کرۂ ارض کے تقریبا ڈیڑھ ارب باسی (مسلمان) سال کے سب سے مقدس مہینے کو پہنچے ۔ رمضان المبارک و ہ مہینہ ہے، جس میں قرآن کریم نازل ہوا ۔ اس میں شیاطین جکڑے اور جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ماہ میں ہر عبادت، صدقہ اور نیکی کا کئی گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔
یہ مہینہ ہمیں یہ موقع فراہم کررہا ہے کہ ایک بار پھر اپنے معبود، خالق اور مالک ( اللہ تعالیٰ) سے اپنے ایمان اور بندگی کے کیے جانے والے وعدےکی تجدید کریں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، اپنے دلوں کو توبہ اور انابت کے آنسوؤں سے دھو ڈالیں اور رمضان المبارک کے روح پرور لمحات سے اپنے دل و روح کو روشن کرنے کا نفع اٹھائیں۔
اگرچہ عصرحاضر کا انسان مادی لحاظ سے بہت ترقی یافتہ ہے، مگر معنوی، روحانی اور اخلاقی لحاظ سے پہلے سے زیادہ پسماندہ اور غریب ہے۔موجودہ انسانیت نے اپنی تندرستی و سکون کے لیے بہت سے اسباب اور سہولیات مہیا کی ہیں، مگر ذہنی سکون میسر نہیں۔ ہم جنس پرستی اور لذت پرستی انسانی روح کے لیے عذاب بن چکے ہیں اور ذہنی بیماری،افسردگی اور نفسیاتی مسائل موجودہ انسانوں کا ناقابل تسخیر مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
اس پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ انسانیت نے دین سے روگردانی کی ہے۔ اپنے خالق،رازق اور پالنے والے رب تعالی کو فراموش کیا ہے۔ آسمانی قانون کی جگہ خودساختہ قوانین کی پیروی شروع کی ہے اور اس نے معنویت کی نسبت مادیت کو عظیم اور معتبر قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ لیکن تجربات نے ثابت کردیا کہ دیانت اور معنویت سے عاری مادیت پرستی کی راہ ایک خالی اور بےمعنی راستہ ہے،جس کا کوئی قابل قدر مقصد اور منزل نہیں ہے اور ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ مادہ پرستی کے اعتماد نے موجودہ انسانیت کو ایک عظیم بحران سے دوچار کیا ہے اور اطمینان اس سے چھین لیا ہے۔
رمضان المبارک کا پیغام یہ ہے کہ بھٹکی ہوئی انسانیت اپنی فطرت اور اصلیت کی طرف لوٹ آئے۔ اپنے کوتاہ فہم اور عقل پر غرور نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کےحضور سر جھکائے اور سرکشی اور نافرمانی سے باز آجائے۔
آئیے رمضان المبارک کے اس پیغام پر لبیک کہیں۔ خلوص دل اور ایمانداری سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان اور عبادت کے عہد کی تجدید کریں۔اللہ تعالیٰ کے بھیجے گئے قانون ( اسلامی شریعت) کو اپنی پالیسی کے طور پر قبول کریں اور شک، نفاق اور تذبذب کے گرداب سے اپنے خیالات اور اذہان کو پاک کریں۔
رمضان کی آمد کی مناسبت سے امارت اسلامیہ تمام مسلم امت کو مبارک باد پیش کرتی ہے اور اللہ تعالی سے التجا کرتی ہے کہ جیسا یہ مسلمانوں کے لیےامن و مسرت کا مہینہ ہے،ویسا ہی اللہ تعالی اسے مسلمانوں کے لیے عام خوشی، امراض و آفات سے نجات کا مہینہ بھی بنا ئے۔
مسلمان بھائیوں کو چاہیے کہ رمضان المبارک کا استقبال اعمالِ حسنہ، عبادات، صدقات، صلہ رحمی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں سے کریں۔ رحمت اور مغفرت کے اس عظیم موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



