نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

ایفائے عہد

by عکرمہ شوپیانی
in کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!, نومبر و دسمبر 2020
0

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسامہ بھائی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں انھیں اعلیٰ ترین مقام نصیب فرمائے اور محشر میں انھیں صحابہ کرام، صالحین اور شہدا کے ساتھ اٹھائے، آمین۔

١١ جولائی ٢۰١٩ء کی بات ہے کہ جب لقمان بھائیؒ کی طرف سے مجھے اطلاع ملی کہ رب ذوالجلال کے عظیم راستے، جہاد فی سبیل اللہ میں میرا بھی ٹکٹ کٹ گیا، اور وہ لمحہ کہ جس کا برسوں سے انتظار تھا، آن پہنچا اور آج شام وہ مجھے ریسیو کریں گے۔ اُس دن میں کچھ گھریلو امور میں مصروف تھا مگر میں نے تمام امور کو بالائے طاق رکھ کر رب ذوالجلال کے فضل و کرم سے جہاد میں جانے کی تیاری شروع کردی ،کیونکہ میرے دل میں یہ خیال تھا کہ اگر آج میں اس عظیم کارروان میں شامل نہیں ہوسکا تو اللہ تعالیٰ میری جگہ کسی اور کو لے آئیں گے ۔ میں نے لقمان بھائی کو اطلاع کی کہ میں تیار ہوں، انھوں نے مجھے کچھ نصائح سے نوازا اور میں نے عزم کیا کہ ان شاء اللہ ان پر ہمیشہ کاربند رہوں گا۔گھر سے روانہ ہونے کے بعد لقمان بھائی نے مجھے ایک جگہ ٹھہرنے کو کہا تھا۔جوں ہی میں اُس جگہ پہنچا تو تھوڑی دیر بعد ہی ایک ساتھی آیااور مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔دن بھر میں اُس ساتھی کے ساتھ ہی رہا۔ لقمان بھائی اُس ساتھی سے بار بار میرا حال دریافت فرمارہے تھے ۔میں دن بھر بے قرار رہا کہ کب لقمان بھائی سے ملاقات ہوگی اور کب باضابطہ طور پر اس عظیم کارروان میں، جس میں شامل ہونے والوں کے متعلق رب ذو الجلال نے فرمایا کہ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ، اپنا پہلا قدم رکھوں گاکہ یہ حدیث سن رکھی تھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کا جب پہلا قدم جہاد کے راستے میں اٹھتا ہے تو اس کے سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

کھانے اور نمازِ مغرب کی ادائیگی کے فوراً بعد ہم نے اپنا سفر شروع کیا ۔تقریباً ایک گھنٹے کا سفر تھاجس کے بعد ہم ایک باغ میں جا پہنچے، ہر سو اندھیرا چھایا ہوا تھا۔جو ساتھی میرے ساتھ تھا اُس نے ایک کوڈ دہرایا اور لقمان بھائی، جو ایک جگہ گھنے درختوں میں بیٹھے ہوئے تھے ،فوراً باہر نکل آئے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنا‌ وعدہ پورا کردیا۔لقمان بھائی نے جہاد میں نکلنے سے قبل مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب میں جہاد فی سبیل اللہ میں شامل ہو جاؤں گا تو پھر میں آپ کو بھی اس کارروان میں شامل کراؤں گا۔ کچھ دیر بات چیت کے بعد لقمان بھائی نے مجھے جعبہ (جہادی سامان مثلاً گرنیڈ، بندوق کے میگزین وغیرہ رکھنے کی جیکٹ) پہنایا اور بہت سارے سامان سے مجھے سجایا پھر کچھ دیر گرنیڈ اور دیگر اسلحہ استعمال کرنے کی ٹریننگ بھی دی۔اس کے بعدلقمان بھائی اور میں دوسرے پوائنٹ پر جانے کے لیے روانہ ہوئے۔پوائنٹ اتنا دور نہیں تھا ،مگر لقمان بھائی خذوا حذرکم کے حکم پر پوری طرح کاربند تھے، یعنی اے ایمان والو! احتیاطی تدابیر کو مضبوطی سے تھام لو۔ وہ بنا آواز پیدا کیے چل رہے تھے تاکہ کوئی ہمارے قدموں کی آواز نہ سن سکے، یہاں تک کہ ہم ایک انصار کے گھر پہنچ گئے۔ نمازِ عشا کی ادائیگی اور کھانے سے فراغت کے بعد لقمان بھائی نے کہا کہ آپ سو‌ جائیں، آج میں خود رباط پر رہوں گا۔ وہ اس عظیم عمل کو سر انجام دینے لگے جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن پہرہ دینا، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے،سے بہتر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ لقمان بھائی نے پہرہ داری کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا۔ میں سو گیا کہ اچانک رات کے آخری حصے میں ہم نے کچھ آواز سنی۔ میں نے لقمان بھائی سے کہا کہ کچھ آواز ہے۔انھوں نے کہا کہ آپ سو‌ جائیں میں خود دیکھتا ہوں۔ پھر انھوں نے اپنے ہاتھ میں ہتھیار اُٹھایا اور باہر جا کر دیکھ بھال کرآئےاور کہا کہ باہر کچھ بھی نہیں ہے، آپ لوگ (یعنی وہ انصار اور میں) سو جائیں۔ ہم پھر اطمینان سے سو گئے۔ نماز تہجداور نماز فجرکی ادائیگی کے بعد لقمان بھائی نے مجھے کچھ اذکار بتائے اور کہا یہ ہمیشہ پڑھا کرنا۔اذکار کے بعد ہم نے ناشتہ کیا اور لقمان بھائی تلاوت قرآن کریم میں مشغول ہوگئے ۔ آپ ؒ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کیا کرتے تھے اور ساتھ ساتھ تفسیر کا مطالعہ بھی کیا کرتے تھے۔ ہم دن بھر انھی انصار کے گھر رہے یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہوگیا اور ہم نے مغرب کی نماز ادا کی اور پھر دوسرے علاقے کی طرف سفر شروع کیا۔

جب ہم ایک جگہ پر پہنچے تو لقمان بھائی نے مجھ سےپوچھا خوش ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں! بہت خوش ہوں، الحمدللہ۔ اس عظیم عبادت میں ایک رات گزارنے کے بعد میں کیوں کر خوش نہ ہوتا کہ جس کے متعلق میرے نبی کا فرمان ہے کہ جہاد میں اتنا وقت گزارنا جتنا وقت اونٹنی کو دوہنے میں لگتا ہے، ایک مہینے کے روزے رکھنے سے افضل ہے۔پھر پوچھا کہ کیا گھر یاد آرہا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ ابھی مجھے جہاد میں شامل ہوئے پانچ چھ دن ہی گزرے تھے کہ لقمان بھائی نے مجھ سے صفِ شریعت یا شہادت میں شمولیت کے بارے میں مشورہ کیا تاکہ ہم بھی آزاد جہاد کی صفوں میں شامل ہو جائیں ۔لقمان بھائی اور میں اس وقت دوسرے نظم سے وابستہ تھے ۔ میں راضی ہوگیا کہ شریعت یا شہادت والوں سے مجھے پہلے سے ہی محبت تھی اور میں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہی دعا کرتا تھا کہ یا اللہ مجھے جہاد میں قبول فرما اور وہ بھی کاروانِ شریعت یا شہادت کے ساتھ۔دو دن کے بعد ہی ہم نے آزاد جہاد کی طرف اپنا سفر شروع کیا اور مغرب کے بعد ہم ایک جگہ پر پہنچے جہاں سے ہم برہان بھائی اور اُن کے ساتھیوں سے جا ملے۔برہان بھائی نے ہمارا بہت ہی اچھے انداز سے اکرام کیا ، تھوڑی دیر تک بات چیت بھی ہوئی، الحمد للہ۔برہان بھائی سے مل کر ہم بے حد خوش ہوئے ۔میں سوچتارہا کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا کیونکہ ان کے ساتھ ایکٹو یعنی شامل ہونا بہت مشکل تھا۔اس کے بعد ہم نے برہان بھائی کے ساتھ پانچ چھ دن گزارے۔ پھر برہان بھائی نے ترتیب بنائی کہ دو ساتھی الگ ہو جائیں کیونکہ پانچ ساتھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تھے ۔پھر ایک ساتھی کو حمزہ بھائی کے پاس بھیجا گیا اور مجھے اسامہ بھائی کے پاس جانے کو کہا گیا۔ مغرب کی نماز کے بعد برہان بھائی اور لقمان بھائی نے مجھے گلے لگایا اور سفر کے لیے روانہ کیا۔اس وقت ان سے جدا ہونا مجھے بہت مشکل محسوس ہوا کیونکہ لقمان بھائی اور برہان بھائی سے بہت محبت تھی، ان کے مزاج کو بھی میں اچھی طرح سمجھ گیا تھا اور ان کے ساتھ دل بھی لگ چکا تھا لیکن جہاد کا تقاضا تھا کہ میں الگ رہوں تو ترجیح جہاد کے تقاضے کو ہی دینی تھی۔

گھنٹے بھر کے سفر کے بعد مجھے ایک ساتھی کے حوالے کیا گیا جن کے ساتھ تھوڑی دیر کے بعد میں ایک انصار کے گھر میں داخل ہوااور سلام کیا۔ اسامہ بھائی اور عابد خان کھڑے ہو گئے، مجھے گلے لگایا اور بہت خوشی سے ملے ۔تھوڑی دیر بات چیت کے بعدپھر ہم نے کھانا کھایا۔ اسی دوران اسامہ بھائی نے ایک مفتی صاحب سے کچھ سوالات پوچھے ۔اسامہ بھائی کی یہ ایک صفت اور خصوصیت تھی کہ انھیں اگر کوئی مسئلہ پیش آتا تو فوراً علما کی طرف رجوع کیا کرتے تھے کیونکہ میرے نبی کا فرمان ہے کہ علما انبیا کے وارث ہیں۔ دوسرے دن اسامہ بھائی میرے لیے کچھ خاص چیزیں لائے جو سفر میں بہت ضروری ہوتی ہیں اور نئے کپڑے بھی لا کر دیے۔ آپ نے مجھے اتنا پیار دیا کہ میں سب کچھ بھول گیا۔ آپ ساتھیوں کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھےاور انھیں ماں باپ کی جدائی محسوس ہونے نہیں دیتے تھے۔ہمیشہ ساتھیوں کو ہنساتے تھے اور ساتھیوں کو کسی چیز کی کمی محسوس ہونے نہیں دیتے تھے۔ خود سے زیادہ ساتھیوں کی دیکھ بھال کرتے تھے ۔آپ بار بار یہ کہا کرتے تھے کہ ایک ساتھی دوسرے ساتھی کی ماں بھی ہے اور باپ بھی۔ لہٰذا جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو ساتھیوں سے کہنے سے شرمانا نہیں۔اگر آپ اپنے ساتھیوں کو نہیں بتائیں گے توپھر کس کو بتائیں گے۔

اسامہ بھائی کارروائیوں میں شرکت کا بہت شوق رکھتے تھےاور بار بار یہ کہا کرتے تھے کہ کارروائی کا موقع کب ملے گا تاکہ دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔ آپ کی رگ رگ میں شجاعت ‌بھری ہوئی تھی ۔خطروں سے کھیلنا آپ کا شوق تھا۔ایک دن ہم ایک انصار کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ امیر صاحب یعنی بھائی ہارون عباسؒ کا حکم آیا کہ کارروائی کرنی ہے۔اسامہ بھائی، جنھیں اللہ تعالیٰ نے ذہنی صلاحیت سے بھی نوازا تھا اور وہ ہر کام ہوشیاری اور دھیان سے انجام دیتے تھے، نے اس کارروائی کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ پھر آپ نے ہم سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ سب تیار ہیں؟ہم نے کہا آپ کا جو حکم‌ ہو، ان شاء اللہ تیار ہیں۔ اس کے بعدآپ نے کارروائی کی تفصیل ہمارے سامنے پیش کی، سارا پلان ہمیں اچھی طرح سے سمجھایا، پھر کچھ نصیحتیں بھی کیں کہ کس طرح کیا کرنا ہے۔وہ نہایت بے تابی کے ساتھ آنے والے دن کے منتظر تھے کہ کب دشمنِ اسلام ہندو بنیے کو سبق سکھایا جائے۔ اگلے دن کا سورج طلوع ہوا تو آپ نے فرمایا کہ کارروائی وہ کامیاب ہے جس میں دشمن کو خوب نقصان پہنچے اور خود کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

مغرب کی نماز کے بعد ہم نے کارروائی کی جگہ کی طرف اپنا سفر شروع کیا اور الحمد للہ آدھے گھنٹے کے بعد ہم اُس جگہ پر پہنچے جہاں ہمیں کارروائی کرنی تھی۔اُس وقت مجھے بارہ دن ہی ہوئے تھےمحاذ پر آئے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کارروائی کےلیے چن لیا۔ زیادہ پتا نہیں تھا کہ کیا ماحول ہوتا ہے کارروائی کا مگر الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اطمینان سے بھر دیا تھا۔نماز عشا کے بعد ہم نے مائن، یعنی بارودی سرنگ زمین میں دبا دی اور چند میٹر کے فاصلے پر بیٹھ کر دشمن کا انتظار کرنے لگے ۔اسامہ بھائی نے ہمیں بتا رکھا تھا کہ آپ لوگوں نے فائر نہیں کھولناکیونکہ جس گاڑی میں دشمن آنے والے تھے وہ بلٹ پروف تھی۔ ہم رات کا بیشتر حصہ دشمن کا انتظار کرتے رہے مگر کفار کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔عابد خان نے اسامہ بھائی سے کہا کہ وہ شاید آج نہیں آئیں گے۔ اسامہ بھائی نے کہا کہ تھوڑی سی دیرمزید انتظار کرلیتے ہیں۔صبح کے ٣ بج کر ٥ منٹ ہو چکے تھے کہ مجھے کچھ روشنی نظر آئی، میں نے آپ سے کہا کہ بھائی! شاید یہ دشمن کی گاڑی ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی ہمارے قریب پہنچ گئی۔ اسامہ بھائی بیٹری کے قریب پہنچ چکے تھے اور سورۂ انفال کی یہ آیت دہرارہے تھے

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ؀ (سورۃ الانفال: ۱۷)

’’ چنانچہ (مسلمانو ! حقیقت میں) تم نے ان (کافروں کو) قتل نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا تھا، اور (اے پیغمبر) جب تم نے ان پر (مٹی) پھینکی تھی تو وہ تم نے نہیں، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور (تمہارے ہاتھوں یہ کام اس لیے کرایا تھا) تاکہ اس کے ذریعے اللہ مومنوں کو بہترین اجر عطا کرے۔ بےشک اللہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ‘‘

جوں ہی دشمن کی گاڑی ہمارے پوائنٹ پر پہنچی جہاں ہم نے بارود رکھا تھا،اسامہ بھائی نے فوراً بیٹری کا کنکشن جوڑا ۔زور دار دھماکہ ہوا اور کفار کی چیخیں نکل گئیں۔ اللہ کی جانب سے لکھی تقدیر غالب آئی اور کفار میں سے کوئی قتل نہیں ہوا مگر گاڑی وہیں پر خراب ہو گئی اور کچھ کافر زخمی بھی ہوئے۔بھارتی کفار اتنے خوف زدہ ہوئے کہ بد حواس ہوکر تقریباً چار گھنٹے تک مسلسل فائرنگ کرتے رہے اور صبح سات بجے تک گاڑی سے نہیں اترے۔ اسامہ بھائی نے ہمیں واپسی کا راستہ بتا رکھا تھا کہ یہاں سے ہم کس طرح بحفاظت نکل کر اپنے ٹھکانے پر پہنچیں گے۔ جو راستہ ہم نے طے کیا تھا واپسی کا، ہم اسی پر گامزن ہوئے۔ دشمن لگاتار فائرنگ کر رہا تھا۔ ہم اللہ کے فضل سےچلتے رہے جبکہ چاروں طرف دشمن کی گاڑیوں کی آواز آرہی تھی ۔تقریباً آدھے گھنٹے تک مسلسل چلتے رہنے کے بعد ہم ایک سڑک پر جا پہنچے۔جوں ہی اسامہ بھائی نے دیکھا تو ہم وہیں پر واپس پہنچ چکے تھے جہاں پر ہم نے کارروائی کی تھی،یعنی ہم پوری طرح سے راستہ بھول چکے تھے۔اندھیرا بہت زیادہ تھا جس کی وجہ سے ہمیں کچھ بھی نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ دوسری طرف کفار کی گاڑیوں کا شور ہمارے کانوں میں گونج رہا تھا۔آہستہ آہستہ ہم ایک پل کے قریب پہنچ گئے۔ بس یہی واحد راستہ تھا جہاں سے ہم نکل سکتے تھے ،کیونکہ کفار نے سارے گاؤں کو اپنے محاصرے میں لے لیا تھا۔ جب پل کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ پل کے ایک طرف ایک گاڑی کھڑی تھی اور دوسری سائیڈ پر دوسری گاڑی موجود تھی ۔اب تو ہم سب نے توبہ استغفار شروع کی اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی ۔ہمارا یہی خیال تھا کہ شاید رب ذوالجلال سے ملاقات کا وقت آگیا ہے۔ کچھ دیر بعد کفار نے پھر سے فائرنگ شروع کر دی اور وہ دونوں گاڑیاں جو پل پر موجود تھیں فوراً گاؤں کی طرف بھاگ گئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ وہ راستہ کھل گیا ۔پھر ہم آہستہ آہستہ نکل گئے ۔اندھیرا اتنا‌ تھا کہ دوسرا ساتھی نظر نہیں آرہا تھا۔ اسامہ بھائی آگے چل رہے تھے اور ہم ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔بیس منٹ کے بعد ہم ایک سڑک پر پہنچے اور آپؒ نے کہا کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ہمارے کپڑے اتنے بھیگ چکے تھے کہ چلنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد الحمد للہ ہم ایک انصار کے گھر میں پہنچے ، اپنے کپڑے تبدیل کیے اور کچھ گھنٹے آرام کیا۔اسامہ بھائی کچھ غم زدہ تھے کہ کفار کو نقصان کیوں نہیں پہنچا مگر پھر خود ہی کہنے لگے کہ مارنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے ،ہم تو صرف کوشش ہی کر سکتے ہیں۔پھر ارادہ کیا کہ ان شاءاللہ اگلی کارروائی میں دشمن کو بہت نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے ۔

اللہ تعالیٰ نے اسامہ بھائی کو بہت سے اوصاف سے نوازا تھا۔آپ ؒ ساتھیوں کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔جب بھی ہم ان کے لیے کوئی چیز لاتے تو وہ پہلے ساتھیوں کو دیتے تھے پھر خود پسند فرماتے تھے۔جب کبھی بھی کسی ساتھی کو کوئی پریشانی پیش آتی تو فوراً اُس ساتھی کی پریشانی میں شریک ہوتے اور ساتھیوں کو ہمیشہ صبر ،حوصلہ اور امنیت کی تلقین کرتے تھے۔اسامہ بھائی کو کشمیری نوجوانوں ‌کی بہت فکر تھی۔بار بار فرماتے تھے کہ نوجوان روزبروز دین سے دور ہوتے جارہے ہیں اور دشمن اُن کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور انہیں نشہ آور چیزوں جیسے چرس،براؤن شوگر(ہیروئن)،ایس آر (شراب کی ایک قسم) اور شراب وغیرہ کا عادی بنا رہا ہے۔آپ کو ان غلط چیزوں سے بہت زیادہ نفرت تھی۔ اللہ تعالیٰ سے ‌ہمیشہ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ نوجوانوں کو اس مہلک بیماری سے نجات دلا دیں۔ ایک دن ہم ایک انصار کے گھر میں موجود تھے کہ ہم نے باہر نوجوانوں کا ایک بڑا مجمع دیکھا۔ ہمارا خیال تھا کہ شاید یہ یوں ہی کچھ گپ شپ کر رہے ہیں۔اسامہ بھائی نے گھر والوں سے دریافت کیا کہ یہ نوجوان کیا کر رہے ہیں؟ گھر والوں نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ یہ لوگ نشہ کرتے ہیں اور نشہ آور اشیا فروخت بھی کرتے ہیں۔ اسامہ بھائی کو بہت غصّہ آیا ‌اور جوش میں بولے کہ ہم ابھی ان کو سبق سکھائیں گے۔ مغرب کی نماز کے بعد ہم اس گھر میں گئے جن کا بیٹا سب سے بڑا ڈیلر تھا۔وہ ایسا بے حیا شخص تھا کہ عین مسجد کے گیٹ پر وہ یہ غلط کاروبار کر رہا تھا۔ لوگوں میں ہمت نہیں تھی کہ اس کو کچھ کہہ سکیں۔آپؒ نے پانچ چھ ڈنڈے مار کر اس کو سیدھا کر دیا۔پھر رات بھر اس نوجوان کو اپنے ساتھ رکھا ۔ تہجد کے وقت تک اس نوجوان کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی کیونکہ وہ براؤن شوگر کا عادی تھا۔اس کی حالت دیکھ کر آپؒ غم زدہ ہو گئے۔ وہیں پہ اسامہ بھائی نے یہ عہد کیا کہ میں اس بیماری کو روکنے کی ضرور کوشش کروں گا۔ آپؒ مسلسل اس فکر میں تھے کہ اس وبا پر کیسے قابو پایا جائے۔ ایک گاؤں میں اسامہ بھائی کو اطلاع ملی کہ چند نوجوان اس لعنت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ آپؒ نے ان نوجوانوں سے ملاقات کر کے انھیں اس کے نقصانات سے آگاہ کیااور کچھ نصیحتیں بھی کیں ۔پھر ہم نے سنا کہ وہ نوجوان پانچ وقت کے نمازی بن گئے اور انھوں نے سب برے کام چھوڑ دیے۔ ان نوجوانوں کے ماں باپ اسامہ بھائی کو بہت دعائیں دیتے تھے۔

آپ کفار کی چالوں سے بخوبی واقف تھے ۔حوصلہ اور دلیری آپ کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔آپؒ وقت پر دماغ کا صحیح استعمال کرنا جانتے تھے ۔اسامہ بھائی کو اللہ تعالیٰ نے صبر کی عظیم دولت سے بھی مالامال کررکھا تھا۔جب بھی کسی ساتھی کو سختی کا سامنا ہوتاتو آپ فرماتے کہ صبر کروکیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ ایک دن ہم ایک انصار کے گھر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک دوست نے آکر خبر دی کہ اسامہ بھائی کے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ یہ خبر سن کر آپ بہت غمگین ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے کہ یا اللہ! مجھے صبر عطا فرما۔نماز مغرب کے بعد ہم نے ‌آپ کے گاؤں کی طرف سفر شروع کیا ۔راستے میں اسامہ بھائی اپنے والد کا ذکر کرتے رہے۔ جوں ہی ہم گاؤں کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ کفار اسامہ بھائی کے گھر کے اردگرد گھوم رہے ہیں۔یوں آپ اپنے والد کا چہرہ دیکھنے سے بھی محروم رہے۔اس موقع پر آپ نے کہا کہ ’’مرنا تو سب کو ہی ہے،آج میرے والد کا انتقال ہوا ہے تو کل میرا بھی ہوگا، آخر تو سب کو مرنا ہی ہے، لیکن مومن پر اس دنیا میں جو بھی پریشانی آتی ہے، چھوٹی یا بڑی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر اجر اور بدلہ ملتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ دیکھا کہ ہوا کے جھونکے سے چراغ بجھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً پڑھا إنا للہ و إنا إلیہ راجعون۔حضرت عائشہ حیران ہوئیں اور اس موقع پر إنا للہ پڑھنے کا مقصد دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس کا مفہوم ہے کہ اے عائشہ! چراغ بجھ جانا بھی ایک مصیبت ہے اور اس چھوٹی سی مصیبت پر بھی جو مومن یہ کلمات کہے گا اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بھی اجر ملے گا۔جب گھر کا چراغ بجھ جائے اور اس پر صبر کرنے والے کو اجر ملتا ہے تو جس کے باپ کی زندگی کا چراغ بجھ جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اس کو کتنا اجر عطا کیا جائے گا‘‘۔اسامہ بھائی کو اس پریشانی میں اللہ تعالیٰ نے بے انتہا صبر سے نوازا ۔

اسامہ بھائی اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے۔ جب بھی کوئی لغزش ہوجاتی فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتےاور اپنی لغزش پر شرمسار ہو کر سچے دل سے توبہ کرتے۔ آپ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتے تھے۔جب بھی آپ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے ایسا لگتا تھا کہ کسی کو قرآن پاک سنا رہے ہیں، یعنی بہت خشوع وخضوع کے ساتھ تلاوت کرتے تھے۔ذکر الٰہی میں دن بھر مشغول رہتے تھے۔حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ غافلوں میں ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے اندھیرے میں چراغ۔اسامہ بھائی اندھیرے میں چراغ تھےکیونکہ میں نے انھیں کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہوتے نہیں دیکھا تھا(نحسبہ کذالک واللہ حسیبہ)۔ تہجد کی نماز پابندی سے ادا کرتے تھے اور خلوت کو زیادہ پسند کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ خلوت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مزا آتا ہے۔فضول باتوں کو آپ ناپسند کرتے تھے۔

اپریل ٢۰٢۰ء کے ایک دن ہمیں اطلاع ملی کہ میلہورہ شوپیاں میں فائرنگ ہو رہی ہے۔ہم بہت زیادہ پریشان ہو گئے کہ کہیں ہمارے ساتھی محاصرہ میں ‌نہ آگئے ہوں ۔بعد میں پتا چلا کہ ہمارے چار ساتھی دشمن سے لڑ رہے ہیں جن میں اسامہ بھائی اور لقمان بھائی بھی شامل ہیں۔یہ ساتھی گلی کوچوں میں شام سے لے کر صبح تک کفار سے لڑتے رہے۔ ان کی بہادری سے بد حواس ہوکر ان کی شہادت کے بعد کفار نے ان کے جسموں پر گاڑی چلائی اور ان کے چہروں کو گاڑی تلے روند دیا۔ اسامہ بھائی اور ان کے ساتھیوں نے شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کرلیا اور اپنے رب سے کیا وعدہ نبھا گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

Previous Post

کچھ یادیں | دسمبر و نومبر 2020

Next Post

اسلامیانِ ہند کی خدمت میں گزارشات

Related Posts

اہلِ وفا کی گردنیں کٹی ہیں بتیغِ جفا
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

اہلِ وفا کی گردنیں کٹی ہیں بتیغِ جفا

1 مئی 2026
دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں!
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں!

8 مارچ 2026
کشمیر اور بھارت میں بے دخلی کو معمول بنانے کا عمل
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

کشمیر اور بھارت میں بے دخلی کو معمول بنانے کا عمل

15 فروری 2026
وقت قریب آ رہا ہے!
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

وقت قریب آ رہا ہے!

4 نومبر 2025
تری رہبری کا سوال ہے!
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

تری رہبری کا سوال ہے!

13 اگست 2025
کشمیر کا شاندار اسلامی ورثہ: خطرات و حل
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

کشمیر کا شاندار اسلامی ورثہ: خطرات و حل

13 جولائی 2025
Next Post

اسلامیانِ ہند کی خدمت میں گزارشات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version