نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home اُسوۃ حسنۃ

سیرتِ رسولﷺ کے سائے میں | تیرہویں قسط

معاصر جہاد کے لیے سیرتِ رسول ﷺ سے مستفاد فوائد و حِکَم!

by محمد متین مغل
in جنوری ۲۰۲۶ء, اُسوۃ حسنۃ
0

رجیع اور بئر معونہ کے واقعات سے مستفاد دروس

صفر ۴ ہجری میں قبیلہ عضل اور قارہ کا ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: یا رسول اللہ ﷺ! ہماری قوم میں اسلام پھیل رہا ہے، آپ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت ہمارے ساتھ بھیجیں جو ہمیں دین سکھائے، احکامِ شرع کی تعلیم دے اور قرآن پڑھائے۔ رسول اللہ ﷺ نے چھ یا دس صحابہ رضوان اللہ علیہم کو ان کے ساتھ روانہ کیا، ان میں مرثد بن ابو مرثد، عاصم بن ثابت ،خبیب بن عدی، زید بن دثنہ، عبد اللہ بن طارق اور خالد بن بکیر ﷢شامل تھے۔

یہ حضرات جب ان کے ساتھ حجاز کے ایک طرف واقع رجیع نامی بنو ہذیل کے چشمے پر پہنچے تو ہمراہیوں نے ان کے ساتھ بد عہدی کی اور بنو ہذیل کو بھی اپنی مدد کے لیے بلایا، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ابھی اپنے سواریوں پر ہی تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے تلوار بدست لوگوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا، یہ حضرات بھی تلواریں سونت کر مقابلے پر آمادہ ہوگئے، اس پر یہ خائن گھبرا کر کہنے لگے: بخدا! ہم تمہیں قتل کرنا نہیں چاہتے، بلکہ تمہارے بدلے اہلِ مکہ سے کچھ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کے نام پر تم سے عہد کرتے ہیں کہ ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ حضرت مرثد، خالد بن بکیر اور عاصم بن ثابت رضوان اللہ علیہم نے کہا :ہم تو ہرگز کسی مشرک کا عہد و معاہدہ قبول نہیں کریں گے۔ سو یہ حضرات ان کفار سے لڑنے لگے اور جامِ شہادت نوش کیا، بنو ہذیل نے حضرت عاصم کی شہادت کے بعد ارادہ کیا کہ ان کا سر کاٹ کر سلافہ بنت سعد کو بیچ دیں ،حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے غزوۂاحد میں اس کے دو بیٹوں کو قتل کیا تھا ،جس پر اس عورت نے نذر مانی تھی کہ اگر کسی طرح عاصم رضی اللہ عنہ کا سر اس کے ہاتھ لگ گیا تو وہ ان کی کھوپڑی میں شراب پیے گی۔ لیکن بنو ہذیل کو ناکامی ہوئی ،کیونکہ بھِڑوں کے ایک غول نے آ کر حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے جسد کو اپنے حصار میں لے لیا، اس پر انہوں نے مشورہ کیا کہ فی الحال ان بھِڑوں کو چھوڑ دو، شام کو یہ واپس چلی جائیں گی تو ہم عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش کو لے جائیں گے، لیکن اس سے پہلے ہی اللہ نے سیلابی ریلا بھیج دیا جو حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش کو بہا لے گیا۔

حضرت خبیب، ابن الدثنہ اور عبد اللہ بن طارق رضی اللہ عنہم نے گرفتاری دے دی، کفار انہیں گرفتار کر کے بیچنے کے لیے مکہ لے جانے لگے، ظہران نامی جگہ حضرت عبد اللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے کسی طرح بندشوں سے اپنا ہاتھ آزاد کروا لیا اور تلوار لے کر آمادہ پیکار ہو گئے ،کفار پیچھے ہٹ گئے اور دور سے ہی پتھر مار مار کر آپ کو شہید کردیا۔ رضی اللہ عنہ وعن الصحابۃ اجمعین۔

خبیب بن عدی اور زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما مکہ لائے گئے ،اور بنو ہذیل نے مکہ میں قید اپنے دو افراد کے بدلے ان دونوں کو قریش کے حوالے کر دیا، حضرت زید رضی اللہ عنہ کو صفوان بن امیہ نے خریدا ،تاکہ اپنے باپ کے بدلے انہیں قتل کرے اور اپنے غلام نسطاس کے ہاتھ انہیں حدودِ حرم سے باہر تنعیم میں بھیج دیا کہ وہاں انہیں قتل کیا جائے، قتل کے موقع پر قریش کی ایک ٹولی بھی موجود تھی اور ان میں ابو سفیان بھی تھے[جو ابھی ایمان نہ لائے تھے]، عین قتل کے وقت ابو سفیان نے ان سے کہا: اے زید! میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ،کیا تجھے یہ پسند ہے کہ تو اپنے اہل و عیال میں ہو اور (نعوذ باللہ )تیری جگہ محمد ﷺ کو قتل کر دیا جائے؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم !مجھے تو یہ بات بھی گوارا نہیں کہ محمد ﷺ جس جگہ ہیں وہاں انہیں ایک کانٹا چبھے جس سے انہیں تکلیف پہنچے اور میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مزے میں ہوں۔ اس پر ابو سفیان بول اٹھے: میں نے کسی کو کسی کے ساتھ ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی محبت محمد ﷺ کے ساتھ ان کے ساتھیوں کو ہے۔ بعدازاں حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے۔

[حضرت خبیب کی کرامت اور وفا شعاری]

حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی بابت حجیر بن ابی اھاب کی باندی ماویہ کہتی ہے: خبیب میرے پاس میرے گھر میں قید تھے، ایک دن میں نے ان کی کوٹھڑی میں جھانکا تو ان کے ہاتھ میں انسان کے سر جتنا بڑا انگوروں کا گچھا تھا جسے وہ کھا رہے تھے، جبکہ پورے مکہ میں اس وقت انگور کھانے کو نہیں ملتا تھا۔ وہ مزید بتاتی ہے: جب ان کے قتل کا وقت قریب آیا تو مجھ سے کہا: مجھے استرا دے دو ،تاکہ قتل سے پہلے پاکی حاصل کر لوں۔ میں نے قبیلے کے ایک بچے کو استرا دے کر کہا کہ یہ لو اور کوٹھڑی میں بند آدمی کو دے آؤ، وہ کہتی ہے :بچہ ابھی استرا لے کر گیا ہی تھا کہ مجھے خیال آیا کہ یہ میں نے کیا کر دیا! بخدا! یہ قیدی تو بچے کو قتل کر کے اپنا بدلہ لے گا۔ جب بچے نے حضرت خبیب ﷜کو استرا پکڑایا تو انہوں نے استرا لیتے ہوا کہا: تعجب ہے ! جب تیری ماں نے تجھے استرا دے کر میرے پاس بھیجا تو اسے میرے انتقام کا خوف محسوس نہیں ہوا؟! پھر آپ نے اس بچے کو جانے دیا۔

[آخری خواہش: نماز]

جب کفار انہیں سولی دینے کے لیے تنعیم لائے تو حضرت خبیب ﷜نے ان سے کہا: مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو۔ انہوں نے کہا کہ پڑھ لو۔ چنانچہ حضرت خبیب ﷜بڑے اطمینان کے ساتھ عمدہ طریقے سے دو رکعت نماز پڑھی اور سلام پھیر کر مشرکین سے کہا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھو گے کہ میں موت سے ڈر گیا ہوں تو میں اور لمبی نماز پڑھتا۔ قتل سے قبل دو رکعت پڑھنے کی اس روایت کا آغاز مسلمانوں میں حضرت خبیب ﷜کے عمل سے ہوا، قریش نے انہیں سولی پر چڑھا کر مضبوطی سے باندھ دیا تو آپ ﷜نے اللہ سے دعا کی :اے اللہ !بلاشبہ ہم نے آپ کے رسول ﷺ کا پیغام پہنچا دیا، آپ آج ہی اپنے رسول تک ہماری بپتا پہنچا دیں ۔پھر آپ﷜ نے دعا کی :

اللھم احصھم عددا واقتلھم بددا ولا تغادر منھم احدا۔

’’اے اللہ !ان میں سے ایک ایک کو گِن لے، اور انہیں الگ الگ کر کے مار اور ان میں سے کسی ایک کو بھی مت چھوڑ۔‘‘

اور آپ ﷜نے یہ اشعار بھی پڑھے:

ولست ابالی حین اقتل مسلما
علی ای شق کان فی اللہ مصرعی
وذالک فی ذات الالہ وان یشا
یبارک علی اوصال شلو ممزع

’’جب میں مسلمان قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے پروا نہیں
میں کس پہلو کے بل گروں گا اللہ کی خاطر
یہ سب قربانی اللہ کے لیے ہے ،اگر وہ چاہے
برکت ڈال دے شکستہ بدن کے ہر جوڑ پر”

پھر عقبہ بن حارث نے آگے بڑھ کر انہیں شہید کر دیا۔1سیرت ابن ہشام:۲؛۱۰۷ ۔البدایہ والنہایہ:۴؛۶۹۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،غزوۃ الرجیع ورعل و ذکوان و بئر معونۃ

بئر معونہ کا واقعہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت انس بن مالک ﷜سے یوں نقل کیا ہے:

’’ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے اپنے دشمنوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ سے مدد مانگی، رسول اللہ ﷺ نے ستر انصار صحابہ ان کے ساتھ مدد کے لیے روانہ کیے ،ان ستر کو اس وقت ہم قراء کہتے تھے، یہ حضرات دن میں لکڑیاں وغیرہ اکٹھی کرتے اور راتوں کو نماز پڑھتے، جب یہ قافلہ مدینہ سے نکل کر بئر معونہ پہنچا تو قافلے والوں نے بد عہدی کی اور ان ستر قراء صحابہ کرام ﷢کو شہید کر دیا، رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے مسلسل ایک مہینہ فجر کی نماز میں بادیہ عرب کے ان قبائل :رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے خلاف بد دعا فرمائی، حضرت انس ﷜کہتے ہیں :ان حضرات قراء کی بابت قرآن کی آیات بھی نازل ہوئیں جو بعد ازاں اٹھا لی گئیں (یعنی ان کی تلاوت منسوخ ہو گئی)، وہ آیات یہ تھیں:

بلغوا عنا قومنا بانا لقینا ربنا فرضی عنا وارضانا۔

’ہماری قوم کو ہماری طرف سے پیغام پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی ،وہ ہم سے راضی ہوا اور اس نے ہمیں راضی و خوش کر دیا‘۔‘‘

یہ حادثہ جانکاہ بھی صفر ۴ ہجری کو پیش آیا۔2سیرت ابن ہشام:۲؛۱۱۶۔البدایہ والنہایہ:۴؛۷۸۔صحیح البخاری:کتاب المغازی،غزوہ الرجیع و رعل و ذکوان و بئر معونۃ

جنگجو قراء

رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے جب دشمن کے خلاف رسول اللہ ﷺ سے مدد مانگی تو آپ ﷺ نے ستر قراء کو بطورِ کمک ان کے ساتھ بھیجا، جیسا کہ حضرت انس ﷜کی مذکورہ بالا روایت میں گزرا، اسی طرح رجیع والے حضرات صحابہ بھی قراء تھے۔

قراء کا مطلب وہ نہیں جو متاخرین کی اصطلاح ہے یعنی قرآنِ کریم کے قاری، بلکہ اس زمانے میں قراء سے مراد وہ علماء ہوتے تھے جنہوں نے قرآن کو اس کے معانی و مطالب سمجھ کر پڑھا ہوتا تھا ،تو یہ ستر حضرات صحابہ کرام میں علماء شمار ہوتے تھے۔

اس زمانے میں علم عمل کے ساتھ جڑا ہوتا تھا، اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہونا اس نبوی معاشرے کا خاص الخاص وصف تھا جس میں عالم و غیر عالم کی کوئی تفریق نہیں تھی، بلکہ علماء اس باب میں دوسروں سے آگے تھے اور اس بابت کسی مشقت و آزمائش کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ،جہاد و شہادت کی طرف لپکنے والے تھے اور میدان کی سختیوں پر صبر کرنے والے تھے۔

[اہلِ علم و جہاد]

اسلام کے ابتدائی زمانوں میں ایک عالم کا میدانِ جہاد میں قِتال کوئی تعجب انگیز بات نہیں تھی،(بلکہ جہاد سے پیچھے بیٹھ رہنا لائقِ تعجب ہوتا تھا)،یہ تو بعد کے زمانوں کا المیہ ہے کہ کسی فرد کا علم و جہاد کا جامع ہونا تعجب خیز سمجھا گیا، جب علم عمل سے تہی دامن ہو گیا۔ واللہ المستعان

اللہ کی خشیت رکھنے والا سچا عالم اس بات سے حیا کرتا ہے کہ اسے اللہ کا ایک حکم معلوم ہو جائے پھر وہ اس پر عمل نہ کرے ،کیونکہ علم سے مقصود تو عمل ہی ہے اور عمل ہی علم کی زینت ہے ،جیسا کہ حضرت ابو حذیفہ ﷜نے مرتدین کے خلاف قتال کے وقت فرمایا تھا: اے اہلِ قرآن! اپنے عمل سے قرآن کو مزین کرو۔ پھر آپ ﷜نے مرتدین پر ہلہ بول دیا اور انہیں مارتے کاٹتے ان کی صفوں میں اندر تک گھس گئے اور زخمی ہو گئے۔ اور جیسا کہ حضرت حسن بصری ﷫فرماتے ہیں کہ جو علم میں لوگوں سے برتر ہو اسے چاہیے کہ عمل میں بھی وہ دوسروں سے بڑھ کر ہو۔

عالم کے لیے تو مستحبات کے ترک اور مکروہات کے ارتکاب میں سستی کرنا عیب کی بات ہے، تو واجبات کے ترک اور حرام کے ارتکاب میں کوتاہی کس قدر بڑا عیب ہو گا!

اللہ کے عائد کردہ عظیم الشان احکام میں سے ایک حکم جہاد فی سبیل اللہ ہے ،فرضِ کفایہ ہونے کی صورت میں اس کو ترک کرنا علماء کے شایانِ شان نہیں ،چہ جائیکہ فرضِ عین ہونے کی صورت میں پیچھے بیٹھ رہیں!

علماء ہی امت کی قیادت کر کے اسے ہر خیر تک لے جانے والے ہیں ،جہاد کے میدانوں میں اس کی پیشوائی کرنے والے ہیں ،اللہ کے عطا کیے علم و فہم کی بنا پر اللہ کی قدرت کا استحضار اور اس کی نصرت کا یقین انہیں دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت کے لشکر کا حال بیان کیا کہ جب بعض لوگوں نے کہا:

لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ

’’ آج کے دن جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ ہمارے بس سے باہر ہے۔‘‘

یہ لوگ دشمن کی کثرت و قوت سے خوف کھا گئے تھے، تو ان کے علماء نے انہیں حوصلہ دیا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ،مدد اللہ کی طرف سے آتی ہے ،تعداد اور ساز و سامان کی کثرت سے غلبہ نہیں ملتا، اور کہا:

كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ؁

’’کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

نیز ارشادِ باری ہے:

وَكَاَيِّنْ مِّنْ نَّبِيٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ ۚ فَمَا وَهَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَكَانُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ؁

’’اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ،نتیجتاً انہیں اللہ کی راہ میں جو تکلیفیں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ انہوں نے ہمت ہاری، نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انہوں نے اپنے آپ کو جھکایا، اللہ ایسے صابر (و ثابت قدم )لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔‘‘

حسن بصری ﷫ربیون کثیر کی تفسیر میں فرماتے ہیں اور بہت سے علماء سے یہ تفسیر بھی منقول ہے :صبر کرنے والے علماء، نیکوکار، متقی۔

ہماری امت کی تاریخ اللہ کے فضل سے با عمل اور صابر و مجاہد علماء کے واقعات اور مثالوں سے بھری ہوئی ہے، یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کا احاطہ مشکل ہے، یہ امت آج بھی اللہ کے فضل سے ایسے با عمل علماء پیدا کرنے پر قادر ہے جو حضرت سالم مولی ٰ ابو حذیفہ ﷞ کے اس قول کا عملی نمونہ ہوں:

بئس حامل القرآن انا اذا۔

’’تب تو میں بہت بُرا قرآن کا علم رکھنے والا ہوں گا۔‘‘

حضرت سالم ﷜مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں مہاجرین کے علم بردار تھے، مسلمانوں نے ان سے کہا کہ ہمیں ڈر ہے آپ کی وجہ سے ہمیں شکست ہو جائے گی۔ [آپ ثابت قدم نہ رہ سکیں گے، جھنڈا گر جائے گا اور لشکر کے حوصلے پست ہو جائیں گے] اس وقت حضرت سالم نے یہ تاریخی جملہ کہا:

بئس حامل القرآن انا اذا۔

’’تب تو میں بہت بُرا قرآن کا علم رکھنے والا ہوں گا۔‘‘

دو متضاد تصویریں

ان واقعات میں مسلمانوں کی وفا کی کئی روشن مثالیں ہیں، کیونکہ اسلام ہے ہی پاکیزگی، وفا، اعلیٰ اخلاق اور رفاہِ عام کا دین، ذرا اس واقعے پر غور کیجیے! مسلمانوں کے اخلاق کی بلندی آپ کو حیرت زدہ کر دے گی ،جب عورت نے بچے کے ہاتھ حضرت خبیب ﷜کو استرا بھجوایا تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے اس بچے کا ہاتھ پکڑ کر اس کی ماں سے کہا: کیا خیال ہے ،اللہ نے مجھے تم پر قدرت نہیں دے ڈالی؟ [یعنی میں تم سے انتقام لینے پر قادر ہوں] عورت نے جواب دیا: میرا آپ کے بارے میں یہ گمان نہیں !حضرت خبیب ﷜نے استرا اس کی طرف پھینکتے ہوئے کہا: میں صرف مذاق کر رہا تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق کہا: میں بد عہدی کرنے والا نہیں [کہ تم مجھ پر اعتبار کر کے چھوٹے بچے کے ہاتھ استرا بھیجو اور میں اس بچے کو قتل کر دوں] ۔

کیسی وفا ہے !کیسے بلند اخلاق ہیں! ایک شخص کو ایک قوم قتل کرنا چاہتی ہے اور وہ اس قوم کے ایک فرد پر قابو پا لیتا ہے کہ اسے قتل کر کے اپنا انتقام لے لے، لیکن محض اس قوم کے اعتبار کی لاج رکھتے ہوئے ایسا نہیں کرتا!

اس اعلی طرزِ عمل کے بالمقابل کفار کا مکروہ طریقہ کار بھی پوری طرح واضح ہے کہ کس طرح انہوں نے رجیع اور بئر معونہ میں مسلمانوں کے ساتھ کھلی غداری کی ،اور کافر تو ہیں ہی ایسے:

لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ (سورۃ التوبۃ: ۱۰)

’’کسی مومن کی بابت کسی رشتے داری یا معاہدے کا لحاظ نہیں کرتے۔‘‘

[یعنی بہر صورت اسے نقصان پہنچانے کی سعی کرتے ہیں،] ان کا دین تو خواہشات اور مفادات سے عبارت ہے ،ان کے نزدیک اخلاق اسی چیز کا نام ہے جس سے ان کی خواہش پوری ہو۔

اس بدترین بد عہدی کے باوجود مسلمانوں کے طرزِ عمل کی ایک اور مثال بھی ہے جو اسلام کی پاکیزگی اور اس کے ماننے والوں کے کردار کی بلندی پر شاہدِ عدل ہے۔

[غدر: تو غداروں کے ساتھ بھی نہیں ]

عمرو بن امیہ الضمری ﷜بئر معونہ کے واقعے میں گرفتار ہوئے تھے، جب انہوں نے گرفتار کرنے والوں کو بتایا کہ ان کا تعلق ’مُضَر‘ سے ہے ،تو عامر بن طفیل نے [بطورِ علامت] ان کے سر کے بال پیشانی کی طرف سے کاٹ کر انہیں آزاد کر دیا ،اس کی ماں نے اس صفت کے حامل غلام کو آزاد کرنے کی منت مانی تھی تو اس نے اپنی ماں کی طرف سے کفارے میں انہیں آزاد کیا۔ قید سے چھوٹ کر آپ روانہ ہوئے ،جب قرقرہ نامی چشمے پر پہنچے تو قبیلہ بنو عامر کے دو افراد آ کر اسی سایہ دار جگہ میں فروکش ہوئے جہاں آپ آرام کر رہے تھے، بنو عامر کے ان دونوں افراد کے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عہد موجود تھا، لیکن حضرت عمرو بن امیہ الضمری کو اس کا علم نہیں تھا[وہ انہیں دشمن ہی سمجھ رہے تھے]،انہوں نے ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ،جب یہ دونوں بے فکر ہو کر سو گئے تو آپ نے آگے بڑھ کر انہیں قتل کر دیا اور یہ سمجھے کہ بنو عامر نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر جو ظلم کیا تھا میں نے اس کا بدلہ لیا ہے ۔عمرو بن امیہ الضمری ﷜جب یہ سب کرکے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم نے ان دو کو قتل تو کردیا ،میں ان کی دِیَت ضرور دوں گا۔

دینِ اسلام کی بلندی کردار کے کیا کہنے! کس قدر انصاف پر مبنی ہے! رسول اللہ ﷺ کے ستّر محبوب ساتھی دیدہ و دانستہ بد عہدی کر کے شہید کر دیے جاتے ہیں ،پھر اسی غدار قوم کے دو افراد، جن کا رسول اللہ ﷺ سے عہد تھا ،غلطی سے قتل ہو جاتے ہیں ،یہ غلطی رسول اللہ ﷺ پر اتنی شاق گزرتی ہے کہ آپ دِیَت کی ادائیگی کی خاطر رقم جمع کرنے کے لیے بنفسِ نفیس مسلمانوں اور ان کے حلیف یہود کی علاقوں میں جاتے ہیں اور اسی دوران بنو نضیر کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش کی جاتی ہے ،جس کی وجہ سے بنو نضیر کی خلاف جنگ کی گئی۔

[غدر:کفر کی خصلت ]

غدر و خیانت کرنا ہر دور میں کفار کا شیوہ رہا ہے ،ہمیشہ عہد باندھتے ہیں ،وعدے کرتے ہیں ، لیکن ہمیشہ بد عہدی و خیانت کرتے ہیں ،یہ عہد و معاہدے تو محض ان کا جال ہیں جس سے وہ مسلمانوں کو اپنی مکاری کا نشانہ بناتے ہیں ۔

ہمیں کفار کی بد عہدی پر تعجب نہیں ،کیونکہ کفر سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں [بشمول غدر]،تعجب تو اہلِ اسلام پر ہے جو کفار کے بِلوں سے بارہا ڈسے جانے کے باوجود دوبارہ ڈسے جانے کے لیے ان کی طرف لپکتے ہیں ،ان کفار نے بارہا مسلمانوں کے ساتھ آزادی، ترقی اور تعاون کے وعدے کیے لیکن سوائے خسران اور دھوکے کے ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔

کفار اپنی جبلی غداری کو ہر وقت مسلمانوں پر آزماتے ہیں ،لیکن اسلام اس کے باوجود غدر سے پاک، کردار کی بلندی کا حامل اور وفا کیش رہتا ہے ،خواہ معاہدہ اپنے بدترین دشمن کے ساتھ کیوں نہ ہو، ہم خیانت کرنے والے کے ساتھ خیانت والا معاملہ نہیں کرتے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

ولاتخن من خانک3رواہ الترمذی وابو داود

’’تم اس کے ساتھ خیانت مت کرو جو تمہارے ساتھ خیانت کرے۔‘‘

والحمد للہ و صلی اللہ علی محمد و آلہ وسلم

٭٭٭٭٭

  • 1
    سیرت ابن ہشام:۲؛۱۰۷ ۔البدایہ والنہایہ:۴؛۶۹۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،غزوۃ الرجیع ورعل و ذکوان و بئر معونۃ
  • 2
    سیرت ابن ہشام:۲؛۱۱۶۔البدایہ والنہایہ:۴؛۷۸۔صحیح البخاری:کتاب المغازی،غزوہ الرجیع و رعل و ذکوان و بئر معونۃ
  • 3
    رواہ الترمذی وابو داود
Previous Post

سڈنی (بونڈائی) حملہ: کیا ہمارا طرزِ فکر درست ہے؟

Next Post

تابہ منزل صرف دیوانے گئے

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026

23 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

20 جنوری 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | بارہویں قسط

20 جنوری 2026
غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان
طوفان الأقصی

غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان

20 جنوری 2026
ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!
طوفان الأقصی

ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!

20 جنوری 2026
Next Post
تابہ منزل صرف دیوانے گئے

تابہ منزل صرف دیوانے گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version