یہاں درج فاضل لكهاريوں کے تمام افکارسے ’ادارہ نوائے غزوۂ ہند‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
ہم سا ہو تو سامنے آئے | فیض اللہ خان نے لكها
روسی سفیر نے کہا میرے پاس قابلیت ہے تمہارے پاس کیا ہے؟
شاہ محمود قریشی بولے فرنگی غاصبوں کو رائے کھرل پکڑ کر دیا بدلے میں مربعے ملے، مزار کھول لیا ساری نسلیں وہاں ہونے والے تماشوں کے نتیجے میں ملنے والے پیسوں سے چلتی ہیں، پارٹیاں الگ بدلتا رہتا ہوں، اب بتاؤ تمہارے پاس کیا ہے؟
دیسی لبرلز کا معیار | پروفیسر عبدالوہاب سوری نے لکھا
پاکستان میں موجود لبرل اشرافیہ علمی و فکری لحاظ سے اس معیار کی بھی بالکل نہیں ہے جتنا ماضی میں معتزلہ اشرافیہ (انٹیلیجنشیا) تھی کیونکہ ماضی کے معتزلہ اہل زبان بھی تھے اور مذہبی تھیالوجی کا علم بھی رکھتے تھے، بلکہ ان دیسی لبرلز کا علمی و فکری معیار تو موجودہ مغربی لبرلز کے پائے کا بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ان دیسی لبرلز نے مغربی اوریجنل texts کو نہیں پڑھ رکھا، دیسی لبرلز صرف قانون اور تاریخ کی چند کتب کے ذریعے ولگر قسم کے لبرل ازم کو فروغ دے رہے ہیں، ان کی مقبولیت صرف اس لیے ہے کیونکہ خلا موجود ہے اور وہ اس خلا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اور جہاں تک دیسی سوشلسٹ اور کمیونسٹ کی بات ہے تو وہ اپنے نظریے سے غداری کر کے امریکہ کی گود میں چلے گئے ہیں اور لبرل ازم کے پرچارک بن گئے ہیں حالانکہ انہوں نے لبرل ازم پر تنقید کرنا تھی۔
’ناموسِ‘پاك فوج كے لیے قانون | محمد شہزاد نے لکھا
دو لاکھ جرمانے کے بجائے دس روپے ٹوکن فی مذاق رکھ دیں تو یقین مانیں لوگ سارا دن ویڈیو گیم کی طرح کھیلیں گے اور آپ کی سالانہ آمدنی میں بھی اضافہ ہو جائے گا!
انصاف کی بات | اکرام اللہ نسیم نے لکھا
اگر تنقید کرنے پر دو لاکھ جرمانہ اور ۵ سال قید کا بل پاس ہو سکتا ہے تو تعریف کرنے پر DHA میں ۵ مرلے کا پلاٹ بھی ملنا چاہیے ۔
اس کا بِل بھی کوئی پیش کردے!
جو بات کہِیں فخر وہی بات کہِیں ننگ | زبیر حجازی نے لکھا
پاکستانی لبرل اور ان سے متاثر مولوی بیزار طبقہ1 بھی منافقت کے اسفل ترین درجے پر متمکن ہے جو عموماً مسلمانوں کو سبق سکھا رہے ہوتے ہیں کہ ’’اختلافات نظریات سے ہونے چاہییں شخصیات سے نہیں، اور ان کی وضاحت دلیل سے کریں تذلیل سے نہیں‘‘۔لیکن عمران خان سمیت کسی بھی شخصیت کے اسلامی شعار کی تائید و تقویت میں بیان دینے پر جھٹ سے اس کا ماضی کھنگالنا شروع کر دیتے ہیں اور دلیل کے بجائے تذلیل اور نظریات کے بجائے شخصیات سے اختلاف کا وہی راستہ اپناتے ہیں جس پر تنقید کرتے تھے۔
اللہ رے خود ساختہ قانون کا نیرنگ
جو بات کہِیں فخر وہی بات کہِیں ننگ
Empowered Woman! | شیخ حامد کمال الدین نے لکھا
یعنی وہ جو اپنا گھر سنبھال کر بیٹھی ہے، اپنے بچوں کی تربیت میں مشغول ہے، وہ تو ہے نری بے روزگار اور قابل ترس!
اور وہ جو کسی دوسرے کے ہاں کام کرتی ہے وہ برسرِ روزگار……’’empowered‘‘……اور قابلِ رشک!!!
کیا زمانہ ہے!
حق مغفرت کرے | طارق حبیب نے لکھا
اللہ مغفرت فرمائے، عین عہد شباب میں وفات ہوئی !
#پی_ڈی_ایم
شراکت داری نہیں راہ داری | سید عارف شاہ نے لکھا
ہم اتنا عرصہ سی پیک کو پاکستان کے ساتھ چین کی بڑی شراکت داری سمجھتے رہے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ تو صرف ۵۰ ارب ڈالر کی ایک راہداری ہے۔ اصل معاشی شراکت داری تو چین کی ایران کے ساتھ استوار ہوئی ہے، پورے۴۰۰ارب ڈالر کی!!!
مورخ لکھے گا | عبداللہ واحدی نے لکھا
مورخ اگر کسی سیاہ سی جماعت کا کارکن نہ ہوا تو ضرور لکھے گا کہ ملک کی تباہی میں تمام سیاہ سی جماعتیں بشمول وزیراعظم کے متفق و متحد تھیں۔
سیاحت کے فروغ کے لیے ایک تجویز | عابی مکھنوی نے لکھا
پاکستان کے ہر مرنے والے وزیراعظم، صدر، وزیر، ایم پی اے ، ایم این اے ، جنرل ، کمشنر ، ڈی سی ، آئی جی تا ایس ایچ او ، جج ، وکیل اور جملہ ممبران بیوروکریسی کی لاش کو حنوط کر کے ممی(mummy) تیار کی جائے اور مصر کے اہرام کی طرز پر اہرام تیار کر کے ان ممیز (mummies)کو سیاحوں کے لیے ڈسپلے کیا جائے۔
مصر فرعونوں کی لاشوں کی نمائش سے سالانہ اربوں ڈالر کماتا ہے۔
ہم اپنے فرعونوں کو گمنامی کی تدفین دے کر ضائع کرتے چلے آ رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭
1 دراصل دین بیزار طبقہ (مرتِّب)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



