نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

یہ اُبال بیٹھ جائے گا!

by اریب اطہر
in جنوری ۲۰۲۶ء, پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
0

امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

’’جن شیطان مغلوب ہوتا ہے تو وسوسہ اندازی کرتا ہے اور انسانی روپ میں شیطان مغلوب ہو تو جھوٹ بولتا ہے!‘‘1مجموع الفتاوى (608-22)

آج پاکستانی فوج کی شیطانیت اور خباثت بھی اس درجے کو پہنچ چکی ہے کہ یہ اپنی شکست چھپانے اور اپنے ظالمانہ اقتدار تسلط اور قبضے کو بچانے کے لیے اور ہر سوال ، تنقید سے بچنے کے لیے جس پیمانے پر جھوٹ اور دجل پھیلا رہے ہیں اس میں انہیں یہ شرم بھی محسوس نہیں ہوتی کہ جو جھوٹ ہم پھیلا رہے ہیں وہ ایسا سفید جھوٹ ہے کہ فورا پہچانا جائے گا۔ کسی بھی ایشو پر صحافیوں کو ان کی جانب سے کوئی میسج کیا جاتا ہے اور چند منٹوں کے اندر صحافیوں اور اینکرز کی ایک اچھی خاصی تعداد ایک ہی میسج اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر چھاپ دیتی ہے۔ نہ ہی انہیں اور نہ ان کے حمایتی صحافیوں کو یہ خیال آتا ہے کہ کم از کم موصول ہونے والے ٹیکسٹ میں ایک دو لفظ ہی اگے پیچھے کر دیں تاکہ یہ بھانڈا تو نہ پھوٹے کہ یہ میسجز کہاں سے جاری ہو رہے ہیں۔ صحافی نصرت جاوید اپنے ایک پروگرام میں صحافیوں کی اسی کمزوری کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مجھے واٹس ایپ دیکھنے کی عادت پڑ جائے (کہ وہاں سے کیا پیغام آیا ہے) تو میں صحافی نہیں رہا۔ صحافی اور اینکر حامد میر 2014ء میں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے اور کئی ماہ انہیں آف ایئر کر دیا گیا۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ سکیورٹی ایجنسیاں کیوں سنسر شپ چاہیں گی تو ان کا کہنا تھا:

’’وہ قومی مفاد کے نام پر توقع کرتی ہیں کہ میڈیا جھوٹ بولے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو کہتے ہیں کہ آپ غدار ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اصل چیز عوامی مفاد ہوتا ہے۔ بقول ان کے:

’’اگر میں غیر قانونی جبری گمشدگی کی بات کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ میں غدار ہوں۔ پاکستان ایک سکیورٹی اسٹیٹ ہے جہاں بظاہر جمہوریت ہے لیکن در حقیقت ایک ’ہائیبرڈ رجیم‘ ہے جس میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار بہت زیادہ ہے اور ہماری سیاسی اشرافیہ اقتدار کی سیاست کے لیے انہی ایجنسیوں سے معاملہ کرتی ہے۔ جب صحافی سیاسی اشرافیہ کی طرح ساتھ نہیں دیتا تو اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘

فرزانہ علی جو آج نیوز کی پشاور میں بیوروچیف ہیں کہتی ہیں کہ پاکستان میں بہت محدود صحافت ہو رہی ہے۔ آپ سیاستدانوں کی لڑائیاں کروا لیں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالیں، فرق نہیں پڑے گا۔ اس طرح کی صحافت کی اجازت ہے۔ پاکستان میں جن صوبوں کا کنٹرول خاص طاقتوں کے ہاتھ میں ہے وہاں کوئی ڈھنگ کی خبر یا اصل معلومات سامنے نہیں آ رہیں جیسا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دیکھ لیں کہ کیسی صحافت ہو رہی ہے۔

جرنیلوں کی ڈکٹیشن لینے والے میڈیا کی گراوٹ کا حال دیکھیے کہ فوج امارت اسلامیہ افغانستان اور افغان قوم کے خلاف جو نسل پرستانہ نفرت انگیز پروپیگنڈہ مہم سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس سے چلوا رہی تھی اسے مین سٹریم میڈیا پر بھی چلانے کے لیے چینلز کو مجبور کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز آج ٹی وی چینل کے چند کلپ نظر سے گزرے ایک کلپ میں دو پاکستانی شہریوں کے مابین مکالمے کو دکھایا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ افغان شہری پاکستان میں ہر قسم کے جرائم میں ملوث ہیں ان کے جانے سے ان جرائم میں کمی ہو گی ۔ پھر ایک شخص کہتا ہے یہ تو ٹھیک ہے مگر پھر کچرا کون اٹھائے گا؟ جواب ملتا ہے کچرا اٹھانے والے بہت سے ہیں پہلے انہوں (افغانوں) نے جو کچرا پھیلایا ہے اس کی صفائی ضروری ہے۔ ایک سین میں دکھایا جاتا ہے کہ افغان شہری کرکٹ میچ کی ہار کا بدلہ پاکستانی شہریوں کو لوٹ کر لیتے ہیں۔ اور ایک کلپ میں دکھاتے ہیں کہ کچرا اٹھانے کے بہانے گھر میں گھس کر ڈکیتی کرتے ہیں۔ افغان قوم کے خلاف اس لیول کے تضحیک آمیز مواد کے مین سٹریم میڈیا پر چلانے کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ جس کے بعد آج ٹی وی کو باقاعدہ معذرت بھی کرنی پڑی لیکن بہرحال جو مہم فوجی جرنیلوں نے شروع کر رکھی ہے اس سے ایک بڑی تعداد بہرحال اثر بھی لے رہی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے ٹی ایل پی کارکنان اور افغان مہاجرین کی نشاندہی اور اطلاع دینے کی ترغیب کے لیے اشتہارات حتیٰ کہ انعامات کے اعلان بھی کیے گئے ہیں۔ گوجرانوالہ سے ایک خبر کے مطابق ایک شہری نے 10 ہزار روپے انعام کے لالچ میں ایک افغان شہری کی اطلاع پولیس کودی۔ پولیس نے پہلے اسے گرفتار کیا پھر 6 لاکھ کے عوض چھوڑ دیا جس پر وہ شہری شکایت لے کر سی سی پی او گوجرانولہ کے پاس پہنچ گیا کہ اسے انعامی رقم نہیں ملی۔

اقوام متحدہ کی جانب سے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جسے مغربی میڈیا نے بھی چند اضافوں اور انکشافات کے ساتھ شائع کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے منشیات پر پابندی سے افغانستان میں منشیات کی کاشت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔  برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں منشیات کی کاشت کے خاتمے کے بعد پاکستانی صوبہ بلوچستان خطے میں منشیات کی کاشت کا ہب (hub) بن چکا ہے اور سیٹلائٹ امیجز میں یہ تبدیلی واضح نظر آ رہی ہے۔ لیکن کیا کہنے پاکستان کے آزاد میڈیا کے ، جیو نیوز جیسا ادارہ بھی اس خبر کو بالکل الٹ شائع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ افغانستان منشیات کی کاشت کا مرکز بن چکا ہے۔  میڈیا چینلز مالکان پر پاکستانی جرنیلوں کا دباؤ ہی ہے کہ اب انہی چینلز کے مایہ ناز اینکرز یوٹیوبر بننے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ٹی وی چینل بھی انہیں آزادی سے صحافتی ذمہ داری پوری کرنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ ایسے صحافیوں کی تعداد میں بھی روز اضافہ ہو رہا ہے جو ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں یا جانے کی کوششوں میں ہیں۔ کچھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فوج کی جانب سے میڈیا کو ہائی جیک کیے رکھنے کی ان کوششوں کا مقصد ملک پر اپنی گرفت رکھنے کے علاوہ پاک افغان کشیدگی کے دوران ایک مخصوص بیانیے کی ترویج بھی ہے جس میں اہلیانِ پاکستان کو امارت اسلامیہ افغانستان، اسلامی نظام کی جدوجہد اور مجاہدین سے متنفر کرنا اوّلین ہدف ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝ (سورۃ البقرۃ: ۹)

’’وہ الله کو اور ان لوگوں کو جو (واقعی) ایمان لا چکے ہیں دھوکا دیتے ہیں اور (حقیقت تو یہ ہے کہ) وہ اپنے سوا کسی اور کو دھوکا نہیں دے رہے لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے۔‘‘

سید قطب شہید ﷫اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’اِس قسم کے لوگ ہمیشہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان (اور خادمِ اسلام ہونے ) کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ لیکن در حقیقت ان کے دل دولتِ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، یہ صریح طور پر منافقت میں مبتلا ہوتے ہیں، یہ بزدل ہوتے ہیں اور مومنین کے بارے میں ان کی جو حقیقی رائے ہوتی اس کا اظہار کرنے کی جرأت ان کے اندر نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ غایت درجے کے ذہین ، معاملہ فہم اور پالیسی باز ہیں اور وہ ہر حال میں ان سادہ لوح مومنین کو طرح دے سکتے ہیں ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ایسے لوگ صرف مومنین ہی کو نہیں بلکہ اللہ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یُخٰدِعُونَ اللہ وَ الَّذِینَٰامَنُوا ’وہ اللہ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے ہیں ، دھوکہ بازی کررہے ہیں۔‘ اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں ایک عظیم حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان فضل و کرم ہے کہ قرآن کریم میں بار بار بتاکید و تکرار اس کا اظہار ہوا ہے اور اسی میں دراصل بندہ مومن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قائم ربط و تعلق کا راز پنہاں ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مومنین کے محاذ کو خود اپنا محاذ قرار دیتا ہے ۔ ان کے معاملات اور حالات کو خود اپنے معاملات اور حالات قرار دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ساتھ ملاتا ہے اور انہیں اپنے دامن شفقت و رافت میں لیتا ہے ۔ ان کے دشمن کو خود اپنا دشمن قرار دیتا ہے ، ان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو اپنے خلاف سازش قرار دیتا ہے ۔ یہ اس کی انتہائی شاہانہ کرم نوازی اور عزت افزائی ہے جس سے مومنین کی قدر و منزلت اپنے انتہائی عروج تک جا پہنچتی ہے اور جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس کائنات میں ایمان باللہ ایک عظیم ترین حقیقت ہے جس سے دلِ مومن میں ثبات و طمانیت کے سر چشمے پھوٹ نکلتے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن کے مسائل اور مشکلات کو اپنے دستِ قدرت میں لے لیتا ہے ، اس کا معرکہ اللہ کا معرکہ قرار پاتا ہے ، اس کا دشمن اللہ کا دشمن بن جاتا ہے۔ اللہ اسے اپنے محاذ میں لے لیتا ہے اور اپنے عمل عاطفت میں داخل کر لیتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں پھر انسانوں اور حقیر بندوں کی سازشوں ، دھوکہ بازیوں اور ایذا رسانیوں کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ اس حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس میں ان لوگوں کے لیے ایک خوفناک تہدید ہے جو مومنین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ان کی ایذا رسانی کے درپے ہوتے ہیں ۔ انہیں کہا جا رہا ہے کہ ان کی یہ جنگ صرف مومنین کے خلاف ہی نہیں بلکہ وہ در حقیقت اس ذات اقدس کے خلاف صف آرا ہیں جو قوی و متین ہے اور قہار و جبار ہے ۔ اللہ کے دوستوں سے بر سر پیکار ہو کر وہ دراصل اللہ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنی ان ذلیل سرگرمیوں کی وجہ سے اللہ کے قہر و غضب کے مستحق بن رہے ہیں ۔مومنین کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت عظمیٰ کے ان دونوں پہلوؤں پر اچھی طرح غور و فکر کریں تاکہ انہیں اطمینان و ثبات حاصل ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں اور دھوکہ بازوں کے دھوکوں ، سازشیوں کی سازشوں اور اشرار کی ایذا رسانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ۔ مومنین کے دشمنوں کو بھی ایک لمحہ کے لیے اس حقیقت پر غور کر لینا چاہیے ۔ انہیں چاہیے کہ وہ سوچ لیں کہ وہ کس کے ساتھ بر سر پیکار ہیں اور کس ذات کے قہر و غضب کے مستحق بن رہے ہیں ۔ انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ مومنین کے درپے آزاد ہو کر وہ کیا خطرہ مول لے رہے ہیں ؟

اب ہم دوبارہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو بزعم خود مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو غایت درجہ کا ذہین اور معاملہ فہم تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہیں ۔ لیکن ملاحظہ کیجئے کہ آیت کے اختتام سے پہلے ہی وہ کس عظیم مذاق کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

وَ مَا یَخدَعُونَ اِلَّاآ اَنفُسَہُم وَ مَا یَشعُرُونَ ’ مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں‘ یعنی وہ اس قدر غافل ہیں کہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور تک نہیں اور اللہ ان کی سب حرکات سے باخبر ہے ۔ رہے مومنین تو وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے ذلیلانہ مکر و فریب سے وہ خود انہیں بچا رہا ہے ۔ لیکن یہ نادان خواہ مخواہ دھوکہ کھا رہے ہیں ۔ اور اپنے آپ کو برائی اور گناہوں سے ملوث کر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ روشِ نفاق اختیار کر کے انہوں نے بہت نفع بخش سودا کیا ہے ۔ اور اس سے انہیں کافی فائدہ پہنچا لیکن اس طرح وہ مومنین کی سوسائٹی میں اعلانِ کفر جیسے مشکل کام سے بھی بچ گئے اور مومنین کے ساتھ نئے معاشرے کے مفادات بھی انہوں نے سمیٹ لیے ۔ حالانکہ جس کفر کو وہ اپنے دل میں چھپا رہے ہیں وہ انہیں ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جا رہا ہے ۔ ان کا نفاق ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور اس کی وجہ سے وہ ایک نہایت نامسعود انجام تک پہنچنے والے ہیں ۔‘‘2تفسیر فی ظلال القرآن

اپنا جھوٹ اور دجل مسلط کرنے کی جرنیلوں کی یہ شدید خواہش ہی تھی جس نے ان سے ستائیسویں ترمیم میں اپنے لیے تا حیات احتساب سے استثنیٰ حاصل کرنے جیسی مضحکہ خیز حرکت کروا ڈالی۔ اس ترمیم کے لیے کس طرح سینیٹرز کو خریدا گیا اس کی مثال صحافی ماجد نظامی کے اس تبصرے سے ملتی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے جے یو آئی ایف کے سینیٹر احمد خان خلجی وہی ہیں جن کو وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف طاقت ور ٹھیکیدار کہا کرتے ہیں۔ ان کے والد حاجی ظاہر خان خلجی بلوچستان کے مشہور کاروباری گروپ ZKB کے سربراہ ہیں۔ احمد خان خلجی دوسری مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے ہیں اور آج کل جے یو آئی ایف کا حصہ ہیں۔ کراچی سے پشاور موٹر ویز ہوں، میٹرو بس منصوبہ یا سی پیک کے پراجیکٹ، ہر جگہ ظاہر خان اینڈ برادرز موجود ہوتے ہیں۔ ‘‘

ویسے کسی زمانے تک فوج کے خفیہ اداروں کی سیاسی جماعتوں کو ریگولیٹ کرنے کی پالیسی یہی رہی کہ جس پارٹی کو اقتدار دلوانا مقصود ہو ان کی طرف جرائم پیشہ افراد، لینڈ مافیا اور سمگلنگ سے منسلک افراد کو دھکیلتے ہیں۔ اس طرح مذکورہ پارٹیاں اپنے لیے فنڈز جنریٹ کرتی ہیں اور یہ گروہ ان سیاسی جماعتوں کا کندھا استعمال کر کے پروٹیکشن بھی حاصل کرتے ہیں اور مالی مفادات بھی محفوظ بناتے ہیں۔ لیکن ماضی میں یہ سب کچھ عام طور پر سیکولر جماعتوں کے ساتھ ہی ہوتا رہا جیسے پیپلز پارٹی، ایم کیوایم اور مسلم لیگ وغیرہ ۔ اب اگر اسٹیبلشمنٹ مذہبی جماعتوں کی صفوں میں بھی ایسے کرپٹ افراد داخل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے جو بوقت ضرورت اپنی سیاسی جماعت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر چلتے ہیں تو یہ مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

اپنے جرائم اور کرتوتوں سے خوفزدہ ان جرنیلوں کی موجودہ حالت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ پاکستانی فضائیہ کا وہ اعلیٰ افسر جو 2019ء میں بھارت کے خلاف آپریشن تیار کرنے کا ماسٹر مائنڈ تھا بھارتی طیارے کو پاکستانی حدود میں گرانے اور ابھی نندن کو زندہ گرفتار کرنے پر اسے ایوارڈ سے نواز گیا ، بعد ازاں ائیر چیف بننے کے لیے جن تین آفیسرز کے نام تھے ان میں بھی اس کا نام شامل تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے کچھ عرصے بعد ہی کورٹ مارشل کا سامنا کرتا ہے، پہلے بتایا جاتا ہے کہ اس نے آپریشن کے متعلق قومی راز لیک کیے اور غداری کا مرتکب ہوا۔ پھر کہا جاتا ہے وہ نو مئی میں ملوث تھا پھر کہا جاتا ہے اس نے موجودہ ائیر چیف کے خلاف سخت باتیں کہی ہیں اور یہی اصل سبب ہے ان کے کورٹ مارشل کا۔ ان میں کون سا الزام سچ اور اصل حقیقت ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ اس وقت بھارتی جہاز گرانے پر پاکستان کو امریکی ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ جو ایف سولہ جہاز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے، یعنی قبائل میں مجاہدین کے خلاف استعمال کے لیے دئیے گئے تھے وہ بھارت کے خلاف استعمال کرنے کی جرات کیوں کی؟ پاکستان کی جانب سے بہانہ تراشا گیا کہ ہم نے ایف سولہ نہیں بلکہ دوسرے جہاز استعمال کیے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان نے منٹیننس یعنی دیکھ بھال و مرمت کے نام پر ان جہازوں کو امریکی کانٹریکٹرز کی نگرانی میں دے دیا تھا۔ کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے جواد سعید کی ایک بیٹی معذور بھی ہے ۔ جو لوگ پاکستانی فضائیہ کے افسران کی بھارت کے خلاف ایک دو روزہ جنگ کے قصیدے تا حیات پڑھتے ہیں اللہ ہی جانے یہ حضرات ان افسران کی دہائیوں پر مبنی قبائل میں بمباریوں کو کیسے نظر انداز کر لیتے ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار بتاتے ہیں کہ وہ محکمہ جیل خانہ جات میں ایسے ظالم افسران اور اہلکاروں کو جانتے ہیں جو اپنے ظلم کا بدلہ اسی دنیا میں حاصل کر چکے ہیں۔ ایک جیل کے افسر کا بیٹا ایسا  ذہنی معذور ہے کہ اسے زنجیروں میں جکڑنا پڑتا ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو وہ کپڑے اتار کر برہنہ ہو جاتا ہے۔ ایک جیل کا سپریٹنڈنٹ ریٹائرمنٹ کے بعد فوت ہوا تو ایسے کہ کئی روز  تک گھر میں لاش پڑی رہی اور کسی کو پتہ تک نہ تھا۔ یہ تو عام سرکاری جیلوں کے ظالم اہلکاروں کے ظلم کا صلہ ہے جن کا ظلم فوج کی خفیہ جیلوں میں ہونے والے ظلم کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے ۔ خود اندازہ لگائیے ان ظالموں کے لیے اللہ تعالی نے اس دنیا میں اور آخرت میں کیسا بدلہ تیار کر رکھا ہے۔ 

حامد میر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کئی امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے دے کر یہ انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نئی جنگ شروع ہو چکی۔ دونوں نے ٹرمپ  کی خوشنودی کے حصول کے لیے لابنگ فرموں پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے شروع کر دئیے۔ ایک فرم ایسی ہے جو بیک وقت پاکستان اور آر ایس ایس دونوں کے لیے لابنگ کر رہی ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ بھی ہے کہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں لابنگ کے لیے تین گنا زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ بعض اخبارات نے اسے پاکستان کی کامیابی قرار دیا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں کچھ بہتر ٹیرف ریٹ ملا ہے۔ لیکن کیا وہ بہتر ٹیرف نتائج بھی دے سکے گا؟ اور امریکہ میں اس لابنگ کا تعلق پاکستانی معیشت یا پاکستان کے سیاسی مفادات سے ہے یا ہمیشہ کی طرح جرنیلوں کے ذاتی سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ ہی ہو گا؟

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۭ وَمِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ڛ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاۗءً ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ۝ (سورۃ الرعد: ۱۷)

’’ اسی نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ندی نالے اپنی اپنی بشاط کے مطابق بہہ پڑے، پھر پانی کے ریلے نے پھولے ہوئے جھاگ کو اوپر اٹھا لیا، اور اسی قسم کا جھاگ اس وقت بھی اٹھتا ہے جب لوگ زیور یا برتن بنانے کے لیے دھاتوں کو آگ پر تپاتے ہیں۔ اللہ حق اور باطل کی مثال اسی طرح بیان کر رہا ہے کہ ( دونوں قسم کا) جو جھاگ ہوتا ہے وہ تو باہر گر کر ضائع ہوجاتا ہے، لیکن وہ چیز جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اسی قسم کی تمثیلیں ہیں جو اللہ بیان کرتا ہے۔‘‘

مولانا شبیر احمد عثمانی ﷫اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’آسمان کی طرف سے بارش اتری جس سے ندی نالے بہہ پڑے۔ ہر نالے میں اس کے ظرف اور گنجائش کے موافق جتنا خدا نے چاہا پانی جاری کر دیا چھوٹے میں کم بڑے میں زیادہ۔ پانی جب زمین پر رواں ہوا تو مٹی اور کوڑا کرکٹ ملنے سے گدلا ہو گیا۔ پھر میل کچیل اور جھاگ پھول کر اوپر آیا۔ جیسے تیز آگ میں چاندی تانبا، لوہا، اور دوسری معدنیات پگھلاتے ہیں تاکہ زیور، برتن اور ہتھیار وغیرہ تیار کریں اس میں بھی اسی طرح جھاگ اٹھتا ہے مگر تھوڑی دیر بعد خشک یا منتشر ہو کر جھاگ جاتا رہتا ہے اور جو اصلی کارآمد چیز تھی (یعنی پانی یا پگھلی ہوئی معدنیات) وہ ہی زمین میں یا زمین والوں کے ہاتھ میں باقی رہ جاتی ہے۔ جس سے مختلف طور پر لوگ منتفع ہوتے ہیں۔ یہ ہی مثال حق و باطل کی سمجھ لو۔ جب وحیٔ آسمانی دین ِحق کو لے کر اترتی ہے تو قلوبِ بنی آدم اپنے اپنے ظرف اور استعداد کے موافق فیض حاصل کرتے ہیں۔ پھر حق اور باطل باہم بھِڑ جاتے ہیں تو میل ابھر آتا ہے۔ بظاہر باطل جھاگ کی طرح حق کو دبا لیتا ہے لیکن اس کا یہ ابال عارضی اور بے بنیاد ہے۔ تھوڑی دیر بعد اس کے جوش و خروش کا پتہ نہیں رہتا۔ خدا جانے کدھر گیا۔ جو اصلی اور کارآمد چیز جھاگ کے نیچے دبی ہوئی تھی (یعنی حق و صداقت) بس وہ ہی رہ گئی۔ دیکھو ! خدا کی بیان کردہ مثالیں کیسی عجیب ہوتی ہیں۔ کیسے مؤثر طرز میں سمجھایا کہ دنیا میں جب حق و باطل بھڑتے ہیں، یعنی دونوں کا جنگی مقابلہ ہوتا ہے، تو گو برائے چندے باطل اونچا اور پھولا ہوا نظر آئے، لیکن آخر کار باطل کو منتشر کر کے حق ہی ظاہر و غالب ہو کر رہے گا۔ کسی مومن کو باطل کی عارضی نمائش سے دھوکا نہ کھانا چاہیے۔ اسی طرح کسی انسان کے دل میں جب حق اتر جائے، کچھ دیر کے لیے اوہام و وساوس زور و شور دکھلائیں، تو گھبرانے کی بات نہیں تھوڑی دیر میں یہ ابال بیٹھ جائے گا اور خالص حق ثابت و مستقر رہے گا۔‘‘3تفسیرِ عثمانی

٭٭٭٭٭

  • 1
    مجموع الفتاوى (608-22)
  • 2
    تفسیر فی ظلال القرآن
  • 3
    تفسیرِ عثمانی
Previous Post

موجودہ عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں اسلام کا مستقبل

Next Post

جوابِ شکوہ

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026

23 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

20 جنوری 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | بارہویں قسط

20 جنوری 2026
غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان
طوفان الأقصی

غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان

20 جنوری 2026
ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!
طوفان الأقصی

ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!

20 جنوری 2026
Next Post
جوابِ شکوہ

جوابِ شکوہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version