نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

سُلطانئ جمہور | قسط نمبر: 15

by علی بن منصور
in مئی تا جولائی 2021, ناول و افسانے
0

آج پھر اس کی آنکھ بہت دیر سے کھلی تھی۔سویا ہوا دماغ کچھ بیدار ہوا ، مندی مندی آنکھیں کھولیں تو نظر سامنے کی دیوار پر آویزاں بڑے سے گھڑیال پر پڑی۔ گھڑی کی سوئیاں پونے آٹھ کا وقت دکھا رہی تھیں۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ پہلا خیال یہی آیا کہ آج پھر بچوں کو سکول کے لیے تیار کرنے میں دیر ہو گئی۔ جاوید کا بھی یہی وقت ہوتا تھا گھر سے نکلنے کا، اور اس کا ناشتہ، چائے وغیرہ……سب کچھ ہی درہم برہم ہو گیا تھا۔ اس نے جلدی سے اپنے ساتھ سوئے شہیر اور بتول کو جگانے کے لیے ان کے اوپر سے لحاف کھینچا۔

’’شہیر……کدھر ہو……؟ شہیر……؟؟!‘‘، لحاف کے نیچے سے کوئی بھی برآمد نہ ہوا، پورا بیڈ خالی پڑا تھا۔

’’مما……!ہم جا رہے ہیں، بابا نے کہا آج ہم حسن اور حسین کے ساتھ سکول جائیں گے‘‘، سامنے ہی دروازے کے پاس شہیر یونی فارم میں ملبوس، بیگ کندھوں پر لٹکائے، بالوں کو سلیقے سے سمیٹے، سکول جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔

’’اچھا!……بتول کہاں ہے……؟‘‘، بینش نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔

’’وہ گاڑی میں بیٹھی ہے……‘‘

’’تم دونوں کو کس نے تیار کیا……؟ ناشتہ کیا ہے تم نے؟……‘‘،

’’نہیں، ناشتہ نہیں کیا، بابا نے تیار کر دیا تھا مما…… اوربابا نے ہمیں کافی زیادہ پاکٹ مَنی بھی دی ہے تاکہ ہم کینٹین سے لے کر کچھ کھا لیں، اب میں جاؤں…… ؟‘‘، شہیر جیب خرچ کی خوشی میں جلدی جلدی بولا۔

’’……ہاں ٹھیک ہے جاؤ……‘‘، بینش نے کچھ الجھن سی محسوس کرتے ہوئے جواب دیا۔ مجھے کیوں نہیں جگایا جاوید نے……آج کل ان دونوں کے تعلقات بھی ایسے نہ رہے تھے کہ وہ بے تکلفی سے اس سے پوچھ لیتی۔ نجانے خود کہاں تھا وہ، شاید وہ بھی دکان پر جا چکا تھا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ جاوید کمرے میں داخل ہوا۔ وہ اس کی طرف توجہ دیے بغیر سیدھا اپنی الماری کی جانب بڑھ گیا جہاں اس نے دراز کھول کر کچھ کاغذات نکالے۔ رسیدوں اور کاغذوں کے پلندے میں سے اپنے مطلوبہ کاغذ نکال کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑا ہوا اور میز سے ہئیر برش اٹھا کر اپنے بالوں میں پھیرنے لگا۔

بینش کو توقع تھی کہ وہ اسے یوں لمبا سونے پر تنبیہ کرے گا، مگر اسے اپنے کاموں میں مصروف دیکھ کراسے اپنا یہ خیال غلط ثابت ہوتا نظر آ رہا تھا۔

’’……بچے ناشتہ کیے بغیر ہی سکول چلے گئے……‘‘، آخر اپنے اوپر جبر کرتے ہوئے وہ خود ہی بول اٹھی۔ مگر جاوید اس کی بات کا کوئی بھی جواب دیے بغیر کرسی پر جا بیٹھا تھا اور اپنے جوتوں کے تسمے باندھ رہا تھا۔ بینش کو لگا وہ آج بھی اس سے کوئی بھی بات کیے بغیر گھر سے چلا جائے گا۔ اور پھر شام گئے واپسی پر وہ محض کپڑے تبدیل کرنے کمرے میں آتا تھا اور اس کے بعد یا تو ابّا جی کے پاس بیٹھا رہتا یا باہر کہیں نکل جاتا۔ بعض اوقات بچوں کو بھی ساتھ لے جاتا۔ مگر وہ سب کہاں جاتے، کیا کرتے اور کہاں کہاں پھرتے رہتے، اس کو کوئی خبر نہیں تھی۔ نجانے یہ سرد جنگ کب تک چلے گی، اس کو جاوید سے ایسے رویے کی توقع ہر گز نہیں تھی۔

وہ اس کی خفگی خوب اچھی طرح سمجھ رہی تھی مگر حق پر ہوتے ہوئے وہ کیسے اپنا حق چھوڑ دیتی۔ سو وہ اپنی جگہ ڈٹی ہوئی تھی۔ لیکن دل کا کیا کرتی جو بار بار اسے مفاہمت پر اکساتا تھا۔نو سالہ ازدواجی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ ان کی آپس میں بول چال تک بند ہو گئی تھی۔ بلکہ بول چال تو بڑی بات ہے، جاوید کو کوئی مجبوری کمرے میں کھینچ لائے تو لائے ورنہ آج کل وہ بلا ضرورت اس کی جانب دیکھنےتک کا روادار نہ تھا۔ اور وہ مانے یا نہ مانے، مگر حقیقت یہی تھی کہ وہ دل سے جاوید کی ناراضگی کو محسوس کر رہی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ہمیشہ کی طرح جاوید تھوڑا سا غصّہ کرے گا، اسے ڈانٹے گا، پھر ٹھنڈا ہو جائے گا تو وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال لے گی۔ اس کے شکوے شکایتیں سننےکے بعد جاوید اسے منا لے گا، اور وہ بھی فوراً مان جائے گی۔ یوں ایک آدھ دن میں ہی ان کی لڑائی ختم ہو جائے گی اور وہ دونوں پھر شیر و شکر ہو جائیں گے۔

مگر ایسا کچھ نہ ہوا تھا۔ پتہ نہیں جاوید نے اس کی کون سی بات اتنی شدت سے محسوس کر لی تھی کہ وہ اسے معاف کرنے یا کسی بھی قسم کی گنجائش دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ ہاں شاید اس رات اس نے زیادہ جذباتی ہو کر گھر چھوڑ کر جانے والی جو بات کہہ دی تھی، وہ ذرا زیادہ ہی کہہ گئی تھی۔ مگر پھر وہ سوچتی کہ ٹھیک ہے اس نے جذباتیت میں زیادہ بول دیا تھا، مگر بولا ہی تھا، کوئی عمل کر کے تو نہیں دکھا دیا تھا ناں، اگر جاویداپنے گھر اور بچوں کے لیے مخلص ہوتا تو وہ آگے بڑھ کر صلح کرنے کی کوشش کر لیتا۔ مگر اس کی آنکھوں پر تواپنے بھائیوں کی اندھی محبت کی پٹّی بندھی ہوئی تھی۔کبھی کبھی اندر کہیں سے یہ کمزور سی آواز بھی آتی کہ جاوید اکثر صلح میں پہل کرتا ہے، اگر اس بار وہ کر لے تو کیا برا ہے؟ مگر وہ جانتی تھی کہ نبیلہ کی یہ بات صد فیصد درست تھی کہ اس بار تو ذرا سی بھی لچک دکھانے کامطلب تھا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہ جاوید کے زیرِ دست ہونا قبول کر لے۔ اس کے بعد تو وہ کوئی شکوہ کرنے کے بھی قابل نہ رہتی۔ وہ کیا کرے……کیا نہ کرے……اصل جنگ تو خود اس کے اندر چھڑی ہوئی تھی۔

ایک طرف دل تھا جو کہتا تھا کہ کچھ کچھ قصوروار تم بھی ہو، کچھ غلطیاں تمہاری بھی ہیں۔ انہیں قبول کر لو اور آگے بڑھ کر منا لو جاوید کو، تمہیں اپنا ہنستا بستا گھر واپس مل جائے گا، اور دوسری طرف دماغ تھا جو اسے غیرت دلاتا، کب تک مظلوم عورت کا کردار ادا کرتی رہوگی، کب تک ستی ساوتری بن کر سب کچھ اپنی جان پر جھیلتی رہو گی، آخر عورت ہی کیوں مفاہمت میں پہل کرے،ہمیشہ وہ ہی کیوں جھکے، جاوید بھی تو اس سے معافی مانگ سکتا ہے، اپنے اور اپنے بھائیوں کے رویے کی۔ وہ بھی تو کہہ سکتا ہے کہ آئندہ میں تمہیں شکایت کا کوئی موقع نہیں دوں گا، وہ بھی تو اپنے حصّے کا بوجھ اٹھا کر اس کا ہاتھ بٹا سکتا ہے……اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا، اگر اس کی انا اور غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ کسی عورت کے سامنے جھکے تو اسے یہ جان اور سمجھ لینا چاہیےکہ بینش کی بھی کوئی انا ہے۔ اس کی بھی کوئی عزتِ نفس، کوئی پسند، کوئی مرضی ہے۔

’’وہ……میں آج امی کی طرف جانا چاہ رہی تھی‘‘، جاوید کو میز سے بٹوہ اور چابی اٹھاتے دیکھ کر وہ جلدی سے بولی۔ آج بھی وہ خاموشی سے نکل جاتا تو وہ اپنی سوچوں کے ساتھ جلنے کڑھنے کے لیےپھر تنہا رہ جاتی۔

’’تمہاری مرضی……‘‘، جاوید نے شانے اچکا کر سرسری سا جواب دیا۔

’’مگر آج پیرنٹ ٹیچر میٹنگ ہے ناں بتول کے سکول میں……‘‘، اسے دروازے کی جانب جاتا دیکھ کراس نے اپنا مسئلہ بیان کیا۔

’’وہ میری بیٹی ہے، میں چلا جاؤں گا، تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں……‘‘، وہ لا تعلقی سے کہتا ہوا باہر نکل گیا۔

٭٭٭٭٭

’’کیا کہہ رہی ہو سلمیٰ؟آٹا ختم ہو گیا ہے…… اگر پینٹری میں ختم ہو گیا ہے تو لبنیٰ کو ساتھ لے جاؤ اور پچھلے سٹور میں جا کر پڑولے سے بھر لو……‘‘، آج دوپہر کے طے شدہ مینو میں مرغ کے سالن کے ساتھ چپاتی تھی، مگر سلمیٰ کے مطابق گھر میں آٹے کا ایک ذرّہ بھی باقی نہ رہا تھا۔

’’نہیں آپا! پینٹری میں نہیں…… سٹور میں ہی آٹا ختم ہو گیا ہے۔ میں نے پچھلے ہفتے آخری بوری خالی کی تھی جی، اور ادھر کچن کی بالٹی میں ڈال دیا تھا جتنا آٹا نکلا تھا۔ اب تو جی سارا ختم ہو گیا ہے۔ میں نے میڈم کو پرچی بھی لکھ کر بھیج دی تھی کہ آٹا ختم ہونے والا ہے اور چاول بھی بس مہینے بھر کے ہی ہوں گے۔ ہو سکتا ہے ابھی فائزہ باجی کے پاس ہو تھوڑا سا آٹا…… آپ کہتی ہیں تو ان سے لے آؤں جا کر……؟‘‘، اس نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔

’’ارے نہیں بھئی…… آٹا کیسے ختم ہو سکتا ہے، ابھی اکتوبر میں تو خریدا تھا…… چلو میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ سٹور میں، پتہ نہیں تم لوگوں نے کس طرح رکھا ہے ……کیا کیا ہے جو آٹا نہیں مل رہا……‘‘، وہ تعجب و حیرانی سے کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ انہیں یقین تھا کہ رکھنے والوں نے سب کچھ رکھا ہی اتنے سلیقے سے ہو گا کہ اب ڈھونڈنے والوں کو کچھ ڈھونڈے نہیں مل رہا ۔

یہ ان کے گھرانے کا پرانا دستور تھا۔ وہ سال بھر کی گندم اور چاول اکٹھے خریدتے تھے۔ بازار سے خریدنے کے بجائے طفیل ہاشمی صاحب کے ایک دوست کی زمین سے گندم خرید کے آٹا پسوانا سستا بھی پڑتا اور بار بار بازار کے چکر لگانے سے بھی نجات ملتی۔گھر کی پچھلی جانب ملازمین کے رہائشی کوارٹروں کے ساتھ بنے سٹور میں جہاں گھر بھر کا فاضل و فالتو سامان رکھا جاتا تھا، وہیں تین چار بڑے بڑے پڑولے بھی رکھے تھے، جو ان کی ساس صاحبہ مرحومہ کے زمانے سے چلے آ رہے تھے۔ ان پڑولوں میں چاول اور آٹا محفوظ کیا جاتا تھا۔ اور پھر یہیں سے گھر کی خواتین دونوں پورشنز کے لیے بقدرِ ضرورت آٹا اور چاول نکال نکال کر سارا سال استعمال کرتیں۔ گزشتہ سال پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ سال بھر کا آٹا چھ سات ماہ میں ختم ہو گیا اور گندم کی کٹائی کے حساب سے نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی دوبارہ خریدنا پڑا، ورنہ ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ اندازے سے خریدا ہوا یہ راشن ہمیشہ ہی فاضل بچ جایا کرتا تھا۔ مگر اب جو سلمیٰ یہ کہہ رہی تھی کہ آٹا اور چاول دونوں ہی اختتام پذیر ہیں، تو یہ بات کسی صورت صولت بیگم کے حلق سے نہ اتر رہی تھی، اترتی بھی کیسے ، ابھی بمشکل چوتھا مہینہ تو ہوا تھا، یہ فروری کا وسط چل رہا تھا، ساڑھے تین چار ماہ میں سال بھر کا آٹا کیسے ختم ہو سکتا تھا، حالانکہ ایسا کوئی غیر معمولی مصرف بھی نہ ہوا تھا۔

سٹور میں پہنچ کر انہوں نے بلب جلایا۔ ہر چیز پر مٹی کی ایک موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔ کمرے میں موجود ہر شے بکھری ہوئی تھی۔بچوں کی ٹرائی سائیکل ہے تو الٹی پڑی ہے، ایک کونے میں ٹوٹی ہوئی کرسیوں، بالٹیوں، لکڑی کے پھٹّوں کا ڈھیر لگا تھا تو دوسرے کونے میں پچھلی بڑی عید پر لائے گئے قربانی کے بکروں کی مینگنیاں بکھری پڑی تھیں جو قربانی سے پہلے راتیں اس کمرے میں بسر کیا کرتے تھے۔بہت مہربانی یہ کی گئی تھی کہ ذرا سا جھاڑو پھیر کر انہیں ایک کونے میں جمع کر دیا گیا تھا …… فرش پر جہاں جہاں آنے جانے والوں کے قدم پڑے تھے، وہ جگہیں مٹی سے اٹے فرش پر بالکل جدا و نمایاں نظر آ رہی تھیں ۔ ذرا سی گرد اڑی تو صولت بیگم کو چھینک آ گئی۔

’’کب سے صفائی نہیں ہوئی سلمیٰ یہاں کی……؟‘‘، انہوں نے چادر کا پلّو ناک پر رکھتے ہوئے سلمیٰ سے پوچھا۔

’’……آپا ، میڈم نے کہا ہی نہیں، ورنہ آپ کو پتہ ہے جی، میں اپنا فرض پورا ادا کرتی ہوں……‘‘، اب اس بات کے جواب میں صولت بیگم کیا کہتیں۔ آوے کا آوا ہی بگڑ اہوا تھا، اور اپنے ہاتھوں ہی بگاڑا تھا، بس من ہی من میں کڑھ کر رہ گئیں۔

حکومتیں ، نظام، نئے نئے طریقِ کار، انقلابات، اصلاحات……ڈیڑھ سال ہو گیا تھا انہیں یہ نعرے سنتے ہوئے۔ نوجوان قیادت سے وابستہ امیدیں و توقعات……آپ کی من پسند قیادت، آپ کے منتخب کردہ لوگوں کے ہاتھوں میں سارا نظام، گویا آپ کا اپنا نظام……کوئی ان سے پوچھتا تو وہ بتاتیں کہ اس نظام میں ان کی مرضی و انتخاب کا ایک فیصد بھی حصّہ نہیں ہے۔ ایسے چلا کرتے ہیں گھر……؟

ان کے اشارے پر سلمیٰ ایک اونچی چوکی لے آئی، جس پر چڑھ کر انہوں نے پڑولے کا ڈھکن کھولا۔ اندر خالی پڑولا ان کا منہ چڑا رہا تھا۔ پھر دوسرا ، تیسرا اور چوتھا، سب ہی خالی تھے……

’’……آپا اس دفعہ آٹا اور چاول پڑولوں میں نہیں ڈالے تھے……بوریوں سے ہی نکال کر استعمال کر رہے تھے جی……‘‘، سلمیٰ نے ان کی معلومات میں گویا گراں بہا اضافہ کیا۔

’’……تو پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے؟……سر پہ کھڑی کیا دیکھ رہی ہو؟ منہ میں گھنگھنیاں ڈال رکھی ہیں کیا؟……‘‘، انہوں نے غصّے سے اسے جھِڑکا۔ اپنے کپڑوں سے مٹّی جھاڑتے ہوئے وہ دوسرے کونے میں لوہے کی بڑی سی پیٹی کے ساتھ رکھی بوریوں کی جانب آ گئیں۔ پچاس پچاس کلو کی دو بوریاں پیٹی سے ٹیک لگائے کھڑی تھیں۔ کونے میں ایک بوری اور بھی تھی جوآدھی استعمال ہو چکی تھی۔

’’……یہ تو سب چاول کی بوریاں ہیں ……باقی بوریاں کہاں ہیں؟‘‘، ان کی نظر بوریوں پر چھپے ’خوشبو مارکہ ، گوجرانوالہ کا بہترین باسمتی چاول‘کے تعارف پر تھی۔

’’……آپا…بوریاں تو بس یہی ہیں جی……‘‘، اب کے سلمیٰ نے مستعدی سے جواب دیا۔

’’……بس یہی ہیں کیا مطلب؟…… آٹے کی بوریاں کہاں ہیں……؟‘‘،انہوں نے تیز لہجے میں پوچھا۔ انہوں لگا جیسے سلمیٰ انہیں بیوقوف بنا رہی ہے۔ ایک تو فرش پر جا بجا پھیلے چاول کے دانوں کے بیچ قدم رکھنا دشوار تھا، اوپر سےسلمیٰ کا حماقت کی حد تک سادگی کا اظہار انہیں سخت تاؤ دلا رہا تھا۔

’’……آٹے کی…… آپ کا مطلب ہے خالی بوریاں…… وہ جی پیچھے رکھی ہیں……‘‘، سلمیٰ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں جواب دیا اور جلدی جلدی بوریاں اکٹھی کر کے انہیں دکھانے لگی،’’…ایک ……دو……چار……… آٹھ……پوری بارہ ہیں جی……اور یہ پانچ بوریاں چاول کی ہیں……‘‘۔

’’……مگر……یہ کیسے ہو سکتا ہے……پہلے تو کبھی ایسے نہیں ہوا کہ دو، دو من آٹے کی بارہ بوریاں اتنی جلدی ختم ہو جائیں، ہم انسان ہی ہیں……کوئی یاجوج ماجوج تو نہیں کہ اتنی تیزی سے سب ہڑپ کر جائیں ‘‘، خالی بوریوں کا ڈھیر ان کے قدموں میں پڑا تھا، مگر انہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ شاید پیٹی اور دیوار کے درمیان جو دو فٹ کی خالی جگہ ان کی نظروں سے اوجھل تھی، وہاں کوئی اور بوری یا بوریاں رکھی ہوں۔ اس خیال کے تحت انہوں نے راستے میں رکھی چاول کی نیم استعمال شدہ بوری پکڑ کر اپنی جانب کھینچی ۔ بھورے رنگ کی کوئی آدھ فٹ لمبی چیز ہوا میں اچھلی اور کسی چھلاوے کی طرح پیٹی کے نیچے غائب ہو گئی۔ ساتھ ہی صولت بیگم کے حلق سے ایک خون جما دینے والی چیخ برآمد ہوئی۔ وہ بوری چھوڑ چھاڑ منہ پر ہاتھ رکھ کر پیچھے ہٹیں، مگر نجانے کس چیز سے پاؤں رپٹ گیا اور اگر وہ جلدی سے پیٹی کا باہر کو نکلا ہوا ہینڈل نہ پکڑ لیتیں تو ضرور نیچے گر پڑتیں۔ اس کے باوجود ان کے کندھے اور بازو کو سخت جھٹکا لگا تھا۔ سلمیٰ سخت گھبرائی ہوئی ان کی مدد کو لپکی۔

’’کیا ہوا آپا……آپ ٹھیک تو ہیں ……؟‘‘، وہ ان کو شانوں سے پکڑ کر سہارا دینے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔

’’……ٹھیک ہوں میں……چھوڑو مجھے……جاؤ نذیر کو بلاؤ!……‘‘، سلمیٰ کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے انہوں نےسختی سے کہا۔’’غضب خدا کا……اتنے بڑے بڑے چوہے بوریوں میں پڑے سو رہے ہیں اور وہیں سے چاول نکال نکال کر ہمیں کھلا رہے ہیں……… کوئی پوچھنے والا نہیں رہاتو جس کے دل میں جو آتا ہے، کر گزرتا ہے……‘‘، سلمیٰ کو باہر جاتا دیکھ کر وہ بڑبڑائیں۔

شکر ہے کہ یہ منظر دیکھنے کے لیے ان کی ساس موجود نہیں تھیں۔ جب تک ان کی ساس صاحبہ حیات تھیں، گھر میں وہ ہی بڑی تھیں۔ کوئی کام ان کے ذمّے نہیں تھا، مگر سب کچھ انہی کی زیرِ نگرانی ہوتا اور بحسن و خوبی ہوتا۔ ایک ڈھیلا ڈھالا نظام تھا، چار بھائیوں والے گھر میں جہاں سب ایک اجتماعی زندگی گزارتے تھے، بعض اصول و ضوابط اور بندشوں کےوہ سب پابند تھے، مگر ذاتی زندگی کے دائرے میں انہیں بہت سی آزادیاں بھی حاصل تھیں۔امّاں جان کوئی جلّاد ٹائپ کی ساس نہیں تھیں، بلکہ بہوؤں کے ساتھ ہنسنے بولنے والی، سب کو ان کی پسند و مرضی کا اختیار دینے والی، سیدھی سادی، خوش اخلاق و جہاندیدہ خاتون تھیں۔ بعض ذمّہ داریاں انہوں نے بہوؤں میں مستقلا تقسیم کر دی تھیں، اور بعض وہ سب باری باری ادا کرتیں۔کسی کو شکایت پیدا ہوتی تو کہہ سن کر رفع کی جاتی۔ ہاں رزق کے ضیاع کی وہ سخت خلاف تھیں، ان کا کہنا تھا کہ اچھی عورت گھر کی کوئی چیز ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔ سو گھر میں جو چیز بھی آتی ، بھرپور کوشش کی جاتی کہ وہ اپنی قیمت ادا کر کے ہی اپنی عمر پوری کرے۔ امّاں جان کے زیرِ سایہ رہتے ہوئے رفتہ رفتہ یہی عادتیں ان میں بھی آ گئی تھیں ۔

وہ کوشش کرتی تھیں کہ ہر شے سلیقے سے اپنی جگہ رکھی جائے، ہر کام اپنے وقت پر پورا کیا جائے، محفوظ کرنے والی چیزیں اہتمام سے صحیح وقت پر محفوظ کر لی جائیں۔ اور صرف وہی نہیں، اپنی اپنی جگہ فائزہ بیگم اور بینش کی بھی یہی کوشش ہوتی تھی کہ اشیا کا بہترین استعمال ہو جائے۔ اصول و قواعد کے ایک ڈھیلے ڈھالےفریم میں گھر کا نظام چل رہا تھا…… ہاں ٹھیک ہے کہ ان کے زمانے میں گھر کا لان اتنا ہرا بھرا نہیں ہوتا تھا……گھر نت نئی خوبصورت چیزوں سے مزیّن نہیں تھا…… روز روز کھانے میں فاسٹ فوڈ اور مرغن غذائیں نہیں کھائی جاتی تھیں، ملازمین کی فوج نہیں تھی…… مگر جیسا تیسا تھا، گھر اوپر سے نیچے تک سلیقے و نفاست کا منہ بولتا نمونہ تھا…… پھر انقلاب آ گیا……سب نے کہا کہ گھر کے نظام میں کسی کی مرضی و پسند شامل نہیں……لہٰذا سب گھر کا نظام چلانے کے لیے جمع ہو گئے، اور سب نے مل کر جو کھچڑی پکائی، وہ آج سب کے سامنے تھی۔

کھوکھلی جڑوں پر ریت کی دیواریں تعمیر کی گئی تھیں، پھر ان دیواروں پر بہترین رنگوں سے نہایت دیدہ زیب ڈسٹمپر کیا گیا تھا۔ اور ڈسٹمپر پر خوش تھے وہ سب……!

نذیر اور سلمیٰ کا انتظار کرتے کرتے انہیں دس منٹ ہو گئے تھے، مگر دونوں ہی کی آمد کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ اکتا کر وہ خود ہی باہر چل پڑیں۔ اس سٹور کے بالکل ساتھ ہی تو نذیر کا دو کمروں اور ایک بیت الخلاء پر مشتمل چھوٹا سا کوارٹر تھا، وہ دہلیز پر آ کر رک گئیں۔ سورج کی چبھتی شعاؤں سے بچنے کے لیے انہوں نے چادر کا پلّو سرکا کر گھونگھٹ سا بنا لیا۔ آج موسم گرمی کی طرف مائل تھا، انہیں تو یوں بھی سردی زیادہ لگتی تھی۔ ختم ہوتی سردی میں یوں نرم گرم دھوپ میں کھڑے ہونا اچھا تو لگ رہا تھا، مگر کندھے میں اب بھی تکلیف باقی تھی، اور وہ انتظار کرتے کرتے تھک بھی گئی تھیں، انہوں نے داہنے ہاتھ سے اپنا بایاں کندھا ہولے ہولے دباتے ہوئے کوفت بھری نگاہوں سے نذیر کے کوارٹر کے ادھ کھلے دروازے کی جانب دیکھا۔ اندر کہیں کوئی دروازہ کھلا تھا شاید، انہیں آپائی کی لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دی۔

’’……نذیرے! میں آندی آں کہ ختم کر یہ ڈرامہ! جا کر مالکاں دی گَل سن کر آ!……حرام خور……جس تھال میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے‘‘، اپنی دھیمی سی آواز میں وہ نذیر کو گھرک رہی تھیں۔

’’……امّاں میں نوکر ہوں، غلام نہیں ہوں کہ جب کوئی آواز دے میں حاضر ہو جاؤں……دو وقت کی روٹی دیتے ہیں تو کوئی احسان نہیں کرتے مالک……کھوتے کی طرح کام بھی لیتے ہیں…… بس میں نے کہہ دیا ناں…… مجھے عمیر صاب یا صدر صاب نے بلایا تو جاؤں گا ورنہ نہیں جاؤں گا……!‘‘۔

سٹور کی دہلیز پر کھڑی صولت بیگم نے صاف سنا تھا۔ سن کر بے یقینی سےآواز کی سمت دیکھا، یہ وقت بھی آنا تھا، ہاں ظاہر ہے جمہوری گھرانے میں ان کی اور نذیر کی حیثیت میں کوئی بہت زیادہ فرق تو نہ تھا۔اب وہاں کھڑے رہنے کا کیا فائدہ رہ گیا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی کچن کی طرف آ گئیں۔ کچن کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں، انہیں اس وقت ابوبکر صاحب سے بات کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی تھی، یہ گھر کس سمت جا رہا تھا، کسی کو ہوش ہی نہ تھا۔ مگر اسی لمحے سیڑھیاں چڑھتی ہادیہ نظر آ گئی تووہ اسے آواز دے بیٹھیں۔

’’……جاؤ مجھے کوئی کاغذ قلم لا کر دو‘‘، غصّے سے لرزتی آواز پر بمشکل قابو پاتے ہوئے وہ ہادیہ سے بولیں۔ ہادیہ نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر ٹیلیفون کی میز پر رکھا چھوٹا لیٹر پیڈ اٹھا کر تائی جان کے سامنے پیش کر دیا۔ صولت بیگم نے اس کے ہاتھ سے پیڈ اور قلم لے کر تیزی سے چند سطریں کاغذ پر لکھیں۔

’’……جاؤ!……اس گھر کا کوئی ہوتا سوتا ہے تو یہ دے آؤ جا کر اسے……!‘‘

٭٭٭٭٭

آفس کی دونوں کھڑکیوں کے بلائنڈز احتیاط سے بند کیے گئے تھے، یوں کہ باہر سے دیکھنے والی آنکھیں کچھ بھی اخذ نہ کر پاتیں۔اس کے سامنے دھری میز پر رکھی ہر شے بے ترتیبی سے بکھری ہوئی تھی۔ دو، تین فائلیں بیک وقت میز پر کھلی پڑی تھیں اور ان کے کاغذات سب آپس میں گڈ مڈ ہو چکے تھے۔ میز پر سجا خوبصورت سا وہ ڈبہ جو چھوٹی موٹی کئی متفرق چیزوں کا گھر تھا، کسی وقت اس کے ہاتھ کی ٹھوکر لگنے سے نیچے جا گرا تھا، اور اس کے تمام مکین ……پنیں، پیپر کلپس……سٹِکی نوٹس وغیرہ……قالین پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے انہیں اٹھانے کی زحمت نہ کی تھی…… میز کے کونے میں رکھا کافی کا خالی کپ ……کسی وقت ذرا سی چھلک جانے والی کافی نے ٹھنڈا ہو کر کپ کے پیندے کو مضبوطی سے میز کے ساتھ چپکا دیا تھا، پین ہولڈر خالی پڑا تھا، اس میں قلم کی جگہ نبیلہ کا سمارٹ فون آڑھا ترچھا کھڑا تھا۔

وہ رات بھر سے یہیں بیٹھی تھی۔اور پوری رات میں شاذ ہی کوئی ایسی گھڑی آئی تھی کہ جس میں نیند اس پر مہربان ہوئی اور اس نے اپنا تھکا ہوا سر میز پر ٹکا کر ذرا دیر کے لیے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ ورنہ وہ تقریباً پچھلے بارہ گھنٹوں سے اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔لیپ ٹاپ گودمیں لیے، وہ کتنی دفعہ چودھری عادل احمد کے نام خط ٹائپ کر کے مٹا چکی تھی۔ اسے کچھ مہلت درکار تھی جس کی خاطر وہ پچھلے ایک ہفتے میں چودھری عادل احمد کو تین خط لکھ چکی تھی۔ تینوں کا ہی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا تھا۔ وہ اور ان کا مؤکل ٹرسٹ بینک اپنے موقف میں اٹل تھے اور کسی بھی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہ تھے۔ اب تو ان کی جانب سے دی گئی ہفتے بھر کی مہلت ختم ہونے میں بھی بس دو ہی دن رہ گئے تھے۔وہ کیا کرتی، پیسے کوئی درختوں اور بیلوں پر تو اگتے نہیں کہ وہ توڑ کر ، گلدستہ بنا کر انہیں پیش کر دیتی۔ ستائیس لاکھ کوئی چھوٹی رقم بھی نہ تھی کہ گھر کے بجٹ کو ہی کچھ اوپر نیچے کر کے اس میں سے کسی طرح گنجائش پیدا کر لیتی۔ ستائیس لاکھ تو ایک پہاڑ تھا، جو اسے یک مشت ادا کرنا تھا۔

گھومنے والی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اس کی تھکی ہوئی نگاہیں اس فریم شدہ منظر پر مرکوز تھیں جو اس نے آفس سنبھالنے کے بعد کے دنوں میں ، بڑی محبت سے دیوار پر آویزاں کیا تھا، مگر دماغ اب بھی ستائیس لاکھ کی خطیر رقم میں الجھا ہوا تھا ۔ وہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران بہت سی ممکنہ صورتوں پر غور کر چکی تھی، مگر ان میں سے ایک آدھ ہی تھی جو واقعی قابلِ عمل تھی۔ اگر وہ لوگ ایک گاڑی بیچ دیتے، پندرہ سے بیس لاکھ روپے تو کم از کم یوں جمع کیے جا سکتے تھے……باقی کی رقم کے لیے وہ اگر پارلیمنٹ میں اپیل کرتی تو یقیناً سب کے مشترکہ فنڈز سے یہ رقم حاصل ہو جاتی۔ مگر یہی تو مسئلہ تھا……پارلیمنٹ میں سب کے سامنے بات رکھنا……یہی تو وہ دشوار ترین گھاٹی تھی کہ جس میں قدم رکھنے کی ہمت وہ اپنے اندر نہ پا رہی تھی۔

ابھی کل ہی کی تو بات تھی، کوئی ایسا پرانا واقعہ تو نہیں تھا جو وہ بھول جاتی، جب وہ…… ہادیہ، فاطمہ اور جویریہ کے ساتھ اس آفس میں داخل ہوئی تھی۔ عمیر نے ایک فائل اس کے حوالے کی تھی جس میں اس کی ٹرم کے موٹے موٹے معاملات کی تفصیلات درج تھیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے سربراہِ خانہ کی خصوصی مہر اور اس آفس کی چابیاں بھی اس کے حوالے کی تھیں ……وہ نبیلہ ہاشمی، ویمن رائٹس ایکٹوِسٹ سے، میڈم پریزِڈنٹ نبیلہ ہاشمی بن گئی تھی۔ اور کس شوق، ولولے اور عزم سے اس نے یہ منصب سنبھالا تھا۔ اس منصب کی خاطر اس نے کس لگن اور جانفشانی سے محنت کی تھی، سب کو اپنا ہمنوا بنایا، سب کا اعتماد حاصل کیا…… اور آج……آج شام جب پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس سکینڈل کی تفصیلات سامنے آئیں گی تو اس کی ساری محنت اکارت ہو جائے گی، یہ وہ خیال تھا جو اسے کسی صورت چین نہ لینے دے رہا تھا۔ یہ سچ تھا کہ یہ سارا سکینڈل درحقیقت تو عمیر سے متعلق تھا اور اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچنے والا تھا، لیکن جیسا کہ عمیر نے اسے باور کرایا تھا کہ اگر اس پر کوئی زد آئی تو متاثر نبیلہ بھی ہو گی……اگر اس کی کشتی ڈوبی تو تنہا نہیں ڈوبے گی، بلکہ ساتھ نبیلہ کو بھی لے ڈوبے گی۔

وہ جانتی تھی کہ گھر کے مرد آج بھی بس مصلحتاً اور بدقت تمام ہی اس کی سربراہی قبول کیے ہوئے ہیں۔ اس کی جانب سے ذرا سی غلطی یا کوتاہی ہونے کی دیر تھی، ذرا سا بھی موقع ہاتھ آتا تو وہ لوگ اس کے خلاف عدم اعتماد کا بِل پیش کر دیتے۔ اسے اس آفس میں اپنے دن گنے چنے ہی دکھائی دے رہے تھے۔ دفعتاً اسے سیڑھیوں پر کسی کے تیزی سے چڑھنے کی آواز آئی، چند لمحے بعد آفس کے دروازے کو ذرا سا انگلی سے بجا کر ہادیہ اندر داخل ہوئی۔

’’……گُڈ مارننگ آپی……‘‘، وہ مسکراتا، ہشاش بشاش چہرہ لیے اندر داخل ہوئی، اور میز کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پورے دفتر اور صاحبہ دفترکا جائزہ لیتے ہوئے بولی،’’…… کیا بات ہے آپی؟ آج دس بجے ہی آپ کے چہرے پر بارہ کیوں بج رہے ہیں……؟‘‘۔

’’……بارہ؟!……کیا کہا تم نے…… دس بج گئے ہیں؟……‘‘، نبیلہ اپنے جمود سے باہر آتے ہوئے بولی۔

’’……سچ آپی! آپ نے کرن اور اس کی بہنوں کو فارغ کر کے اچھا نہیں کیا……چچی بھی یہی کہہ رہی تھیں، ……اس سے سب کو یہ تاثر ملا گویا کہ ہماری حکومت ان کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی……پھر وہ آپ کے اتنے کام بھی کرتی تھی…… ‘‘، ہادیہ اپنی دھن میں بولے چلے جا رہی تھی۔ نبیلہ کو غصّہ آنے لگا۔ اسے یاد آیا کہ اس نے کل رات کسی مخلص مشیر کی ضرورت شدّت سے محسوس کرتے ہوئے ہادیہ سے بینش کو بلانے کو کہا تھا، مگر چونکہ بینش جلدی سونے کی عادی تھی، اس لیے ہادیہ نبیلہ کا پیغام صبح بینش تک پہنچانے کا وعدہ کر کے چلی گئی ۔ اور باوجود اس کے کہ نبیلہ نے اسے صبح جلدی بینش کو لے کر آنے کی بار بار تاکید کی تھی، وہ دس بجے ہنستی مسکراتی چلی آ رہی تھی۔ تمام مسائل اور ذمّہ داریاں اس کے سپرد کر کے باقی سب مزے سے اپنی زندگی میں مگن ہو گئے تھے۔ ہادیہ کے ترو تازہ چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کی اپنی بے خواب آنکھوں کی تھکن اور کندھوں کے درد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔

’’……بینش چچی کہاں ہیں……ان کو کیوں نہیں لائیں تم؟‘‘، اس نے غصّہ ضبط کرتے ہوئے روکھے لہجے میں دریافت کیا۔

’’……ہاں…… چچی……میں یہی آپ کو بتانے آئی تھی……، چچی کہہ رہی ہیں کہ ان کے پاس آج تو بالکل بھی وقت نہیں ہے…… وہ اپنی امّی کی طرف جا رہی تھیں مگر پھر ان کی وہ سہیلی ہیں ناں جو آرٹس اکیڈمی میں ہوتی ہیں……آفرین بخاری……ان کا فون آ گیا۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ آج ایک سٹیج پَلے ہو رہاہے اکیڈمی میں……The Count of Monte Cristoپہ……اور آپ کو خصوصی دعوت دے رہی تھیں کہ آپ بھی آ کر دیکھیں……چلیں گی آپی؟……‘‘، ہادیہ نے امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’……تمہیں میں نے اس کام کے لیے بھیجا تھا……؟‘‘، نبیلہ کو اپنا پارہ چڑھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

’’……نہیں آپی مگر……‘‘، ہادیہ ذرا سی کھسیانی ہوئی، مگر پھر مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور لاڈ سے بولی،’’……کَم آن آپی، یو نیڈ اے بریک……آل ورک اینڈ نو پَلے میکس جیک اے ڈَل بوائے……!‘‘۔

’’……ہاں! تم یہ کہہ سکتی ہو……تم لوگوں کو پروا کس بات کی ہے……سارے مسائل……ساری مشکلات تو تم لوگوں نے میرے لیے رکھ چھوڑی ہیں کہ میں بیٹھی ان سے سر پھوڑتی رہوں……تم اور چچی جاؤ……سیر سپاٹے کرو، عیاشی کرو……گلچھرے اڑاؤ!!‘‘، نبیلہ کے اندر بھرتا سارا زہر بڑی تیزی سے زبان پر آ گیا تھا۔ ہادیہ حیرت اور پریشانی کے عالم میں یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔

’’……آپی!……میں نے کیا کیا ہے……؟‘‘،

’’……کچھ نہیں!‘‘، وہ الفاظ پر زور دے کر بولی،’’……یہی تو سارا مسئلہ ہے کہ کچھ نہیں کیا تم نے……چونّی کا کام نہیں کیا……اور چلی ہو بریک لینے……شرم نہیں آتی تمہیں یہ بات کرتے ہوئے؟!‘‘، نبیلہ جانتی تھی کہ وہ کہیں کا غصّہ کہیں نکال رہی ہے، مگر اس کے اندر بھرے غصّے، پریشانی اور فکر کو ایک راستہ ملا تھا باہر نکلنے کا، اور یوں چیخ چلّا کر کتنا سکون اسے مل رہا تھا، یہ وہی جانتی تھی۔

جواباً ہادیہ سفید چہرہ لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔’’……مجھے نہیں پتہ آپ کو کیا ہوا ہے آپی! مگر حد ہو گئی ہے……!!میں جا رہی ہوں یہاں سے ……یہ تائی جان نے آپ کو دینے کے لیے کہا تھا……‘‘، وہ ایک پرچی میز پر رکھ کر الٹے قدم آفس سے باہر نکل گئی ۔

باہر نکلتے ہی کسی چیز کےزور سے دروازے کے ساتھ ٹکرانے کی آواز آئی، جیسے کوئی چیز اٹھا کر ماری گئی ہو۔اس نے لکڑی کے دروازے کو گھور کر دیکھا، چند لمحے تذبذب کے عالم میں وہیں کھڑی رہی، پھر سر جھٹک کر ’دماغ خراب ہے آپی کا……‘ بڑبڑاتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔

آفس کے اندر نبیلہ مجنونانہ انداز میں ہاتھ میں آتی ہر شے اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی۔ سب سے پہلے اس نے پتھر کا پیپر ویٹ اٹھا کر دروازے پر دے مارا۔ پھر ہاتھ مار کر میز پر رکھی ساری فائلیں زمین پر گرا دیں، پین ہولڈر میں سے موبائل نکالا اور ہولڈر دور اچھال دیا، غصّہ کسی طرح ٹھنڈا ہی نہ ہو رہا تھا، اگلی باری کارڈ ہولڈر اور پیپر ٹرے کی تھی، جو یکے بعد دیگرے سامنے کی دیوار سے ٹکرا کر، دیوار کو مجروح کرتی اور خود زخم کھاتی، قالین پر گر گئی تھیں۔ اس کے سامنے اب میز خالی پڑی تھی، یکا یک ہی جیسے اس کا سارا دم خم نکل گیا تھا۔ وہ کرسی پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی اور چہرہ بازؤوں میں چھپاتے ہوئے، میز پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ کہاں پھنس گئی تھی وہ……؟نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن والا معاملہ تھا……کسی کو بتاتی تو بھی رسوائی گلے پڑتی اور نہ بتاتی تو بھی اس مصیبت سے خلاصی کی کوئی صورت نظر نہ آ رہی تھی۔

نجانے کتنی دیر وہ یونہی بیٹھی، آنسؤوں سے روتی رہی۔ کافی دیر بعد دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو وہ ہاتھ کی پشت سے چہرا صاف کرتے ہوئے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ پورا کمرا کسی جنگ کے بعد کا منظر پیش کر رہا تھا۔ چند لمحے وہ اس امید پر اپنی جگہ بیٹھی رہی کہ شاید آنےوالا انتظار کر کے خود ہی رخصت ہو جائے، مگر جب مستقل اور باصرار دروازہ بجتا ہی گیا تو وہ مجبور ہو کر اٹھ گئی۔

’’کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟‘‘،اسے دروازے کی چار انچ کی جھری کھول کر اس میں سے جھانکتا دیکھ کر عمیر نے پوچھا۔ وہ اسے آگے سے کوئی سخت جواب دینا چاہتی تھی مگر الفاظ جیسے اس کے حلق میں اٹک گئے تھے۔ ’’……میں زیادہ وقت نہیں لوں گا‘‘، عمیر کے چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ تھی اور لہجہ نرم تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پیچھے ہٹ گئی اور اسے اندر آنے کا راستہ دے دیا۔

عمیر نے آفس میں داخل ہو کر ایک طائرانہ نظر کمرے کی حالتِ زار پر ڈالی مگر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے باز رہا۔ نبیلہ بغور اس کا ردعمل جانچ رہی تھی، مگر عمیر کوئی بھی تاثر دیے بغیر دیوار کے ساتھ رکھے صوفے پر جا بیٹھا تھا۔

’’……مبارک ہو! تمہاری مقبولیت کا گراف روز بروز چڑھتا جا رہا ہے‘‘، نبیلہ اپنی میز سے پشت ٹکائے اسے جن نظروں سے دیکھ رہی تھی، عمیر کو وہ کسی چوکنّی بلّی کی مانند لگی، جو دیکھنا چاہ رہی تھی کہ یہ شخص اسے دودھ اور روٹی ڈالنے آ رہا ہے یا فریب سے پکڑنا چاہتا ہے۔ اس کا جی چاہا کہ قہقہہ لگا کر ہنس دے، مگر یہ موقع نہیں تھا۔ ’’ اگر تم یونہی اپنی ساکھ برقرار رکھو گی تو مجھے یقین ہے کہ تمہارا سیاسی مستقبل بہت روشن ہو گا‘‘، وہ خوشگوار انداز میں بولا۔

’’اچھا……وہ کیسے؟‘‘، نبیلہ نے مخاصمانہ انداز میں اسے گھورا اور جملے میں الفاظ کی تعداد کم سے کم رکھتے ہوئے پوچھا۔ جواباً عمیر نے کچھ کہے بغیر اپنے ہاتھ میں پکڑا ایک سفید کاغذ کا رول اس کی جانب بڑھا دیا۔

نبیلہ نے الجھی ہوئی نظروں سے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کی طرف دیکھا، اور پھر آگے بڑھ کر وہ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ سفید کاغذ دراصل ایک لفافہ تھا جو ایک جانب سے کھلا ہوا تھا،اور اس کے اندر سے کوئی میگزین جھانک رہا تھا۔ نبیلہ نے دو انگلیوں کی مدد سے اسے باہر نکالا اور رول شدہ میگزین کو سیدھا کرتے ہوئے اس پر نظر ڈالی۔ وہ نیوزویک پاکستان کا اس ہفتے کا شمارہ تھا۔سر ورق پر جو تصویر اپنی بہار دکھا رہی تھی اس نے چند لمحوں کے لیے اس سے قوتِ گویائی چھین لی۔

وہ مقیش کے ہلکے پھلکے کام والے سفید کرتا شلوار اور اپنے ہلکے سلیٹی رنگ کے ٹاپ کوٹ میں ملبوس تھی، اور شہادت کی انگلی اٹھائے کسی کی جانب اشارہ کر رہی تھی۔ تصویر ایسے زاویے سے لی گئی تھی کہ چہرے کا ایک ہی رخ دکھائی دے رہا تھا، ڈھیلے ڈھالے انداز میں سر پر اوڑھا ہوا، جھلملاتے ستاروں والے سفید مہین سے دوپٹے سے بالوں کی چند جھانکتی ہوئی لٹیں اس کےکان اور گردن کو چھو رہی تھیں، کان میں پڑا نیلم کا بُندہ جگمگا رہا تھا۔ اس تصویرِ نیم رخ کے نیچے جلی حروف میں ’لیڈی ڈیموکریسی ‘ کا عنوان تھا۔

یہ تھا اس کی محنتوں کا ثمر، اس کی جدو جہد کا پھل۔ آج وہ لاہور شہر کے کسی کونے میں بسنے والی گمنام لڑکی نہ تھی، بلکہ کتنوں کے لیے مشعلِ راہ، کتنوں کے لیے ایک مثالی نمونہ، کتنوں کے لیے امید کی ایک کرن تھی۔ ایک دنیا اسے جانتی تھی، اس کا دم بھرتی تھی، اس سے اونچے اونچے اور بڑے بڑے کاموں کی توقع رکھتی تھی۔مگر……آنسوؤں کا گولا ایک بار پھر اس کے حلق میں پھنسنے لگا……مگر کتنی جلدی یہ سب بدلنے والا تھا۔ کیا جب اس کے اقتدار کی یہ ناکامی دنیا کے سامنے آئے گی، تب بھی لوگ اسے یونہی چاہیں گے……کیا تب بھی وہ ایسے ہی مقبول و معروف ہو گی……؟ نہیں……! شہرت و ناموری کے ساتھ کتنی بھاری ذمّہ داری آتی ہے، اپنے نام اور ساکھ کو برقرار رکھنے کی……

’’……کیا ہوا؟ تم خوش نہیں ہو؟……ادھر آ کر بیٹھو…‘‘، اس کے چہرے کے پھیکے رنگوں کو دیکھتے ہوئے عمیر نے سوال کیا۔ نبیلہ نے خاموشی سے میگزین میز پر رکھ دیا اور سست روی سے چلتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی۔

’’……کیا کوئی پریشانی ہے نبیلہ……مجھے بتاؤ، ہو سکتا ہے میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں……‘‘، وہ ہمدردانہ لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ انداز میں وہ بھولپن اور معصومیت تھی جیسے اسے کوئی خبر ہی نہ تھی کہ نبیلہ کے سر پر کون سی تلوار لٹک رہی ہے۔’’……دیکھو……ہمارے اختلافات اپنی جگہ ……مگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ اس پورے گھر میں میرے علاوہ تمہیں اپنا کوئی خیر خواہ نہیں ملے گا……اور اس کی وجہ ہے!……اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس مشکل سے گزرا ہوں جس سے آج تم گزر رہی ہو۔ باقی سب……ابوبکر بھائی……عثمان بھائی……جاوید بھائی……حتیٰ کہ تمہاری امّاں بھی……سب یہ سمجھتے ہیں کہ تم سربراہی کے قابل نہیں ہو……کوئی تم پر اعتماد نہیں کرتا، کسی سے تم اپنا مسئلہ نہیں کہہ سکتیں……جس سے بھی کہو گی وہ الٹا تمہیں ہی قصور وار ٹھہرائے گا……ہاں مگر……میں سمجھتا ہوں تمہاری حالت……تمہارے دل کی کیفیت……کیونکہ میں خود اس کیفیت سے گزرا ہوں……‘‘، وہ شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا۔ بہت ضبط کے باوجود دو آنسو نبیلہ کی آنکھوں سے پھسل گئے۔

’’……آج پارلیمنٹ کا اجلاس ہے اور……اور صرف دو دن رہ گئے ہیں ڈیمانڈ لیٹر کا جواب دینے کے لیے……کیسے ہو گا چاچو؟؟!……یہ قرض والا معاملہ کیسے نمٹے گا……؟……ابّو اور عثمان چاچو آپ کو کچھ کہیں یا نہیں، مگر مجھے تو کچّا چبا جائیں گے‘‘۔

’’……بس!؟ ……اس وجہ سے پریشان تھیں‘‘، عمیر نے ہنس کر پوچھا، اس کے چہرے کے اطمینان کو نبیلہ نے حیرت بھری نظروں سے دیکھا، وہ یوں خوش و مطمئن تھا جیسے یہ کوئی معاملہ ہی نہیں تھا پریشانی کا،’’……اور کیا؟! ……تم نے ایسی حالت بنائی ہوئی تھی کہ میں سمجھا نجانے کیا ہو گیا ہے……‘‘۔

’’……نہیں ……میں پاگل نہیں ہوں، میری دماغی حالت پہ شک و شبہ کرنے کی ضرورت نہیں‘‘، اس کی مشکوک نگاہوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے عمیر مسکرا کر بولا، پھر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے ناصحانہ انداز میں بولا،’’……دیکھو نبیلہ! ……جب گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلتاتو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے…… تم اگر یہ سوچ رہی ہو ناں کہ تم شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کے سامنے یہ معاملہ لاؤ گی اور سب فوراً کسی جادوئی طریقے سے اتنے پیسے تمہیں لا کر دے دیں گے کہ لو! یہ قرض ادا کرو۔ تو ایسا کچھ نہیں ہو گا…… الٹا تم بری بنو گی، گھر والوں کے سامنے بھی اور دنیا کے سامنے بھی……تمہارا کیرئیر تباہ ہو گا…… اور آئندہ گھر کی سربراہی تو دور کی بات، ہمیشہ کے لیے یہ بات تمہارے لیے ایک طعنہ بن جائے گی……جو جس کا جب دل چاہے گا تمہارے منہ پر دے مارے گا……ہاں آں،‘‘اسے عتراض کے لیے منہ کھولتا دیکھ کر وہ انگلی اٹھا کر اسے روکتے ہوئے بولا،’’……جانتا ہوں……کہ میں بھی برّی الذمہ نہیں ہوں اس معاملے سے، مجھ پر بھی زد آئے گی……لیکن میں تو پہلے ہی سب کی بیڈ بُکس میں ہوں……اپنا تو وہ معاملہ ہے کہ ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا‘‘……مسئلہ تو اصل میں تمہارا ہے، تمہاری نیک نامی پر دھبّہ لگے گا اگر کسی کو بھنک بھی پڑ گئی اس بات کی کہ تم اس آفس تک کیسے پہنچی ہو……‘ ۔

’’……مگر حل کیا ہے……میرے پاس آپشن کیا ہے؟‘‘، نبیلہ اضطراب سے بولی۔

’’……حل ہے میرے پاس……حل بھی بتاتا ہوں، تم صبر تو کرو……‘‘، وہ ایک محتاط نظر چاروں اطراف ڈالتے ہوئے بولا۔ اور پھر اتنی آہستہ آواز میں کہ اس سے دو فٹ دور بیٹھی نبیلہ کے لیے بھی کان لگائے بغیر سننا مشکل تھا، وہ اسے حل بتا رہا تھا۔’’……کم از کم بھی بیس بائیس لاکھ روپے مل جائیں گے تمہیں وہاں سے……‘‘۔

’’……اور باقی رقم……؟اس کا کیا ہو گا؟……‘‘، نبیلہ پر سوچ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔

’’……پانچ لاکھ روپے کا میں ذمّہ لیتا ہوں……وہ میں تمہیں دوں گا……‘‘۔

’’……پھر کیا رہ جائے گا……ڈھائی لاکھ روپے……ان کا کیا ہو گا؟‘‘، نبیلہ کا دماغ تیزی سے جمع تفریق کر رہا تھا۔

’’……سچ نبیلہ……اگر تم ڈھائی لاکھ روپے بھی اکٹھے نہیں کر سکتیں، تو پھر تم واقعی اس آفس اور کرسی کے قابل نہیں ہو……‘‘، عمیر کے انداز میں ملامت تھی۔

٭٭٭٭٭

رات کے دو بج رہے تھے، جب کوئی خواب دیکھتے دیکھتے اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ چند لمحے وہ یونہی بے حس و حرکت اپنی جگہ لیٹی رہی۔ ان کے نیم تاریک کمرے میں رات کے اس پہر مکمل خاموشی اور سناٹے کا راج تھا۔ اس کے باوجود اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی آنکھ کسی شور کی آواز سے کھلی ہو۔ نجانے وہ کیسا خواب دیکھ رہی تھی جو بیداری کے بعد بھی حواس پر چھایا ہوا تھا۔ اس نے کروٹ بدل کر بہنوں کی جانب دیکھا، حسبِ عادت وہ دونوں ابھی تک جاگ رہی تھیں۔ ہادیہ کی گود میں لیپ ٹاپ تھا، ائیر فونز کاایک ائیر پیس ہادیہ کے کان میں تھا جبکہ دوسرا جویریہ کے، اور وہ دونوں سر جوڑے بیٹھی لیپ ٹاپ کی سکرین پر چلتی فلم میں منہمک تھیں۔

’’ہادیہ…! جویریہ…! تم لوگ جاگ رہی ہو ابھی تک……؟‘‘، نور ایک کہنی کے زور پر ذرا سا اٹھتے ہوئے بولی۔

’’……ہاں……؟ کیا کہہ رہی ہو……؟‘‘، ہادیہ نے پازکا بٹن دباتے ہوئے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ روشن سکرین سے نظریں ہٹانے کے بعد اسے اندھیرے میں لیٹی نور کو دیکھنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔

’’……تم دونوں نے کوئی آواز تو نہیں سنی……؟‘‘،

’’……آواز؟……نہیں تو……کیسی آواز؟‘‘، ہادیہ نے الجھن آمیز نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔

’’……جیسے ……کوئی بھاری چیز گرنے کی آواز……‘‘، نور سوچتے ہوئے بولی۔

’’……نہیں بھئی! نور تم خواب دیکھ رہی تھیں……ہم نے تو ایسی کوئی آواز نہیں سنی۔ آ جاؤ ہم بہت مزیدار مووی دیکھ رہے ہیں، تم بھی دیکھ لو……ہادیہ پلَے کرو ناں…… ‘‘،جویریہ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی۔ مگر اس سے پہلے کہ ہادیہ کچھ کرتی، ایک اونچی آواز نے رات کا سکوت توڑ دیا۔ ڈھز! ڈھز ……! ڈھز ……! ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی بھاری چیز سے لکڑی پر ضرب لگائی جا رہی ہو۔ وہ تینوں اچھل پڑیں۔

’’……یہ کیا ہو رہا ہے……؟‘‘، جویریہ نے سہم کر پوچھا، حیرت و پریشانی سے اس کی آنکھیں پھٹنے کو تھیں۔

’’……پتہ نہیں……چلو…… چل کر دیکھتے ہیں……‘‘، ہادیہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ لیپ ٹاپ بند کرنے سے جو کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی، وہ بھی گل ہو گئی، اب وہ سب گھپ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔’’بالکل کچھ نظر نہیں آ رہا، کچھ روشنی تو کرو……‘‘نور جو اپنی چپلوں کی تلاش میں زمین پر بیٹھی بیڈ کے نیچے جھانک رہی تھی، جھلّا کر بولی۔

’’دماغ خراب ہو گیا ہے تم دونوں کا……؟ …میں تو کہیں نہیں جاؤں گی…!‘‘، جویریہ سختی سے بولی۔ باہر آدھی رات کے وقت نجانے کون چور ڈاکو یا بھوت پریت گھر کا دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے اور ادھر اس کی دیوانی بہنیں جا کر اس آنے والی آفت سے ہیلو ہائے کرنا چاہ رہی تھیں۔

’’……افوہ!! تم ڈرتی ہی رہنا……‘‘، ہادیہ نے جھنجھلا کر جویریہ کی طرف دیکھا۔

’’……میرے خیال میں ابّو یا چاچو جاگ گئے ہیں……‘‘، دوڑتے قدموں کی آواز پر نور تیزی سے اٹھی اور اندازے سےدروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔ ابھی اس نے بمشکل دو تین قدم ہی اٹھائے تھے کہ دروازہ کھلا اور کسی نے بتی جلانے کے لیے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا۔ دو تین دفعہ آن آف کرنے کے باجود کوئی بتی روشن نہ ہوئی، شاید بجلی گئی ہوئی تھی۔ مگر پھر بھی……یو پی ایس تو چلنا چاہیے تھا۔

’’……ہادیہ! جویریہ……! نور!! تم سب ٹھیک ہو؟‘‘، عثمان صاحب کی آواز پر ان تینوں نے سکھ کا سانس لیا۔

’’……جج……جی ابّو!!…… باہر پتہ نہیں ……‘‘، ابھی ہادیہ کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ایک زوردار چھناکے سے شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی۔

’’میں دیکھتا ہوں……تم لوگ اندر ہی رہنا……‘‘، کہتے ہوئے عثمان صاحب جس تیزی سے آئے تھے، اسی تیزی سے دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔ ان کے نکلتے ہی وہ تینوں دروازے تک پہنچ گئی تھیں۔ ذرا سا دروازہ کھول کر وہ باہر اندھیری راہداری میں جھانکنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس راہداری کا ایک سرا مرکزی دروازے پر کھلتا تھا اور دوسرا لاؤنج میں۔ عثمان صاحب، جاوید صاحب کے کمرے اور کچن و ڈائننگ روم کے دروازے بھی لاؤنج میں کھلتے تھے۔ جبکہ ان کا کمرہ، لڑکوں کا کمرہ اور سٹور کے دروازے اس راہداری میں کھلتے تھے۔ انہیں دروازے کی سمت کچھ شور تو سنائی دے رہا تھا مگر سمجھ نہ آ رہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔ اوپر سے پورا گھر ایسے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا کہ کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔

مگر لاعلمی و بے یقینی کا یہ دورانیہ مختصر تھا۔ایک دو منٹ بعد ہی آنے والے اندر آ گئے تھے۔ کسی نے ٹارچ کی تیز روشنی ہادیہ کے چہرے پر ڈالی اور دروازے کو ایک ہاتھ سے دھکّا دے کر کھولتا ہوا کھردری آواز اور درشت لہجے میں ان کو باہر نکلنے کا حکم دیا، خوف و پریشانی کی حالت میں انہوں نے فوراً اس کے حکم کی تعمیل کی۔ راہداری میں داخل ہوتے ہی اس نے انہیں لاؤنج کی طرف چلنے کا اشارہ کیا، یہ دیکھ کر کہ ان سے دو قدم آگے ایک سیاہ پوش عثمان صاحب کی گردن پر پستول کی نال رکھے انہیں لاؤنج کی جانب ہنکا رہا تھا، ان کا رہا سہا حوصلہ بھی دم توڑ گیا۔ جویریہ کے حلق سے ایسی آواز نکلی جیسے کوئی سسکی پھنسی ہوئی ہو۔ نور نے بے ساختہ ہادیہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔عثمان صاحب نے مڑ کر ان کی طرف دیکھا ،ان کے ہاتھ ان کی پشت پر بندھے ہوئے تھے، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے ان کے ساتھ کھڑے سیاہ پوش نے اپنی پستول سے انہیں ٹہوکا دیا اور آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔

’’ …… سب کو لاؤنج میں اکٹھا کرو……خبردار، جو شور کرے اسے گولی مار دو!‘‘۔

٭٭٭٭٭

وہ تعداد میں چار تھے۔ وہ سب کالی شرٹوں اور ٹراؤزر میں ملبوس تھے، چہروں پر بھی کالے ماسک چڑھائے ہوئے تھے۔سب کے ہاتھوں میں پستول تھے۔ ایک تو اندھیرا، اوپر سے ان کا یہ بھیس انہیں بہت اچھی طرح چھپائے ہوئے تھا۔ اگر ان چاروں میں کوئی فرق کیا جا سکتا تھا تو وہ یہ تھا کہ ان میں سے ایک دبلا اور لمبا سا تھا،ایک چھوٹے قد کا آدمی تھا اوردو لمبے اور چوڑے۔ ان چاروں نے اپنے سروں پر ایسے ٹارچ پہن رکھے تھے جیسے سرنگوں میں کھدائی کرنے والے مزدور استعمال کرتے ہیں۔اس کا ایک بہت بڑا فائدہ انہیں یہ بھی حاصل تھا کہ تیز روشنی سے مقابل کی آنکھیں چندھیا جاتیں اور خود ان کے اپنے چہرے جو پہلے ہی کالے ماسک سے ڈھکے ہوئے تھے، وہ مزید اندھیرے میں چھپ جاتے۔

وہ پوری تیاری سے آئے تھے۔ ان کا چھوٹے قد والا ساتھی مرکزی دروازے پر پوزیشن سنبھالے کھڑا تھا، جبکہ باقی تین عثمان صاحب کو ہاتھ باندھ کر اور پستول کے نشانے پر لیے ہوئے اندر آئے تھے۔ عثمان صاحب کے ہاتھ بندھے ہونے کے باوجود وہ تینوں بے حد ہوشیار و چوکنا تھے۔انہوں نے عثمان صاحب کو لاؤنج کے یک نشستی صوفے پر بٹھا یا اور ان کاایک ساتھی ……جسے بعد میں وہ لمبوُ کے نام سے یاد کرتے تھے……مستقل ان کے سر پر پستول تان کر کھڑا ہو گیا۔ وہ ذرا سی بھی حرکت کرتے تو وہ اپنی پستول سے انہیں ٹہوکا دے کر خبردار کرتا۔ باقی دونوں آدمی ہر کمرے میں جا جا کر گھر کے مکینوں کو نکال رہے تھے اور لاؤنج میں اکٹھا کر رہے تھے۔

محض دو تین منٹ کے اندر وہ سب لاؤنج میں جمع ہو چکے تھے۔ ایک صوفے پر بینش، شہیر، بتول اور فائزہ بیگم بیٹھی تھیں۔اس کے مقابل دوسرے بڑے صوفے پر بالترتیب نور، ہادیہ، جویریہ، صہیب اوراویس بیٹھے تھے، نور عثمان صاحب سے محض دو تین بالشت کے فاصلےپر بیٹھی تھی، مگر ان دونوں صوفوں کے درمیان لمبوُ چوکس کھڑا تھا، جس کی وجہ سے چاہنے کے باوجود وہ اپنے ابّو سے کوئی بات کر سکتی تھی نہ ان کی کوئی مدد۔ جاوید صاحب شاید آج گھر آئےہی نہ تھے، ورنہ باقی سب کے ساتھ وہ بھی یہاں موجود ہوتے۔

’’کیش……سونا……موبائل فون…… جتنے بھی ہیں جلدی سے نکالو!‘‘، ڈاکوؤں کا سردار اب عثمان صاحب سے مطالبہ کر رہا تھا۔

’’……تمہیں یہاں واردات بہت مہنگی پڑے گی‘‘، عثمان صاحب جرأت سے بولے۔

’’تم اس کی فکر نہ کرو……جو کہا ہے جلدی کرو……اور ہاں کوئی چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو یاد رکھنا، تمہارے بچے سارے یہاں ہی بیٹھے ہیں، میں کسی کی کھوپڑی میں سوراخ کرنے میں دیر نہیں لگاؤں گا……!‘‘، وہ پستول لہراتا ہوا بے رحمی سے بولا۔

’’گھر میں چند ہزار روپے کے علاوہ کوئی کیش نہیں ہے…… وہ میں تمہیں لا دیتا ہوں۔ تم ڈاکہ ڈالنے تو آئے ہو، یہ بھول گئے کہ ساری دنیا اب پیسہ بینکوں میں رکھتی ہے۔‘‘،عثمان صاحب متاثر ہوئے بغیر بولے۔

’’بکواس بند کرو!……تمہارا خیال ہے ہم یہاں پکنک منانے آئے ہیں۔ سب خبر ہے کہ تم نے کتنی تجوریاں بھر بھر کے رکھی ہوئی ہیں۔ اٹھو اور جو کچھ میں نے کہا ہے یہاں لا کر رکھو……ورنہ نتائج کے ذمہ دار تم خود ہی ہو گے……‘‘۔

’’……عثمان……پلیز‘‘، عثمان صاحب مزید کچھ کہنا چاہتے تھے مگر فائزہ بیگم کے ملتجی لہجے پر خاموش ہو گئے، وہ آنسوؤں سے بھری آنکھیں لیے ان کی طرف دیکھ رہی تھیں،’’……دے دیں ناں جو کچھ یہ کہتے ہیں……جان اور عزت سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہے!……‘‘۔

’’جلدی کرو……تمہاری بیوی تم سے زیادہ سمجھدار ہے……‘‘، طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے عثمان صاحب کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔ عثمان صاحب کے ہاتھ ان کی پشت پر پلاسٹکی کورڈ سے بندھے ہوئے تھے۔ اس نے جیب سے تیز چاقو نکال کر وہ کورڈ کاٹا اور انہیں پستول دکھاتا ان کے کمرے کی جانب لے گیا۔

ذرا سی دیر میں وہ اپنے ساتھ لائے کالے تھیلے فائزہ بیگم اور بینش کے سونے، گھر میں موجود تمام نقد رقم اور کوئی سات آٹھ موبائل فونوں سے بھر چکے تھے۔ ان کا کام ختم ہو چکا تھا، وہ اب جانے کی تیاری میں تھے۔ ان کے گھر سے لوٹا ہوئے قیمتی سامان کے تھیلے سنبھالتے ہوئے ڈاکوؤں کے سردار نے اپنے دراز قد ساتھی کو عثمان صاحب کے ہاتھ باندھنے کا اشارہ کیا۔ ان کا وہ ساتھی نور کے صوفے کے ساتھ کھڑا تھا، اپنے لیڈر کا اشارہ پاتے ہی اس نے تیزی سے جیب میں سے پلاسٹکی کورڈ نکالنے کے لیے ہاتھ ڈالا اور عثمان صاحب کی جانب بڑھا۔ جلدی میں اس کی جیب سےکورڈز کی چھوٹی سی تھیلی نیچے گر گئی تھی۔ خوبی ٔ قسمت سے وہ گری بھی عثمان صاحب کے پاؤں کے قریب……دراز قد ڈاکو تھیلی اٹھانے کے لیے نیچے جھکا اور عثمان صاحب کو وہ موقع مل گیا جس کے وہ دیر سے متلاشی تھے۔ ان کا بھاری ہاتھ ڈاکو کی گردن پر پڑا، اور وہ ’’……ہااااہ!!‘ کی آواز نکالتے ہوئے نیچے گر گیا ۔ پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر کمرے کے درمیان رکھی میز کے پائے سے جا لگا تھا۔ عثمان صاحب برق رفتاری سے آگے بڑھے اور پستول اٹھانے کے لیے جھکے۔ مگر ان کی دوسری جانب کھڑا ڈاکوؤں کا سردار ان سے زیادہ تیز نکلا۔ اس کا زوردار مکّا عثمان صاحب کے دائیں کندھے پر لگا تھا، اور وہ لڑکھڑا کر جویریہ کے پاؤوں کے پاس گر گئے تھے، باپ کو گرتا دیکھ کر جویریہ کے حلق سے بے ساختہ چیخ نکل گئی تھی۔ اس اچانک ہپڑ دپڑ نے سب کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا۔

’’……جلدی کرو!!……نکلو یہاں سے……!!‘، ڈاکوؤں کا سردار چیخ رہا تھا۔فائزہ بیگم بے تابانہ شوہر کو آوازیں دے رہی تھیں ، کمرے میں کس کس کی چیخیں گونج رہی تھیں، یہ اندازہ کرنا مشکل ہو رہا تھا۔اسی بوکھلاہٹ میں لمبے قد والا ڈاکو بھی اٹھ کر کھڑا ہوا ، عثمان صاحب چار زانو ہو کر پستول کی تلاش میں ہاتھ مار رہے تھے۔ ایک بار پستول ان کے ہاتھ میں آ جاتا، پھر وہ دیکھتے کہ ان ڈاکوؤں میں سے کس کی جرأت تھی یہاں ڈاکہ ڈالنے کی۔

لمبے قد والے ڈاکو نے سر پر بندھی ٹارچ کا رخ سیدھا کیا، روشنی کا ہالہ عثمان صاحب کے ارد گرد کے علاقے کو روشن کر گیا۔ اسی ایک لمحے میں ان سب نے دیکھا، پستول عثمان صاحب سے محض ایک فٹ کے فاصلے پر تھا۔ لمحے کے ہزارویں حصّے میں بہت کچھ ہو ا تھا۔عثمان صاحب نے پستول کی جانب ہاتھ بڑھایا، گھبراہٹ و بوکھلاہٹ میں لمبے قد والے ڈاکو نے انہیں ایک لات رسید کی، اس کی لات ان کے پیٹ میں لگی تھی، وہ درد سے دوہرے ہو گئے۔ اور ’ٹھاہ!!!‘، کی آواز کے ساتھ ایک شعلہ سردار کی پستول سے نکلا اور عثمان صاحب کی زوردار چیخ کی صورت’یا اللہ……!‘ کی آواز پورے گھر میں گونج گئی۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Previous Post

سوشل میڈیا کی دنیا سے…… | مئی تا جولائی ۲۰۲۱

Next Post

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 9

Related Posts

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | گیارہویں قسط

15 فروری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | نویں قسط

4 نومبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | آٹھویں قسط

26 ستمبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | ساتویں قسط

12 اگست 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط

14 جولائی 2025
Next Post

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 9

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version