شیخِ مکرم، استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ نے یہ سلسلۂ مضامین ’اصحاب الاخدود‘ والی حدیث کو سامنے رکھ کر تحریر کیا ہے۔ (ادارہ)
[پچھلے حلقے میں ذکر ہوا کہ راہ حق اور ایمان کے ساتھ آزمائش و ابتلاء جڑی ہوئی ہے اور اس پر بات ہوئی کہ تاریخِ ایمان کا سبق ہی یہی ہے کہ جو جتنا صاحبِ ایمان ہو ، اُتنا اس کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے اور یہ بھی ذکرہوا کہ اس سے صفوں کی چھانٹی بھی اللہ کو مطلوب ہے اور اہل ایمان کے ایمان ودرجات میں اضافہ بھی مقصود ہوتا ہے۔آج کاحلقہ پچھلے حلقے کا تسلسل بھی ہےکہ اس میں راہ ِ حق کے مصائب کا سامنا کرنے کے ہتھیار پر بات ہوئی ہے اور ساتھ ہی آخر میں اُن امور کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ان پر عمل ہو تو اللہ کے اذن سے آزمائش مصیبت نہیں رہتی بلکہ اللہ کی نعمت بن جاتی ہے ۔ہم انتہائی کمزور اور بہت گناہ گار ہیں ، اللہ ہماری مغفرت کرے، کمزوری ہماری قوت میں بدل دے ، ہدایت و نصرت سے ہمیں نوازے اور اپنی رحمت سے نصرت ِ دین کا یہ سفر ہمارے لیے آسان کردے،آمین یا رب العالمین!]
زادہ ِ راہ جس کے بغیر رستہ نہیں کٹتا……!
وہ کیا توشہ ہے کہ جوراہِ حق پر سفر میں پاس ہو تو سفررُکے گا نہیں اور اللہ کی جنتوں میں پہنچنے سے پہلے راستہ ان شاء اللہ تبدیل نہیں ہوگا ؟ یہ زاد راہ صبر ، تقویٰ اور یقین ہے! صبر وہ جو مشکلات اور مصائب پر ہو …… مگر کیا صرف سختیوں پر صبر کافی ہوجاتا ہے؟ نہیں! اس لیے کہ بعض لوگ ناگواریوں پر تو صبرکر لیتے ہیں کہ وہ طبعاً قوی ہوتے ہیں مگر کیا اللہ کو محبوب ہے اور کیا نہیں ،کیااللہ کے دین کا تقاضہ ہے اور کس چیز سے اس کی شریعت منع کرتی ہے……اس متعلق وہ لاپرواہ ہوتے ہیں؛ مثلاً ڈاکو کچھ کم صابر نہیں ہوتے ہیں مگروہ تقویٰ سے محروم ہوتے ہیں ۔ ان کے برعکس بعض ضعیف الطبع ایسے بھی ہوتے ہیں جو جائز و ناجائز کا تو ایک دائرے میں خیال رکھتے ہیں مگریہ احتیاط اُس حد تک ہوتی ہے جب آزمائش و ابتلاء کا سامنا نہ ہوا ہو ،مشکل دیکھتے ہی شریعت کی اتباع چلی جاتی ہے۔لہٰذا جو صبر تقویٰ کے بغیر ہو اور وہ تقویٰ جس کے ساتھ صبرنہ ہو ، دونوں ناکافی ہیں ۔صبر وہ مطلوب ہے جو راہ ِ حق پر ، اتباع شریعت کی کوشش پر ہو اوراللہ کو راضی کرنے کی اس سعی وعمل میں پھر مصائب کے پہاڑ بھی اگر بندے پر ٹوٹیں تو وہ چٹان بن کر کھڑا رہے اور اپنے لیے آسانی کا ایسا کوئی دروازہ نہ کھولے جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہو ۔یہ انتہائی نقصان اور دکھ کی بات ہے کہ بندے کی آزمائش تو ختم ہوجائے مگر اللہ کی رضا اور اس کی تائید و محبت سے وہ محروم ہوجائے ۔ اللہ کی نصرت و محبت تب ہی ملاکرتی ہے جب بندے میں تقویٰ اور صبر دونوں اہم صفات اکٹھی ہوں۔﴿إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾1 ۔گویابندے میں صبرکا ہو نا ضروری ہے اور یہ اُن سب ناگواریوں اور ترغیبات پرہو جو بندے کو بندگی ٔ رب سے ہٹا کر غیر اللہ کے راستے پر ڈالنے والی ہوں ۔یعنی یہ صبر کئی امور پر ضروری ہے : صرف اللہ ہی کے سامنے جھکنے ، اس کی مکمل اطاعت اور اسی سے ہی مانگتے رہنے پر، اپنے مبادی اور اصولوں پرڈٹا رہنے پر ، ہوائے نفس اور دنیا کی رنگینیوں کا مقابلہ کرنے پر ، ساتھ دینے والوں کی کمی اور راستہ مشکل ہونے کے باوجود سفر جاری رکھنے پر، مخاطبین کی طرف سےآپ کی دعوت اورمحنت کی ناقدری پر ،ساتھ چھوڑنے ، ملامت کرنے اورآپ پر طعن و تشنیع کے تیر برسانے والوں پر، اُن مصائب و آلام پر بھی کہ جن کا آپ نے کبھی سوچا تک نہ ہو ،سفر کی طوالت اور نتائج نظر نہ آنے کے باوجودچلتے رہنے پر ……محبوب لوگوں کے فراق ، بھوک و پیاس ، مال و متاع کے نقصان اور قربانی در قربانی کے باوجود کھڑا رہنے پر ، دوسروں کے ساتھ بہرصورت عدل کرتے رہنے پر چاہے وہ ظلم وزیادتی کرتے ہوں، خوف وحزن اور اپنی کمزوریوں و محرومیوں پر، وسائل کی کمی اور پسندیدہ میدان کے نہ ہونے کے باوجود فرض کی ادائیگی پر، اُمیدوں اور تمناؤں کے بر نہ آنے پر ،دشمن کے سامنے نہ جھکنے اور لڑتے رہنے پر……پس ہر اُس آزمائش پر صبر جو اللہ کی اطاعت ،اس پر بھروسہ کرنے اور اس کے راستے میں جہاد کرنے اور کٹ مرنے کی راہ میں پیش آئے ۔
صبر کی یہ اہمیت ہی ہے کہ نبوت کے بالکل آغاز میں جب جبرئیل علیہ السلام دوسری دفعہ وحی لے کرآئے اور يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ( اے کپڑے میں لپٹنے والے ۔ اٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو۔ )کہہ کر آپ ﷺکو اٹھ کھڑے ہونے کا حکم ملا ، تو اس میں ﴿ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ﴾ ’’اور اپنے رب ہی کے لیے صبر کیجیے ‘‘ بھی ساتھ فرمایاگیا ، کیوں ؟ اس لیے کہ یہ راستہ بغیر صبر کے کٹتا نہیں! حضرت علی رضی اللہ کا قول ہےکہ ’’صبر اور ایمان کے درمیان تعلق سر اور جسم کی مانند ہے کہ جب سر کٹ جاتا ہے تو جسم نہیں رہتا ،(پھرآپ ؓ نے اونچی آواز میں کہا)جس شخص میں صبر نہ ہو اُس میں ایمان نہیں ہو سکتا‘‘۔ کوئی بھی دینی عمل بغیر صبر کے ، نفس کو قابو اور خواہش نفس کو قید کیے بغیر نہیں ہوتا۔ صبر و تقویٰ کی اہمیت ہی ہے کہ اللہ کی کتاب میں متقین اور صابرین بننے پر ، ان کے اجر و ثواب اور دنیوی و اخروی انعامات پر بہت ساری آیات ہیں جویہ تاکید کرتی ہیں کہ نصرت ِ دین کا فرض وہی لوگ ہی نبھا سکتے ہیں جو صبر و تقویٰ کے ہتھیار سے لیس ہوں۔مثلاً اللہ سبحانہٗ و تعالی ٰ نے جہاں دیگر نیک اعمال کے اجر کی حد بتائی ہے، وہاں صبر کرنے والوں کے بارے میں فرمایاکہ ان کے لیے بے حساب اجر ہے ﴿ إِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسَابٍ﴾2،اپنی نصرت و معیت کا اعلان کیا کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ﴿ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴾، اپنی محبت کے عطا ہونے کافرمایا کہ اللہ صبر والوں سے محبت کرتے ہیں﴿ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ﴾۔یہاں تک کہ جنت کے دروازے پر جنتی داخل ہوں گے تو اس کے دربان استقبال میں کہیں گے ! ﴿سَلَٰمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ﴾یہ بہترین انعام ، آخرت کا یہ گھر ،تمہیں تمہارے صبر کے بدلے ہی ملا۔
یقین ہی ہے جو صبرپیدا کرتاہے!
صبر اور تقویٰ کی نعمتیں قیمتی اور عظیم ہیں مگر یہ دونوں بھی کبھی نصیب نہیں ہو سکتیں جب تک کہ بندے کے دل میں یقین نہ ہو ۔ یقین ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو نفس کی کجی اور شیطان کے وساوس کے خلاف کھڑا رکھتی ہے اور اسی کے سبب ہی راہِ حق پر مصائب جھیلنا بھی آسان ہوجاتا ہے ۔ یہ یقین ہی ہے کہ جس کے سبب بندے کےلیے اللہ کو محبوب اعمال آسان ہوجاتے ہیں اور اُسے اللہ کی وہ محبت نصیب ہو جاتی ہے جو بالآخر اللہ کی دائمی رضا پر منتج ہوتی ہے۔ پر یہ یقین بھی کن باتوں پر ہو ؟ وہ کیا امور ہیں کہ جن پر دل کے اندر کسی قسم کا شک و شبہ قبول نہ ہو اورجن پر یقین بڑھانے کی مستقل سعی ہو؟ یہ اللہ ہی کو اپنا رب ماننے اورصرف اللہ ہی کو اپناالٰہ ( معبود) ہونے پر یقین ہے ۔ روز قیامت پر یقین کہ یہ زندگی عبث نہیں ، بلکہ یہاں کے ہر قول اورہر عمل پر جزا و سزا ملنی ہے ،یہ یقین کہ مجھے کوئی انسان نہ زندگی دے سکتا ہے اور نہ موت، میرے لیے خیر و شر کا فیصلہ کسی مخلوق کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ خالص اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ،اللہ کی آیات اور اس کے وعدوں پر یقین ،راہ حق میں صبر کے ایک ایک ثانیے پر اجر وثواب اور اللہ کی محبت ملتی ہےاور اللہ کی خاطر اس صبر و شکر پر موت آ گئی تو اللہ کی دائمی جنتیں ، رسول اللہﷺ کی شفاعت اوراللہ کا دیدارنصیب ہوگا…… کفر کی شان و شوکت جتنی بھی زیادہ ہواس نے جلد یا بدیر تباہ ہونا ہے جبکہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے کہ انجام کار اس کے متقین بندے غالب ہوکر رہیں گے …… یہ وہ یقین ہے کہ جو گوشت پوست کے انسان کے عزم کو فولاد سے بھی زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے۔ نہ اس کے دل میں دنیا کی محبت رہتی ہے اور نہ ہی وہ اللہ کے سوا کسی کا خوف پھر کھاتا ہے ۔ اُسے پھر دنیا جہاں کے ساتھ چھوڑنے کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی ساتھ دینے والوں کے جم غفیر پر وہ کبھی بھروسہ کرتا ہے ۔اس کی نظر اور اس کا بھروسہ بس اللہ پر ہوتا ہے ، اسی کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے اور اسی کی ذات اور اس کے وعدے اس کے قلب و نظر کا مرکز ہوتے ہیں ۔دشمن کی طاقت و سطوت اور اس کی دھمکیاں سب اس کی نظر میں انتہائی حقیر اور بے معنی بن جاتی ہیں ۔ دشمن اس کو کاٹ تو سکتا ہے مگر جھکا نہیں سکتا ۔یوں اس کی زندگی اور اس کا وجود اندھیروں کے اندر مشعل بن جاتا ہے، وہ ایمان کی ایک دعوت بن کر جیتا ہے اور قدم قدم پر اللہ کی بندگی کا راستہ لوگوں کودکھاتا ہے اور یہ وہ مرتبہ ہے جس کو امامت فی الدین کہتے ہیں ، یہ امام المتقین ہونا ہے اور اس عظیم مرتبے کا سبب کیا بنتاہے؟ اس کا سبب اللہ کی اطاعت پر صبر ہے ۔اور یہ صبر صرف تب ہی اُسے ملتا ہے جب اس کے دل میں اللہ کے وعدوں پر یقین ہو، ایمان بالغیب ہو ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ﴾ 3یہ صبر اور یقین ہی وہ توشہ ہے کہ جس کے ذریعے جنتوں کا سفر تمام ہوتا ہے اور یہی وہ ہتھیار ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے مومن دشمنان ِ دین پر غلبہ پاتا ہے۔آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے :وَاعْلَمْ أنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ’’جان لو کہ ناگواری پر صبر کرنے میں خیر کثیر ہے اور( جان لو کہ) نصرت صبر کے ساتھ ہے ، نجات تکلیف کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ وسعت ہے ‘‘۔
یقین کیسےپیدا ہو؟
اللہ نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ اپنے رب اور معبود کوتلاش کرتاہے۔ وہ معبود کہ مشکلات و مصائب میں جس سے مانگے تو وہ اس کی سن لے اور اندرکی بے چینی و بے سکونی سے جب بندہ تنگ ہو اور اس کے سامنے جھکے تو وہ اس کو سکون و اطمینان بخش دے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مطابق معبود کی یہ ضرورت انسان کو کھانے پینے اور دیگر ساری ضروریات سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔وہ اگر اس فطری تلاش اوربے چینی کوخود دباتا نہیں ، جھوٹے سہاروں کا اسیر بن کر اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دیتا تواس کو اللہ کے اذن سے اپنا حقیقی معبود مل بھی جاتاہے ۔ جبکہ ایسے بدنصیبوں کی بھی کمی نہیں جواپنی فطرت کے مطالبے پر اندھے بہرے بنتے ہیں اور اپنا آپ خواہش نفس اور شیطان کے حوالے کر کے ضلالت اور ذلالت پر مُصر رہتے ہیں ۔ایسے لوگ بھی پھر بندگی کرتے ہیں مگر یہ بندگی اللہ کی نہیں ہوتی ہے، بلکہ غیر اللہ کی ،اللہ کی مخلوق کی بندگی ہوتی ہے ۔ اللہ پر یقین کے لیے سب سے اول چیز انسان کے اندر اللہ کے عرفان کی تڑپ ہے ۔ بندہ اگر حق تلاش کرتا ہے تو اللہ رحیم وکریم اپنا دروازہ کھولنے میں دیر نہیں کرتے مگر جو حق کے سامنے تکبر اور بے رُخی دکھاتا ہے اللہ بھی اس کو محروم رکھتا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے: واسئلوا اللہ الیقین والمعافاۃ،’’اللہ سے یقین اور عافیت مانگو‘‘ فانہ لم یؤت أحد بعد الیقین خیراً من المعافاۃ’’یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی خیر کسی کو نہیں ملی ‘‘4۔ گویاسب سے بڑی نعمت یقین ہے اورنبی کریم ﷺ نے نصیحت فرمائی ہے کہ اس کے لیے اللہ سے دعا مانگا کرو۔ جب اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ، فقر اور حاجت مندی کی دل کی گہرائیوں سے دعا ہوتی ہے تو اللہ سبحانہ ٗ وتعالی ٰ بھی اپنی معرفت عطا کرتا ہے اور بندے کے دل کو نورِ یقین سے بھردیتا ہے۔ اس طرح اللہ کی کتاب کے ساتھ زندہ تعلق یقین کا انتہائی اہم ذریعہ ہے ،﴿ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَاناً ﴾آیات ِ کتاب میں فکر و تدبر کرتے رہنا ،خوف کی جگہ پر ڈرنا اور اللہ کے عتاب سے پناہ مانگنا جبکہ رجا واُمید ، جنتوں اور رحمت کے ذکر پر اللہ کی رحمت کا سوال کرنا۔ نیز کتاب اللہ اپنے پڑھنے والوں پر یقین کے نورانی چشمے تب ہی کھولتی ہے جب پڑھنے والے کے سینے میں تقویٰ موجود ہو، لہٰذاتلاوتِ کتاب کے ساتھ تقویٰ اپنانے کی سعی اور دعا کرنا بھی ضروری ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے اسماء حسنی ٰ اور صفات عالیہ سمجھنا اور ان پر غور کرتے رہنا بھی اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔مزید یہ کہ قرآن میں اللہ رب العزت آیات ِ کتاب کے ساتھ ساتھ آیاتِ کونیہ ، اپنے مفعولات میں بھی غوروخوض کی دعوت دیتے ہیں۔ مفعولات سے مراد آسمانوں و زمین اور دیگر سب مخلوقات کی تخلیق اور ان کا چلانا ہے ۔ یہ تخلیق بھی اللہ کی ایک عظیم کتاب ہے ،اس کا بھی ہر صفحہ رُشد و ہدایت سے بھرا ہوا ہے ۔جو فرد اسماء الحسنی اور اللہ کی صفات کوپہلے سمجھے اور پھر اللہ کی اس تخلیق میں فکر و تدبر کرے تو اللہ کی اس عظیم بادشاہت میں اس کو اللہ کے اسماء و صفات ہی کا عملی مشاہدہ ہوجاتا ہے ، اس کے دل میں یقین بڑھتا ہے اور وہ بے اختیار اللہ کی حمد و ثنا شروع کرتا ہے ۔ یقین پیدا کرنے کے اور بھی ذرائع علماء نے بیان کیے ہیں، مگر ایک اہم ذریعہ اہل تقویٰ اور اہل علم کی صحبت ہے، جو کچھ خود تلاش کرنے سے بہت مشکل سے ملتا ہے وہ اللہ سے ڈرنے والوں کے ساتھ کچھ عرصہ گزارنے سے اللہ دےدیتا ہے ۔ اللہ ہمیں یقین سے نوازیں اور ان سب قلبی و بدنی اعمال کی توفیق دیں جو یقین بڑھانے والے ہوں ۔
منزل سے پہلے ، منزل نہ کر قبول !
اللہ کو راضی کرنے کایہ سفر کسی خاص محاذ اور خاص ابتلاء میں صبر کا تقاضہ نہیں کرتا، اس میں زندگی کے ہرہر موڑ اور آزمائش کی ہر ہر صورت پر صبر مطلوب ہے ۔ یہاں نعمتوں سے محرومی اور تنگی بھی آزمائش ہے اور نعمتوں میں گھرنا اور وسعت و کشادگی بھی ابتلاءہے۔اللہ رب العزت کا فرمان ہے ﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ﴾’’ ہم شر اور خیر دونوں کے ذریعہ انسان کی آزمائش کرتے ہیں ‘‘، ہر دو صورتوں میں غفلت اور یہ استحضار نہ رکھنا کہ یہ امتحان ہے ، ہلاکت کاپیش خیمہ بنتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آزمائش کی نہ تو کوئی خاص صورت متعین ہے اور نہ ہی اس کی مدت ودورانیہ کی کوئی تخصیص ہے ۔یوسف علیہ السلام کے واقعے میں ہم دیکھیں کہ کیسے ایک ابتلاءکے ختم ہونے پر دوسری شروع ہوئی ، کیسے ایک آزمائش دوسری سے مختلف و خطرناک تھی اور کیسے کسی ایک آزمائش کےدورانیے کا بھی یوسف علیہ السلام کو علم نہیں تھا ۔ اندھے کنوئیں میں پھینکا جانا کربناک تھا ، وہ آزمائش ختم ہوئی اور عزیز مصر کے گھر پہنچے تواُس وقت اگر کوئی یوسف علیہ السلام کے ساتھ ہوتا تو اُسے یہی لگتا کہ امتحان جیسے ختم ہوا، مگرایسا نہیں ہوا بلکہ عزیز مصر کی بیوی کی طرف سے پھر زیادہ خطرناک آزمائش ان کی منتظر تھی ۔ پھر عزیز مصر کے یہ کہنے پر کہ ﴿ يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ﴾ بھی ایسا محسوس ہوا ہوگا کہ بس پریشانی چلی گئی ،مگر اس کے بعد پھر جیل کی آزمائش شروع ہوتی ہے اور سارے شاہی امتیازات سے آپ ؑ محروم ہوجاتے ہیں۔ جیل میں بھی رہا ہونے والے غلام کو جب کہا کہ اپنے مالک، بادشاہ کے سامنے میرے معاملے کا ذکر کرنا تو ایسا لگا کہ اب یہ مصیبت بھی جلدی ٹل جائے گی مگر اس کے بعد قرآن کہتا ہے ﴿ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ﴾،غرض ایک کے بعد دوسرا امتحان اور ہر امتحان دوسرے سے مختلف ۔یہ تمام امتحانات آسان نہیں تھے ، یہ کب ختم ہوں گے ؟ اس کا بھی انہیں علم نہیں تھا مگر وہ کیا چیز تھی کہ جس نے آپ علیہ السلام کو تھاما تھا؟ وہ یہ یقین تھا کہ ﴿فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ﴾، پس ان تمام مصائب میں آپ سے تقویٰ اور صبر کا دامن نہیں چُھوٹا اور یہاں تک کہ آپ نے اپنے بھائیوں کے سامنے بھی کہا کہ ﴿ إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾ یہ جیسے آزمائش میں کامیابی کا نسخہ آپ نے فرمایا کہ ’امتحان اور اس کا دورانیہ جو بھی ہو بس تقویٰ و صبر کے ساتھ رہو اللہ کبھی ضائع نہیں کریں گے ‘۔
یہاں کچھ لوگوں کے لیے قید و بند کی آزمائش’’ بہت کچھ ‘‘پر نظر ثانی کا سبب بنتی ہے جبکہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو دعوت و جہاد کی سختیوں کا تو مقابلہ کر لیتے ہیں مگر دنیا کی فروانی ان کے لیے بڑا امتحان بن جاتی ہے اوراپنا دین بچاناتک ان کے لیے مشکل ہوجاتاہے ۔کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے سامنے دیگر سب مشاکل آسان ہوجاتی ہیں مگر اہل و عیال کی محبت راہ ِ خدا پر بڑھنے میں پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے ۔ بعض بدنصیب شہرت وقیادت کے وقت تو اس راستے پر بہت تیز چلتے نظر آتے ہیں مگر جوں ہی گمنامی کے امتحان کا سامنا ہوتا ہے ان کا صبر جواب دےدیتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جوبڑی گرم جوشی کے ساتھ آغاز سفر کرتے ہیں مگر جب سفر طویل ہوجاتاہے تو ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں اور آخرت کی دوڑ دنیا کی دوڑ میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اس راستے نے ایسے قابل افسوس افراد کو بھی دیکھا جنہوں نے جہاد کی بڑی سختیاں برداشت کیں اور دشمن کے سامنے بھی وہ بڑے سخت رہے مگر اپنوں کے ساتھ عدل پر قائم نہیں رہ سکے اور یوں گم کردہ رستوں پر چڑھ کر راہ ِ حق سے بہت دور ہٹ گئے ۔اللہ ہم سب پر رحم فرمائے ، سب کو ہدایت پر استقامت دے اور ہم میں سے کسی کو بھی اپنے نفس کے حوالے نہ کرے ، حقیقت یہ ہے کہ انسان کی آزمائش کبھی رکتی نہیں ہے ، امتحان کسی نہ کسی صورت میں جاری ہی رہتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بہار ہو کہ خزاں ، دُکھ وغم کی تنگی ہویا خوشی و راحت کی وسعت ،ہر صورت میں بس بندہ اللہ کا مطیع رہے، کب تک ؟ ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾، تب تک جب تک جسم میں جاں ہو ، مادی طور پرچاہے ہم ہزیمت سے دو چار ہوں یا فتح و نصرت کی آزمائش کا ہمیں سامنا ہو ، تنگی و تکلیف میں ہوں یا نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں ،یہ سب ابتلاءات ہیں ، ان میں سے کوئی ایک بھی منزل نہیں ،کوئی ایک بھی اطمینان و بے غمی کا موقع نہیں ، سب سفر کے پڑاؤ ہیں ۔ منزل موت ہے، ایمان و عمل صالح پر موت ، اللہ کے راستے میں کٹ کر شہید ہوجانا! !جب تک یہ منزل نہ ملی ہو سفر ِرکنا نہیں چاہیے ، اللہ کی اطاعت کا غم کسی طور پر کم نہ ہو ، اپنے نفس کی چالوں اور شیطان کی سازشوں سے ہم بے غم نہ ہوں اور یہ درد دل میں زیادہ سے زیادہ ہو کہ آگے بڑھنا ہے ، رکنا نہیں ہے !
؏لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول !
جب ابتلاء نعمت ِالٰہی بن جاتی ہے……!
ابتلاء میں صبرو استقامت تو مطلوب ہی ہوتی ہے مگر درج ذیل چند امور ایسے ہیں کہ اگر ان پر عمل ہو تویہ صبر آسان ہوجاتا ہے اور ابتلاء اللہ کی طرف سے الٹا نعمت اور تحفہ بن جاتی ہے۔
- اول : صبر کا منبع انسان اپنی جان ، دل اور اپنا نفس نہ سمجھے ۔ یعنی ایسا نہیں کہ انسان خود اپنے اندر کی کمزوری دیکھے اور کہے کہ میں صبر نہیں کر سکتا ہوں ۔نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ انسان جتنا بھی حوصلہ مند ہو ،اگر اللہ کی نصرت اس کے ساتھ نہ ہو تو وہ صبر کبھی بھی نہیں کر سکتا ہے اور اگر اللہ کی توفیق ہو تو ایک انتہائی کمزور بندہ بھی صبر و ثبات کا پہاڑ بن جاتا ہے ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے ، ﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلاَّ بِاللّهِ﴾ ’’صبر کرو! ‘‘برداشت کرو ! مگر کیا یہ صبرتم اپنی قوت و صلاحیت سے کروگے ؟ نہیں قطعاً نہیں ۔ اس لیے آگے فرمایا!’’اور تم صبر نہیں کر سکتے ہو مگر اللہ کی توفیق سے ‘‘۔ یہ اللہ نازل کرتا ہے ،اللہ ہی بندے کو مضبوط کرتا ہے ۔ بس بندہ اللہ سے مانگے کہ اللہ میں تیرےحکم پر، تیری رضا کے لیے ڈٹتا ہوں ،اب تو ہی مجھ پر صبر نازل فرما۔ قرآن نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ ہم اللہ سے مانگیں کہ اللہ ہم پر صبر انڈیل دیجیے ۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْراً وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا ……صبر دینے والا اللہ ہے ، بس بندے کا کام اتنا ہی ہے کہ وہ خود کھڑا رہے ، پیچھے نہ ہٹے اور اللہ سے کھڑا رہنے اور اس کی اطاعت پر ثابت قدم رہنے کی مسلسل دعا مانگے ،ایسا ہوگا تو پھر اللہ بھی بندے کے دل اور قدموں کو مضبوط کر دیتا ہے ۔آپﷺ کا فرمان ہے ’’ومن یتصبر یصبرہ اللہ‘‘، ’جو صبر کرنا چاہتا ہے(اللہ سے مانگتا ہے ) اللہ اُس کو صبر دے دیتا ہے‘۔ اس طرح یہ بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ آزمائش بڑی ہو گئی تو میں صبر نہیں کر پاؤں گا! نہیں! صبر کون سا آپ خود کرتے ہیں ……؟! آپ بس اتنا ہی کریں کہ اللہ سے مانگتے رہیں اور اللہ کے حکم پرڈٹے رہیں،پیچھے نہ ہٹیں، پھر اللہ جو صبر نازل کرے گا وہ اُتنا ہی ہوگا جتنا آپ کو درکار ہوگا ۔ آپﷺ کا فرمان ہے:ان المعونۃ تأتی من اللہ علی قدر المؤونۃ’’اللہ کی مدد تکلیف کے بقدر آتی ہے‘‘ و ان الصبر یأتی من اللہ علیٰ قدرالمصیبۃ5’’اور اللہ کی طرف سے صبر اُتنا ہی آتا ہے جتنی مصیبت ہوتی ہے ‘‘۔
- دوسرا :اللہ رب العزت فرماتے ہیں ! ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ﴾’’ کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں آتی، اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ‘‘۔ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے ، رب کریم پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے دل کو نورِ ہدایت سے بھردیتا ہے۔ گویا اُس کے لیے مصیبت پر صبرا ور نعمت پر شکر پھر آسان ہوگا……اصل سوال ایمان کا ہے۔ اللہ کو اپنا رب ماننا، اپنا پالنے والا ، چلانے والا اور مدد کرنے والا سمجھنا اورپھر اپنا معاملہ مکمل طور پر اللہ ہی کے سپرد کرنا ایمان کی حقیقت ہے۔جن باتوں پر ایمان لانا لازم ہے ان میں سے ایک خاص بات اس آیت میں ذکر ہوئی ہے ﴿ مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ﴾ یہ یقین رکھنا ہے کہ میں جن مشکلات کا بھی سامنا کررہاہوں ، یہ سب من جانب اللہ ہیں اور اس میں اللہ دیکھ رہا ہے کہ میں صبر کرتاہوں ، اللہ کی اطاعت و محبت پر ثابت قدم رہتاہوں یا خدا نخواستہ پھسل جاتا ہوں!! جس طرح اللہ کی کتاب پر ہمارا ایمان ہے کہ اسے اللہ نے نازل کیا ہے ، بالکل اسی طرح اس پر بھی ہمارا ایمان ہونا ضروری ہے کہ جن حالات و واقعات کا مجھے سامنا ہے،جس مصیبت سے میں گزر رہاہوں ، یہ اتفاقی نہیں ہے، ظاہری اسباب اس کے ضرور ہیں مگر یہ اسباب خود آزاد اور بااختیار نہیں ،یہ سب تابع ہیں مسبب کے اور مسبب اللہ ہیں ، یہ اللہ کی مشیت کے بغیر بالکل بےکار اور بے اثر ہیں ، لہٰذا اصل اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ ولقدر خیرہ و شرہ من اللہ تعالیٰ۔مولانا محمد طیب دامت برکاتہ ٗ فرماتے ہیں کہ جس طرح قرآن اللہ کے حاکمانہ اقوال پر مشتمل ہے ، اس طرح ہمارے حالات و واقعات اللہ کے حاکمانہ افعال سے عبارت ہیں ،گویا اللہ کی طرف سے دو شرائع ہیں ۔ایک تشریع ہے اور دوسرا تکوینی ، دونوں کا بنانے والا اوپر اللہ ہے، ﴿أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ﴾دونوں پر راضی ہونا ضروری ہے ، ایک (کتاب )پر عمل ضرور ی ہے تو دوسرے پر (اس کتاب کی روشنی میں) صبر لازمی ہے ۔اسی کا امتحان ہے اور اسی پر اجر ہے۔جنید بغدادی رحمہ اللہ اپنے مریدین سے تین چیزوں کی بیعت لیتے تھے کہ اللہ کے اوامر پر عمل کریں گے ، نواہی سے منع ہوں گے اور اس راستے میں جو مشاکل و مصائب آئیں گے ،اُن پر صبر کریں گے ، کہ اللہ کی محبت اُسی کو ملتی ہے جو یہ تینوں کام کرے۔
- تیسری اہم بات۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں ،’لایقضی اللہ للمومن قضاء الا کان خیرا لہ‘ مومن کے بارے میں اللہ جو بھی فیصلہ کرتا ہے ،یعنی جس حالت میں اس کو ڈالتا ہے اور جن واقعات سے بھی اس کو گزارتا ہے ، اس میں اس کے لیے خیر ہوتی ہے بس شرط یہ ہے کہ بندہ اللہ کا مطیع رہے ، صبر و شکر سے کام لے اور اپنے لیے اُس خیر کو شر میں تبدیل نہ کرے ۔ ہمارے رب کا ایک نام الحکیم ہے ، وہ انتہائی حکمت والا ہے ، بندے کے بارے میں اس کا کوئی فیصلہ بغیر حکمت اور بغیر فائدہ کے نہیں ہوتا ہے ۔ اگر کسی فیصلے میں ہمیں فائدہ سمجھ نہیں آ رہا تو یہ ہماری کم علمی و کم فہمی ہے،﴿ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ﴾ اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ نعوذ باللہ یہ فیصلہ حکمت سے خالی ہے ۔ پس حالات چاہے جتنے بھی ناگوار ہو ں یہ یقین کرنا چاہیے کہ اس میں میرے لیے شر نہیں ، خیر ہے۔ اللہ کے بارے میں بہر صورت حسن ظن ہو کہ میرا رب مجھ پر شفیق ہے ، رحیم ہے ، کریم ہے ، ودود ہے ،وہ میرے ساتھ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے اور اس کے فیصلوں میں خیر ہی خیر ہے بس میں اُس خیر کو سمیٹنے والا بنوں! آپﷺ کا فرمان ہے ،’أنا عند ظن عبدی بی‘، میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں ، یعنی اگر میں اُس پرمصیبت ڈالوں اور وہ اس پر راضی ہوجاتا ہے اور خیر کی امید رکھے تو میں اس کو خیر سے نوازتا ہوں ،لیکن اگر وہ ناراض ہوجائے اور شر کاگمان رکھے تو پھر اسے اس برے گمان کا بدلہ برا ہی ملے گا۔
- چوتھی بات یہ کہ : آپ ﷺ کا فرمان ہے ، کہ جب اللہ کسی سے محبت کرتا ہے تو اُسے امتحان میں مبتلا کرتا ہے ۔إِذَا أَحَبَّ اللهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ! یہ یقین کرنا چاہیے کہ اللہ نے آزمائش اس لیے ڈالی ہے کہ اُس کی مجھ سے محبت ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ میرا ایمان مزید مضبوط ہو ، اُس کے ساتھ میرا تعلق قوی تر ہو ، میں اُس کی طرف پہلے سے زیادہ متوجہ رہوں !میرا بھروسہ اسباب پر نہیں بلکہ رب الاسباب ( مسبب) پر ہو ، میرے ہونٹوں پر اس کا ذکر اور میرے دل میں اُس کی محبت اور اس کی یاد ہو ، وہ رب چاہتاہے کہ میری سوچ ،فکر ، نظریے اور عقیدے کی جان اس عظیم ذات کی معرفت ،اس کی محبت اور اس کا خوف ہو ۔ اللہ چاہتاہے کہ میں بس وہ اعمال کروں جو اُس کو محبوب ہوں ، وہ چاہتا ہے کہ میں شاکر ، صابر ، محسن، عابد اور حقیقی مجاہد بنوں ، یہ وہ حکمت ہے کہ جس کے لیے اُس نے مجھے امتحان میں ڈالا ۔اُس نے میرے لیے وہ دنیاوی اسباب بے معنی کر دیےجو میرے اور اللہ کے بیچ تعلق میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ سچ یہ ہے کہ بعض اوقات ہمارا نعمتوں کے ساتھ اس قدر تعلق بن جاتا ہے اور اس قدر اُن پر اعتبار کرنے لگتے ہیں کہ مُنعِم (جس نے یہ نعمتیں دی ہوئی ہیں ) کے ساتھ تعلق برائے نام اور رسمی ہوجاتا ہے ، جبکہ اللہ جس بندے کے ساتھ محبت کرتا ہے، چاہتا ہے کہ وہ بندہ دل کی گہراہیوں سے اُس سے محبت کرے اور اس محبت کا اظہار اس کے ایک ایک عضو اور ایک ایک حرکت سے واضح ہو ، یہ توجہ دلانے کے لیے پھر وہ بعض نعمتوں کو ذرا ہٹا دیتا ہے تاکہ بندہ دینے والے کا سوچے اور ایسا کرنا بعینہ اس کی محبت کی دلیل ہوتی ہے ۔لہٰذا ایک مومن جب اپنے اوپر آزمائش کو اللہ کی محبت ہی کی علامت سمجھ لیتا ہے اور جو حقیقت میں ہوتی بھی ہے ، تو اس کے دل کی دنیا میں انقلاب آتا ہے۔
- پانچواں یہ کہ وہ کیا نشانی ہے جس سے یقین ہو کہ آزمائش میرے لیے خیر ہے ،شر نہیں؟یہ اس لیے سوچنا ضروری ہے کہ اس کا الٹ بھی تو ہو سکتا ہے؟بالخصوص ان کے لیے جن پر اللہ غضبناک ہو ۔ اگر آزمائش کے بعد بندے کی توجہ اللہ کی اطاعت کی طرف پہلے سے زیادہ ہو، اس کے دل میں اللہ کو راضی کرنے کی تڑپ میں اضافہ ہو اور اس کی کوشش ہو کہ وہ اپنا محاسبہ کرے اور گناہوں سے اپنا آپ پاک کرے جبکہ قلب و عمل کا مرکز اللہ کی محبت کو بنائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اس سے خیر مطلوب ہے اور یہ واقعی اللہ کی محبت ہی ہے کہ اس بندے کو آزمائش میں ڈالاہے ۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو ، تو یہ آزمائش اس بندے کے لیے شر ہے اور اس شر کی نسبت بھی بندے کی طرف ہوگی ، اس لیے کہ وہ خود ہی اس کا ذمہ دار ہے ۔ اللہ کے دروازے تو کھلے ہیں۔آزمائش میں محض تکلیف سے گزرجانا باعث خیر نہیں ۔ بلکہ اس تکلیف کے سبب چونکہ دل ٹوٹ جاتا ہے اور قلب و ذہن مکمل طور پر خالق کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ،اس لیے پھر بندہ اللہ سے مانگتا ہے اور اپنا دل اللہ کے ساتھ جوڑتا ہے ، اُس پر بھروسہ کرتا ہے اور اسی سے محبت کرتا ہے ، تلاوت، سجدہ و رکوع اور تسبیح و تحمید سمیت بہت سے دیگر کارِ خیر کی طرف پھر وہ بھرپور توجہ دیتا ہے ،حق کی شہادت اور اس کی خاطر قربانی و عطا میں پہلے سے زیادہ زور لگاتا ہے اور تویوں ان اعمال کے سبب وہ اللہ کے مزید قریب ہوجاتاہے۔
- چھٹا امر:تکلیف و مصیبت میں سورۃ الضحی کو جب بندہ پڑھتا ہے اور اس پر غور کرتا ہے تو اس کے دل کے بند دروازے اللہ کے انوار سے کھل جاتے ہیں! یہ سورت ایسے وقت میں نازل ہوئی کہ جبکہ آپ ﷺ بھی سخت تکلیف سے گزر رہے تھے۔ سورت اگر چہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب ہے مگر اس میں آپ ﷺ کے ہر امتی اور راہ حق کے ہر راہی کے لیے بھی بہت بڑی خیر و رہنمائی ہے ،لہٰذا دوران آزمائش اس کی روشنی میں چند باتوں کی طرف متوجہ ہونا مفید ہوجاتاہے۔ ایک بات یہ کہ اللہ آپ (بندۂ مومن )کے لیے خیر چاہتاہے، شر نہیں اور اللہ آپ کو محروم نہیں کرنا چاہتا۔ ﴿ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى!﴾ ……آزمائش میں یہی مومن کا یقین ہونا چاہیے ۔دوسرا یہ کہ دنیا و مافیہا ، وہ سب کچھ جن کے لیے دنیا میں کسی انسان کا دل مچل سکتا ہے، ان سب سے آخرت کی نعمتیں بہت ہی زیادہ عظیم بھی ہیں اور ہمیشہ رہنے والی بھی ہیں، لہٰذا دنیا کے دکھ سکھ کی پروا نہ کرو کہ یہ فانی ہیں اور آخرت دائمی ! تھانوی رحمہ اللہ کے مطابق دنیا کی ہر خوشی اور نعمت عیب دارہوتی ہے ،یہ دنیا تو محض اشتہار ہے جبکہ آخرت اصل ہے! ﴿ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى!﴾، پھر یہ کہ ﴿ وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى﴾ ……یعنی اللہ کے ساتھ اگر میں دل لگائے رکھوں اور صبر کروں تو میرے سب غم ختم ہو جائیں گے اور وہ کچھ اللہ عطا کردیں گے کہ میں مکمل طور پر راضی ہوجاؤں گا! اس سورت میں اللہ جیسے بندے کو یہ احساس دلانے کے لیے کہ میں تیرے لیے خیر چاہتاہوں اور تجھ سے مجھے محبت ہے ، دعوت دیتا ہے کہ ذرا تم اپنے ماضی پر نظر ڈالو کہ میں نے تیرے ساتھ کیا کیا بھلائیاں نہیں کی ہیں ؟ تمہیں دنیاوی تنگیوں سے محفوظ کیا ، نعمتوں کی بھرمار کردی ہے اور بڑی بات یہ کہ میں نے تمہیں ہدایت کی عظیم ترین نعمت بھی عطا کی ! یہ سب کچھ کیا اس کی علامت نہیں کہ میں تیرے بارے میں خیر چاہتاہوں اور تجھ سے محبت کرتاہوں ؟!﴿ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوَى وَوَجَدَكَ ضَالّاً فَهَدَىوَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْنَى!!﴾ یہ سب اللہ کی محبت کی نشانیاں نہیں ہیں کیا؟؟کیا یہ اللہ تمہیں ایسے ہی چھوڑ دے گا؟ کیا تم اُس رب سے یہ توقع کرتے ہو جو حکیم ہے، لطیف اور رؤوف ہے اورجو اپنے بندے پر ایسا بوجھ کبھی نہیں ڈالتا جو وہ اٹھا نہیں سکتاہو۔ جب ایسا ہے تو پھر کیا کرناہے ،کرنا یہ ہے کہ خیر و صلاح کے کاموں کی طرف بڑھو! ﴿فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ فاستبقواا لخیرات ! اللہ کو راضی کرنے کے لیے لپکو! تم تکلیف و تنگی محسوس کرتے ہو جبکہ اس حال میں بھی دیکھو کہ میں نے تم پر کتنی نعمتیں کی ہیں،﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ!﴾ ان نعمتوں کا استحضار کرو ! ان کا ذکر کرو!! کہ نعمتوں کا استحضار دل میں مُنعم (اللہ) کی محبت کو بڑھاتا ہے ۔ اس لیے کہ یہ نعمتیں مُنعم کی محبت کی نشانیاں اور اس کے تحفے ہیں۔ سمجھ دار آدمی بھجوائے ہوئے تحفے کی قیمت و کیفیت نہیں دیکھتا بلکہ بھجوانے والے کی محبت محسوس کرتا ہے اور دل سے اس کا شکرگزار بنتا ہے، جبکہ ہمارے رب کے تحفے بھی تو لاتعداد بھی ہیں اور بے مثال بھی !
آزمائش میں جب قلب وذہن کا محور یہ امور بن جائیں اور بندہ اپنے رب کے سامنے بالکل آخری حد تک فقر محسوس کرے ، اپنے ہاتھ میں ایک تنکے کے برابر طاقت اور خوبی خیال نہ کرے بلکہ جو کچھ ہے سب اللہ کی طرف سے ہے کا یقین کرےاور پھر اس ٹوٹے دل کے ساتھ اللہ کے ساتھ ہم کلام ہوجائے ،قرآن کی تلاوت کرے ، لمبے سجدے اور طویل قیام کرے، گناہوں سے استغفار کرے اور نیکیوں کی طرف لپکے ، تو اللہ ہدایت و محبت کے چشمے اس کے دل میں کھول دیتے ہیں ۔ قرآن کی آیات یہ پہلے بھی پڑھتا تھا مگر اب ایک ایک آیت میں اللہ کی محبت و معرفت کی ندیاں بہتی محسوس ہوں گی ۔بندے کی ہدایت کی رفتار تیزتر ہوجاتی ہے ، آزمائش کی گرمی دل کا زنگ اتاردیتی ہے اور ساری آلائشیں اور رکاوٹیں بہہ جانے کے بعد اس کو وہ لذت ِ ایمانی محسوس ہوتی ہے کہ جس کا پہلے کبھی بھی اس کو تجربہ نہیں ہوا تھا۔ یوں بندے کو آزمائش کی تکلیف باقاعدہ نعمت محسوس ہوجاتی ہے ۔ اس کو اللہ کے ساتھ محبت نہ صرف محسوس ہوجاتی ہے ، بلکہ یہ محبت تمام دوسری محبتوں پر غالب ہوجاتی ہے اور ایسے میں درد و تکلیف اور تنگی کے باوجود اندھیرا اندھیرا نہیں رہتا بلکہ اس کو دور دور تک نور ہی نور نظر آتا ہے۔ اس کا یقین بڑھتا ہے کہ اللہ کی نصرت قریب ہے ، یہ آزمائش ہٹنے کی صورت میں بھی کہ اللہ کی مدد قریب ہے ……مگر اس کو اب رضا بالقضا کی نعمت اللہ نے دے دی ہے ، یہ اپنا معاملہ اپنے حکیم رب کے سپر د کرتا ہے کہ وہ جب بھی اس آزمائش کو مجھ سے ہٹائیں گے ، وہی اس کے ہٹنے کا بہترین وقت ہوگا۔ لہٰذا دنیاوی آزمائش کے متعلق فکر سے زیادہ وہ جسم کے اندر روح کے بند ہونے کی اس آزمائش کے ختم ہونے اور اللہ کے دیدار کا منظر کا سوچتارہتا ہے اور اس کا جسم زمین پر ہوتا ہے ، بیماری کی اذیت میں ، قید میں ، جہاد و رباط اور دربدری و اجنبیت میں وہ تکلیف سے گزرتاہے مگر اس کی روح فرش سے عرش کی طرف اللہ سے جیسے مخاطب ہوتی ہے ،اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ عُسر ایک ایسا یُسر لائے گا جہاں پھر کوئی تنگی نہیں ہوگی ۔ یوں اس کا دل ایک ایسے نور سے پھر بھرجاتاہے کہ جس کےبعد پھر دنیا کے ساتھ اس کی محبت نہیں رہتی ،وہ آخرت کا سچا طالب بن جاتا ہے ، اسے دنیا کی کامیابی و ناکامی ، اس کی خوشی و غمی اور اس کی تنگی و وسعت ، لذت و اذیت، چین و بے چینی ، امن و خوف میں کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا ، اس کی دلچسپی کا واحد مرکز اللہ ہوتا ہے اللہ!! ! وہ اللہ کہ جس کی طرف سب کو لوٹنا ہے! کسی کو اللہ اچانک دنیا سے اٹھائے گا جبکہ وہ دنیا سے اٹھنے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور یہ مومن انتظار کرتا ہے کہ کب بلاوا آئے گا ،اس نے اپنا رخت ِسفرہر لمحہ باندھا ہوتا ہے کہ کب مٹی سے بنا جسم مٹی ہوگا اور روح آزاد ہوگی تو رب کا دیدار ملے گا۔ فرق ہے دونوں کے انجام میں ! اور یہ نعمت ، یہ عرفان ا ور یہ معرفت کے انوار اور محبت و چاہت کی یہ حدت و شدت صرف اُس وقت اس بندے کو محسوس ہوئی جب وہ اللہ کے راستے میں ستایا گیا ، آزمائش سے گزارا گیا ! اس لیے جب وہ آزمائش سے پہلے اور بعد کا تقابل کرتا ہے تو بے اختیار اللہ کا شکر ادا کرتاہے اور بھیگی آنکھوں اور قلب میں اٹھے گہرے درد کے ساتھ کہتاہے کہ آزمائش میرے لیے مصیبت نہیں، عظیم نعمت ثابت ہوئی !
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
1 ’’ جو شخص تقویٰ اور صبر سے کام لیتا ہے، تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ ‘‘(سورۃ یوسف: ۹۰)
2 ’’ جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بےحساب دیا جائے گا۔ ‘‘(سورۃ الزمر: ۱۰)
3 ’’ اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو، جب انہوں نے صبر کیا، ایسے پیشوا بنا دیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ ‘‘(سورۃ السجدۃ: ۲۴)
4 صحیح الجامع
5 مسند البزار






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



