بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس دعوے کی سچائی عموماً دگڑ مگڑ قسم کی دلیلوں سے ہی فراہم کی جاتی ہے۔ مثلاً: پاکستان رمضان شریف کی ستائیسویں تاریخ کو بنا تھا؛اس کو بنانے کا نعرہ لا الٰہ الا اللہ تھا؛لاکھوں لوگوں نے اس کے لیے قربانی دی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن اگر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو ان میں سے ایک بھی پاکستان کو اسلام کا قلعہ نہیں بناتی! پاکستان کو اسلام کا قلعہ تو اس کا کردار بناتا ہے نا کہ اس کو بنانے کے لیے لگایا جانے والا نعرہ یا اس کا ستائیس رمضان کو بن جانا!
بعض اوقات تو ان دلیلوں کی سادگی پر ہنسی آجاتی ہے۔ کہیں پر یہ کہہ دیں کہ جناب یہ ہمارا وہم ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے تو جواب میں یہی دلیلیں رکھی جاتی ہیں اور پھر نہایت معصومانہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے گویا کہہ رہے ہوں کہ ’بھائی جان! آپ کو یہ جلیبی جیسی سیدھی دلیلیں آخر سمجھ کیوں نہیں آتیں؟!‘ اب ایسے پیارے دوست کو کیا کہیں؟!مجبوراً اسے ہزارداستان سنانی پڑتی ہے۔
تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۵۳ء میں شمعِ رسالت کے دس ہزار پروانوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ لاہور میں ان دس ہزار شہدا کی یاد میں مال روڈ پر مسجدِ شہدا بنائی گئی ہے۔ بے شک وہاں جا کردیکھ لیں، وہاں ایک کتبے پر یہ سب کچھ لکھا ہوا ہے۔1
ذرا سوچیں کہ دس ہزار مسلمان، ایک ’’اسلامی ‘‘حکومت سے ، نبی ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے کو غیر مسلم قرار دلوانے کی پاداش میں جلوسوں پر کھلی اور سیدھی فائرنگ کرکے شہید کردیے گئے۔ذرا تصور کریں کہ ایک ملک ہو اوروہاں مسلمان اپنے نبی کی نبوت پر ڈاکے کو روکنے کے لیے ستائیس سال جدو جہد کریں اورصرف ایک تحریک میں دس ہزار جانوں کی قربانی دیں! ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ کیا انسانی عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ ملک پھر بھی اسلام کا قلعہ ہو؟یقین جانیے، اس بات ہی کو دیکھ لینے کے بعد پھر بھی اسی خیال میں رہنا کہ یہ اسلام ہی کا قلعہ ہے ڈھٹائی کی کوئی آخری حد ہوگی۔یہ کسی دینی جماعت کے سیاسی ایجنڈے کی بات نہیں تھی۔ یہ تو ایسی بات تھی جس کا مسلمان کے ایمان سے تعلق تھا۔ پھر بھی اس جیسے غیر متنازعہ اور غیر سیاسی مسئلے کومسلمانوں نے ستائیس سال کی جدو جہد کے بعد حاصل کیا ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ یہی ناں کہ یہاں جتنا بھی اسلام نظر آتا ہے اسے کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا کہ لو صاحب مزے اڑاؤ! یہاں جو کچھ بھی دِکھتا ہے وہ بزورِ قوت لیا گیا ہے۔بقول قدرت اللہ شہاب کے، ایک وقت میں تو صدر ایوب خان نے ملک کے نام سے اسلامی کا سابقہ بھی ہٹا ڈالا تھا وہ تو قدرت اللہ شہاب نے صدر کو قائل کیا کہ حضور ایسا ظلم نہ کریں۔ رہنے دیجیے۔ کیا جاتا ہے! ؏ دِل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے!!خیر، بات صرف یہ تھی کہ اس ملک میں جو ظلم خدا اور رسولؐ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے وہ تو برطانیہ میں بھی نہیں رکھا گیا۔ یہاں لوگوں کے پاس اتنی سی بھی آزادی نہیں ہے کہ وہ اپنے شرعی کورٹس بنا لیں حالانکہ کہ برطانیہ میں مسلمانوں کو نہ صرف یہ اجازت ہے کہ اپنی شرعی عدالتیں بنا لیں بلکہ ان شرعی عدالتوں کے فیصلے برطانوی عدالتوں میں تسلیم بھی کیے جاتے ہیں۔ان شرعی عدالتوں کی تعداد ایک دو نہیں بلکہ تقریباً پچاسی (۸۵) ہے۔
جناب ! ۸۵ شرعی عدالتیں برطانیہ میں اور اسلام کے اس قلعے میں ایک چھوٹی سی شرعی عدالت آپ کسی کونے کھدرے میں بنا دیں اس کے بعد دیکھیں کہ پہلے میڈیا آپ کی مشکیں کستا ہے اور اس کے بعد ’’ریاست میں ریاست‘‘ کا جرم بتا کر آپ کو کم از کم بھی جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ رہا کوئی ہلکا پھلکا فوجی آپریشن اور کوئی کمانڈو ایکشن تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آخر ہمارے جوانوں کو ہاتھ پیر بھی تو سیدھے کرنے ہوتے ہیں۔ باندھ باندھ کر رکھیں گے تو کہیں فالج ہی نہ ہو جائے!
اہم لنکس:
- http://www.independent.co.uk/news/uk/home-news/the-big-question-how-do-britains-sharia-courts-work-and-are-they-a-good-thing-1724486.html
- http://www.dailymail.co.uk/news/article-1196165/Britain-85-sharia-courts-The-astonishing-spread-Islamic-justice-closed-doors.html
٭٭٭٭٭
1 ممکن ہے یہ مضمون پڑھنے کے بعد ’وقار‘ والے مسجدِ شہدا پہنچ جائیں اور اس کتبے کو اکھاڑ پھینکیں۔ اس سے وہ مزے دار ’حقیقی‘ لطیفہ یاد آ گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے (۲۰۱۵ء میں)’منظور‘ ہونے کے بعد کسی نے ’وقار‘ والوں کو بتایا کہ ’الفاروق‘ نامی ایک کتاب میں بھی ’دہشت گردی‘ کا مواد پایا جاتا ہے اور اس کے مصنف کا نام ’شبلی نعمانی‘ ہے۔ اس کے بعد بڑی بڑی مونچھوں والے ، جی ایچ کیو اور آبپارہ میں بستے ’وقار‘ کی حفاظت کی خاطر ’اردو بازار لاہور‘ میں گھومتے پائے گئے۔ وِیگو ڈالوں سے اترتے اور مکتبوں اور بعض چھاپہ خانوں میں جاتے اور پوچھتے ’اے شبلی نعمانی کون اے تے کِتھے ریہندا اے؟ (یہ شبلی نعمانی کون ہے اور کہاں رہتا ہے؟)‘۔
یادش بخیر: مولانا شبلی نعمانیؒ نیشنل ایکشن پلان سے ایک سو ایک سال پہلے ۱۹۱۴ء میں وفات پا گئے تھے۔(مدیر)







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



