نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home عالمی منظر نامہ

ترکی ……اسلامی انقلاب کے لیے ’آئیڈیل‘ نمونہ ؟!

تحریر: چودھری عفّان غنی – اضافہ و ترامیم: میاں سعد خالد

by چودھری عفان غنی
in عالمی منظر نامہ, اگست 2020
0

سلطان محمد ؒفاتح کی آباد کردہ مسجد ’آیا صوفیا‘ کی قریباً سو سال بعد دوبارہ بطورِ مسجد بحالی پر، ہمارے دل بھی اہلِ ایمان کے دِلوں ہی کی طرح خوشی سے دھڑک رہے ہیں۔ لیکن آیا صوفیا کو مسجد کے طور پر بحال کرنے، اہلِ اسلام کے تاریخی کرداروں پر ’ترک ڈرامے‘ سرکاری سرپرستی میں نشر کرنے، نیز ترکی میں قائم حکومت کے بعض بظاہر ’مذہبی و اخلاقی‘ افعال …… کیا ترکی کی موجودہ حکومت کو ’اسلامی‘ بنا دیتے ہیں اور کیا یہی ’اسلامی انقلاب‘ اور اسلامی انقلاب کا ’ثمرہ‘ اور دیگر امت کے لیے نمونہ ہے؟ اس موضوع پر شہید مجاہد فی سبیل اللہ ’چودھری عفّان غنی‘ نے قریباً تین سال قبل، مجاہد عالمِ دین شیخ ڈاکٹر اِیاد قنیبی (حفظہ ٗاللہ) کی ایک تحریر کو بنیاد بناتے ہوئے ایک مضمون مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘میں لکھا تھا۔ تازہ احوال کی مناسبت سے اس مضمون کو اضافوں اور تبدیلیوں کے ساتھ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے، البتہ ایک آدھ جگہ موجود ’معاشی و اقتصادی‘ اعداد و شمار تین سال پرانے ہی ہیں۔ (میاں سعد خالد)


ترکی اور اردگان کا نمونۂ عمل کیا ہے اور کیا یہ ایک کامیاب تجربہ ہے؟کیا یہ تجربہ اتنا کامیاب ہے کہ مسلمان اسے ایک کامیاب سیاسی انقلابی جدوجہد کے لیے ایک قابلِ عمل اور بہترین حل سمجھنے لگیں؟ اس تحریر کے مخاطب وہ حضرات نہیں جو اردگان اور اس کی پارٹی سے غلو پر مبنی محبت وعقیدت کا شکار ہو چکے ہیں بلکہ یہاں اردگان اور اس کی پارٹی کے طریقۂ کار پر ایک مثبت مباحثہ و مکالمہ مقصود ہے، جس کو بعض لوگ ترکی کی سطح پراور بعض لوگ عالم اسلام کی سطح پر تبدیلی و انقلاب کے لیے ایک بہترین قابل قبول راستہ خیال کرتے ہیں۔

کیا ترکی کا تجربہ ایک کامیاب تجربہ تھا؟اس کے جواب سے قبل ہم قارئین سے سوال کریں گے کہ کامیابی سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر کامیابی کا مطلب لوگوں کی معاشی حالت میں بہتری اور اقتصادی خوشحالی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تو اردگان اور اس کی پارٹی کی حکومت کے تحت حاصل ہو گئی لیکن یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہی اقتصادی ترقی اور خوشحالی تو جاپان، جرمنی اور چین نے بھی بدھ مت، عیسائیت اور لادینیت کے ساتھ حاصل کرلی ہے۔اس لیے ہمارے خیال میں معاشی و اقتصادی ترقی منہجِ ِعمل اور طریقۂ کار کے مبنی بر شرع ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی ۔

اگر ہم یہ بات کریں کہ لوگوں کو ان کے بعض حقوق اِس حکومت کے تحت مل گئے ہیں جیسا کہ لوگوں کی اقتصادی حالت کو درست کرنے کے لیے ایک عمومی بیت المال کی فراہمی،ہر شخص کو گھر بنا کر دینے کی پالیسی اور ترکی میں مسلمان عورت کو یہ حق واپس دلواناکہ وہ حجاب اوڑھ سکے؛ تو یہ بھی اردگان اور اس کی پارٹی دینے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ مگرجیسے پہلے عرض کیا یہ سب کچھ تو عیسائیوں کی قیادت اور یورپ کے لادین حکمران بھی فراہم کرتے ہیں۔مثال کے طور پر سپین میں جہاں مسلمانوں کو انتہائی دبا کر رکھا گیا اور جگہ جگہ ان کے لیے تفتیشی نقاط قائم کیے گئے آج وہاں بھی مسلمان اپنی عبادات ادا کرنے میں آزاد ہیں۔لہٰذا بعض دینی امور پر عمل کی آزادی دے دینا اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ ان کو حاصل کرنے کا طریقۂ کار درست تھا اور وہیں دوسری طرف ایسی دینی آزادیوں کے حصول سے حاصل شدہ فوائد کو ہم بالکلیہ ٹھکراتے بھی نہیں ہیں اور نہ ہی اِنہیں طریقۂ کار کے اندر کسی قسم کے کھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ وہ دنیاوی کامیابیاں جو اردگان اور اس کی حکومت نے حاصل کی ہیں ان کے حصول کی ایک بڑی وجہ اُن کاموں اور اوامر کا التزام اور پابندی ہے جنہیں پورا کر کے کوئی بھی گروہ کامیابی اور ترقی حاصل کر سکتا ہے کہ ترقی کا حصول اللہ تعالیٰ نے اپنی وضع کردہ تکوینی ضروریات واسباب کے ماتحت رکھا ہے ۔ لہٰذا چاہے مسلمان ہو یا کافر، جو بھی انہیں پورا کرے گا کامیاب ہو گا۔مثلاً لوگوں کو زمینی وسائل و اجناس فراہم کرنا ،زراعت کے لیے بہترین منصوبہ بندی کرنا ، قیادت میں قائدانہ شخصی صفات کی موجودگی جیسا کہ منصوبہ سازی، سچائی، کھرا پن، تحمل و برداشت اور کرپشن سے پاک ہونا وغیرہ۔1

حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو اردگان کی کامیابی کا راز دراصل اُس کا اور اس کی پارٹی کا جمہوریت کو مکمل طور پر اپنانا ہے اور پھر اس کے ساتھ تمام نافع اسباب اختیار کرنا، جو کسی بھی ملک میں انقلابی منصوبے کے لیے کامیابی کا سبب ہو سکتا ہے۔ جبکہ اصلاً لازم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو تھامتے ہوئے اسلامی اصولوں کواپنایا جائے جو کہ ہمیں درست شرعی اسباب کے اختیار کے ساتھ اللہ کے دین کو نافذ کرنے کا حکم دیتا ہے۔

تیسری بات یہ کہ، ہم بطور مسلمان یہ جانتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں کسی مقصد کے لیے آئے ہیں۔ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت وبندگی ہے جس کا اعلیٰ درجہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا قیام ہے۔اس لیے ہماری کامیابی کے معیارات وہ نہیں ہو سکتے جو ایسے لوگوں کے ہیں جوہمارے دین ِ اسلام کو نہیں جانتے،اورانہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ؀ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ؀ (سورۃ النور: ۵۱، ۵۲)

’’ مومنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (حکم) سن لیا، اور مان لیا۔ اور ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، اللہ سے ڈریں، اور اس کی نافرمانی سے بچیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔ ‘‘

پس کامیابی اور کامرانی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت اور ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں پنہاں ہے۔ جن کی تعلیمات میں اس امت میں تبدیلی ،اصلاح ،بیداری اور انقلاب کے تمام طریقے بتا دیے گئے ہیں۔اس لیے یہ جاننے کے لیے کہ ترکی کا تجربہ کامیاب رہا یا ناکام رہا، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا ترکی کے حکمران اور وہاں کی حکومت شرعی اسلامی شرائط پر پورا اترتے ہیں یا نہیں؟

ہم جانتے ہیں کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو ترکی کے نظام میں کام کرنے کے مواقع تب کھل کر میسر آئے ، جب اس نے ’سیکولر‘ ترکی کے بیشتر مفادات کی حفاظت کی ضمانت دی۔ کیونکہ ترکی صرف سیکولر افواج پر مشتمل کوئی نظامِ حکومت نہیں رہا۔یہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد سے اسلام کا شدید مخالف اورمسلمانوں اور ان کے مذہبی شعائر تک کا دشمن ملک رہا ہے مثلاً حجاب ،عربی زبان،نماز،اذان وغیرہ۔

اتاترک کی ریاستِ ترکی، اسلام کے خلاف جبر و قہر پر قائم تھی اور اردگان کی سیکولر حکومت ’اسلام کے لیے بھی‘بعض مذہبی آزادیوں کے موقف پر کھڑی ہے ۔

طیب اردگان اور اس کی پارٹی کو حکومت ملی تو انہوں نے اسلام کے ساتھ معاملہ ویسا ہی کر دیا جیساکہ ترکی میں دیگر ادیان و مذاہب کے ساتھ معاملہ رکھا جاتا تھا،یعنی اب مسلمانوں کو اُن کے دینی شعائر کی ادائیگی کی مکمل اجازت دی گئی جیسا کہ دیگر ادیان کے حاملین کو حاصل تھی۔ اور یقیناً یہ آزادی اسلام اور مسلمانوں کو ترکی میں اس پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے سے قبل تو قطعاً حاصل نہیں تھی۔ یعنی اس حکومت نے سیکولرازم کو اس کے اصل مفہوم کے مطابق نافذ کیا جو کہ ریاستی امور میں دین کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتا مگر انسان کو اس کی ذاتی عبادات کے معاملات میں ذاتی عمل( یا practice)کی مکمل اجازت دیتا ہے سوائے ان عبادات کے جو ترکی کے قوانین سے ٹکراتی ہوں۔اور یہی معاملہ لوگوں کے لیے شبہے کا باعث بنا رہا ہے۔ لیکن ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ یہ صورتِ حال نہ تو اسلامی ہے اور نہ تھوڑی بہت اسلامی بلکہ یہ ایک مکمل سیکولر طریقۂ حکومت ہے جو کہ اللہ کے لیے تمام اوامر و احکامات کو خالص کر دینےسے متصادم ہے۔جبکہ اسی نظام کو اردگان اور اس کی پارٹی اپنی عوام کے لیے آخری امید اور آخری ہدف قراردے رہی ہے جیسا کہ اپنے ایک عوامی خطاب میں اردگان نے قاہرہ میں کھڑے ہو کر کہا کہ:

’’ترکی سیکولر جمہوری روایات اور انسانی حقوق کی ادائیگی پر مبنی ریاست ہے اور یہ سیکولر بنیادوں کو قائم کرنے والی ہے اور تمام ادیان کے مابین باہمی ہم آہنگی پر قائم ہے۔‘‘

اسی طرح مشترکہ اسلامی ممالک کی کانفرنس میں اپنے بیان میں کہا کہ:

’’کوئی بھی طریقۂ کار یا منصوبہ جس کی بنیادی اساس دین اور مذہب پر قائم ہو، اس منصوبہ کا مستقبل ناکامی پر منتج ہو گا۔‘‘

ابھی چند ہفتے قبل جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی پر الجزیرہ انگلش کی ایک ویڈیو رپورٹ دیکھنے کا موقع ملا جس سے قبل اردگان کی ایک تقریر کا منظر ہے جس میں کہا گیا کہ’ آج کا ترکی سلطنتِ عثمانیہ کا تسلسل ہے‘، پھر اسی رپورٹ میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کا صدارتی مہم کے لیے ایک اشتہار دکھایا گیا جس میں پہلے سکرین پر ارطغرل غازی کا نام ابھرتا ہے، پھر غازی عثمان کا، پھر با یزید یلدرم کا ، سلطان سلیم کا، سلطان سلیمان قانونی کا اور اس کے بعد (ننگِ ملت، ننگِ دین اور غدارِ امت) مصطفیٰ کمال اتاترک کا اور پھر اردگان کا۔ سبحان اللہ، کیسا دھوکہ ہے کہاں غازی ارطغرل، غازی عثمان، یلدرم الپ ارسلان، سلیمان قانونی او ر کہاں اتاترک؟

اردگان کی ’اسلامی ‘ حکومت کے قیام کی بنیاد سیکولرازم پر مبنی افکار ہیں۔ جبکہ یہ بات واضح ہے کہ سیکولرازم صرف نظام حکومت پر مبنی فکر نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرائی پر مبنی باطل فکر ہے، جو انسان کی ذاتی زندگی حتیٰ کہ سوچنے کے انداز تک پر غالب ہوتی ہے۔ اس سیکولر فکر کی تبدیلی ہی در حقیقت ہمارے نزدیک حقیقی شرعی انقلاب یا حقیقی نظام کی تبدیلی کہلائی جا سکتی ہے۔ پھر سیکولرازم کی خطرناکی (graveness) سمجھنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ سیکولر ازم خود ایک دین ہے۔ ہمارے یہاں دین کسی الہامی یا اس قسم کی چیز کو کہتے ہیں جس میں پوجا پاٹ ہوتی ہے جس کے لیے صحیح اصطلاح مذہب ہو سکتی ہے۔ لیکن دین کا مطلب ہے طریقۂ زندگی یا way of life۔ اور یہی دین آج دنیا کا عالمگیر طریقۂ زندگی بن چکا ہے۔ آج دینِ اسلام محض دینِ عیسائیت یا دینِ یہودیت یا ہندو مت وغیرہ جیسے ادیان کا عسکری، سیاسی، فکری اور علمی محاذوں وغیرہ پر مقابلہ نہیں کر رہا بلکہ ان ادیان سے زیادہ اس کی لڑائی سیکولر ازم سے ہے جو سراسر مادہ پرستی پر قائم ہے اور اس دینِ سیکولرازم کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ انسان خود ہی اپنا خالق و مالک اور الٰہ ہے۔ یہ سیکولرازم کہیں برملا و جہری نظر آتا ہے مثلاً یورپ و امریکہ وغیرہ میں اور کہیں یہ چھپا ہوا سِری ہوتا ہے مثلاً ترکی میں اور آج سعودی عرب بھی اسی ڈگر پر چل رہا ہے۔

طیب اردگان شریعتِ اسلامی کو بطور قابلِ عمل نظامِ حکومت نہیں مانتا جیسا کہ اس کے اوپر درج کیے گئے اقوال سے واضح ہے اور موجودہ عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے یہی ’حکومت و کامیابی‘ کا راستہ ہے جبکہ در اصل کامیابی اور تبدیلی کا اصل راستہ شریعت ہے، اس راستے کی اتباع کرتے ہوئے اگر دنیا میں ’حکومت و کامیابی‘ مل جائے تو فبہا ورنہ ’ہارے بھی تو بازی مات نہیں‘۔

ترکی میں اردگان حکومت کے اس پہلو کو امریکی تھنک ٹینکس بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور اسی کا اظہار مشہور اسلام دشمن تھنک ٹینک ’’ رینڈ کارپوریشن‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ بعنوان ’’The rise of Political Islam in Turkey‘‘ میں کیا ہےکہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ترکی میں شریعت کے نفاذ کے لیے بالکل کوشش نہیں کر رہی اور یہی بات اس چیز کی غماز ہے کہ مغرب کو ترکی کیوں اِس حالت میں بھی قبول ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ مغرب خود مغرب ہی کے بقول ’شدت پسندی پر مبنی اسلام‘ سے پوری دنیا میں خوف زدہ ہے اور اسلامی ممالک میں جہاں عوامی تائید ’اسلام‘ کے لیے ہو، ایک معتدل متبادل دینا اس کے لیے ناگزیر ہے ۔ ایسے میں جو مضبوط عوامی تائید کے ساتھ ’اسلام‘ چاہتا ہو تو جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی والا ترکی نمونے کے طور پر مغرب کے لیے ایک قابلِ قبول ریاست ہے جس کے اقتدار میں مغرب کے مفادات کو بھی ٹھیس نہ پہنچے۔2

یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ترکی کی حکومت کے اِس ’’اسلام نما ‘‘ نمونے کو تو مغرب قبول کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف حقیقی شرعی نظامِ حکومت قائم کرنے والے مغرب کو برداشت نہیں ہیں اور کہیں خود اور کہیں اپنے حواریوں کے ذریعے سے ایسی شرعی حکومتوں یا شرعی حکومتوں کے قیام کی کوشش کرنے والوں کو تباہ کرنے کو لپکتا ہے مثلاً افغانستان، صومالیہ،مالی، یمن، برِّ صغیر وغیرہ3 اور مغرب و مغرب کے کاسہ لیسوں کا ایسی کوششوں کو تہہ تیغ کر دینے کی ایک عظیم مثال ۲۰۰۷ء میں پاکستان کے دارالحکومت کے قلب میں لال مسجد کو مکمل عسکری قوت کے ذریعے کچل دینا تھا۔

وہی ترکی جو اسلامی اقدار اور نبویؐ طرزِ حکومت کا راگ الاپتا نظر آتا ہے اُسی ترکی کے اِسی نام نہاد اسلامی دور میں مغرب و امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کے ساتھ نہایت قربت اور گرم جوشی پر مبنی تعلقات قائم ہیں، نیز اسلامی ممالک کی فہرست میں سب سے پہلا ملک ترکی ہی ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ۔(کوئی سوال اٹھا سکتا ہے کہ یہ تو سیکولر حکومت و افواج کے اقتدار میں تسلیم کیا گیا تھا مگر آج اردگان کے سامنے اسرئیل کے ساتھ ان تعلقات کو ختم کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟)۔

۲۰۰۵ ءمیں یہی طیب اردگان اسرائیل گیا جہاں اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون سے گرم جوش ملاقاتیں کیں ،عسکری اور تجارتی معاہدے کیے،ہالوکاسٹ کی یادگار پر یہودیوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے طور پر پھول چڑھائے،اور اس واقعے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔یہاں ہمیں ایک ’’فریڈم فلوٹیلا‘‘ کا واقعہ دھوکے میں مبتلا نہ کر پائے۔یہی تو اس حکومت بلکہ درحقیقت اس عالمی نظام کا دجل ہے کہ ایک طرف غزہ کے محصورین کی طرف خوراکی مواد اور ادویات فراہم کرنے کے لیے جہاز روانہ کیا اور اسرائیل نے اسے پہنچنے سے روکنے کی خاطر حملہ کیا اور جواب میں یہی ترکی کی حکومت ایک جز وقتی بائیکاٹ کے بعد دوبارہ سے اسرائیل کو پسندیدہ ممالک کی فہرست میں شامل کرتی ہے اور آج تک اسرائیل کے ساتھ ترکی کے تعلقات معاشی،عسکری اور اقتصادی میدانوں میں قائم ہیں۔ جبکہ غزہ کی ۲۰۱۰ ءکے بعد تین مرتبہ اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی ہے اور اب تو القدس باقاعدہ اسرائیل کا دارالحکومت بننے کو جارہا ہے بلکہ امریکہ اپنا سفارت خانہ وہاں کھول چکا ہے، گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کو دی جا چکی ہیں مگر ترکی کا’’ فریڈم فلوٹیلا‘‘ دوبارہ نکلنے کی جرأت نہیں کر پا رہا بلکہ الٹا ترکی کے جہاز اسرائیل میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے کئی سو میل کا سفر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ آج ترکی ’انسانی بنیادوں‘ پرجو امداد غزہ کو بھیجتا ہے وہ پہلے اسرائیل جاتی ہے، وہاں اس کی جانچ پڑتال ہوتی ہے اور اس کے بعد اس کو غزہ بھیجا جاتا ہے۔

یہ فریڈم فلوٹیلا والی بلی خاص کر اس وقت تھیلے سے باہر آئی جب ۲۰۱۶ء کے وسط میں ترکی-اسرائیل معاہدہ ہوا جس کی پہلی شق ہی یہ تھی کہ ترکی کی پارلیمنٹ ایک قانون پاس کرے گی جس کے تحت فریڈم فلوٹیلا والے واقعے میں جاں بحق ہونے والے نو (۹) ترک باشندوں کے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے کے مقدمات منسوخ کیے جائیں گے۔

اس وقت بھی اسرائیل کے ترکی سے اس قدر قریبی معاشی تعلقات ہیں کہ اسرائیل جو سامان دنیا بھر میں ایکسپورٹ کرتا ہے اس میں پوری دنیا میں چھٹے نمبر پر اسرائیل سے سامان خریدنے والا ملک ترکی ہے۔

فلسطین پر قابض اور غزہ کے مسلمانوں پر دن رات تنگ کرنے والے اسرائیل کے ساتھ آج بھی ترکی کی افواج کی جنگی مشقیں جاری ہیں اور باہمی عسکری تربیت اور استخباراتی تعاون کے لیے وفود اور تجارب کا تبادلہ ایک معلوم امر ہے ۔ بلکہ اسرائیلی افواج کے فوجی بوٹ اور فوجی یونیفارم ترکی میں بنتے ہیں اور اس ’خدمت‘ کے بدلے اسرائیل ترکی کو ہائی ٹیک دفاعی نظام فراہم کرتا ہے۔

اور تو اور ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی باشندوں کو ترکی جانے کے لیے ترکی کا ویزا تک درکار نہیں ہے، اسرائیلی باشندے محض اپنے پاسپورٹ پر ترکی کا سفر کر سکتے ہیں۔

دفع عدو الصائل(یعنی حملہ آور دشمن سے دفاع) کے شرعی حکم کی تائید کرنے والے اور صرف افغانستان ،کشمیر اور عراق و شام میں غیر مسلم حربی کافروں کے خلاف قتال کو جائز قرار دینے والے ہمارے محترم حضرات کے لیے جاننا ضروری ہے کہ یہی ترکی عرصہ بیس سال کے قریب ہمارے افغانی بھائیوں پر ’’نیٹو ‘‘ کے ایک مستقل عضو کے طور پر بمباریوں اور مظالم ڈھانےمیں بھی مشغول ہے۔ افغانستان کے مغربی صوبے’فاریاب‘،’بادغیس‘،’ہرات‘، اور ’فراہ‘ میں مستقل ترکی افواج کے یونٹ تعینات رہے ہیں اور ان علاقوں کے مسلمانوں کے خلاف آپریشنز میں شریک رہے ہیں۔

پھر یہی وہ ترکی ہے جس نے شیخ عبداللہ عزام ؒکے قریبی ساتھی،امیر المومنین ملا عمر ؒاور طالبان افغانستان کے کم و بیش تمام قائدین کے معتمد،شیخ اسامہ بن لادن ؒکے دست راست،امت مسلمہ کے مایۂ ناز عسکری قائد اور سپہ سالار شیخ عبدالہادی عراقی جن کی زندگی کے بائیس سال افغانستان میں روسی عفریت ،شمالی اتحاد اور پھر امریکہ کے خلاف جنگ کی قیادت میں گزرے، انہیں عراق جاتے ہوئے اپنی سرحد سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا جو آج تک امریکہ کی قید میں ہیں۔ یہی ترکی عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر شام کو شام کی عوام کے لیے جیل بنائے ہوئے ہے۔

لیکن ترکی نے شام میں اپنے اس کردار کو بھی نہایت دجل کے ساتھ مخفی رکھا ہوا ہے۔ایک طرف شامی مہاجرین کو پناہ دی گئی دوسری طرف انہی شامی مہاجرین کے علاقوں پر ’’حرب علی الإرھاب والتطرف‘‘ کے نام پر مستقل بمباریاں یا بمباریوں میں تعاون بھی جاری ہے۔ جہاں ایک طرف ’کردوں‘ اور شامی مزاحمت کار مجاہدین پر بھی بمباریوں میں مستقل تعاون جاری ہے وہیں ترکی بعض جہادی گروہوں کو ’’اپنی‘‘ ریاستی پالیسیوں کے تسلسل اور مفادات کے حصول کی خاطر شام میں مکمل مدد بھی فراہم کر رہا ہے ۔غرض ایک لحاظ سے مغربی طاقتوں نے ترکی کےلیے عالم اسلام کے قلب اور فلسطین کے ساتھ پڑوس میں قائم اس عظیم جہادی تحریک ِ شام میں کردار تقسیم کر رکھا ہے۔امریکی ڈرون طیاروں کا سب سے بڑا ہیڈ کوارٹر ترکی میں ہے جہاں سے امریکی طیارے اور جاسوسی طیارے اڑ اڑ کر شام کے نہتے مسلمانوں اور ان کے دفاع میں جانیں نچھاور کرنے والے مجاہدین پر آگ وخون کی بارش مسلط کر رہے ہیں۔جبکہ دوسری طرف روسی طیاروں کو شام پر بمباری کی کھلی اجازت دی جا رہی ہے اور اسے شام کا داخلی مسئلہ قرار دیا جارہا ہے مگر دجل کی انتہا کہ روسی طیارہ ترکی کی فضا میں داخل ہوا تو اسے ایک بار مار گرا یا گیا جبکہ اس سے قبل ہزاروں روسی (ساٹیز) یا پروازوں سے تجاہل عارفانہ برتا گیا مگر اس کارروائی کی سیکڑوں بار میڈیائی تشہیر کی گئی۔اور پھر کچھ ہی عرصے میں اردگان نے روسی صدر کے ساتھ دوبارہ تعلقات بحال کر لیے۔غرض ایک لحاظ سے ترکی کا خطے میں عسکری کردار نہایت دوغلا اور دجل پر مبنی ہے۔ مختصراً یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح ’پاکستانی اسٹیبلشمنٹ‘ نے اپنے مفادات (تزویراتی گہرائی ؍ Strategic Depth)کی خاطر افغانستان اور کشمیر کا استحصال کیا ویسے ہی ترکی اس وقت شام میں کر رہا ہے، بلکہ نیا اکھاڑا تو اس وقت لیبیا میں بھی سجایا گیا ہے۔

ریاستِ ترکی میں شراب کی فروخت پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں تو ایسی پابندیاں تو امریکہ جیسے ملک میں بھی ماضی میں لگ چکی ہیں جنہیں بعد میں ہٹا لیا گیا۔ پھر پابندی بھی جزوی ہے نہ کہ کلی اور جزوی پابندی شریعت کے تقاضے پر اور شریعت کے حکم کے مطابق نہیں بلکہ ’قومی مفاد‘ کو سامنے رکھتے ہوئے لگائی گئی ہے۔

اگر ترکی کی اقتصادی حالت کا ذکر کیا جائے تو ترکی کی اقتصادی حالت میں بہتری کا ایک جزو اس کی حکومت کی اچھی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہی ہے مثلاً فساد کی بیخ کنی اور میرٹ و معیار پر عمل درآمد اور اچھا انتظام لیکن اصل میں یہ اقتصادی نشونما و ترقی اُسی فاسد سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی ہے،جس کا بیشتر انحصار ان سودی قرضوں پر رہا ہےجن کے حصول کی اردگان حکومت مستقل کوششیں کرتی رہی ہے اور کر رہی ہے۔ ترکی کی معیشت ایسے غیر شرعی معاہدات پر کھڑی ہے جو کسی صورت بھی اسلامی شرعی اصول و ضوابط کے پابند نہیں جیسا کہ ترکی کے ساحلوں کو عریانی و فحاشی کے اڈوں کے لیے سیاحت کے نام پر اجرت پر دے دینا وغیرہ۔

ایک بات جو شاید بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں کہ ترکی کے ذمے آئی ایم ایف کے جو قرضے واجب الادا ہیں وہ 343-367 کھرب ڈالر کے قریب ہیں اور یہ قرضہ جات اس قرضہ سے سیکڑوں گنا زیادہ ہیں جو اردگان کی پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے سے قبل تھے۔ ترکی کی اقتصاد کو سرمایہ دارانہ نظام کے پیمانے کے مطابق کامیاب سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ترکی کی اقتصادی نشونما کا لیول اور قومی سرمائے میں بڑھوتری کا گراف ان قرضہ جات اور سودی معاہدوں کے باعث اوپر چڑھ رہا ہے۔ یوں یہ ’ترقی‘ بہت سے اقتصادی ماہرین اور دین پسند حضرات کو خام خیالی میں مبتلا کر رہی ہے۔ ترکی آج یقیناً ایک مضبوط معیشت ہے مگر سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں پر مکمل طور پر قائم ہے جس سے اس کے لیے الگ ہونا ناممکن ہے۔ یہی وہ سودی نظام ہے جس کے خاتمے کے لیے ہمارے دین پسند حضرات پاکستان میں صدائیں بلند کرتے ہیں لیکن ترکی کے حامی ہیں؟!

یہ چند نکات اس لیے عرض کیے گئے ہیں کہ تاکہ جان لیا جائے کہ ترکی کا تجربہ قطعاً کوئی کامیاب تجربہ نہیں ہے اس لیے کہ اس نظام نے فروعات کی خاطر اصولوں کو پیچھے چھوڑ ڈالا ہے ۔

ہماری پریشانی یہ نہیں کہ ابھی تک ترکی میں فساد باقی ہے جسے اردگان ختم نہیں کر سکا یا اپنی پوری صورت میں ابھی تک ترکی میں دینِ اسلام قائم نہیں کیا جاسکا، جیسا کہ بعض حضرات کی سوچ ہے ، بلکہ ہماری مشکل یہ ہے کہ اردگان کے طریقۂ کار میں دین کے اہم اور ناگزیر قواعد اور اصولوں کی مکمل خلاف ورزی ہے اور ان میں سب سے اہم اللہ کی شریعت پر مبنی نظام کے قیام کے بجائے عوام کی حاکمیت پر مبنی نظام کا قیام ہے جس سے برأت کے بغیر کوئی فلاح و کامیابی نہیں ہے۔پھر اس ’حکومت و کامیابی‘ کے حصول کا طریقۂ کار سرمایہ دارانہ جمہوری نظام پرمبنی ہے جو کہ سراسر اسلام سے متصادم ہے۔

ہمارے یہاں کہ بعض اہلِ دین و انقلابی جماعتوں کے حضرات یہ کہتے ہیں کہ جو مذہبی آزادیاں اور اقتصادی قوت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے ترکی میں حاصل کر لی ہیں یہ اللہ کے دین کو ترکی میں اور پھر پورے عالم اسلام میں نافذ کرنے کا ایک ابتدائی قدم ، ذریعہ اور راستہ ہے۔اس استفسار کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہے اور اس کی درج ذیل وجوہات ہیں:

پہلی یہ کہ ہم اللہ کی اطاعت کرنے کے مکلف ہیں اور تبدیلی کی کوشش شرعی ذرائع سے کرنا ہمارا فرض ہے ، شریعت نے جہاں مقصد و منزل کو واضح کیا ہے تو ساتھ ہی راستہ و طریق بھی بتا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً ……(سورۃ النور: ۵۵)

’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ ‘‘

ہم جس امر کے مکلف ہیں وہ اس آیت کے پہلے حصے پر عمل ہے یعنی ’جولوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے‘، یعنی تبدیلی کی خاطر کسی بھی حرام رستے کو اپنائے بغیر کوشش کی اس لیےکہ تمکین و کامیابی اللہ کے فیصلوں کے ساتھ مربوط ہے۔حقیقی تمکین نہ کہ چند جز وقتی مذہبی آزادیاں بلکہ وہ تمکین جو ممالک کو اس عالمی نظام کے گورکھ دھندے اور فساد سے نکالے اور ’’نخرجھم من عبادۃ العباد من عبادۃ رب العباد‘‘ یعنی بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے ربّ کی غلامی میں لے جانے کی سمت گامزن کرے۔ایسی تمکین نہیں جو :

  • ترکی کو عالمی سرمایہ دارانہ سودی نظام کا غلام بنائے رکھے ۔
  • اسے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صلیبی مفادات کی ایک ’’کمپنی‘‘ بنائے رکھے ۔
  • افغانستان پر قابض نیٹو اتحاد کا ایک حصہ بنائے رکھے اور اس کے ذریعے سے مسلمانوں كے مفادات پر ضرب لگوائے ۔
  • ترکی کو مغربی تخطیط و تحلیل (Research and Analysis) کے دفاتر؛ معتدل ،سیکولر اور جمہوری اسلام کا ایک نمونہ بنا کر عالم اسلام کے سامنے پیش کریں جبکہ اس کے مقابلے میں اصل اسلام کو شدت پسندی پر مبنی اسلام قرار دے كر ترکی اور عالم اسلام کے لیے ایک خطرے کے طور پر پیش کریں۔

ہم تو ایسی تمکین کے خواہاں ہیں جس میں شریعت پر عمل سب سے اہم ترجیح ہو اور ایسے تمام امور سے اجتناب ہو جن سے اللہ کا دین منع کرے۔ مثلاً:

  • کمزور مسلمانوں کی حتی الوسع نصرت کی جائے ،حقیقی نصرت نہ کہ وہ نصرت ومدد کہ سالوں گزر جائیں مگر مسلمانانِ شام ترکی کی سرحد کے اس پار ذبح کیے جائیں۔
  • ترکی میں کوئی عریاں ساحل نہ دیکھیں اور نہ ہی انہیں اجرت پر فحاشی و عریانی کی صنعت کے فروغ کی خاطر دیا جائے۔
  • شراب نوشی پر پابندی ہو لیکن شرعی قاعدے کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے۔
  • گرم جوشی پر مبنی نام نہاد ریاست اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ دیکھیں جو تعلقات میڈیا پر نہایت دجل کے ساتھ چھپائے جاتے ہیں ۔

یہاں سوال یہ ہے کہ ابو طالب جنہوں نےہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر قسم کی نصرت فرمائی اور آپؐ کی پشتی بانی کی ،کیا ان کی یہ نصرت انہیں جہنم کی آگ سےبچا پائے گی؟ اور کیا نبی ؐنے ابو طالب سے اپنے اسی مشرکانہ طریقۂ کار یعنی بتوں کی پوجا ،شرک اور آباؤاجداد کی رسومات پر قائم رہنے کا مطالبہ فرمایا یا انہیں ان کے آخری سانس تک کلمہ پڑھنے کی ترغیب و دعوت دی؟

اورکیا یہ ممکن تھا کہ آپؐ اپنی ذات کے لیے ابوطالب کو ایک حفاظت یا cover کے طور پر رہنے دیتے اور ابو طالب سے کہتے کہ آپ اپنے منہج پر قائم رہیں یا اگر نبی ﷺ یہ جان جاتے کہ ان کے چچا کا شرک پر قائم رہنا نبیؐ کی دعوت کے لیے فائدہ مند ہے تو کیا آپ ؐ اپنے اسلام قبول کرنے کے مطالبے سے رک جاتے ؟ان تمام سوالات کا جواب یقیناً نہیں میں ہے، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا:

’’إن اللہ لیوئید ھذا الدین برجل فاجر .‘‘(فیض القدیر)

’’بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد و نصرت کا کام فاسق آدمی سے بھی لے لیتے ہیں۔‘‘

یہ مقام اردگان کو فاجر یا کوئی اور لقب دینے کا نہیں اور نہ ہی اس کا فائدہ ہے کہ اردگان کو ابوطالب کے برابر رکھا جائے جو کہ کافر تھے جبکہ اردگان تو اسلام سے اپنی نسبت کااعلان کرتا ہے۔ لیکن مقصد یہ اصول بیان کرنا ہے کہ ’’کسی شخص یا حکومت (بالخصوص اسلام سے منسوب) میں بعض خوبیوں کی موجودگی اور اس کے سبب حاصل شدہ کامیابیاں منہج و طریقۂ کار کے صائب اور برحق ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتیں‘‘ ۔اور یہ کسی طورپر بھی ٹھیک نہیں ہے کہ عالم اسلام اور دینی تحریکات کے لیے ایسے شخص یا حکومت کو ماڈل کے طورپر پیش کیا جائے جو دین کو اس کی اصل تعبیر کے ساتھ (ذاتی و اجتماعی زندگی دونوں میں اکٹھے نہ کہ سیکولر طریق پر) نافذ کرے۔

یہاں ہم مختصراً ترکی کا موازنہ پاکستان سے کرنا چاہیں گے۔پاکستان میں جن حضرات نے پاکستانی فوج کا مشرقی پاکستان میں کردار اور سیکولردور دیکھ رکھا تھا ان کے سامنے ضیاء الحق کے دور میں آنے والی تبدیلیاں نہایت ہی غیر معمولی تھیں۔ان کے نزدیک پاکستانی فوج نے کلمہ پڑھ لیا تھا، جن باروں (bars) میں شراب رکھی کی جاتی تھی ان پر اب جوس (juice) اور سافٹ ڈرنکس کو رکھا جانے لگا تھا۔تربیتی نصاب میں قرآنِ مجید پڑھایا جانے لگا اور ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ اسی دور میں زبان زد عام کیا گیا تھا،لہٰذا ایسے حضرات کو ہم عذر دیتے ہیں کہ چونکہ وہ اس وقت اپنی آنکھوں سے اس تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے تھےچنانچہ اس وقت وہ پاکستانی فوج کے اس منافقانہ دجل پر مبنی پینترے کو سمجھ نہ سکے۔اس پینترے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عالمی طاقتوں نے پاکستان کے ہمسائے میں افغانستان میں روسی عفریت کو چڑھتے دیکھا اور اپنا مفاد بھی اس جنگ میں جانا، لہٰذا اس جنگ کے اثرات لامحالہ پاکستان پر بھی پڑے ۔یہاں ایک ایسے چہرے کی ضرورت تھی جو اس فوج کے سابقہ منفی کردار سے قطع تعلق کر کے اس کے اسلامی تشخص کو قائم کرے تاکہ عوام بپھر کر اسی فوج کے خلاف نہ کھڑے ہو جائیں۔مگر وقت نے ثابت کیا کہ فوج میں یہ تبدیلی حقیقی تبدیلی نہیں بلکہ پالیسی اور نام نہاد قومی مفاد کا اس وقت یہی تقاضا تھا (جیسا کہ آج کل عمران خان و باجوہ کی سربراہی میں ہے)۔چنانچہ مناسب وقت میسر آنے پر پرویزمشرف فوج کو واپس اسی روش پر لے گیا۔وہی اسلام دشمنی،امریکی غلامی ، روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی آوازیں اور اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کے ایسے بلند بانگ دعوے (جو کلیتاً غلط بھی نہ تھے)جو عوام کو وقتی سکون دیتے تھے۔وجہ کیا تھی ؟وجہ یہی تھی کہ امریکہ کو اب دوبارہ افغانستان میں پاکستان کے کردار کی ضرورت تھی۔پہلا کردار ضیاء کی صورت میں روسی اشتراکیت سے نمٹنے کے لیے اس فوج نے عالم مغرب و امریکہ کے ساتھ مل کر ادا کیا۔جبکہ دوسرا کردار امارت اسلامی سے افغانستان میں نمٹنے کے لیے اس فوج نے ادا کیا، جہادِ کشمیر سے ناتا توڑا،اپنی فضائیں امریکیوں کے لیےمسخر کر ڈالیں، پاکستان کو امریکی ڈرون طیاروں کی آماجگاہ بنا ڈالا،بلیک واٹر اور ریمنڈ ڈیوس و جوئل کاکس جیسے سکیورٹی کنٹریکٹروں اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کو کھلم کھلا ’غیر‘سفارتی استثنا دی گئی (کہ یہ لوگ سفارتی عملے میں سے نہ تھے) ۔

بعض امور ایسے ہوتے ہیں جن پر ہم تقدیری طور پر خوش ہوتے ہیں مگر ان پر شرعی طور پر راضی نہیں رہ سکتے۔جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کا حکومت حاصل کرنا اور اس کے نتیجے میں ترکی میں بعض مذہبی آزادیوں کا حصول اور مسلم دنیا میں لوگوں کے اس حکومت کو خوش آمدید کہنے کے نتیجے میں ہو سکتا ہے کہ کل کلاں ترکی میں کوئی اور ایسی تبدیلی آجائے جس سے ترکی میں اسلام کی اصل صاف شفاف دعوت دینے کے مواقع پیدا ہو جائیں۔ لہٰذا اردگان اور اس کی پارٹی کی کامیابی ایسے امور میں سے ہے جن پر ہم تقدیری طور پر تو خوش ہو سکتے ہیں مگر اردگان کا اللہ تعالیٰ کے احکامات کی عدم تنفیذ پر عامل ہونا ہمیں شرعی طور پر اردگان اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے منہج کو قبول نہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور اسی لیے اس کے منہج کی تعریفیں کرنا، اس کو رول ماڈل قرار دینا اوراسلامی تحریکوں کو اپنے اپنے ممالک میں اس قسم کی شخصیات کے پیچھے کھڑا کرنے کا درس دینااور اس منہج کی مدد و نصرت کو ہم صحیح نہیں سمجھتے ۔لہٰذا کچھ امور ایسے ہیں جو تقدیراً ظہور پذیر ہونے کی وجہ سے ہمیں خوشی تو ہوتی ہے مگر شرعی طور پر ہم کبھی ان پر راضی نہیں ہو سکتے۔

یقیناً اتاترک کے ترکی اور اردگان کے ترکی میں بہت فرق ہے اور اس جبری استبدادی قہر پر مبنی نظام سے ترکی آج بتدریج لادینیت(سیکولرازم،یعنی نظام حکومت ؍ اجتماعی زندگی سے دین غائب مگر ذاتی مذہبی شعائر کی practice پر کوئی روک ٹوک نہیں) کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو ملنے والی چند مذہبی آزادیاں اور ترکی کے بعض دجل پر مبنی مواقف نے بعض حضرات کے نظریات اور طرزِ فکر کو خلط ملط کیا ہے جس کے سبب ان کے دل اور زبانیں اس خلافِ اسلام طریقۂ کار کو قبول کر رہی ہیں۔ شاید ایسی ہی کسی صورتِ حال کے پیشِ نظر اقبالؒ نے کہا تھا (شعر میں لفظی تصرف کے ساتھ) کہ

’مسلم‘ کو جو ہے ’ترکی‘ میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

ہو سکتا ہے کہ ان حضرات کے ترکی کی جانب اس میلان کی وجہ یہ ہو کہ دیگر اسلامی ممالک میں کسی سنجیدہ اسلامی سیاسی انقلاب کی صورت تاحال ظہور پذیر نہیں ہو سکی، لیکن یہ ’بیانیہ‘ بھی کل امارتِ اسلامیہ کے قیام سے قبل تک تو چل سکتا تھا لیکن آج نہیں چل سکتا ۔

ساری دنیا کے سیکولر اس بات سے تو چِڑتے ہیں کہ سابقاً ایک دینی پس منظر رکھنے والا شخص ترکی کے ایوانِ اقتدار میں بیٹھا ہے لیکن جو ’آزادیاں‘ سیکولر ترکی میں موجود ہیں ان کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ اس پر ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ پاکستان کی ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ نے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر کہا کہ ’اگر ہم جیت گئے تو کراچی کو استنبول بنا دیں گے‘۔ اس پر سابقہ سرخے اور حالیہ لبرل سیکولر صحافی ’وسعت اللہ خان‘ نے کالم لکھا اور کہا کہ میرا ووٹ اس بار اس مذہبی جماعت کے لیے ہے کیونکہ وہ کراچی کو استنبول بنانے کا وعدہ کر رہے ہیں اور پھر استنبول کے تمام ’خصائص‘ بیان کر دیے جن میں چیدہ چیدہ ’مغربی طرز کے عریاں ساحل، نائٹ کلب، بیلے ڈانسرز سے ’’سجی‘‘ مخصوص گلیاں اور شراب کی فروخت‘ وغیرہ شامل ہیں۔ اس لطیفے کو لکھنے کا مقصود بھی یہی تھا کہ سیکولر لوگ بھی یہ بات بخوبی سمجھتے اور جانتے ہیں کہ ترکی میں کیسا نظام قائم ہے اور وہ نظام کن خصائص کا مرکب ہے۔

اردگان نے جیسا نظام ترکی میں قائم کر رکھا ہے اور پھر اس کے بعد جب وہ مکا لہرا کر کہتا ہے کہ یہ عثمانی مکا ہے، وغیرہ تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمران خان اپنے آپ کو محمد بن قاسم کہہ چکا ہے اور جس طرح اپنے آپ کو سفیرِ کشمیر اور وکیل کشمیر کہہ کر کشمیر کا سودا کر چکا ہے یا یوں کہہ لیں کہ عمران خان بالفرض اپنے آپ کو برِّ صغیر کا مغل بادشاہ ’اورنگزیب عالمگیرؒ ‘کہنا شروع کر دے۔ یہ بھی ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ خلافت عثمانیہ اپنےضعف کی حالت میں بھی امتِ مسلمہ کو غاصب صلیبیوں صہیونوں سے محفوظ رکھتی تھی اور امیر المومنین سلطان عبد الحمید ثانیؒ جیسی شخصیات عالمِ ضعف میں بھی تھیوڈورہرٹزل جیسوں کی پیشکشیں (فلسطین کو بیچنے والی) ٹھکرا دیتی تھیں۔ جبکہ آج کا سیکولر ترکی فلسطین و بیت المقدس پر قابض اسرائیل کے ساتھ عسکری و اقتصادی معاہدے کرتاہے اور اس غاصب ریاست کو تسلیم بھی کرتا ہے۔ خلافت عثمانیہ امت مسلمہ کے مجاہدین (مثلاً تحریکِ ریشمی رومال)کی تائیدکرتی تھی جبکہ آج کا سیکولر ترکی مجاہدین کو اغیار کے حوالے کرنے کے درپے ہے۔

دو نکات پر مضمون کا اختتام کرتے ہیں:

  1. بندۂ مومن سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ہر معاملے کو شریعت کی نظر سے دیکھے۔ اس اعتبار سے یہ بات واضح ہے کہ ترکی کی حکومت نظامِ اسلامی کو قائم کرنے والی نہیں بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ترکی کی حکومت کا انداز پاکستان میں نواز شریف یا عمران خان کی حکومت جیسا ہے۔ (ایک لمحے کو شریعت کو چھوڑ دیں تو)ہمارے ملک کا مسئلہ کرپشن اور بد انتظامی ہے اور پاکستان میں سیاست کرتی ’مخلص‘ مذہبی سیاسی جماعتیں بھی یہی کہتی ہیں کہ اگر شفاف الیکشن کروائے جائیں اور پارلیمان میں پہنچنے والی جماعتیں، حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف دونوں ۱۹۷۳ء کے آئین پر ’دیانت داری‘ سے عمل کریں اور کروائیں تو یہی ہمیں مطلوب ہے، جبکہ جمہوریت، انتخابات اور یہ آئین روحِ اسلام سے متصادم ہیں اور اس پر مجاہدین کی جانب سے بہت سا لٹریچر موجود ہے۔4
  2. ہمارے حضرات میں سے بعض اردگان کے حکومت میں ہونے ، مقتدر ہونے کو کامیابی سمجھتے ہیں۔ دنیوی پیمانوں سے، اسباب کی دنیا میں رہتے ہوئے بھی اردگان کا ماڈل ’اسلام پسندوں‘ کے اقتدار میں ہونے کے اعتبار سے ناکام ہے۔براہِ راست اردگان اور اس کی ’فکر‘ اور ’پارٹی‘ کو جد و جہد کرتے ہوئے (اقتدار سے پہلے اور بعد میں)نصف صدی ہو چکی ہے جبکہ ’ریاستِ مدینہ‘ ابھی بہت دور ہے۔ اس کے مقابلے میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کی تحریک تقریباً تیس سالوں میں، شریعت کی بیان کردہ ’عادلانہ و اسلامی حکومت‘ تک کا سفر طے کرچکی ہے اور اسی طرح کی تحریک کی انتہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘ ہو گی۔

اللہ پاک دنیا میں اسلام کو غالب فرمائے اور اس غلبے کے لیے کھپنے والوں میں ہمیں شامل فرما لے، آمین۔

 

نورِ ایماں ملے، فہمِ فرقاں ملے، زُور و باطل کی پہچاں سجھا دیجیے
ہو جو حق، اِن نگاہوں کو حق ہی دِکھے، آنکھ کو ایسا سُرمہ عطا کیجیے

آمین یا ربّ العالمین!

 


1 اسی لیے ہمارے اس اصول کہ ’’ دینی جماعتوں کا سیاسی عمل میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے‘‘…… کا اس بات سے تعلق نہیں ہوتا کہ ہم ان نظاموں میں دینی جماعتوں کی شمولیت کے سبب چند قائدین کے ایسے اچھے کرداروں اور پاکیزہ صفات کی حامل بعض شخصیات کے وجود کا انکار کر دیں۔

2 جبکہ ایک اور عجیب مثال مصر کی ہے۔ مصر میں بھی اردگان قسم کی حکومت قائم ہوئی تھی، لیکن چونکہ مصر کے زمینی حالات امریکہ و مغرب کے لیے زیادہ ساز گار تھے (مثلاً فوج ہی اصل قوت تھی) تو اردگان قسم کی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا گیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مغرب اردگان قسم کی حکومت بھی برداشت نہیں کرتا، لیکن اگر مغرب کے پاس کوئی آپشن نہ رہے تو ’ماڈریٹ اسلام‘ پر عامل اردگان جیسا قابلِ قبول ہے۔

3 گو کہ اس وقت امریکہ و مغرب امارتِ اسلامیہ افغانستان سے ایک معاہدہ کر چکا ہے لیکن اس معاہدے کی ذلت کو برداشت کرنے کے اسباب بھی سب کے سامنے ہیں۔ پھر اس معاہدے کے بعد ایسا نہیں ہے کہ امریکہ، مغرب اور ان کے پروردہ ادارے خاموشی سے بیٹھ گئے ہوں، بلکہ وہ مستقل کسی نہ کسی بات کا ’ایشو‘ بنا کر امارتِ اسلامیہ پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ پھر سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امارتِ اسلامیہ افغانستان خون اور جنگ کے ذریعے حاکم بنی ہے اور اسے متمسک فی الدین مجاہد عوام کی تائید حاصل ہے۔

4 جمہوریت و انتخابات کے متعلق مولانا عاصم عمر کی تالیف ’ادیان کی جنگ، دینِ اسلام یا دینِ جمہوریت‘ اور آئینِ پاکستان کے شرعی محاکمہ پر مشتمل فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کی کتاب ’سپیدۂ سحر اور ٹمٹماتا چراغ‘، نیز ادارہ السحاب برِّ صغیر کی چار حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم ’پیغامِ اسلام‘ دیکھی جا سکتی ہیں۔

Previous Post

خیالات کا ماہنامچہ | اگست ۲۰۲۰ء

Next Post

بیت المقدس کے کھونے کا سبب کون؟

Related Posts

بائیکاٹ انکل اور امریکہ
عالمی منظر نامہ

بائیکاٹ انکل اور امریکہ

3 جولائی 2026
کس کی جان گئی……
عالمی منظر نامہ

کس کی جان گئی……

3 جولائی 2026
اخباری کالموں کا جائزہ | اگست ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | جون و جولائی ۲۰۲۶ء

3 جولائی 2026
عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد
عالمی منظر نامہ

عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد

25 مئی 2026
فساد فی الارض
عالمی منظر نامہ

فساد فی الارض

1 مئی 2026
ایران پر امریکہ و اسرائیل  کا مشترکہ حملہ اور دنیا کے بدلتے حالات
عالمی منظر نامہ

ایران پر امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ حملہ اور دنیا کے بدلتے حالات

8 مارچ 2026
Next Post

بیت المقدس کے کھونے کا سبب کون؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version