نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home اداریہ

لِغــيرِ اللــه لَـن نركـع!

by مدیر
in فروری تا اپریل 2021, اداریہ
0

مشرِق سے سورج كا طلوع ہونا اور مغرب میں اس کا غروب ہونا تو لائقِ بحث ہو سکتا ہے لیکن شرعاً، اخلاقاً و عقلاً یہ بات ہر شک و شبہ سے بالا ہے کہ آج ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ کا اقرار کرنے اور ’محمد رسول اللّٰہ‘ کے عشق کا دم بھرنے والے ہر شخص پر جہاد ’فرضِ عین‘ ہے (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم)۔ اس بات پر فقہا، محدثین، مفسرین و اصولیین کا ’اجماع‘ ہے کہ اگرکفار مسلمانوں کی زمین پر حملہ آور ہو جائیں یا چپہ برابر زمین کا ٹکڑا، جس پر ایک لحظے کے لیے بھی مسلمانوں کی حکومت رہی ہو کفار کے قبضے میں چلا جائے تو جہاد کے لیے ’نکلنا‘ اسی طرح فرضِ عین ہو جاتا ہے جیسے نماز و روزے کی ادائیگی، بلکہ اسلامی سرزمینوں کا دفاع ’ایمان کے بعد اہم ترین فرضِ عین ہے‘!1

ہر اہلِ ایمان کو، وہ چاہے ہلکا ہو یا بوجھل،اللّٰہ اور اس کے حبیب (علیہ ألف صلاۃ وسلام) کے عشق کا دعویٰ ہے اور ہر ذی روح بخوبی واقف ہے کہ عشاق کے یہاں دلیل طلب کرنا لغو و بے کار بات ہوتی ہے۔ جہاد کے فرضِ عین ہونے میں بھی سچ یہی ہے کہ دلیل کی طلب آج بے ہودہ بات بن چکی ہے۔ ہم اس ’طلبِ دلیل‘ کو شاید بے ہودہ قرار نہ دیتے لیکن، ’بعد از خدا بزرگ و برتر‘، محمدِ مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ، راحتِ قلب و جاں، آنکھوں کی ٹھنڈک ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان اور آپ علیہ الصلاۃ و السلام پر نازل ہونے والے کلام اللّٰہ کی شان میں گستاخیوں کا خسیس سلسلہ [امریکہ و یورپ میں نہیں بلکہ ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ کی اساس پر قائم ہونے والے ملکِ خداداد میں بھینسوں، کتوں اور خنزیروں کے نام سے موسوم ’چوپایوں‘ کی زبان و قلم سے اور ان پلید ہاتھوں سے جن سے قرآنِ پاک کے نسخوں کو چند ہفتے قبل (اور چودہ سال قبل بھی ’آپریشن سائلنس‘ کے بعد)اسلام آباد کے گندے نالوں میں پھینکا گیا] اور پھر اس سب کو دیکھ سن کر، ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر کے دلیل طلب کرنا اپنے ایمان کے نور سے منور دل سے پوچھ کر بتائیے کہ کیا ہے؟!

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ان گستاخیوں کے سلسلے کو روکنے اور ان کا بدلہ لینے کا اولین اور مؤثر ترین طریقہ جہاد ہے اور یہ منہج، رسولِ محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابۂ اطہارؓ کا منہج ہے۔ آپ کی ماں، بہو، بیٹی اور گھر کی عزت پر کوئی ہاتھ ڈالے تو آپ بھائیوں، بیٹوں، بھتیجوں کو لے کر ’درانداز‘ کی تکا بوٹی کرنے کو لپکیں، لیکن جہاں ناموسِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ناموسِ قرآن، ناموسِ دخترانِ امت اور اٹھارہ سال سے کفر کی قید میں سسکتی و چلاتی عافیہ صدیقی کی بات آئے تو ٹویٹ، سٹیٹس، بیان، کالم، مظاہرہ اور پتلے جلا کر ’انتقام‘ لینا ’جہاد‘ قرار پائے؟! امام ابنِ حجر العسقلانی ﷬ فرماتے ہیں :

’’اس بات پر اجماع ہے کہ ’جہاد‘ سے مراد ’قتال‘ ہے اور جہاں ’فی سبیل اللّٰہ‘ کی اصطلاح آ جائے تو اس سے مراد ’جہاد‘ ہے۔‘‘2

اپنی مرضی سے کچھ اعمال کر لینا ’جہاد‘ نہیں بلکہ ’جہاد‘ میں وہ اعمال داخل ہیں جو کسی نہ کسی صورت ’قتال یعنی جنگ‘ کے عمل کو تقویت دیتے ہوں اور جہاد فی سبیل اللّٰہ کے لیے ہر مسلمان کے نکلنے یا اس اہم ترین فرضِ عین کی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا ہر عمل چاہے وہ تحصیلِ علمِ دین ہو، مال کا خرچنا ہو، دعوت و تبلیغ ہو، حصولِ علوم و فنونِ عصریہ (میڈیکل و انجنیئرنگ وغیرہ) ہو، قلم و اعلام کا استعمال ہو یا دیگر اعمال و افعال ، یہ سب کچھ ’قتال فی سبیل اللّٰہ‘ میں ممد و معاون ہوں۔ پھر ایسا بھی بارہا ہوتا ہے کہ عملِ جہاد میں ’قتال‘ کا پہلو بہت کم ہوتا ہے، جبکہ اس جہاد کی تیاری، مال کی فراہمی، دعوت، سفر و حضر، انتظام و انصرام وغیرہ بہت بڑے پیمانے پر جاری و ساری ہوتے ہیں3۔ اس کی ایک بڑی مثال ’غزوۂ تبوک‘ ہے جس میں رسولِ محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم ( جو امیر تھے) نے نفیرِ عام فرمائی، دعوت دی گئی، اس وقت کے اعلام (میڈیا) یعنی اشعار کا استعمال ہوا، مال اتنا لگا کہ ’سرکاری خزانہ‘ خالی ہو گیا، حتیٰ کہ امت بھی قریباً کنگال ہو گئی، ایک طویل سفر کیا گیا، اس کے انتظام و انصرام میں بے پناہ قوتیں صرف ہوئیں اور عملاً قتال کی نوبت ہی نہیں آئی (گو کہ اصل ہدف قتال ہی تھا)4۔

پس آج بھی جہاد فرضِ عین ہے، بلکہ اس دن سے فرضِ عین ہے جس روز فرڈیننڈ اور ازابیلا کی فوجیں مسلم اندلس میں داخل ہوئی تھیں ۔ یہی جہاد فی سبیل اللّٰہ، اسلام و اہلِ اسلام کی سربلندی کا طریق ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حرمت کا دفاع اور آپؐ کے لائے دین کا نفاذ اسی جہاد کے اساسی شعبہ جات ’دعوت‘، ’اعداد‘ اور ’قتال‘ سے ہو گا۔ امت کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں، اور اٹھارہ سال سے اہلِ کفر کے تعذیب خانوں میں پڑی ’عافیہ صدیقی‘ کی عصمت کے دفاع اور اہلِ کفر سے ان پاکباز خواتین کا انتقام لینے کا طریقہ یہی ہے۔ مسجدِ اقصیٰ سے مسجدِ حرام و مسجدِ نبویؐ کو اہلِ صلیب و صہیون کے گھیرے سے آزاد کرانے کا راستہ یہی ہے۔ بابری مسجد جس کی بنیادوں پر آج رام مندر کھڑا ہے، اس رام مندر کی خاک اڑانے اور پھر سے مسجدِ بابری کو تعمیر کرنا جہاد فی سبیل اللّٰہ ہی سے ممکن ہے۔ بنارس میں اورنگزیب عالمگیرؒ کی تعمیر کردہ ’جامع مسجد گیان وپی ‘کو منہدم کر کے ’کشی وشوا ناتھ مندر ‘(جسے بھگوا دہشت گرد آ ج کل اپنا ’مکہ‘ قرار دے رہے ہیں)بنانے کے عزم5، دِلّی کے قطب مینار اور اس سے ملحقہ ’مسجدِ قوتِ اسلام‘ کو اور اس سے بھی اہم تر ’جامع مسجد دِلی‘ جہاں شاہ ولی اللّٰہؒ و شاہ عبد العزیزؒ نے مسندِ حدیث سجائی اور سیّد احمد شہیدؒ ومولانا شاہ اسماعیل شہیدؒ اور مولانا عبد الحی بڑھانویؒ جیسے مجاہدین بستے تھے، کو مندر قرار دینے کی مہم اور تاج محل کو ’تیج‘ مندر بنانے کا تہیہ کرنے والوں کی گردنوں کو فولاد کی قوت سے ہی توڑا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد کی لال مسجد اور ڈھاکہ کی بیت المکرم مسجد کا پہرہ جہاد فی سبیل اللّٰہ ہی کی صورت ممکن ہے تا کہ کسی امریکہ اور کسی بھارت کے فرنٹ لائن اتحادی پاکستانی و بنگلہ دیشی فوجی ان مسجدوں کو اپنے بوٹوں سے پامال نہ کر سکیں۔ کشمیر کو دارالاسلام جہادی نبیؐ کے جہادی غلام ہی بنا سکتے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی شیطانی مثلث کو اسی جہاد کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کیا جا سکتا ہے۔

آج مملکتِ خدادا دپاکستان میں ایف اے ٹی ایف [Financial Action Task Force (FATF)] کے ایما و شرائط پر جو’ اوقاِف مساجد و مدارس‘ کے لیے ’قانون سازی‘ کر کے انہیں ’منی لانڈرنگ‘ سے مطعون کرتے ہوئے منبر و محراب کو گھیرے میں لیاگیا ہے، اس منبر و محراب کی بازیابی کا طریق بھی جہاد فی سبیل اللّٰہ ہی ہے۔یہ ناممکن تھا کہ نفاذِ شریعت كی محنت كرتے علما و داعيان اور مجاہدین کو جیلوں میں بھر کے، خفیہ تعذیب خانوں میں ان کے جسموں کو ڈرل مشینوں سے ادھیڑنے و استریوں سے داغنے، ان کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کی عزتوں کو محاصرے میں لینے اور ان کے خلاف بڑے بڑے فوجی آپریشن کرنے کے بعد ’اوقافِ مساجد و مدارس‘ کی ’باری‘ نہ آتی جو آج ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے مطابق آ چکی ہے اور جس پر آج تمام مسالک و مکاتب کے علمائے کرام اور مذہبی قائدین نے اجتماعات منعقد کر کے مذمت کی ہے اور حکومتِ وقت کو اس قانون کو واپس لینے کا کہا ہے، نیز اس قانون کو ’شریعت سے متصادم‘ قرار دیا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ ’پاکستان کا اسلامی دستور و قانون کہاں گیا؟‘۔ یہاں یہ بات بھی دہرانا لازم ہے کہ محض ’جمہوری‘ دائروں میں محدود اجتماعات، مظاہرات، قراردادوں اور مطالبات سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلہ بھی جہاد فی سبیل اللّٰہ (دعوت، اعداد و قتال) اور تحریکِ اقامتِ دین و نفاذِ شریعت ہی سے حل ہونے والا ہے کہ ’جو چیز قوت سے چھینی جاتی ہے اس کو قوت سے ہی واپس لیا جا سکتا ہے‘۔ نیز اگر یہ مسئلہ بنا دعوت و جہاد کے حل ہو سکتا تو وہ اجتماعات جو پورے پاکستان کی تمام دینی جماعتوں اور تمام مکاتبِ فکر کے پلیٹ فارم ’آل پارٹیز تحریکِ تحفظِ مساجد و مدارس‘ کے زیرِ اہتمام ہوتے رہے، جن میں جمعیت علمائے اسلام، جماعتِ اسلامی، جمعیتِ اہلِ حدیث، اتحادِ تنظیماتِ مدارس، وفاق المدارس العربیہ، وفاق المدارس السّلفیہ، رابطۃ المدارس اور دیگر تنظیمات نےمتفقہ قراردادیں پیش کیں، تو ان سے یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا!6

یہاں یہ بات البتہ نہایت خوش آئند ہے کہ الحمد للّٰہ ثم الحمد للّٰہ یہ سوال ایک بڑے پلیٹ فارم پر اٹھا ہے کہ ’ پاکستان کا اسلامی دستور و قانون کہاں گیا؟‘ اور اس قانون کو ’شریعت سے متصادم‘ قرار دیا گیا، دراصل یہی وہ مباحث ہیں جنہیں نظامِ کفر اٹھنے نہیں دینا چاہتا۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ سات آسمانوں کے اوپر سے اتری ہوئی شریعتِ مطہرہ اور اس کی حدود کے متعلق تو ’رائے زنی‘ کی جا سکتی ہے لیکن اس ’آئین و قانون‘ کے اسلامی ہونے پر سوال اٹھانا ایسا بنا دیا گیا ہے گویا کفرِ بواح سے بھی بڑھ کر کوئی معاملہ ہو؟! دراصل جدید ریاستوں میں ’آئین‘ ہی وہ ’صحیفہ‘ ہے جسے ’وحی‘ کے ’مساوی‘ بلکہ وحی سے ’اعلیٰ‘ قرار دیا جاتا ہے، تبھی تو کالی انگریزی کتابوں کو سامنے رکھ کر وضع کردہ آئین و ریاست کے باغی کی سزا قتل، جبری گمشدگی اور تعذیب خانے ہیں جبکہ گستاخانِ شارع علیہ الصلاۃ و التسلیم صوبوں کے گورنر ، اعلیٰ ترین عدلیہ کے چیف جسٹس اور مرزائیوں کے نہایت قریبی رشتہ دار آرمی چیف لگ جاتے ہیں۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ آج اس نو وضع کردہ قانون کے سبب جو سوالات اٹھائے گئے ہیں انہیں کسی بھی دباؤ کے سبب دبنے نہ دیا جائے اور اس ریاست و آئین کا محاکمۂ شرعی کیا جائے کہ ’پاکستان‘ و ’اہلِ پاکستان ‘برِّ صغیر میں ایک کلیدی حیثیت کے حامل ہیں اور نصرتِ دین و نصرتِ مستضعفینِ کشمیر و گجرات و آسام و برما جس قدر اہلِ پاکستان پر اس خطے میں واجب ہے شاید کسی اور پر نہیں ہے۔ پھر اہلِ پاکستان پر اس کے ’واجب‘ ہونے کا سبب ان کا اپنا دعویٰ بھی ہے کہ ’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللّٰہ!‘، لا الٰہ الا اللّٰہ محض ایک کلمہ ہی نہیں جسے بس زبان سے ادا کرنے سے فرض ادا ہو جائے۔

خرد نے کہہ بھی دیا ’لا الٰہ‘ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

پاکستان جس کے وردی وبے وردی حکمران اس کو مدینۂ ثانی بنانے کے بجائے ’سدومیوں‘ کا گڑھ ،کبھی ’پی ایس ایل‘ میں حیا باختہ و عریاں ناچ کی صورت، کبھی عورت مارچوں کے فروغ کی صورت، تو کبھی ’جہادی‘ ڈراموں (’میرا سلطان ‘سے ‘ارطغرل ‘تک)میں ’مجاہدوں‘ کی فنکارہ ’بیویوں‘ کے ’ممنوع‘ عشقیہ ’ڈائیلاگوں‘ کی صورت بنا رہے ہیں اور قوم کے نوجوانوں کو جس ’ہیجان‘ میں مبتلا کر رہے ہیں اس کا حل جہاد کے سوا کیا ہے؟ 7ایسی میٹھی میٹھی دعوت جس میں نہی عن المنکر کا وجود ہی نہ ہو نقار خانے میں طوطی کی آواز سی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔ کلمۃ حقٍ عند سلطانٍ جائرٍ کے بجائے، سلطانوں کی بیگمات کے نقاب دیکھ کر خوش ہونا اور اسی کو ’مدینۂ ثانی‘ کا ’حُسن‘ سمجھ لینا اپنی آنکھوں اور قلوب و اذہان پر نقاب ڈالنا ہے۔ پس یہاں یہ نقطہ بھی از حد قابلِ غور و اعتنا ہے کہ آج پاکستان میں جاری کورونا وائرس کی’شدید ترین‘ لہر ، دین و شریعت سے منہ موڑنے بلکہ دین و شریعت کی مخالف ڈگر پر اپنی اجتماعی زندگیوں کو جاری و ساری رکھنے کا نتیجہ ہے۔

وَاتَّقُواْ فِتْنَةً لاَّ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمْ خَآصَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۝(سورة الانفال:۲۵)

’’ اور ڈرو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو گا۔ اور جان رکھو کہ اللّٰہ کا عذاب بڑا سخت ہے ۔ ‘‘

یقیناً اہلِ ایمان میں سے بہت سے ازکیا و اتقیا بھی کورونا کا شکار ہوئے اور اس دنیا سے رخصت ہوئے، ان کے لیے یہ وبا ان شاء اللّٰہ، سبب مغفرت و رحمت ہو گی۔ لیکن،پچھلے ڈیڑھ سال میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کا عمومی رجحان بالکل واضح ہے کہ یہ عذاب کا آسمانی کوڑا خاص طور پر اللّٰہ کے باغیوں پر برسا ہے اور جہاں جہاں، جس جس قوم نے من حیث القوم، اللّٰہ کی نافرمانی میں زیادتی کی اسی قدر وہ اس عذابِ الٰہی کے شکار ہوئے ۔

بھارت میں خفیہ ایجنسی ’را‘ کے دباؤ اور ’غیر مسلم بھائیوں‘سے خیرخواہی و اخوت کے جذبے کے ساتھ ’مخبرِ صادق‘ علیہ الصلاۃ و التسلیم کے فرامین (آخر الزمان میں غزوۂ ہند کے برپا ہونے) کو ’سنگھ پریوار‘ کا پراپیگنڈا قرار دینا ہندوؤں کے خنجروں سے ذبح ہونے کے بجائے خودکشی کا اقدام ہے، ایسی خودکشی جس کے نتیجے میں جسم سے پہلے روح کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ماہِ اپریل (۲۰۲۱ء) کے پہلے عشرے میں ’حاجی شریعت اللّٰہؒ کی سرزمینِ بنگال‘ کے دار الحکومت ڈھاکہ میں، مسلمانوں کے قاتل اور اسلام کے دشمن بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ’آزادی‘ کی پچاس سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے نظریۂ ’ہندوتوا‘ کی پرچارک حکومت کی ’وائسرائے‘ حسینہ واجد کی طرف سے مدعو کیا گیا۔ ’آزادی‘ کی تقریبات میں مودی کی شرکت ، دراصل بنگلہ دیش کی ’اصل‘ حکومت اور ’اصل‘ نظریے و نظام کی بالادستی دکھانے کے لیے ’پلان‘ کی گئی۔ اس موقع پر حاجی شریعت اللّٰہؒ، سیّد تیتومیر شہیدؒ اور نواب سراج الدولہ شہید ؒ کے بنگال سے تعلق رکھنے والے کثیر اہلِ ایمان اپنے گھروں سے ’مودی‘ کی آمد کے خلاف احتجاج و مظاہروں کے لیے نکلے۔ لیکن سرکاری (دراصل آر ایس ایس کی)آشیرباد حاصل کیے ہوئے غنڈوں نے بیت المکرم مسجد میں محوِ نماز مسلمانوں پر حملہ کر دیا ، نتیجتاً ڈھاکہ سمیت پورے بنگلہ دیش میں بیسیوں اہلِ ایمان کو بے دردی سے شہید کیا گیا اور پچاسیوں اہلِ ایمان خنجروں اور کرپانوں کے وار سے گھائل کیے گئے۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ ایک معروف دینی جماعت کے امیر اور بزرگ عالمِ دین کو ’بدکاری‘ جیسے قبیح فعل سے ’ہندوتوا بنگلہ دیشی سرکار‘ اور اس کے غلام میڈیا نے مطعون کیا۔ سیّد تیتومیر اور حاجی شریعت اللّٰہ نے جس نفاذِ اسلام کے لیے ارضِ بنگال میں جہادی و دعوتی تحریکات کھڑی کیں اور نواب سراج الدولہ نے جس ’ورلڈ آردڑ‘ کی استعماری قوتوں کے خلاف لڑتے ہوئے ’مرشدآباد‘ میں جامِ شہادت نوش کیا، ان مقاصد کو جِلا بخشنے کا طریقہ کیا ہے؟ پس ان مقاصدِ ارفع سے لے کر ارضِ بنگال میں مسجدِ بیت المکرم سے لے کر سندر بن میں قائم چھوٹے سے جھونپڑے کی مسجد تک کے ’نمازی‘ مسلمانوں، مسلمان بہنوں کی عزتوں اور علمائے کرام کی ناموس و عظمت کی حفاظت کا واحد طریق ’جہاد فی سبیل اللّٰہ‘ ہے!

جہاد ہی وہ طریق ہے جس کے نتیجے میں ’دنیا کی تنگیوں سے نجات‘ اور ’دنیا و آخرت کی وسعتوں تک رسائی ‘ممکن ہے۔ ورنہ ہمارا وہ ’فہم‘ جو صحابہؓ کو نہ حاصل ہوا ہمیں دنیا و آخرت میں ذلیل کروا دے گا۔

پس ان ’ملاحم‘ کے لیے اپنی اولادوں کو، اپنی جانوں کو، اپنے مالوں کو، اپنی فکر و فن کو، اپنی زبانوں کو اور اپنے قلم و اعلام کو وقف کرتے غازی اور شہیدی حملہ آور ، طائفۃ المنصورۃ کا حصہ علما و داعیان اور مجاہد ین و مقاتلین بڑھ رہے ہیں، ان کے لیے جہنم سے آزادی کے پروانے، ولایتِ الٰہی کے عظیم مقام ’شہادت فی سبیل اللّٰہ‘ کی بشارتیں اور سیّدنا مسیحؑ و سیّدنا مہدیؓ کی معیت اور سب سے بڑھ کر ہمارے اللّٰہ کی رضا اور حضور سرورِ کونین علیہ ألف صلاۃ وسلام کے ہاتھوں حوضِ کوثر پر جامِ حیات عطا ہونے کے وعدے ہیں۔ آئیے ہر بت کو توڑتے ہیں، چاہے وہ نفس و خواہشات کا ہو یا قومیت و وطنیت کا یا امریکہ و بھارت کے ورلڈ آرڈر کا، ان غازیوں کے دست و بازو بنتے ہیں اورانہی کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے اعلان کرتے ہیں:

ألا قـــولـــوا لأمـــریکــا
لغــــیر اللّٰہ لـن نرکــــع

نجــاھد في سبیـل اللّٰہ
لم نخضـــع ولن نخشـع8

’’اے عالمی طاغوتو! سن لو! کہ ہم امتِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے سوا کسی کے سامنے جھکنے والے نہیں۔ ہم اللّٰہ کی راہ کے مجاہد ہیں، ہم اپنی تنگی و آسانی، غمی و خوشحالی اور زندگی و موت کو نہیں دیکھتے، ہم تو بس اس وحدہٗ لا شریک کے سوا نہ کسی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں اور نہ ہی ہم اس کے سوا کسی سے ڈرتے ہیں!‘‘

اللھم وفقنا كما تحب و ترضى وخذ دمائنا حتى ترضى .اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وأرضنا وارض عنا. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!

٭٭٭٭٭


1 تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو شیخ عبداللّٰہ عزام شہید ﷬کی تالیف ’اہم ترین فرضِ عین‘ اور امام ابنِ نحاس شہید ﷬کی معرکۃ الآراء تالیف ’مشاری الاشواق‘ نیز شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل محمد یوسفزئی ﷿کی تالیف ’دعوتِ جہاد‘۔

2 بحوالہ صوتی حلقہ جاتِ درسِ کتاب ’مشاری الاشواق‘ از شیخ انور العولقی شہید﷬۔

3 بحوالہ صوتی حلقہ جاتِ درسِ کتاب ’مشاری الاشواق‘ از شیخ انور العولقی شہید﷬۔

4 جو لوگ جہاد کے فرضِ عین ہونے پر کہتے ہیں کہ ’اگر پوری امت جہاد کے لیے نکل کھڑی ہو گی تو امت کے باقی معاملات کا کیا ہو گا؟‘ ان کے لیے غزوۂ تبوک کے واقعے میں بڑی نشانی ہے کہ اگر اہلِ ایمان جن کی تعداد محض ’تیس ہزار‘ ہی کیوں نہ ہو سب کے سب دشمن کے بالمقابل نکل آئیں تو بھلے وقت کی ’سپر پاور‘ ہی کیوں نہ مقابل ہو، وہ مقابلے کے لیے ڈر کے مارے نکلتی ہی نہیں اور اہلِ ایمان فتح وظفر سے ہمکنار ہو تے ہیں۔ پھر آج کے دور میں افغان قوم کا ’امارتِ اسلامیہ‘ کی قیادت میں وقت کی ’سپر پاور‘ اور اس کے چہل حواریوں کو شکست دینا اسی جہاد فی سبیل اللّٰہ کی فرضیت پرمن حیث القوم لبیک کہنے کے سبب ممکن ہوا ہے!

یہ نقطہ بھی مستحضر رہنا چاہیے کہ غزوۂ تبوک وہ غزوہ ہے، جس غزوے میں عملاً جنگ ہی نہ ہوئی ، جنگ یعنی وہ ’سبب‘ جس کو لوگ موت خیال کرتے ہیں وہ اس غزوے میں ہوئی ہی نہیں، لیکن یہی وہ غزوہ ہے جس نے مومنینِ صادقین اور منافقینِ کاذبین میں تفریق کی۔

5 اداریے (زیرِ نظر مضمون) کی یہ سطریں لکھی جا چکی تھیں کہ ہندوستان سےنہایت غم ناک خبر موصول ہوئی کہ ’’بنارس کے سول جج نے ’جامع مسجد گیان وپی‘ کے احاطے کا سروے کا کرنے کا حکم دے دیا ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ مسجد کی عمارت مندر کو ڈھا کر تعمیر کی گئی تھی‘‘، دراصل یہ اقدام اورنگ زیب عالمگیرؒ کی تعمیر کردہ مسجد کے انہدام کا پہلا قدم ہے۔ اللھم اکفنا من حیث شئت ومن أین شئت!

6 بحوالہ ماہنامہ بینات، فروری ۲۰۲۱ء

7 شرعی اخلاق و کردار کے جنازے کی ایک صورت یہ ہے کہ نوجوانوں کے لیے حلال کی راہ (یعنی نکاح جو سکونِ روح و جسم کا ذریعہ ہے) درجنوں معاشرتی روڑوں کے ذریعے مسدود کی جا رہی ہے اور دوسری طرف ٹی وی و سمارٹ فونوں سے لے کر سڑکوں پر رقصاں ’میرا جسم میری مرضی‘ تک ’ہیجان‘ کو ایسا بُوسٹ (boost) دے رہے ہیں کہ الامان و الحفیظ اور اس سب کے بعد قصور سے لے کر لاہور–سیالکوٹ موٹر وے تک کے وہ سانحات ہیں، جن کی نہ ہمیں وجہ سمجھ میں آرہی (جوحقیقتاً ہم سمجھنا نہیں چاہتے)اور نہ جن کا کوئی حل ہمیں سجھائی دے رہا ہے (جنہیں حل کرنا ہم دراصل چاہتے ہی نہیں ہیں)!

8 اشعار: حکیم الامت فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری (أدام اللّٰہ فیوضہٗ وبرکاتہٗ)

Previous Post

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحاؐ کی حرمت پر!

Next Post

غلبۂ دین کا راستہ

Related Posts

اہلِ پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر!
اداریہ

اہلِ پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر!

15 فروری 2026
جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے!
اداریہ

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے!

20 جنوری 2026
تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
اداریہ

تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا

4 نومبر 2025
سب سے پہلے امریکہ!
اداریہ

سب سے پہلے امریکہ!

23 ستمبر 2025
جگر کے خوں سے اب یہ داغ دھونے کی تمنا ہے
اداریہ

جگر کے خوں سے اب یہ داغ دھونے کی تمنا ہے

12 اگست 2025
اداریہ

اور قافلہ سالار حسینؓ ابنِ علیؓ ہے!

10 جولائی 2025
Next Post

غلبۂ دین کا راستہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version