یہاں درج فاضل لكهاريوں کے تمام افکارسے ادارہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اسلامی مورچوں کے سپاہیوں کے نام| شیخ حامد کمال الدین نے لکھا
دین دشمنوں کے خلاف کسی بھی نوع کا مورچہ سنبھال رکھنے والوں کے نام (ایک)عربی شعر :
سَنَظَلُّ فِي جَبَل الرُماةِ فَخَلْفَنا
صَوتُ النبيّ يَهُزُّنَا: لَا تبْرحوا
’’ہم جبل الرماۃ (تیر اندازوں والی پہاڑی) پر ڈٹے رہیں گے کہ پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے : خبردار جگہ مت چھوڑنا! ‘‘
موٹی ویش نل سپیکرز کا منجن خراب| عابی مکھنوی نے لکھا
جیف بیزوس اور بل گیٹس سے ایک مشترکہ انٹرویو میں میزبان نے سوال کیا کہ ’’آپ اتنی زیادہ دولت کمانے میں کیسے کامیاب ہو گئے؟ ‘‘
دونوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور دونوں ہی کے لبوں پر یہ پنجابی شعر مچلنے لگا۔
تُوں کی جانڑے یار فقیرا
بوہٹی بندہ کھا جاندی اے
میزبان پنجابی نہیں جانتا تھا۔ میزبان نے شعر کا اردو ترجمہ پوچھا تو جیف بیزوس نے بل گیٹس سے کہا کہ تم بتاؤ، بل گیٹس نے جیف سے کہا کہ ’’تُوں دس‘‘۔
بالآخر جیف کی ضد پر بل گیٹس نے بتایا کہ ’’ہم اصل میں اتنی زیادہ محنت کر کے طلاق کے لیے پیسے اکٹھے کر رہے تھے‘‘۔
افسوسناک خبر یہ ہے کہ پاکستانی موٹی ویش نل سپیکر بیچارے اپنے منجن کے لیے دو عظیم ترین مثالوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
پاک فوج زندہ باد! | راجہ کبیر نے لکھا
دریا فاطمہ جناح نے ویچ دیے
پلٹن میدان سے دڑکی بھٹو نے لگائی
کارگل، سیاچن، انگوراڈا نواز شریف نے سودے بازی کی
ستّر ہزار پاکستانی حاصل بزنجو نے مروائے
ریڈار کی تاریں جاوید لطیف نے کاٹ دیں
کشمیر کا سودا ، امن معاہدہ رانا ثناء اللہ نے کیا
یورپی پابندیاں فائز عیسیٰ کی وجہ سے مسلط ہوئیں……
پاک فوج زندہ باد!
مغرب سے خان صاحب کی معرفت | طارق حبیب نے لکھا
خان صاحب رمضان بازار کے دورے کے دوران سموسہ چکھنے لگے تو دکاندار نے کہا خان صاحب مغرب کا انتظار کر لیں۔
خان صاحب نے کہا چٹنی ڈال ماما……
’’مغرب کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے‘‘
قانون کی حکم رانی | سیّد شاہد ہاشمی نے لکھا
’’قانون کی حُکم رانی‘‘۔ اِسے ایک عقیدہ بنادیا گیاہے۔
ہر سماجی و اجتماعی مرض کی دوا……”قانون کی حکم رانی‘‘بتائی جاتی ہے۔
مگر جس ’’قانون‘‘کی حکم رانی کا جاپ اَلاپا جاتاہے……وہ خود کیاہے؟
کہاں سے آتاہے؟
کون بناتاہے؟
یہ بُوٹا،کس تصورِ انسان و جہان؍ Worldview کےشجر سے پھوٹتاہے؟
بعض کام، قانون کی نظر میں ’’جرم‘‘ہیں۔لیکن شریعت میں ’’گناہ‘‘نہیں۔مثلاً:
پہلی بیوی کی موجودگی میں، دوسری شادی،بیشترملکوں میں جُرم ہے۔
شریعت اِس کی اجازت دیتی ہے۔
کچھ کام، دِین میں ’’گناہ‘‘ہیں۔مگر اکثر ملکوں میں ’’جرم‘‘نہیں۔مثلاً:
نکاح کے بغیر، جنسی تعلق یا ایک ہی صِنف کی باہمی شادی۔
کیا قانوناً ’’جُرم‘‘اور شرعاً ’’گناہ‘‘ایک ہی بات ہے؟
ہرگز نہیں!
(ذرا سوچیے)
فخر|سمو رضوی نے لکھا
میراثی کو چوری کے جرم میں منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھا کر گھمایا گیا۔ جب چکر پورے ہوئے تو میراثی گھر آ کر بیوی سے فخریا بولا:
’’لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ میں گدھے سے گر جاؤں لیکن اللہ نے عزت رکھ لی۔‘‘
(’’مجھے ڈھائی سال کی کارگردگی پہ فخر ہے‘‘۔ عمران خان)
شپ شپا | عمران شاہین نے لکھا
پرانے وقتوں میں چودھری نے کسی دوسرے گاؤں میں جانا ہوتا تھا تو وہ پہلے اپنے گاؤں کے میراثی یا مسلی کو اس گاؤں میں بھیج دیتا جو چودھری کا شَپ شَپا بنانے کے لیے گراؤنڈ تیار کرتے، خیر اب تو زمانہ ہی بدل گیا……
(وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر روانہ) 1
بد دعا| محمد سعد ارسلان نے لکھا
یہ جو کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے مسجد اقصیٰ اور غزہ پر حملہ کے جواب میں پچاس سے زائد اسلامی ممالک نے اکٹھے ہو کر اسرائیل کو بددعا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ خبر غلط نکلی ہے، اسلامی ممالک نے ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
طالبان کی فتح اور ہمارا کردار| احمد عمیر نے لکھا
طالبان کی فتح نے ISI کی طلسماتی داستانوں کے راز فاش کر دیے جس سے مسلمانوں کے اذہان کو رام کیا جاتا تھا کہ یہ فتح ہماری مرہونِ منت ہے۔ جبکہ حکومتی اسلام دشمنی کا یہ حال ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی ایجنٹ احمد شاہ مسعود کے نام سے سڑک منسوب کی جا رہی ہے۔
طالبان کی فتح کا جشن اور ہم| فیض اللہ خان نے لکھا
اٹھارہ ؍ بیس سال پہلے ہم اس بات کا کریڈٹ لے رہے تھے کہ ہم نے بڑے بڑے طالبان رہنما پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیے، دنیا کی بقا کی جنگ لڑی، جنرل مشرف ملا عمر اور ہنڈا بائیک سے متعلق جگتیں لگا رہا تھا۔
آج ہم طالبان کی فتح کا جشن یوں منا رہے ہیں جیسا کہ یہ جنگ ہم نے جا کر لڑی ہو۔
بڑے فیصلے| حامد حسین نے لکھا
او آئی سی اجلاس میں بڑے فیصلے!
فلسطینیوں کے حق میں گانا اور ڈرامہ بنانے کا فیصلہ۔
گانا بنانے کی ذمہ داری پاکستان کے سپرد۔
فلسطینیوں کے حق میں ڈرامہ ترکی میں بنایا جائے گا۔
معروف اداکار طیب اردگان بھی ڈرامے میں اداکاری کے جوہر دکھائیں گے، ذرائع۔
تبدیلی| محمد اسلم نے لکھا
منصوبے لگا کر ان میں رشوت تو کوئی بھی پکڑ سکتا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ ٹکے کا کام نہ ہوا ہو بلکہ جو پہلے سے چل رہا ہو اسے بھی بند کر دو اور پھر بھی کھربوں کے سکینڈل نکل آئیں تو اس کو تبدیلی کہتے ہیں۔
پاکستان نازک صورتحال سے گزر رہا ہے| شاہد خاقان عباسی نے لکھا
یہ بھی کوئی خبر ہے کہ میو ہسپتال میں سکیورٹی گارڈ نے سرجری کر دی، مریضہ نازک حالت میں۔ اس مملکت خداداد میں سکیورٹی گارڈ سات دہائیوں سے سرجری میں مصروف ہیں، اور پاکستان نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔
نمبر ون، آرمی چیف اور نائی | عبداللہ خان نے لکھا
پچھلے دنوں نمبر ون کے چیف آف آرمی سٹاف نے ہئیر کٹنگ کی غرض سے ایک نائی بلوایا……
نائی بال کاٹنے کے دوران بار بار آرمی چیف سے افغانستان کے حالات پوچھتا۔ آرمی چیف صاحب ہر بار یہ کہ کر بات ٹالتے کہ ہاں ٹھیک ہیں حالات……لیکن تھوڑی دیر بعد نائی پھر یہی سوال پوچھتا۔
آخرکار آرمی چیف صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور سکیورٹی پر موجود افراد کو حکم صادر کیا گیا کہ پکڑ لو اس بدبخت کو، نائی کو پکڑ کر پہلے زدوکوب کیا گیا اور پھر چیف صاحب نے غصے سے پوچھا کہ آخر کیوں مجھ سے بار بار افغانستان کا پوچھتے ہو؟
نائی نے جواب دیا،چیف صاحب جب میں آپ سے افغانستان کا پوچھتا تھا تو آپ کے بال کھڑے ہو جاتے تھے پھر میں بآسانی بال کاٹتا۔ تھوڑی دیر بعد جب آپ نارمل ہو جاتے اور بال بیٹھ جاتے تو میں پھر پوچھتا کہ بال کھڑے ہو جائیں اور میں سہولت سے کاٹ سکوں……
بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے| احمد علی نے لکھا
امریکہ نے افغانستان میں اپنا سب سے بڑا فوجی اڈا بگرام ایئر بیس خالی کر دیا ہے۔ یہ فوجی اڈا جدید فوجی قلعہ تھا جس کے اندر پورا شہر آباد تھا۔
لیکن اللہ اکبر! بیشک خدا ہونے کا یہ دعویٰ بھی جھوٹا نکلا۔ سوچ رہا ہوں ان دانشوروں کا کیا بنے گا جو امریکہ کی سو سالہ پلاننگ میں حصہ دار تھے۔
اس سارے قضیے میں طالبان نے عظیم جنگجویانہ کردار ادا کیا ہے۔ شکر ہے ان میں کوئی سرسید نہیں تھا ورنہ سارے طالب سٹوڈنٹس بن کر انگریزی سیکھ رہے ہوتے اور نوکری کر رہے ہوتے۔ بے شک قوموں کی زندگی میں محکومی یا آزادی کے فیصلے غیرت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، بھلے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے ۔ لیکن اس سارے عمل میں حقیقی لیڈرشپ سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے……اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ابھی تک ٹوپی ڈراموں کو بھگت رہے ہیں۔
#Merit،| احمد عمیر نے لکھا
’’خاتونِ اول‘‘ کے ’’شوہرِ دوئم‘‘ نے اپنی ’’زوجۂ سوئم‘‘کے ’’شوہرِ اول‘‘ کو ہدیتاً، عقیدۃً و نذرانۃً ’’ڈائریکٹر حج ‘‘تعینات کر دیا۔
#Merit
یتیمی | ابو بکر قدوسی نے لکھا
آج مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی ہے……میں اپنے غم زدہ لبرل دوستوں کو تسلی دیتا ہوں……
یتیمی گو بہت بڑی ہے جس کا مداوا نہیں لیکن اہل محلہ کا فرض ہے کہ یتیم کے سر پر ہاتھ ضرور رکھیں……
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کےبھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
سياست| خالد محمود نے لکھا
تمام سیاستدانوں کو سیاست عمران خان سے سیکھنی چاہیے۔ خواتین کے مختصر لباس پر لفظی توپ چلا کر داد بھی سمیٹ لی اور مشرقی روایت کا علمبردار ہونا بھی منوا لیا اور سینٹ میں بل پاس کر کے مشرقی خاندانی نظام پر ڈرون اٹیک کر کے اس کی عملی تباہی کا مکمل بندوبست بھی کر دیا ۔
#پھر_کہتے_ہیں_خان_کو_سیاست_نہیں_آتی
الیکشن، نادرا اور فوج| منیر احمد خلیلی نے لکھا
الیکشن کمیشن کے انتخابات کرانے کے اختیارات نادرا کو منتقل ہو جائیں اور نادرا کے اہم عہدوں پر ریٹائرڈ فوجی مقرر ہوں، پھر بھی ’’ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘‘
اس ملک کو اپنی مفتوحہ کالونی نہ بناؤ۔ وہ ادارہ جو بطور امانت تمہارے چمکیلے فیتوں کے تحت ہے اس پر رحم کرو۔
٭٭٭٭٭
1 وزیرِ اعظم کی روانگی کا آرمی چیف کے دورے سے کوئی تعلق سمجھنا قاری کی غلطی تصور کی جا سکتی ہے۔ (مرتِّب)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



