نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home مشاہیر اسلام

امامِ برحق | حصہ سوم (آخری)

شہیدِ اسلام، امامِ برحق حضرت مولانا عبد الرشید غازیؒ کی مختصر سوانحِ حیات

by معین الدین شامی
in ستمبر 2020, مشاہیر اسلام
0

آپریشن سائلنس

طاغوتی ایوانوں میں یہ امر پہلے ہی طے ہو چکا تھا کہ دینِ اسلام کو اس کی اصل تعبیر کے ساتھ بیان کرنے والوں اور اس کے نفاذ کا مطالبہ و کوشش کرنے والوں کو بزورِ قوت کچلا اور دبایا جائے گا۔

اپنے دریدہ دامن کے چھیدوں کو چھپانے اور بد نما و داغ دار چہروں پر پڑے نقاب کو قائم رکھنے کے لیے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا گیا۔ حکومتی ایوانوں میں دین کا نفاذ تو کجا مسجدوں میں اذان و نماز جسے جدید نظام کے عَلَم بردار اپنے دینِ سیکولر ازم میں روا جانتے ہیں پر بھی پابندیاں لگا دینے کی خاطر امریکہ و امریکہ نواز مقتدر طبقوں نے لال مسجد کو ’لال خون‘ میں نہلانے کا فیصلہ کر لیا۔

۷ جولائی ۲۰۰۷ء کی ایک خون آشام شام کو ابرہۂ زماں اور اس کے ہاتھیوں کے لشکر نے اللہ کے گھر پر چڑھائی کر دی۔ اہلِ کفر چاہتے تھے کہ قوت کے استعمال کے ساتھ اہلِ حق کو دبا ڈالیں۔ جب اہلِ حق، اظہارِ حق کے بعد نفاذِ حق کی محنت سے باز آ جائیں گے تو اہلِ باطل دنیا بھر میں یہ دکھائیں گے اور اترائیں گے کہ ہمارا دعویٰ اور ہماری تعبیرِ دین درست تھی، تبھی تو یہ پھسل گئے۔

لیکن اہلِ حق تو ’الحق لا شریک لہٗ‘ کی مدد و استعانت پر چلتے ہیں۔ یہ اہلِ حق بھی عجیب لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی عزیمت کے سامنے شیریں و فرہاد کی داستانیں محض کہانیاں ہی ہوتی ہیں۔ یہ اہلِ حق عشق و مستی کے وہ ابواب رقم کرتے ہیں جن کا ایک ایک حرف آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

۷ جولائی کو گولیاں چلنی شروع ہوئیں۔ سنائپر بندوقوں سے تاک تاک کر کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حافظوں کے سینوں میں جلتے چراغوں کو بجھایا گیا۔مارٹر گولوں سے مسجد کے میناروں اور گنبدوں کا نشانہ لیا گیا۔

یہ سب کم نہ تھا کہ اسلام کے خلاف عالمی جنگ کے سرغنہ امریکہ نے خدا کے گھر کو مسمار کرنے اور اللہ والوں کا نشانہ لے لے کر قتل کرنے کے لیے اپنے ڈرون طیارے بھی ’پاک‘ فوج کو عطا کر دیے۔ ۸ اور ۹ جولائی کو فضا میں ’ایم کیو – ون پریڈیٹر‘ ڈرون طیارے (MQ-1 Predator UAVs) آ گئے اور زمین پر مورچہ زن ’پاک‘ فوج کے سپاہیوں کو براہِ راست لال مسجد و جامعہ حفصہ کی فضائی تصاویر فراہم کی گئیں۔1

اس دوران کہ جب فوجی آپریشن شروع ہو چکا تھا، تب بھی حکومتِ وقت مذاکرات کی نام نہاد ’دہائی‘ دیتی رہی اور یہ اعلان میڈیا پر کیا جاتا رہا کہ ’ہم پر امن حل کے خواہاں ہیں‘۔ ایک طرف یہ ابلاغی دعوے تھے جب کہ دوسری طرف مستقل وحشیانہ عسکریت۔

اسی دوران دھوکے سے غازی صاحب کے برادرِ کبیر مولانا عبد العزیز صاحب کو گرفتار کر لیا گیا اور قومی ٹیلی وژن پر آپ کو عورتوں کے لباس میں پیش کیا گیا۔

خونِ مسلم کو بہنے سے بچانے کی خاطر غازی صاحب اور حکومت کی طرف سے کمیٹی میں موجود سیاست دانوں اور علما کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا لیکن حکومت کا منشا خون خرابہ اور اہلِ اسلام کے خلاف ظلم و تعدی تھا، لہٰذا بیک جنبشِ قلم پرویز مشرف اور اس کے وزیروں مشیروں نے کسی بھی قسم کے معاہدے کو رد کر دیا۔

فوج و حکومت اس عرصے میں وقت حاصل کرتی رہیں، اور مسجد و مدرسے کا جس قدر سخت محاصرہ ہو سکتا تھا کر لیا گیا۔ نیز آخری فوجی کارروائی کی تیاریاں پوری کر لی گئیں۔

بالآخر ۱۰ جولائی کی صبح چودھری شجاعت حسین اور اعجاز الحق کے ذریعے یہ اعلانات مسجد کے باہر فوجی مورچوں سے بذریعہ لاؤڈ سپیکر کروائے گئے کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور چند ہی منٹ کے بعد سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے کمانڈوز نے اللہ کے گھر پر ہلّا بول دیا۔2

یہ بھی کیسی عجیب بات ہے، اور دنیا میں ایسا کہاں ہوتا ہے کہ فریقین بھلے جنگ کے لیے بھی تیار ہوں لیکن وہ مذاکرات اور ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہوں اور جیسے ہی مذاکرات وغیرہ میں کوئی تعطل آئے تو طاقت ور فوراً حملہ کر دے۔ اور فوراً ، حقیقتاً فوراً ہی ہو کہ یہاں مذاکرات کی ناکامی کا اعلان ہوا اور وہاں چند منٹ میں فوجی مسجد و مدرسے پر چڑھ گے۔

شہادت

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

غازی صاحب اور آپ کے رفقا نے یہ سب جد و جہدِ دینی اللہ کی رضا کو پانے کی خاطر شروع کی تھی۔ بندۂ مومن کا شعار تو خود بندۂ مومن سے محبت کرنے والے ربّ نے بیان کیا ہے۔ ارشادِ خدا وندی ہے:

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ…… (سورة التوبۃ: ۵۲)

’’کہہ دو کہ تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ (آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے؟‘‘

دو بھلائیاں؛ فتح یا شہادت!یا تو بندۂ مومن کو اللہ کی راہ میں کھپتے، دعوت دیتے و جہاد کرتے غلبہ حاصل ہو رہے گا یعنی اللہ کے باغیوں پر فتح مل رہے گی اور اگر یہ نہ ہوئی تو حسنِ خاتمہ بصورتِ شہادت فی سبیل اللہ ہو گا۔

بندۂ مومن تو فتح بھی اپنے نفس کی خاطر، اپنی جان، اپنے قبیلے یا قوم و وطن کی خاطر نہیں چاہتا۔ یہ فتح بھی فی سبیل اللہ ہوتی ہے۔ بندۂ مومن نہ مال و جاہ کا طالب ہوتا ہے اور نہ ہی کشور کشائی اس کا مطمح و مقصد ہوتا ہے۔

محب و محبوب ربّ کے بندوں کے لیے فتح مقدر نہ ہو تو بھی ان بندوں کے مخالفین کے لیے دنیا میں صورتِ فتح، ابدی ’رسوائی‘ مقدر ہو چکی ہوتی ہے، اور شہادت کے تو کیا ہی کہنے ہیں؟

اسی شہادت فی سبیل اللہ کے متعلق ، خدا کے بعد بزرگ و برتر، کامل و اکمل، فخرِ موجودات، رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا کیسا ہی تعجب خیر فرمان ہے:

’’وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ .‘‘3

’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جنگ کروں اور قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں ۔‘‘

اور مجدد ملت، حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے اس حدیث کے ذیل میں کیا ہی عجیب بات فرمائی ہے:

’’ آہ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر کیا گزرتی ہو گی جو یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر آئی، ورنہ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ضابط تھے…… صاحبو! شہادت میں کچھ تو لذت ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اس کی تمنا فرماتے ہیں۔‘‘4

یہی تمنا غازی صاحب کے دل میں بھی تھی۔ سچ یہ ہے کہ غازی صاحب رضائے الٰہی کے طالب تھے اور ان کو واضح نظر آ گیا کہ اب رضائے الٰہی کا مجھ سے تقاضا اللہ کے راستے میں قتل ہو جانا ہے۔

’پاک‘ فوج کے شقی سپاہیوں کی گولیاں جب غازی صاحب کی والدہ کو لگیں تو اپنی ماں کو کلمہ پڑھانے لگے اور ایک صحافی سے اسی دوران بات کرتے ہوئے کہا :

’’میری شہادت اب یقینی ہے!‘‘5

آپ زبانِ قال و حال سے کہہ رہے تھے:

ہر تمنا دِل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا، اب تو خلوت ہو گئی

روحِ قدسی جانبِ جنت روانہ ہوتی ہے

اللہ کے گھر کی حرمت و تقدس پامال کرنے، اوراقِ قرآنی کو نذرِ آتش کرنے اور دسیوں طلبہ و علما کو قتل کرنے کے بعد اُس فوج نے لال مسجد کو فتح کر لیا جس نے بابری مسجد کا ’بدلہ‘ لینا تھا۔ مسجد کو تاراج کرنے کے بعد ایس ایس جی کمانڈوز جامعہ حفصہ کے احاطے کی طرف بڑھے۔ اسی احاطے میں مولانا عبد الرشید غازی بھی موجود تھے۔

کمانڈوز داخل ہوئے اور انہوں نے غازی صاحب کو تاک کر ٹانگ پر گولی ماری اور اعلان کیا ’عبد الرشید غازی! سرینڈر ہو جاؤ!‘، ساتھ ہی کہا گیا کہ ’ہم ابتدائی طبی امداد کا عملہ بھیجتے ہیں جو تمہاری مرہم پٹی کرے گا‘۔ نجانے غازی صاحب کو اس دشمنِ دین کی آواز پہلے سنائی دی یا ’نغمۂ حورِ جنتاں‘ پہلے کانوں میں گونجا۔

غازی صاحب تو بہت پہلے ہی اپنا سب کچھ اللہ کے سامنے ’سرینڈر‘ کر چکے تھے اور اللہ کا حکم تھا کہ جب تم اہلِ طغیان سے ٹکراؤ، جب قتال کا مرحلہ آئے تو پیٹھ مت پھیرو۔ آپ نے اسی حکمِ خداوندی پر عمل کیا اور مسجد و مدرسے کو پامال کرنے والوں پر جوابی حملہ کر دیا۔

اسی اثنا میں چند اور گولیاں آپ کو سامنے سے لگیں اور ایک بار پھر آپ کو ’فرسٹ ایڈ ؍ ابتدائی طبی امداد‘ کی پیشکش کی گئی جسے آپ نے یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ ’میرا آخری وقت آ گیا ہے!‘۔

غازی صاحب کا قدم لڑکھڑایا اور آپ اللہ کی تمجید بیان کرتے ہوئے گر پڑے۔ آپ کی زبان پر اس وقت یہ مبارک کلمہ جاری ہو گیا:

’’سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ.‘‘

اس کے بعد آپ نے کلمۂ شہادت پڑھا:

’’اشهد ان لا اله الا الله وحدہٗ لا شریک لہٗ واشهد ان محمدا عبده و رسوله.‘‘

آخری بار دشمن کا وار سہتے ہی آپ نے کلمۂ طیبہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھا، دشمن نے سہ بارہ آپ کو فرسٹ ایڈ کی پیشکش کی اور سہ بارہ ہی آپ نے یہ پیشکش ٹھکرائی، پھر فرمایا کہ ’مجھے ہاتھ مت لگانا، میرا آخری وقت آ گیا ہے‘ اور ۱۰ جولائی ۲۰۰۷ء بمطابق ۲۵ جمادی الثانی ۱۴۲۸ ھ ، بروز منگل اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آپ کی روح قبض فرما لی (نحسبہٗ کذلك والله حسيبه)۔6

جنازہ اور تدفین

غازی صاحب نے وصیت فرمائی تھی کہ مجھے بعد از مرگ میرے والدِ ماجد یعنی مولانا عبداللہ غازی صاحب کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ سبحان اللہ، اللہ نے آپ کو مرگِ عمومی کی جگہ اپنے والد ہی کے مثل شہادت سے بہرہ ور فرمایا۔ مولانا عبداللہ غازی شہید کی آخری آرام گاہ آپ ہی کے قائم کردہ مدرسے ’جامعہ فریدیہ‘ کے ساتھ ہے۔

جس طرح فراعنۂ وقت اہلِ اسلام سے ان کی زندگی میں ڈرتے ہیں اسی طرح ان کی موت کے بعد بھی ڈرا کرتے ہیں۔ مشہور و معروف ہے کہ شیرِ میسور، مجاہدِ حریت سلطان فتح علی ٹیپوؒ کو جب شہید کر دیا گیا تو انگریز اور انگریزوں کے وفادار کئی گھنٹے تک ٹیپو کی نعش کے قریب بھی آنے سے گھبراتے رہے۔ فرعونِ عصر پرویز مشرف اور اس کے ظالم و فاجر حواری بھی اسی طرح غازی صاحب کی اسلام آباد میں تدفین سے خائف تھے۔ لہٰذا سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ حکم دیا کہ غازی صاحب کو ان کے آبائی علاقے اور جائے پیدائش روجھان غازی کی بستی عبداللہ میں دفنایا جائے۔ چنانچہ آپ کا جسدِ مبارک ، آپ کی شہادت سے اگلے دن یعنی ۱۱ جولائی ۲۰۰۷ء بمطابق ۲۶ جمادی الثانی ۱۴۲۸ ھ، بدھ کی شام بستی عبداللہ لے جایا گیا ۔

۱۲ جولائی ۲۰۰۷ء بمطابق ۲۷ جمادی الثانی ۱۴۲۸ ھ ، بروز جمعرات، پونے دو بجے سہ پہر آپ کا جنازہ آپ کے برادرِ کبیر مولانا عبدالعزیز غازی صاحب نے پڑھایا اور اس آفتابِ عالَم تاب کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔

کرامت

مشہور قول اور ثابت شدہ بات ہے کہ ’الإستقامۃ فوق الکرامۃ‘ یعنی ’استقامت کرامت سے افضل ہے‘اور غازی صاحب کی زندگی اور موت دونوں ہی استقامت علی الحق کا مظہر ہیں۔ لیکن انسانی مزاج ہے کہ وہ خرقِ عادت اشیا کو دیکھ کر زیادہ متاثر ہوتا ہے اور کرامت بھی انہی خرقِ عادت چیزوں میں سے ایک ہے جو اہل اللہ تابعینِ شریعت سے منسوب ہوتی ہے۔

غازی صاحب کی شہادت کے بعد آپ کی تین کرامتیں ظاہر ہوئیں۔ پہلی یہ کہ آپ کے خون سے خوشبو پھوٹی۔ دوسرا آپ کا خون تا دمِ تدفین بہتا رہا اور تیسرا یہ کہ بعد از تدفین، آپ کے مرقدِ مبارک سے خوشبو پھوٹی اور یہ خوشبو کئی دن تک آپ کی قبر سے آتی رہی۔

یہ تو اس دنیا میں حال ہے۔ قیامت کے روز بھی کیا منظر ہو گا کہ جب حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مصداق کہ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْکِ7……قیامت کے دن اللہ کے راستے میں لگے ان زخموں سے بہتے خون کا رنگ تو خون سا ہو گا لیکن اس کی خوشبو مشک جیسی ہو گی۔

مشاہیر و قائدینِ امت کے غازی صاحب اور آپ کی تحریک کے متعلق فرمودات

شیخ اسامہ بن لادنؒ

محسنِ امت، شیخ اسامہ بن لادن نے غازی صاحب کی شہادت کے بعد اپنے ایک صوتی پیغام میں فرمایا:

’’جس طرح آج سے تقریباً دو دِہائیاں قبل پاکستان کی سرزمین نے ائمۂ اسلام میں سے ایک عظیم امام، بطلِ جہاد، امام عبداللہ عزام رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت دیکھی تھی اور یہاں کی مٹی ان کے پاکیزہ خون سے سیراب ہوئی تھی، اسی طرح آج ایک مرتبہ پھر ہمیں اسی سرزمین پر ایک اور عظیم امام دیکھنے کا شرف حاصل ہوا ہے، جو محضِ اہلِ پاکستان ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک امام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ امام مولانا عبدالرشید غازی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نے، آپ کے ساتھیوں اور طلبہ نے اور جامعہ حفصہ کی طالبات نے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کا مطالبہ کیا کیونکہ ہماری تخلیق کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم اللہ کے عطا کر دہ دین اسلام کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ پس یہ سب لوگ درحقیقت اسی عظیم مقصد کی خاطر قتل ہوئے۔‘‘8

شیخ ایمن الظواہری

حکیم الامت، امیر المجاہدین، ڈاکٹر ابو محمد ایمن الظواہری (دامت برکاتہم العالیہ) نے لال مسجد پر حملے کے تناظر میں ایک مختصر صوتی پیغام جاری فرمایا، جو کہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے سارے کا سارا ہی لائقِ نقل ہے:

’’آج میں آپ سے اس مجرمانہ زیادتی کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں، جو پرویز، اس کی فوج، اس کی سکیورٹی فورسز، جو سب درحقیقت صلیبیوں کے شکاری کتے ہیں، اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے خلاف کررہے ہیں۔ اور ساتھ ہی میں آپ سے اُس گھٹیا اور غلیظ جرم کے حوالے سے بھی بات کرنا چاہتا ہوں جو پاکستان کے عسکری انٹیلی جنس ادارے نے پرویز کے حکم سے مولانا عبدالعزیز کے خلاف کیا جب انہیں ٹی وی کی سکرین پر عورتوں کے لباس میں پیش کیا گیا۔

یہ ایک انتہائی واضح اور صریح پیغام ہے پاکستان کے مسلمانوں اور علمائے پاکستان کے نام، بلکہ تمام عالمِ اسلام کے نام ۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو یا تو صرف توبہ سے دھل سکتا ہے یا ان مجرموں کے خون سے۔ میں پاکستان کے علما سے استدعا کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ پرویز کے نزدیک آپ حضرات کی بس یہی وقعت ہے۔ اور یہی وہ حشر ہے جو پرویز کے شکاری کتوں کی جیلوں میں آپ کا منتظر ہے۔ اور صلیبیوں کے نزدیک بھی آپ حضرات کی بس اتنی ہی اوقات ہے۔ پرویز اور اس کے شکاری کتوں نے صلیبیوں اور یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے آپ کی عزت خاک میں ملا ڈالی ہے۔ پس اگر آپ اب بھی اپنی آبرو کی حفاظت کی خاطر نہ اُٹھے تو پھر پرویز آپ کا کچھ بھی باقی نہ چھوڑے گا، اور اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک پاکستان میں اسلام کو جڑ سے نہ اکھاڑ دے۔ بے شک یہ ذلیل مشرف، جس نے اپنا شرف و دین صلیبیوں اور یہودیوں کے ہاتھوں بیچ ڈالا ہے، آپ کے مقابلے میں زبردست تکبر کا مظاہرہ کررہا ہے، اور آپ حضرات کے ساتھ بے انتہا حقارت سے پیش آرہا ہے، اور ایسا سلوک کرتے ہوئے اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگا جب تک آپ کو رذیل ترین صورت اور انتہائی ذلیل حالت میں پیش نہ کرلے۔

یہ ایک بلیغ پیغام ہے پاکستان میں بسنے والے ہر عالم کے نام، ہر خوددار اور باعزت شخص کے نام، کہ پرویز کے خلاف مزاحمت، اس کے سامنے ڈٹنے، اس سے اسلام پر عمل در آمد کا مطالبہ کرنے اور صلیبیوں و یہودیوں کی غلامی سے باز آنے کا مطالبہ کرنے کی آج یہی قیمت ہے کہ ہر طرح کی بدترین تحقیر و تذلیل کا سامنا کرنا پڑے۔ پس تم سب کا انجام بھی یہی ہوگا، اگر تم خاموش بیٹھے رہے اور دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے رہے۔

پاکستان میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیو!

تمہارے پاس جہاد کے سوا کوئی راہِ نجات نہیں۔ نہ یہ جعلی انتخابات تمہیں نجات دلائیں گے، نہ ہی یہ سیاستیں اور نہ ان مجرموں کے ساتھ سودے بازی ، مداہنت اور مذاکرات۔ نہ ہی یہ سیاسی داؤ پیچ تمہیں نجات دلاپائیں گے۔ تمہاری نجات کا واحد رستہ جہاد ہی ہے۔ پس تم پر لازم ہے کہ اس وقت افغانستان میں برسرِپیکار مجاہدین کی امداد اپنی جانوں، اموال ، مشوروں اور مہارتوں سے کرو کیونکہ جہادِ افغانستان ہی افغانستان، پاکستان اور پورے خطے کو (کفارومرتدین سے) بازیاب کرانے کا دروازہ ہوگا۔ جہاد کے میدانوں میں عزت کی موت مرو اور داڑھی مونچھ کے ہوتے ہوئے بھی عورتوں کی سی زندگی نہ گزارو۔ کیا پاکستان میں کوئی عزت دار لوگ نہیں ہیں؟ کیاپاکستان کے غیرت مند لوگ مرچکے ہیں؟ کیا پاکستان میں کوئی نہیں جو آخرت کو دنیا پر ترجیح دے؟

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ؀إِلاَّ تَنفِرُواْ يُعَذِّبْكُمْ عَذَاباً أَلِيماً وَيَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ وَلاَ تَضُرُّوهُ شَيْئاً وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ؀ إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ؀ انْفِرُواْ خِفَافاً وَثِقَالاً وَجَاهِدُواْ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ؀ (سورۃ التوبہ:۳۸–۴۱)

’’مومنو! تمہیں کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم زمین سے چمٹ کررہ جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے)۔ کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہوکر بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں۔ اگر تم نہ نکلوگے تو اللہ تم کو بڑا تکلیف دہ عذاب دے گا اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کردے گا (جو اللہ کے پورے فرمانبردار ہوں گے) اور تم اس کو کچھ نقصان بھی نہ پہنچا سکوگے۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اگر تم اس کی مدد نہ کرو گے تو اللہ اس کا مددگار ہے۔ (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا (اس وقت وہ) دو میں سے دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے۔ اس وقت وہ اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارےساتھ ہے۔ تو اللہ نے ان پرتسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کردیا، اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے، اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔ تم سب ہلکے ہو یا بوجھل (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت، گھروں سے) نکل آؤ اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے بشرطیکہ سمجھو۔‘‘

کیا میں نے بات پہنچادی؟ اے اللہ تو گواہ رہیو! کیا میں نے بات پہنچادی؟ اے اللہ تو گواہ رہیو! کیا میں نے بات پہنچادی؟ اے اللہ تو گواہ رہیو!

شیخ ابو یحییٰ اللیبیؒ

متبحر عالمِ دین، فقیہ و مجاہد شیخ ابو یحییٰ حسن قائد اللیبی شہید نے غازی صاحب کے متعلق اپنے ایک بصری پیغام میں فرمایا:

’’ شیروں کے اس دستے میں سرِ فہرست، پیچھے نہ ہٹنے والے، امام ،عالمِ باعمل ،شہید باپ اور شہید ماں کے شہید بیٹے مولاناعبدالرشید غازی رحمۃ اللہ علیہ تھے ۔آپ نے ذلت و پستی کے اس دور میں کلمۂ حق بلند کیا،اپنے ایمان کے بل پر بلندیوں کوعبور کیا، اس متکبر باطل کو ذلیل و رسوا کیا جس کا سارا اعتماد اپنی قوت و جبر پر تھا۔اس شہید نے پورے یقین، وثوق اور اطمینان سے باطل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تمہارا غرور و تکبر تمہیں ہی پیارا ہو،جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں تو صاف کہتا ہوں:

فَعَلَى اللّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُواْ إِلَيَّ وَلاَ تُنظِرُونِ؀ (سورۃ یونس: ۷۱)

’تو میں تو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کر لواور وہ تمہاری جماعت(کو معلوم ہو جائے اور کسی)سے پوشیدہ نہ رہے۔ پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرواور مجھے مہلت نہ دو……‘

آپؒ نے محاصرے میں گھِرجانے اور دشمن کی دھونس ،دھمکیوں کی بوچھاڑسن لینے کے بعد یہ کہا ……میں موت کو اس بات پر ترجیح دیتا ہوں کہ میں نے جن باتوں کی دعوت دی ہے ان میں سے کسی ایک سے بھی پیچھے ہٹوں یا خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دوں۔اور پھر آپ کے فعل نے آپ کے اس قول کی تصدیق کر دی۔

(عربی اشعار کا نثری ترجمہ)

اس کے لیے موت سے بچنا بہت آسان تھا
لیکن اس کے مضبوط موقف اور اعلیٰ اخلاق نے یہ گوارا نہ کیا

اور اس نے خود موت کی دلدل میں مضبوطی سے قدم جمایا
اور اس سے کہا کہ ’میراحشر بھی اب اس نقشِ پا تلے ہو گا!‘

کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں فرمایا :

’سب سے افضل جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے!‘

تو ذرا سوچیے کہ اس کلمۂ حق کا عند اللہ کیا بلند مقام ہو گاجو(محض ظلم ہی کے نہیں بلکہ) عالمی کفرو طغیان کے ایک اساسی رکن کے منہ پر کہہ ڈالا گیا ہو؟بلکہ اس کی حکومت، فوج، جاسوسی اداروں اور سکیورٹی دستوں سب ہی کے منہ پر کہہ ڈالا گیا ہو؟ مولانا عبدالرشید غازیؒ نے کلمۂ حق صا ف صاف اور صراحتاً کہہ ڈالا……بلا لچک، بلامداہنت وبلا فریب۔ اورسب کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر بات کی حالانکہ آپ ظلم و انتقام کی تلواروں کو اپنے سامنے چمکتا دیکھ رہے تھے، لیکن آپ نے کچھ پروا نہ کی، کسی بات کو خاطر میں نہ لائے اور حق بات کھول کھول کر پہنچاتے رہے، یہاں تک کہ آپ موت سے جا ملے اور موت آپ سے آن ملی ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ شہید کردیے گئے اور آپ کے ساتھ آپ کی والدہ رحمہا اللہ کو بھی شہید کر دیا گیا۔ اور یوں جھوٹے الزامات بکنے والی ہر زبان گنگ ہوگئی اور بغض و حسد سے لبریز ہر وہ دل سیاہ ہو کر بجھ گیا جو جھوٹے الزامات کو فروغ دینے اورافواہیں پھیلانے نکلا تھا ۔گویا یہ شہید ؒ زبانِ حال سے ان سب حاسدوں سے کہہ رہا ہے:

قُلْ مُوتُواْ بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ؀(سورۃ آلِ عمران: ۱۱۹)

’(ان سے)کہہ دو کہ (بد بختو) غصے میں مر جاؤ! اللہ تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے۔‘

آپؒ ان سب لوگوں کے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتے تھے جو آپ کے ساتھ مل کر لڑے۔ اور اب توآپ اپنی ذات میں خود ایک مدرسے کی حیثیت رکھتے ہیں……ان تمام لوگوں کے لیے جو ان شاء اللہ آپ کے بعد اس راستے پر چلیں گے۔ آپ کے بعد اس راہ پر آنے والے لوگ آپ ہی کے اُسوے کی روشنی میں اپنے عزائم بلند رکھیں گے۔ آپ ہی سے یہ سبق سیکھیں گے کہ اپنی تمام دوڑ دھوپ کا ہدف سعادت کے اعلیٰ مراتب کو بنایا جائے اور شہادت کا شرف بھی یوں حاصل کیا جائے کہ اس کی محترم ترین حالت اور اعلیٰ ترین درجہ انسان کے حصے میں آئے۔

(عربی اشعار کا نثری ترجمہ)

اگر تم عزتوں کی تلاش میں بے خوف و خطر کود ہی پڑو
تو پھر ستاروں سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہونا

جب حقیر کاموں میں لگ کر بھی موت کا ذائقہ چکھنا ہی ہے
تو کیوں نہ عظیم کام کر تے ہوئے موت کا مزہ چکھاجائے

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’شہدا کے سردارحمزہؓ بن عبد المطلب ہیں اور وہ شخص (بھی)ہے جو کسی جابر سلطان کے سامنے کھڑا ہوا پھر اسے(نیکی کا ) حکم دیا اور (برائی سے ) منع کیا تو اس (سلطان) حاکم نے اسے قتل کر ڈالا ۔‘۔ ‘‘9

استاد محمدیاسرؒ

مجاہد عالمِ دین، استاد المجاہدین، امارتِ اسلامیہ افغانستان کے سرکردہ رہنما، استاد محمد یاسر نے سانحۂ لال مسجد کے حوالے سے ایک تحریری انٹرویو میں فرمایا:

’’لال مسجد کا واقعہ پاکستانی فوج اور پاکستان کی پیشانی پر شرمندگی کا ایسا بدنما داغ ہے جو کبھی نہیں دھل سکتا۔تاریخ میں جب بھی اس کا تذکرہ ہو گا تو پاکستان کی حکومت اور اس کی فوج ضرور لعنت و ملامت کی مستحق ٹھہرے گی۔ میں یہ کہوں گا کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے خلاف حجاج بن یوسف نے مسجدِ حرام (خانۂ کعبہ)میں جو قتال کیا تھا، اس وقت سے لے کر آج تک یہ دوسرا واقعہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مسجد کے اندر علما، حفاظِ قرآن اور عام مسلمانوں کو شہید کیا گیا ہے۔ یہ لوگ ہمیں ’متشدد‘ کہتے ہیں، کیا جو کچھ لال مسجد کے ساتھ کیا گیاوہ تشدد نہیں تھا؟ ذرا دیکھیے کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے لال مسجد کا کیسا حل نکالا اور سیکولر طبقے نے لال مسجد والوں کے ’حقوق‘ کی کیسے حفاظت کی؟ پس لال مسجد کے واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ جنگ، اسلام اور جمہوریت کی جنگ ہے۔ نیز اس میں بے دین اور سیکولر لوگوں کی اسلام کے خلاف نفرت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ لال مسجد پر حملہ دراصل عالمِ اسلام کے خلاف صلیبی و صہیونی یلغار کا حصہ ہی تھا۔

میں یہ بات بھی کہتا چلوں کہ یہ کوئی عام واقعہ نہیں تھا جو وقوع پذیر ہوا اور قصہ ختم ہو گیا۔ بلکہ اس واقعے نے پاکستان کی تاریخ ہی بدل دی ہے، اس واقعے نے پاکستانی معاشرے اور سیاست کو بدل ڈالا ہے۔ لال مسجد کے بعد پاکستان قطعاً ویسا نہیں رہا، جیسا کہ ما قبل تھا!‘‘10

اہلِ کفر کے تاثرات

یوں تو اہلِ کفر کی بات ، چوپایوں کے منہ کے جھاگ سی حیثیت بھی نہیں رکھتی، لیکن چونکہ یہ کفر و اسلام کی جنگ ہے اور بعض کم علم اہلِ ایمان بھی اس جنگ میں نا دانستہ اہلِ کفر یا ان کے مفادات کے نغمے گاتے نظر آتے ہیں اور یہ مشاہدۂ عام ہے کہ انسان کئی بار اپنے مخالف سے ’حق کی مخالفت‘ سن کر حق کی طرف مائل ہو جاتا ہے سو اس زمانے میں لشکرِ صلیب و طاغوت کے سرغنہ کا یہ بیان ذیل میں نقل کیا جا رہا ہے۔ لال مسجد پر جب ’پاک فوج‘ حملہ آور ہوئی تو امریکی صدر جارج بش نے بیان دیا:

’’اس ماہ کے آغاز میں صدر مشرف نے ان شدت پسندوں کو کچلنے کے لیے فوج بھیجی ہے جنہوں نے لال مسجد پر قبضہ جما لیا تھا۔ اور انہوں (مشرف) نے اپنی تقریر میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کو انتہا پسندوں سے صاف کیاجائے گا۔ افواجِ پاکستان اس مقصد کے لیے لڑ رہی ہیں اور بہت سوں نے اس میں اپنی جان ہاری ہے۔ امریکہ پاکستانی افواج کی ان کاوشوں کی مدد اور حمایت کرتا ہے۔ ہم پاکستان میں اور دنیا بھر میں اپنی اتحادی افواج سے مل کر طالبان اور القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے لڑتے رہیں گے ۔‘‘11

صفاتِ حمیدہ

یوں تو اس مختصر سوانح میں غازی صاحب کی شخصیت کی صفاتِ حمیدہ ہی کا ذکر ہے، لیکن بعض میری نظر میں ایسی ہیں جو کسی خاص پیرائے میں بیان نہیں ہو سکیں۔ لہٰذا آپ رحمۃ اللہ علیہ کی صفاتِ حمیدہ میں سے چند، اس آخری باب میں بیان کرنے کی کوشش ہے۔

استقامت علی الحق

غازی صاحب نے اسلام و ایمان پر استقامت اختیار کرنے اور اپنے مبنی بر حق موقف سے نہ ہٹنے کا اعلان بھی کیا اور سب کو تحریض بھی دلائی۔ آپ نے فرمایا:

’’ مسلسل یہ کہا جارہا ہے کہ ختم کردیں گے، تباہ و برباد کردیں گے۔ یہ سمجھیں کہ بالکل ایسی صورت تھی کہ بش نے مشرف سے کہا کہ تمہیں سٹون ایج (stone age)میں لے جائیں گے، پتھر کے دور میں دھکیل دیے جاؤگے، ختم کردیے جاؤگےتو مشرف نے یوٹرن لے لیا ایک دم۔ ہم سب نے کہا کہ اس کا یوٹرن غلط ہے۔ یعنی طاقت کے سامنے جھکنا غلط ہے۔ اگر اُس کا طاقت کے سامنے جھکنا غلط تھا تو ہمارا طاقت کے سامنے جھکنا کیوں صحیح ہوجائے گا؟ یہ بڑی بنیادی بات ہے۔ ‘‘12

غیرتِ ایمانی

جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا، غازی صاحب کی ساری زندگی ہی غیرتِ ایمانی کی مجسم تصویر ہے، لیکن غازی صاحب کی ایک تقریر کا ذیل میں اقتباس اس غیرتِ ایمان کا بدرجۂ اتم عکاس ہے۔ جب اسلام آباد کی انتظامیہ نے آشیر بادِ پرویز مشرف و وزیرِ داخلہ آفتاب شیر پاؤ پر مساجد ڈھانے کا سفیہ فعل شروع کیا تو غازی صاحب نے فرمایا:

’’یہ جو مساجد کا مسئلہ ہے، یہ کافی عرصے سے چل رہا ہےاور مساجد کے بارے میں ہماری جو میٹنگز ہیں، جب جب مسجدیں گرتی گئیں ہماری میٹنگز ہوتی رہیں، اخبارات میں آتا رہا، اس میں بہت سارے اتار چڑھاؤ بھی آئےاور کئی جگہوں پر ایسے واقعات بھی ہوئے کہ جہاں شدید ٹینشن کی بات ہوگئی تھی، مثلاً مسجد الصُفّہ آئی ایٹ تھری (I-8/3)کا جو مسئلہ ہواتو مجھے یاد ہے کہ وہاں مسجد کو جب گرا رہے تھے انفورسمنٹ (قانون نافذ کرنے) والے تو مجھے ٹیلی فون آیا، میں جامعہ فریدیہ میں تھا، اس وقت کوئی چار لڑکے تھے جو گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھ سکے، ان کو لے کر وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ انفورسمنٹ کا ایک آدمی ایک بہت بڑا ہتھوڑا لے کے منبرِ رسولؐ کو ہتھوڑے ماررہا ہے۔ وہ کیفیت ایسی تھی کہ، اگرچہ مجھے اس طرح غصہ تو نہیں آتالیکن اس دن میری کیفیت بھی کچھ تبدیل ہوگئی اور میں نے جاتے ہی، وہاں انفورسمنٹ والے بھی تھے پولیس کے لوگ بھی تھے، میں نے جاتے ہی، جو ہتھوڑا مار رہا تھا منبر پہ، اس کو گریبان سے پکڑ کےکھینچا اور کہا کہ تم یہ کیا کرتے ہو؟ کیا غضب کررہے ہو؟کیا ظلم کررہے ہو؟اس نے کہا: جی اوپر والوں کا آرڈر ہے۔میں نے کوئی اس کو سخت بات کہی۔ وہ سخت بات ایسی تھی جو سب کو(سخت) لگی۔ یعنی میں نے کہا کہ اوپر والے اگر تم کو کسی اور کام کا کہیں ، اپنی ماں کے ساتھ برے کا کہیں تو تم وہ کرو گے؟ تو یہ بات ان سب حضرات کو بری لگی جو وہاں کھڑے تھے۔ بات بھی سخت تھی لیکن میری چونکہ کیفیت ایسی تھی کہ یہ بات میرے منہ سے نکلی۔

بہرحال وہاں انفورسمنٹ او رپولیس والے آئے؛ میرے پاس اس وقت گن (بندوق)تھی اپنی تو میں نے ان سے کہا کہ میرے سامنے سے، میری نظروں سے دور ہوجائیں ورنہ آج یہاں خون ہوجائے گا۔ بہت سخت غصے کی کیفیت تھی۔ انہوں نے بھی اندازہ کرلیا اور کہا کہ غازی صاحب! آپ تو اس طرح بات نہیں کرتے ہیں ، آج کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ البتہ میرے غصے سے یہ ہوا کہ سارے انفورسمنٹ والے وہاں سے چلے گئے اور پولیس والوں سے میں نے کہا کہ میری نظروں سے دور ہو جائیں ورنہ یہاں خون ہوجائے گا۔ اگرچہ میرے ساتھ چار لڑکے تھے مگر میرا بس یہ تھا کہ پھر میں گولی چلا دوں گا؛ ایک منبر پہ اور محراب پہ ہتھوڑا چلتے ہوئے میں نہیں دیکھ سکتا۔ بہرحال انہیں یہ بات سمجھ آئی اور انہوں نے فورس بھی پیچھے ہٹا لی اور وہ وہاں سے چلے گئے۔ اس دن تو وہ مسجد بچ گئی لیکن بعد میں ایک دن اچانک انہوں نے وہ مسجد گرادی۔ اسی طرح مسجد ابن عباسؓ کو گرایا گیا، میرا خیال ہے کوئی آج سے چار مہینے پہلے،اور اس مسجد کے اندر قرآن مجید ابھی بھی دفن ہیں۔ بہت سارے نکالے ہیں۔ دو تین حضرات ہمارے علمائے کرام گواہ ہیں کہ نالے میں سے قرآن مجید نکالے ہیں ۔ اور انہی دنوں میں میری اس سلسلے میں بات ہوئی تھی ڈپٹی کمشنر سے، ٹیلی فون پہ میری بات ہورہی تھی تو میں نے انہیں یاد دلایا کہ آپ کو یاد ہے کہ آپ نے یہ کام بھی کیا ہے؟تو انہوں نے کہا کہ جی مجھے یاد ہے لیکن ہمیں جلدی تھی، قرآن مجید نکالنے کی (فرصت) ہمیں نہیں تھی کہ ہمیں فوراً کارروائی کرنی ہے ورنہ لوگ پہنچ جائیں گے۔ تو انہوں نے مجھے کہا کہ ہمیں اللہ معاف کرے گا، تو میں نے کہا کہ اللہ نہیں معاف کرے گا، اللہ کیوں معاف کرے گا؟آپ قرآن مجید کے ساتھ یہ سلوک کریں، مسجد کے ساتھ یہ سلوک کریں اور اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے گا!اللہ قطعاً معاف نہیں کرے گا۔‘‘13

صحافی کو شراب سے ممانعت کی نصیحت

غازی صاحب کی یہ فکر و تڑپ نہایت ہی حیرت انگیز ہے۔ غازی صاحب کی زندگی کا آخری وقت ہے، دشمن سے جنگ چل رہی، غازی صاحب اپنی زندگی کا آخری پیغام ایک ٹی وی چینل پر بیان کر رہے ہیں۔ یہ ایسا موقع ہےکہ قریباً جان کنی کا عالَم ہے لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فاسق و فاجر امتی سے بھی اتنی محبت اور ہمدردی ہے، کہ ایک صحافی جو شراب پیتے تھے، ان کا نام لیے بغیر ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں:

’’ایک صحافی ہیں، جو شراب پیتے ہیں۔ وہ سمجھ جائیں گے کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئندہ شراب نہیں پیئں گے تو میری ان سے گزارش ہے کہ وہ آئندہ شراب نہ پیئں۔‘‘

غازی صاحب کا یہ آخری پیغام خود مومنین کی اعلیٰ صفات کا عکاس ہے۔ ایک طرف ’اشداء علی الکفار‘ ہیں کہ ہاتھ میں کلاشن کوف ہے، سینے پر گولیوں سے بھرا جعبہ باندھ رکھا ہے، بش و امریکہ کے ایجنٹوں، مسجدوں کو گرانے اور اوراقِ قرآنی شہید کرنے والوں، مجاہدین کو قتل اور اہلِ ایمان کی عورتوں کی عصمت ریزی کرنے والوں کے خلاف معرکۂ قتال میں شریک ہیں اور دوسری طرف، بلکہ دوسرا بھی کیا، وہ قلب جو کفر و نفاق کی نفرت سے لبریز ہے، وہی دِل اہلِ ایمان کے لیے ایسا نرم ہے، ’رحماء بینہم‘ کی ایسی تجسیم ہے کہ ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ پڑھنے والے کے بارے میں اب بھی سوچ رہے ہیں کہ اس کی آخرت بچ جائے۔

میڈیا پر حکمت سے بات

میڈیا اس دور کی دو دھاری تلوار ہے۔ شہید داعیٔ حق، ملک شہباز (میلکم ایکس) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

’ ’اگر آپ محتاط نہیں ہوں گے تو میڈیا آپ کو ان سے نفرت کرنے پر آمادہ کر دے گا، جن سے آپ محبت کرتے ہیں اور ان سے محبت پر آمادہ کر دے گا، جن سے آپ نفرت کرتے ہیں۔‘‘14

پھر آج کا میڈیا، بلکہ تاریخ میں میڈیا کی جو جو شکل رہی ہے، ان میں اسلامی ’کاز‘ کے لیے کام کرنے والے اسلامی صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو چھوڑ کر، اکثر ایسے رہے ہیں کہ وہ اہلِ دین کے منہ سے ایسی بات نکلوانا چاہتے ہیں جو اہلِ دین کو دین سے اور بات کرنے والے صاحبِ دین سے برگشتہ کر دے۔

ایسے میں میڈیا سے معاملہ کرنے، صحافیوں سے بات کرنے اور ان کو جواب دینے میں غازی صاحب کو خاص حکمت و مہارت تھی۔ ہماری اس تحریر کردہ سیرتِ مختصرہ میں کئی جگہوں پر غازی صاحب کے لکھے گئے اقوال آپ کی میڈیا ہی سے گفتگو ہے۔

غازی صاحب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کبھی نازیبا الفاظ کا استعمال نہیں کیا، موقفِ شرعی سے پیچھے نہیں ہٹے ، شائستگی سے مقابل کے موقف کی تردیدکی اور سیکولر و لادین صحافیوں کو بھی اپنی دلیل سے قائل کر گئے۔

شجاعت

شجاعت ایک نہایت نادر صفت ہے۔ مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادیؒ صفتِ شجاعت سے متعلق اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’تاریخِ اسلام‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’شجاعت ایک ایسی صفت ہے جو ہر شریف آدمی کو اپنے دشمن میں نظر آئے تو اس کی بھی قدر کرتا ہے۔ حتیٰ کہ ’شیر‘ جیسا درندہ جس کا کام چیر پھاڑ کرنا ہے، اس کی قدر بھی حیوان ہونے کے باوجود دنیا کے ہر معاشرے اور خطے میں پائی جاتی ہے کہ وہ ’بہادر‘ ہوتا ہے اور اسی سبب سے وہ حیوان ہونے باوجود بہادری و شجاعت کا استعارہ ہے۔‘‘

دیگر صفات کی طرح شجاعت بھی غازی صاحب کی ایسی صفت ہے جس کا اظہار ان کی ساری زندگی میں ہوتا رہا۔ لیکن مشہور قول ہے کہ انسان کے شجاع و بہادر ہونے کا پتہ میدانِ جنگ میں چلتا ہے۔ یہاں غازی صاحب کی شجاعت کی ایک شہادت نقل کرتے ہیں۔ مغربی صحافی راگے عمر نے دورانِ جنگ غازی صاحب سے فون پر بات کی اور فون بند کرتے ہی، جب کہ گولیاں چل رہی ہیں اور راگے عمر خود بھی گولیوں سے بچنے کے لیے زمین پر بیٹھا ہوا ہے (حالانکہ وہ میدانِ کارزار سے خود کافی دور ہے) تو وہ کہتا ہے:

’’ میں نے دورانِ آپریشن مولانا سے (ابھی)بات کی اور ان کا لہجہ بالکل پر سکون تھا…… (لہجہ ویسا تھا) جیسا میں جب ملا تھا، اس وقت تھا !‘‘15

ان چند صفاتِ حمیدہ کو بیان کرنے کے بعد راقم اس مختصر سوانح کا اختتام کرتا ہے، اس دعا کے ساتھ کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس چھوٹی سی کاوش کو میرے لیے توشۂ آخرت اور امتِ مسلمہ کی بیداری کا سبب بنا دے۔

اختتام میں غازی صاحب کے آخری صوتی پیغام کی تحریری نقل اور پھر غازی صاحب کی وصیت نقل کی جاتی ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ ربّ العالمین و صلی اللہ علی النبی!

آخری پیغام

’’اس وقت میرا پیغام دنیا کو چلا جائے کہ……یہ (حکمران اور فوج)ایجنٹ ہیں، استعمار کے ایجنٹ ہیں، امریکہ کے ایجنٹ اور بالکل ان کا طرزِ عمل بھی ایجنٹوں والا ہے، اس لیے (اسلام کو نافذ کرنے کے لیے)ان کو یہاں سے ہٹانے کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں ہے۔ والسلام علیکم!‘‘16

وصیت نامہ علامہ عبد الرشید غازی شہیدؒ

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم

ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک ہم محصورینِ لال مسجد شہادت کا اعلیٰ رتبہ پاچکے ہوں۔ ۱۵ ہزار کے قریب سکیورٹی اہلکار، نیم فوجی دستے، ٹینکوں کا لاؤ لشکر17 نہتے اور معصوم طلبہ و طالبات کو روندتے ہوئے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو فتح کر چکے ہوں گے۔ اگرچہ اس وقت لال مسجد کربلا کا منظر پیش کر رہی ہے۔ شہدا کی بکھری ہوئی نعشیں، زخمیوں کی آہ و بکا، مسجد و مینار اور چاردیواری زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ چھ لاکھ انسانوں کی قربانی 18جس مطالبے پر دی گئی، اسے دہرانے کی سزا ہے۔ تاہم اس سارے منظر نامے میں خطیبِ لال مسجد و بانی تحریکِ طلبہ و طالبات مولانا عبد العزیز کی غیر متوقع گرفتاری اور بعد ازاں ان کا ٹی وی انٹرویو اسلام پسند عوام کے لیے یقیناً مایوسی کا سبب بنا۔ عام لوگ جو اصل صورتِ حال سے واقف نہیں، ان کا خیال ہے اور میڈیا بھی حقیقت جانے بغیر یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ مولانا عبد العزیز نے موت کے خوف سے فرار کا راستہ اختیار کیا اور اپنے رفقا و طلبہ و طالبات کو تنہا چھوڑ کر نکل پڑے۔ تجزیاتی صلاحیت سے بے بہرہ لوگ اس پہلو پر غور نہیں کرتے کہ اگر واقعی مولانا عبد العزیز موت سے خوف زدہ ہو کر زندگی کی طرف بھاگتے تو پھر اپنے بیٹے، بیٹی، ماں اور بیوی کو کیوں چھوڑ گئے، پھر میں ان کا چھوٹا بھائی اور ان کے دیگر ساتھی اور رہ جانے والے طلبہ و طالبات سرنڈر کا راستہ کیوں اختیار نہیں کرتے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مخالفین کو سمجھانے کی بجائے ہمدرد لوگوں کے ٹوٹے ہوئے دِلوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ مولانا عبدالعزیز گہری سازش کا شکار ہوئے۔ اگرچہ فی الوقت ان کی گرفتاری پر اَسرار کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ پردہ اٹھ جائے گا اور حقائق سامنے آئیں گے۔ ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ مولانا عبدالعزیز راہِ جہاد کے مسافر اور شوقِ شہادت سے سرشار ہیں۔ ان کے خلاف صرف ایک ہی بات کہی جاسکتی ہے کہ انہوں نے کڑے وقت میں بعض غلط لوگوں پر اعتماد کیا جو کہ ان کی غلطی تھی جس کی سزا بہرحال بھگتنا ہو گی۔ سچ اور حقیقت یہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز نہ موت سے گھبرائے اور نہ ہی راہِ فرار اختیار کی بلکہ وہ وصیت لکھ کر غسل کر کے شہادت کے منتظر تھے کہ دیگر لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے امید کی کرن سارے فسانے کا باعث بنی۔ بہر حال حقیقت ثابت اور واضح کرنا وقت کا کام ہے اور وہ ایسا ہی کرے گا۔

میں صرف اتنا کہوں گا کہ مولانا عبد العزیز اور ان کے جاں نثار ساتھیوں نے تحریک صرف اللہ کی رضا اور شریعت کے نفاذ کے لیے شروع کی۔ حدود اللہ میں ترمیم، مساجد کی شہادت، فحاشی و عریانی کا فروغ، اسلامی عقائد کی نفس پسند تشریحات، جہاد کا نام لینے پر فوج کشی، مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کے بھیڑ بکریوں کی طرح کفار کے حوالے کرنا، سیکولرازم کے فروغ کے اقدامات قابلِ برداشت نہیں جس کی وجہ سے نفاذِ اسلام کی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آپریشن کے دوران جامعہ حفصہ میں کسی طالبہ یا طالبِ علم کو زبردستی نہیں روکا گیا۔ میں یہاں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اس ملک میں اسلام کا نظامِ عدل چاہتے ہیں، ہم عدالتوں میں شرعی قوانین کے نفاذ کے خواہاں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں غریب عوام کو انصاف ملے۔ رشوت، ظلم، فحاشی، اقربا پروری کا نظام ختم ہو۔ ان سب مسائل کے حل کے لیے اسلامی نظام کا عملی نفاذ واحد ذریعہ ہے اور آئینِ پاکستان کا تقاضا بھی ہے۔ ہم نے دنیاوی فوائد کو مسترد کر کے، راستے کی تلخیوں کو پہچانتے ہوئے، شعوری طور پہ آخرت کی زندگی کو دنیا کی زندگی پر ترجیح دی ہے۔

ریاست کی رِٹ کی برتری کی بات کرنے والوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رِٹ کو قدم قدم پر پامال کیوں کیا؟ جن لوگوں نے گزشتہ پانچ دنوں میں قرآن اور حدیث کا علم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو گولیوں سے چھلنی کیا وہ یقیناً ظالم ہیں۔ اس موقع پر میڈیا کے چند چینلز نےبھی جانب داری کا مظاہرہ کیا، ہم اس مسئلے کو بھی اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ میں آخر میں وصیت کے طور پہ اسلام پسند عوام، تحریک سے وابستہ لوگ، طلبہ و طالبات، ان کے لواحقین اور ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنی بات دہراؤں گا کہ ہماری تحریک نیک مقاصد کے لیے شروع کی گئی ہے۔ ہم اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے پر قائم ہیں۔ ہم اس بات پر مطمئن ہیں کہ ہم نے ایثار و قربانی اور وفا کی راہ کا انتخاب کیا۔ ہم نفاذِ اسلام کے مطالبہ پر جان دینا سعادت سمجھتے ہیں۔ کسی کو تو نفاذِ اسلام کے لیے آگے بڑھ کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہے۔ ہمیں اللہ کی رحمت سے یقین ہے کہ ہمارا لہو انقلاب کی نوید بنے گا۔ دنیا والوں نے ہمیں کبھی ایجنسی کا کارندہ کہا…… کبھی پاگل…… آج بارود کی بارش ثابت کر رہی ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں۔ بے شک اہلِ حق پر مصائب آنا حقیقت ہے، اگر ہمارے امیر حضرت حسین ؓ بےبسی میں شہید ہوئے تو ہم بھی اُسی قافلے کے راہرو ہیں۔ اسلامی انقلاب اس ملک کا مقدر بنے گا، ان شاء اللہ۔

؏چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!‘‘

تمّت بالخير بتوفيق الله تعالیٰ


1 بحوالہ خبر رساں ایجنسی ’آن لائن‘ (http://www.onlinenews.com.pk/details.php?id=114788)

2 بحوالہ پاکستان ٹائمز (http://www.pakistantimes.net:80/2007/07/11/top.htm)

3 صحیح بخاری

4 خطبات حکیم الامت جلد ۹، صفحہ ۷۰، ۷۱

5 بحوالہ جیو نیوز (ویڈیو نیوز رپورٹ)

6 بحوالہ : علمائے دیوبند کے آخری لمحات، ج ۲، ص ۳۹۵

7 صحیح بخاری

8 بحوالہ صوتی بیان از شیخ اسامہ بن لادن ’حی علی الجہاد‘، نشر کردہ ادارہ السّحاب ، ستمبر ۲۰۰۷ء

9 بحوالہ بصری بیان از شیخ ابو یحییٰ اللیبی ’شہدا کے قافلہ سالار‘، نشر کردہ ادارہ السّحاب ، ۲۰۰۷ء

10 بحوالہ ’استاد المجاہدین؛ استاد یاسر کے ساتھ ادارۂ حطین کی گفتگو‘، ناشر ادارۂ حطین، شعبان ۱۴۳۰ ھ

11 حوالہ: ادارہ السّحاب شعبۂ اردو کی دستاویزی فلم’امامِ بر حق‘ جس میں بش کی صوتی تقریر سنائی گئی ہے۔

12 علما میں بیان، ۲۴ فروری ۲۰۰۷ء

13 علما میں بیان، ۲۴ فروری ۲۰۰۷ء

14 Speeches by Malcolm X (YouTube)

15 Al Jazeera English’s programme “Witness”, with Rageh Umaar [نشر شدہ گیارہ (۱۱) اگست ۲۰۰۷ء]

16 صحافی نصر اللہ ملک سے گفتگو

17 غازی صاحب نے وصیت میں جو تعداد نقل کی ہے وہ اس وقت کی معلومات کے مطابق ہے، لیکن دیگر ذرائع بشمول’ آزاد دائرۃ المعارف وکی پیڈیا (انگریزی) ‘ کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ تھی۔ ساٹھ ہزار (۶۰،۰۰۰)فوج و رینجرز کی نفری تعینات کی گئی اور ایک سو چونسٹھ (۱۶۴) سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے لال مسجد کو گھیر رکھا تھا۔ نیم عسکری ادارے اور پولیس کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

18 قیامِ پاکستان کی طرف اشارہ ہے۔

Previous Post

سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی شرعی حیثیت | چوتھی قسط(آخری)

Next Post

ایمان ہی ایک مومن کا اصل سرمایۂ حیات ہے! | بارہواں خط

Related Posts

اداریہ

وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے……

20 ستمبر 2020
تزکیہ و احسان

دِل کاچین

20 ستمبر 2020
تزکیہ و احسان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت | تیرہویں قسط

20 ستمبر 2020
حلقۂ مجاہد

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ نصرہ اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | ستمبر 2020

20 ستمبر 2020
آخرت

علامات قیامت ۸

20 ستمبر 2020
یومِ تفریق

شہدائے گیارہ ستمبر کا تعارف…… شیخ اسامہ بن لادن ﷬کی زبانی

20 ستمبر 2020
Next Post

ایمان ہی ایک مومن کا اصل سرمایۂ حیات ہے! | بارہواں خط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version