امرا و مسئولین کو نصیحتیں[۱]
(۱)نیک افراد کے ساتھ قربت
امرا و مسئولین کو چاہیے کہ علما و صالحین کی قربت میں رہیں ، ان سے مشورہ لے اور ان کے نصائح کو سنیں، یہی ماضی کے نیک امراو مسئولین کا دستور تھا۔
جب حضرت عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ خلیفہ منتخب ہوئے تو اس دور کے ولی اللہ سالم بن عبداللہ، محمد بن کعب اور رجاء بن حیوۃ رحمہم اللہ کو بلایا اور ان کو کہا:’ میں اس آزمائش میں گرفتار ہوں آپ سب مجھے مشورہ دے کہ میں کیا کروں؟‘۔
سالم بن عبداللہ نے کہا: ’اگر تمہیں نجات چاہیے تو دنیا سے ایسے روزہ میں رہو جس کی افطاری تمہاری موت ہو!‘۔
محمد بن کعب نے کہا:’ اگر اللہ رب العزت کے عذاب سے نجات چاہیے تو مسلمانوں کے امیر کو اپنا والد سمجھو، جوان لڑکےکو اپنا بھائی سمجھو اور چھوٹے بچے کو اپنا بیٹا سمجھو۔ والد کا احترام کرو، بھائی کے ساتھ نیک سلوک کرو اور بچے پر شفقت کرو!‘۔
رجاء بن حیوۃ نے کہا:’ اگر کل کے سخت دن سے نجات چاہیے تو مسلمانوں کے لیے وہ کچھ کرو جو اپنے لیے پسند ہو اور ان کے لیے ان چیزوں کو ناپسند رکھو جن کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو!‘
امیر کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اپنے رشتہ داروں میں سے کسی نااہل بندے کو امور کی مسئولیت دے ، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
’’اس شخص کو جنت کی خوشبو بھی سونگھنے کو نہیں ملے گی جو شخص رشتہ داری کی خاطر اپنے رشتہ داروں کو کام (مسئولیت)پر لگائےجبکہ اس سے زیادہ کام کے اہل لوگ موجود ہو۔‘‘
دوسری جگہ آپﷺ نے فرمایا:
’’اگر امیر نے مسلمانوں پر کسی کو مقرر کیا ، اور امیر یہ جانتا تھا کہ اس سے زیادہ کام کا اہل اور قرآن و سنت پر عمل کرنے والا موجود ہے، تو اس امیر نے اللہ تعالیٰ، رسول اللہﷺ اور سب مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی۔‘‘
اسی طرح حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’اگر کسی نے فاجر شخص کو کام کی مسئولیت دی اور اس کو اس کے فجور کا علم بھی ہو تو اس فاجر کو اس کام پر مقرر کرنے والا بھی فاجر ہے۔‘‘
(۲)راز کی حفاظت
امرا کو چاہیے کہ اپنے رازوں کو خفیہ رکھیں، حضرت کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ کئی بار ایسا ہوا کہ جب رسول اللہﷺ کسی غزوہ پر جانے کا ارادہ فرماتے تو لوگوں کو اس غزوہ کے اصل کے بجائے دوسری سمت کا بتاتے تھے، آپﷺ یہ کام اس لیے کرتے تھے، تاکہ ہدف تک پہنچنے کے لیے مسلمانوں کی نقل و حرکت راز میں رہے، کیونکہ ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کی نقل و حرکت کی خبر دشمن تک پہنچ جائے اور دشمن راستے میں مسلمانوں کو نقصان پہنچائے، ہر اس کام کو راز میں رکھنا لازم ہے جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔
حضرت ماوردیؒ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا، کہ ’تمہارا راز تمہاری قید میں ہے، اگر تم نے اس سے متعلق کسی کے سامنے بات کی اور راز افشا ہوگیا تو تم اس راز کے قیدی بن جاؤ گے!‘ یعنی کہ پھر اس راز کے افشا ہونے کی وجہ سے ہونے والے نقصان پر تم خود جوابدہ ہو گے۔
حضرت ماوردیؒ نے کہا’راز کی حفاظت کامیابی کا سب سے بڑا سبب اور کاموں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کا وسیلہ ہے‘۔
ابن حبانؒ نے کہا’جس نے اپنے راز کی حفاظت کی اس کی تدبیر پکی اور کامیابی یقینی ہے‘۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے فرمایا’دل رازوں کے برتن ہیں، ہونٹ تالے اور زبان چابیاں ہیں، ہر بندے کے لیے لازم ہے کہ رازوں کو کھولنے والی چابیوں کی حفاظت کرے یعنی اپنی زبانوں کو رازوں کے افشا ہونے سے محفوظ رکھے‘۔
مجاہدین کی حفاظت رازوں کی حفاظت میں پنہاں ہے، لہٰذا امیر کو چاہیے کہ اس ساتھی کے ساتھ مشورہ کرے جو رازوں کی حفاظت کرنے والا ہو۔
(۳) مجاہدین اور شہداکے گھرانوں کا خیال رکھنا
امرا و ذمہ داران کو چاہیے کہ مجاہدین کے گھرانوں کے مسائل کو حل کریں، خصوصاً ان ساتھیوں کی بیواؤں اور یتیموں کا خیال رکھیں جو شہید ہوگئے ہیں۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجاہدین کی خواتین کی حرمت بیٹھنے والوں پر ان کی اپنی ماؤں کی حرمت کی مانند ہے، اگر جہاد سے پیچھے بیٹھنے والا کوئی شخص ایک مجاہد کے گھر کی حفاظت کرتاہو اور پھر اس کے اہل خانہ کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہو تو قیامت کے دن خیانت کرنے والے شخص کو اُس مجاہد کے لیے کھڑا کیا جائے گا اور خائن کے نیک اعمال میں سے جتنا اس کو پسند ہو اتنا وہ مجاہد لے لے گا‘‘، پھر رسول اللہﷺ نے ہمیں دیکھا اور فرمایا: ’’آپ سب کا کیا گمان ہے؟‘‘۔
(حرمة نساء المجاہدین) یعنی مجاہدین کی خواتین کو غلط نظر سے دیکھنا، یا ان کے بارے میں بد کلامی کرنا ایسا حرام ہے جیسا کہ اپنی ماں کے بارے میں، حرمت سے مراد ان کا احترام کرنااور ان کے ساتھ احسان و نیکی والا معاملہ کرنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا، یہ پیچھے بیٹھنے والوں پر ایسا لازم ہے جیسا کہ اپنی ماؤں کا احترام ان پر لازم ہے۔ ’فما ظنكم؟‘ آپ سب کا کیا گمان ہے کہ کتنی نیکیاں اس سے لی جائیں گی؟ مطلب یہ کہ اس کی ساری کی ساری نیکیاں لے لی جائیں گی۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ غازی کے اہل خانہ کے ساتھ خیانت باقی خیانتوں سے بڑی خیانت ہے، کیونکہ باقی کاموں میں خیانت کرنے والے کے لیے یہ سزا نہیں کہ جس کے ساتھ خیانت کی ہو وہ اپنے اندازے کے مطابق جتنا چاہے اس کی نیکیوں سے لے سکتا ہے، بلکہ جتنے اندازے سے اس کے ساتھ خیانت ہوئی ہو اتنے اندازے کے مطابق اس کی نیکیوں کو اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن یہاں یہ مجاہد خائن کی نیکیوں سے جتنے اندازے کے مطابق اٹھا سکتا ہو، اتنا اٹھائے گا۔
(وما علینا إلّا البلاغ المبین!)




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



