نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home نقطۂ نظر

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

by سعادت مجازی
in جنوری ۲۰۲۶ء, نقطۂ نظر
0

پیش لفظ

ایک زمانہ تھا جب جمہوریت کا سراب اپنے ساتھ دیگر بہت سے سراب لے کر آیا۔ ان سرابوں میں سے ایک یہ تھا کہ مسلح جدو جہد و مزاحمت کو چھوڑو، پر امن مظاہروں کی طرف آؤ۔ جب معاملات اس سے حل ہو سکتے ہیں تو کیا ضرورت ہے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کی۔ یوں بالخصوص مسلمانوں کو میادینِ جہاد سے اٹھا کر سڑکوں پر لا کھڑا کیا، ہاتھوں سے تیر و تفنگ چھین کر بینر اور کتبے تھما دیے، میدانِ جنگ میں تکبیر کی صدائیں بلند کرنے کی بجائے سڑکوں پر گلے پھاڑنے پر لگا دیا۔ پھر ان مظاہروں کی افادیت کو ثابت کرنے کے لیے پہلے حقوق دبائے اور پھر لوگوں کو مظاہروں پر ابھارا، جب لوگوں نے مظاہرے کیے تو واپس دے دیے تاکہ لوگوں کو یقین آ جائے کہ اس طرح بھی مقاصد حاصل ہو جایا کرتے ہیں، یوں اس سراب میں پڑ کر ساری امت احساسِ زیاں سے محروم ہو گئی۔

یوں عالمی و مقامی طاقتوں نے اپنی بقا کو لاحق خطرات کا سدباب تو کر لیا لیکن ان مظاہروں سے معاشی نقصانات پھر بھی ہوتے ہی تھے، چاہے جنگوں کی نسبت کم صحیح۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کو کہاں قبول تھا کہ اپنی تجارتی منڈیوں کو معمولی نقصان بھی پہنچے۔ اس سے بچنے کے لیے پھر سوشل میڈیا متعارف ہوا۔ اب جس کو احتجاج کرنا ہو وہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتا ہے، کسی معاملے پر تحریک کھڑی کرنی ہو تو سوشل میڈیا پر ہی مہم اور ٹرینڈ چلا کر مطمئن ہو رہتا ہے۔ نہ سڑکیں بند، نہ کاروبار بند، نہ املاک کا نقصان، نہ سڑکوں پر نکلنے کی زحمت، نہ گلے پھاڑنے کی کوفت۔ سب کچھ اپنی آرام گاہوں میں سکرین کے سامنے بیٹھ کر ہی ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً کچھ حاصل ہو یا نہ ہو دل ضرور مطمئن ہو جاتا ہے۔

جمہوریت جتنے سراب اپنے ساتھ لائی سوشل میڈیا کے سراب اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ مذکورہ بالا سراب اس کی ایک مثال ہے۔

سوشل میڈیا ہمیں رابطوں کا سراب دکھاتا ہے، گویا ہم ساری دنیا سے جڑے ہیں، ہر جگہ موجود ہیں، لیکن ہوتے کہیں بھی نہیں۔ ساری دنیا تو دور کی بات سوشل میڈیا صارف تو اپنے گرد وپیش سے بھی بے خبر ہوتا ہے۔

وہ سراب دکھاتا ہے کہ لوگ ہماری بات سنتے ہیں، لوگوں پر ہماری بات کا اثر ہوتا ہے، ہم کچھ عمل کر رہے ہیں۔ جیسے ہماری پوسٹس، لائکس اور شیئرز دنیا بدل رہے ہیں۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے۔ ہم ان سرابوں کے پیچھے سر پٹ دوڑتے رہتے ہیں، گھنٹوں تلک سوشل میڈیا فیڈ کو سکرول کرتے چلے جاتے ہیں، بحثیں کرتے ہیں، اپنی جذباتی توانائیاں خرچ کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی تبدیلی لانے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں حالانکہ حقیقت میں بدلتا کچھ بھی نہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہمیں مشغول رکھنے کے ساتھ ساتھ مطمئن رکھنے کا بھی فن جانتے ہیں، لیکن ساتھ میں یہ بھی یقینی بناتے ہیں کہ کوئی حقیقی تبدیلی نہ آئے، حقیقی رابطے نہ ہوں، حقیقی عمل سے بھی صارف دور ہی رہے۔

ذیل میں سوشل میڈیا کے انہی سرابوں پر کچھ مزید روشنی ڈالتے ہیں۔

عمل کا سراب

جدید سوشل میڈیا ایک انتہاائی پر کشش احساس عطا کرتا ہے۔ اس بات کا احساس کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے آپ اس کے عین وسط میں موجود ہیں، آپ جاہل نہیں ہے بلکہ ہر چیز سے باخبر ہیں۔ پاکستان، بھارت، کشمیر، فلسطین، سوڈان غرض دنیا میں جہاں بھی ظلم و نا انصافی ہو رہی ہے آپ اس کے حوالے سے بے حس نہیں ہیں، آپ اخلاقی طور پر بیدار ہیں، ان سب مظالم و نا انصافیوں کے خلاف کچھ نہ کچھ عمل کر رہے ہیں۔ اور سب سے بڑا احساس یہ ہوتا ہے کہ آپ خاموش رہ کر شریکِ جرم نہیں بن رہے۔

آپ غزہ میں ہونے والے ظلم، نسل کشی اور جنگ کو براہ راست منظر عام پر آتا دیکھتے ہیں، آپ اپنے ملک میں ہونے والی نا انصافیوں، جبر، اور معاشی تباہی کو دیکھتے ہیں۔ آپ اس پر آواز اٹھاتے ہیں، ری پوسٹ کرتے ہیں، بحث و مباحث میں حصہ لیتے ہیں، مذمت کرتے ہیں، کہیں غم و غصے کا تو کہیں یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور پھر جب آپ اپنی سوشل میڈیا ایپ بند کرتے ہیں تو دل میں ایک اطمینان ہوتا ہے کہ میں نے جو کچھ برا ہو رہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا، اس سے نظریں نہیں پھیریں۔

اس احساس کا پیدا ہونا کوئی اتفاقی امر نہیں ہے بلکہ یہ تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے پیدا کردہ سب سے طاقتور نفسیاتی حربوں میں سے ایک ہے۔

ہر جگہ موجود ہونے کا سراب

لیکن عمل کے اس سراب سے بھی پہلے سوشل میڈیا آپ کو اس واہمے میں مبتلا کرتا ہے کہ ہر جگہ موجود ہیں۔ آپ صرف کسی علاقے سے، کسی برادری یا معاشرے سے ہی نہیں جڑے ہوئے بلکہ پوری دنیا سے جڑے ہوئے ہیں۔

لیکن سوشل میڈیا الگورتھم آپ کو حقیقی دنیا نہیں دکھاتے بلکہ دنیا کا ایک ایسا ورژن دکھاتے ہیں جو لوگوں کو مشغول رکھنے کے لیے سجایا گیا ہے، اور اس کے ذریعے وہ دو مختلف گروہوں، صارفین اور کانٹینٹ کرئیٹرز، کو قائل کرتے ہیں کہ وہ ایک مشترکہ عالمی حقیقت میں براہ راست حصہ لے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں گروہ ایک غیر مرئی نظام کے ہاتھوں کنٹرول کیے جا رہے ہوتے ہیں۔

صارفین کے لیے سراب

ایک فیڈ میں پوری دنیا

سوشل میڈیا دنیا کو ایک ہی فیڈ میں سمیٹ دیتا ہے۔

  • ایکس (ٹوئٹر) پر، نسل کشی کی اپ ڈیٹ لطیفوں اور انفلوئنسرز کی ڈرامے بازیوں کے درمیان آ جاتی ہے۔

  • انسٹاگرام پر، جنگ کی فوٹیج چھٹیوں کے پر تعیش مقامات کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔

  • ٹک ٹاک پر مظالم موسیقی کے رجحانات کے بعد آ جاتے ہیں۔

  • یو ٹیوب پر طویل تجزیے جذبات بھڑکانے والے تھمب نیلز کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔

یہ انہدام فطری منطقی حدود کو مٹا دیتا ہے۔ حقیقی زندگی میں واقعات کا ایک پیمانہ ہوتا ہے، ان میں فاصلہ ہوتا ہے، ان کا ایک دورانیہ ہوتا ہے اور ایک نتیجہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر سب کچھ یکساں طور پر موجود اور یکساں طور پر فوری اور عاجل لگتا ہے۔

جب آپ کسی چیز کو بار بار دیکھتے ہیں، تو اس کے عاجل ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے، اگر وہ عاجل محسوس ہو تو آپ کو اس پر ردّ عمل دینا ضروری لگنے لگتا ہے۔ لیکن ردّ عمل دینا اور خود اسے اچھی طرح سے سمجھنا ایک جیسے نہیں ہوتے۔

غم و غصے کا راج

تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں ایک ہی اصول نافذ ہے۔ جو مواد شدید جذبات ابھارتا ہے، وہ صارفین کو زیادہ دیر تک فعال رکھتا ہے۔

غصہ، خوف، رسوائی، اخلاقی کراہت، یہ جذبات قابلِ اعتماد طریقے سے تبصرے، شیئرز، ٹوئیٹس، کمنٹس، ری ایکشن، اور ویڈیوز پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سکون و تحمل سے دی گئی وضاحتیں ایسا کچھ نہیں کرتیں۔

سوشل میڈیا الگورتھم کو سچ اور جھوٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، اسے پرواہ ہے تو صرف اتنی کہ لوگ مشغول رہیں۔

مشغولیت بطور علم و معلومات کا متبادل

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سچائی، حقائق کی درستگی یا انہیں سمجھنے کے لیے ترتیب نہیں دیے گئے، یہ ترتیب دیے گئے ہیں لوگوں کو مشغول رکھنے کے لیے۔ مشغولیت کو ناپا جا سکتا ہے لیکن سمجھ کو نہیں۔

کسی بات پر غصہ اس بات کی وضاحت سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، کسی واقعہ کا خوف اس کے سیاق سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، اسی طرح پورے یقین و اعتماد سے کیا گیا دعویٰ شک و ابہام سے کی گئی بات سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پلیٹ فارم پر، بلا استثنا، غم و غصہ غالب ہے۔ نتیجتاً لوگ خود کو باخبر سمجھتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس درحقیقت معلومات بہت کم ہوتی ہیں، وہ سوچتے بہت سست روی سے ہیں لیکن ردّ عمل فوری دے دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا فیڈز: جوئے کی سلاٹ مشین سے مماثل

لامتناہی سکرول، نوٹیفیکیشن، لائکس، ری پوسٹ، ویوز، یہ سب محض سوشل میڈیا کے سجاوٹی عناصر نہیں ہیں بلکہ یہ آپ پر پھینکے گئے جال ہیں۔

سوشل میڈیا رینڈم انعامات کے نظام پر چلتا ہے، بالکل وہی نظام جو جوئے میں استعمال ہوتا ہے۔ زیادہ تر مواد بے کار ہوتا ہے، لیکن اس کے درمیان کوئی ایسی چیز سامنے آ جاتی ہے جو جذباتی طور پر دل کو لگ جاتی ہے، یا آپ کو غصہ دلاتی ہے، یا خوش کرتی ہے وغیرہ۔ یہی غیر یقینی صورتحال صارف کو سکرول کرتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ آپ کا دماغ عادی ہو جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے اگلے سکرول کے بعد جو پوسٹ آئے وہ کام کی ہو اس لیے آپ سکرول جاری رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ کار ہمیشہ سے جوئے میں آزمایا جاتا رہا ہے اور اب سوشل میڈیا میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا فیڈ آپ سے یہ وعدہ نہیں کرتی کہ ہر پوسٹ اچھی ہو گی، وہ صرف یہ وعدہ کرتی ہے کہ سکرول کرتے جائیں اچھی پوسٹ ملنے کا امکان ہے۔ جوئے میں آپ کا پیسہ بار بار ضائع ہوتا رہتا ہے اور سوشل میڈیا سکرولنگ میں پیسے سے بھی زیادہ قیمتی آپ کا ’وقت‘ کھپتا ہے۔

کانٹینٹ کرئیٹرز کے لیے سراب

عالمی رسائی

ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کانٹینٹ کرئیٹرز(Content Creators) کو ایک ہی کہانی سناتا ہے، تم پوسٹ کرو ساری دنیا تمہاری پوسٹ دیکھ سکتی ہے۔

یہ سراسر جھوٹ ہے۔

کسی کانٹینٹ کرئیٹر کا اپنے مواد کی تقسیم پر اختیار نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں تک رسائی آپ کا حق نہیں بلکہ یہ سوشل میڈیا الگورتھم کی اجازت پر منحصر ہے۔

تمام پلیٹ فارمز پر مواد سب سے پہلے تھوڑے سے صارفین کو بھیجا جاتا ہے، اس کے بعد اس مواد کے حوالے سے ان صارفین کی مشغولیت کے اعداد و شمار طے کرتے ہیں کہ یہ پھیلے گا یا نہیں۔ زیادہ تر پوسٹیں خاموشی کے ساتھ اپنی موت آپ مر جاتی ہیں اور کانٹینٹ کرئیٹر کو کبھی پتہ نہیں چلتا کہ ایسا اصل میں کیوں ہوا۔

اس کی پوسٹ اگر دس لوگوں تک پہنچے تو اسے وہ ناکام پوسٹ لگتی ہے لیکن اگر وہ دس ہزار لوگوں تک پہنچ جائے تو یہ ایک پر اثر پوسٹ کہلاتی ہے۔ لیکن دونوں صورتوں میں مواد کتنا درست اور حقیقی تھا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ ایک خطرناک سراب پیدا کر دیتا ہے، کانٹینٹ کرئیٹر سمجھتے ہیں کہ اگر چیز وائرل ہو گئی ہے تو یہ اس کی اہمیت اور قبولیت کا ثبوت ہے۔

ایک غیر مرئی اور نامعلوم جج

چونکہ سوشل میڈیا پر مواد کے وائرل ہونے یا دفن ہو جانے کے قوائد غیر شفاف اور مبہم ہوتے ہیں اس لیے کانٹینٹ کرئیٹر خود کو الگورتھم اور الگورتھم بنانے والوں کی مرضی کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیتے ہیں۔

وہ دلائل کو مختصر کرتے ہیں کیونکہ مختصر چیز ہی چلتی ہے، وہ اپنی پوسٹ کے لہجے کو تیکھا کر لیتے ہیں کیونکہ اس پر ردّعمل آتا ہے، وہ زیادہ اعتماد و یقین سے دعوے کرتے ہیں، ابہام نہیں رکھتے، کیونکہ ایسی چیز زیادہ پھیلتی ہے، وہ اپنے مواد کو جذباتی رنگ دیتے ہیں کیونکہ اس سے بھی ردّعمل زیادہ آتا ہے۔

لیکن یہ اس لیے نہیں کہ یہ مواد بنانے والے بے ایمان لوگ ہیں قصداً لوگوں کو دھوکہ دینا چاہ رہے ہوتے ہیں بلکہ یہ اس لیے ہے کہ سوشل میڈیا پر رہتے ہوئے وہ یہ سیکھ جاتے ہیں کہ الگورتھم کس طرح کے مواد کو زندہ چھوڑتا ہے اور کس طرح کے مواد کو سزائے موت سنا دیتا ہے۔

کانٹینٹ کرئیٹر کو یہ وہم ہوتا ہے کہ وہ آزادی سے اظہارِ رائے کر رہا ہے لیکن درحقیقت وہ اپنی رائے کو الگورتھم اور الگورتھم بنانے والوں کی مرضی کے مطابق ڈھال رہا ہوتا ہے۔

اخلاقی جواز بطور پراڈکٹ

نمائشی غم و غصہ اور بدلے میں ضمیر کا اطمینان

سوشل میڈیا لوگوں کو ضمیر مطمئن کروانے کا تجربہ کرواتا ہے، بغیر کوئی حقیقی عمل کیے۔

آپ غزہ میں مظالم اور نسل کشی کے واقعات دیکھتے ہیں، جواب میں آپ مذمت کی پوسٹ کرتے ہیں، آپ اس کی فوٹیج شیئر کرتے ہیں، اور اس موضوع پر آن لائن بحث کرتے ہیں، اس طرح آپ کے لیے نفسیاتی طور پر معاملہ حل ہو جاتا ہے۔ آپ نے اس بارے میں کچھ کر دیا، آپ بے حس نہیں ہیں، آپ ایسے میں زندگی کے مزے نہیں لوٹ رہے کہ جب دوسرے لوگ دکھ درد میں مبتلا ہیں، آپ نے اس کے لیے کچھ بول تو دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اخلاقی تناؤ کو خارج کرنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں بغیر اپنے رویے میں کوئی تبدیلی کیے، بغیر اپنا آرام قربان کیے یا حقیقی ذمہ داری کا احساس کیے۔

آپ خود کو حق و انصاف کے ساتھ ہم آہنگ محسوس کرتے ہیں، حالانکہ عملی طور پر آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے۔

یہ اتنا مؤثر کیوں ہے؟

ضمیر کی پکار پر غصہ جذباتی طور پر تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ انسان معاملے کا حل چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا یہی چیز سستے میں فراہم کر دیتا ہے۔

  • آپ کی پوسٹنگ عمل کے لیے خود کو اور دوسروں کو حقیقی طور پر منظم کرنے کی جگہ لے لیتی ہے۔

  • آپ کی شیئرنگ اپنے وقت، آرام اور آسائشوں کی قربانی دینے کی جگہ لے لیتی ہے۔

  • آپ کی پوسٹ کتنے لوگوں نے دیکھی یہ اس بات کی جگہ لے لیتی ہے کہ آپ کی بات کا کتنے لوگوں پر اثر ہوا۔

  • اور چونکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اس لیے اس اخلاقی تماشے میں اجتماعیت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، اسے تقویت ملتی ہے، اس کی توثیق ہوتی ہے۔

لیکن اس غصے کو عمل میں بدلنے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ الٹا نقصان ہو گا۔ کیونکہ عمل سوشل میڈیا پر مشغولیت کو ختم کر دیتا ہے، اور مسئلے کا حل اس موضوع کو سوشل میڈیا پر حاصل توجہ کو کم کر دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے انصاف حاصل ہو جانے سے بہتر مواد دائمی نا انصافی ہے۔

نجی پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز کا گہرا سراب

نجی پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز جیسے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر یہ سراب مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ مواد آپ تک قابلِ اعتماد رابطوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔ جس سے اس پر شک کم ہو جاتا ہے۔ جذباتی بیانیے بلا روک ٹوک پھیلتے ہیں۔ اور صارفین خود کو با خبر اور سماجی طور پر ہم آہنگ تصور کرتے ہیں۔

لیکن ان پلیٹ فارمز پر کوئی حقیقی جوابدہی کا نظام نہیں ہوتا نہ ہی کوئی تصحیح ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں مشغولیت کا اخلاقی جواز مزید مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے جبکہ حقیقی دنیا میں عمل کی صلاحیت سکڑتی اور کمزور پڑتی جاتی ہے۔

اختتامیہ

تمام پلیٹ فارمز پر ایک ہی طرح کا رویہ نظر آتا ہے۔

  1. صارفین خود کو دنیا سے جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں،

  2. وہ خود کو دنیا کے معاملات میں اخلاقی طور پر فعال بھی تصور کرتے ہیں،

  3. کانٹینٹ کرئیٹرز کو لگتا ہے کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے۔

حالانکہ یہ تینوں احساسات بڑی حد تک جعلی ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے نظام کو کوئی پرواہ نہیں کہ انصاف فراہم ہو رہا ہے یا نہیں، سچ سامنے آ رہا ہے یا نہیں، زندگیاں بچائی جا رہی ہیں یا نہیں۔ اسے بس اس بات کی پرواہ ہے کہ لوگوں کی توجہ برقرار رہے۔ جتنی توجہ زیادہ ہو گی اتنا استعمال بھی زیادہ ہو گا۔

اس میں سب سے پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا ضمیر کو بے حس نہیں کرتا، بلکہ اسے مطمئن کر دیتا ہے۔ لیکن وہ اتنا ہی مطمئن کرتا ہے کہ لوگ مزید سکرول کرتے رہیں۔

اخلاقی دکھاوا احساسِ ذمہ داری کا متبادل

جب دکھاوے کا اخلاقی اظہار سستا اور مسلسل ہو تو عمل کی صلاحیت ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا لوگوں کو تربیت دیتا ہے کہ اپنے ضمیر کے درد کو ایک سوشل میڈیا ردّ عمل کے طور پر محسوس کریں۔ سوشل میڈیا پر آپ دکھ پر ردّ عمل دیتے ہیں، نا انصافی پر رد عمل دیتے ہیں، ظلم پر رد عمل دیتے ہیں، اور یہی رد عمل مسئلے کا اختتام بن جاتا ہےاور ضمیر مطمئن ہو جاتا ہے۔

یہ بے حسی نہیں ہے، یہ اس سے کہیں زیادہ لطیف اور خطرناک چیز ہے۔ کسی ذہنی و اخلاقی کوشش کے بغیر ذہنی و اخلاقی تھکاوٹ۔

گھنٹوں تلک مظالم، غم و غصے اور مایوسی کی چیزیں دیکھنے کے بعد دماغ سکون تلاش کرتا ہے، اور سوشل میڈیا یہ فوراً فراہم کر دیتا ہے۔ ایک پوسٹ، ایک تبصرہ، ایک شیئر، اپنے مؤقف کا اظہار اور نفسیاتی تناؤ ختم ہو جاتا ہے۔

جو چیز اس سب میں غائب ہو جاتی ہے وہ یہ مشکل سوال ہے کہ: اب اس کے بعد کرنا کیا ہے؟

حقیقی ذمہ داری، سست رو، مشکل اور بسا اوقات بورنگ ہوا کرتی ہے۔ اس میں گہرائی سے معاملہ سمجھنا پڑتا ہے، زمینی طور پر لوگوں کو یا کم از کم خود کو منظم کرنا پڑتا ہے، مستقل مال خرچ کرنا پڑتا ہے، اپنی عادتیں بدلنی پڑتی ہیں، اپنی سماجی حیثیت کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے، وقت اور محنت دینی پڑتی ہے، لیکن ان میں سے کوئی سرگرمی بھی فوری فیڈ بیک نہیں دیتی، کوئی لائک نہیں ملتا، کوئی ری پوسٹ نہیں ملتی، کچھ ٹرینڈ نہیں کرتا۔ اس لیے سوشل میڈیا مشغولیت کے آگے حقیقی ذمہ داری دب کر رہ جاتی ہے۔

سوشل میڈیا حقیقی عمل کی بجائے علامتی عمل کو کیوں ترجیح دیتا ہے؟

علامتی عمل ایک بہترین مواد ہے۔ یہ جذباتیت سے بھرپور ہوتا ہے، اسے دہرایا جا سکتا ہے، یہ سب کو نظر آتا ہے اور یہ بحث و مباحثے سے بھرپور تنازع پیدا کر سکتا ہے۔

حقیقی عمل اس سے بالکل برعکس ہے۔ وہ مسائل کو حل کرتا ہے، تناؤ کو کم کرتا ہے اور لوگوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے نکال کر حقیقی دنیا میں لے جاتا ہے۔

کاروباری نقطۂ نظر سے ناقابل حل نا انصافی لا متناہی طور پر دہرایا جانے والا مواد ہے۔ ہر پیش آنے والا سانحہ پوسٹوں، بحثوں، ردّعملوں اور جوابی رد عملوں کی بے شمار لہریں پیدا کرتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو یہ سارا چکر ختم ہو جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اظہارِ رائے کی تو حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مگر لوگوں کے درمیان ہم آہنگی کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، یہ غم و غصے کو تو ابھارتے ہیں، لیکن حل کے ٹھوس اقدامات کو نہیں۔ جذبات کو تو ابھارتے ہیں لیکن نتائج اور حل کو نہیں۔ یہ نظام کبھی بھی حقیقی عمل کو ابھرنے نہیں دیتا، اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔

ثقافتی تبدیلی: اخلاق سے شناخت کی طرف

سوشل میڈیا پر وقت گزرنے کے ساتھ آپ کے مؤقف آپ کی شناخت بن جاتے ہیں۔ پھر آپ وہ شخص نہیں رہتے جو کچھ عمل کرتا ہے بلکہ وہ شخص بن جاتے ہیں جو کسی عمل کا اشارہ دیتا ہے۔ عقائد آپ کے تمغے بن جاتے ہیں، اصولوں کی جگہ ہیش ٹیگز لے لیتے ہیں، ہم آہنگی عمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ صرف دکھانے کے لیے ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا لوگوں کی بحث کا طریقہ بدل دیتا ہے، مقصد کسی کو قائل کرنا یا کوئی مسئلہ حل کرنا نہیں رہتا، مقصد اپنی پاکیزگی، اپنی بیداری اور اپنی وفاداریوں کا اظہار کرنا ہو جاتا ہے۔ پھر اختلافِ رائے خطرہ بن جاتا ہے، بحث کے لطیف نکتے خیانت لگنے لگتے ہیں۔

چونکہ آپ کی آراء آپ کی شناخت بن چکی ہوتی ہیں اس لیے اختلافِ رائے براہ راست آپ کی شناخت پر حملہ نظر آنے لگتا ہے، جس کی وجہ سے تنازع بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ صارفین ذہنی تھکاوٹ سے چور ہو جاتے ہیں۔

اجتماعی عمل کا سراب

سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ قائل کرنے والا فریب یہ ہے کہ وہ ایک اجتماعی کوشش کا سراب دکھاتا ہے۔

ٹرینڈ کرنے والے موضوعات تحریکیں لگنے لگتے ہیں، وائرل پوسٹیں مخالف پر دباؤ لگنے لگتی ہیں، سوشل میڈیا پر نظر آنے والا عوامی غم و غصہ تحریک میں تیزی لگنے لگتا ہے۔

لیکن جب کوئی واضح سمت متعین نہ ہو تو یہ تیزی منتشر ہو جایا کرتی ہے۔ حقیقی تحریکیں ہم آہنگی، تعاون، قیادت، قربانی اور استقامت مانگتی ہیں، سوشل میڈیا آپ کو صرف اتنی آفر دیتا ہے کہ آپ نظر آئیں مگر نظم فراہم نہیں کرتا۔ شور تو بہت پیدا کرتا ہے لیکن عمل کا تسلسل نہیں۔ لوگوں کو شریک تو کرواتا ہے لیکن ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں کرتا۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کے چاروں طرف ان کے ہم فکر لوگ موجود ہیں حالانکہ وہ درحقیقت انفرادی طور پر بالکل لاچار اور بے بس ہوتے ہیں۔

اسی لیے خالصتاً آن لائن جنم لینے والی تحریکیں جلد ٹوٹ جایا کرتی ہیں، رک جاتی ہیں یا توجہ ہٹنے سے ختم ہو جایا کرتی ہیں۔ کیونکہ ہجوم کبھی جمع ہوا ہی نہیں تھا، وہ صرف دکھایا گیا تھا۔

یہ سراب کیسے ٹوٹتا ہے؟

صرف یہ پتہ لگنے سے کہ یہ سب کچھ مشینی الگورتھم چلا رہے ہیں، یہ سراب نہیں ٹوٹتا، کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو یہ بات پہلے سے معلوم ہوتی ہے۔ یہ سراب تب ٹوٹتا ہے جب لوگ اس کڑوے سچ کو اپنے دل میں اتار لیتے ہیں کہ اپنے ضمیر کی آواز پر خود کو مشغول محسوس کرنا حقیقی دنیا میں مؤثر ہونے کے برابر نہیں۔ یہ فرق جب دل میں اتر جاتا ہے تو رویہ بدل جاتا ہے۔ ڈرامائی طور پر نہیں بلکہ خاموشی سے۔

پھر لوگ لامتناہی بحثیں کرنا چھوڑ دیتے ہیں، وہ بار بار ریفریش کرنا بند کر دیتے ہیں کہ دیکھیں کہ ان کی بات کتنے لوگوں نے دیکھ لی، کتنے لائکس مل چکے ہیں، کوئی رد عمل ابھی تک آیا یا نہیں، وہ اس غلط فہمی سے نکل آتے ہیں کہ زیادہ لوگوں نے پوسٹ کو دیکھا تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اہمیت دی گئی ہے۔

پھر وہ ایک مختلف سوال پوچھنا شروع کرتے ہیں، عوامی طور پر سوشل میڈیا پر نہیں، نجی طور پر، خود سے، اپنے وقت، اپنی توانائی اور اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں۔

اس کے بعد سوشل میڈیا فیڈ اخلاقی میدان کے طور پر اپنا اختیار کھو بیٹھتی ہے۔

حقیقت کو سوشل میڈیا فیڈ سے واپس لیں

دنیا کو مزید تبصروں کی ضرورت نہیں ہے، اسے اہلیت، ہم آہنگی اور عمل کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا اس میں مددگار ہو سکتا ہے لیکن صرف تب جب اسے جذباتی انداز میں نہیں بلکہ صرف ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ صرف ایک آلے کے طور پر نہ کہ کسی تھیٹر یا میدانِ جنگ کے طور پر۔ صرف ایک سٹرکچر کے طور پر نہ کہ اپنی شناخت کے ’’ہینڈل‘‘کے طور پر۔

المیہ یہ نہیں کہ آن لائن لوگ بہت کم پرواہ کرتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ ان کی پرواہ بالکل بے کار ہوتی ہے، زبردست جذبات کا اظہار کرتے ہیں، بھرپور ذہنی توانائی خرچ کرتے ہیں لیکن حقیقی دنیا میں اس کا اثر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اسی بے سودگی سے نفع کماتے ہیں۔

حرفِ آخر

چاہے ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن سوشل میڈیا ہمارے ساتھ ایک تجارت کرتا ہے۔ وہ ہمیں حقیقی رابطے کی بجائے رابطے کا ایک احساس دیتا ہے، حقیقی اثر کی بجائے مؤثر ہونے کا احساس دیتا ہے، ضمیر کی آواز پر عمل کی بجائے عمل کا احساس دیتا ہے۔

اس کے بدلے میں وہ ہم سے ہمارا وقت، ہماری توجہ، ہماری فکری شفافیت اور ہمارا احساسِ ذمہ داری چھین لیتا ہے۔

صارفین خود کو باخبر سمجھ رہے ہوتے ہیں حالانکہ وہ گمراہ ہوتے جا رہے ہوتے ہیں، کانٹینٹ کرئیٹرز سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کی آواز حقیقی دنیا سے زیادہ سنی جا رہی ہے، حالانکہ ان کی آواز حقیقی دنیا سے کہیں زیادہ محدود ہوتی جا رہی ہوتی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ حق کے ساتھ کھڑے ہیں، متحرک ہیں حالانکہ درحقیقت وہ بالکل بے عمل اور ساکت ہوتے ہیں۔

اس میں سب سے پریشان کن حقیقت یہ نہیں ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں حقیقی دنیا سے دور کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیں اس کے ساتھ قائل کر دیتا ہے کہ ہم دنیا سے پہلے سے زیادہ جڑ چکے ہیں اور اسی میں مشغول ہیں، جب کہ پس پردہ یہ یقینی بناتا رہتا ہے کہ حقیقت میں تبدیلی نہ ہونے کے برابر ہو۔

یہ سراب اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک ہم خود کو اس پر قائل نہ کر لیں کہ سوشل میڈیا فیڈ وہ جگہ نہیں جہاں ذمہ داری ادا ہوتی ہے۔ بلکہ ذمہ داری وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں یہ سکرولنگ رک جاتی ہے۔

٭٭٭٭٭

Previous Post

عمر ِثالث | بارہویں قسط

Next Post

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026

23 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | بارہویں قسط

20 جنوری 2026
غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان
طوفان الأقصی

غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان

20 جنوری 2026
ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!
طوفان الأقصی

ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!

20 جنوری 2026
اخباری کالموں کا جائزہ | اگست ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | جنوری ۲۰۲۶ء

20 جنوری 2026
Next Post
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version