زیرِ نظر مضمون سابقاً شائع ہونے والے ’تعلیم‘ سے متعلق مقالے سے مربوط ہے
مقدمہ
گزشتہ دو تین صدیوں سے امتِ مسلمہ مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ اغیار کی عیاری اور اپنوں کی غفلت نے صرف مادی اعتبار سے نہیں بلکہ فکری اعتبار سے بھی امت کی منفرد ساخت کو تبدیل کر نے کی انتھک کوشش کی ہے۔ خالص اسلامی معاشرےپر اتنی گرد چڑھ چکی ہے اور یہ اجنبی افکار سے اتنا آلودہ ہو چکا ہے کہ اسلام کا روشن چہرہ مسخ ہو کر رہ گیا ہے۔ مغربی کفری نظام کو ڈھانے اور اس کی جگہ خالص بنیادوں پر اسلامی معاشرے کی تشکیل کی راہ میں کئی رکاوٹیں اسی تشویش اور خلط ملط کا نتیجہ ہیں۔ حالانکہ علمائےکرام ، داعیانِ حق اور مجاہدین کی کاوشوں نے آج تک حقیقی اسلامی تشخص برقرار رکھا ہے۔ یہ اصل تشخص ہمارے بہت قریب ہے ، ہماری جھولی میں ہے، لیکن ہم اس سے غافل ہیں۔
اس مقالے میں مسلمانوں کے یہاں تعلیم و تربیت کے طریقے پر بحث کی گئی ہے۔ تعلیم و تربیت ایک وسیع مضمون ہے جس کے متعدد جوانب ہیں۔ لیکن ہم نے اپنے پیش نظر مقصد کے تناظر میں خاص ’’تاریخِ تعلیم‘‘ سے بحث کی ہے۔ اور اس میں بھی عمومی تعلیم کی نہیں ،بلکہ معاشرےکے خاص تعلیمی اداروں کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے صحابہؓ نے تعلیم و تربیت کے لیے مختلف طریقے اور وسائل اپنائے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی انفرادیت تو یہ ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی بھی تمام مسلمانوں کے لیے تعلیم و تربیت کا ایک طریقہ ٹھہری۔ چونکہ انسان کے کردار کےہر پہلو سے دوسرا انسان سیکھتا ہے۔ اور ہر اچھے انسان کا سلوک دوسروں کے لیے قابل ِتقلید نمونہ بن جاتا ہے۔ لہٰذا سب سے بہترین انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوۂ حسنہ کی بات کی جائے تو کیا کہنے! نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، چلنا پھرنا ؛غرض ہر ایک پہلو میں تعلیم و تربیت کا عنصر پنہاں تھا۔ خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا۔ اور فرمایا إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ ۔ پھر نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف عملی سلوک سے ہی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام نہیں دیا ،بلکہ اپنے اصحاب سے دوستانہ گفتگو، مجالس میں مختلف موضوعات پر کلام، جمعہ کے خطبے، وفود کو دعوت اور بعض دفعہ مناظرے؛ ان تمام حالات میں بھی تعلیم و تربیت کے قیمتی جواہرات پائے جاتے ہیں۔ گویا ہمہ جہت تعلیم و تربیت کے چشمے جاری تھے۔ لیکن ہم اپنی گفتگو میں ان سب کا احاطہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ سب طریقے فی الحال ہمیں مقصود ہیں۔ ہمیں مقصود وہ طریقے ہیں جنہیں روایتی کہا جاتا ہے۔ اور ان میں بھی جنہیں ہم تعلیمی ادارے کہہ سکتے ہیں۔ اس انتخاب کی وجہِ گفتگو کے آخر میں نتائج کی صورت میں قاری کے سامنے خود ظاہر ہوگی۔ اس لیے اب اصل بات کا آغاز کرتے ہیں۔
باب[۱]: قرآن کریم میں تعلیم کا تذکرہ
قبل اس کے کہ ہم عہدِ رسالت اور آغاِز اسلام میں تعلیم کے روایتی طریقوں کا تذکرہ کریں، کچھ قرآنی آیات پر نظر دوڑاتے ہیں ،جن میں تعلیم و تعلم کے وسائل و ذرائع کا تذکرہ کیا گیا ہے، تاکہ قاری کو معلوم ہو کہ سرچشمۂ ہدایت، کلام الٰہی اس موضوع کو کس طرح بیان کرتا ہے۔
’’علوم وحی‘‘ کا لکھنا، پڑھنا اور بیان و تشریح
اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے:
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ اَلَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (سورۃ العلق:۱–۵)
’’(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالَم کو )پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔ اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘
قرآن کریم کی ان اولین آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا تعلیم سے گہرا تعلق ہے۔ غور کریں تو ان آیات سے ہمیں کئی باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔
اولاً: مسلمانوں میں تعلیم کی بنیاد ہی وحی یعنی دین ہے اور اس کا مقصد مخلوق کو اپنے خالق سے متعارف کروانا ہے۔ اسی لیے اسلام میں لفظِ تعلیم، علوم ِشرعیہ کے لیے ہی استعمال کیا گیا ہے۔ اور علوم ِشرعیہ کی تعریف میں علمائے کرام لکھتے ہیں کہ: یہ وہ علوم ہیں جن سے رب کی معرفت حاصل ہو۔
ثانیاً : مسلمانوں کے تعلیمی نصاب میں قرآن کریم پڑھا اور لکھا جانے والا اولین اور اہم ترین مضمون تھا جس کے گرد باقی علوم گھومتے رہے۔ ثالثاً: وسائل تعلیم کے اعتبار سے پڑھنے اور لکھنے کا اسلام میں ایک خاص مقام ہے۔ اور انہی بنیادی تعلیمات کے سبب اسلامی معاشرےمیں قرآن کی تلاوت اور اس کی کتابت کے سلسلے کا آغاز ہوتا ہے۔
پھر اس وحی کی محض تلاوت ہی نہیں بلکہ بیان و تشریح و توضیح کا بندوبست بھی اللہ رب العزت نے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے کروایا ۔ پس فرمایا:
لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَهٗ فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (سورۃ القیامہ: ۱۶–۱۹)
’’(اے پیغمبر) تم اس قرآن کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو ہلایا نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اس کو یاد کرانا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ پھر جب ہم اسے (جبرائیل کے واسطے سے) پڑھ رہے ہوں تو تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو ۔ پھر اس کی وضاحت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ‘‘
یاد دہانی، تلاوت اور شرح و بیان کے علاوہ کتابت کا پہلو کچھ کم اہم نہ تھا۔ کتابت کے مقام اور مرتبہ کی بنا پر قرآن کریم میں اس کی قسم کھائی گئی ہے۔ پس فرمایا:
ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ (سورۃ القلم:۲)
’’نون، قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم ۔‘‘
پھر نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر محض کتاب نازل ہی نہیں ہوئی ، اور اس کتاب کی حفاظت کی خاطر حفظ، شرح و بیان اور کتابت پر ہی صرف توجہ نہیں دی گئی ،بلکہ منصب رسالت و ہدایت کی بنا پر اس کتاب کی تعلیم کی ذمہ داری بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر عائد کی گئی ۔ اس مضمون پر کئی آیات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک مندرجہ ذیل ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ( سورۃ آل عمران:۱۶۴)
’’خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔‘‘
اہل کتاب کے ہاں علومِ وحی
قرآن کریم سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کلامِ الٰہی کی حفاظت اور اس کی تعلیم کا سلسلہ محض مسلمانوں کے لیے مخصوص نہ تھا، بلکہ سابقہ اقوام پر بھی کلام ِالٰہی کی تلاوت، کتابت، تعلیم اور بیان کی ذمہ داریاں عائد کی گئی تھیں جس سے وہ رو گردان ہوئے۔ مندرجہ ذیل آیات ملاحظہ کریں:
مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ(سورۃ آل عمران: ۷۹)
’’کسی آدمی کا شایان نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہل کتاب) تم (علمائے کرام) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو۔ ‘‘
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ يَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَيَقُوْلُوْنَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَاِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ ۭ اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا يَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوْا مَا فِيْهِ وَالدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (سورۃ الاعراف: ۱۶۹)
’’پھر ان کے بعد ان کی جگہ ایسے جانشین آئے جو کتاب (یعنی تورات) کے وارث بنے، مگر ان کا حال یہ تھا کہ اس ذلیل دنیا کا سازو سا مان (رشوت میں) لیتے، اور یہ کہتے کہ : ہماری بخشش ہوجائے گی۔ حالانکہ اگر اسی جیسا سازوسامان دوبارہ ان کے پاس آتا تو وہ اسے بھی (رشوت میں) لے لیتے۔ کیا ان سے کتاب میں مذکور یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کریں ؟ اور اس (کتاب) میں جو کچھ لکھا تھا وہ انہوں نے باقاعدہ پڑھا بھی تھا۔ اور آخرت والا گھر ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں۔ (اے یہود) کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ ‘‘
فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ ۤ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا ۭ فَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ (سورة البقرة: ۷۹)
’’لہٰذا تباہی ہے ان لوگوں کی جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ذریعے تھوڑی سی آمدنی کما لیں۔ پس تباہی ہے ان لوگوں پر اس تحریر کی وجہ سے بھی جو ان کے ہاتھوں نے لکھی، اور تباہی ہے ان پر اس آمدنی کی وجہ سے بھی جو وہ کماتے ہیں۔ ‘‘
وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ(سورۃ الانعام:۹۱)
’’اور ان (کافر) لوگوں نے جب یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا تو انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی۔ (ان سے) کہو کہ : وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جو موسیٰ لے کر آئے تھے، جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، اور جس کو تم نے متفرق کاغذوں کی شکل میں رکھا ہوا ہے۔ جن (میں سے کچھ) کو تم ظاہر کرتے ہو، اور بہت سے حصے چھپا لیتے ہو، اور (جس کے ذریعے) تم کو ان باتوں کی تعلیم دی گئی تھی جو نہ تم جانتے تھے، نہ تمہارے باپ دادا ؟ (اے پیغمبر ! تم خود ہی اس سوال کے جواب میں) اتنا کہہ دو کہ : وہ کتاب اللہ نے نازل کی تھی۔ پھر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ اپنی بےہودہ گفتگو میں مشغول رہ کر دل لگی کرتے رہیں۔ ‘‘
نا خواندگی کا تذکرہ
قرآن کریم میں نا خواندگی (یعنی پڑھنا لکھنا نہ جاننے) کو بھی کتب ِسماویہ کے نہ پڑھنے سے جوڑا ہے، کیونکہ حقیقی علم تو انہی کتب میں تھا۔ پس فرمایا:
وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ(سورۃ البقره:۷۸)
’’اور ان (اہل كتاب) میں سے کچھ لوگ ان پڑھ ہیں جو کتاب (تورات) کا علم تو رکھتے نہیں، البتہ کچھ آرزوئیں پکائے بیٹھے ہیں، اور ان کا کام بس یہ ہے کہ وہم و گمان باندھتے رہتے ہیں۔‘‘
وَمَآ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ يَّدْرُسُوْنَهَا وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِيْرٍ(سورۃ سبا: ۴۴)
’’حالانکہ ہم نے انہیں پہلے (مشركين عرب كو) نہ ایسی کتابیں دی تھیں جو یہ پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا (نبی) بھیجا تھا۔‘‘
کتابت کے وسائل (تختی، کاغذ، قلم، اور دوات) کا تذکرہ
قرآن مجید سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کتابت کے لیے تختیاں اور کاغذ کا استعمال ہوا کرتا تھا اور تعلیم کے یہ وسائل بشمول قلم اور دوات ، قدیم زمانے سے معروف اور مشہور تھے۔ پس ارشاد مبارک ہے :
وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ښ وَفِيْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُوْنَ (سورۃ الاعراف: ۱۵۴)
’’اور جب موسیٰ کا غصہ تھم گیا تو انہوں نے تختیاں اٹھا لیں، اور ان میں جو باتیں لکھی تھیں، اس میں ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان تھا جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔‘‘
وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ (سورۃ الاعراف: ۱۴۵)
’’اور ہم نے ان کے لیے تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، (اور یہ حکم دیا کہ) اب اس کو مضبوطی سے تھام لو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے بہترین احکام پر عمل کریں۔ میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھا دوں گا۔‘‘
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ (سورۃ الانعام: ۷)
’’اور (ان کافروں کا حال یہ ہے کہ) اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب نازل کردیتے جو کاغذ پر لکھی ہوئی ہوتی، پھر یہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ پھر بھی یہی کہتے کہ یہ کھلے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (سورۃ لقمان: ۲۷)
’’اور زمین میں جتنے درخت ہیں، اگر وہ قلم بن جائیں، اور یہ جو سمندر ہے، اس کے علاوہ سات سمندر اس کے ساتھ اور مل جائیں (اور وہ روشنائی بن کر اللہ کی صفات لکھیں) تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔‘‘
قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا (سورۃ الکہف: ۱۰۹)
’’(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ : اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر روشنائی بن جائے، تو میرے رب کی باتیں ختم نہیں ہوں گی کہ اس سے پہلے سمندر خشک ہوچکا ہوگا، چاہے اس سمندر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہم ویسا ہی ایک اور سمندر کیوں نہ لے آئیں۔‘‘
وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ (سورۃ العنکبوت: ۴۸)
’’اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے۔ ‘‘
وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ(سورۃ الطور: ۲–۳)
’’اور کتاب کی قسم جو لکھی ہوئی ہے۔ کشادہ اوراق میں۔ ‘‘
كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ (سورۃ المطففین: ۹)
’’ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔‘‘
قرآن کریم میں خاص کلام الٰہی کے علاوہ کتابت کا حکم
اگرچہ قرآنِ کریم میں تعلیم سے متعلقہ الفاظ کا استعمال کلام الٰہی کے لیے ہی کیا گیا ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی کتابت کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان میں سے ایک مقام پر قرضے کی ادائیگی اور خرید و فروخت کے معاملات کے لیے اور دوسری جگہ پر خط و مراسلت کے لیے۔ مالی معاملات کی کتابت والی آیت سے تو کتابت کے بے شمار احکام نکلتے ہیں جن کا تذکرہ یہاں مقصود نہیں، لیکن اس سے کتابت اور فن کتابت کا شریعت سے گہرا تعلق واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ پس ارشاد باری ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ ۭ وَلْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ ۠ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْيَكْتُبْ ۚ وَلْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَـيْــــًٔـا ۭ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ ھُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٗ بِالْعَدْلِ ۭ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاۗءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىھُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى ۭ وَلَا يَاْبَ الشُّهَدَاۗءُ اِذَا مَا دُعُوْا ۭ وَلَا تَسْــَٔـــمُوْٓا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰٓى اَجَلِهٖ ۭ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰٓى اَلَّا تَرْتَابُوْٓا اِلَّآ اَنْ تَكُـوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْرُوْنَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْھَا ۭ وَاَشْهِدُوْٓا اِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلَا يُضَاۗرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ ڛ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (سورۃ البقرۃ: ۲۸۲)
’’اے ایمان والو جب تم کسی معین میعاد کے لیے ادھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تم میں سے جو شخص لکھنا جانتا ہو انصاف کے ساتھ تحریر لکھے، اور جو شخص لکھنا جانتا ہو لکھنے سے انکار نہ کرے۔ جب اللہ نے اسے یہ علم دیا ہے تو اسے لکھنا چاہیے۔ اور تحریر وہ شخص لکھوائے جس کے ذمے حق واجب ہورہا ہو، اور اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس (حق) میں کوئی کمی نہ کرے۔ ہاں اگر وہ شخص جس کے ذمے حق واجب ہورہا ہے ناسمجھ یا کمزور ہو یا (کسی اور وجہ سے) تحریر نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا سرپرست انصاف کے ساتھ لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، ہاں اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان گواہوں میں سے ہوجائیں جنہیں تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ان دو عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔ اور جب گواہوں کو ( گواہی دینے کے لیے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں، اور جو معاملہ اپنی میعاد سے وابستہ ہو، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اسے لکھنے سے اکتاؤ نہیں۔ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف اور گواہی کو درست رکھنے کا بہتر ذریعہ ہے، اور اس بات کی قریبی ضمانت ہے کہ تم آئندہ شک میں نہیں پڑو گے۔ ہاں اگر تمہارے درمیان کوئی نقد لین دین کا سودا ہو تو اس کو نہ لکھنے میں تمہارے لیے کچھ حرج نہیں ہے۔ اور جب خریدوفروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ اور نہ لکھنے والے کو کوئی تکلیف پہنچائی جائے، نہ گواہ کو۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے نافرمانی ہوگی، اور اللہ کا خوف دل میں رکھو، اللہ تمہیں تعلیم دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ‘‘
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو جو خط بھیجا اس کے بارے میں قرآن کریم کے الفاظ ہیں:
اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ.اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ (سورۃ النمل: ۲۸–۳۱)
’’میرا یہ خط لے کر جاؤ اور ان کے پاس ڈال دینا، پھر الگ ہٹ جانا، اور دیکھنا کہ وہ جواب میں کیا کرتے ہیں۔ (چنانچہ ہدہد نے ایسا ہی کیا اور) ملکہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا : قوم کے سردارو ! میرے سامنے ایک باوقارخط ڈالا گیا ہے۔ وہ سلیمان کی طرف سے آیا ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو رحمن و رحیم ہے۔ (اس میں لکھا ہے) کہ : میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، اور میرے پاس تابع دار بن کر چلے آؤ ۔‘‘
اور قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹنے کے لیے جو تشبیہ استعمال کی گئی ہے اس کا تعلق بھی خط و کتابت سے ہے۔ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ (مشبہ بہ)، (مشبہ) سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔ یعنی کہ جس چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے وہ مخاطبین کے ذہن میں اصل سے زیادہ واضح ہوتی ہے۔ اور قرآن کریم کے اولین مخاطب کفار عرب تھے۔ ارشاد باری ہے:
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۭ كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ ۭ وَعْدًا عَلَيْنَا ۭ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْن (سورۃ الانبیاء: ۱۰۴)
’’اس دن (کا دھیان رکھو) جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے کاغذوں کے طومار میں تحریریں لپیٹ دی جاتی ہیں۔ جس طرح ہم نے پہلے بار تخلیق کی ابتدا کی تھی، اسی طرح ہم اسے دوبارہ پیدا کردیں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنے کا ہم نے ذمہ لیا ہے۔ ہمیں یقینا یہ کام کرنا ہے۔ ‘‘
نتیجہ
غور کریں کہ مندرجہ بالا آیات میں کتنے الفاظ فنِ تعلیم کے حوالے سے آئے ہیں:
(درس) پڑھنا پڑھانا۔ (تعلیم) تعلیم۔ (قرأت) پڑھنا۔ (تلاوت) خوش الحانی سے پڑھنا۔ (حفظ) یاد کرنا۔ (کتابت) لکھنا۔ (خط) لکھائی یا خطاطی ۔ (کاتب) لکھنے والا۔ (املا) لکھوانا۔ (لوح) تختی۔ (قرطاس) کھلا کاغذ۔(رق) نرم کاغذ۔ (کتاب) دفتر یعنی بندھے ہوئے کاغذوں کے معنی میں۔ (سجل) طومار۔(سطر) لکھی گئی لکیر۔ (مرقوم) رقم شدہ یعنی نمبر وار یا ترتیب وار لکھائی۔ (نسخہ) نقل شدہ لکھائی۔(قلم) قلم۔ (مداد) سیاہی یا روشنائی۔
کثیر تعداد میں ایسے الفاظ کا قرآن کریم میں نہ صرف ذکر ہونا بلکہ تعظیم کے ساتھ ذکر ہونے سے ہمیں اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام الفاظ اور ان کا سیاق و سباق کلامِ الٰہی یعنی وحی اور علوم ِدین سے متعلق ہے۔ جس سے دوسرا نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام میں علم سے مراد بنیادی طور پر علمِ شرعی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ نزول ِقرآن تک فنِ تعلیم اور وسائل ِتعلیم کافی حد تک معروف و مشہور تھے اور پڑھنا لکھنا خصوصاً جس کا تعلق علوم ِالٰہیہ سے ہے کوئی اجنبی عمل نہ تھا۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



