نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا! [چراغِ راہ | ۱۰]

by اسامہ محمود
in فروری تا اپریل 2021, فکر و منہج
0

شیخِ مکرم، استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ نے یہ سلسلۂ مضامین ’اصحاب الاخدود‘ والی حدیث کو سامنے رکھ کر تحریر کیا ہے۔ (ادارہ)


ایمان اور ابتلاء، ساتھ ساتھ

نوجوان بادشاہ کےدینِ باطل کا باغی جبکہ راہب کے دین ِحق کا سپاہی بنتاہے اورپھر اللہ کی غلامی کی دعوت لےکر وہ میدان میں اترتاہے،اس کے ہاتھ پر اللہ کرامتوں کا ظہور کرتاہے، معاشرے کے رکے پانی میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور اس کی دعوت لوگوں کے دل و ذہن پر دستک دینے لگتی ہے ۔ راہب کو جب اس کی اس دعوت وتحریک کا علم ہوجا تا ہے تو وہ اسے کہتا ہے:

’’أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي‘‘میرے بیٹے! آج تم مجھ سے افضل ہو،’’قَدْ بَلَغَ مِنْ أَمْرِكَ مَا أَرَى‘‘میں دیکھتاہوں کہ تمہار۱ معاملہ بہت آگے پہنچ گیاہے ۔ ’’وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى‘‘اور تم پر جلد آزمائش آئے گی، ’’فَإِنْ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ‘‘ پس جب تمہارے اوپر آزمائش پڑے تو تم میرا نام نہ لینا۔

راہب کی یہ گفتگو آئندہ تین حلقوں کا محور ہے اور ’’وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى‘‘، ’’اور تم پر جلد آزمائش آئے گی‘‘ کے ضمن میں تاریخ ِ ایمان کا یہ سبق اس کا موضوع ہے کہ راہِ حق کے ساتھ ابتلاء اورایمان کے ساتھ آزمائش کا تعلق براہِ راست اور چولی دامن کا ہے ۔جو جتنا صاحب ِ ایمان ہوگا اور جتنا راہ ِ ہدایت پر گامزن ہوگا ، اُتنا اس کی آزمائش زیادہ ہوگی ۔راہب کو بھی اس حقیقت کا علم تھا ، اس نے نوجوان کوبھی کہا کہ تم افضل ہو ، لوگوں کی ہدایت کے لیے میدان میں اترنا کوئی معمولی کام نہیں، یہ چونکہ انتہائی عظیم کام ہے اس لیے تمہیں بہت ساری سختیوں سے گزرنا ہوگا۔ راہب کی بات عین صحیح ثابت ہوئی ۔بادشاہ نے نوجوان کا جینا حرام کر دیا، اسے طرح طرح کی اذیتیں دیں ،اسے قتل کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے اور بالآخر بادشاہ ہی کے ہاتھوں اس کی شہادت بھی واقع ہوئی ۔سچ یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ عہدِ بندگی نبھانے کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ، بلکہ یہ پھولوں کی جگہ کانٹوں سے بھرا ہوا ہے؛ اس راستے میں کشمکش ، مصیبت ، اجنبیت ، تکلیف ، پریشانی ، مار ، قید ، فاقہ، جلاوطنی اور موت کا سامناکرنا سب سنگِ میل ہیں ۔ جو بھی اللہ کو راضی کرنے اور اس کی جنتوں کو پانے کی خواہش میں سنجیدہ ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھے، یاد رکھے اور اس متعلق اُس تصورکو دل و ذہن میں تازہ رکھے جو اللہ کی کتاب اور انبیاء ، صدیقین،شہداء اور صالحین کی سیرتوں پر مشتمل ایمان کی پوری تاریخ ہمیں سمجھاتی ہے ۔

جب ایمان کی ناقدری ہوتی ہے!

ایمان اللہ کی طرف سے عظیم ترین امانت ہے اور اس کی حفاظت ہی کے بدلے میں اللہ نے اپنی رضا اور انعامات کا وعدہ کیا ہوا ہے ۔اللہ کی کتاب بتاتی ہے کہ یہ انعامات صرف اُن رجالِ کار ہی کو نصیب ہوتے ہیں جنہیں اس امانت کی قدر و قیمت کا ادراک ہو اور جوسمجھتے ہو ں کہ چونکہ اس کے بدلے میں اللہ کی دائمی جنتوں اور اس کے وجہ ِعظیم کا دیدارنصیب ہونا ہے، اس لیے اس کاحق ادا کرنا کوئی معمولی کام نہیں ۔پس ایسے رجال کے سامنے ان کی زندگی کا اہم ترین مقصد اس امانت کی حفاظت اور اس کے تقاضوں کاپورا کرناہوتا ہے ۔پھر اس سعی وعمل میں چاہے جتنے بھی اتار چڑھاؤ آجا ئیں اور سفر چاہے جتنا بھی طویل اور کٹھن ہو جائے ، ان کے ایمان اور عزم و ارادے میں کمی نہیں آتی۔ نہ مصائب و تکالیف انہیں راہِ راست سے ہٹاتی ہیں اور نہ ہی دنیا کی وسعت ورنگینی انہیں کبھی دھوکے میں مبتلا کرتی ہے ۔ نعمتیں ان کو ملیں اور خوشی و راحت سے وہ گزریں یا محرومیوں کا وہ سامنا کریں اور تنگی و مصائب ان کے نصیب میں ہوں ، وہ دونوں صورتوں کو اپنے لیے امتحان سمجھتے ہیں ، شکر وصبران کا توشۂ سفر ہوتا ہے اور یوں ہر مصیبت اور ہر ابتلاء راہِ حق پران کے قدم مزید جمانے اور اللہ کے ساتھ محبت کو پہلے سے کہیں زیادہ گہری کرنے والی ہوتی ہے۔اس کے برعکس جن کے ہاں ایمانی مطالبات روپے پیسے کی تجارت کی مانندبس سود و زیاں کے پیمانوں سے پرکھے جاتے ہوں ، ان کا سفر اگر طول پکڑے اور راہ حق پر ان کے لیے ناگواریاں بڑھ جائیں تو قدم رک جاتے ہیں ، اللہ کے وعدوں پر شک ہونے لگتا ہے، چستی سستی اور ہمت کم ہمتی میں تبدیل ہوجاتی ہے اورجو سفر موت تک اللہ کی بندگی کے عہد سے شروع ہوا تھا وہ منزل سے پہلے ہی بیچ راستے میں تمام ہوجاتا ہے۔اللہ رب العزت ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ؀(سورۃ الحج: ۱۱)

’’ اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو ایک کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ چناچہ اگر اسے (دنیا میں) کوئی فائدہ پہنچ گیا تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آگئی تو وہ منہ موڑ کر (پھر کفر کی طرف) چل دیتا ہے۔ ایسے شخص نے دنیا بھی کھوئی، اور آخرت بھی۔ یہی تو کھلا ہوا گھاٹا ہے۔‘‘

اس انجام ِ بد کا سبب کیا ہے؟ سبب ایمان کی ناقدری اور راہ ِ حق کے متعلق غلط فہمی ہے ۔ جنتوں کو ناگواریوں نے ڈھانپا ہے مگرجب اس کو پانے کے لیے کسی قسم کی ناگواری قبول نہ ہو اور ساری پریشانیاں مچھر کے پر کے برابر حیثیٹ والی دنیا کے لیے ہوں ، سنجیدگی و رنجیدگی اور محنت و مشقت، منصوبے اورتدبیریں سب اس بے اعتبار دنیا کی خاطر ہوں جبکہ غیر سنجیدگی ،عدم دلچسپی ، خوش گمانی اور سُستی و بےکاری سب آخرت کےحصے میں ہوں تو یہ بتاتا ہے کہ اصل قدر اس دھوکے گھر ،دارِ غرور کی ہے جبکہ حقیقی اور دائمی منزل کی نہ فکر ہے اور نہ قدر ۔یہ قدر و ناقدری ایمان و یقین کا پتہ بھی دیتی ہے کہ کس زندگی پر یقین ہے اور کون سی کے متعلق شک ہے۔

سودا معمولی نہیں !

دنیا میں کسی بھی قسم کا نفع اور کوئی بھی قیمتی چیز ایسی نہیں کہ جو بغیر مشقت اور بِنا اس کی قیمت ادا کیے مل سکتی ہو ۔ایسے میں ایمان کہ جس سے زیادہ قیمتی نعمت پوری کائنات میں کوئی نہیں، کیا تکلیف اٹھائے بغیر مل سکتا ہے ؟کیا اللہ کی وہ دائمی نعمتیں جو کسی آنکھ نے نہ دیکھی ہیں ، کان نے نہ سنی ہیں اور نہ ہی جن کا دنیا میں کوئی تصور کر سکتا ہے ، محض یہ کہہ دینے سے مل جائیں گی کہ ’میں مسلمان ہوں ‘؟ نہیں ایسا کیسے ہو سکتاہے؟ ،اللہ کا یہ سودا سستا نہیں ہے ۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : ’’ألا إن سلعۃ اللہ غالیہ‘‘ ، ’’جان لو ! اللہ(کی جنتوں ) کاسودا بہت مہنگا ہے ‘‘۔ یہ جنتیں اپنی تمناؤں اور خواہشات کا خون کیے بغیر نہیں ملا کرتیں، یہ تو جسم ٹکڑے کروانے اورسب کچھ اللہ کے حوالے کرنے اور اس کی خاطر لٹانے کے بعد اللہ دیتے ہیں ،ان کا راستہ مصائب و ابتلاءات سے بھرا ہوا ہے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس پر دودھ پینے اور خون دینے والے عاشق دونوں ساتھ ساتھ چلیں اور دونوں کا انجام بھی پھر ایک ہی طرح کا ہو؟! اللہ کے بندوں اوردنیا کے بندوں وغلاموں کاجب مقصد ایک نہیں ، ہدف ایک نہیں ، پھر منزل کیوں کرایک ہوگی ؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ایمان محض معلومات میں اضافے کا نام نہیں کہ کسی شخص نے کچھ سنا پڑھا، چند باتوں کی تائید اور بعض کی تردیدبس کردی اورپھر ا س کا پورا سفرِ ِزندگی اُسی ڈگر پر رواں دواں ہو جس پر ایمان سے محروم لوگوں کا ہوتا ہے ۔نہیں !یہ ایمان اللہ خالق السماوات کے ساتھ عہد ہے اور اس میں محبت و نفرت بھی ہے، دوستی و دشمنی بھی ہے اور حرکت و جہاد بھی ہے ، یہاں تو قدم قدم پر وہ امتحانات و ابتلاءات ہیں جن سے گزرکر پتہ چل جاتا ہے کہ کون اللہ کا سودا لینے میں سنجیدہ ہے اورکون اپنی نظریں ذلیل دنیا سے اوپر نہیں اٹھاتا۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا، ’’ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ محض زبان سے یہ کہہ دینے سے کہ ’میں ایمان لایا ہوں ‘(وہ چھوڑ دیے جائیں گے)‘‘، وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ’’اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟‘‘۔ نہیں ! وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ’’ہم نے ان سے پہلے والوں کو بھی آزمایا‘‘؛یہ میری سنت ہے ، تم سے پہلے جو گزرے ہیں انہیں بھی آزمائش کی بھٹی سے گزارا ہے، فَلَيَعْلَمَنَّ اللّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ، ’’پس اللہ ضرور معلوم کرکے رہیں گے کہ کون (اس دعوائے ایمان میں) سچا ہے اور کون جھوٹا‘‘۔عربی میں ’فتنہ‘ دھات ؍سونے کو آگ کی بھٹی میں خوب دہکاکر اس کے اصل اور ملاوٹ کو جدا کرنے کے عمل کو کہتے ہیں ۔گویا مصائب و ابتلاء کے اندرانسان کے اندر کی حقیقت اللہ کھول دیتا ہے۔ یہ اہل ایمان کی اللہ سے محبت کو بڑھاتی ہے ، ان کے یقین کو قوی کرتی اور ان کے اعمال کو پاک کرتی ہے جبکہ جن کے دل شک ، اللہ سے بدگمانی اور دنیا کی چاہت میں لتھڑے ہوں ، امتحان ان کے چہرے کا بہروپ بھی اتاردیتا ہے۔ جنتوں تک پہنچنے کے لیے امتحانات کی بھٹی سے گزرنے کایہ مفہوم اللہ رب العزت نے اپنی کتاب ِ عظیم میں متعدد جگہ بیان کیا ہے ۔ کہیں مطلق ابتلاءو آزمائش سے گزارنا ضروری قرار دیا ہے تو کہیں نصرت ِ دین میں مصائب و آلام اور جہاد و قتال کا ذکر کرکے فرمایا ہے کہ ان آزمائشوں پرصبر دکھائے بغیر اللہ کی جنتوں میں جانا تمہاری نری خوش گمانی ہے ۔1

تاریخ ایمان کا سبق

کسی راستے پر اگر پہلےگزرے ہوئے لوگ بلا کسی زیادہ تکلیف ا ورپریشانی منزل تک پہنچے ہوں تو نئے جانے والے کوئی بڑی مصیبت دیکھتے ہی سوچیں گے کہ راستہ آسان تھا مشکل کیوں ہوا اور اگر ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری مشکل کا بھی اس پر سامنا ہوتا ہے توبہت احتمال ہے کہ وہ رک کر واپسی کی فکر بھی شروع کردیں گے ۔اس کے برعکس جس سفر کی تاریخ ہی یہ ہو کہ اس پر جو بھی گئے ،ہلا مارنے والی سختیاں جھیل کر گئے ، سخت گھاٹیوں اوربہت سارے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرکے گزرے، قسم قسم کے مصائب و آلام برداشت کرنے کے بعد ہی انہیں منزل ملی ، تو ایسے راستے پر اگر کسی کو آزمائش کا سامنا ہوگا تو وہ گھبرائیں گے نہیں ، مایوس ہو کر واپس نہیں پلٹیں گے، وہ تو الٹا ہر تکلیف کو سنگ میل سمجھیں گے اور ’ ’راستہ یہی ہے‘‘﴿هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ!!﴾ کہہ کر ہر دفعہ گرنے کے بعد دوبارہ اٹھیں گے۔ اہم بات یہ کہ اس سفر کے لیے نکلیں گے بھی صرف وہ افراد جن کا منزل تک جانے کا عزم پکا ہو اور یہ عزم و محبت ہی ہوگی جو انہیں بار بار گرنے کے بعدبھی دوبارہ کھڑا کرےگی ۔مگر جن کا منزل سے تعلق بس زبان کی نوک پر ہو ، وہ ظاہر ہے چند گام بھی آگے نہیں چل پائیں گے ۔

رستے میں جو کانٹے آئے، پھولوں سے گو زیادہ تھے
منزل کے متلاشی چلتے رہنے پر آمادہ تھے

یہی راہ حق کی مثال ہے ۔اللہ کی کتاب کہتی ہے کہ تم نے اگر واقعی جنتوں میں جانا ہے تو سنو! تم سے پہلے جو گئے ہیں ، ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے ، ہلامارنے والی مشاکل جب انہوں نے برداشت کیں توتب جا کر انہیں یہ منزل ملی ۔

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللّهِ قَرِيبٌ؀ (سورۃ البقرۃ: ۲۱۴)

’’ (مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ “ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟” یا درکھو ! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔ ‘‘

پھریہ تاریخِ ایمان یہ بھی بتاتی ہے کہ یہاں جو جتنا اللہ کا محبوب تھا، جتنا ایمان و عمل میں خالص تھا ، اُتناہی وہ زیادہ ابتلاءات سے گزرا ۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً؟ کس نے زیادہ ابتلاءات جھیلی ہیں ؟کون زیادہ آزمائشوں سے گزرے ہیں؟ قَالَ:الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ، ’’فرمایا؛انبیاء پھر صلحاء اور پھر لوگوں میں جو (قلب و عمل میں ) جتنا ان کے قریب تھا اُتنا وہ آزمائش سے بھی گزرا ہے‘‘ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، ’’آدمی کو اس میں موجود دین کے مطابق آزمایا جاتاہے‘‘، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلابَةٌ زِيدَ فِي بَلائِهِ، ’’اگر وہ دین میں قوی ہو تو آزمائش میں اضافہ کیا جاتاہے ‘‘ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ، ’’اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کی آزمائش بھی کم کی جاتی ہے ‘‘، وَمَا يَزَالُ الْبَلاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ، ’’اور ایک بندے پر آزمائشیں ڈالی جاتی ہیں یہاں تک ایک وقت آتا ہے جب وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے ‘‘۔انبیاء کی تاریخ دیکھیے، ابراہیم علیہ السلام اللہ کے خلیل ، ابوالانبیاء اور متقین کے انتہائی عظیم امام تھے ۔ کیا آپؑ کو یہ مرتبہ بلا تکلیف ملا ؟ نہیں ، مرتبے کہاں مفت میں ملتے ہیں؟ آپؑ آگ میں ڈالے گئے ، ہجرت و جلاوطنی سے گزارے گئے، محبوب اور اکلوتے بیٹے تک کو قربان کرنے کا آپؑ کو امر ہوا اور آپ نے دل پر پتھر رکھا اور چھری لےکر اپنے بیٹے کے گلے پر پھیرنے لگے ۔ یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں بیٹے کے فراق میں چلی گئیں، یحیی ٰ علیہ السلام کا سر کاٹا گیا، یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈالا گیا ، کئی سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور انتہائی خطرناک امتحان(عزیزِ مصر کی بیوی کے فتنے ) میں بھی اللہ کے شاکر بندے رہے ،ایوب علیہ السلام بیماری کے طویل اور انتہائی تکلیف دہ امتحان سے گزرے، یونس علیہ السلام پانی میں گرائے گئے اور مچھلی کے پیٹ میں پہنچے ، نوح اور لوط علیہما السلام کی زندگی کے سینکڑوں سال قوم کی بداخلاقی اور مخالفت برداشت کر کے گزرے ، موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ہاتھوں بے حساب اذیتیں اٹھائیں……بلکہ حق تو یہ کہ اللہ کے ان انبیاء اور اولیاء میں کون بغیر تکلیف کے گئے؟ ایمان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایمان والے آگ کے گڑھوں تک میں زندہ ڈالے گئے ہیں مگر انہوں نے ایمان سے ہٹنا گوارا نہیں کیا ۔ ان کے جسموں کو آروں سے چیر ا گیا لیکن وہ استقامت کے پہاڑبنے رہے۔ حضرت خباب رضی اللہ کی حدیث ذہن میں ہو کہ جب آپ ﷺ نے انہیں یہ حقیقت فرمائی اور آخر میں فرمایا ولکنکم تستعجلون!’لیکن تم عجلت کرتے ہو‘ نتائج جلد از جلد دیکھنا چاہتے ہو! یہ تاریخ ِ ایمان ہے اور یہ بتاتی ہے کہ اللہ کی بندگی بہت ہی بڑی ذمہ داری چاہتی ہے ۔ اس کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر ہے یہی جنت کا راستہ ، یہی صراط مستقیم ہے !! ایمان کے اس سفر میں آزمائش ایمان کے بقدر ہوتی ہے ،جو جتنا ایمان میں قوی ہوتا ہے اُتنی اس کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے اور جب وہ آزمائش پر صبر کرتا ہے اور اپنے لیے کوئی ایسا راستہ نہیں کھول لیتا ہے جو اللہ کو ناپسند ہو تو اس کے درجات میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا ایمان مزید قوی ہوجاتا ہے ۔ گویا یہاں ایمانی ترقی کی سیڑھیاں ابتلاءات پر صبر ہے ۔ جو جتنا صبر کرتا ہے ،اُتنا اس کے ایمان میں اضافہ کیا جاتاہے۔

آزمائش سے فرار نہیں ممکن……!

اللہ کی کتاب اور احادیث مبارکہ میں اہل ایمان کو عافیت مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اللہ کی رضا میں سختیاں برداشت کرنا یقیناًبہت اجر رکھتا ہے مگر انسان کمزور ہے اور صبرآسان نہیں، نہیں معلوم کہ کون سی سختی انسان کے ایمان و عمل صالح تک کو بھی خطرے میں ڈالے ،اس لیے بندے کو اپنی طرف سے آزمائش کی تمنا نہیں کرنا چاہیے۔مگر اللہ رب العزت فرماتے ہیں ﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّاوَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ﴾’’ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ محض زبان سے یہ کہہ دینے سے کہ ’ہم ایمان لائے ‘(وہ چھوڑدیے جائیں گے)اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا‘‘یہ آیت کہتی ہے کہ بندے کی ساری کوششیں اور آزمائش سے بچنے کی ساری تدبیریں ناکام ہوں گی اور وہ امتحان کا سامنابہرحال کرے گا۔گویا بندہ اللہ سے ایمان مانگتا ہے مگر اس سودے میں دوسری طرف سے، اس کی چاہت و مطالبہ کے بغیر آزمائش و ابتلاء بھی ساتھ دی جاتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو پھر بندے پر فرض ہوجاتا ہے کہ ساتھ ملنے والی اس آزمائش پر وہ جز بُزنہ ہو ، اس کے قدم نہ ڈگمگا ئیں، ایمان اور اس کے لوازم سے فراراختیار نہ کرے ۔شیخ ابو قتادہ کہتے ہیں ’کہ ہدایت پر فائز شخص حق سے کبھی بھی اس کے ساتھ جڑی آزمائش کی وجہ سے نہیں بھاگتا،اس لیے کہ وہ جانتاہے کہ اس آزمائش (پر صبر) کا انجام ہدایت، علم اور تقویٰ ہوتا ہے اور یہ وہ تین صفات ہیں جو دین میں امامت کے ارکان ہیں‘‘۔لیکن اس کے برعکس اگر تکلیف و ابتلا دیکھ کر انسان ایمان کے مطالبات سے بھی فرار اختیار کرتا ہے اور اللہ کے اوامر کو بھی پس پشت ڈالتا ہے تو ایسا کرنا دعوائے ایمانی کی تصدیق نہیں ہے اور بندہ جتنا ایمانی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا اُتنا ہی وہ ایمانی حقیقت سے بھی دورہوجاتا ہے۔ شیخ ابوقتادہ ایک اور جگہ (سورۃ العنکبوت کی تفسیر میں) کہتے ہیں کہ’’ ایمان و تسلیم کے معاملے میں خلانام کی کوئی شے نہیں ، یعنی ایسا نہیں کہ انسان ایمان کی کسی حقیقت کو قلب و عمل سے نکالتا ہے اور ایمان کا الٹ اس کی جگہ نہیں لے لیتا ہے ۔ نہیں! ایمان جتنی جگہ سے نکل جاتا ہے اس کا مقابل اس جگہ کو گھیر لیتا ہے ۔ ایمانی شروط اگر پورے نہیں ہو رہے ہوں تو اس کی جگہ کفر لیتاہے ، واجبات اگر عمل میں نہیں لائے جا رہے ہوں تو فسق اپنی جگہ بنا لیتا ہے اور اگر مستحبات پر عمل نہیں ہو رہا ہو تو اُس قدر اللہ کی قربت سے محرومی واقع ہوجاتی ہے ، جیسا کہ حدیث بھی ہے کہ بندہ فرائض کے بعد نوافل مستحبات کے ذریعہ اللہ کے قریب ہوجاتاہے۔گویا اگر وہ نوافل نہیں ادا کرتا تو اُتنی قربت سے وہ محروم رہے گا‘‘ ۔لہٰذا مومن سے مطلوب یہ ہے کہ اندیشۂ سود و زیاں کو ایک طرف رکھ کر اپنی نظر ایمان کی حفاظت پر رکھے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں لگ جائے ، چاہے ایسا کرتے ہوئے اسے تکلیف کا سامناہی کیوں نہ ہو ۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ بڑی پیاری بات فرماتے ہیں، آیت ﴿وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئاً وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ نقل کر کے وہ کہتے ہیں: ’’بندہ جب اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے کہ اس کے نزدیک جو کام ناپسندیدہ ہو، اس کا انجام انتہائی خوشگوار بھی ہوسکتا ہے اور اس کے نزدیک انتہائی محبوب حالت بھی بہت ہی ناپسندیدہ نتیجہ برآمد کر سکتی ہے تو پھر بندہ من پسند حالات سے بھی کبھی مطمئن نہیں ہو تا اور انتہائی ناپسندیدہ حالات میں بھی کبھی وہ مایوس نہیں ہوتا کہ وہ نہیں جانتا کہ پریشان کن حالات اور جن کو وہ اپنے لیے مصیبت سمجھتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ وہ بھی بالآخر خیر اور خوشی پر ختم ہوں ۔چونکہ انجام ِکا ر کا علم انسان کے پاس نہیں ،بلکہ انسانوں کے رب اللہ کے پاس ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بندہ حالات کو دیکھے بغیر ، کہ وہ اچھے ہیں یا برے ، اپنی نگاہوں کا مرکز اور کوشش کا ہدف بس اللہ کے احکامات کی بجاآوری بنائے، چاہے ایسا کرنا مشکل ہی کیوں نہ ہو۔ کون سی حالت انجام کے لحاظ آپ کے لیے باعث مسرت ہے اور کون سی غم و تکلیف کا سبب ،اس کا علم چونکہ آپ کے پاس نہیں ، اس لیے اس میں تو شک ہو سکتا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ کے اوامر پر عمل کا انجام ہمیشہ ہی فرحت و مسرت اور خیر و لذت ہوتا ہے، چاہے یہ وقتی طور پر مشکل ہی کیوں نہ ہو ‘‘2۔عقل کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ کسی کام کے کرنے ، نہ کرنے کا پیمانہ کام کی سختی و آسانی نہ ہو بلکہ وہ کام ’کتنا مفید، کتنا ضروری اور کتنا اہم ہے ‘ اس کو دیکھ کر فیصلہ ہو ۔ کڑوی دوا کیا کوئی سمجھ دار آدمی محض اس وجہ سے چھوڑسکتا ہے کہ یہ کڑوی ہے؟

ابتلاء کی حقیقت اور ضرورت

ابلیس کے شیطانی لشکر،انسان کے ہوں یا جنات کے ، انہیں پیدا کرنے والا اللہ ہے ، طاقت بھی اللہ نے دی ہوئی ہے اور اللہ ہی کی مشیت سے یہ اہل ایمان کے خلاف لڑ بھی رہے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں : ﴿ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ﴾’’ ہم نے ہی ہر نبی کے مقابلے کے لیے شریر انسانوں اور جنوں کی صورت میں دشمن بنائے‘‘ ﴿يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا﴾’’جو ایک دوسرے کو خوش نما پُرفریب باتیں وسوسہ کرتے ہیں ‘‘﴿ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ﴾’’اور اگر تیرا رب چاہتا تو یہ کبھی (انبیاء کے خلاف یہ جنگ وفساد ) نہیں کر سکتے تھے ‘‘۔مومنین کی اجنبیت ، ان کی مادی کمزوری جبکہ اللہ کے دشمنوں کی طاقت و ترقی پردل دکھی ضرور ہوتا ہے،مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ چاہے تو کفار کی یہ سب شان و شوکت ایک ثانیے میں سُپر سے صفر ہوجائے اور وہ رب قدیر ایک کُن کہے تو ان کے دماغ و اعضاء مفلوج جبکہ تمام وسائل و ٹیکنالوجی کام چھوڑ جائیں ۔اللہ کے لیے یہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ اللہ القابض بھی ہے اور الباسط بھی ! قوت و صلاحیت سلب کرنے والا بھی وہ اللہ ہے اور یہ سب کچھ دینے والی بھی وہی اللہ کی ذات ہے ۔کفر کو اگر یہ طاقت و سطوت دی گئی ہے تو مقصد اہل ایمان کے ایمان کا امتحان ہےکہ ان دشمنان دین کی دشمنی کے مقابل وہ بندگی ٔ رب پر ڈٹتے ہیں ، صبر کرتے ہیں یا بے صبر ے ہوکر ان کفار کے سامنے جھکتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق ہیں اوراللہ کی مرضی کے سامنے عاجزہیں؟﴿ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا﴾’’ اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ بتاؤ کیا صبر کرو گے ؟اور تمہارا پروردگار ہر بات دیکھ رہا ہے ‘‘۔ ﴿ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لِيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ ﴾’’ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (تمہیں یہ حکم اس لیے دیا ہے) تاکہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعے امتحان لے ‘‘۔ پس اہل ایمان ان لشکروں کو دیکھ کر نہ پریشان ہو تے ہیں اور نہ ہی مرعوب ۔ظاہر ہے ان کی اصل ڈوریں اللہ کے پاس ہیں ، وہ انہیں ڈھیل دیتے ہیں تو یہ مومنین پر حملہ ور ہوتے ہیں اورانہیں تکلیف دیتے ہیں ۔ لیکن اگر مومنین اللہ کے اوامر بجا لاتے ہیں، اعداد و قتال کا فریضہ نبھاتے ہیں ، قربانیوں اور مصائب و آلام کے باوجود حق پر ثابت قدم رہتے ہیں توپھر وہ رب ان کی ڈوریں کھینچ لیتا ہے۔ یہ جنگ و کشمکش اور مصائب و آلام مومن کو مزید اللہ کے قریب کرتے ہیں، وہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ، پس وہ اللہ ہی پر بھروسہ کرتاہے اور اسی کی اطاعت و محبت میں پناہ ڈھونڈتا ہے ۔وہ جانتا ہے کہ یہ بھٹی ٹھنڈی نہیں ہوتی ہے، کبھی ایک صورت میں تو کبھی دوسری میں یہ گرم رہتی ہے ۔ اہل ایمان اس سے گزر کر صدق و وفا کے پیکر بنتے ہیں ، ان کی اس ذریعے تربیت ہوتی ہے ، ان کا ایمان بڑھتا ہے اور بالآخر اسی ہی سے گزر کر وہ اپنے رب کی دائمی جنتیں پاتے ہیں ۔ گویا یہ آزمائش ہی ہے جو مومن کو نکھارتی، قوی کرتی اور رب کی قربت اور محبت عطا کرتی ہے ۔جبکہ جہاں تک اس ذلیل دنیا کے اُن اسیروں کا تعلق ہے کہ جن کی نظریں دنیا سے باہر نہیں دیکھتیں ، اُن کا اخلاص آزمائش کی کسوٹی کے ساتھ لگتے ہی کھوٹا ثابت ہوجاتا ہے ۔ شہید سید قطب رحمہ اللہ اہل ایمان کے لیے آزمائش کی ضرورت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں:

’’انسان کو آزمائش و ابتلاء کی بھٹی سے گزارنا انتہائی ضروری ہے ۔ حق کامعرکہ لڑنے والوں کو اللہ خوف و خطر میں مبتلا کرکے ، مصائب اور بھوک سے گزار کراور جان و مال کانقصان دےکر ان کے عزمِ صمیم کا امتحان لیتا ہے۔ ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ؀﴾ابتلاء ضروری ہے تاکہ اہل ایمان ۱پنے عقیدے کی قدرو قیمت پہچانیں ،کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ جواپنے عقیدے کی وجہ سے جتنی زیادہ تکالیف سے گزرتا ہے اُس کو اپنا عقیدہ اُتنا ہی زیادہ عزیز ہوجاتا ہے۔جبکہ وہ عقیدہ تو بہت ہی سستا ثابت ہوتا ہے جس کی خاطر تکلیف نہ اٹھائی گئی ہو۔ ایسا فرد مصیبت کے آغازہی میں اپنا عقیدہ دور پھینک دیتاہے۔ پس ابتلاء عقیدے کی وہ بنیادی قیمت ہوتی ہے جو دوسروں سے پہلے خودصاحبِ ایمان کے دل میں عقیدہ کی قدر پیدا کرتی ہے ۔دوسرے لوگ عقیدے کی قدرو قیمت صرف اُس وقت ہی سمجھ سکتے ہیں جب وہ دیکھ لیں کہ اس نظریے و عقیدہ کا دعویٰ کرنے والے اس کی خاطر مصائب و آلام کی دہکتی بھٹی میں ڈالے گئے مگر وہ پھر بھی ثابت قدم رہے ۔پھر ابتلاء خود اصحابِ عقیدہ کو بھی مضبوط کرتی ہے اور ان کے اندر کی اُن خفیہ قوتوں کو جگا دیتی ہے جن کا آزمائش سے پہلے کوئی گمان بھی نہیں کرسکتا ہے، اس طرح ان کے دلوں کے اندر (خیر اور معرفت الٰہی کے) وہ نئے چشمے صرف اُس وقت ہی پھوٹتے ہیں جب راہ حق میں ان کے دلوں پر بھاری ہتھوڑوں سے ضربیں لگیں ۔ اس طرح ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک مومن کے دل میں اسلامی اقدار ، اس کے مبادی اوربنیادی تصورات اُس وقت تک صحیح نہیں بیٹھ سکتے ہیں جب تک کہ وہ آزمائش ومصائب کا سامنا نہ کرے۔ یہ ابتلاء ہی ہے جو اس کی آنکھوں کا میل ہٹاتی اور دلوں سے زنگ اتار تی ہے ۔پھر ان سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آزمائش کے وقت دیگر سارے سہارے غائب ہوجاتے ہیں اور صرف اللہ کا سہارا رہ جاتا ہے ، سارے الٹے سیدھے اوہام اور (غیر اللہ سے بندھی ہوئی ) امیدیں دم توڑ جاتی ہیں اور دل صرف ایک اللہ کی طرف اس حال میں متوجہ ہوجاتاہے کہ جہاں اللہ کے سایۂ رحمت کے سوا پھر کوئی سایہ نہیں ہوتا۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب تمام پردے جل کر ہٹ جاتے ہیں ، بصیرت صحیح طرح فعال ہوجاتی ہے تو آفاق سے بھی پار دور تک کام کرتی ہے اور یوں اللہ کے سوا کوئی نظر نہیں آتا ، اللہ کی طاقت کے سوا کوئی طاقت پھر نظروں میں نہیں جچتی ،اللہ کے سوا کسی کا کوئی اختیار پھردکھائی نہیں دیتا ، پناہ ہوتی ہے تو صرف اللہ کی اور اس کے سوا کسی کی پناہ نہیں ……اللہ نے ابتلاء کو لازم ہی اس لیے کیا ہے کہ مجاہدین دوسروں سے چھانٹ لیے جائیں ، ان کا حال کھل کر واضح ہوجائے ، اہل ایمان اور اہل نفاق کی صفیں خلط ملط نہ رہیں،نہ منافقین اپنے آپ کو خفیہ رکھ پائیں اور نہ ہی وہ کمزور ایمان والے اوجھل رہیں جو ایمان کے راستے میں تکلیف آتے ہی چیخ و پکار شروع کردیتے ہیں ۔‘‘

افضلیت کا پیمانہ اور مطلوب طرز عمل

حدیث کے مطابق راہب نے نوجوان کو اپنے سے افضل جانا، کہا: أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي” میرے بیٹے! آج تم مجھ سے افضل ہو‘‘ ۔نوجوان عمر میں بھی راہب سے کم تھے اور ایمان میں بھی ابھی نئے تھے، پھر وہ افضل کیسے ہوئے؟ شیخ ابو قتادہ کہتے ہیں کہ اللہ کی ولایت اس کی اتباع ، اطاعت ، عبادت اور مجاہدے سے ہی ملتی ہے مگر اس میں اللہ کی طرف سے چناؤ (اصطفیٰ و اجتبیٰ) کا بھی دخل ہوتا ہے ۔اللہ کے ہاں یہ چناؤ بغیرکسی سبب کے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ضرور کوئی وجہ ہوتی ہے ۔پھر فرماتے ہیں کہ یہ دلوں کا معاملہ ہے اور اللہ دلوں کو دیکھ کر اپنے اولیاء چنتے ہیں ۔یعنی دل اگر زیادہ پاک ہو ، اللہ تعالیٰ کی محبت اس میں بھری ہو ،اہل ایمان کے لیے اس میں محبت جبکہ کفار کے لیے نفرت ہو ، حق کی نصرت و مدد کے لیے اس میں جرأت و ارادہ ہو اور اللہ کی رضا میں قربان ہونے کی شدید تڑپ ہو تو یہ وہ صفات ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور ان کے سبب اللہ کے ہاں فضیلت ملاکرتی ہے۔ راہب نے جب نوجوان کو اپنے سے افضل کہا تو اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ نوجوان تو انتہائی جرأت و بے خوفی سے نصرت دین کے لیے میدان میں اترے تھے جبکہ راہب نے خود اپنے لیے گوشہ نشینی میں عبادت کا رستہ چنا تھا ۔ پھر راہب اس خفیہ رہنے اور خطرات کا سامنا نہ کرنے کو اپنی دانشمندی نہیں کہتے تھے ،ان کے دین کا یہ صحیح فہم ہی تھا کہ وہ دعوت ِ دین دینا ، باطل کے سامنے ڈٹنا اور اس راستے میں مصائب جھیلنا اعظم اور افضل سمجھتے تھے ، مگر اپنی بشری کمزوری کے سبب باطل کے خلاف کھل کر کھڑے نہیں ہوئے تھے ۔ اس طرح یہ بھی قابل توجہ بات ہے کہ راہب کو نظر آیا کہ نوجوان پر آزمائش آئے گی ، وہ جانتے تھے کہ حق کی نصرت کے ساتھ آزمائش کا آنا یقینی ہے ،مگر اس کے باوجود اُنہوں نے نوجوان کو دعوتِ دین سے منع نہیں کیا، اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری وجہ سے چونکہ مجھ پر بھی آفت آسکتی ہے ،اس لیے تم بھی یہ کام چھوڑ دو۔ نہیں! جو خدمت دین اور نصرت ِ دین وہ خود نہیں کر سکتے تھے اس سے انہوں نے نوجوان کو بھی نہیں روکا ، نوجوان کی حوصلہ شکنی نہیں کی ۔ زیادہ سے زیادہ جو راہب نے مطالبہ کیا وہ یہ تھاکہ آزمائش کے وقت میرا نام نہیں لینا ۔ پھر اہم نکتہ یہ ہے کہ راہب اگر چہ آزمائش سے بچنے کی کوشش کررہے تھے ، مگر ان کی کوشش و خواہش کے برعکس انہیں بھی بالآخر آزمائش دیکھنی پڑی اور نوجوان کی گرفتاری کے بعد جب تشدد کے تحت نوجوان نے ان کا نام لے لیا تو انہیں بھی عقوبت خانے کے اندر جانا پڑا ۔ تب پھر آپ نے نوجوان کو برا بھلا نہیں کہا،اسے الزام نہیں دیا کہ تمہاری وجہ سے مجھ پربھی سخت دن آیا ۔ نہیں! ان کے سامنے ایمان کا یہ سبق تھا کہ آزمائش سے فرار کے باوجود بھی آزمائش راہ حق میں آہی جاتی ہے اور ایسے میں پھر صبر ہی سے اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ ملتاہے۔بندے کا چناؤ عافیت کا ہوتا ہے اور اپنی بشری کمزوری کے سبب ممکن حد تک بچنے کی بھی کوشش کرتا ہے لیکن اگر اللہ آزمائش لے آئے تو پھر اللہ کے چناؤ پر ہی راضی ہونے میں عافیت ہوتی ہے3۔ راہب نے بھی یہی کیا ، وہ سمجھ گئےکہ اُس کے حق میں اس کی تدبیر کی جگہ اللہ کی تدبیر زیادہ خیر والی ہے یوں وہ جب اللہ کی تقدیر پر راضی ہوئے تو اللہ نے شہادت کے مرتبہ سے انہیں سرفراز فرمایا۔

(جاری ہے ، ان شاء اللہ )


1 اللہ رب العزت کا فرمان ہے : أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّهُ الَّذِينَ جَاهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ؀ اس طرح فرماتے ہیں: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ……اور فرمان ہے: وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ

2 الفوائد

3 یہاں کلمۂ کفر بوجہ اکراہ کی گنجائش کا بھی کہاجا سکتا ہے مگر اکراہ کے اندر کلمۂ کفر کہنا ایک بات ہے اور باطل کے خوف سے اپنا دین چھوڑدینا ، حق کے خلاف صف آراء ہونا اور اہل باطل کو راضی کرنے کی کوشش کرنا بالکل دوسری بات ہے جس کو کسی بھی صاحب علم نے صحیح نہیں کہا ہے ۔

Previous Post

مکاتِب و مدارِس کی تاریخ | قسط اول

Next Post

مسلح جہاد کے بغیر تکمیلِ تبلیغ ممکن نہیں

Related Posts

اَلقاعِدہ کیوں؟ | چوتھی قسط
فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | آٹھویں قسط

15 فروری 2026
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط
فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول |تیسری قسط

15 فروری 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط

15 فروری 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | دسویں قسط

15 فروری 2026
حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط
فکر و منہج

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط

20 جنوری 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | نویں قسط

20 جنوری 2026
Next Post

مسلح جہاد کے بغیر تکمیلِ تبلیغ ممکن نہیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version