر دار الحرب كی حیثیت سے تین مراحل گزارے، ایك مرحلہ تو وہ جب فتوى صادر ہو رہا تھا، اس وقت حكمران مسلمان تھا لیكن قبضہ غیر مسلموں كا تھا، عدالت اور آئینی ادارے غیر مسلموں كی نگرانی اور غیر اسلامی قانون كے ماتحت چلتے تھے، یہ مرحلہ ۱۸۰۰ءسے ۱۸۵۷ءتك كا مرحلہ ہے، دوسرا مرحلہ وه تھا جب حكمران غیر مسلم تھے، یہ مرحلہ ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ءتك كا مرحلہ ہے، اورتیسرا وه مرحلہ ہے جب كچھ حصے پر حكمران غیر مسلم ہیں اور كچھ حصہ پر حكمران مسلم ہیں لیكن ہر حصہ پر قبضہ غیر مسلموں كا ہے، عدالت اور آئینی ادارے غیر مسلم اور غیر اسلامی قانون كے ماتحت ہیں، یہ مرحلہ ۱۹۴۷ءسے اب تك چل رہا ہے۔
ان تینوں مراحل كے ما بین جو فرق ہے ان كی تفصیل كچھ ایسی ہے:
پہلے مرحلے اور دوسرے مرحلے میں اس خطے كا نام تھا ہندوستان، اب یہ خطہ تین الگ الگ ناموں سے موسوم ہے، بھارت، پاكستان اور بنگلہ دیش۔
پہلے مرحلہ میں حكمران مسلمان تھے، نام كے واسطے دیس مسلمانوں كے ہاتھ میں تھا، لیكن سركاری سارے اداروں پر غیر مسلموں كا تسلط تھا، دوسرے مرحلہ میں حكمران غیر مسلم تھے، عدالت اور آئینی ادارے بھی انہیں كے تھے، اور تیسرے مرحلہ میں كچھ حصوں كے حكمران اپنے كو غیر مسلم جانتے ہیں اور كچھ حصوں كے حكمران اپنے كو مسلمان جانتے ہیں، البتہ سب کی عدالتیں اور آئینی ادارے غیر مسلموں كی نگرانی اور غیر اسلامی قانون پر چلتے ہیں، ہر حصے كا حكمران چاہے وه اپنے كو مسلمان جانتاہو یا اپنے كو غیر مسلم جانتاہو، ہر ایك یہ عقیده ركھتا ہے كہ عدالت اور آئینی اداروں میں قرآن حدیث اور اسلامی شریعت كی مداخلت وقت كا سب سے بڑا جرم ہے۔
پہلے اور دوسرے مرحلے میں اكثر مسلمان اور راہبرانِ امت غیر مسلموں کے تسلط اور غیر اسلامی قوانین كی ماتحتی پر ناراض تھے، لیكن تیسرے مرحلہ میں غالب طبقہ غیر مسلموں کے تسلط اور غیر اسلامی قوانین کی ماتحتی پر راضی ہے یا سكوت اختیار کیے ہوئے ہے۔
پہلے اور دوسرے مرحلوں میں اكثر مسلمان ان حالات سےخود كو نكالنے اور آزاد كرنے كو ایک شرعی ذمہ داری سمجھتے تھے، اب اكثر مسلمان یہ سمجھتے ہیں كہ غیر اسلامی حكومت اور غیر اسلامی آئین اور عدالت كے ماتحت زندگی بسر كرنا بھی ایک طرزِ زندگی ہے، البتہ بعض یہ سمجھتے ہیں كہ اس حالت سے نجات كی كوئی صورت نہیں، اور بعض یہ سمجھتے ہیں كہ اس حالت سے نجات كی كوئی ضرورت نہیں۔ جو لوگ نكلنے كی ضرورت محسوس كرتے ہیں اور ممكن سمجھ كر كوشش بھی كر رہے ہیں انكا ذكر بھی آنا چاہیے اگر چہ اكثر غلط طریقے سے كر رہے ہیں۔
پہلے اور دوسرے مرحلوں میں غیرمسلموں كے نمائندوں كو گورنر اور وائس رائے كہا جاتا تھا، اب ان كے نمائندوں كو ایمبیسڈر، سفیر اور اقوام متحده كا نمائنده کہا جاتا ہے۔
پہلے مرحلے میں غیر مسلموں كے تسلط كی كوئی قانونی حیثیت نہ تھی، البتہ ان كے بازو كا زور چلتا تھا، دوسرے مرحلہ میں سب ان ہی كے ہاتھ میں تھے، اور تیسرے مرحلہ میں ان كے تسلط كو قانونی حیثیت مل گئی اور ان كے بازو كا زور ہوتے ہوئے بھی اس كو چھپانے كے لیے بہت چالیں چلی جاتی ہیں جن كو سب جانتے بھی ہیں، اور سب مل كر چھپاتےبھی ہیں، جس كو آپ اوپن سیكرٹ بھی کہہ سكتے ہیں۔
پہلے اور دوسرے مرحلوں میں یہ سمجھا جاتا تھا كہ مسلمانوں كے لیے غیر اسلامی قانون كے ماتحت زندگی بسركرنے کی اجازت نہیں، تیسرے مرحلہ میں عام طور پر اور على الاعلان یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس میں كوئی حرج نہیں۔
یاد رہے کہ یہ سب كچھ ایسا فرق ہے جو اصل مسئلے میں كوئی اثر نہیں ركھتا یعنی اس فرق سے كوئی دار الحرب دار الحرب ہونے سے نہیں نكلتا، اس عالم کے کسی خطےکو دار الحرب قرار پانے كے لیے اس میں جو باتیں پائی جانی ضروری ہیں وه جس طرح انیسویں صدی عیسوی كے شروع میں تھیں، اسی طرح ۱۸۵۷ عیسوی كے بعد بھی وه باتیں موجود رہیں ، اور ۱۹۴۷ عیسوی كے بعد سے اب تک بھی موجود ہیں۔
اس كے ساتھ ساتھ انیسویں صدی كے شروع میں بر صغیر (ہندوستان) دار الحرب قرار پانے كے بعد مسلمانوں پر جو فرائض عائد تھے، اور جو فرائض ۱۸۵۷ عیسوی كے بعد مسلمانوں كے ذمہ تھے، وه فرائض اور واجبات ۱۹۴۷ عیسوی كے بعد سے اب تک مسلمانوں كے ذمہ باقی ہیں، چاہے اس خطے كانام بھارت ہو، چاہے اس خطے كا نام پاكستان ہو، اور چاہے اس خطے كا نام بنگلہ دیش ہو، ان تمام خطوں كے تمام مسلمانوں پر وه فرائض اور واجبات اسی طرح بحال ہیں جس طرح وه دو صدی پہلے ان پر تھے، كیونکہ ان فرائض کے ساقط ہونے اور ان ذمہ داریوں سے خلاصی كا كوئی مرحلہ ان دو صدیوں میں پورا نہیں ہوا۔






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



