پورے کمرے میں باتوں اور سرگوشیوں کی ایسی بھنبھناہٹ پھیلی ہوئی تھی جیسے بہت سی مکھیاں جمع ہو کر کسی میٹھی چیز پر منڈلا رہی ہوں۔’’ارے دھاندلی ہے سراسر……‘‘، آخر کسی کونے سے نوجوان پارٹی سے تعلق رکھنے والی کوئی نوجوان آواز تڑپ کر بلند ہوئی، اور پھر یکے بعد دیگرے وہ تمام سرگوشیاں جو اب تک ہلکے سروں میں، نظروں کے تبادلوں اور چہروں کے زاویوں تک محدود تھیں، آہستہ آہستہ بلند ہوتے احتجاج میں ڈھلنا شروع ہو گئیں۔
’خاتون پارٹی کا تو ووٹ بینک ہی اتنا کمزور ہے……بھلا دو دن کی الیکشن مہم چلا کر وہ یہ الیکشن جیت سکتی ہیں کیا……؟‘
’…… صاف نظر آ رہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے……‘
’یہ الیکشن نہیں……فراڈ ہوا ہے، ڈرامہ ہے……‘
’ارے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں……؟ نبیلہ آپی کا جیتنا تو ناممکن ہے……ناممکن……!‘…… کمرہ کی فضا بھانت بھانت کی آوازوں سے گرم ہو رہی تھی۔نقّار خانے میں ایک طرف حیرت و صدمے میں ڈوبی آوازیں تھیں، تو دوسری طرف خواتین کی جانب ہادیہ، جویریہ، فاطمہ اور بینش کے کھِلے کھِلے چہروں پرحیرت زدہ مسکراہٹیں اور مبارکبادی پیغامات تھے۔ فاطمہ دھڑا دھڑ اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل سے کبھی ہادیہ اور کبھی جویریہ کے ساتھ، وکٹری کا نشان بنائے اپنی سیلفیاں لے رہی تھی۔ اسے پہلی فرصت میں یہ ساری تصویریں فیس بک پر اپ لوڈ کرنا تھیں۔ ’’تھری چیئرز فار دا وِننگ پارٹی……!‘‘(Three cheers for the winning party!)
ہادیہ کی خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی، وہ نبیلہ کے کندھے سے لٹکی مارے خوشی کے رو دینے کو تھی،’اسے کہتے ہیں ہمتِ عورتاں، مددِ خدا……‘۔
’’ناممکن……!‘‘، آخر کار عمیر کا سکتہ ٹوٹا اور وہ حیرت و صدمے کے عالم میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ، اس کے کھڑے ہوتے ہی نوجوان پارٹی کی احتجاجی صدائیں مزید بلند ہو گئیں۔ ’’ایسا نہیں ہو سکتا……! یہ کیسے ممکن ہے……؟!‘‘، اسے اب تک اپنی ناکامی اور نبیلہ کی جیت پر یقین ہی نہ آ رہا تھا۔
’’یہ بالکل ناممکن ہے…… یقیناً یہاں کوئی فراڈ ہوا ہے……‘‘، زوار بھی عمیر کی تقلید میں اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دونوں یوں حیران پریشان نظر آ رہے تھے گویا ہارنا اور وہ بھی نبیلہ کے ہاتھوں، ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ تقدیر کے اس عجیب مذاق پر وہ دونوں ہی حیران و ششدر تھے۔ ابھی عمیر مزید کچھ کہنے، کوئی احتجاج ریکارڈ کروانے ، نتائج کے نا انصافی پر مبنی ہونے اور ناممکنات میں شامل ہونے کے حوالے سے کچھ کہنے کے لیے اپنا منہ کھول ہی رہا تھا، کہ کمرے میں ایک نئی آواز بلند ہوئی جس نے بقیہ سب آوازوں کا گلا گھونٹ دیا۔
’’نامنظور……!! ‘‘، عثمان صاحب اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے کسی شیر کی طرح گرجے۔ مٹھیاں بھینچے، سرخ چہرہ لیے وہ تمام حاضرین سے مخاطب تھے۔ آنکھوں سے لپکتے غیض و غضب کے شرارے ایک کھلا چیلنج تھے کہ کسی میں جرأت ہے تو ان کی بات ردّ کر کے دکھائے، مگر سبھی کو سانپ سونگھ گیاتھا۔’’قطعی نامنظور! میں نہیں مانتا!……میں ان نتائج کو تسلیم نہیں کرتا …… ابھی ہم پر اتنا برا وقت نہیں آیا کہ ہم کل کی بچی کو اپنا سربراہ بنا کر سر پر بٹھا لیں‘‘۔
_______________________
’……آپ کسی کو دباتے رہیں…دباتے رہیں اور وہ دبتا رہے……مگر آخر کہاں تک دبائیں گے؟ ایک وقت آتا ہے کہ دبنے والا مجبور ہو جاتا ہے کہ پلٹ کر جواب دے ……اپنا دفاع کرے……دبانے والے کو دھکّا دے کر پرے کر دے!……کوئی مکّا دکھائے تو جواباً وہ بھی گھونسا رسید کرے……! حد ہوتی ہے میل شاونزم1 کی بھی……! پہلے میں سمجھتی تھی کہ آپ نبیلہ کی مخالفت کسی اصول قاعدے، کسی دینی بنیاد پر کرتے ہیں……مگر اب معلوم ہوا کہ یہ تو محض ہٹ دھرمی ہے، عورتوں اور لڑکیوں سے آپ کی نفرت ہے اور آپ کے اندر چھپا یہ خوف ہے کہ کہیں عورتیں اپنے حقوق مانگ کر آپ کے برابر نہ آ جائیں…… جس کی وجہ سے آپ مسلسل نبیلہ کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں……‘۔
یا للعجب! آج حیرت در حیرت کا دن تھا۔ عثمان صاحب کے طیش کا یہ جذباتی مگر منہ توڑ جواب دینے والی نبیلہ نہیں تھی……، نہ ہی فاطمہ، جویریہ یا ہادیہ………۔ بلکہ اس گرجتے، دھاڑتے، غضب ناک شیر کو خاموش کرانے والی بینش تھی۔ وہ ایک ہاتھ سے اپنی چادر سنبھالے دیگر خواتین کے بیچوں بیچ کھڑی تھی ، ہر قسم کے ڈر اور جھجک کو ایک طرف رکھ کے عثمان صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہی تھی۔اگر عثمان صاحب کے غضب ناک اور شدت آمیز انداز میں نتائج کو ردّ کرنے نے سب کو حیران کیا تھا، تو بینش کی جذباتی تقریر پر سب ساکت و صامت بیٹھے تھے۔ بینش بھی جیسے ہر قسم کے اندیشے اور مصلحت سے بے نیاز ہو کر بے خوفی سے بول رہی تھی۔ اس کا کانپتا لہجہ گو کہ آنسوؤں سے رندھا ہوا تھا، مگراس کے الفاظ زہر میں بجھے ہوئے تھے۔ جیٹھوں کی ناراضگی، جاوید صاحب کی خفگی، ابّا جی کا رعب و دبدبہ، جیٹھانیوں کے مزاج…… اس وقت وہ ہر خوف سے آزاد تھی۔ کسی کو برا لگتا ہے ……تو لگے! لیکن یہ تو وہ آئینہ تھا، جس میں ہاشمی ہاؤس کے مردوں کی کریہہ صورت جلد یا بدیر کسی نہ کسی نے تو دکھانی ہی تھی۔ تو آج کیوں نہیں……؟ابھی کیوں نہیں……؟ اور وہ ہی کیوں نہ ہو جائے یہ آئینہ دکھانے والی……؟ اس کے صبر و ضبط کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا، وہ تنگ آ چکی تھی عورت کی حیثیت سے پِستے ہوئے……اب اور نہیں……!
عثمان صاحب چھوٹی بھاوج کو جواب دینے کے بجائے اس سے ہلکا سا رخ موڑے کھڑے تھے اور شکایتی نظروں سے جاوید صاحب کی جانب دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں چھپا مطالبہ جاوید صاحب صاف پڑھ سکتے تھے۔ سنبھالو اپنی بیوی کو! مگر ان کے آنکھیں دکھانے یا اشارے کرنے……کسی بھی چیز کا تو اثر نہیں ہو رہا تھا بینش پر۔ الٹا وہ تو جیسے آستینیں چڑھائے لڑاکا عورتوں کی طرح میدان میں اتری ہوئی تھی اور مرنے مارنے پر تلی ہوئی تھی۔ سارے گھر کے سامنے جاوید صاحب اپنا تماشا بنا ہوا محسوس کر رہے تھے۔ یہ تماشا ختم کرنے کی خاطر آخر وہ بینش کو خاموش کرانے اٹھ کھڑے ہوئے مگر بینش نے تو جیسے تہیہ کر لیا تھا کہ آج اپنے اندر چھپا سارا غصّہ اور کدورت نکال کر ہی دم لے گی۔
’نہیں……جاوید! نہیں……! آج آپ کچھ نہیں کہیں گے……! آج آپ مجھے نہیں سمجھائیں گے……!‘، انہیں اٹھتا دیکھ کر بینش ان کا ارادہ بھانپتے ہوئے فوراً بولی ۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے انہیں کچھ بھی کہنے سے منع کر رہی تھی، وہ ان کی مداخلت چاہتی ہی نہ تھی۔ شدتِ جذبات سے اس کی آواز رندھی ہوئی تھی، آنسو آنکھوں سے چھلکنے کو بیتاب تھے ۔ ’……آج کس برتے پر آپ اپنے بھائیوں کو درست ثابت کریں گے؟ …… کہیے! آج کیسے آپ عورتوں کی غلطی ثابت کریں گے؟ کہہ دیجیے ناں!……آج کون سا قصور گِنوائیں گے؟ آپ سب نے اکٹھے مل بیٹھ کر ہی یہ آئین بنایا تھا ناں؟ ……یہ آئین جو عورتوں کو ووٹ ڈالنے اور سیاست میں حصّہ لینے کا حق دیتا ہے، اپنی مرضی سے، کسی جبر کے بغیر ، کسی زبردستی کے بغیر آپ سب اس پر متفق ہوئے تھے…… تو اب……کیا ۲۵ میں سے ۱۴ ووٹ حاصل کرنا ہماری غلطی ہے؟ کیا سیاست میں وہ جائز حصّہ لینا جس کی آئین نے ہمیں اجازت دی ہے ……یہ ہمارا گناہ ہے؟ اگر یہی کرنا تھا……اتنے واضح نتائج کے بعد بھی عورت کی سربراہی اور اس کے حقوق کو ردّ ہی کرنا تھا……تو پہلے کیوں نہ بتا دیا کہ ہم الیکشن الیکشن صرف کھیل رہے ہیں……اور اس کھیل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں……!‘……آنسو اس کے گالوں پر بہہ نکلے، بہتے آنسؤوں اور کانپتے جسم کے ساتھ اس کے لیے بات کرنا دشوار ہو رہا تھا ۔ کسی کا نرم ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس ہوا تو بینش نے چونک کر دیکھا، نبیلہ اس کے ساتھ کھڑی تھی، اسے سہارا دیے ہوئے ۔ اس کی ہمدردی آمیز مسکراہٹ سے تقویت پا کر بینش نے گالوں پر بہتے آنسو رگڑ کر مٹا دیے، وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی مگر نبیلہ کے اشارے پر خاموش ہو گئی، یہ میدان اب نبیلہ نے سنبھال لیا تھا۔
’عورت ہونا ہمارا گناہ ہے……کمزور مخلوق ہونا ہماری غلطی ہے! جائز اور فطری خواہشات کا دل میں پیدا ہونا…… یہی جرم ہے ناں ہمارا……؟……بتائیے!آج کس کے منہ پر تھپڑ ماریں گے آپ؟……آج کیسے آپ ہماری آواز دبائیں گے؟ کیسے ہمیں ہمارے حق سے محروم کریں گے……؟ کر لیں جو کچھ آپ کر سکتے ہیں!! مارنا ہے……مار لیں!! دبانا چاہتے ہیں ……تو دبا لیں!! مگر یہ مت سمجھیں کہ اب کسی بھی طرح، اپنی طاقت کے زور پہ آپ ہمیں خاموش کرا سکیں گے…… آپ ہمیں ہمارے حقوق سے محروم کر سکتے ہیں……آپ ڈانٹ سکتے ہیں، ……مار سکتے ہیں…… ہمیں کچل سکتے ہیں……مگر یاد رکھیے!…… اب ہماری آواز کا گلا نہیں گھونٹ سکتے……! ‘، نبیلہ دھیمے مگر سرد لہجے میں بولی ، اس کا اشارہ جس جانب تھا، وہ کم از کم کمرے میں موجود تمام مردوں کو بخوبی سمجھ آ گیا تھا۔ وہ کسی کے جواب کا انتظار کیے بغیر بینش کا ہاتھ تھامے کمرے سے نکل گئی۔ یہ گویا ایک اشارہ تھا، یکے بعد دیگرے فاطمہ، جویریہ، ہادیہ…… اور پھر ان کی دیکھا دیکھی دیگر خواتین کمرے سے نکل گئیں۔ خواتین والا حصّہ تقریباً سارا ہی خالی ہو گیا تھا۔
مردوں کی جانب بھی کچھ دیر تو لڑکوں نے انتظار کیا کہ شاید ابھی تماشا باقی ہے……مزید بھی کچھ دیکھنے کو ملے گا۔ مگر پھر ابوبکر، عثمان ، جاوید اور عمیر……چاروں کو خاموش و سنجیدہ اور گم صم بیٹھا دیکھ کر آہستہ آہستہ یہاں بھی مجمع چھٹنے لگا۔ عمیر کا اشارہ پا کر زوار بھی کمرے سے نکل گیا تھا۔نصف گھنٹے بعد ان چار کے سوا کمرا بالکل خالی ہو چکا تھا۔
’’بند کرو یہ سی سی ٹی وی کیمرے…… اور مائیکرو فون!‘‘، کافی دیر بعد یہ عثمان صاحب تھے جن کے وجود نے زندگی کا ثبوت دیا۔
’یہ انٹرنیٹ آپریٹڈ ہیں…… اوپر آفس میں جا کر کمپیوٹر سے بند کروں گا تو ہوں گے……‘، عمیر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
’انٹرنیٹ آپریٹڈ ہیں……گویا کہ تمام ریکارڈنگ براہِ راست آگے بھی پہنچ جائے گی……؟‘، آگے سے ان کی مراد شاید میڈیا اور دیگر دلچسپی لینے والے حضرات تھے۔
’نہیں……یہ ریکارڈنگ انٹرنیٹ پر موجود کلاؤڈ میں سَیو ہو گی، اور ویسے تو پاسورڈ پروٹیکٹڈ ہو گی……مگر ……ٹیکنالوجی ہر کسی کے پاس ہے، اور لوگ اس کے استعمال میں ہم سے کہیں زیادہ ماہر ہیں……اس کلاؤڈ میں سے اسے حاصل کرنا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے، اور انٹرنیٹ سے اسے کُلّی طور پہ ڈیلیٹ کرنا ……تقریباً نا ممکن ہے……!‘۔
’اب……؟‘، یہ وہ سوال تھا جو شاید کمرے میں موجود تمام نفوس کے ذہنوں میں سرِ فہرست تھا۔ مگر اسے آوازعطا کرنے والے عثمان صاحب تھے۔ وہ عثمان صاحب جو گھرانے کی عزت و توقیر کے حوالے سے بے حد حسّاس تھے، جو مزید اپنے گھرانے کا تماشا بنتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ عثمان صاحب جو انجانے میں……نہ چاہتے ہوئے……ایک بار پھر پورے گھرانے کی رسوائی کا سبب بن چکے تھے۔
جواب میں ابوبکر صاحب ایک گہرا سانس لے کر شانے اچکا کر رہ گئے۔ جاوید صاحب اپنی جگہ شرمندہ اور خاموش بیٹھے تھے۔ دونوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
’اب میرے خیال میں……مجھے تو اٹھنا چاہیے……! بہت سارے کام باقی ہیں۔ لیکن اگر آپ لوگ تھوڑا سا اپنا غصّہ اور جذبات ضبط کرنے کی جانب توجہ دیں تو شاید یہ پورے گھر کے حق میں بہتر ہو گا……‘، یہ کہتا ہوا عمیر اٹھ کھڑا ہوا۔ کمرے میں اب بس وہ تینوں باقی رہ گئے تھے۔ جاوید صاحب اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے فرش پر بچھے قالین کو گھور رہے تھے تو ابوبکر صاحب اپنی جگہ بے بسی و بے چارگی کی حالت میں بیٹھے تھے۔ عثمان صاحب کے چہرے پر پھیلی غم و غصّے کی سرخی کا کوئی علاج ان کے پاس نہیں تھا۔
’دیکھو……حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں……‘۔
_______________________
اس رات ہاشمی ہاؤس میں گنتی کے چند افراد ہی تھے جو چین کی نیند سو پائے تھے۔ ابوبکر صاحب رات کو اپنے کمرے میں داخل ہوئے تو صولت بیگم کو اپنے معمولات کی انجام دہی میں مشغول پایا۔ وہ کمرے کے ایک کونے میں رکھے صوفے پر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھی ہوئی تھیں اور اپنا قریب کا چشمہ لگائے سونے سے پہلے کے اذکار مکمل کرنے میں مشغول تھیں۔ ابوبکر صاحب ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی گھڑی اور چشمہ اتار کر سنگھار میز پر رکھا اور پیروں کو جوتوں اور جرابوں سے آزاد کر کے بیڈ پر نیم دراز ہو گئے۔ وہ بے چینی سے صولت بیگم کے فارغ ہونے کے منتظر تھے۔ آخر ضبط نہ ہو سکا تو انہیں پکار بیٹھے۔
’’صولت!……‘‘۔
صولت بیگم نے جواب میں کچھ کہے بغیر سوالیہ نظریں اٹھا کران کی جانب دیکھا۔
’’……بعد میں پڑھ لیجیے گا پلیز……ابھی میری بات سنیں!‘‘، ان کی درخواست پر صولت بیگم نے فوراً مصحف کو نشانی لگا کر بند کر دیا اور ہمہ تن ابوبکر صاحب کی جانب متوجہ ہو گئیں۔
’’……آپ سمجھاتی کیوں نہیں ہیں نبیلہ کو……!؟؟‘‘، کچھ کہنے کے لیے الفاظ تلاش کرتے ابوبکر صاحب کے منہ سے یہ جملہ بالآخر پھسل گیا تھا۔ صولت بیگم ایک گہری سانس بھر کر رہ گئیں، یہ وہ شکوہ تھا جو پچھلے چند ماہ سے وہ متواتر سننے کی عادی ہو گئی تھیں۔ اور بارہا تفصیلی وضاحتوں کے باوجود وہ اپنے آپ کو ابوبکر صاحب کی نظر میں بری الذمہ نہ کرا پائی تھیں۔ نبیلہ کب ان کے کہنے سننے میں تھی۔ اور کیا وہ پھر بھی اسے سمجھانے کی مقدور بھر کوشش نہ کرتی تھیں۔ مگر سچ ہے، اولاد کے گناہ ماں کے کھاتے میں ہی لکھے جاتے ہیں، وہ ملال سے سوچ کر رہ گئیں۔
’’…… ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کچھ سمجھتی ہی نہیں ہے ہمیں……میں باپ ہوں اس کا، عثمان چچا ہے……مگر سب کو دشمنوں کی صف میں کھڑا کر رکھا ہے اس نے!……میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنی نفرت……اتنا غصّہ ……کیسے بھر گیا ہے اس کے اندر ہمارے خلاف……ایسا کوئی برا یا امتیازی سلوک تو کبھی نہیں کیا میں نے اس کے ساتھ……آپ بتائیں…… کیا میں بیٹیوں کی پیدائش پر بھی اتنا ہی خوش نہیں ہوتا تھا جتنا بیٹوں کی……؟ ……کیا بیٹوں اور بیٹیوں کو ایک سا پیار نہیں دیا میں نے……؟‘‘، وہ فکر اور پریشانی کے عالم میں ان سے پوچھ رہے تھے۔
’’کچھ نہیں ہے ابوبکر صاحب……محض اس کے دماغ کا فتور ہے۔ ……اور باقی یہ ٹی وی ڈرامے اور جو کچھ الا بلا یہ انٹرنیٹ پر پڑھتی اور دیکھتی ہیں……اس نے دماغ خراب کر دیے ہیں ان لڑکیوں کے۔ میں تو آپ سے پچھلے چھ ماہ سے کہہ رہی ہوں جناب……کہ یہ جو بے جا آزادی کا رواج آ گیا ہے ہمارے گھر میں، یہ بالکل اچھا نہیں ہے۔ صرف لڑکیاں ہی نہیں، لڑکے بھی بگڑ رہے ہیں……وہ چونکہ تمام حرکتیں گھر سے باہر کر آتے ہیں اس لیے ہمیں ان کے بگاڑ کی خبر نہیں ہوتی……‘‘، صولت بیگم صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے تھکن آمیز لہجے میں بولیں، ان کا تو دل و ذہن اب مستقل ہی ان فکروں میں الجھا رہتا تھا۔
_______________________
’’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا بینش!……کہ تم اس طرح پورے گھر کے سامنے مجھے شرمندہ کرواؤ گی!‘‘، بتول کو گود میں لیے، جاوید صاحب دھیمی مگر سخت آواز میں بولے۔ بتول ان کے کندھے پر سر رکھے رکھے سو گئی تھی۔ ابھی وہ کچی نیند میں تھی، جب بینش کمرے سے ملحقہ باتھ روم سے برآمد ہوئی، بتول کی آنکھیں کھلتی دیکھ کر جاوید صاحب نے فوراً اسے تھپکنا شروع کر دیا، اس کی نیند سے بھری آنکھیں ایک بار پھر بند ہو گئیں۔ بینش کچھ بھی کہے بغیر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا بیٹھی ۔ اس نے کونے میں رکھا ٹونر اٹھا یا اور چند قطرے ہتھیلی پر نکال کر نرمی سے اپنے چہرے کا مساج کرنے لگی۔
’’……ایسا کیا ہو گیا تھا، کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے تم خواتین پر کہ اتنا تماشا کھڑا کرنا ضروری ہو گیا تھا……؟‘‘، اب ان کے لہجے میں طنز در آیا تھا۔ اپنے چہرے کا مساج کرتے بینش کے ہاتھ یک بیک ٹھٹکے، اس نے آئینے میں نظر آتے جاوید صاحب کے عکس کو بغور دیکھا، پھر اپنا کام جاری رکھتے ہوئے محض اتنے سے جواب پر ہی اکتفا کر لیا کہ ’’آپ نہیں سمجھیں گے، جاوید……‘‘۔
’’میں نہیں سمجھوں گا……؟ میں نہیں سمجھوں گا یا تم نہیں سمجھتیں……؟؟!…… آخر تم چاہتی کیا ہو بینش؟ میری عزت، میرے وقار کا کوئی پاس ہی نہیں ہے تمہیں! ہر روز ایک نیا جھگڑا، ایک نئی شکایت لیے تیار ہوتی ہو تم کہ یہ شخص گھر آئے تو میں اسے بتاؤں کہ تم کیسے ظالم انسان ہو جسے بیوی کا کوئی خیال نہیں!! …… تم ہی بتاؤ ایسا کون سا ظلم ڈھایا ہے میں نے تمہارے اوپر کہ تم مجھے اور میرے بھائیوں میں اور جیل سے چھٹے ہوئے بدمعاشوں میں کوئی فرق محسوس ہی نہیں کرتیں……!‘‘، جاوید مشتعل ہو کر اٹھ بیٹھا تھا۔ سوئے ہوئے بچوں کی وجہ سے اس نے بدقت تمام اپنی آواز آہستہ رکھی تھی، ورنہ اس وقت وہ شدید غصّے میں تھا۔
اس کی بات پر بینش بے ساختہ ہنس پڑی ،’’کیوں نہیں……! اتنا بڑا فرق ہے، وہ جو کچھ ہوتےہیں، ڈنکے کی چوٹ پر ہوتے ہیں……مجرم ہیں تو ڈنکے کی چوٹ پر ہیں، ساری دنیا جانتی ہے کہ مجرم ہیں……منافق نہیں ہوتے وہ……‘‘، وہ کہہ رہی تھی، اور جو کچھ وہ نہیں کہہ رہی تھی وہ بھی سورج کی طرح واضح تھا۔
’’……بکواس بند کرو بینش!! ……ابھی تک تمہارا دل نہیں بھرا……ابھی تک زہر ختم نہیں ہوا تمہارا……کیا آج شام تم نے اچھی طرح بے عزتی نہیں کروا لی میری؟ بتاؤ ……!آج کھل کر بتا ہی دو کہ کیا بگاڑا ہے عثمان بھائی نے تمہارا……اور ابوبکر بھائی نے کون سے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں تم پر……؟ میں تو ظاہر ہے کہ اس دنیا کا گھٹیا ترین شخص ہوں اور تمہارے نزدیک تو میرا سدھار ممکن بھی نہیں…… ‘‘ جاوید کھردرے اور خشک لہجے میں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
’’……ارے جاوید صاحب! آپ اپنے بھائیوں کے قصور چھوڑئیے……کیوں روایت خراب کرتے ہیں۔ آپ میرا قصور بتائیے……! ……والدین سے ملنے کی خواہش کرنا؟ ……گھر سے باہر آزاد فضا میں سانس لینے کی خواہش کرنا……؟ یہ خواہش کرنا کہ میرا شوہر مجھے گھمانے پھرانے یا شاپنگ کرانے لے جائے……؟ ……مجھے کھلا جیب خرچ دیا کرے……؟ یا یہ خواہش کرنا کہ گھر کے کاموں میں میرا کچھ ہاتھ بٹا دیا کرے؟……ارے نہیں! بلکہ ابھی تازہ ترین جرم تو یہ ہو گا ناں کہ آپ کے بھائی کو جواب کیوں دے دیا؟…… ان سے انہی کے لہجے میں بات کیوں کر ڈالی؟……‘‘، بینش جاوید کے غصّے سے ذرّہ برابر بھی متاثر ہوئے بغیر مزے سے بولی۔ اب وہ موئسچرائزنگ کریم بڑے اہتمام سے اپنے چہرے پر مَل رہی تھی۔
’’……شرم!!……شرم آنی چاہیے بینش تمہیں!!!……یہ سب کہتے ہوئے……‘‘، جاوید صاحب اس کی بات سن کر بھڑک کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دو تھپڑ لگا کر سامنے بیٹھی اس منہ پھٹ عورت کو خاموش کرا دیں۔ مگر یہ عورت ان کی بیوی بھی تھی، اور وہ جانتے تھےکہ سختی کرنے سے وہ بات سمجھنے کے بجائے ، مزید بگڑ جاتی تھی۔ پھر انہوں نے کب اپنے گھر والوں میں سے کسی بچے پر بھی کبھی ہاتھ اٹھایا تھا، بینش تو پھر ان کی بیوی تھی۔
’’……شرم مجھے نہیں آپ کو آنی چاہیے جاوید!…… مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا……جس وقت میں نے عثمان بھائی کو جواب دیا کہ اب کمرے میں جاتے ہی آپ کے ہاتھوں میری شامت ضرور آئے گی۔ ظاہر ہے بلّی کی دم پر پاؤں جو رکھ دیا میں نے…… اس کا بدلہ تو آپ کے ذریعے عثمان بھائی نے لینا ہی تھا۔ مگر میں نے بھی تب ہی سوچ لیا تھا……کہ اگر آپ نے مجھ سے اس موضوع پر بات کی……یا مجھے کسی بھی طرح ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی……تو میں یہ گھر ہی چھوڑ کر چلی جاؤں گی……‘‘، بینش اپنا مساج ترک کر کے جاوید صاحب کی جانب مڑی، غم و غصّے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، وہ ایک بار پھر جذباتیت کی انتہاپر کھڑی تھی۔
جاوید صاحب اس کی اس بات پر حیران و ششدر کھڑے کے کھڑے رہ گئے تھے۔ ’’کہاں چلی جاؤ گی تم؟…… ہاں بولو!……کہاں جاؤ گی؟‘‘
’’……کہیں بھی چلی جاؤں گی……اپنے ماں باپ کے گھر……یا اپنے بھائیوں کے پاس……مگر آپ کی چھت تلے نہیں رہوں گی، ……آپ کا اور آپ کے بھائیوں کا مزید کوئی احسان نہیں لوں گی……‘‘۔
’’……اور یہ بچے……تمہاری اس پلاننگ میں یہ بچے کہاں فِٹ ہوتے ہیں……؟‘‘، جاوید صاحب نے شرم دلانے والے انداز میں بیڈ پر سوئی ہوئی بتول اور شہیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
بینش نے صرف چند لمحوں کا توقف کیا تھا، ’’……یہ بچے صرف میرے نہیں……آپ کے بھی بچے ہیں۔ اتنے سال انہیں میں نے اکیلے سنبھالا ہے، چند سال آپ سنبھال لیں گے تو کوئی بڑی بات نہیں……!‘‘۔
_______________________
’’……کیوں آئی ہو یہاں؟‘‘، اس کے لہجے کی برہمی اور بے رخی محسوس کر کے نبیلہ کَھول کر رہ گئی۔
’’……جو بارگین (سودا) ہم نے کیا تھا، میں نے حصّے کا کام کیا، اپنا وعدہ پورا کیا……اب وصولی کا وقت ہے، اسی کے لیے آئی ہوں ‘‘، اپنا غصّہ ضبط کرتے ہوئے نبیلہ نے تحمل سے اسےجتایا۔
’’……بے فکر رہو…… مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کرنا ہے……‘‘،
’’مگر کب……اور کیسے؟……عثمان چچا کے تیور دیکھے ہیں…؟ مجھے نہیں لگتا کہ……‘‘، نبیلہ پریشانی کے عالم میں بول رہی تھی۔
’’یہ سب تمہارا دردِ سر نہیں……! اب جاؤ!……اور دوبارہ ادھر آنے کی حماقت مت کرنا……‘‘، اس نے رکھائی سے اس کی بات کاٹی اور اگلے ہی لمحے دروازہ نبیلہ کے منہ پر بند ہو چکا تھا۔ غصّے سے پیچ و تاب کھاتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی جانب چلی آئی۔ اسے اس رویّے کی توقع نہیں تھی، لیکن اب وہ سوچ رہی تھی کہ یہ رویہ قطعاً غیر متوقع نہیں تھا، جس شخص سے اس کا پالا پڑا تھا، اس سے کچھ بھی بعید نہیں تھا۔ احمق تو وہ تھی، جو اس پر بھروسہ کر بیٹھی تھی اور اس سے ایفائے عہد کی امیدیں لگا کر بیٹھی ہوئی تھی۔
’’……آپی! ……آپی!! گیس واٹ؟ آئے ہَیو سم گریٹ نیوز فار یو!!‘‘، (بوجھیں تو کیا بات ہے؟ میرے پاس آپ کے لیے بڑی زبردست خبر ہے!!) کمرے میں داخل ہوتے ہی فاطمہ کی خوشی و مسرت سے بھرپور آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
’کیا؟‘، اس نے بے خیالی میں پوچھا۔
’ہَنڈرڈ کے(100K) فالووَرز!!!……آج ہم نے صرف الیکشن ہی نہیں جیتا، یہ مائل سٹون (سنگِ میل) بھی اَچیو کر لیا……!‘
’……ہوں…؟! ……ہاں…! ……اچھی بات ہے……‘، یہ ایک علیحدہ مسئلہ تھا۔ فیس بُک ، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر ان کی ریٹنگ اور فالووِنگ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔ اپنے فینز اور فالووَرز کی امیدوں اور توقعات پر پورا اترنا اور ان کے لیے ہر کچھ عرصے بعد ایک نیا نعرہ اور ہدف ایجاد کرنا بھی ایک مستقل کام بن گیا تھا، یہ نا گزیر بھی تھا کہ اس جانب سے عدم توجہی انٹرنیٹ کی دنیا میں ان کی مقبولیت کا گراف فوراً نیچے کر دیتی، مگر اب یہ سب اسے اپنی استطاعت سے باہر ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
’’……کیا ہوا آپی؟……آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟‘‘، اس کی بے توجہی محسوس کر کے فاطمہ نے پوچھا،’’ اچھا سنیں!!……یہاں ہر بندہ ایک ہی سوال کیے چلا جارہا ہے کہ الیکشن کا کیا بنا؟……مجھے تقریباً ہر دو منٹ بعد اس قسم کا کوئی پرسنل میسج ملتا ہے، …… اور جو لوگ ٹیگ کر رہے ہیں اور کمنٹس میں یہ سوال کر رہے ہیں ان کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے…… میں ان سب کو کیا جواب دوں؟……‘‘۔
’’……ابھی رک جاؤ فاطمہ……سب حالات تمہارے سامنے ہی ہیں، جب تک کچھ فائنل نہیں ہو جاتا، ہم اپنے جیتنے کی خبر آؤٹ نہیں کر سکتے۔ ایسا نہ ہو کہ الٹا یہ خبر بے عزتی کا باعث بن جائے اگر گھر کی اکثریت نے ہماری حکومت کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا تو……‘‘، نبیلہ نے اپنے بستر پر بیٹھتے ہوئے پر سوچ انداز میں جواب دیا۔ اس وقت اس کا ذہن اپنا آئندہ کالائحہ عمل تیار کرنے میں الجھا ہوا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اب کوئی انتہائی قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا ہے، مگر کرے تو کیا کرے…… کوئی سرا ہاتھ ہی نہ آ رہا تھا کہ کیسے حالات کو اپنے موافق ڈھالا جائے۔
_______________________
اگلے دن تک یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ ہاشمی ہاؤس کے حالیہ انتخابات میں خاتون پارٹی بھاری اور واضح اکثریت سے میدان جیت چکی ہے۔ فاطمہ تو گزشتہ شام سے ہی انٹرنیٹ سے متعلق اپنے فرائض کی انجام دہی میں تندہی سے جتی ہوئی تھی مگر اب حامیوں اور شیدائیوں کے پیغامات کے جواب دینے میں ہادیہ اور جویریہ بھی اس کا ساتھ دے رہی تھیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کتنی ہی این جی اوز کی ڈائریکٹرز کے مبارکباد پر مبنی فون اور پیغامات صبح سے نبیلہ وصول کر چکی تھی۔ میڈیا کی دو گاڑیاں ان کے گیٹ کے باہر کھڑی تھیں اور بے چین رپورٹر گیٹ سے جھانک جھانک کر کسی کے باہر نکلنے کے منتظر تھے۔
یہ خبر کیسے باہر نکلی، کسی کو خبر نہیں تھی۔ وہ تو جب صبح اٹھتے ہی فاطمہ نے پہلے سرہانے رکھے ٹیبلِٹ کا فلیپ کھولا تو نوٹیفیکیشنز کی بھرمار اس کی منتظر تھی۔ آنے والے پیغامات پڑھ کر وہ فوراً سمجھ گئی کہ ان کی جیت کی خبر دنیا کو معلوم ہو چکی ہے۔ گو کہ یہ کیسے ہوا، یہ اسے سمجھ نہ آ رہا تھا۔ ابھی رات کو ہی تو نبیلہ نے اسے اس قسم کی کوئی بھی بات لیک آؤٹ کرنے سے منع کیا تھا، پھر کیسے……۔ نبیلہ کو جب معلوم ہوا تو پہلے تو وہ پریشان ہوئی۔ گھر والوں کے ردِّ عمل کا اسے بالکل اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ مگر جب ایک کے بعد ایک مبارکبادی پیغامات اور فونز آنا شروع ہو گئے تو اس کے حوصلے کو مہمیز ملی۔ گھر والے تو نجانے الیکشن کے ان نتائج سے خوش تھے یا نہیں، مگر دنیا بہت خوش تھی۔ اور اس کی حمایت کرنے والوں کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی۔ مگر اس سب کے باوجود وہ اپنی جیت کی خوشی کھل کر نہ منا پا رہی تھیں۔ اندر ہی اندر یہ خدشات نبیلہ کو کھائے جا رہے تھے کہ اگر گھر کی بھاری اکثریت نے نتائج کو ردّ کر دیا تو عین ممکن ہے کہ چند گھنٹوں میں وہ انہی لوگوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات وصول کر رہی ہو۔ عثمان صاحب تو واشگاف انداز میں اپنی مخالفت کا اظہار کر بھی چکے تھے۔
_______________________
’ہم ایک اسلامی جمہوریت ہیں۔ اس بنا پر میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی کا کوئی جواز نہیں۔ یہ اصولی بات ہے اور اس پر کسی قسم کی مفاہمت نہیں ہو سکتی، اس گھر کی سربراہ ایک عورت نہیں بن سکتی‘۔
’ٹھیک ہے چچا جان، آپ کی بات درست ہے۔ لیکن پہلے آپ یہ تو ثابت کریں کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی کا کوئی جواز نہیں……‘۔
ابّا جی کا کمرہ آج کافی عرصے بعد گرما گرم بحث مباحثے کا میدان بنا ہوا تھا۔ کمرے میں جلتا ہیٹر گرمائش کا سامان پیداکر رہا تھا اور حاضرین کے لیے گرم چائے اورخشک میوہ جات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ابّا جی ایک ہلکا لحاف اوڑھے، اپنے بستر پر تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ان کے بیڈ کے بالکل ساتھ ایک کرسی پر ہاتھ میں کاپی قلم لیے نسرین بیٹھی تھی، اور نسرین کے ساتھ والی کرسی پر صولت بیگم براجمان تھیں۔ کمرے میں موجود دیگر تمام افراد قالین پر رکھی گدیوں کے سہارے بیٹھے تھے۔ داہنی جانب ابوبکر، جاوید اور عثمان صاحب تھے جبکہ ان کے مقابل زوار، عمیر اور نبیلہ بیٹھے تھے۔ جب عمیر نے گھر میں یہ اعلان کیا کہ الیکشن کے نتائج کا فیصلہ الیکشن کمیشن ہی کے سپرد کیا جائے گا، اور ان کا فیصلہ حتمی اور سب کے لیے واجبِ قبول ہو گا، تو نبیلہ ایک بار پھر مخمصے میں پڑ گئی۔ اول تو اسے کسی کمیشن پر اعتماد ہی نہ تھا۔ مگر جب عمیر نے کہا کہ کمیشن کے افراد کے لیے تمام فریق افراد نامزد کر دیں تو اسے کچھ تسلّی ہوئی۔ یوں کافی ردوقدح کے بعد وہ سب ابّا جی، نسرین آپا اور صولت بیگم پر متفق ہوئے۔ گو کہ اسے صولت بیگم اور نسرین آپا سے اپنے حق کی موافقت کی امیدیں کم کم ہی تھیں، مگر کم از کم ججوں کے پینل میں خواتین کی موجودگی اس تسلّی کا باعث تو تھی کہ یہاں اس مردانہ تعصب سے کام نہیں لیا گیا جو ان کے گھر کی مستقل روایت رہی تھی۔ کم از کم یہ ایک تبدیلی کی شروعات تھیں۔
اگلا مرحلہ اپنے لیے وکیل چننے کا تھا۔ وہ کمیشن کا سامنا کرنے کے لیے اپنے ساتھ کس ساتھی کو چنے……کسی پر نگاہِ انتخاب ٹھہر ہی نہ رہی تھی۔ آخر اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے وہ اکیلی ہی میدان میں اتری۔
’’……ویسے تویہ ایک حدیث ہی کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جو اپنے امور کا سربراہ ایک عورت کو بنائے، لیکن خود قرآن مجید کی کتنی آیات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عورت کو اس کام کے لیے نہیں بنایا گیا۔ مثلاً ترجمہ ہے: کہ ’’ مرد عورتوں کے نگراں ہیں، کیونکہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور کیونکہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔ چناچہ نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے (اس کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو (پہلے) انہیں سمجھاؤ، اور (اگر اس سے کام نہ چلے تو) انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو ، (اور اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو) انہیں مار سکتے ہو۔ پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان کے خلاف کارروائی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کے اوپر، سب سے بڑا ہے۔ ‘‘
پھر صرف یہی نہیں، بلکہ سورۃ بقرۃ کی ایک آیت کا ایک جزو ہے ،جس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ’’اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے (مردوں کو) ان پر حاصل ہیں۔ ہاں مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے‘ ‘، عثمان صاحب ٹھہر ٹھہر کر بول رہے تھے۔ کمرے میں موجود تمام افراد پوری توجہ سے ان کی بات سن رہے تھے۔’’……یعنی، مرد اور عورتیں اپنے حقوق میں مساوی ہیں……لیکن اللہ تعالی نے اپنے علم اور حکمت کی بنیاد پر دونوں کو ان کے اپنے اپنے مخصوص دائرۂ عمل کے لیے پیدا کیا ہے، پھر اسی دائرۂ کار کی مناسبت سے دونوں کو صلاحیتیں بھی عطا کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے تو اس سے کوئی عورتوں کی شان گھٹانا مقصود نہیں ہے۔ بلکہ چونکہ عورتیں صنفِ نازک ہیں، اس لیے اللہ نے مردوں پر ان کی حفاظت، کفالت اور نگرانی……یعنی گارڈین شپ……یہ اللہ نے مردوں کے سپرد کی ہے۔ اسی وجہ سے وہ عورتوں پر ایک درجہ فوقیت رکھتے ہیں‘‘۔
ایک عرصے کے بعد نبیلہ عثمان صاحب کو اپنے مخصوص دھیمے اور نرم انداز میں بولتے سن رہی تھی، ان کا لہجہ ان کے خلوص کا عکّاس تھا۔ یہ وہی شفیق چچا جان تھے کہ جن کے ذریعے وہ سب کزنز اپنی تمام فرمائشیں پوری کروانے کے عادی تھے، ایک لمحے کو نبیلہ کو لگا کہ عثمان چچا ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں، مگر اگلے ہی لمحے ایک بد صورت یاد پردۂ ذہن پر ابھری۔ وہ بھری محفل…… کیمروں کے فلیش…… اور سراپا آتش و آہن بنے عثمان صاحب……سب کے سامنے چہرے پر پڑنے والا وہ ایک تھپڑ جسے وہ چاہ کر بھی کبھی بھلا نہ پائی تھی۔ نہیں……اسے عثمان صاحب کے لہجے سے مسمرائز نہیں ہونا تھا، اسے اپنا مقصد اور ہدف یاد رکھنا تھا……کسی کے نرم لہجے سے بہل کر……بہک کر……وہ اپنی مہینوں کی محنت برباد کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔
’’نبیلہ……! عثمان چچا اپنی بات پیش کر چکے ہیں……اب تم بتاؤ……تم کیا کہتی ہو؟‘‘، نسرین آپا کی آواز نبیلہ کو اس کے خیالوں سے باہر کھینچ لائی تھی۔
’’میں……‘‘، نبیلہ نے بدقت اپنے حواس مجتمع کیے اور ذہن کو حاضر کیا،’’……سب سے پہلے تو……میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ چچا جان نے جو حدیث پیش کی’کہ جو قوم عورت کو سربراہ بنائے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی‘، اس حدیث کے بارے میں علما کی ایک خاصی تعداد کی رائے یہ ہے کہ یہ کوئی عمومی قاعدہ یا اصول نہیں۔ بلکہ ہوا دراصل یہ تھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی کہ اہلِ فارس نے خسرو کی بیٹی کو اپنی ملکہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملکۂ فارس کے حوالے سے یہ بات فرمائی تھی‘‘، نبیلہ سانس لینے کو رکی، اس کے جواب پر نسرین نے سر ہلاتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی کاپی پر کچھ لکھنا شروع کر دیا۔ عثمان صاحب اور دیگر تمام حاضرین مکمل خاموشی سے اس کی طرف متوجہ تھے۔
’’……بلکہ اس کے بر عکس……ہمیں سیرتِ رسول ﷺ میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن سے عورت کی قیادت اور اس کی سربراہی کا جواز ملتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل قرآن مجید حفظ کرنے والی ام ورقۃ بنت عبداللہ بن حارث کو امام مقرر کیا۔ اسی طرح کتنی ہی خواتین ……یعنی صحابیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں جاتی تھیں، غزوات میں شرکت کرتی تھیں…… حضرت ام عمارہؓ نے کتنی دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا میدانِ جنگ میں دفاع کیا۔ ……خولہؓ بنت ازور، حضرت صفیہ بنت عبد المطلب، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ، یہ سب غزوات میں مجاہدینِ اسلام کے ہمراہ جاتی تھیں، زخمیوں کو پانی پلاتیں، مرہم پٹی کرتیں……بعض اوقات خود باقاعدہ لڑائی میں بھی شریک ہوتیں…… سو یہ کہنا کہ مرد کو عورت کی حفاظت کے لیے مقرر کیا گیا ہے، میرے خیال میں مکمل طور پہ درست نہیں ہے…… ‘‘۔
’حضرت عائشہؓ نے جب ایک جنگ میں قیادت کی تو کتنے صحابہ ؓ آپ ؓ کے ہمراہ، یعنی آپ کی سربراہی میں جنگ لڑنے کے لیے نکلے۔ پھر حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں ایک عورت کو بازار کا سربراہ بنایا…… مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ جو آیات چچا جان نے نقل کی ہیں، ان کو انہوں نے درست سیاق و سباق میں پیش نہیں کیا۔ قرآن کریم کی تو بہت سی آیات مرد و عورت کے برابر ہونے، مساوی ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اور میں اپنے اس موقف کی حمایت میں بہت سے علما کے اقوال نقل کر سکتی ہوں۔ ابھی جو چند مثالیں میں نے بیان کیں، جو شاید پہلے سے آپ سب کے علم میں ہوں گی، صرف وہی چند مثالیں یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو عورتوں کے لیے بڑا ماڈرن اور مساوی حقوق والا زمانہ تھا۔ عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مردوں کے بیچوں بیچ بات چیت کیا کرتی تھیں۔ حضرت عمر ؓ جیسی بارعب شخصیت کے عورتوں کے مہر سے متعلق ایک فیصلے کو ایک بوڑھی عورت نے چیلنج کیا اور انہیں سہو پر ثابت کر دیا۔ یہ تو اب ہمارا زمانہ ہے کہ جس میں عورتوں اور مردوں کے علیحدہ علیحدہ خانے مقرر کر دیے گئے ہیں، عورتوں کے لیے گھر کا خانہ، بال بچے سنبھالنا اور مردوں کے لیے حکمرانی اور سربراہی ……یہ اسلام نہیں بلکہ یہ تو ہمارے معاشرے پر ہندؤوں کے ساتھ رہنے کے اثرات ہیں ، جن کے ہاں عورت کو دوسرے بلکہ تیسرے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ اللہ نے مرد و عورت کو مساوی پیدا کیا، دونوں کو عقل، ذہن اور شعور عطا فرمایا……اور خود ہمارا آئین یہ کہتا ہے کہ ’’ گھر کے تمام افراد کو (بلا تخصیص عمر، مذہب، رنگ و نسل اور صنف کے)بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی ضمانت دی جاتی ہے۔ یعنی تمام افرادِ خانہ کی حیثیت مساوی ہو گی، سب کو ایک سے مواقع فراہم کیے جائیں گے، اور قانون کی نظر میں سب برابر حیثیت کے حامل ہوں گے۔ سب کے ساتھ منصفانہ و مساویانہ سلوک کیا جائے گا، سب کو سوچ، فکر، اظہار، عقیدہ اور عبادت کی آزادی ہو گی ‘‘۔ جب آئین ہمیں ووٹ ڈالنے کی، سیاست میں حصّہ لینے کی اجازت دیتا ہے، تو حکمرانی کے لیے بطور نمائندہ کھڑے ہونے کا حق بھی دیتا ہے۔ پھر آپ ہی بتائیے……کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جب ہم اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہیں اور واضح اکثریت سے جیت جاتے ہیں تو بیک جنبشِ قلم ہمیں ردّ کر دیا جاتا ہے؟! اور یہ کہا جاتا ہے کہ عورت کی حکمرانی کا کوئی جواز نہیں؟!‘، وہ بات کے اختتام تک جذباتی ہو گئی تھی۔
’’یہ آئین……یہ بھی تو ہمارے اپنے ہاتھوں کا ہی بنایا ہوا ہے، کوئی قرآن و حدیث تو نہیں ہے کہ اس پر کوئی تنقید ہی نہ کی جا سکے…… میں تو سمجھتا ہوں کہ اس وقت جب ہم نے یہ آئین بنایا تھا تو ہمیں مستند علما کی زیرِ نگرانی یہ کام کرنا چاہیے تھا……‘‘ ، عثمان صاحب جو اب تک صبر و تحمل سے ساری بات سن رہے تھے، اب کہے بنا نہ رہ سکے۔
’’واہ!……کیا بات کی ہے آپ نے بھائی! ……یعنی اب آپ کو آئین پر بھی اعتراض ہے……!!‘‘، عمیر چونک کر بولا ،’’ چلیے اس آئین پر تو اعتراض ہے ، مگر یہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے آئین کو تو مستند مانتے ہیں ناں؟ یہ تو مستند علما کی زیرِ نگرانی ہی تیار کیا گیا ہے، آپ دیکھیے کہ آئینِ پاکستان بھی عورت کو حکمرانی کا حق دیتا ہے ‘‘۔
’’بالکل! ہمارے ملک ……’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کا آئین……اسلامی آئین ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آئین کے Preamble میں لکھا ہوا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا اور باقی آئین گویا اس مذکورہ قانون کا تابع ہے‘‘، نبیلہ بڑے اعتماد سے عمیر کی بات ختم ہوتے ہی بولی۔ پچھلی رات اس نے انٹرنیٹ پر بہت سے مقالے اور بلاگز پڑھتے صرف کی تھی اور آج صبح ہی المورد کی خاتون رپریزنٹیٹو (representative) مس ثانیہ انجم نے اسے اس موضوع پر بہت سی دلیلیں واٹس ایپ پر فارورڈ کی تھیں۔ نبیلہ نے اپنے سمارٹ فون کی سکرین بند کی اور ابا جی کی طرف دیکھنے لگی، ابا جی نے ساری زندگی اسی آئین و قانون کو پڑھتے اور برتتے گزاری تھی۔
کمرے میں پھر سکوت کا راج ہو گیا اور ابو بکر صاحب کو پھر کسی کی یاد آگئی۔
’’ میں آپ سب کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ پہلے ہی ہمارے گھرانے کا معاشرے میں کافی تماشا بن چکا ہے۔ اور دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ اس بار الیکشن میں خاتون پارٹی واضح اکثریت سے جیت چکی ہے۔ ایسے میں خواتین کو ان کا حق نہ دینا اور ان کی جیت کو ردّ کر کے دوبارہ نئے سرے سے الیکشن کرانا یا کسی اور کو سربراہ نامزد کرنا، دونوں ہی کام محض ہماری بدنامی میں اضافہ کرنے کا باعث بنیں گے……‘‘، عمیر ان کے سامنے حقائق رکھ رہا تھا۔ عثمان صاحب اپنا غصّہ ضبط کرتے ہوئے صبر کے گھونٹ پینے پر مجبور تھے۔
وہ سب اپنی اپنی بات پیش کر چکے تو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ابّا جی، ہلکی آواز میں صولت بیگم اور نسرین آپا سے مشاورت کر رہے تھے۔ نسرین آپا کا قلم تیزی سے کاپی پر چند سطور گھسیٹ رہا تھا۔ ’اب آپ کا کیا فیصلہ ہے ابّا جی؟‘، آخر کار ان تینوں کے جڑے سر علیحدہ ہوئے تو ابوبکر صاحب نے براہِ راست ابّا جی سے پوچھا۔ ابّا جی ہلکا سا کھنکھارے، پھر اپنی نحیف آواز میں آہستہ سے بولے۔
’’تم سب کی باتیں میں نے سنی ہیں……سارے حالات بھی میرے علم میں ہیں۔ ……سب کے دلائل اور آج کے حالات کے پیشِ نظر جو مصلحتیں ہمیں درپیش ہیں، ان سب کو مد نظر رکھتے ہوئے……میرا فیصلہ یہ ہے کہ الیکشن شفاف تھے،……اور ان کا نتیجہ سب کو قبول ہونا چاہیے۔ جہاں ابوبکر اور عمیر کو اس گھر کی سربراہی کا موقع دیا گیا ہے، وہاں نبیلہ کو بھی یہ موقع ملنا چاہیے۔‘‘
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 Male chauvinism: مردانہ برتری کا جنونی حد تک متعصبانہ رویہ


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



