بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمام تعریفیں، بلا شبہ اللہ ہی کے لیے ہیں۔وہ اللہ جو ہمارا ربّ ہے،ہمارا ہے،ہمارا اللہ ہے!اسی نے ہمیں پیدا کیا اور وہی ہمیں موت دیتا ہے اور بلا شبہ اس نے موت و حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ دیکھےکہ ہم میں سے کون ہے جو بہترین عمل کرتا ہے۔
مع الأستاذ فاروق، استاد احمد فاروق کے ساتھ چند ملاقاتیں، ان کی چند یادیں، ان کی قیمتی باتیں، ان کی بعض ایسی باتیں جو مجھے خاص طور پر اچھی لگیں۔ حضرتِ استاذ سے آج تک جتنی ملاقاتیں رہیں، سب کا احوال اور سب کی سب تو یاد نہیں، لیکن جتنی ذہن میں تازہ ہیں سب ہی لکھنے کا ارادہ ہے کہ یہ ان شاء اللہ توشۂ آخرت ہوں گی، مجھ سمیت حضرتِ استاذ کے محبّین کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہوں گی۔اللہ تعالیٰ صحیح بات، صحیح نیت اور صحیح طریقے سے کہنے والوں میں شامل فرما لے۔نوٹ: اس سلسلہ ہائے مضامین میں جہاں بھی ’استاذ‘ کا لفظ آئے گا تو اس سے مراد شہید عالمِ ربّانی استاد احمد فاروق (رحمہ اللہ) ہوں گے۔
إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَمْرًا هَيَّأَ أَسْبَابَهُ
الحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء.
اللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیك یسیر، آمین!
ہمارا کہف ابھی خام حالت میں تھا، یعنی صرف کھدا ہوا تھا اور ابھی مستقل رہائش کے قابل نہ تھا۔ بہر کیف ہم کہف ہی میں تھے اور اس موجوگی کا بنیادی سبب ڈرون کی گردش تھا، گو کہ مستقبل کا مستقل ٹھکانہ یہی کہف قرار پایا۔
ایک رات میں استاذ کے پاس بیٹھا تھا اور وہیں قریب میں مجلہ ’طلائع خراسان‘ کا ایک شمارہ رکھا ہوا تھا۔ یہ مجلہ مرکزی القاعدہ کے مرکزی قائدین فضیلۃ الشیخ عطیۃ اللہ اللیبی اور فضیلۃ الشیخ ابو یحییٰ اللیبی کی زیرپرستی نکلتا تھا اور شیخ حسام عبد الرؤف اس کے مدیر تھے۔ میں نے سامنے رکھا مجلہ اٹھایا، ایک لحظے کو اس کا سر ورق دیکھا اور پھر الٹا کر پس ورق دیکھنے لگا۔ پس ورق پر ایک ڈرون طیارے کی تصویر تھی اور اس پر سورۃ الحج کی یہ آیت درج تھی:
إِنَّ اللهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا (سورة الحج: ۳۸)
’’ بے شک اللہ ان لوگوں کا دفاع كرتا ہے جو ایمان لائے ہیں ۔‘‘
میں ابھی یہ دیکھ ہی رہا تھا کہ استاذ نے طلائع خراسان کے اس شمارے کی طرف اشارہ کیا اور بولے’یہ شمارہ اس وقت شائع ہوا جب کچھ ہی عرصے پہلے شیخ سعید (مصطفیٰ ابو الیزید) شہید ہوئے تھے۔ ان دنوں عجیب سی کیفیت ہوا کرتی تھی۔ ایک خوف سا تھا (اور خوف اپنی جانوں کا نہیں تھا بلکہ مشائخِ جہاد کی جانوں کی حفاظت کے لیے تھا اور وہ بھی حفاظتِ منہجِ جہاد کی خاطر)۔ ایسے میں یہ شمارہ شائع ہوا اور جب میں نے اس پر یہ آیت چھپی دیکھی تو دل کی عجیب حالت ہو گئی۔ ایک سکون اور طمانیت والی حالت کہ اللہ تعالیٰ حفاظت کرنے والا ہے، وہی حفاظت کرے گا اور وہی اس بیڑے کو پار لگائے گا‘۔
دعوتی و جہادی زندگی میں ایسے مراحل اکثر ہی آتے ہیں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کی زندگیاں تو غموم و ہموم ہی سے عبارت ہیں۔ خود ہمارے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی ایسی ہی ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں کتنے ہی مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ غم نہ کریں، یہ دین غالب ہو کر رہے گا اور اللہ اہلِ ایمان کو اس دعوتِ حق کے ساتھ باقی رکھے گا اور ہر کونۂ کائنات تک یہ دین پہنچ کر رہے گا۔ جیسا کہ ہم نے بڑوں سے سنا ہے یہ قرآن داعی و مجاہد کا نصاب ہے۔ پھر محض نصاب نہیں ہے، غم گسار، یارِ تنہائی، مونس، چارا ساز، پیرِ طریقت اور رہبرِ شریعت بھی ہے (اس بات کا مطلب اہلِ علم و خشیت سے استغنا نہیں ہے)۔ اس کی کسی کسی آیت پر جب بے بضاعت لوگ بھی گزرتے ہیں تو پھڑک اٹھتے ہیں، اللہ کے اولیائے خاص کی تو کیا ہی بات ہے!
دعوت و جہاد کی راہ پر کتنے مقامات، کتنے سنگِ میل، کتنے موڑ اور کتنے حادثات ایسے پیش آتے ہیں کہ بندہ بالکل اکیلا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اکیلا تو نہیں ہوتا، روش پر ہجوم ہوتا ہے، لیکن مقامِ راہ، موڑ یا حادثہ اس نوعیت کا ہوتا ہے کہ آپ پھر بھی تنہا ہوتے ہیں، کوئی حدیبیہ جیسا مرحلہ ہوتا ہے، لوگ چاہنے کے باوجود آپ کی مدد کو نہیں آ سکتے، الغرض آپ اکیلے ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں کون سا رہنما کتابچہ، کون سا مینوئل کھول کر troubleshooting کی جائے۔ کون سا نقشہ بتائے گا کہ ’’سبیل اللہ‘‘ کا کتنا فاصلہ طے ہو گیا ہے اور کتنا رہ گیا ہے۔
بعض دفعہ اس راہ میں اجتماعی مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے اور بعض دفعہ قافلہ تو خوب چل رہا ہوتا ہے، لیکن آپ کی سواری میں کچھ مشکل پیش آ جاتی ہے یا پھر دل بوجوہ بوجھل ہوتا ہے اور قلب و قدم میل نہیں کھا رہے ہوتے۔ جیسی بھی مشکل ہو کشاف و گرہ کشا، یہی کتاب ہے۔
استاذ علیہ الرحمۃ نے جب اس رات اس آیت کی طرف اشارہ کیا تو ہم ذات و اجتماع میں مشکلات کا شکار تھے۔ زیادہ مشکل یہ تھی کہ دشمن کی کوششوں کے سبب ہم کام نہیں کر پا رہے تھے۔ دشمن کا طرح طرح کا محاصرہ جاری تھا اور ایسے محاصروں میں راہیانِ راہِ وفا گھرتے رہتے ہیں اور ان گھیروں کو توڑ توڑ کر بعون اللہ نکلتے رہتے ہیں، اللہ کی عبادت میں جُتے رہتے ہیں۔ ایسے میں استاذ نے نشاندہی کی کہ غم نہ کرو، اللہ حافظ و حفیظ بھی ہے اور کار ساز بھی۔
یہاں تک ذکر کے بعد میں استاذ کی شہادت کے بعد کے ایک واقعے کی طرف آتا ہوں۔ حسبِ راستہ اور حسبِ روایت ہم مشکلات میں گھرے تھے۔ میں پریشان تھا اور اپنے مرشد انجنیئر اسامہ ابراہیم غوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھا۔ مرشد نے مجھے تسلی دیتے ہوئے ایک واقعہ سنایا، جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس میں مرکزی کردار استاذ ہی تھے۔
حضرت تھانوی نوّر اللہ مرقدہٗ کا ایک قول میرے استاد مولوی حافظ تائب صاحب سناتے ہیں کہ’حسی یا عملی مثالوں سے افہام و تفہیم میں آسانی ہوتی ہے‘۔ سو اس واقعے کو بیان کرنے کی ایک غرض تو یہ ہے اور دوسری اور اصلی، تاریخی واقعے کا بیان۔ اس واقعے کا کچھ حصہ غالباً مع الأستاذ کی پہلے کی قسطوں میں گزر چکا ہے۔
۲۰۰۱ء میں امارت اسلامیہ افغانستان کا سقوط ہو چکا تھا۔ عرب مہاجر مجاہدین، خاص کر القاعدہ سے وابستہ حضرات بہت سی مشکلات طے کر کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ گزین تھے۔ ان مہاجرین کی مدد و نصرت کرنے والوں میں ایک کلیدی نام شیخ احسن عزیز کا تھا۔ مرشد کہنے لگے کہ جس منہجِ جہاد کے ساتھ آج ہم وابستہ ہیں، اس کی دعوت پاکستان میں کہیں بھی نہیں تھی۔ بقول استاذ کے کہ ’اس منہج کو سمجھنے کے لیے پورے پاکستان میں گنتی کے دو چار افراد تھے‘1۔ سو سمجھانے والے جب دو چار تھے تو اس دعوت سے متعلق مواد و لٹریچر کا تو وجود ہی نہیں تھا(ہمارے خطے کی زبانوں میں)۔
شیخ احسن عزیز اس زمانے میں جہاں مہاجرین کے لیے جگہوں کی ادارت و انتظام کی خدمت کر رہے تھے تو ساتھ ہی خود اپنے گھر میں بھی عرب ساتھیوں کو ٹھہراتے رہے۔
مرشد بیان کر رہے تھے کہ پاکستان میں (جسے ہم کم از کم آج برِّ صغیر کی سطح پر کہہ سکتے ہیں) اس اعلام و مطبوعات (media and publications) کی بنیاد کیسے پڑی۔
شیخ احسن عزیز کا گھر میر پور آزاد کشمیر میں تھا۔ میر پور کی مرکزی شاہراہ علامہ اقبال روڈ پر، البدر میڈیکوز کے بالمقابل جو سڑک پہاڑی پر چڑھ رہی ہے اس پر بائیں ہاتھ پر۔ شیخ احسن عزیز نے اس گھر میں مرکزی القاعدہ کے اعلام کے ذمہ دار شیخ مختار المغربی (دامت برکاتہم العالیۃ) کو ٹھہرایا۔
مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ والوں کے دل میں ایک تڑپ ہوتی ہے کہ ’جو اللہ کی محبت میرے دل میں ہے اس محبت کی آگ اوروں کے دلوں میں بھی بھڑک اٹھے، اس لیے یہ اللہ والے اس محبت کو پھیلانے کے لیے لگے رہتے ہیں‘۔ یقیناً یہی آتشِ محبت شیخ مختار کے دل میں بھی تھی (نحسبہ کذلک)۔ بس شیخ مختار نے اسی سوز کے ایندھن کو شیخ احسن عزیز کے دل میں انڈیلنا شروع کیا، آگ وہاں پہلے ہی تھی وہ دو آتشہ ہو گئی۔ ایک دل سے دوسرے دل میں تو یہ اتر گئی لیکن اس کو پھیلایا کیسے جائے؟ اس دنیا کو مالکِ دنیا نے دار الاسباب بنایا ہے، ہاں جب کوئی مقدور بھر سبب استعمال کر لے تو پھر مالک چار جہازوں ، جن پر پیپر کٹر سے قبضہ کیا گیا ہو، سے دنیا کی سپر پاور کو خاک چٹوا دیتا ہے اور پھر چند لوگوں کے عزم سے دنیا قبل و بعد از نائن الیون کی تاریخ میں منقسم ہو جاتی ہے۔
شیخ مختار کو شیخ احسن عزیز ملے تھے سو انہوں نے انہیں دنیائے اسباب میں پہلی چنگاری کے طور پر، عملی دنیا میں آڈیشن (Audition) نامی سافٹ ویئر سکھایا جو آڈیو ایڈٹنگ کے کام آتا ہے۔
شیخ احسن عزیز کو اللہ نے راجہ محمد سلمان سے ملوایا جو استاذ احمد فاروق بنے۔ استاذ جب اس راہ سے جڑے تو انہوں نے کچھ سوالات (غالباً مرشد ہی کے مکان پر) اسلام آباد میں شیخ احسن عزیز سے پوچھے۔ کچھ کے جوابات شیخ نے دیے اور باقی کے بارے میں کہا کہ اگر آپ واقعی مخلص ہیں تو میر پور میں یہ میرے مکان کا پتہ ہے وہاں آ جائیے۔
پھر بقولِ استاذ میں چند دن بعد وہاں پہنچ گیا تو بقول شیخ احسن عزیز انہیں (شیخ احسن عزیز کو) استاذ کو وہاں دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سوال پوچھنے والے تو پہلے بھی بہت تھے لیکن سچا سالک کوئی نہ تھا جو جواب کی تلاش میں آتا۔ جس کمرے میں شیخ مختار رہتے تھے اسی میں استاذ کو ٹھہرایا، پھر وہی اللہ کے دین کی دعوت پھیلانے، جہاد کو کھڑا کرنے اور اقامتِ شریعت کی تڑپ کی آگ استاذ کے دل میں اتر گئی، یہاں بھی آگ پہلے سے موجود تھی، بس راہ اور صحیح ایندھن کی متلاشی تھی۔ اسی کمرے میں شیخ احسن عزیز نے استاذ کو کچھ کتب و بیانات عربی سے اردو میں ترجمہ کرنے کو دیے، جن میں سرِ فہرست شیخ عبد اللہ عزام کی ’ایمان کے بعد اہم ترین فرضِ عین‘، شیخ اسامہ بن لادن کے خطبات جو ’اے اللہ صرف تیرے لیے‘، شیخ ایمن الظواہری کے خطبات ’صلیبی صہیونی فساد اور عالمی تحریکِ جہاد‘ کے نام سے طبع ہوئے، شامل ہیں۔
مرشد نے یہیں تک سنا کر توقف کیا۔
میں نے یہی واقعہ ریحان بھائی (چودھری عفان غنی شہیدؒ) کو سنایا، تو وہ کہنے لگے کہ ’اگلی بات ظہیر بھائی (یعنی مرشد اسامہ ابراہیم غوری شہید) نے نہیں کہی اور وہ یہ کہ استاذ کو ظہیر بھائی مل گئے جنہوں نے عملاً جہادی اعلام کو پاکستان میں کھڑا کیا اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے کہ ان کے بہت سے براہ راست شاگرد اس محنت پر لگے ہیں‘۔
میرا مشاہدہ یہ ہے کہ آج برِّ صغیر و افغانستان میں جس قدر جہادی اعلام ہے تو اس کی ہر شاخ کا ایک رابطہ ضرور مرشد سے جڑے گا۔ بلکہ آج اردو زبان میں جو سوشل میڈیا ٹرینڈز ہیں (خصوصاً دینی) ان کا ربط بھی مرشد سے یا مرشد کو ’پہلی بار مرشد سے ملقّب کرنے والے‘ مرشد کے مرید اور ہمارے ایک فاضل ساتھی (حفظہ اللہ من کل شر و سوء) سے جڑے گا۔ یہ ہمارے مرشد شہید ہی تھے جنہوں نے ، اس اعلامی فکر کو عمل میں بدلا اور خیالات کو تکنیک کا عملی جامہ پہنایا، پھر مرشد کی مزید صفتِ خاص یہ بھی تھی کہ وہ محض تکنیکی آدمی نہ تھے بلکہ مفکر، مدبر، ایڈمنسٹریٹر، داعی اور مربی بھی تھے۔ صرف مالکِ ذہانت نہ تھے، بلند درجے کے صاحبِ قلب بھی تھے۔
خیر، مرشد اور استاذ ہم عمر بھی تھے اور ساتھی بھی اور خود بقولِ مرشد ’دوست‘ بھی۔ سو یوں کہا جا سکتا ہے کہ مرشد استاذ اور شیخ احسن عزیز دونوں کو مل گئے، یہ سب شیخ مختار کو مل گئے اور سب کا مقصود تو اللہ ہے!
خیر مرشد کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو۔ جب اللہ کو کوئی کام کروانا منظور ہوتا ہے تو وہ اس کے اسباب خود ہی بہم کر دیتا ہے، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَمْرًا هَيَّأَ أَسْبَابَهُ !
پھر جس رات میں استاذ کے ساتھ بیٹھا تھا اور انہوں نے طلائع خراسان کے شمارے کے پس ورق کی طرف اشارہ کیا تو بس انہی دو چار دنوں میں اور بہت سے کام شروع ہو گئے۔ پہلا مرحلہ کہف کو اس قابل بنانا تھا کہ یہاں اس قدر سامانِ ضرورت و راحت کر لیا جائے جس کے ساتھ آئندہ کاموں کی بجا آوری میں آسانی ہو۔ پھر اس کہف میں کتنے کام ہوئے، شاید گننا مشکل ہے۔ جاء الحق وزہق الباطل، بتاؤ تم کس کا ساتھ دو گے اور بزمِ شہادت سے شریعت یا جمہوریت تک موقر دستاویزی فلمیں، جہادی یادیں، سفر نامے، ویڈیو ترانے، خود حضرت الاستاذ کے صوتی و بصری بیانات، دروسِ قرآن و حدیث، شیخ ابو یحییٰ کے بیانات، ادارہ حطین کی مطبوعات و مجلہ، کتنےمشائخ کے ساتھ استاذ کی نشستیں، جہادی مشاورتیں اور قتالی منصوبہ بندیاں وغیرہ وغیرہ، اسی کہف میں سر انجام پائیں، الحمد للہ اولہ وآخرہ۔
خیر اس رات سے اب تک، خصوصیت کے ساتھ، ہر روز کا مشاہدہ ہے کہ إِنَّ اللهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۔ مالک کی عطا اور غلام کی طلب یعنی ’ شہادت‘ اسی راہ کی ایک اور صورت ہے۔ یہ دفاع کے مانع و مخالف نہیں۔ یہ تو راہِ سلوک کی انتہا یعنی ولایتِ الٰہی کی عظیم منزل ہے۔ ہر سالک، راہ میں دفاع و حفاظت کا خواہش مند ہوتا ہے، منزل سے گریزاں نہیں۔
کہف کی ہیئت و انتظام پر لکھنے کا وعدہ چند ماہ قبل کیا تھا، تو حال عرض ہے۔ کہف تین کمروں پر مشتمل تھا۔ اس کا مرکزی کمرہ آخری تھا، یہی سب سے بڑا بھی تھا اور یہی مہینوں استاذ کا دفتر رہا جس میں تین ماہ مع الأستاذ گزارنے کا موقع مجھے بھی میسر رہا۔ اس کمرے میں چھت پر ایک بڑا سا پتھر تھا کہ یہ کہف زیرِ زمین کھودی گئی تھی، اسے سرنگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس پتھر پر داود بھائی نے کئی دفعہ ضرب لگائی کہ یہ ٹوٹ جائے یا نیچے آ رہے، کہ اندیشہ تھا کہ کہیں بعد میں گر نہ جائے، لیکن یہ چٹان نما اپنی جگہ پر قائم رہا۔ سو داود بھائی اور میری یہی رائے بنی کہ اس کو یونہی چھوڑ دیا جائے، یہ بہت مضبوط ہے نہیں گرتا۔ پھر استاذ معائنے کو آئے تو کہنے لگے کہ اس چٹان کو نکالیں۔ اب پھر کوشش کی تو چند ضربوں سے ہی یہ چٹان نیچے آ گئی اور اس کا وزن کم از کم دو ڈھائی من ہو گا۔ داود بھائی کہنے لگے کہ یہ استاذ کی برکت ہے، پہلے ہم نے کتنی کوشش کی لیکن یہ چٹان ٹس سے مس نہ ہوئی، اب چند ہی بار میں نیچے آ گئی اور واقعی اگر یہ بعد میں کسی پر گرتی تو اس کا کچومر نکال دیتی۔ اس کو اٹھانا تو نا ممکن تھا، لہٰذا گھسیٹ گھساٹ کے اس کو کمرے سے باہر راہ داری میں ڈال دیا کہ پھر کبھی خندق ؍کہف سے نکالیں گے، لیکن اس کے وزن و حجم کے سبب یہ چٹان اسی جگہ اگلے کئی سال پڑی رہی یہاں تک کہ ہم نے یہ جگہ چھوڑ دی۔
کہف کی گہرائی تقریباً اٹھارہ فٹ تھی، داخلے کے مقام پر کچی سیڑھیاں تھیں اور کہف کا آخری سِرا کنواں نماتھا۔ کہف کی راہداری کی چوڑائی ڈیڑھ سے دو فٹ تھی اور اس کی اونچائی ساڑھے پانچ سےچھ فٹ۔ راہداری کی کل لمبائی تقریباً ایک سو دس فٹ تھی جس میں تین موڑ تھے۔کہف کے کمروں کی شکل اِگلو (igloo) جیسی تھی، پہلے دو کمروں کا سائز ساڑھے پانچ فٹ چوڑائی اور ساڑھے چھ فٹ لمبائی تھا، اور ان کی اونچائی چھ فٹ تھی۔ جبکہ جسے میں نے اولاً بڑا کمرہ لکھا ہے وہ ساڑھے چھ فٹ چوڑا اور سات فٹ لمبا تھا، اس کی اونچائی کمرے کے درمیان سے ساڑھے چھ فٹ تھی۔ استاذ کے لیے یہی ’بڑا‘ کمرہ موزوں تھا کہ ان کا قد میرے اندازے کے مطابق چھ فٹ دو یا تین انچ تھا، اور استاذ جب نماز یہاں پڑھتے تو عموماً وسطِ کمرہ میں کھڑے ہوتے۔
کہف کو قابلِ رہائش بنانے کے لیے ہم نے درج ذیل اہتمامات کیے:
کمروں کی چھتوں اور دیواروں پر زیرِ زمین نمی روکنے کے لیے پلاسٹک شیٹ کیلوں سے لگائی، پھر اس کے اوپر کپڑا لگایا، لگانے والے ساتھیوں نے باہتمام موجود کپڑوں میں سب سے اچھے معیار اور سب سے اچھے نقوش (پرنٹ) والا کپڑا استاذ کے کمرے میں لگایا، کپڑا بھی کیلوں کی مدد سے لگایا گیا۔ تقریباً ہر ایک فٹ کے بعد طول و عرض میں ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کے کیل ٹھونکے گئے اور بعض جگہوں اور گولائیوں پر چھ انچ یا دو دو، تین تین انچ کے فاصلے پر بھی۔
فرش سے نمی روکنے کے لیے پہلے پلاسٹک شیٹ بچھائی گئی پھر اس پر آدھے انچ موٹائی کا پلاسٹکی فوم بچھایا کہ فرش نا ہموار تھا اور کئی جگہوں پر نوکیں نکلی ہوئیں تھیں اور اس کے اوپر پلاسٹکی سترنگی بچھائی۔
کہف کی راہ داری میں تین یا چار مقامات پر راستہ روشن رکھنے کے لیے لائٹیں لگائی گئیں اور ہر ہر کمرے میں ایک ایک لائٹ لگائی گئی۔
کہف کی زندگی کچھ آسان نہ تھی۔ سردیوں میں اس کے کمروں کو گرم کرنے کے لیے گیس ہیٹر (بذریعہ سلینڈر)جلاتے، جس سے دم گھٹتا، نہ جلائیں تو ساری سردی کا موسم ٹانگیں اور ہاتھ یخ رہتے۔ لہٰذا ٹانگوں پر ہر وقت لحاف ڈالے رکھتے تھے، البتہ ہم جیسوں کے ہاتھ تو ہر وقت یخ ہی رہتے تھے اور کام کمپیوٹروں پر تھا سو گرم دستانے پہن کر ہوتا نہیں تھا۔ پھر عموماً بھی زیرِ زمین ہونے اور کم روشنی وغیرہ کے سبب جی گھبراتا تھا۔ ٹھنڈ، نمی اور کم روشنی کے سبب بیماریاں الگ تھیں، خود راقم کو بعد میں جلد کی ٹی بی ہو گئی۔ ساتھیوں نے بتایا کہ یہاں ایک بار کچھ روز کے لیے شیخ ابو یحییٰ اللیبی تشریف لائے تو وہ بھی کہف میں بیٹھنے سے گریزاں ہوتے کہ ان کی طبیعت بھی گھبراتی اور جی متلاتا تھا۔ الغرض اگر احتیاط کرنا، اللہ کا حکم نہ ہوتا اور امرائے جہاد اس کہف میں رہنے کا حکم نہ دیتے تو کوئی بھی اس کہف میں نہ رہتا۔
حکمِ امیر سے یاد آیا کہ ابھی کہف کا انتظام و اہتمام پورا نہیں ہوا تھا اور استاذ کے ساتھ فی الحال راقم ہی تھا، تو انہی دنوں استاذ کی اہلیہ نے اپنے والدین سے ملنے کے لیے اپنے شہر جانا تھا۔ اب صبح حضرت کی اہلیہ نے جانا ہے اور اس سے متصل شب حضرت کہف کے کمرے میں ہیں۔ ڈرون بھی گھوم رہا تھا۔ ایسے میں، مَیں نے حضرت سے کہا کہ آپ اوپر اپنے رہائشی کمرے میں چلے جائیے۔ تو حضرت کہنے لگے کہ ’میں بھی یہی چاہتا ہوں، لیکن ڈرون گھوم رہا ہے، اوپر گیا اور بالفرض ڈرون نے مار دیا تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گا کہ امیر کا حکم ڈرون کے گھومنے کی صورت میں خندق میں رہنے کا تھا اور میں گھر والی کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اس نے صبح جانا ہے اور میں یوں (بے اطاعتی) میں مارا گیا‘۔ میں نے یہ سن کر کہا کہ میں دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہوں، آپ اہلیہ کو یہاں بلا لیجیے۔ اس پر حضرت نے اپنے مخصوص انداز میں سر ہلایا جس کی منظر کشی سے میرا کوتاہ قلم عاری ہے۔ یقیناً حضرت نے اس حال میں دعا کی ہو گی جو مقبول ہوئی یا بِدونِ دعا ہی اللہ کو اپنے اس ولئ خاص پر خصوصی پیار آیا ہو گا کہ کچھ دیر بعد ڈرون چلا گیا اور پھر کئی روز وہاں سے گزرا بھی نہیں۔ ورنہ حضرت نے جس کیفیتِ قلبی اور استحضار و احسان میں اوپر رہائشی کمرے میں جانے سے اپنے آپ کو روکا تھا تو اسی آزمائش کے بدل میں اللہ نے انہیں اس دنیا میں بھی سرخرو کیا اور عافیت کی نعمت عطا کر دی۔
اس بار کی محفلِ استاذ یہیں روکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمارے استاذ کے درجات بلند فرمائیں، ان کی شہادت قبول فرمائیں اور جنت کے وسط میں انہیں مکانِ راحت عطا فرمائیں اور ہم گنہگاروں کو اس راہِ جہاد پر چلائے رکھیں جس پر ہم استاذ کی زندگی میں چلتے تھے، یہاں تک کہ جامِ شہادت عرشِ بریں سے ہمیں پلائے جانے کا امر ہو جائے، آمین یا ربّ العالمین!
وما توفیقي إلّا بالله. وآخر دعوانا أن الحمد للہ ربّ العالمین.
وصلی اللہ علی نبینا وقرۃ أعیننا محمد وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین.
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 بحوالہ جہادی یادیں، منشورہ ادارہ السحاب برِّ صغیر


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



