نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home …ہند ہے سارا میرا!

مسلمانو! سنبھل جاؤ، سنبھل جانے کا وقت آیا!

by راشد دہلوی
in ستمبر 2020, …ہند ہے سارا میرا!
0

وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ؀ (سورۃ البقرہ: ۲۵۱)

’’ اور اگر (اس طریقے سے) اللہ ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ تو تمام جہانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے(کہ فتنہ اور فساد رفع کرنے کے لیے جہاد کی اجازت دی)۔‘‘

ہندوستان میں آبادی کا وہ با اثر طبقہ جو ملک کی ہندو آبادی کی رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی تصورات پھیلانے میں پوری طرح سر گرم ہے ۔ اس طبقے نے اقتدار ملنے کے بعد میڈیا، پبلک میٹنگز (عوامی ملاقاتوں) ، پالیسیوں اور تقریروں کے ذریعے ملک کی ہندو اکثریت کے دلوں میں اسلام اور مسلمان سے نفرت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے اور انھیں اپنے مقصد کے لیے اٹھا کھڑا کیا ہے۔ ہندوستان میں امن و انصاف کے قیام کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایسے عناصر سے نمٹا جائے جو انسانیت کے دشمن ہیں۔ یہ لوگ اپنے کفریہ و شرکیہ عقائد و جاہلیت پر مبنی قوانین و نظام کی راہ میں سب سے بڑا خطرہ اسلام کو سمجھتے ہیں ۔ یہ لوگ انسانوں کو انسانوں ہی کا غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ ظالم ہندوستان میں بسنے والےلوگوں کے حقیقی دشمن ہیں جو عوام الناس کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھتے ہیں اور پوری زندگی انھیں انسان کے بنائے ہوئے جھوٹے و فریبی دین و نظام کا پابند رکھتے ہیں۔یہ لوگ حقیقت میں شیطان کے مدد گا ر ہیں، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ انسانوں کو دنیا و آخرت میں رسوا کر کے جہنم میں دھکیلنا ہے۔ یہ لوگ اللہ کے باغی و دشمن ہیں جو شیطان کو اس کا مشن پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

موجودہ دور میں ہندوستان میں ایسی شیطانی قوتیں اقتدار پر قابض ہیں جن کی آنکھوں میں اسلام کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ جسے وہ ایک باہر سے آیا ہوا پرایا دین کہتے ہیں اور ایک لمحہ بھی اسے برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ ملک میں اصل قوت و طاقت انھی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جسے وہ اسلام کا چہرہ مسخ کرنے اور اس کی اشاعت میں بادھا (رکاوٹ) ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔یہ لوگ بھلا یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ ایسے دین کی دعوت دی جائے یا اس کے لیے مہم چلائی جائے جو ان کے جھوٹ و فریب کا علاج ہو؟

یقیناً مسلمان ، ہندوستان میں اسلام کی بہاریں دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کا مقصدِ حیات ہے۔ لیکن اگر طریقۂ کار وہ اپنایا گیا جو نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں ، تو سوائے وقت کی بربادی کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ مندرجہ ذیل نکات زیرِ بحث لانا چاہوں گا۔

پہلی بات یہ کہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار میں تبدیلی کے نتیجے میں ہماری مشکلات حل ہوسکتی ہیں تو ہندوستان میں اقتدار بدلتے ہی رہے ہیں لیکن مسلمانو ں کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والے کانگریس یا کسی دوسری سیکولر جماعت کو اپنی نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ کانگریس یا کسی دوسری سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی کچھ وقت کے لیے تو سکون ہوتا ہے لیکن ان فرقہ پرستوں کی تیاری، نفرت، بغض اور نظریات میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آتی اور نہ ہی انھیں لگام دی جاتی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ لوگ اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں ، انھوں نے موقع ملنے پر مسلمانوں کو ہمیشہ ڈسا ہے اور اپنے اسلام مخالف پراپیگنڈے سے یہ باز نہیں آئے ہیں۔ یہ اپنی پوری تیاری رکھتے ہیں اور جوں ہی انھیں موقع ملتا ہے اقتدار سنبھالنے کا تو یہ اقتدار میں آکر تباہی پھیر دیتے ہیں۔لہٰذا جب یہ سیاسی جمہوری نظام ہمارا نجات دہندہ نہیں بن سکتا تو کیوں ہم اس سے آس لگائیں اور اسے تقویت دینے میں اپنی دنیا و آخرت کو برباد کریں؟

دوسرا نکتہ میں یہ بیان کرنا چاہوں گا کہ ہمارے کچھ مخلص برادرانِ وطن یہ سمجھتے ہیں کہ ظلم و ستم سہتے ہوئے اگر ہم اپنے اچھے اخلاق و عمل پر ڈٹ جائیں اور اسلام کا صحیح تصور پیش کریں تو رائے عامہ ہمارے حق میں تبدیل ہوسکتی ہے اورہم ان فرقہ پرستوں کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں۔ دنیا کی مہذب سے مہذب آبادی اگر یہ چاہے کہ بدون حکومت و سلطنت ، بدون دبدبہ و سطوت ان مجرموں کو روک سکے تو یہ نا ممکن ہے۔ نصیحت بے شک مؤثر ہے لیکن صرف سلیم طبیعتوں کے لیے، ہٹ دھرم طبیعتیں کبھی اثر قبول نہیں کرتیں۔ ہزار وعظ بھی وہ کام نہیں کرسکتے جو ایک شاہی فرمان انجام دے سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کسی کی اصلاح تلوار کے ذریعے لکھی ہے تو کسی کی قرآن کے ذریعے۔ ہندوستان میں بگڑتی صورتِ حال سے مسلمان پریشان ہیں اور یہ اضطرابی صورت دن پر دن بڑھ رہی ہے ۔ مسلمانوں کو اپنے دشمنوں سے خوب چوکنا و ہوشیار رہنا ہوگا کیوں کہ یہ وہ طبقہ ہے جو روئے زمین پر شر و فساد پھیلانے کا سبب بنتا ہے جس کا علاج قرآن نے واضح طور پر جہاد بتایا ہے۔

ہمارے پیارے نبیﷺ سے اچھا داعی اس دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا، صحابہ کی جماعت سے اچھا رول ماڈل ہمیں کہیں نہیں مل سکتا تو کیا ان کا بھی یہی طریقہ تھا کہ سرکشوں کو کھلے سانڈ کی طرح چھوڑ دیں ؟ ہمارے نبیﷺ نے پہلے ان سرکشوں کو ختم کیا پھر کہیں جاکر اسلامی حکومت کا قیام ، امن و سکون، عدل و انصاف قائم ہوا۔ یہ ہے صحیح طریقہ دعوت کا اور اللہ کے باغیوں کو ختم کرنے کا ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمان کمزور ہیں تو آپ اپنے آپ کو ہر لحاظ سے قوی کریں، اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت فرمائیں گے۔ پھر آپ یہ سوچیے کے جس ملک میں آپ اسلام کی دعوت کی بات کرتے ہیں وہاں صدیوں پہلے اسلام کی بہاریں کس طرح آئی تھیں؟ ہندوستان میں پہلے کفر کی شان و شوکت کو توڑا گیا، اس حکومت کو ختم کیا گیا جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ تھی پھر اسلامی حکومت کو نافذ کیا گیا۔ لیکن اگرآپ یہ کہیں کہ آج تو ہندوستان میں جمہوریت قائم ہے کسی خاص قوم کی حکومت تونہیں ، جو چاہے الیکشن میں حصہ لے اور حکومت بنائے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ بھئی! ہم اقلیت ہیں ہم کیسے حکومت بنا سکتے ہیں؟اور ہمارے پاس ایسی کیا چیزاور کون سی ایسی قوت اور طاقت ہے جسے دیکھ کر غیر مسلم ہمارے ساتھ ہونا چاہیں گے؟ ہم نے یہ مشاہدہ بھی کیاہے کہ ہندوستان میں مغلوب رہ کر ہمارے مسلمان بھائی خود غیر مسلموں کے نظام و قوانین سے اتنے متاثر ہیں کہ وہ خود بھی شاید ہی کسی دوسرے نظام کا سوچیں۔ اگر ہم اسلام کی عملی مثال پیش کر سکیں تو ان شاء اللہ مسلمان تو کیا ، غیر مسلم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اس کے لیے ہمیں ایک ہاتھ میں تلوار تو دوسرے ہاتھ میں قرآن اٹھانا ہوگاکیوں کہ کفار کی شان و شوکت، نظام و حکومت کو توڑے بغیر اسلام کو رائج نہیں کیا جا سکتا ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّنَهَارًا فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَاۗءِيْٓ اِلَّا فِرَارًا۝ وَاِنِّىْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَهُمْ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا۝ ( سورۃ نوح:۵، ۶ )

’’(جب لوگوں نے نہ مانا تو نوح علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ) اے رب! میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا،لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گریز کرتے رہے۔جب میں نے ان کو بلایا کہ توبہ کرو اور تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لیے، اَڑ گئے اور بڑا غرور کیا۔‘‘

انبیا ء اللہ ایک مدّتِ مدید نہایت ملاطفت اور نرمی سے ہٹ دھرم طبیعتوں کے مالک ان بدبختوں و بدنصیبوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے لیکن وہ دور ہی بھاگتے رہے۔ یہ سرکش لوگ انبیاءاللہ اور ان کے اصحاب کی تکلیف و تعذیب پر تل گئے۔ پھر اللہ رب العزت کے عذاب نے ان سرکشوں ، فسادیوں کو آن پکڑا۔

قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ(سورۃ التوبہ: ۱۴)

’’ان سے خوب لڑو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب میں ڈالے گا۔‘‘

وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ يُّصِيْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖٓ اَوْ بِاَيْدِيْنَا (سورۃ التوبہ : ۵۲)

’’ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ یا تو خود تمہارے اوپر عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں عذاب دلوائے۔‘‘

اے میری محبوب قوم! وہ (اللہ) ، جو ہمارا رب ہے جس نے ہمیں جینے کے ڈھنگ سکھائے ، وہ جو ہمیں بتلاتا ہے کہ کیسے ان سرکشوں کا سر کچلا جائے، اگر ہم نے اس رب کی اطاعت کی بجائے اپنی ناقص عقلوں پر بھروسہ کیا اور اپنے رب پر توکل نہ کیا تو پھر ہمیں ظالموں سے کون بچا سکتا ہے؟ کون ہے جو ہماری مدد و نصرت کر سکتا ہے سوائے اللہ کے؟ اور اللہ پاک ہی ہے جو ہمارے ہاتھوں سے ان ظالموں کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔

جہاد و قتال ہی ہے جو ظالموں، ہٹ دھرموں اور سرکشوں کو ختم کر کے بنی نوع انسان کے لیے اپنے حقیقی رب کو پہچاننے کا راستہ صاف کر تاہے ۔آپ ذرا غور کیجیے کہ اگر اسلامی نظام قائم ہو تو حکومت کی طرف سے، داعیان کی طرف سے بہترین طریقے سے اسلام کی دعوت دی جائے گی اور جب اسلام کا عدل والا نظام قائم ہوگا تو وہ خود عوام الناس کو متاثر کرے گا، لیکن جب نہ حکومت آپ کی ہو اور نہ داعیان اس طرح کھل کر دعوت دے سکتے ہوں تو پھر اسلام کا صحیح چہرہ لوگوں کے سامنے نہیں لایا جا سکتا۔ انسانوں کے ساتھ بھلائی کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں اسلام کے دائرے میں لایا جائے۔ حقیقی معنوں میں غیر مسلموں سےہمدردی کا تقاضا ہےکہ انھیں شرک و کفر کی گندگی سے نکال کر اسلام جیسے پاک صاف دین سے متعارف کرایا جائے تاکہ یہ لوگ جن عقائد و اعمال کی وجہ سے جہنم کے مستحق بنے جا رہے ہیں، پھر اپنے اصلی رب کو پہچان کر جنت کے حق دار بن جائیں۔

ایک زمانے میں ایک افغانی مجاہد کماندان ملاقات سے ہوئی جنھوں نے ہمیں بتایا کہ جنگ کے ابتدائی دور میں ہمارے پاس اسلحہ کی کمی تھی اور ہمارے ایک ساتھی کے پاس تھری ناٹ تھری (نان آٹومیٹک) رائفل تھی جس کے میگزین میں ساری گولیاں خراب تھیں۔ باوجود اس کے، اس مردِ مومن نے اپنے رب سے یہ دعا کی کہ یا رب! میرے پاس جو وسائل ہیں وہ میں تیرے دین کی خاطر لے آیا ہوں، انھیں قبول فرما ! اے میرے رب! مجھے پیچھے رہنے والوں میں سے مجھے نہ بنائیے گا ۔عقل محوِ حیرت ہےکہ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی تو دوسری طرف گولیاں ، وہ بھی خراب …… مگر اپنے رب پر بھروسہ و توکل زبردست ہے۔ یہ اہلِ عزیمت اپنے دشمنوں کے سامنے ڈٹ گئے اور اس رائفل ایک گولی بھی ضائع نہیں گئی ، رائفل کی ساری گولیاں دشمن کے گھمنڈ و غرور کو چکنا چور کرتی دشمن کے سینوں میں پیوست ہو گئیں۔

ذرا آپ اس ننھی سی چڑیا کے جذبے کا اندازہ کریں جو اپنی چونچ میں پانی کے قطرے بھر کر آتشِ نمرود کو بجھانے چلی تھی!!

خراب گولیوں والی بندوق اور ایک بوند پانی!!!!یہ سب اسباب ہیں جن کے وہ مکلف تھے باقی فتح و شکست تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا نے نمرود کا حال بھی دیکھا اور اپنے آپ کو سپر پاور کہنے والے امریکہ کی مٹی پلید ہوتے ہوئے بھی دیکھ لی ہے اور انھیں بھی دیکھ لیا جو اپنا کام کر گئے، حشر کے دن کے لیے اپنا سرمایہ سمیٹ لے گئے ۔ شاید فرشتے بھی ایسے سرفروشوں کی ہمت و جذبے پر رشک کرتے ہوں گے۔ مگر ہم! ہم تو بچاؤ والے راستے کی تلاش میں سرگرداں ہی رہ گئے۔ شاید فرشتے ہماری کم ہمتی پر حیرت و افسوس کرتے ہوں گے۔ہمیں بھی موجود طاقت و وسائل کےساتھ ہی اللہ پر پورا یقین رکھتے ہوئے اپنا کام کرنا ہے۔

آج جب ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں پر شب و روز ٹوٹنے والے مصائب و مشکلات پر نظر ڈالی جائے تو یہ سبب معلوم ہوتا ہے کہ امت نے اسلام کی حکمرانی سے منہ موڑ کر کفار اور ان کے افکار و نظام، قوانین، سیاسی و معاشی نظام کی طرف توجہ کر رکھی ہے، کیوں کہ ہم اکثر یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ مسلمان کبھی ہندوستان کی متعصب عدالتوں سے امید رکھتے ہیں تو کبھی کسی سیکولر سیاسی جماعت کی طرف آس لگائے دیکھ رہے ہوتے ہیں تو کبھی کچھ سمجھ میں نہ آنے کی صورت میں ہم ہندو مسلم بھائی بھائی کے نعرے لگاتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔ بے شک مسلمان ہندوؤں کے ساتھ صدیوں رہے ہیں ، لیکن حاکم بن کر، محکوم بن کر نہیں اور تب ایسا عدل و انصاف قائم تھا جس کے تحت سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو ان حقوق دیے جاتے تھے، جبکہ آج ایسا بالکل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى ؁(سورۃ طہ : ۱۲۴)

’’اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے‘‘۔

اس آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’یعنی (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) جو شخص میرے حکم کی مخالفت کرے، اس شریعت کو فراموش کرے جو میں نے اپنے رسول پر نازل کی، اس سے منہ پھیرے، اسے بھلا دے اور اسے چھوڑ کر دوسرے طریقوں کو اپنالے (تو اس کی زندگی تنگ ہو جاتی ہے) اور زندگی تنگ ہوجانے کا معنی یہ ہے کہ اسے اطمینان قلب نصیب نہیں ہوتا اور اس کے دل میں کشادگی نہیں ہوتی بلکہ گمراہی میں گرفتار رہنے کی وجہ سے اس کا دل تنگ ہو جاتا ہے، گرچہ بظاہر وہ تنعم میں رہے، جو چاہے پہنے، جو چاہے کھائے، جہاں چاہے رہے، مگر جب تک اس کا دل یقین و ہدایت کی منزل تک نہیں پہنچتا تب تک وہ حیرت و اضطراب، تنگی و عذاب اور شکوک و شبہات میں پھنسا رہتا ہے۔ زندگی تنگ ہونے کا یہی مطلب ہے۔

یہ بدحالی و عذاب جس طرح انفرادی طور پر حق سے منہ پھیرنے والوں کا مقدر بنتا ہے اسی طرح معاشرے اور حکومتیں اگر حق سے منہ پھیریں تو ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب زمین و آسمان کے خالق اور علم الغیب کے مالک کے نازل کردہ نظام کو چھوڑ کر لاعلم و جاہل اور شرک و کفر میں ڈوبے انسانوں کے قوانین و نظام کو رائج کیا جائے گا، اس کی اتباع کی جائے گی تو فساد ہی مچے گا۔‘‘

ہر مخلص مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں لاپرواہی نہ برتے۔ اور اس پر لازم ہے کہ شریعت کے نفاذ کے لیے وہ اپنی توجہ و صلاحیتوں کو پوری طرح دین کے نفاذ کے لیے مرکوز کر دے۔ نفاذِ شریعت اور حاکمیت دین کا معرکہ ہی عصرِ حاضر کا اہم ترین معرکہ ہے جسے ہم دنیا بھر کے علاوہ کشمیر میں بھی اللہ کے شیروں اور بزدل ہندی فوج کے درمیان بپا دیکھ سکتے ہیں۔

اے ہندوستان میں بسنے والے میرے نوجوان ساتھیو! آئیے ! ہم ایک بار پھر اس بات کا تہیہ کریں کہ ہم اس عظیم معرکہ میں شمولیت اختیار کر کے مجاہدین کو تقویت دیں گے۔ آئیے ! ہم ایک بار پھر اپنے سروں پر کفن باندھ کر یہ قسم اٹھائیں کہ ہمارےجسموں سے خون کا آخری قطرہ تو بہہ جائے گالیکن شریعت یا شہادت کے نعرے کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔

اے میرے عزیزو! شاید یہ ہندوظالم حکمران و فوج بھول چکے ہیں کہ ہم وہ ہیں جنھوں نے ہندوستان کی تاریخ میں بہادری کی داستانیں رقم کی تھیں۔ یہ ظالم لوگ شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم اپنے رب کے دین کا سودا ، ناپاک و پلید کفر میں ڈوبے نظام سے کر لیں گے۔ نہیں ! بالکل نہیں! ابھی وقت باقی ہے! ابھی ہماری سانسیں چل رہی ہیں! ابھی ہماری رگوں میں خون دوڑ رہا ہے! ابھی ہمارے ہاتھ مفلوج نہیں ہوئے ہیں! ابھی تو وقتِ قتال ہے۔ بہت ظلم کرچکے تم ہماری امت پر……بہت ظلم سہہ چکے ہم …… اب تمہیں قاسم کی للکار سنائی دے گی… اب تمہیں غوری و غزنوی کی تلواریں یاد آئیں گی……اب تم اس دھرتی پر صرف اور صرف اسلام کے قانون کو نافذ دیکھو گے،ان شاء اللہ۔

٭٭٭٭٭

Previous Post

آپ کے کتنے ’بابا‘ جنت میں ہیں؟

Next Post

کشمیر پکار رہا ہے!

Related Posts

رمضان المبارک میں بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار
…ہند ہے سارا میرا!

رمضان المبارک میں بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار

1 مئی 2026
غیرت کا تقاضا ہے کہ عزت نہ ہو نیلام
…ہند ہے سارا میرا!

غیرت کا تقاضا ہے کہ عزت نہ ہو نیلام

1 مئی 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں!
…ہند ہے سارا میرا!

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں!

4 نومبر 2025
حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | دوسری قسط
…ہند ہے سارا میرا!

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | دوسری قسط

13 اگست 2025
حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی
…ہند ہے سارا میرا!

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی

13 جولائی 2025
ثكلتنا أمهاتنا إن لم ننصر رسول اللہ…
…ہند ہے سارا میرا!

ثكلتنا أمهاتنا إن لم ننصر رسول اللہ…

7 جون 2025
Next Post

کشمیر پکار رہا ہے!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version