گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کو وقوع پذیر ہونے والے جہادی حملے، تاریخ کا وہ اہم باب ہے جس کے بغیر ماضی، حال اور مستقبل کے تمام حوادث و واقعات، اعداد و شمار اور حقائق نا مکمل ہیں۔
گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کے جہادی حملے دراصل دنیا میں جاری و برپا نظامِ جدید اور دینِ جدید کے خلاف بغاوت کا پہلا واضح نظارہ ہیں۔ نظامِ جدید اور دینِ جدید جسے سیکولرازم، جمہوریت ، سرمایہ داری اور ہیومن ازم وغیرہ کے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔ نظامِ جدید و دینِ جدید؛ کفرِ قدیم و جدید کے تمام تجارب، امپیریل ازم، مشرکانہ ادیانِ باطلہ، انسانی خدائی کے دعوے دار فلسفوں، توہم پرست عقیدوں، خدا کا انکار کرتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی پر ایمان وغیرہ کا نتیجہ ہے جو دنیا میں دو عالمی جنگوں کے بعد بتدریج دنیا کے ہر کونے میں قائم ہو گیا۔ یہ نظام و دین وہ تہذیب و طریقہ ہے جسے مختصراً دجالی تہذیب کہا جا سکتا ہے اور اس تہذیب کا مطمحِ اصل اور مقصدِ اعظم دراصل دجال کے دنیا میں خروج سے قبل، خروجِ دجال کے لیے ماحول و فضا کو سازگار بنانا ہے۔ اب اس ہوا سازی کے واسطے یہودی اور صہیونی عقائد کے حاملین پورے شعور کے ساتھ اپنی محنتیں جھونک رہے ہیں اور ان یہودیوں اور صہیونیوں کے علاوہ دنیا کے تقریباً تمام مقتدر گروہ، حکومتیں، افواج اور مذاہبِ باطلہ کے پرستار غیر شعوری طور پر دنیوی منفعت کے نام پر یا کسی نام نہاد نظریے کی بنیاد پر اپنی کوششوں میں مگن ہیں۔
آج سے ایک صدی قبل دنیا میں جب بظاہر اسلام مغلوب ہو رہا تھا تو نقشۂ عالم آج سے پندرہ صدیوں پہلے کی صورت میں دو بڑی طاقتوں کے مابین تقسیم تھا۔ اسلام جس زمانے میں انسانانِ عالَم کے لیے رحمتِ دنیا و آخرت کا پیغام لیے ابھرنے والا تھا تو اس دور میں روم و فارس کے درمیان عظیم معرکے لڑے جا رہے تھے۔ ایک فریق نے غالب آنا تھا اور اپنے دین و نظام کو دنیا پر غالب کرنا تھا اور بظاہر ہوا بھی یونہی، لیکن نصف صدی یا کچھ زیادہ گزرنے کے بعد روم اپنے علاقے میں اور فارس، جو ماضی کی نسبت کمزور ہو چکا تھا، اپنے علاقے میں محدود ہو گئے۔ اس کے بعد اللّٰہ نے رسولِ محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قدسی صفت ، طاہر و مطہر صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے ہاتھوں فارس کو نابود فرمایا اور پھر روم تدریجاً اثر کھوتا رہا اور علاقے بھی۔
آج سے سو–سوا سو سال قبل سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت دو قوتوں کا نام تھا جن میں سے ایک کو مستقبل کے دجالی ورلڈ آرڈ کو دنیا میں قائم کرنا تھا اور خدمتِ دجال سے قبل ایک کا مٹنا ضروری تھا۔ لیکن اب کی بار، ان کے مابین جنگ ’سرد‘ ہی ہوئی کہ روئے ارض پر طواغیت کو مٹانے کے لیے قوتِ ایمانی پہلے ہی سے موجود تھی۔ سو اللّٰہ نے طاغوتِ اشتراکیت کو نابود کرنے کے لیے امتِ مسلمہ کا انتخاب فرمایا اور آج دنیا میں اشتراکیت محض چند لوگوں کے مونہوں کے جھاگ کا نام ہے۔
باقی دنیا میں جو باطل بچا اور ازل سے جو ’پونجی‘ ابلیسِ لعین نے جمع کی تھی وہ آخری معرکے کی تیاری کے لیے دنیا میں غالب آنے لگی۔ تہذیبِ دجال یا دین و نظامِ دجال محض ایک ملک یا سلطنت نہیں ساری شرکیات و ارذلیات کا اجتماع ہے۔ اشتراکی روس نابود ہو چکا اور تہذیبِ دجال کی امامتِ بے سعادت کے لیے ’امریکہ‘، ’انا ربکم الاعلیٰ‘ ڈکارتا روئے ارض کو پامال کرنے لگا۔ ’بد‘ تہذیبِ دجال کا مقابلہ ’تہذیبِ اصل‘ اور ’دینِ اصل‘ یعنی ’اسلام‘ سے ہے۔ دجالیت کے مظہر امریکہ نے دنیا بھر میں دینِ اسلام کے متبعین کو روندنا شروع کر دیا، کہیں یہ خود پہنچا، کہیں اسرائیل کو بٹھایا، کہیں بھارت کی پیٹھ ٹھونکی اور کہیں اسلامی ممالک پر قابض حکمرانوں کو اپنا ہم نوا و غلام بنایا۔
امتِ مسلمہ کی جانب سے کہیں کہیں اس فرعونِ زماں کے لشکروں کو سُوئے چبھوئے گئے، لیکن اس لشکرِ فیل پر اثر نہ ہوا۔ جس ہاتھی کھال پر سُوئے اثر نہ کریں اس پر الفاظ کے اثر کی تو بات ہی لغو ہے۔ امتِ مسلمہ کے کچھ جہادی عزم رکھنے والوں نے اس ہاتھیوں کے لشکر کو تاکا، اور ایک بڑے ہاتھی پر حملہ کرتے ہوئے اپنی تلوار سے اس کی سونڈ کاٹ دی۔ یہ ہاتھی بلبلایا، چیخا، کملایا اور اپنے ہی لشکر کو روندنے لگا، فرعونِ زماں کو پہلی بار ایسا نقصان پہنچا جس کے سبب وہ خود بھی بلبلانے لگا۔ فیلِ اکبر کی سونڈ کے کٹنے کے اسی واقعے کو واشنگٹن میں قائم عسکری مرکز ’پنٹاگان‘ اور نیویارک میں قائم معیشت کے نشان ’ٹوئن ٹاورز‘ کی تباہی یا ’گیارہ ستمبر‘ کے جہادی حملے کہتے ہیں۔
ان حملوں کے بعد فرعونِ عصر اپنے لاؤ لشکر سمیت شیروں کی کچھار میں اترا اور اس کی درگت ساری دنیا کے سامنے ہے۔ فرعونِ عصر نے اپنے ہاتھ سے ایک عہد نامے پر دستخط کر کے اپنی شکست کا اعتراف کیا ہے اور افغانستان سے بھاگ کھڑا ہوا ہے۔
لیکن یہ فرعونِ عصر ابھی کامل مغلوب نہیں ہوا۔ اس کا افغانستان کے پہاڑوں، دشتوں اور صحراؤں سے بھاگنا تازہ دم ہونے کے لیے ہے۔ تہذیبِ دجال کا حالیہ ’امام ‘ خود تو اپنے گھر کی آہنی فصیلوں میں بظاہر چھپ بیٹھا ہے، لیکن اس کے ہرکارے ساری دنیا میں آج بھی وہی رسمِ ستم جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان ہرکاروں کی عسکری و معاشی امداد کا سلسلہ بھی نظامِ دجال برابر بڑھائے جا رہا ہے۔
آج ایک بار پھر سرورِ کائنات، فخرِ موجودات، ہمارے اور ہمارے اللّٰہ کے محبوب، محمدِ مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ (علیہ الف صلاۃ وسلام) کی گستاخی کا پلید سلسلہ سویڈن و ناروے میں چل پڑا ہے ۔ نصف دہائی قبل کلاشن کوفوں کی گولیوں سے خنزیر کھانے اور شراب پینے والے، ’چارلی ہیبڈو‘ کے دفتر میں بندھے جن ناپاک کتوں کو فرانس کے شہر پیرس میں سبق سکھایا گیا تھا وہ ایک بار پھر ہمیں اللّٰہ کے بعد محبوب ترین، صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاکے شائع کرنے کے عزمِ پلید کا اظہار کر رہے ہیں! فلسطین میں آج بھی خونِ مسلم بہہ رہا ہے اور عرب لادین و سیکولر بادشاہ فلسطینیوں کی کھوپڑیوں پر قائم ہونے والے ’اسرائیل‘ کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں اور اسرائیل میں اس پر معنوی لحاظ ہی سے نہیں حقیقتاً بھی چراغاں کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل آج بھی عسکری و سیاسی وسیلوں سے عظیم تر اسرائیل کا عزم رکھتا ہے ۔کشمیر میں بوڑھے آج بھی قتل ہو رہے، نوجوان پیلٹ گنوں کے چھروں سے نابینا ہو رہے ہیں اور نیلوفر و آسیہ کی عصمت دری کے بعد برہنہ و دریدہ لاشیں آج بھی جہلم و نیلم میں بہتی دیکھی جا رہی ہیں۔
دجال اور تہذیبِ دجال کے خلاف آخری جنگ سے پہلے کے معرکے دنیا بھر میں برپا ہونے کو ہیں۔ ارضِ شام (یعنی آج کا ملکِ شام، اردن اور فلسطین )، جزیرۃ العرب (آج کا سعودی عرب، بحرین، امارات، کویت، قطر، عمان اور یمن)، سرزمینِ فارس اور ہند و سندھ (برِّ صغیر) کے میادینِ جہاد ایک بار پھر گرم ہونے کو ہیں۔ دو دہائیاں قبل گیارہ ستمبر کو ہونے والے جہادی حملے، پہلے معرکے کا مقدمہ تھے۔ دنیا میں جاری اس جنگ کا پہلا معرکہ ہم اہلِ ایمان آج جیت چکے ہیں، لیکن اب فلسطین سے کشمیر اور کاشغر سے نیل تک برپا ہونے والی ہنگامہ خیز جنگوں کا وقت بہت قریب آ لگا ہے۔ اور اس سے پہلے کا یہ کچھ گزرتا وقت اعداد و تیاری کا ہے۔ ہم سرحد و بلوچستان، سندھ و پنجاب، گلگت و کشمیر، راجستھان و گجرات، آسام و بنگال، چٹاگانگ و ڈھاکہ، ہماچل پردیش و یو پی اور دِلّی و بمبئی کے رہنے والوں کے لیے غزوۂ ہند کا میدان کھلا ہے، جس کا نتیجہ (یہاں کے حکمرانوں کے بیڑیوں میں جکڑے جانے، ابدی جنتوں میں ٹھکانے اور جہنم سے آزادی کے پروانے کی صورت میں) زبانِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیان ہو چکا ہے۔ ’لا الٰہ الااللّٰہ ‘ کا اقرار کرنے اور ’محمد رسول اللّٰہ ‘ کے عشق کا دم بھرنے والوں کے لیے یہ زمانۂ راحت و آرام نہیں۔
وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
أللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



