الحب فی اللہ اور البغض فی اللہ، بندۂ مومن کے بنیادی عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے رشتے ہیں، بڑے مضبوط، بہت قریبی۔ خون کا رشتہ، قوم و قبیلے کا رشتہ، وطن کا رشتہ وغیرہ۔ یہ سب رشتے اپنے ساتھ حمیت و غیرت بھی لیے ہوئے ہوتے ہیں، ان سب تعلقات و رشتہ داریوں کے سبب انسان محبت بھی کرتا ہے اور نفرت بھی۔ ان سبھی رشتوں کو اللہ کے دین نے بھی قائم رکھا ہے، لیکن دینُ اللہ پر ایمان لے آنے کے بعد محبت اور بغض دونوں کا معیار و مدار ایمان قرار دے دیا گیا ہے۔ ہر تعلق اور ہر رشتے سے بڑھ کر ایمان کا رشتہ ہے۔ قوم و وطن و قبیلے وغیرہ تو کہیں بعد میں آتے ہیں، سگے ماں باپ، اولاد، بیوی و شوہر سے تعلق و محبت سے بھی پہلے ایمان کا تعلق و رشتہ ہے۔
ہر چیز کو ایمان کے مطابق، اسلام کی رُو سے، شریعت کی کسوٹی پر کسا اور پرکھا جائے گا۔
شریعتِ محمدی (علی صاحبھا ألف صلاۃ وسلام) دعووں کا نام نہیں، حقیقت و عمل کا نام ہے۔ دِلوں کا حال تو اللہ جانتا ہے، لیکن ایک انسان کسی بھی دوسرے انسان سے تعامل اس کے عمل و رویے کے مطابق کرتا ہے۔ دنیا کا ہر قانون و ضابطہ آپ کے عمل کو دیکھتا ہے، آپ کے دعوے اور نیت کو نہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی چوک پر سرخ اشارہ توڑنے پر آپ کو قانون کا سامنا کرنا ہو گا، اچھے شہری ہونے کا دعویٰ یا دل میں موجود کوئی اچھی نیت وہاں آپ کو قانون کے ردِ عمل سے نہیں بچائے گی۔
اٹھتر برس قبل میرا خطۂ زمین تو آزاد ہوا، دعویٰ بھی نظامِ لا الٰہ الا اللہ کے قیام کا ہوا، لیکن میرا وہ وطن کہیں کھو گیا۔ اقبالؒ کو جو وطن مطلوب تھا اور بانیانِ پاکستان نے جس کی خاطر محنتیں کی تھیں، وہ وطن کہیں گم ہو گیا۔ اس وطن کے مقتدر لوگوں نے ابتدا ہی میں امریکی بلاک کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، اپنا وطن بنگالیوں سے عصبیت کی بنا پر دو لخت کیا، تحریکِ ختم نبوت سے ڈی چوک و مرید کے تک اپنے ہی لوگوں کا خون بہایا، وار آن ٹیرر کا حصہ بننا قبول کیا، بورڈ آف پیس میں بیٹھے، امریکی مفاد کی جنگ میں ہزاروں جوانوں کو جھونکا، امریکی ایما و مفاد پر پھر پڑوسی ملک پر فضائی حملے کیے اور مجموعاً پڑوسی ملک کے سیکڑوں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مردوں کا قتلِ عام کیا۔
یہ پڑوسی ملک کون سا ہے؟
افغانستان!
اس ملک میں میرے وطن کے بر خلاف صرف نظامِ اسلامی کا دعویٰ نہیں کیا گیا، یہاں اسلام نافذ کیا گیا، حدود اللہ جاری ہوئیں، نظامِ صلاۃ و زکاۃ کی اقامت ہوئی، امر بالمعروف و نھی عن المنکر ہوا، حکمِ قصاص جاری ہوا۔ دنیا کا واحد خطہ جہاں اسلام نافذ ہے اس کے خلاف ”مکرر“ بد مست امریکی ایما و آشیر باد کے ساتھ چڑھ دوڑا گیا اور وہی ایک پرانا گھسا پٹا الزام ”بھارتی ایجنٹ“ ہونے کا لگایا گیا، وہی الزام جو محترمہ فاطمہ جناح پر اس زمانے کی اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل ایوب خان نے لگایا تھا۔
افغانوں کو کچرا اٹھانے والا اور تندوروں پر روٹیاں لگانے کا طعنہ دیا گیا، حالانکہ کسبِ حلال میں کیسی عار اور مزدوری پر عار دلانا خود فعلِ شرمناک۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا ابو لہب مردود قرار پایا اور حبشہ کے سیاہ رنگ، موٹے ہونٹوں اور موٹی ناک والے بلالؓ کو اور فارس کے سلمانؓ کو گلے سے لگایا گیا۔ ہم نے روایات و تاریخ میں ہمیشہ پڑھا قریشِ مکہ، یعنی قریشِ مکہ کا دوسرا معنیٰ کافر قرار پایا، حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود قریشی ہیں، لیکن اس قوم کی پہچان عداوتِ رسول ﷺ قرار پائی۔ قریش ”فلیس منا“ اور ”سلمان منا اھل البیت“ کے مصداق ٹھہرے۔
ہمیں تندور پر روٹیاں لگانے والا مسلمان افغان، اپنے ہم وطن امریکی اتحادی اور اسرائیلی بورڈ آف پیس میں بیٹھنے والے پاکستانی (خواہ وہ کشمیری ہو، صوبۂ سرحد کا، سندھی، بلوچ یا پنجابی) سے زیادہ محبوب ہے۔
یہ جنگ بھی دنیا میں ازل سے جاری جنگِ حق و باطل ہی کا ایک حصہ ہے، یہ جنگ کسی پنجابی اور افغان کی نہیں۔ کسی پاکستانی فوجی یا پنجابی سے ہمیں نفرت اس کے پنجابی ہونے کے سبب نہیں۔
پنجابیوں میں رائے محمد کھرل شہید جیسا مجاہدِ جہادِ آزادی 1857ء بھی ہے۔ غازی علم دین شہید بھی، عامر چیمہ شہید بھی اور ممتاز قادری شہید بھی۔ یہ جنگ ہر جنگ کی طرح حق و باطل کی جنگ ہے۔
پھر کسی افغان سے محبت ہمیں اگر ہے تو اس کے اسلام اور اقامتِ نظامِ اسلامی کے سبب، ملا عمر و جلال الدین حقانی کے ایمانی مواقف کے سبب۔ افغانوں سے محض کسی افغانیت کے سبب محبت ہو تو کل کی بات ہے کہ افغانوں ہی میں سے کچھ پنجابی سکھ کافر رنجیت سنگھ کو کابل سے جزیہ دیا کرتے تھے، حاکمِ کابل نذرانے میں ہر سال ایک گھوڑا رنجیت سنگھ کو پیش کیا کرتا تھا۔
افغاں سے محبت، مِری ایماں کے لیے ہے… اور پنجابیوں سے محبت بھی مِری ایمان ہی کی خاطر ہے اور نفرت کا معیار بھی یہی ایمان ہے۔ پھر اگر افغان اشرف غنی ہو تو ہمیں اس سے نفرت ہے اور ننگِ دین و ملت باجوہ و عاصم منیر ہوں تو وہ بھی ویسی ہی نفرت کے مستحق ہیں۔
جیسے افغانستان بھارت کا ایجنٹ نہیں ہے ویسے ہی پاکستان بھی اسرائیلِ ثانی نہیں ہے۔ مومن افغان ہو یا پنجابی عدل کا دامن کبھی نہیں چھوڑتا۔ دونوں کو اللہ اپنی شریعت کا اتباع اور شریعت کے نفاذ کا حکم دے رہا ہے۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ۡ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (سورۃ المآئدۃ: ۸)
’’اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کیا کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرو، یقین جانو کہ اللہ تمہارے کاموں سے خوب واقف ہے۔‘‘
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



