جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے وصال سے تین روزقبل کہتے سنا کہ :
’’تم میں سے کوئی شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت نہ ہو، الا یہ کہ وہ اپنے رب سے حسنِ ظن رکھتا ہو۔‘‘ (صحیح مسلم)
حدیثِ قدسی میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھتا ہے۔ میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے خلوت میں یاد کرے تو میں اسے خلوت میں یاد کرتا ہوں، جلوت میں کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں، وہ میری جانب ایک بالشت آگے بڑھے تو میں ایک گز بڑھتا ہوں، وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں دوڑ کر اس کی جانب جاتا ہوں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اللہ کے بارے میں حسنِ ظن، ایمان باللہ کی بنیاد ہے۔ اس کی رحمت، جُود و سخا، اس کی ہیبت، اس کے قادرِ مطلق ہونے پر یقین؛ ہمارے عقیدے کا لازمی جزو ہے۔ مذکورہ بالا حدیث میں اللہ تعالیٰ صراحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں کہ عبد کو معبود کی بابت ہمیشہ بہترین گمان رکھنا چاہیے کہ اللہ کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ جب بندہ اللہ کو دل کے یقین کے ساتھ پکارتا ہے تو اس کا رب اس کی پکار کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا کہ یہ اس ذاتِ باری تعالیٰ کی شان کے بر عکس ہے کہ اس کا بندہ بہت مان سے دستِ سوال دراز کرے اور وہ عطا کرنے میں بخل کرے۔ وہ تو غنی اور علیٰ کل شئی قدیر ہے! اس کا بندہ جب بھول چُوک کر گزرے اور نفسِ لوامہ کی کی تنبیہ پر پلٹ کر اس غفور الرحیم کی جانب توبۃ النصوح کی نیت سے رجوع کرے تو اس کی شانِ کریمی جوش میں کیوں نہ آئے؟ اس کا بندہ اس کی رضا پانے کی طلب میں اعمالِ صالحہ کے لیے حریص ہو تو وہ جو ستّر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، کیوں اس کے اجر میں کمی کرے؟ بات صرف اس سے آس لگانے کی ہے کہ اس کے خزینے تو بھرے پڑے ہیں!
وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِنَّهٗ لَا يَايْـــــَٔـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ (سورۃ یوسف: ۸۷)
’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔‘‘
امام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ سے اچھی امید رکھنا تقویٰ سے مشروط ہےکہ ایک متقی انسان کو یقینِ کامل ہوتا ہے کہ اللہ سے بڑھ کر سچا قول اور کسی کا نہیں، لہٰذا اس کے کہنے کے مطابق اس سے خیر کی توقع رکھنے والا مراد کو پہنچے گا، ان شاء اللہ۔ اس کے بر عکس فاسق اور منافق انسان کا دل خطا کاری پر تکرار، ظلم اور نافرمانی کے باعث رحمتِ الٰہی سے متعلق سُوئے ظن کی کیفیت سے دو چار رہتا ہے، گناہوں کی سیاہی اس کے دل کو سخت کر دیتی ہے اور یہی چیز اس کو اللہ سے دور لے جانے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کی مثال اس بھگوڑے غلام کی سی ہے جو چاہے بھی تو اپنے آقا سے حسنِ سلوک کی توقع نہیں رکھ سکتا۔ بے شک اس کے اطاعت گزار بندے ہی اس کی بارگاہِ رحمت سے جھولی بھروانے کے امید وار ہوتے ہیں۔
وَيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكٰتِ الظَّاۗنِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ (سورۃ الفتح: ۶)
’’اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برا گمان رکھتے ہیں۔‘‘
امام حسن بصری رحمہ اللہ کے الفاظ میں مومن اپنے رب سے حسنِ ظن رکھتا ہے اس لیے نیکی کی تاک میں لگا رہتا ہے اور فاسق بدگمانی رکھنے کے باعث بد اعمالیوں میں گھرا رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ خود بدگمانی رکھنے والوں کے رویے کو منافقت کی علامت قرار دیتے ہوئے ملامت کرتے ہیں۔ جب وہ منافقین کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب سے غزوۂ احد کے موقع پر عین وقت پر بد عہدی کی:
وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(سورۃ آلِ عمران: ۱۵۴)
’’اور یہ معاملہ جو پیش آیا، تو یہ اس کے لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے ، اللہ اسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے، اسے چھانٹ دے، اور اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔‘‘
مختصر یہ کہ اللہ سے اچھا گمان رکھنا ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہماری امیدوں کا مرکز وہی ہستی ہو جو رحمٰن بھی ہے اور قہار بھی، لیکن ان صفات پر ایمان ہمارے یقین کو متزلزل نہ کرنے پائے کہ اگر ہم اخلاص کے ساتھ اس کی راہوں پر نکل پڑیں گے، گناہوں سے بخشش کے طلب گار ہوں گے اور نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے تو اس کی رحمت کو ان شاء اللہ، ضرور پا لیں گے کہ ہمارے گناہ آسمانوں اور زمینوں کی حدود تک چھا جائیں تو بھی وہ قادر ہے کہ ہماری گریہ و زاری کی شرفِ قبولیت سے سرفراز فرما دے۔ إنہٗ سمیعٌ مجیب الدعوات!
٭٭٭٭٭



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



