نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

سُلطانئ جمہور | قسط نمبر: 14

by علی بن منصور
in فروری تا اپریل 2021, ناول و افسانے
0

کمرے میں ہلکی ہلکی کھٹ پٹ کی آواز سے نبیلہ کی آنکھ کھلی۔ اس نے ذرا سی آنکھیں کھول کر دیکھا، نیم اندھیرے کمرے میں ایک ہیولا اِدھر اُدھر چیزیں سمیٹتا پِھر رہا تھا۔ گویا کہ سات بج چکے تھے۔ اس نے اپنے اوپر اوڑھا ہلکا لحاف سر تک کھینچ لیا اور ذرا سی دیر میں وہ ایک بار پھر نیند کی وادی میں گم ہو چکی تھی۔ دوبارہ اس کی آنکھ تب کھلی جب کوئی اس کے سرہانے کھڑے ہو کر ہلکا سا کھنکھارا۔

’آپ کی چائے……میڈم!‘، کرن کی آواز پر آخر کار اسے اٹھنا ہی پڑا۔ لحاف پرے کرتے ہوئے وہ اپنے بستر میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کے بیٹھتے ہی کرن نے اس کی کمر کے پیچھے تکیہ درست کر دیا تاکہ وہ آرام سے ٹیک لگا سکے۔ کمرے کی مشرقی دیوار میں کھلنے والی بڑی سی کھڑکی پر پڑے پردے اس نے سلیقے سے سمیٹ کر ڈوری سے باندھ دیے تھے۔ اوائل فروری کی ٹھنڈی ٹھنڈی دھوپ کھڑکی کے راستے اندر کمرے میں جھانک رہی تھی اور بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ سلائڈنگ وِنڈو بھی بس اس قدر کھول دی گئی تھی کہ باہر پھیلے باغ سے آنے والے تازہ ہوا کے جھونکے کمرے کی فضا کو معطر تو کر رہے تھے، مگر خنک نہیں۔

نبیلہ نے کرن کے ہاتھ سے چائے کی پیالی لیتے ہوئے ایک نظر ساتھ والے سِنگل بیڈ پر ڈالی۔ فاطمہ کا بستر نفاست سے سمٹا ہوا تھا۔ بیڈ کے ساتھ رکھی اس کی چھوٹی سی تپائی جس پر عموماً اس کی کتابوں کے ڈھیر، قلم، پونیاں، اس کا ٹیبلِٹ اور دس قسم کی متفرق چیزیں بکھری پڑی ہوتی تھیں، وہ بھی اس وقت صاف ستھری سمٹی ہوئی حالت میں تھی اور میز کے اوپرایک نازک سے گلدان میں سجے دو پھولوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ بلکہ ایک فاطمہ کی میز ہی کیا، کمرے کا ہر کونہ کرن کی نفاست، سلیقے اور پھرتی کا مظہر تھا۔ کونے میں رکھی کرسی کی پشت پر اس نے نبیلہ کے لیے آج پہننے والا جوڑا، بمع اس کے ٹاپ کوٹ اور اس ہلکی سی سٹول کے ……جو وہ ان دنوں کے لیے مخصوص رکھتی تھی جب اسے میڈیا کا سامنا کرنا ہوتا تھا، نکال کر سامنے رکھ دیا تھا۔ اس پر نظر پڑتے ہی اسے یاد آیا کہ آج کے دن کیا کام اس کے منتظر تھے۔

’……فاطمہ……کالج گئی ہے کیا؟‘ ، اس نے پلیٹ سے سینڈوچ اٹھاتے ہوئے کرن سے پوچھا جو اس کے سامنے آج کا اخبار رکھ رہی تھی۔

’جی میڈم…… وہ کہہ رہی تھیں آج ان کی صرف دو میک اَپ کلاسز ہیں، وہ گیارہ بجے تک واپس آ جائیں گی……‘، کرن نے مؤدب انداز میں جواب دیا۔

’ہوں……صحیح……سِوِک فارغ ہے ناں آج؟……تم نے سلطان کو کل یاد دلا دیا تھا کہ آج ہم نے الحمرا جانا ہے، سِوِک فارغ رکھے؟‘۔

’جی میڈم…… ابوبکر صاحب نے آج ہاشمی صاحب کو ڈاکٹر نوید کے پاس لے جانا تھا، لیکن میں نے کل ہی سلطان سے کہہ دیا تھا۔ اس نے ان کو بتا دیا کہ آج تو آپ نے پہلے سے گاڑی کا کہہ رکھا ہے، لہٰذا ابوبکر صاحب جاوید صاحب کے ساتھ چلے گئے، ان کی گاڑی پر……‘۔

’ہوں…… ٹھیک ہے……‘، اس تفصیل پر نبیلہ نے ہلکا سا سر ہلایا اور اپنے سامنے پھیلے اخبار پر سرسری سی نظر ڈالنے کے بعد اسے ایک طرف ڈال دیا۔

اللہ کرے فاطمہ وقت پر آ جائے۔ اور نجانے ہادیہ کا آج کیا شیڈول تھا، جویریہ نے تو کالج سے سیدھا الحمرا آنے کا ہی وعدہ کیا تھا، وہ بھی شاید آخری وقت پر ہی پہنچ پائے گی۔ وہ کسل مندی سے بسترپر پاؤں لٹکائے بیٹھی سوچ رہی تھی۔گویا کہ آج الحمرا میں منعقد ہ حجاب گالا میں ان کے سیگمنٹ کی آخری وقت کی تیاریوں کے لیے اس کے ساتھ شاید ہادیہ اور کرن کے علاوہ کوئی نہ ہو گا۔ ویسے تو خیر……زیادہ تر انتظامات مکمل ہی تھے، اور پھر کرن بھی ساتھ تھی، جو حیرت ناک حد تک پھرتیلی اور کاموں میں مستعد تھی، سو اسے زیادہ فکر نہ تھی۔

کرن بہت مفید دریافت تھی، اور اس کے الیکشن جیتنے پر مسز کلثوم نیازی، ’گھر فاؤنڈیشن‘ کی سربراہ، کی جانب سے اس کے لیے ایک تحفہ تھی۔ جب سے اس نے کرن کو ملازم رکھا تھا، اس کو اپنے دفتری کاموں میں بہت زیادہ سہولت ہو گئی تھی۔ وہ روزانہ صبح ساڑھے چھ بجے بہت پابندی سے ان کے گھر پہنچ جاتی، اور سارا دن اس کی ذمہ داری نبیلہ کے کاموں کو منظم کرنا ہی تھا۔ وہ نبیلہ کی ذاتی خدمت گار سے لے کر اس کی سیکرٹری تک، سب کچھ تھی۔ اور گو کہ ایک سے زائد دفعہ اس نے اس قسم کے احکام جیسےکچرا باہر پھینکنے اور سامان اٹھا کر مطلوبہ جگہ پر پہنچانے جیسے کاموں سے انکار کرتے ہوئے نبیلہ پر یہ واضح کیا تھا کہ جو کام اس کے فرائض میں داخل نہیں، وہ کام وہ نہیں کرے گی ، اس کے باوجود نبیلہ کو اس کی افادیت کا بہت اچھا اندازہ و ادراک تھا۔ سو کرن کے صفا چٹ انداز میں ’لوری‘ کے ہم وزن ’سوری میڈم!…… یہ میری جوب نہیں ہے……‘، کہہ کر انکار کرنے کے باوجود وہ برا نہ مانتی۔

کرن ہی کی چھوٹی دو بہنوں، ارم اور رانی کو بھی اس نے پچھلے ماہ گھر کے دیگر کاموں کے لیے نوکر رکھ لیا تھا۔ ارم جو بڑی تھی، وہ عثمان اور جاوید صاحب والے پورشن میں ہوتی اور وہاں پرویز مالی کی بیٹی لبنیٰ کے ساتھ کاموں میں ہاتھ بٹاتی۔ جبکہ رانی، جو بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی، وہ ابوبکر صاحب والے پورشن میں ہوتی تھی۔ یہاں آپا جی اور سلمیٰ کی موجودگی کی وجہ سے کام کم ہی ہوتے تھے۔ پھر نسرین اور صولت بیگم بھی زیادہ تر کام اپنے ہاتھ سے کرنے کو ترجیح دیتی تھیں۔ لیکن ارم اور رانی کو رکھنے کے بعد نبیلہ نے صولت بیگم سے کہہ دیا تھا کہ اب انہیں ہر گز اپنی کثیر آل اولاد اور وقت بے وقت آنے جانے والوں کے لیے اپنے بوڑھے وجود کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ گھر میں اب اتنے نوکر موجود تھے کہ وہ سارا دن اپنی نشست پر بیٹھ کر آرام سے بھی گزارتیں تو بھی ہر کام اپنے وقت پر ہو جاتا۔ اس کی اس بات پر صولت بیگم نے خاموش نظروں سے اس کی جانب دیکھا اور اتنا سا کہہ کر ہی چپ ہو گئیں کہ’سطحی تبدیلیوں کو انقلاب نہیں کہا جاتا، اور نہ دولت مندی کا اظہارخوشحالی کا ضامن ہے‘ان کے اس قدر سیاسی بیان پر وہ سٹپٹا گئی’کیا مطلب ہے اس بات کا؟‘، اس نے کڑھ کر پوچھا۔’گھر کام والیوں سے نہیں، گھر والیوں سے بستے ہیں……‘، صولت بیگم سنجیدگی سے اپنے بیان کی تشریح میں بولیں۔ ان کی اس بات پر وہ ہمیشہ کی طرح چِڑ گئی تھی، پھر بھی اس نے ان کو کوئی جواب دینے سے احتراز کیا۔ مگر اگلے ہی دن یہ دیکھ کر اسے بہت تسکین پہنچی کہ صولت بیگم نے ایک آدھ بار کے علاوہ بالکل کچن میں نہ جھانکا، بلکہ لاؤنج میں ہی کونے میں رکھے صوفے پر بیٹھ کر، سارا دن کسی کتاب کے مطالعے میں اور باقی وقت نمازیں پڑھنے میں گزار دیا۔ وہ اپنی ماں کو جانتی تھی، وہ کبھی بھی اس کے سامنے یہ اعتراف نہ کرتیں کہ ان ملازمین کے ہونےسے ان کے آرام اور سہولت میں اضافہ ہوا ہے۔ ظاہر ہے، یہ اعتراف کر لیتیں تو اپنے ان سارے فرسودہ و دقیانوسی افکار اور فلسفوں کا کیا جواز پیش کرتیں کہ جن کے مطابق عورت گھر کی ملکہ تھی، اور اپنی زندگی گھر اور گھر والوں کی خدمت و سیوا کرتے ہوئے اپنے آپ کو گھن چکر بنا لینے اور اپنی شخصیت و وجود کو دوسروں کی خاطر مٹا ڈالنے میں عورت کی عظمت کی معراج تھی۔

وہ باتھ روم سے منہ ہاتھ دھو کر اور کپڑے تبدیل کر کے نکلی تو کرن اسی وقت آج کی ڈاک اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنی سفیدپھولدار کڑھائی والی گلابی سٹول تُرک انداز میں سر پر لپیٹ رہی تھی۔ اس نے ننھے ننھے موتیوں والی پِنوں سےسٹول کو اچھی طرح اپنے سر پر جماتے ہوئے ذرا سا رخ موڑ کر کرن کی طرف دیکھا۔ ’……کوئی اہم چیز آئی ہے آج؟……‘۔

’یہ تو میڈم گیس اور بجلی کے بِل ہیں…… ایک کسی اکیڈمی کا دعوتی لیٹر ہے، ایک پیکج گھر فاؤنڈیشن کی جانب سے آیا ہے……اور ایک یہ خط ہے کسی ’اے اینڈ اے سولسٹرز‘ کی جانب سے …… ‘۔

’اچھا……ایسا کرو تم یہ بِل وغیرہ سب کچھ اوپر آفس میں میری میز پر رکھ آؤ! …… میں فارغ ہو کر آرام سے دیکھتی ہوں……‘۔

٭٭٭٭٭

’’……میں حوّا کی بیٹی ہوں……مجھے مستور رہنے دو……!

……میں گلِ مشرق کی پنکھڑیوں میں بستی …… بوئے وفا ہوں……

……میں شفاف پانی پہ چٹکی…… چاندنی کا نور ہوں……

……میں تارِ حیات کو تڑپاتا……نغمہ ہوں حیا کا……

میں سیپ میں بند موتی……میں اک اَن کہا فسانہ……

……میں شاعر کا خواب ہوں……‘‘

ننھے ننھے سفید موتیوں سے سجا پیلا حجاب اوڑھے، گول چہرے پرخوابناک آنکھوں والی کمپئیر کا پر فسوں اور مسحور کن لہجہ پورے ہال میں گونج رہا تھا۔ محفل کے یہ اختتامی جملے اس نے کچھ اس حسنِ ادا سے کہے کہ نبیلہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ وہ لوگ اس وقت الحمرا آرٹس گیلری کے ایک ہال میں مسلم ویمن یونین فار پیس کی جانب سے منعقد کردہ حجاب گالا میں شریک تھیں۔ پروگرام پورا ہی بہت خوب رہا تھا۔ مقررین کی تقریریں، حجاب کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کرتے چھوٹے چھوٹے نثر پارے ، بچیوں کی جانب سے پیش کردہ ٹیبلوز، اور سب سے بڑھ کر حجابی فیشن واک۔ جس میں سیکنڈری کلاسز سے تعلق رکھنے والی بچیوں نے دنیا کے مختلف حصّوں میں اوڑھے جانے والے حجاب کی متفرق اقسام کی نمائش کی۔ مختلف قسم کے حجاب میں مستور، یہ سجی بنی بچیاں بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ اس کے بعد شرکا اس ہال سے متصل دوسرے ہال میں چلے گئے تھے جہاں حجاب اور اس سے متعلقہ سامان کے سٹالز لگے ہوئے تھے۔ انہی میں سے ایک سٹال ان کا بھی تھا۔

ویسے تو ان کا سٹال حجاب کے ساتھ استعمال ہونے والے سامانِ آرائش جیسے بروچز، پنیں، تھوڑی سی جیولری اور دیدہ زیب سٹولز وغیرہ پر مبنی تھا، لیکن ان کو سٹال پر آنے والی لڑکیوں کی جانب سے ملنے والی پذیرائی کا سبب یہ سامان نہیں تھا۔ نبیلہ اب اپنی ذات میں ایک ایمپاورڈ وومن تھی۔اور جیسا کہ اس کا آٹوگراف مانگنے والی ایک لڑکی نے اسے باور کرایا ’’آپ مردوں کی بالادستی والے گھٹن زدہ معاشرے میں امید کی ایک کرن ہیں ہم عورتوں کے لیے……ایک ایسی کرن جو روزانہ ہمیں نیا حوصلہ عطا کرتی ہے کہ اگر ہم چاہیں……اور اپنی بھرپور کوشش کریں توآج بھی، مردوں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کے بجائے ان سے اپنے حقوق چھین کر حاصل کر سکتی ہیں…… ‘‘۔

نبیلہ اس دن محفل کی جان بنی رہی تھی۔ توجہ تو اس کے ساتھ موجود بینش، ہادیہ، جویریہ اور فاطمہ کو بھی خوب ملی ، مگر ظاہر ہے کہ جو بات نبیلہ کی تھی، وہ ان کی نہیں تھی۔ لڑکیاں اس کے آٹو گراف لینے، اس سے ہاتھ ملانے، اس کے ساتھ سیلفی کھینچنے کے لیے بے تاب ہوئی جا رہی تھیں۔ اسی وجہ سے پروگرام کے اختتام پر انہیں ہال سے نکلنے میں کافی دیر بھی ہو گئی۔ بینش، فاطمہ، ہادیہ و جویریہ کے ہال سے نکلنے کے بعد بھی نبیلہ کو اپنے سراہنے والوں کے جھرمٹ سے نکلنے میں تقریباً پونا گھنٹہ لگ گیا۔بقول بینش’اتنا تو نئی دلہن کے فوٹو شوٹ پر وقت نہیں لگتا جتنا میڈم پریزڈنٹ ہاشمی ہاؤس کے فوٹو شوٹ پر لگ گیا‘، مگر اس طویل انتظار کے باوجود شام کے چھ بجے الحمرا سے نکلتے ہوئے وہ سب بہت خوش تھیں۔

سبھی کے ہاتھوں میں نمائش سے خریدی ہوئی اشیا کے تھیلے تھے۔ وہ آپس میں باتوں میں مگن گیٹ کے قریب پہنچیں تو ایک عجیب ساشور ان کے کانوں سے ٹکرایا۔ سامنے الحمرا کے آہنی گیٹ کے باہر نوجوان لڑکوں کا ایک ہجوم تھا جسے الحمرا کے گارڈز بڑی مشکل سے گیٹ سے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ نوجوانوں کے اس نعرے لگاتے ہجوم کو منتشر کرنا تو ان کے بس کی بات نہیں تھی، البتہ بدقت تمام وہ انہیں گیٹ سے چند فٹ پیچھے رکھنے کی مقدور بھر کوشش کر رہے تھے۔ پھر بھی ہر کچھ دیر بعد کوئی نہ کوئی دیوانہ ایک نعرۂ مستانہ بلند کرتا اور اپنی ٹائی گلے سے کھینچ کر، یا سر پر پہنی کالج یونیفارم کی ٹوپی، اِک ادائے عاشقانہ کے ساتھ گیٹ کے اوپرسے اندر موجود خواتین اور لڑکیوں کی جانب اچھال دیتا۔ جوں جوں حجاب گالا میں شریک حجابی لڑکیاں باہر آ رہی تھیں ، ہجوم کے جذبات بے قابو اور نعرے حدودِ تہذیب سے باہر ہوئے چلے جا رہے تھے۔

’ہم باہر کیسے نکلیں گے آپی؟……ان لڑکوں نے تو کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا……‘، فاطمہ نے گھبرا کر نبیلہ سے پوچھا۔ لاشعوری طور پر وہ سر پر لپٹی چھوٹی سی سٹول کو باقی جسم پر پھیلا رہی تھی۔ مگردرجن بھر پِنوں سے سیٹ کی گئی سٹول اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ہلنے پر قادر نہ تھی۔

’ٹھہرو!……میں سلطان کو کال کرتی ہوں……گاڑی یہاں گیٹ کے سامنے ہی لے آئے……‘، نبیلہ نے مسئلے کا حل نکالا۔ پانچ منٹ بعد ان کی گاڑی رینگتی ہوئی گیٹ کی جانب آتی نظر آئی۔ جب وہ گیٹ کے عین سامنے پہنچ گئی تو وہ تیزی سے بیرونی راستے کی جانب بڑھیں۔ ان کو دیکھ کر گارڈ نے ان کے لیے دروازہ کھول دیا تھا، مگر ان کے باہر نکلتے ہی تیزی سے دوبارہ بند کر دیا، مبادا ہجوم کو اندر گھسنے کا موقع نہ مل جائے۔

’……ذرا جلوہ تو دکھاؤ……!‘،ان کے باہر نکلتے ہی لڑکوں کی جانب سے کسے جانے والے آوازوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ گاڑی ان سے چند قدم کے فاصلے پر ہی کھڑی تھی۔ نبیلہ نے تیزی سے دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی۔ اس کے پیچھے پیچھے بینش، ہادیہ، فاطمہ اور جویریہ بھی جلدی سے گاڑی میں سوار ہو گئیں۔ مگر ابھی جویریہ بیٹھ ہی رہی تھی کہ ہجوم میں موجود کسی منچلے نے یہ سوچ کر کہ ہاتھ سے نکلتے چور کی لنگوٹی ہی سہی، برق رفتاری سے آگے بڑھ کر جویریہ کے ہاتھ میں تھاما تھیلا جھپٹ لیا ۔ جویریہ اس اچانک افتاد پر چیخ بھی نہ سکی تھی۔ فاطمہ نے اسے جلدی سے گاڑی کے اندر کھینچ لیا اور ان کے بیٹھتے ہی سلطان نے گاڑی چلا دی ۔ مگر جب تک وہ ہجوم سے دور نہ ہو گئے، لڑکے مسلسل ان کی گاڑی کے دروازوں اور بمپر پر لٹکتے، کوئی فینڈر پر ہاتھ مارتا تو کوئی شیشوں سے جھانکتا، ان پر آوازے کس رہے تھے۔ وہ ہجوم سے کچھ دور ہوئے تو ان سب نے سکھ کا سانس لیا۔

’……گڈّی دا ناس مار دتّا اے……‘، سلطان بڑبڑایا۔ مگر پیچھے بیٹھی خواتین میں سے کسی کو گاڑی کی فکر نہیں تھی، وہ تو بخیریت گھر کی جانب رواں دواں ہونے پر شکر ادا کر رہی تھیں۔ کچھ حواس بحال ہوئے تو اب ان سب کو اپنی حالت یا د کر کے ہنسی آنے لگی۔ ما سوائے جویریہ کے…… جو آج ہی خریدا قیمتی بروچ اور نیکلیس سیٹ کے یوں ہاتھ سے نوچے جانے پر آنسوؤں سے رو دینے کو تھی۔

’……فکر مت کرو جویریہ ڈئیر…… تمہیں اپنی پاکٹ منی کے نقصان پر افسوس ہو رہا ہے، میں تمہیں اس کی کمپن سیشن(compensation) دے دوں گی……‘، نبیلہ نے اسے تسلّی دیتے ہوئے کہا۔ اسی لمحے نبیلہ کا موبائل بج اٹھا تھا۔ نبیلہ نے اپنے چھوٹے سے کَلچ میں سے اپنا موبائل نکالا، ابوبکر صاحب کا نمبر تھا۔ ان سب کو ہاتھ کے اشارے سے خاموش کراتے ہوئے اس نے کال ریسیو کی۔

’……ہیلو…… جی ابّو……؟‘، وہ موبائل کان سے لگائے دھیان سے ان کی بات سن رہی تھی۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کی واپسی کب تک ہو جائے گی۔ ’……بس ہم پندرہ بیس منٹ میں گھر پہنچ جائیں گے……کیوں……کیا آپ کو کوئی کام تھا……؟‘۔

’……ہاں…… تمہیں یقیناً یاد ہو گا کہ کل نسرین کے کیس کی سماعت ہے عدالت میں……بشیر صاحب دو دفعہ فون کر چکے ہیں ……مگر تم گھر پر نہیں تھیں، وہ کل کی سماعت کے لیے تمہارے ساتھ کچھ ڈسکشن کرنا چاہتے تھے……‘، انہوں نے نسرین کے وکیل کا نام لیتے ہوئے اسے بتایا۔ نبیلہ کا جی چاہا اپنا سر پیٹ لے۔ وہ اتنی اہم بات کیسے بھول گئی کہ آج اسے بشیر صاحب کے ساتھ نسرین کے مقدمے کے حوالے سے بہت اہم ملاقات کرنی تھی۔ مقدمے کے تمام نکات، ان کی جانب سے عائد کردہ الزامات……ان سب کو انہوں نے مل کر فائنل کرنا تھا۔ اس نے ایک تیز نظر کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی، مغرب ہونے میں چند ہی منٹ باقی تھے۔

’……جی …جی……مجھے یاد ہے ……میری ان کے ساتھ بات ہو گئی ہے، میں نے انہیں آٹھ بجے کا وقت دیا تھا، ہم ان شاء اللہ فون پر ہی ڈسکس کر لیں گے تمام نکات، وہ کہہ رہے تھے کہ ان کے لیے مصروفیت کے سبب گھر آنا مشکل ہے……‘، اس نے جلدی سے ابوبکر صاحب کو مطمئن کیا۔ فون بند کر کے اس نے تھک کر سر سیٹ کی پشت پر ہیڈ ریسٹ سے ٹکا دیا ۔ جی تو اس کا چاہ رہا تھا کہ گھر جا کر کپڑے تبدیل کر کے سیدھا بستر میں گھس جائے اور سارے دن کی تھکاوٹ کل بارہ بجے تک سو کر اتارے، مگر ابھی یہ کام باقی تھا۔ ابھی بشیر صاحب کے ساتھ بھی مغز ماری کرنا تھی۔ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے آنکھیں کھولیں اور موبائل کو چہرے کے سامنے کر لیا۔ اس کے داہنے ہاتھ کا انگوٹھا اب موبائل کی جگمگاتی سکرین پر حرکت کرتا، کانٹیکٹ لسٹ میں بشیر صاحب کا نام تلاش کر رہا تھا۔

٭٭٭٭٭

یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

گھر پہنچ کر جویریہ ، ہادیہ اور بینش تو اپنے پورشن کی جانب رخصت ہو گئیں، جبکہ فاطمہ اس کی مدد کرانے کی بھرپور یقین دہانی کرا کے، بغیر کپڑے تبدیل کیے اپنے بستر میں گھس گئی تھی۔ اور نبیلہ کو یقین تھا کہ جب تک وہ نسرین والی فائل لے کر واپس کمرے میں پہنچے گی، فاطمہ گہری نیند میں مدہوش ہو گی۔ آفس میں داخل ہو کر اس نے لائٹ جلائی اور اپنی میز کی جانب بڑھ گئی۔ اس کی میز بڑے قرینے سے سجی ہوئی تھی، ہر چیز اپنی جگہ پر اہتمام سےسیٹ کی گئی تھی۔ کہیں کوئی بے ترتیبی نہیں تھی ، کسی بد سلیقگی کے آثار نہیں تھے۔ فائلنگ کیبنٹ میں سامنے ہی نسرین کے نام کی فائل دھری تھی۔ اسے ایک بار پھر کرن کی قدر ہوئی۔ وہ فائل اٹھا کر الٹے قدموں آفس سے نکلنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر میز کے عین وسط میں رکھے کاغذات پر پڑی۔ یہ آج کی ڈاک تھی جو اس نے صبح کرن کو اپنی میز پر رکھ آنے کی ہدایت کی تھی۔

ان کاغذات میں سے دو تو یونہی گیس اور بجلی کے بل تھے۔ اس نے ایک سرسری نظر بِل پر ڈالنے کے لیے بِل اٹھایا، مگر وہ اٹھانے سے اس کے نیچے رکھا سفید لفافہ سامنے آ گیا تھا۔ ’اے اینڈ اے سولسٹرز‘ کی جانب سے آیا یہ خط ایک خاص دفتری شان کا حامل تھا۔ نجانے کس سلسلے میں آیا تھا۔کورے لفافے پر تحریر یہ نام اس کے ذہن میں کوئی بھی بتی روشن کرنے سے قاصر تھا۔ اس نے لفافہ اٹھایا اور ایک سائڈ سے چاک کیا۔ اندر سے موٹے کاغذ پر پِرنٹ ہوئی ایک تحریر اس کے ہاتھ میں آ گئی ۔ جوں جوں اس کی نظریں خط کے مندرجات پر پھسل رہی تھیں، اسے اپنے چودہ طبق روشن ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔

٭٭٭٭٭

عادل اینڈ اکبر سولسٹرز،

۲۰۵ اے ، نتاشا کمرشل بلڈنگ،

ایم اے جناح روڈ،لاہور۔

تاریخ: ۴ فروری، ۲۰۱۹ء

ہاشمی ہاؤس، ۴۳۴، اے بلاک،

ماڈل ٹاؤن، لاہور۔

محترم جناب سربراہِ خانہ ، ہاشمی ہاؤس!

مورخہ ۱۵ جنوری، ۲۰۱۸ء کو آپ نے ہمارے مؤکل ’ٹرسٹ بینک‘سے مبلغ پچیس لاکھ پاکستانی روپے(PKR 2,500,000) بطور قرض لیے تھے جو کہ پورے ایک سال بعد یعنی ۱۴ جنوری، ۲۰۱۹ء تک پانچ فیصد (5%) شرح سود کے ساتھ واجب الادا تھے(Ref.: TRUSTBANK_DEED_0000345897-190) ۔ ضابطے کی کارروائی کے مطابق آپ کو گزشتہ تین ماہ میں ہمارے مؤکل ’ٹرسٹ بینک‘ کی جانب سے یاد دہانی کے دو خطوط بھیجے جا چکے ہیں ، جن کا کوئی جواب آپ کی جانب سے ہمارے مؤکل ’ٹرسٹ بینک‘ کو موصول نہیں ہوا۔

ادائیگیٔ قرض کی مقررہ تاریخ گزر جانے کے بعد بھی آپ کی جانب سے قرض ادا نہ ہونے پر آپ کو یہ ڈیمانڈ لیٹر بھیجا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ اس کے جواب میں فوری طور پر قرض ادا کر دیں گے جو اس وقت مبلغ ستائیس لاکھ اور پچاس ہزار پاکستانی روپے (PKR 2,750,000) ہے اور اس رقم (PKR 2,750,000) میں اولاً مذکور ڈِیڈ کے مطابق ہر ماہ ایک فیصد (1%) شرح سود کا اضافہ ہوتا رہے گا۔اس ’ڈیمانڈ لیٹر‘ کا ایک ہفتے کے اندر اندر جواب نہ دینے کی صورت میں ’عادل اینڈ اکبر سولسٹرز‘ اپنے مؤکل ’ٹرسٹ بینک‘ کی طرف سے قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں آپ کا موجودہ مکان (ہاؤس نمبر: ۴۳۴، اے بلاک، ماڈل ٹاؤن، لاہور) ’سِیل‘ کیا جا سکتا ہے۔

فقط،

چودھری عادل احمد،

سولسٹر، لاہور ہائی کورٹ ۔

٭٭٭٭٭

وہ آندھی طوفان کی طرح عمیر کے دروازے پر پہنچی اور زور سے اس کا دروازہ دھڑدھڑایا۔ اندر سے فوراً ہی کسی کے بیڈ سے اٹھنے اور تیز قدموں سے دروازے کی جانب آنے کی آواز آئی۔ دروازے کا لاک کھلتے ہی نبیلہ پوری طرح دروازہ کھلنے کا انتظار کیے بنا، عمیر کو پیچھے دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ سامنے ہی صوفے پر ہاتھ میں موبائل پکڑے اور کانوں میں ائیر فونز ٹھونسے، زوار نیم دراز تھا۔

’کیا ہوا نبیلہ……؟ خیر تو ہے……؟‘، اس کے جارحانہ انداز اور غصّے سے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے عمیر نے پوچھا۔

’خیر……؟!! …خیر تو اس گھر سے اسی دن رخصت ہو گئی تھی جب آ پ کو ہم نے پہلی بار سربراہ ِ خانہ چنا تھا……‘، وہ غصّے سے کانپتے ہوئے لہجے میں بولی اور مٹھی میں بھینچا ڈیمانڈ لیٹرعمیر کے چہرےکے سامنے لہرایا۔ ’……جانتے ہیں یہ کیا ہے……؟ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی چاچو!!……کہ آپ اتنے بڑے فراڈ ہیں!……‘۔ اس نے غصّے اور تنفر سے کہتے ہوئے لیٹر عمیر کی جانب اچھال دیا۔ کاغذ کا مڑاتڑا ٹکڑا عمیر کے پاؤں کے قریب جا گرا تھا۔

عمیر نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر جھک کر زمین سے لیٹر اٹھا لیا۔ اب وہ اس کے بَل سیدھے کرتے ہوئے بغور اس پر لکھی تحریر پڑھ رہا تھا۔ زوار بھی اپنی جگہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا اور کانوں سے ائیر فونز نکال کر اب پوری طرح ان کی طرف متوجہ تھا۔ خط پڑھ کر عمیر نے سر اٹھا کر نبیلہ کی جانب دیکھا۔ ایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری جسے دباتے ہوئے وہ اپنے بیڈ کی طرف مڑ گیا۔ اس نے لاپروائی سے ہاتھ میں پکڑا ڈیمانڈ لیٹر بیڈ سائڈ ٹیبل پر ڈال دیا اور پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر سگریٹ کی ڈبیا نکال لی۔ کچھ بھی کہے بنا وہ ایک بار پھر مزے سے تکیوں سے ٹیک لگا کر بیڈ پر نیم دراز ہو گیا تھا۔ جبکہ اسے یوں ایک شانِ بے نیازی سے سگریٹ سلگاتے دیکھ کر نبیلہ کا خون کَھول اٹھا تھا۔

’……آپ اتنے بڑے دھوکے باز ہیں !……اتنے بڑے اداکار ہیں ……سب کیا سمجھتے رہے، اور کیا نکلے آپ!……سب کہتے تھے……کہ دیکھو عمیر نے گھر کتنے سلیقے سے چلایا ہے……اتنے سارے اضافی خرچے کتنی اچھی طرح بجٹ میں مینج کیے ہیں……یہ تھا راز آپ کے سلیقے کا……آپ کی مینجمنٹ کا……!‘، وہ غصّے سے ابل رہی تھی اور اس پر مستزاد عمیر کا لاپروا رویّہ، جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہا تھا۔

’ہاں یہی راز تھا……‘، عمیر ایک چڑانے والی مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتے ہوئے بولا،’……تمہیں تو خوش ہونا چاہیے نبیلہ……میں نے تو تمہیں سنہری موقع فراہم کیا ہے کہ تم اپنے حسنِ انتظام کا مظاہرہ کر کے گھر والوں کے دل جیت لو……اس طرح تمہاری پوزیشن بھی مضبوط ہو گی اور تمہیں آئندہ اقتدار کی مسند تک پہنچنے کے لیے کسی کی منت سماجت بھی نہ کرنی پڑے گی……‘۔

’منت سماجت……مائی فُٹ!……‘، وہ غصّے سے دھاڑی۔’کس کی منت سماجت کی میں نے……؟! میں جو کچھ ہوں اپنی قابلیت کی بنیاد پر ہوں……اور کھوٹا سکّہ نہیں ہوں……دیکھنے میں کچھ، اور حقیقت میں کچھ……ابھی تو آپ دیکھیے گا چاچو آپ کے ساتھ ہوتا کیاہے، جب سارے گھر کو آپ کی اصلیت کا پتہ چلے گا……‘

’کس اصلیت کا……؟‘، اس کی بات کاٹتے ہوئے عمیر نے بھولپن سے پوچھا۔

’……اونہہ! معصومیت کی یہ اداکاری کسی اور کے سامنے کیجیے گا……بلکہ اب تو آپ جس کسی کے سامنے بھی یوں معصوم بننے کی کوشش کریں گے وہ یہی کہے گا کہ یہ ہاتھی کے دانت ہیں، کھانے کے اور، اور دکھانے کے اور……‘۔

’اگر کوئی آپ کی بد تمیزی کو اخلاقاً یا مصلحتاً نظر انداز کر رہا ہو اور ضبط سے کام لے رہا ہو، تو اسے اس کی کمزوری پر محمول نہیں کرنا چاہیے……ایسا نہ ہو اس کا ضبط ختم ہو جائے تو آپ کے پاس کچھ بھی باقی نہ بچے……‘، عمیر سرد لہجے میں بولا، اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔

’……ارے واہ!!……ایک تو چوری، اوپر سے سینہ زوری……دھمکا رہے ہیں آپ مجھے؟……ابھی تک اس گھر کے مردوں کی وہی سوچ ہے……ڈرا لو، دھمکا لو،……کسی طرح دبا لو عورت کی آواز کو……اور آپ نے توبد قسمتی سے اپنے پچھلے تجربے سے بھی کچھ نہیں سیکھا، ……اتنی جلدی بھول گئے کہ نبیلہ ہاشمی کو دبانا اور دھمکانا اتنا آسان نہیں جتنا آپ نے سمجھ رکھا ہے‘، نبیلہ طنزیہ انداز میں بولی۔

اس کی بات کے جواب میں عمیر کا قہقہہ بے ساختہ تھا،’ میں تو کچھ نہیں بھولا، البتہ تم بہت کچھ بھول گئی ہو…… تمہاری یاد داشت کو ذرا تازہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ‘۔

’مثلاً……کیا بھول گئی ہوں میں……؟‘، نبیلہ قدرے حیرت سے بولی۔ اسے عمیر کی ڈھٹائی پر اب غصّے کے ساتھ ساتھ شدید حیرت بھی ہو رہی تھی۔ وہ ایسا بے نیاز و بے پروا نظر آ رہا تھا جیسے یہ فراڈ اس نے نہیں بلکہ کسی اور نے کیا ہو۔ جیسے اس سارے معاملے کی زد اس پر نہیں، بلکہ کسی اور پر پڑنے والی ہو۔

اس سوال کا جواب زوار کی جانب سے آیا۔ عمیر کے ذرا سے اشارے پر وہ کچھ بھی کہے بنا اپنی جگہ سے اٹھ کر ان دونوں کے قریب چلا آیا تھا، اس کا انگوٹھا ہاتھ میں پکڑے موبائل کی سکرین پر حرکت کر رہا تھا، قریب آ کر اس نے اپنے موبائل کا والیوم بڑھاتے ہوئے نبیلہ کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔

’دنیا کا ایک ہی اصول ہے، کچھ لو اور کچھ دو……آپ مجھے خوش رکھیں گے تو میں بھی آپ کی خوشی کا خیال رکھوں گی……‘۔

موبائل کے سپیکر سے ایک جانی پہچانی آواز ابھری۔ نبیلہ کو یوں محسوس ہوا گویا کسی نے اس پر یخ پانی کی بالٹی انڈیل دی ہو۔ اس کا سارا غصّہ اور طنطنہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔ موبائل سے ابھرتی سرگوشی کی آواز کمرے میں گونجتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔’میری صرف ایک ڈیمانڈ ہے، اگلے چار ماہ کے لیے ہاشمی ہاؤس کے پریزیڈنٹ آفس کا مکمل اختیار…… اگر یہ آپ مجھے دلا سکتے ہیں تو اس کے بدلے میں ، میں اپنی ٹرم میں آپ کا خصوصی خیال رکھوں گی……‘۔

’…… آپ کو جو مراعات حاصل ہیں، ان میں کوئی کمی نہ آنے دوں گی……، اس کے علاوہ بھی کوئی ڈیمانڈ ہے تو میں اسے پورا کروں گی……سمجھیں اس کے بدلے آپ کو بلینک چیک دے رہی ہوں……‘۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Previous Post

سوشل میڈیا کی دنیا سے…… | فروری تا اپریل 2021

Next Post

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 8

Related Posts

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | گیارہویں قسط

15 فروری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | نویں قسط

4 نومبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | آٹھویں قسط

26 ستمبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | ساتویں قسط

12 اگست 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط

14 جولائی 2025
Next Post

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 8

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version