اہل جہنم کے احوال
اس عنوان کے تحت ہم چار احوال دیکھیں گے:
- اہل جہنم کا جثّہ
- اہل جہنم کی خوراک
- اہل جہنم کے مشروبات
- اہل جہنم کا لباس
اہل جہنم کا جثہّ
اہل جنت اور اہل جہنم کا جثہّ، اہل دنیا کے جثّے سے بڑا ہو گا، نہ صرف بڑا بلکہ مبالغے کی حد تک بہت زیادہ بڑا ہو گا۔ ترمذی شریف کی حدیث میں ہے:
إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْکَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ
’’ کافر کی کھال کی موٹائی بیالیس گز ہو گی، اس کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ۔‘‘
ذراع کے تعین میں مختلف آراء ہیں، البتہ تقریباً یہ ایک گز یا تین میٹر کے قریب ہے۔ یعنی کافر کی کھال ایک گز نہیں بلکہ قریباً بیالیس گز موٹی ہو گی۔ بالخصوص کھال کے ذکر اور اس کی اس قدر موٹائی کی وجہ یہ ہے کہ کھال ہی میں مرکزی اعصابی نظام ہوتا ہے اور یہی وہ حصہ ہے جہاں تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ جہنمی کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں ان کے بیٹھنے کی جگہ مکہ اور مدینہ کے مابین فاصلے کے بقدر ہو گی، کیوں؟ کیا وجہ ہے کہ وہ اس قدر بڑا رقبہ گھیریں گے؟ کیوں ان کے جثّے اس قدر بڑے ہوں گے؟ کیونکہ جتنی بڑی سطح ہو گی اسی قدر زیادہ آگ انہیں چھوئے گی اور اسی قدر زیادہ عذاب وہ محسوس کر سکیں گے۔
اہل جنت کے جسم بھی انسان کے دنیوی جسموں کے مقابلے بڑے ہوں گے مگر اس قدر نہیں جتنا اہل جہنم کے ہوں گے۔
اہل جہنم کی خوراک
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍ (سورۃ الغاشیۃ: ۶، ۷)
’’نہیں ہو گا ان کے لیے کھانے کو کچھ بھی، سوائے خار دار جھاڑیوں کے، جو نہ تو موٹا کرے اور نہ ہی بھوک مٹائے ۔‘‘
جہنمیوں کی اس خوراک کی حقیقت کیا ہو گی، یہ صرف اللہ ہی جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے ضریع کہا ہے۔ مگر اس کی صفت یہ ہو گی کہ نہ تو وہ اہل جہنم کی بھوک مٹائے گی اور نہ ہی انہیں قوت بخشے گی۔
اہل جہنم کی بنیادی خوراک زقوم درخت کے پھل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس درخت بارے فرماتے ہیں:
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْاَثِيْمِ كَالْمُهْلِ ڔ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِ كَغَلْيِ الْحَمِيْمِ (سورۃ الدخان: ۴۳ تا ۴۶)
’’ یقین جانو کہ زقوم کا درخت، گناہ گار کا کھانا ہو گا، پگھلے ہوئے تانبے کی طرح، کھولے گا پیٹوں کے اندر جیسے کھولتا ہوا پانی۔‘‘
نیز زقوم کے درخت کی مزید تفصیل بھی اللہ رب العزت نے بیان فرمائی ہے،
اَذٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِيْنَ اِنَّهَا شَجَــرَةٌ تَخْرُجُ فِيْٓ اَصْلِ الْجَحِيْمِ طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِـــــُٔوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍ(سورۃ صٰفّٰت: ۶۲ تا ۶۷)
’’ بھلا یہ مہمانی اچھی ہے یا زقوم کا درخت ؟ ہم نے اس درخت کو ان ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنا دیا ہے۔ دراصل وہ درخت ہی ایسا ہے جو دوزخ کی تہہ سے نکلتا ہے۔ اس کا خوشہ ایسا ہے جیسے شیطانوں کے سر۔ چنانچہ دوزخی لوگ اسی میں سے خوراک حاصل کریں گے، اور اسی سے پیٹ بھریں گے ،پھر انہیں اس کے اوپر سے کھولتے ہوئے پانی کا آمیزہ ملے گا ۔‘‘
یہ درخت جہنم کی تہہ سے، جو کہ جہنم کا بدترین حصہ ہے، نکلتا ہے، وہیں نشوونما پاتا ہے اور پھر جہنمیوں کی خوراک بنتا ہے۔ وہ اسی کا پھل کھائیں گے اور جس قدر کھائیں گے اسی قدر ان کی بھوک بڑھتی جائے گی اور پھر جب وہ پیاسے ہوں گے تو کھولتا ہوا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا اور یہی اہل جہنم کی خوراک ہو گی۔
نیز اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:
ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّاۗلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ فَمَالِــــُٔـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ فَشٰرِبُوْنَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيْمِ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِيْمِ ھٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّيْنِ (سورۃ الواقعۃ: ۵۱ تا ۵۶)
’’پھر اے جھٹلانے والے گمراہو، تم لوگوں کو ایک ایسے درخت میں سے کھانا پڑے گا جس کا نام زقوم ہے، پھر اسی سے پیٹ بھرنے ہوں گے، پھر اس کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی پینا پڑے گا، اور پینا بھی اس طرح جیسے پیاس کی بیماری والے اونٹ پیتے ہیں، یہ ہو گی جزا و سزا کے دن ان لوگوں کی مہمانی۔‘‘
یہ آیات مبارکہ ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو حق کو ضلالت اور گمراہی سمجھ لیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں ان کے انجام سے آگاہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں زقوم کے درخت سے ہی کھانا ہو گا اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی اس طرح پینا ہو گا جیسے اونٹ پیتے ہیں۔ اونٹوں کو بعض مرتبہ ایک ایسی بیماری لاحق ہو جاتی ہے کہ وہ پانی پیے چلے جاتے ہیں مگر ان کی پیاس نہیں بجھتی، پیاس بجھانے کی چاہت میں وہ اس قدر پانی پی لیتے ہیں کہ اس سے ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اہل جہنم کے بارے میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ وہ انہی اونٹوں کی مانند پانی پئیں گے، اور پانی بھی کون سا؟ کھولتا ہوا پانی۔ جس قدر وہ پیتے جائیں گے، ان کی پیاس اسی قدر بڑھتی جائے گی۔
اہل جہنم کے مشروبات
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہنمیوں کے پینے کے لیے مختلف چیزوں کا ذکر فرمایا ہے جن میں سے چار کا ذکر ہم یہاں کریں گے:
- الحمیم: کھولتا ہوا پانی
- غسّاق، غسلین: جہنمیوں کے زخمی جسموں سے بہنے والے مائع ہائے مختلف
- الصدید: زخموں سے بہنے والی پیپ۔
- المھل: کھولتا ہوا تیل
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
ھٰذَا فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ وَّاٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖٓ اَزْوَاجٌ (سورۃ ص: ۵۷، ۵۸)
’’یہ ہے کھولتا ہوا پانی اور پیپ، اب وہ اس کا مزہ چکھیں۔ اور ان طرح طرح کی چیزوں کا جو اسی جیسی (تکلیف دہ) ہوں گی۔‘‘
حمیم کھولتا ہوا پانی ہے اور امام قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ غسلین اور غسّاق ایک ہی چیز ہیں، یعنی جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والا لہو اور پیپ اور ان کے جلے ہوئے جسموں سے بہنے والا مائع، یہی جہنمیوں کا مشروب ہو گا اور یہی انہیں پلایا جائے گا۔ نیز اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا يُغَاثُوْا بِمَاۗءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوْهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاۗءَتْ مُرْتَفَقًا (سورۃ الکھف: ۲۹)
’’ اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہو گا، چہروں کو بھون ڈالے گا، کیسا برا ہو گا وہ پانی اور کیسی بری ہو گی وہ جگہ۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مسلم شریف کی حدیث ہے:
کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْکِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، بے شک یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص نشہ آور چیز پیے گا، اسے اللہ تعالیٰ طینۃ الخبال پلائیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) !طینۃ الخبال کیا چیز ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ ۔‘‘
دنیا میں نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والوں کو جہنم میں اہل جہنم کا پسینہ پینے کے لیے دیا جائے گا۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ (وَيُسْقَی مِنْ مَائٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ) قَالَ: يُقَرَّبُ إِلَی فِيهِ فَيَکْرَهُهُ فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَی وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَائَهُ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ، يَقُولُ اللَّهُ: وَسُقُوا مَائً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَائَهُمْ، وَيَقُولُ: وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَائٍ کَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ (جامع ترمذی)
’’ ابوامامہ ؓسے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَيُسْقَی مِنْ مَائٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ ﴾ (سورۃ ابراہیم:١٦) کے بارے میں فرمایا: ’(پیپ) اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو وہ اسے ناپسند کرے گا اور جب اسے اور قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھن جائے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی اور جب وہ اسے پیے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی، یہاں تک کہ اس کے سرین سے نکل جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَسُقُوا مَائً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَائَهُمْ﴾ (سورۃ محمد : ١٥ ) ’’ ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا ‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَائٍ کَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ ﴾(الکہف : ٢٩ ) ’’اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تلچھٹ کی طرح ہو گا ،چہرے کو بھون دے گا اور وہ نہایت برا مشروب ہے ‘۔‘‘
جہنمی اس قدر پیاسے ہوں گے کہ جو چیز ان کی کھال تک کو گلا کر گرا دے گی، وہ پھر بھی اسے پئیں گے، اس سے اندازہ کریں کہ وہ پیاس ان کے لیے کس قدر تکلیف دہ ہو گی کہ وہ اسے ایسے اذیت ناک مشروب کے ذریعے بھی بجھانے کی کوشش کریں گے۔
اہل جہنم کے لباس
فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ (سورۃ الحج: ۱۹)
’’ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے، ان کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے ۔ ‘‘
ان کا لباس آگ ہو گا۔ نیز ایک اور آیت میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان کے لباس قطران، یعنی پگھلے ہوئے تانبے کے ہوں گے۔ تصور کریں کہ پگھلا ہوا گرم تانبا مستقل جسم کو بطور لباس ڈھانپے ہوئے ہو گا۔
وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ (سورۃ ابراہیم: ۴۹، ۵۰)
’’اور تم دیکھو گے مجرموں کو اس روز کہ وہ جکڑے ہوئے ہوں گے باہم زنجیروں میں، ان کے کُرتے ہوں گے گندھک کے اور ڈھانپے ہوئے ہو گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



