نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home عالمی منظر نامہ

ہے کون کتنے تیل میں!

by عامرہ احسان
in جنوری ۲۰۲۶ء, عالمی منظر نامہ
0

اسرائیل کی ملک در ملک امریکی چھتری تلے غارت گری دیکھتے (غزہ، مغربی کنارہ، لبنان، شام، ایران، قطر) تیسرا سال چل رہا ہے۔ امریکہ نے نام نہاد جنگ بندی غزہ میں کروا کر، امن پلان تھما کر اپنے اگلے ایجنڈوں کی راہ لی۔ اب اسے بھی تو کچھ حملے کرنا لازم تھے۔ مثلاً نائیجیریا پر بمباری۔ سیاسی ضرورت کے تحت اپنے ہاں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی خاطر عیسائیت کے نام پر لگے ہاتھوں 25 دسمبر کو ’کرسمس کا تحفہ‘ کہہ کر اچانک سمندر سے کروز میزائل دے مارے، شمالی نائیجریا پر (مسلم اکثریتی علاقہ) ۔ یہ یلغار تنقید کا نشانہ بنی۔ کہاں لگے کہاں گرے سب متنازع تھا۔ پس منظر واضح رہے کہ شمالی نائیجیریا میں مسلم اکثریتی بنیاد پر نفاذ شریعت اور اسلامی عدالتوں کا قیام ہوا تھا۔ 1999ء میں ایک ریاست (صوبے) سے شروع ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے 2000ءمیں 12 صوبوں تک پھیل گیا۔ اس سے غیر معمولی امن و استحکام آیا۔ دو دہائیوں بعد تک آج بھی اس کے گہرے اثرات نائیجیریا کے معاشرتی، قانونی، سیاسی اعتبار سے موجود ہیں۔ تاہم اس تحریک کو کچلنے کے نتیجے میں یہ علاقہ لاقانونیت، بدامنی کی زد میں آگیا جس سے مسلم اور عیسائی یکساں طور پر متاثر ہوئے۔ مجرم جتھوں نے اغوا برائے تاوان کیا۔ مسلمان خواتین اور بچیاں بھی اغوا ہوئیں مگر یہ خبر دبی رہی۔ جبکہ ایسے ہی ایک حملے میں مشنری سکول اور گرجے کے نشانہ بننے پر خوب تشہیر کی گئی۔ ٹرمپ نے موقع غنیمت جان کر عیسائیت بچانے کا فریضہ (بزعمِ خود) سنبھال کر حملہ کر ڈالا۔ ایسی مزید بمباریوں کے ارادے کا اظہار کیا جس پر عیسائیوں نے بھی اس کے مؤقف کو رد کیا۔ باوجودیکہ یہاں عیسائی مسلم مسئلہ نہ تھا مگر کمزور حکومت پر دباؤ ڈال کر یہ بیان دلوایا کہ یہ ان کی حکومت کے ایما پر کیا گیا۔

اسی دوران امریکہ آنے والی بڑی جنگوں (گریٹر اسرائیل) کی تیاری میں جنوبی، لاطینی امریکہ کے لیے اپنے بڑے ارادوں کی تکمیل چاہتا تھا۔ جنگوں کے لیے ایندھن (تیل) درکار ہے جو وینزویلا کے پاس بے پناہ ہے۔ سو مستقل وینزویلا سے منشیات کی آڑ میں کشتیوں پر امریکی حملوں کا سلسلہ چلا۔ ستمبر تا 12 دسمبر2025 ء امریکہ نے 22 حملے کیے۔ 100 سے زائد افراد مارے گئے۔ بلا شواہد دعویٰ رہا منشیات کی ترسیل کا۔ تاآنکہ 3 جنوری کو وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر کئی حملے کیے۔40گارڈ (بمعہ 32کیوبا کے ) ہلاک کر کے، صدر مادورو اور ان کی بیوی کو اغوا برائے تاوان کی جدید ترین عسکری مہم میں نیویارک لے آئے۔

کس میں جرأت ہے کہ پوچھے ہم سے حملے کا جواز
بس مفاد اپنا ہمیں منظور ہے اس کھیل میں
کتنے پانی میں ہے کوئی یہ نہیں ہم دیکھتے
دیکھتے ہیں صرف یہ ہے کون کتنے تیل میں

سو وینزویلا سے تو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخیرے کے مالک ہونے کے جرم پر تاوان درکار ہے۔ ٹرمپ کی زبان میں ’پورا ملک ہی ہم خود آ کر چلائیں گے، بندے بن جاؤ!‘ کا مطالبہ ہے۔ کہا ہے کہ اتنے بڑے ذخیرے کی درست دیکھ بھال نہیں ہو رہی۔ آ کر ہم مرمت کریں گے (تمہارے علاوہ) اس پوری صنعت کی، اور اسے بیچیں گے بھی دنیا میں۔ یہ عراق پر حملے ہی کی طرز پر کیا گیا ہے۔ وہاں بہا نہ عام تباہی کے ہتھیار تھے، نشانہ مسلم آبادی اور تیل تھا۔ امریکہ نے کئی ماہ کی تیاری کے بعد 150 جیٹ طیارے،20 عسکری ہوائی اڈوں سے اڑا کر یہ آپریشن کیا، جسے ٹرمپ نے فخریہ امریکی تاریخ میں فوجی قوت کا مبہوت کن، مؤثر ترین مظاہرہ کہا۔

پوری دنیا ایک مرتبہ پھر چلا اٹھی استعماریت کی اس نئی تکنیک اور لہر پر۔ اگرچہ امریکہ اس وقت دو زبانیں بول رہا ہے۔ ایک ٹرمپ کی نتین یاہوئی زبان ہے۔ تکبر، رعونت، دھونس دھمکی کی۔ دوسری زبان سٹیٹ سیکرٹری روبیو کی، صدر کی جلائی آگ پر پانی چھڑکنے کی زبان۔ گاجر اور ڈنڈا دونوں۔ یاد رہے کہ امریکہ پر کبھی حملہ نہ ہوا۔ مگر امریکہ نے 250 سال سے کم عرصے میں 100 ممالک پر حملہ کیا۔

اب کہانی پھر وہی ہے کہ عوام دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ خود امریکہ کے شہر، شہر مظاہرے جاری ہیں اس بھاری دہشت گردانہ، بین الاقوامی قوانین کے پرخچے اڑاتی واردات پر۔ یوں گویا وہ آئین و قانون کی پابند ایک سپر پاور نہ ہو، کچے کے ڈاکوؤں کا جتھا ہو! وینزویلا کے صدر کو بیوی سمیت اٹھا کر اپنے ڈیرے پر لا ڈالنے والا۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے اس حملے پر شدید تنقید کی ہے:

’’امریکی صدر کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ یک طرفہ ملک جنگ میں دھکیل دے (کانگریس سے بالا بالا) ۔خواہ وہ کرپٹ اور ظالم آمر میڈورو ہی کیوں نہ ہو۔ نہ ہی امریکہ کو یہ حق ہے کہ وہ وینزویلا پر حکومت کرے۔ کانگریس فوری طور پر ’جنگی اختیارات‘ کی قرار داد پاس کر کے یہ غیر قانونی فوجی کارروائی ختم کر کے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے۔ بین الا قوامی قانون کی یہ خلاف ورزی کسی بھی قوم کو یہ کھلی چھٹی دے گی کہ جو ملک جہاں چاہے کسی بھی دوسرے ملک پر حملہ کر کے اس کے وسائل پر قبضہ کر لے یا حکومتیں بدل دے، یہ طاقت کی خوفناک منطق ہے ۔ وینزویلا کے تیل ذخائر کنٹرول کرنے کے حق کا(ٹرمپ کا) دعویٰ، واضح استعماریت ہے۔‘‘

امریکی عوام کے معاشی حالات کی ابتری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ملکی پریشانیوں کی فکر کرے بجائے باہر مہم جوئیاں کرنے کے۔ وہ اپنا ملک چلانے سے قاصر ہے، وینزویلا چلانے کی کوشش نہ کرے! یہ نصیحت آج سبھی حکمرانوں کو کرنے کی ہے۔ تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو! ایک سابق امریکی فوجی جو عراق، افغانستان سے ہڈیاں تڑوا کر آیا تھا غصے سے پاگل ہوا سڑک پر نکل کر پولیس کے در پے ہو گیا۔ اونچا، لمبا پولیس کو مارنے دوڑ رہا تھا اور وہ بچتی پھر رہی تھی۔ تم اربوں ڈالر اسرائیل کو بھیجتے ہو، ادھر سابق امریکی فوجی بے گھر، خود کشیاں کر رہے ہیں۔ امریکہ ناکام ریاست ہے۔ 17 سال سروس کے بعد بیمار، خوار کاٹ کھانے کو تھا! یہی حال عین اسرائیلی فوجیوں کا ہے جو معذور، نفسیاتی مریض ہوئے، خودکشیاں کرتے اپنی حکومت کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے، جو یہ سب حکمران اپنے اقتدار، دولت کے پیچھے لگے دنیا کو جہنم زار بنا رہے ہیں۔

روس کے علاوہ چین نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین اور یو این چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ و ینزویلا کے صدر اور بیوی دونوں کو فوراً رہا کرنے اور ان کی سلامتی یقینی بنانے کو کہا۔ حکومت الٹا نے سے باز رہ کر بات چیت سے مسائل حل کرنے کی تاکید کی۔ چین خود بھی وینزویلا کے تیل کا بڑا خریدار ہے۔ مگر وہ تیل خریدتا ہے، لوٹتا، ڈاکہ نہیں ڈالتا! اس کے تجارتی مفادات جنوبی امریکہ (اور خطے) میں ہیں۔ اس سے چین، امریکہ تعلقات میں تناؤبڑھے گا۔

دنیا بھر میں برپا کردہ افراتفریاں، مظلوم فلسطینیوں سے توجہ ہٹا رہی ہیں۔ جب کہ اسرائیل اپنی ظالمانہ کارروائیوں میں جاری و ساری ہے۔ موسمی شدتوں میں ڈوبے ٹھٹھرتے فلسطینیوں کی مددگار، تین سو ستر این جی اوز پر اسرائیل نے مزید پابندیاں لگا کر امدادی راستے بند کر دیے ہیں نئے قوانین کے بہانے۔ اس کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ یورپی اور دنیا بھر کے عوام فلسطین کے ساتھ اب وینزویلا کے جھنڈے لہرانے، مظاہرے کرنے میں مصروف ہیں۔

برطانیہ، فرانس کے حکمران امریکہ اسرائیل سے پیچھے کیوں رہیں؟ سو ان دونوں ممالک نے شام میں داعش کے ٹھکانوں، ہتھیاروں کے ذخیرے پر حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق یہ امریکی قیادت میں ’آپریشن عزمِ لازم‘ کا اسلامک سٹیٹ کے خلاف کیا گیا اقدام تھا، تا کہ یہ گروپ دوبارہ نہ ابھر سکے۔ احمد الشرع جو خود پہلے جہادی تھا، اب تائب ہو کر بڑی طاقتوں کا مصاحب بن گیا ہے!، وہ بھی شام کا تحفظ چاہتا ہے۔ اور اس نے برطانیہ فرانس کو ٹھیکہ دیا ہے؟ امریکہ بھی حال ہی میں ان کے درجنوں نشانے لے چکا ہے۔ (اے ایف پی رپورٹ) سو اب چوہدریوں اور ان کے مصاحبوں کے عزائم کے رحم و کرم پر عوام الناس کی دنیا بھلی بری جیسی گزرے! تاہم ابابیلیں اپنے حصے کے کنکر لیے دنیا بھر میں قطار اندر قطار جتی ہوئی ہیں۔ اس ظالمانہ کھوکھلے نظام کا کھایا ہوا بھوسہ تو بنے گا باذن اللہ!

وینزویلاپر حملے کے لیے امریکہ کو بے پناہ تیاری کرنی پڑی۔ اس کے گھر جیسا گھر بنا کر تربیت طویل عرصہ دی گئی! حماس اور طالبان نے بڑی طاقتوں کا اپنی بے سرو سامانی کے باوجود جنگوں میں بھو سہ بنا دیا۔ حماس سے لڑواتے، امریکہ کے ہتھیار ختم ہو گئے! فی الوقت تو دنیا تیل دیکھے اور تیل کی دھار دیکھے!

[یہ مضمون ایک معاصر روزنامے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]

٭٭٭٭٭

Previous Post

اصلاحِ معاشرہ | گیارہویں اور آخری قسط

Next Post

سڈنی (بونڈائی) حملہ: کیا ہمارا طرزِ فکر درست ہے؟

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026

23 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

20 جنوری 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | بارہویں قسط

20 جنوری 2026
غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان
طوفان الأقصی

غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان

20 جنوری 2026
ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!
طوفان الأقصی

ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!

20 جنوری 2026
Next Post
سڈنی (بونڈائی) حملہ: کیا ہمارا طرزِ فکر درست ہے؟

سڈنی (بونڈائی) حملہ: کیا ہمارا طرزِ فکر درست ہے؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version