نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

جنت کا راستہ اور دوزخ کا راستہ

تحریر: فضیلۃ الشیخ علی طنطاوی﷬– اردو ترجمانی: مولانا ڈاکٹر عبید الرحمٰن المرابط حفظہ اللہ

by فضیلۃ الشیخ علی طنطاوی
in جنوری 2021, فکر و منہج
0

دیباچہ

مجھے مستقبل کے بارے میں بڑی امید تھی۔ میرا دل زندہ تھا۔ میں نے اپنے لیے بڑے اور دور رس اہداف مقرر کیے تھے۔ اور خواہشوں کی کوئی انتہا نہ تھی۔ یہ سب مجھے آگے سے آگے دھکیلتے چلے گئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ امید ٹوٹ گئی۔ مستقبل کھو گیا۔ اور جوانی چلی گئی۔ اب خواہشوں کی انتہا یہ ہے کہ صحت و عافیت سے باقی ماندہ زندگی گزر جائے۔ اللہ میری خطاؤں پر پردہ ڈالے رکھے اور خاتمہ بخیر ہو۔

مقالوں کا یہ سلسلہ میری نشر شدہ کتابوں کی ’’ابتدا‘‘تھی۔ اور میرے گمان میں یہی ان کا ’’اختتام‘‘بھی ہے۔ سنہ ۱۳۴۸ھ میں چار مقالے شائع ہوئے جبکہ میری عمر اکیس سال سے زیادہ نہ تھی۔ اور یہ پانچواں مقالہ آج سنہ ۱۴۰۸ھ میں شائع ہو رہا ہے جبکہ میری عمر بیاسی سال کو پہنچ چکی ہے۔ ان دو سالوں کے بیچ میری پوری عمر گزر گئی ۔

پہلے چار مقالے توپ کے گولوں کی طرح برسے۔ جن کی ہولناک آواز اور شعلوں نے دمشق کے باسیوں کو جگا دیا۔ لوگوں نے پڑھا تو بعض نے پسند کیا اور بعض ناراض ہوئے۔ کئی ایک نے تعریف کی اور کئی ایک نے تنقید۔ اور ایک مدت تک وہ محفلوں کا موضوع بحث بنے رہے۔ ان پر اخباروں کے کالموں میں اور مسجدوں کے منبروں پر تبصرے ہوتے رہے۔ اب جب کہ یہ پانچواں شائع ہو رہا ہے تو کوئی نہیں جاگا۔ کیونکہ مردے پڑھتے نہیں۔ ہزار افراد میں پانچ ایسے نہ تھے جنہوں نے اسے پڑھا ہو۔ اور وہ پانچ بھی مصروفیت کے انبار تلے اس کے مضمون سے غافل رہے۔ ہم میں سے ہر کوئی اپنی منزل کو پہنچنے کو ہے۔ اور یقیناً ہر راستہ آخر کسی منزل تک پہنچا ہی دے گا۔ ہم سے پہلے لوگوں کو زمین نے اپنی گود میں لے لیا جو کہ اپنے اوپر ہر چلنے والے کو مٹی میں چھپا لے گی۔ میرا اور باقی رہنے والوں کا بھی یہی انجام ہونا ہے۔ اب میرے اور ان کے لیے اللہ کے عفو ودر گزر کی امید کے سوا کچھ باقی نہیں۔ اس کی رحمت کی امید، اور پڑھنے والوں کی میرے اور ان کے لیے دعا۔

میری زندگی کے ساٹھ سال مسلسل تالیف و تصنیف اور وعظ و تذکیر میں گزر گئے۔ اگر اس مدت کے عشر عشیر میں بھی میری نیت اللہ کے لیے خالص رہی ہو اور اللہ اسے میرے نامۂ اعمال میں درج کر دے تو میں نے خود بھی فلاح پائی اور اوروں کو بھی دلائی۔ لیکن اگر ان اعمال میں سے کل میری قسمت میں صرف ماتمی مجلسیں، خراج تحسین کے خطبے اور تعزیتی مقالے ہوں تو وائے ناکامی۔

یہ سارا ’’یہاں‘‘ رہ جائے گا۔ جبکہ میں تو اس کا طلب گار ہوں جو ’’وہاں‘‘میرا ساتھ دے۔ اللہ کی قسم میرے لیے اس کی مغفرت کے سوا کچھ نہیں۔ میں اپنے رب پر ایمان لایا۔ اللہ کے ساتھ نہ انسانوں کو شریک ٹھہراتا ہوں نہ غیر انسانوں کو۔

اے اللہ اگر تو مجھ سے پوچھے [تجھے کس نے اپنے ربِ کریم کے بارے میں دھوکے میں رکھا؟]۔ تو میں کہوں گا، مجھے دھوکے میں تیرے اپنے آپ کو کرم سے موصوف کرنے نے رکھا۔ اے میرے رب تیرے کرم نے دھوکے میں رکھا۔ اور کرم والا اپنے در پر ندامت ، استغفار اور امید لیے کھڑے کو ٹھکراتا نہیں ۔

’’اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ.‘‘

’’اے اللہ تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا ، اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی پوری استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں ، میں اپنے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری طرف تیری نعمت لیے لوٹتا ہوں، اور اپنے گناہ لیے لوٹتا ہوں، پس تو میری مغفرت کردے ، اس لیے کہ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔‘‘

اے اللہ محمد ﷺ پر درود و سلام بھیج ۔ امتِ محمد ﷺ پر رحم کر۔ میری بھی مغفرت کر دے اور میرے والدین کی بھی۔ میری ذریت و اولاد کی بھی۔ اور تمام مسلمان مرد و خواتین کی۔ کیونکہ تیری رحمت اے رب کسی مسلم پہ تنگ نہیں ہوتی۔

مکۃ المکرمۃ ۲۱ رجب ۱۴۰۸ھ

علی طنطاوی

جنت اور دوزخ کا راستہ

دین کا مفہوم

ہمارے یہاں آج کل عجیب و غریب افکار پائی جاتی ہیں جن سے ہم اپنے بچپن میں نا آشنا تھے۔ اور ہماری زبان پر وہ الفاظ چڑھ گئے ہیں جو ہمارے یہاں استعمار کے وقت وارد ہوئے تھے۔ ان کا ورد استعماری تعلیمی اداروں سے نکلنے والوں اور ان کے زیرِ دست تربیت لینے والوں کی زبانوں پر جاری ہوا۔ اور آج تک جاری ہے۔ بہت سے نوجوانوں نے ان افکار کو سچا مانا۔ اور کیونکہ ہم ان افکار کو رد کرنے سے گریز کرتے رہے تو یہ نوجوان سمجھے کہ یہ سب مسلم حقیقتیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ: (دین اللہ کا اور وطن سب کا) اور (دین کو سیاست سے علیحدہ کرو)۔ وہ علماء کو علماء کہہ کر نہیں پکارتے بلکہ مذہبی لوگ (رجال الدین) کہتے ہیں۔ اس طرح کے بہت سے اور جملے ہیں جنہیں ایک گروہ نے حقیقت کے طور پہ تسلیم کر لیا۔ جبکہ دوسرا گروہ شک میں پڑا رہا اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرتا رہا۔

ایسے افراد پر حکم اس وقت تک نہیں لگایا جاسکتا جب تک کہ لفظ (دین) کو نہ جان لیا جائے ۔

تو جان لیجیے کہ جنہوں نے یہ قاعدے وضع کیے تھے وہ عیسائیت کے پیروکاروں میں سے تھے۔ اور ہم نے ان کے قاعدوں کو لے کر اسلام پر لاگو کرنا شروع کر دیا۔ حالانکہ ہمارے اور ان کے درمیان لفظ دین کے مطلب میں بڑا فرق ہے۔

عیسائیوں کے ضخیم دائرۂ معارف (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا) اور مشہور لغات (لاروس) میں دین کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ ’دین وہ ہے جو بندے کا اللہ سے تعلق متعین کرے‘۔ اسی لیے ان کے ہاں دین چرچ میں محصور ہو کر رہ گیا ہے جس کا عام زندگی ، قوانین اور معاملات سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کے یہاں دین کا مفہوم اس سے کچھ قریب ہے جس کے لیے ہم خاص (عبادات) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

لیکن اسلام میں دین کا یہ مطلب نہیں اور نہ ہی اسلام ان معنوں میں دین ہے۔ کیونکہ اسلام محض (عبادات) پر مقتصر(محض محیط) نہیں۔ اس بات کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ فقہ کی کتابوں میں سے کوئی کتاب اٹھا لیں اور اس کے ابواب پر نظر دوڑائیں۔ وہاں آپ ایک باب عبادات کا پائیں گے جو کہ عیسائیوں کی اصطلاح میں دین ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ معاملات کا باب بھی پائیں گے، جو کہ آج کل دیوانی قوانین میں شمار ہوتے ہیں۔ شادی اور طلاق کا باب بھی ہوگا جو کہ عائلی قانون سے معروف ہے۔ بابِ سیر بھی ہوگا جو کہ بین الاقوامی قانون سے جانا جاتا ہے۔ امامت عظمیٰ کا باب بھی ہوگا جسے دستوری قانون کہتے ہیں۔ حدود کا باب بھی ہوگا جو کہ فوجداری قانون سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وراثت اور وصیت کا باب، آداب کا باب، وغیرہ وغیرہ۔

گویا کہ اسلام دین بھی ہے، دیوانی وفوجداری قانون بھی ہے، دستور بھی ہے، بین الاقوامی آئین بھی ہے، اخلاقیات کا درس بھی ہے اور زندگی گزرانے کا سلیقہ بھی۔

سیاست

اب اگر وہ دین کو سیاست سے علیحدہ کرنے کا کہیں اور ہم یہ قبول کرلیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عبادات کے باب کو سیاست کے باب سے جدا کر دیں۔ گویا نہ عبادت کا سیاست سے کوئی سروکار نہ سیاست کا عبادت سے۔ مگر ہم کریں کیا اگر سیاست خود دین کا حصہ ہو؟

سیاست سے میری مراد پارٹی بازی نہیں۔ نہ ہی وزارت کی کرسی پر لڑنا ہے اور نہ پارلیمنٹ کی سیٹوں کے پیچھے دوڑنا ہے۔ بلکہ مراد سیاسی احکام اور موٹے موٹے اصول ہیں۔

مذہبی لوگ

اور اگر انہوں نے اپنے پادریوں کو مذہبی لوگ کہا تو وہ اس لیے کہ ان کے پادریوں کا دعا کرنے اور چند مذہبی امور سر انجام دینے کے سوا کوئی کام نہیں ہے۔ جبکہ مسلمان عالم تو دین اور دنیا دونوں کا عالم ہوتا ہے۔ کیوں کہ اسلام میں دین اور دنیا ایک حقیقت کے دو رخ ہیں۔ نہ کہ جس طرح ہم میں سے بعض جاہل جمعہ کے خطبوں میں کہہ بیٹھتے ہیں کہ یہ نہ ملنے والی سوکنیں ہیں۔

دولت

اور اگر عیسائیوں نے یہ کہا کہ مالدار آسمانوں کی بادشاہی میں داخل نہ ہوگا تو اسلام نے قرآن میں مال کو بھلائی (خیر) قرار دیا ہے۔ ارشاد باری ہے:

كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْراً الْوَصِيَّةُ…… (سورة البقرة: ۱۸۰)

’’فرض کر دیا گیا ہے تم پر کہ جب تم میں سے کسی کو موت آجائے اگر اس نے دولت(خیر) چھوڑی ہو کہ وصیت کرے۔‘‘

اور انسان کے بارے میں فرمایا:

وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ؀ (سورۃ العادیات: ۸)

’’اور بے شک وہ مال (خیر) سے شدید محبت کرتا ہے۔‘‘

اسلام نے شکر گزار مال دار اور صبر گزار غریب کو فضیلت میں برابر ٹھہرایا ہے۔

ظلم

اور اگر عیسائیوں پر ان کا دین، یا جسے وہ کہتے ہیں کہ ان کا دین ہے، یہ لازم کرتا ہے کہ داہنے گال پر ضرب کھانے والا مارنے والے کے سامنے باہنا گال بھی آگے کردے، تو اسلام نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ زیادتی کو اسی طرح کی زیادتی سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ (سورة البقرة: ۱۹۴)

’’جو تم پر زیادتی کرے تو اس پر تم اسی طرح زیادتی کرو جسطرح اس نے تم پر کی۔‘‘

نیز فرمایا :

جَزَاء سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا (سورۃ یونس: ۲۷)

’’اور بدی کا بدلہ اسی طرح کی بدی ہے۔‘‘

اور یہی عدل ہے۔ جبکہ اللہ تعالی کا یہ فرمان کہ

فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (سورة الشوریٰ: ۴۰)

’’اور جو معاف کرے اور اصلاح کرے تو اسکا اجر اللہ پر ہے۔‘‘

تو یہ احسان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے عدل اور احسان دونوں کا حکم دیا ہے۔

یعنی کہ اسلام نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ ظلم و بغاوت کرنے والی قوت کو زبردست عادلانہ قوت سے روکیں۔ پھر اگر کامیاب ہوئے اور دشمن کو آ لیا اور معاف کیا تو معاف کرنا بہتر ہے۔ لیکن یاد رہے کہ مسلمان اپنا ذاتی حق تو معاف کر سکتا ہے کیوں کہ حق کا مالک اگر چاہے تو اپنے حق سے دستبردار ہو سکتا ہے لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اللہ کے حق سے دستبردار ہوجائے۔

اسلام

اسلام گویا دین بھی ہے اور دنیا بھی۔ عبادت بھی ہے اخلاق بھی اور قانون بھی۔ اس پر وہ لاگو نہیں ہوتا جو اس کے علاوہ کسی دین پر لاگو ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام سیاست سے علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پہ عرض کرتا ہے کہ جب سورۂ توبہ قرآن کا حصہ ہے اور اسلام کی بین الاقوامی سیاست کی جڑ ہے، تو کیا ہم اغیار کے افکار کی خاطر سورۂ توبہ کو قرآن سے علیحدہ کر دیں؟؟؟ آیا ہم اس سورت کو قرآن سے مٹانے کا فیصلہ کرلیں؟

اقتصاد

اسلام میں تو تمام انسانی مسائل کا حل ہے۔ اس میں اقتصادی نظام کے بھی بہترین اصول ہیں۔ وہ دو باطلوں کے درمیان حق ہے۔ خود غرض سرمایہ دارانہ نظام اور جھوٹے اشتراکی نظام کے درمیان۔

پھر اسلام ہر زمان و مکان کے لیے ہے۔ بینکاری کے جدید اور مختلف قسم کے معاملات کے باوجود کتاب و سنت میں ان کے بارے میں احکام موجود ہیں۔ لیکن وہ فقہ کی کتابوں میں آپ کو نہیں ملیں گے۔ اور ملیں بھی کیسے جبکہ ان کے لکھے جانے کے وقت دنیا میں نہ کوئی بینک تھا اور نہ ان میں لین دیں؟ فقہ کی کتاب مغنی میں گاڑی کے بیمہ کا حکم کس طرح ذکر ہو جب وہ گاڑی کے ایجاد اور بیمہ کے نظام کے وجود سے پہلے لکھی گئی ہو؟

تحقیق

ہمارے پیش رو علماء نے کتاب وسنت سے اپنے زمانے کے مسائل کے پورے حل نکالے۔ اب ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے زمانے کے مسائل کے حل تلاش کریں۔ حل موجود ہیں لیکن انہیں نکالنے کے لیے تحقیق کی ضرورت ہے۔ بالکل ویسے جیسے ہم کانوں کو کھود کھود کر وہ دھاتیں نکالتے ہیں جنہیں اللہ نے زمین کے پیٹ میں محفوظ کر رکھا ہے۔

تحقیق پر قدرت رکھنے والے علماء پر تحقیق کرنا فرض کفایہ ہے۔ یعنی کہ اگر ان میں سے کوئی بھی مطلوبہ مسائل کی تحقیق نہ کرے تو وہ سب گنہگار ہوں گے۔ مزید یہ کہ ایسی حالت میں ارباب اختیار مغربی قانون کو نافذ کرنے کے لیے اسے اپنا عذر گردانتے ہیں۔ وہ مغربی قانون جن کا نہ تو مصدر اسلام ہے اور نہ ہی وہ مسلمان کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ ان کی مثال تو بنے بنائے کپڑوں کی طرح ہے جنہیں ایک ہی سائز کے مطابق تیار کیا گیا ہو۔ جبکہ اسلام ایسا لباس ہے جسے اللہ نے ہمارے جسم کے مطابق بنایا ہے اور اس سے ہماری ضروریات پوری کر دی ہیں۔ اسلام کے ذریعے ہماری خواہشوں کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ اور اسی میں ہمیں دنیا اور آخرت کی سعادت مندی کا راستہ دکھا دیا ہے۔

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی عظیم کتاب (حکمرانی کے طریقے) میں سچ لکھا ہے کہ ہمارے فقہاء کے عناد اور اللہ کی شریعت کی وسعت کو تنگ کرنے نے حکمرانوں کو غیر مسلموں سے اخذ کرنے پر مجبور کیا۔

جس وقت شام اور مصر کچھ عرصے کے لیے متحد ہوئے تھے اس وقت میں قاہرہ اور دمشق کی عدالت میں مشیر تھا۔ ہمارے اور وکلاء کے درمیان گرما گرم بحثیں ہوتی تھیں۔ اس کے پیش نظر میں نے شام کی وزارت عدل سے شائع ہونے والے رسالہ ’قانون‘ میں ایک مقالہ لکھا جس کا عنوان تھا ’نئے مسائل کے پرانے حل‘۔ اس میں، میں نے فقہ کی کتابوں میں سے چند جدید مسائل کے حل ڈھونڈ نکالے ہیں جنہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ آج رونما ہوئے ہیں۔ جو تفصیل چاہے تو اس مقالہ کا مطالعہ کر لے۔

حق اور لوگ

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ساتھ چلتے ہیں بغیر یہ دیکھے کہ وہ کس راہ پر چل رہے ہیں؟ حق کی یا کہ باطل کی؟ اس طرز کو ہم نے اپنی ذاتی اور اجتماعی دونوں زندگیوں میں اپنایا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ ہم نے اوروں سے (اکثریت) کی پابندی کا بھی نظریہ لے لیا ہے چاہے اکثریت گمراہی پر ہی کیوں نہ ہو۔ شریعت پر عمل کرنے میں جو ہمارے سامنے رکاوٹ پیش ہے وہ لوگوں کا اتباع کرنا ہے۔

میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ لوگوں کی جا بجا مخالفت کرو۔ یا ان کے عام رواج کو چھوڑ دو۔ اگر وہ بوٹ پاؤں میں پہنتے ہیں تو تم اسے گلے میں لٹکاؤ۔ اور اگر وہ پلنگ پر سوتے ہیں تو تم جا کر غسل خانوں کے ٹب میں سوؤ۔ اور اگر وہ بائیں جانب چل رہے ہیں تو تم محض مخالفت کی خاطر دائیں جانب چلو۔

میں یہ کہہ رہا ہوں کہ دین کو معیار بناؤ۔ اور پھر اگر لوگوں کو دیکھو کہ وہ حرام راستے پر چل رہے ہیں تو ان کا ساتھ نہ دو۔

اکثریت

اور اکثریت کی حجت نہ پیش کرنا کیونکہ اکثر لوگ عموماً گمراہی پر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ (سورة الانعام: ۱۱۶)

’’اور اگر تم زمین میں رہنے والوں کی اکثریت کی اطاعت کرو گے تو وہ تم کو اللہ کے راستے سے ہٹا دیں گے۔‘‘

اور فرمایا ’’اور اکثر لوگ اگر تو چاہے بھی تو ایمان نہ لائیں گے‘‘آپ خود بتائیے کہ کیا حق ہمیشہ اکثریت کے ساتھ رہا ہے؟

اگر ہسپتال کے تین ڈاکٹر فیصلہ کریں کہ مریض کا آپریشن کرنا ہوگا جبکہ تیما دار، نرس، چوکیدار اور چپڑاسی مطالبہ کریں کہ آپریشن نہ کیا جائے اور ان کی تعداد تیس ہو، تو کیا ہم ان تیس کی رائے تسلیم کریں گے یا کہ تین ڈاکٹروں کی؟ اور اگر جہاز کا پائلٹ یہ فیصلہ کرے کہ جہاز اتارنا ہے کیونکہ اس میں تیل ختم ہونے والا ہے، مگر اسّی (۸۰) مسافروں کا مطالبہ ہو کہ سفر جاری رکھا جائے، تو کیا ہم ان اسّی کی بات مانیں گے کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں، یا کہ ایک پائلٹ کی رائے مانیں گے؟

میرے بھائیو !انسان کی پہچان حق سے کی جاتی ہے نہ کہ حق کی پہچان انسانوں سے۔ ایک کی رائے جس کے پاس روشن دلیل ہو ان ہزاروں کی رائے سے بہتر ہے جن کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اگر باطل کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں یا کروڑوں ہو جائے اور روئے زمین پر صرف ایک حق پرست رہ جائے تو وہ ان کروڑوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوگا۔

کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہٹلر، مسولینی اور ان جیسے غاصب نازی ازم، فاش ازم اور اپنے اپنے نظریات کاپرچار کرتے تھے تو لاکھوں افراد کے مجمعے ان کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔ اب وہ کہاں گئے؟ ہم نے کتنے عرب زعماء کو ایسی عوام سے خطاب کرتے دیکھا ہے جو سنتے ہیں پر سمجھتے نہیں۔ ان کی نا سمجھی کی دلیل یہ ہے کہ وہ مقرر کی آدھی بات کاٹتے ہوئے ، مبتدا کی خبر آنے سے پہلے یا فعل کا فاعل جاننے سے پہلے ، نصف جملے میں نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں، یا مسخروں اور پاگلوں کی طرح چیخیں مارتے ہیں؟ کیا یہ نعرے لگانے والے وہی لوگ نہیں جو سابقہ لیڈر کے لیے اس کے زمانے میں نعرے لگانے کے لیے جمع ہوئے تھے؟ اور وہ آئندہ بھی ایسے جلسے کرنے والوں کے لیے نعرے لگاتے رہیں گے؟ ان کی اپنی زبان نہیں ہوتی۔ وہ وہی دہراتے ہیں جو ان سے کہا جائے۔ ڈھول انہیں جمع کرتا ہے اور ڈنڈا انہیں الگ کرتا ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے! اللہ کو ان جیسوں کی کوئی پرواہ نہیں۔

بقا

وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ٹھیک ہی ہوتا ہے۔ اور بہتر چیز ہی باقی رہتی ہے۔ یہ ان کے ہاں ترقی کا معیار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کائنات میں یہ اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہو۔ لیکن دین کے معاملے میں ایسا نہیں۔ اگر ان کے دنیاوی ملحد مذاہب ہی صحیح ہیں اور یہی بہتر ہیں تو پھر باقی بھی رہیں گے۔ اور اگر اللہ کا دین صحیح ہے، اور اللہ نے اپنے بندوں کے لیے جو شریعت بنائی ہے وہ بہتر ہے تو پھر اللہ کی وہ کتاب باقی رہے گی جو اس نے نازل کی اور جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے۔ اور ہمارے زمانے کی گمراہیاں اسی طرح نیست و نا بود ہو جائیں گی جس طرح اس سے پہلے سینکڑوں گمراہیاں غائب ہوئیں۔ کہاں گیا وہ، جس کی طرف ہٹلر اور مسولینی بلاتے تھے؟ اور ان سے بھی پہلے وہ کہاں گیا جس کی طرف فرعون وہامان بلاتے تھے؟ یہ سب مذاہب بھلا دیے جائیں گے۔ انہیں اونچی اونچی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کے سوا کوئی نہ جانے گا۔ لڑکے آ کر ان کے بارے میں ایسے ہی پوچھیں گے جیسے آج وہ قرمطی، مزدکی اور مانوی ادیان کے بارے میں پوچھتے ہیں۔

بے وقوف

باطل کا ایک وار ہوتا ہے مگر جیت حق کی ہوتی ہے۔ لہٰذا باطل کے وار سے دھوکہ نہ کھاؤ۔ اپنے اسلام میں شک نہ شروع کر دینا۔ لوگوں کے عارضی حقائق کو اپنے دین کی ازلی حقیقت کے آگے نہ رکھو۔ یہ کہہ کر اپنے آپ کو بے وقوف نہ بنانا کہ اگر لوگ اچھا کریں گے تو ہم بھی اچھا کریں گے، اور اگر لوگ برا کریں گے تو ہم بھی برا کریں گے۔ اگر لوگ سود کا لین دین کریں گے تو ہم بھی ان کی طرح کریں گے۔ اگر وہ اپنا ستر کھولنا شروع کر دیں تو ہم بھی اپنی عورتوں کا پردہ اتار دیں گے۔ اگر لوگ اللہ کے احکام کو چھوڑ کر انسانوں کے بنے ہوئے قوانین اپنا لیں گے اور اپنے اداروں میں انہی کے مطابق فیصلے کریں گے ، تو ہم بھی ان کی طرح کریں گے؟ نہیں ……مگر حق کا اتباع کرو۔

قدیم جاہلیت سے بدتر

بہت سے مسلمانوں نے شریعت چھوڑ کر ایسے طور طریقوں کو اپنایا ہے جنہیں ہمارا دین رد کر چکا ہے۔ بعض مسلمان ممالک جاہلیت کی پرانی عادات کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ بلکہ کئی تو جاہلیت سے بھی بری عادات اپنا چکے ہیں۔ قدیم جاہلیت میں شرک تھا جو کہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ لیکن سچائی، مروت اور عزت و آبرو پر غیرت جیسی صفات بھی تھیں۔ کیا آپ لوگوں نے ایسی مخلوط محفلوں کے بارے میں سنا یا پڑھا ہے جس میں نیم عریاں عورتیں اجنبی مردوں کے ساتھ شریک ہوں اور اس دوران ابو لہب کی بیوی ابو جہل کے ساتھ رقص کرنا شروع کر دے؟ کیا جاہلیت کی عورتوں میں سے کسی عورت کے بارے میں سنا ہے کہ وہ مردوں کو اپنی شرمگاہ کھول کے دکھاتی ہو یا دریا میں ان کے سامنے ایسی حالت میں نہانے اترتی ہو جبکہ اس کے جسم پر دو شرمگاہوں اور سینے کے کچھ حصے کے علاوہ کچھ نہ ڈھکا ہو۔ کیا آج جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ان میں سے ایسے نہیں جو یہ کام کرتے ہیں؟ انہی کو امیر شکیب جغرافیائی مسلمان کہتا ہے ۔

میں کسی کی ذاتی مذمت نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی خاص شخص کی بات کر رہا ہوں۔ مسلمانوں کی یہ صورت حال سب پر ظاہر ہے۔ آپ لوگ بہتر جانتے ہیں۔ کسی کو ضرورت نہیں کہ وہ آپ لوگوں کو بتائے۔

شریعت کی پیروی

اے بھائیو ……میں جو آپ لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آپ شریعت کے احکام کی پیروی کریں چاہے وہ احکام لوگوں کے طرز زندگی کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ نہ یہ کہ شریعت کی مخالفت میں لوگوں کی پیروی کریں ۔ اور یاد رکھیں کہ لوگ آپ کو اللہ سے نہ بچا سکیں گے، البتہ اللہ آپ کو لوگوں سے بچا سکتا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ میرا آپ سے یہ مطالبہ آپ کے لیے کتنا مشکل ہے۔ اس پر وہی پورا اتر سکتا ہے جسے اللہ کی طرف سے تائید حاصل ہو۔ ہم آخری زمانے میں ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’اُس میں دین پر کاربند رہنے والا ایسے ہوگا جیسا کہ کوئی اپنے ہاتھ میں انگارہ پکڑ لے‘۔

لیکن یاد رکھیں کہ دنیا کے انگارے پر صبر کرنا آخرت کے انگاروں پر صبر کرنے سے بہت آسان ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث یاد رکھیں۔ کاش کہ ہر ایک اسے لکھ کر اپنی میز پر نمایاں رکھے یا اپنی مجلس میں آویزاں کرے تاکہ صبح شام اسے دیکھ سکے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جس نے اللہ کی رضا لوگوں کو ناراض کرتے ہوئے طلب کی اللہ خود بھی اس سے راضی ہو جائے گا، اور لوگوں کو بھی اس سے راضی کردے گا۔ اور جس نے لوگوں کی رضا اللہ کو ناراض کرتے ہوئے طلب کی تو اللہ خود بھی اس سے ناراض ہوگا اور لوگوں کو بھی ناراض کردے گا۔‘‘

ہمارے علاقوں میں بہت سے نعرے ابھرے ہیں۔ بائیں جانب والے، دائیں جانب والے، قوم پرستانہ، قسم قسم کے فرقہ وارانہ۔ آپ ان سب کو چھوڑ کر اسلام کی دعوت کو تھامیں۔

مثال

میں نے اپنی کتاب ’دین اسلام کا ایک عام تعارف‘کے شروع میں ایک مثال دی تھی کہ ایک بڑے بیابان میں گاڑیوں کا پختہ راستہ گزر رہا ہے۔ یہ راستہ مشرقی آبادیوں کو مغربی آبادیوں سے ملاتا ہے۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ سیلاب نے راستہ کے درمیان کئی حصوں کو خراب کر دیا ہے۔ اب پورا راستہ نہایت پتھریلا اور دشوار گزار ہو چکا ہے۔ لیکن جب تک مرمت نہیں ہو پاتی گزرنا بھی اسی پر سے ہے۔

اس علاقے میں پائے جانے والے بہت سے فسادی گروہوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچے راستے کے اطراف سے بغلی راستے نکالے ہیں اور ان کی شروعات کو پختہ کر دیا ہے تاکہ لوگوں کو دھوکا دے سکیں۔ دونوں اطراف پر قہوہ خانے، سرائے اور قحبہ خانے کھول رکھے ہیں جن سے موسیقی اور گانے بجانے کی آوازیں آتی ہیں۔ جاہل سمجھتا ہے کہ یہ حقیقی سرائے اور مے خانے ہیں حالانکہ وہ شراب، جوئے اور بدکاریوں کے ذریعے ان کے پیسے لوٹنے کے بہانے ہیں۔ جو داخل ہوتا ہے وہ قلاش ہو کر ہی نکلتا ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ ساتھ ساتھ ایسی بیماریاں بھی لیتا نکلے جو اسے اس وقت تک نہ چھوڑیں گی جب تک اس کی روح اس کے بدن سے نہ نکل جائے۔ حکومت نے ایسے مقامات سے خبردار کرنے کے لیے بڑے بڑے کتبے لگا رکھے ہیں جن پر سیدھے راستہ کی سمت بھی بتائی گئی ہے چاہے وہ بظاہر دیکھنے میں کتنے ہی نا ہموار کیوں نہ نظر آتے ہوں۔

اگر آپ کا ایسے دیس میں آنا ہوا اور آپ اپنے سامنے یہ دشوار راستہ دیکھیں جس میں پتھر اور تکلیفیں بھری پڑی ہیں لیکن وہ امان اور اطمینان کی طرف لے جاتا ہے۔ سہولیات سے آراستہ بڑے شہروں کی طرف جہاں آپ ہمیشہ کے لیے رہنا چاہتے ہوں۔ اور ساتھ ہی وہ بغلی راستے بھی دیکھیں جو بظاہر ہموار اور آسان ہیں۔ جن میں کھانا پینا بھی دستیاب ہے اور راحت اور لذت بھی۔ لیکن جو ان پر چل نکلا اس نے اپنی صحت اور دولت دونوں کھو دیے اور واپس بیمار اور بے مال لوٹا۔

تو ان دونوں میں سے آپ کون سا راستہ چنیں گے؟ کیا آپ سیدھے راستہ کی تکالیف اور ناہمواریاں اس امید پہ برداشت کر لیں گے کہ اس کے آخر میں آپ کو امن اور خوشی نصیب ہوگی؟ یا کہ ان بغلی راستوں میں وقتی لذت سے دھوکہ کھا بیٹھیں گے؟

راستے

میرے بھائیو یہی جنت اور دوزخ کے راستوں کی مثال ہے۔

جنت کا راستہ مشکل ہے، لیکن اس کے آخر میں دائمی سعادت ہے۔ اور دوزخ کا راستہ آسان ہے، لیکن اس کے آخر میں ہمیشہ کے لیے بدبختی ہے۔ جنت کو مکروہات نفس سے آراستہ کردیا گیا ہے، اور دوزخ کو شہوات نفس سے۔

دوزخ کی طرف بلانے والے کے پاس ہر قسم کی لذات ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ خوبصورت عورتوں کی طرف دیکھ۔ حرام مال سے لطف اٹھا۔ جو تیرا جی چاہے وہ کر۔ جب تو چاہے تو اپنے نفس کو اس کی شہوت فراہم کر دے ۔ جب غصہ آئے تو طیش میں آ جا۔ جس چیز میں رغبت ہو اٹھا لے۔ جس گھڑی میں تم ہو اس کے سوا کی فکر نہ کر۔ اباحت پسند بن یا دہریہ ہو جا۔ موت کو یاد نہ کرنا۔ اپنے آپ کو آخرت کی فکر سے آزاد کر دے۔ یہ سب آسان اور جی کو بھاتا ہے۔

فساد برپا کرنا آسان ہے۔ اس لیے کہ فسادی آپ کو ناچ گانے کی طرف لے جائے گا تاکہ آپ کا نفس وہ دیکھے جس کی طرف وہ مائل ہے۔ وہ تھیٹر لے جائے گا تاکہ لباس سے عاری عورتوں کو دیکھ سکو۔ آپ کو بے ہودہ میگزین ، اخلاق سوز کہانیاں اور ننگی تصویریں دے گا۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس طرح کے لوگوں کے پتے بھی دے، یا پھر تم کو خود ادھر لے بھی جائے۔

جبکہ اصلاح پسند کے پاس کیا ہے؟ اس کے پاس ہوائے نفس سے رکنے کے سوا کیا ہے۔ تمہارے سامنے حرام خوبصورتی لائی جائے تو تجھ سے کہے گا خبردار اگر لی۔ خبردار !اپنے نفس کی پیروی نہ کر۔ پر لطف نیند کو چھوڑ و اور فجر کی نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ۔ کھانے کی رغبت کی مخالفت کرتے ہوئے رمضان کے روزے رکھو۔ تکلیفیں برداشت کرو اور حج پر نکل چلو۔ جب غیبت سنائی دے اور تیرا جی چاہےکہ تو بھی شریک ہو، تو تم سے کہے گا: غیبت نہ کرو۔ بلکہ اس مجلس کو ہی چھوڑ دو اگر بات نہ بدلی گئی۔ اگر عورتیں فیشن کی پیروی کریں اور مختصر لباس پہنیں، تو وہ کہے گا: ان کی طرح نہ کرو۔ اپنے پردے پر قائم رہو۔

جنت کے راستے کی ابتدا مشکل ہے، لیکن اگر تو نے اس کی مشکلات پر صبر کیا تو دائمی لذت کے ٹھکانے پر پہنچا دے گا۔ اور دوزخ کے راستے کی ابتدا آسان اور خوبصورت ہے، لیکن اگر اس کی خوبصورتی نے تجھے دھوکہ دے دیا تو وہ تجھے دائمی بدبختی کے ٹھکانے پر پہنچا دے گا۔

امتحان کی رات طالب علم کی طرح، اگر اس کے اہل خانہ مل کر ٹی وی پر کوئی خوبصورت فلم بیٹھے دیکھ رہے ہوں، اور اس کا جی چاہ رہا ہو کہ وہ بھی ان کے ساتھ شریک ہو جائے ۔ اگر وہ اپنے ہوائے نفس کی پیروی کرے اور وقتی لذت کو ترجیح دے تو امتحان میں ناکام ہو جائے گا۔ اور اگر اپنے نفس کی رغبت سے لڑ کر کتاب اور سبق کی طرف گیا، تو وہ فلم دیکھے نہ دیکھے کامیابی کی لذت پالے گا۔

قوت

اور قوت تو نفس سے لڑنے میں ہے۔ اگر ریڈیو میں ایک اچھی دینی تقریر سن رہے ہو یا اخبار میں پڑھ رہے ہو اور ساتھ ہی دوسرے سٹیشن سے فلاں فنکار یا فنکارہ کا خوبصورت نغمہ سننے میں آئے لیکن ان نغموں کی پرواہ کیے بغیر آپ پھر بھی تقریر سننے میں لگ جائیں تو آپ مضبوط ارادے کے مالک ہیں۔ اس لیے کہ آپ نے مشکل راستہ اپنایا۔

اس طرح تو آپ نے اونچی منزل سَر کی۔ اور اونچائی کی طرف چڑھنا مشکل ہی ہوتا ہے جبکہ نیچے اترنا نہایت آسان۔ شہوتوں کی پیروی کرنا اس پتھر کی طرح ہے جو پہاڑ کی چوٹی سے لڑکھڑا کر نیچے آئے۔ آپ اسے اپنی جگہ سے صرف ہلائیں گے ہی تو وہ بغیر کسی زور کے خود بخود نیچے گرتا جائے گا۔ زور، تھکاوٹ اور مشکل تو اس کو اپنی جگہ واپس لانے میں ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر پانی کے ٹینک میں میخ سے سوراخ کریں تو اس کا پانی وادی میں بغیر کسی محنت کے بہہ جائے گا۔ تکلیف اور تھکن تو اس کو واپس اپنی جگہ لانے میں ہے۔ پس جسے تن آسانی پسند ہے اور وہ تنگ نہیں ہونا چاہتا، نہ ہی اپنے نفس کی مخالفت کرنا چاہتا ہے، اور نہ ہی کوئی تکلیف سر لینا چاہتا ہے، تو اس طرح کا شخص جنت کے راستہ پر نہیں چل سکتا۔

جو سفر پر نکلے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی مشکلات اور مصائب کے لیے تیار رہے۔ مرغوب گناہوں پر صبر کرتے ہوئے ان کے قریب تک نہ پھٹکے۔ اور مشکل عبادتوں پر صبر کرتے ہوئے ان میں کوتاہی تک نہ برتے۔

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّهُ الَّذِينَ جَاهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ؀ (سورۃ آل عمران: ۱۴۲)

’’ بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ( یونہی) جنت کے اندر جاپہنچو گے ؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ ‘‘

عمل

میں لوگوں کو دیکھتا ہوں جب ریڈیو میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھی جاتیں ہیں، جن میں نور اور ہدایت ہے، تو عموماً ان میں سے کوئی اکا دکا ہی توجہ دیتا ہے۔ ہاں اگر دعا ہو یا ایسے الفاظ جن سے مغفرت ہو جائے اور ان کے بدلے جنت ملے تو شاید کوئی توجہ دے۔ لیکن اگر کسی عمل کی طرف دعوت ہو تو کوئی بھی توجہ نہیں دیتا۔

میرے بھائیو !

لگتا ہے کہ ہم کام نہیں کرنا چاہتے بلکہ جنت میں محض اپنی باتوں سے ہی داخل ہونا چاہتے ہیں۔

(طریق الجنۃ وطریق النار، علی الطنطاوی، مکتبۃ المنار، مکۃ المکرمۃ، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۴۱۰ھ–۱۹۸۹م.)

٭٭٭٭٭

Previous Post

برِّ صغير كے حكمرانوں كے خلاف لڑنا مسلمانوں پر كيوں واجب ہے؟

Next Post

توحیدِ عملی

Related Posts

اَلقاعِدہ کیوں؟ | چوتھی قسط
فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | آٹھویں قسط

15 فروری 2026
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط
فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول |تیسری قسط

15 فروری 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط

15 فروری 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | دسویں قسط

15 فروری 2026
حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط
فکر و منہج

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط

20 جنوری 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | نویں قسط

20 جنوری 2026
Next Post

توحیدِ عملی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version