امریکی مداخلت اور دباؤ ، اقوام متحدہ اپنے ادارے کسی اور جگہ منتقل کرنے پر مجبور |
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ترک خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ’’عالمی ادارہ مسلسل اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ترکی کا شہر یا کوئی دوسرا خطہ فنڈنگ بحران اور امریکی مداخلت کے درمیان اقوام متحدہ اور اس کے مرکزی اداروں کی میزبانی کر سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں میڈیا کو بتایا کہ ’’روایتی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کو دوسرے شہروں میں منتقل کرنا ایک ایسی چیز ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے‘‘۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے زور دیا کہ استنبول اقوام متحدہ کے ایک بہترین مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ سربیا کے رہنما الیگزینڈر ووچک سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی اپنی تقاریر کے دوران بحران سے متاثرہ اقوام متحدہ اور اس کی شاخوں کو اپنے شہروں میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی طرف سے پوچھے جانے پر کہ کیا استنبول وہ شہر ہو سکتا ہے جہاں اقوام متحدہ کو منتقل کیا جا سکتا ہے، دوجارک نے کہا، ’’استنبول پہلے ہی اقوام متحدہ کی مختلف تنظیموں کے متعدد علاقائی مرکزوں کا گھر ہے، اس لیے یہ وہ چیز ہے جس کا ہم مسلسل جائزہ لے رہے ہیں‘‘۔ اقوام متحدہ کے چھ اہم اداروں میں سے پانچ، جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل، ٹرسٹی شپ کونسل، اور اقوام متحدہ کا سیکرٹریٹ سبھی نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں مقیم ہیں۔ چھٹی، بین الاقوامی عدالت انصاف، ہیگ، نیدرلینڈز میں قائم ہے۔ اقوام متحدہ کی فنڈنگ میں نمایاں کٹوتیوں کے درمیان، خاص طور پر 2025ء میں ٹرمپ انتظامیہ کے تحت ریاستہائے متحدہ سے، نیویارک شہر سے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر اور اس کی کچھ ایجنسیوں کو منتقل کرنے کے لیے مختلف بین الاقوامی شخصیات کی طرف سے بڑھتی ہوئی بحث اور بڑھتے ہوئے مطالبات ہیں۔ فنڈنگ کے بحران کی وجہ سے اقوام متحدہ میں بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عملے میں کمی جیسے لاگت بچانے کے اقدامات کو فروغ دیا گیا ہے۔نتیجتاً، ترکی سمیت کئی ممالک استنبول کو اقوام متحدہ کے ممکنہ مرکز کے طور پر تجویز کر رہے ہیں۔ رپورٹس 2026ء کے بجٹ میں 500 ملین ڈالر کی ممکنہ کمی کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر عملے میں 20 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ اس نے اندرونی اقدام کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے جس میں اہم تبدیلیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جیسے محکموں کو ضم کرنا اور وسائل کو مہنگے مغربی مراکز سے دور منتقل کرنا۔
اس مسئلے کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ کیا اس اقدام کا مقصد اقوام متحدہ کے بے جان وجود میں جان ڈالنا ہے تاکہ مسلم ممالک مسائل کا ٹھوس حل تلاش کرنے کے بجائے اسی ادارے سے امید باندھے رکھنے پر اکتفا کریں۔ امریکیوں کے افغانستان سے انخلاء کے بعد ترکی کی جانب سے بھرپور کوششیں کی گئی تھیں کہ ترک فورسز کی افغانستان میں موجودگی کو قبول کرلیا جائے۔ اسی طرح ہم افریقی ممالک میں دیکھتے ہیں کہ ترکی نہ صرف اپنے اثر رسوخ کو بڑھا رہا ہے بلکہ صومالیہ میں تو مجاہدین کے خلاف جنگ میں باقاعدہ فریق بن چکا ہے۔ خود امریکی تھنک ٹینکس بھی افریقہ میں ترکی اور متحدہ عرب امارات کی فوجی موجودگی کی امریکی مفادات کے تناظر میں حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔
ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کی ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ چین کی معیشت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہ جلد دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی ادارے جیسے اقوام متحدہ، عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی ہیڈکوارٹرز کی جگہ بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ امریکی ماہر اقتصادیات جیفری ساکس کا کہنا ہے کہ اب دنیا کا توازن بدل چکا ہے اس لیے یہ ادارے امریکہ یا مغربی ممالک کے بجائے چین جیسے ابھرتے ہوئے ممالک میں ہونے چاہیے۔
خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چین نے مختلف بین الاقوامی تنظیمیں اور بینک بنائے ہیں، جیسے برکس، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، تاکہ عالمی گورننس اور ترقی میں اپنا کردار بڑھا سکے۔ عالمی اداروں کے مرکزی دفاتر اب بھی امریکہ میں ہیں لیکن معاشی حقائق کی روشنی میں ان میں تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔ بھارت سمیت ایشیا کی معیشت اب دنیا کی آدھی سے زیادہ پیداوار کرتی ہے، چین کی معاشی طاقت بڑھنے سے دنیا کے سیاسی اور اقتصادی نظام میں نئی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے مغربی ممالک کو اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی بنانا پڑ رہی ہے۔
چین نے اپنی بین الاقوامی سرمایہ کاری، ترقیاتی پراجیکٹس، اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے ایشیا، آفریقہ اور یورپ میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔ اس سے عالمی طاقت کا توازن مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ عالمی اداروں کی اصلاحات نہ صرف نمائندگی بلکہ فیصلوں میں شمولیت کے حوالے سے بھی ضروری ہو گئی ہے تاکہ موجودہ عالمی حقیقتوں کی عکاسی ممکن ہوسکے۔
انڈونیشیا کی جانب سے غزہ میں امن دستے بھیجنے کی آفر |
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا ہے کہ ان کا ملک غزہ میں امن دستے تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ انسانی بحران گہرا ہو رہا ہے اور نسل کشی جاری ہے۔ سوبیانتو نے کہا کہ انڈونیشیا تنازع کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ اقدام فلسطینیوں کی کسی قسم کی مدد بھی کرپائے گا یا اس کی حیثیت بھی یورپی ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے جیسی ہے، جس کے متعلق خود امریکی وزارت خارجہ بھی اعلان کررہا ہے کہ ہمارے اتحادیوں کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اقدامات نمائشی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے اس سال کے آغاز میں جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے ساتھ فارن ملٹری سیلز (ایف ایم ایس) سسٹم کے تحت امریکہ کے پاس 1.88 بلین ڈالر حکومت سے حکومت کے درمیان فعال فروخت کے معاملات ہیں۔
کانگریس کو مطلع کردہ اہم مجوزہ ایف ایم ایس کیسز میں شامل ہیں: F-16C/D بلاک 25 لڑاکا طیارے، AH-64D اپاچی بلاک III لانگ بو ہیلی کاپٹر، MV-22 بلاک سی آسپری ہوائی جہاز، اور جیولن، AIM-120C-7 AMRAAM، AIM-9X-2 سائیڈ ونڈر، اور AGM-65K2 Maverick میزائل۔
مالی سال 2015ء سے لے کر مالی سال 2019ء تک، امریکہ نے انڈونیشیا کو براہ راست کمرشل سیلز (DCS) کے عمل کے ذریعے 546 ملین ڈالر سے زیادہ کی دفاعی اشیاء کی مستقل برآمد کی بھی اجازت دی۔ انڈونیشیا کے لیے DCS کے سرفہرست زمروں میں شامل ہیں: ہوائی جہاز، آتشیں اسلحہ، اور الیکٹرانکس۔ مالی سال 2020ء میں، انڈونیشیا کو 14 ملین ڈالر کی غیر ملکی فوجی فنانسنگ اور 2.3 ملین ڈالر سے زیادہ بین الاقوامی فوجی تعلیم اور تربیت کے فنڈز میں ملے۔ مالی سال 2020ء میں، محکمہ دفاع نے انڈونیشیا کو سیکشن 333 کے تحت 22.6 ملین ڈالر کی سکیورٹی امداد فراہم کی۔ انڈونیشیا سیکشن 1263 کے تحت امداد حاصل کرنے کا بھی اہل ہے، جسے انڈو پیسیفک میری ٹائم سکیورٹی انیشی ایٹو کہا جاتا ہے، جو بحری اور ساحلی محافظوں کی میری ٹائم سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ محکمہ دفاع نے مالی سال 2016ء سے لے کر مالی سال 2020ء تک انڈونیشیا کو 5 ملین ڈالر سے زیادہ کی دفاعی ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر میں معاونت فراہم کی ہے۔ انڈونیشیا نے ایک جنرل سکیورٹی آف ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ (GSOMIA) اور ایک کمیونیکیشن انٹرآپریٹبلٹی اینڈ سکیورٹی میمورنڈم آف ایگریمنٹ (CISMOA) کا اختتام کیا۔ یہ بنیادی معاہدے امریکہ اور انڈونیشیا کے درمیان بہتر شراکت داری، معلومات کے تبادلے اور دفاعی تعاون کے لیے فریم ورک قائم کرتے ہیں۔ انڈونیشیا اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں ایک اہم فوجی تعاون کرنے والا ملک ہے جس کے 8 مشنوں میں دو ہزار سات سو پچاس سے زیادہ اہلکار تعینات ہیں۔ انڈونیشیا اس وقت UNIFIL میری ٹائم ٹاسک فورس میں حصہ لے رہا ہے۔ 1989ء سے، انڈونیشیا کی فضائیہ اور یو ایس پیسفک ایئر فورس نے Cope West فوجی مشق کا انعقاد کیا، جو فضا سے فضا میں تربیت سے متعلق حکمت عملیوں، تکنیکوں اور طریقہ کار کے تبادلے کی اجازت دیتا ہے۔ گزشتہ شمارے میں بھی ہم تفصیلی رپورٹ شائع کرچکے ہیں کہ انڈونیشیا خطے میں امریکی بحری جہازوں کے ایم ار او آپریشنز کے لیے سروسز فراہم کرنے کا ایک بڑا معاہدہ کرنے جارہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ان فوجی معاہدوں اور تعاون جاری رکھتے ہوتے ہوئے کسی بھی ملک کی جانب سے غزہ کی مدد کا دعویٰ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
کولمبیا کے صدر پر امریکی فوجیوں کو حکم نہ ماننے کی ترغیب دینے کا الزام |
کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو کا ویزہ امریکی محکمہ خارجہ نے منسوخ کر دیا۔ ویزہ منسوخی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو نے نیویارک میں ایک خطاب کیا جس میں وہ امریکی فوجیوں کو حکم ماننے سے انکار کرنے کی ترغیب اور تشدد پر اکسانے کے اشارے دے رہے تھے۔ محکمہ نے ’’ایکس‘‘ پر اپنے ایک پیغام میں لکھا: ہم پیٹرو کا ویزا ان کی بے احتیاطی اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے منسوخ کر دیں گے۔ یہ سب اس کے بعد ہوا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود پیٹرو نے یو این کے دفتر کے سامنے جمع ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’میں امریکی فوج کے تمام سپاہیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی بندوقیں لوگوں کی طرف نہ کریں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکام کی پیروی نہ کریں بلکہ انسانیت کے احکام کی پیروی کریں!‘‘ پیٹرو نےنیویارک میں فلسطینی حامی مظاہرین کے اجتماع سے خطاب کی اپنی چند ویڈیوز دوبارہ شائع کیں۔ اور انہوں نے ’’ایکس‘‘ پر لکھا: ’’فلسطین کو آزاد کرو۔ اگر غزہ کا سقوط ہوا تو انسانیت مر جائے گی۔‘‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں پیٹرو نے ٹرمپ پر بھی شدید تنقید کی، اور کہا کہ امریکی صدر ’’غزہ میں نسل کشی میں شریک ہے‘‘۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے دو ہفتے قبل فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کے ہمراہ وفد کا نیویارک کے لیے ویزا بھی منسوخ کر دیا تھا۔
سعودی عرب: مسجدالحرام کے امام اور سابق جج کی سات سال بعد رہائی |
مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے امام شیخ ڈاکٹر صالح آل طالب کو سات سال سے زائد سعودی جیلوں میں گزارنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق شیخ صالح اس وقت گھر میں نظر بند ہیں، ان کے ٹخنوں پر الیکٹرانک ٹیگ لگائے گئے ہیں۔ خلیج آن لائن کی رپورٹ کے مطابق شیخ صالح الطالب کو 2018ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے اپنے ایک خطبے میں میوزیکل کنسرٹس اور تقریبات میں نامحرم مردوں اور خواتین کے گھلنے ملنے کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ اگرچہ امام کعبہ نے اپنے اُس وعظ میں شاہی شخصیات اور حکومتی پالیسی کو براہ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا لیکن سعودی حکومت کی جانب سے ان کے خطبے کو سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی پر تنقید قرار دیا گیا، اور انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سعودی حکام حال ہی میں رہا کیے گئے قیدیوں کے ٹخنوں پر ٹریکنگ بریسلٹ لگا رہے ہیں، ان افراد میں علماء، پیشہ ور افراد اور ماہرین تعلیم جیسی ممتاز شخصیات بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ان کی نقل و حرکت اور دوسروں کے ساتھ بات چیت کی نگرانی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سعودی حکام رہا ہوئے یا یا جو رہا ہونے والے ہیں ان قیدیوں کے والدین کو مجبور کر رہے ہیں کہ اپنے بچوں کی رہائی سے قبل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تعریف کریں، اور ان کی وفاداری اور حب الوطنی کے ثبوت کے طور پر اسے ویڈیو پر ریکارڈ کریں۔
کیا پاکستان صومالیہ میں چین کے فرنٹ مین کا کردار ادا کررہا ہے ؟ |
یوریشیا ریویو (Eurasia Review) کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جب پاکستانی کابینہ نے 28 اگست 2025ء کو صومالیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایم او یو (MIU) کی منظوری دی تو یہ اعلان سفارتی خیر سگالی، تربیتی اور تکنیکی مدد کے اشارے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ تاہم، اس معاہدے کے سائے موغادیشو کے ساحلوں سے بہت آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کی طرف سے صومالیہ معاہدہ، آزادانہ اقدام کے بجائے چینی اثر و رسوخ کے گہرے دھاروں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلحہ، قرضے، سفارتی احاطہ، اور جغرافیائی سیاسی ڈیزائن۔ درحقیقت، پاکستان ہارن آف افریقہ میں چین کا شیڈو پلیئر بن گیا ہے۔ چین نے خاموشی سے بحیرۂ احمر، بحر ہند اور بالخصوص ہارن آف افریقہ کے اطراف میں بحری انٹری کا راستہ اختیار کیا ہے۔ جبوتی سپورٹ بیس، 2017ء میں کھولا گیا جس کی اسٹریٹجک اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بحری قزاقی مخالف مشن یا تعاون پر مبنی گشٓ ت کے تحت نہ صرف چینی تجارت بلکہ جنوبی افریقہ سے مشرقی ایشیا تک عالمی تجارت کے لیے سپلائی لائنیں ہوتی ہیں، اور ان سمندری راہداریوں کو محفوظ بنانا اثر و رسوخ کا ایک راستہ ہے۔ صومالیہ کے ساتھ پاکستان کے ایم او یو کو اس پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ تربیت، جہاز کی دیکھ بھال، اور گشتی معاونت جو یہ پیش کرتی ہے وہ خود ختم نہیں ہوتی، وہ ایک وسیع چینی ڈیزائن کے اجزاء ہیں، جس میں پاکستان مقامی چہرے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ بیجنگ کے وژن کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرتے ہوئے، پاکستان صومالیہ کے لیے فوجی امداد کا پیکج لاتا ہے، بشمول ہتھیار، نظام، پرزے، مرمت، قرضے اور سفارتی تحفظ۔ وہی چینی دفاعی فرم جو پاکستان کے بحریہ کو سپلائی کرتی ہیں وہ پاکستانی سرپرستی میں صومالیہ میں معاہدے کریں گی۔ اس طرح، صومالی بحریہ کو جدید بنایا جا سکتا ہے، لیکن ایک فریم ورک کے تحت جو اس کی وفاداری کو نہ صرف پاکستان بلکہ بالواسطہ طور پر بیجنگ کے ساتھ منسلک کرے گا۔ صومالیہ کے ساتھ مفاہمت نامے کو دفاعی تعاون کے پانچ سالہ انتظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان کے جنگی کالجوں میں تربیت، تکنیکی مدد، دیکھ بھال، ٹیکنالوجی کا اشتراک، آلات کی جدید کاری۔ واضح رہے کہ ’’ٹیکنالوجی کے اشتراک‘‘ کو ہمیشہ کنٹرول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن مزید قریب سے دیکھیں تو جوائنٹ ڈیفنس کوآپریشن کمیٹی، جس کا سالانہ اجلاس ہونے والا ہے، تمام تعاون کی سرگرمیوں کو مربوط کرے گی۔ اس کمیٹی میں، پاکستان صومالیہ کی بحری ترجیحات سے فائدہ اٹھائے گا۔ فیصلہ سازی کا توازن ہارڈ ویئر اور مہارت لانے والے پارٹنر کی طرف جھک جائے گا۔ اس پر غور کریں کہ ایک کمزور لیکن تزویراتی طور پر واقع ریاست بحریہ کے ایک مضبوط پارٹنر کو دعوت دیتی ہے، صرف اپنے آپ کو اس کی لاجسٹکس، نظریے، اسپیئر پارٹس کی زنجیروں اور سیاسی توقعات سے ڈھکی ہوئی محسوس کرنے کے لیے۔ یہ وہ ماڈل ہے جو بیجنگ نے کہیں اور پرفیکٹ کیا ہے۔ پاکستان صومالیہ میں اس ماڈل کے سنگم پر بیٹھا ہے جس میں وہ سامنے نظر آنے والا چہرہ تو ہے، لیکن معمار نہیں۔ اسلام آباد یقینی طور پر یہ دعویٰ کرے گا کہ یہ ’’مسلم یکجہتی‘‘ علاقائی سلامتی کے تعاون کی طرف اقدام ہے۔ لیکن یہ فریمنگ اصل میں فریب ہے۔ یہ چینی حکمت عملی کے ڈھانچے پر تیار کردہ ہے۔ صومالیہ میں چین کے سرکاری میڈیا نے بار بار افریقہ میں ایسے بیانیے کو آگے بڑھایا ہے جو میری ٹائم سکیورٹی میں چینی پوزیشنوں کو استحقاق فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کا کردار قانونی حیثیت دینا ہے۔ براہ راست چینی موجودگی کے بجائے، آپ کو پاکستان کی برانڈڈ آؤٹ ریچ ملے۔ یہ چین کو اپنی طاقت کے نقوش کو چھپاتے ہوئے اسٹریٹجک گہرائی فراہم کرتا ہے۔ صومالیہ، اس مفاہمت نامے کو منظور کرتے ہوئے، یہ مان سکتا ہے کہ اس نے ایک پارٹنر حاصل کر لیا ہے۔ لیکن اس نے حقیقت میں ایک ثالث کو قبول کر لیا ہے، جس سے غیر ملکی ایجنڈہ مقامی سطح پر چھپ جاتا ہے۔ نتیجہ؟ اس کی پسند کی خودمختاری کسی اور کے ڈیزائن کے ذریعے فلٹر ہوجاتی ہے۔ جیو پولیٹیکل لحاظ سے، کلائنٹ ریاستیں اس طرح بنتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ایم او یو صومالیہ کو بااختیار بنانے کا عمل نہیں ہے بلکہ بحر ہند میں چین کی بساط پر ایک قدم ہے۔ پاکستان سوٹ، مصافحہ، تربیت اور فوجی امداد کا دکھاوا پیش کرتا ہے، لیکن بیجنگ پس پردہ موجود ہے۔ صومالیہ کے ساتھ پاکستان کا تعلق بدل گیا ہے۔ برابر کے شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ پراکسی، بروکر اور کنڈیٹ کے طور پر۔ اس کردار میں، اس نے اپنی خود مختاری کھو دی ہے۔ صومالیہ سے، علاقائی مبصرین سے اور عالمی مبصرین سے، یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ کیا یہ دفاعی تعاون ہے، یا کسی اور کے پرچم تلے چین کی توسیع کا ایک اور قدم؟
ترکی لیبیا کے ساتھ سمندری حدود کی چوری کر رہا ہے: مالٹا |
مالٹا نے ترکی اور لیبیا کے درمیان سمندری حدود کے حالیہ نئے معاہدے کو ’’سمندری تہہ کی لوٹ مار‘‘ (Seabed Heist) قرار دیا ہے، کیونکہ اس معاہدے کے ذریعے ترکی کو بحیرۂ روم میں توانائی کی دولت پر غیر قانونی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ معاہدہ ترکی کے لیبیا کی حکومت کے ساتھ مل کر مشرقی بحیرہ ٔروم میں سمندری حدود کی حد بندی کے بعد طے پایا، جس کا مقصد ترکی کو تیل و گیس کے ذخائر تک رسائی دینا تھا۔ مالٹا نے سختی سے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے کے سمندری معاہدوں کو نقصان پہنچے گا، خاص طور پر اس سے مالٹا کا اقتصادی زون متاثر ہو گا۔ بعد ازاں، مالٹا نے خبردار کیا کہ ترکی اور لیبیا کے اس معاہدے سے نہ صرف مالٹا کا اقتصادی زون متاثر ہوگا بلکہ یہ پورے مشرقی بحیرۂ روم میں امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ معاہدے کے ذریعے ترکی نے اصل میں لیبیا کے سمندر میں اپنی حدود کو بڑھا دیا ہے، جو کہ یونان، قبرص اور مالٹا کے ساتھ طویل عرصے سے تنازع کا باعث ہیں۔ اس حد بندی سے ترکی کو توانائی کے سب سے اہم ذخائر تک براہ راست رسائی مل جاتی ہے۔ لیبیا کی حالیہ حکومت اس معاہدے کو سیاسی اور اقتصادی حوالے سے اہم سمجھتی ہے، لیکن اس طرح کی حد بندی بین الاقوامی قانون کے دائرے میں نہیں آتی اور اقوام متحدہ میں بھی اس کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ مالٹا نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ’’سی بیڈ ہائسٹ‘‘ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ مشرقی بحیرہ روم میں توانائی کے وسائل پر قبضے کے تنازعات کو ایندھن نہ ملے۔
معمر قذافی سے غیرقانونی فنڈز کے حصول پر سابق فرانسیسی صدر کو پانچ سال قید کی سزا |
سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کو مجرمانہ سازش کے الزام میں قصوروار قرار دیے جانے کے بعد پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، یہ کیس لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی سے ملنے والے لاکھوں یورو کے غیر قانونی فنڈز سے متعلق ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پیرس کی کرمنل کورٹ نے اسےدیگر تمام الزامات سے بری کر دیا ہے، جن میں ’ بالواسطہ بدعنوانی’ اور غیر قانونی انتخابی فنڈنگ شامل ہیں۔ نکولس سرکوزی نے اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے مگر عدالتی فیصلے کا مطلب ہے کہ وہ اپیل دائر کرنے کے باوجود جیل جائے گا۔ سابق فرانسیسی صدر جو اس مقدمے کو سیاسی قرار دیتا ہے، پر الزام تھا کہ اس نے لیبیا کے مرحوم صدر معمر قذافی سے ملنے والی رقوم سے اپنی 2007ء کی انتخابی مہم چلائی۔ اس کے بدلے میں، استغاثہ کا الزام تھا کہ سرکوزی نے معمر قذافی کو مغربی ممالک میں اپنی منفی شہرت ختم کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔
جج نتھالی گاوارینو نے کہا کہ سرکوزی نے اپنے قریبی ساتھیوں کو لیبیائی حکام سے رابطہ کرنے کی اجازت دی تاکہ اپنی مہم کے لیے مالی مدد حاصل کی جا سکے۔ عدالت نے نکولس سرکوزی کو ایک لاکھ یورو جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ نکولس سرکوزی کے خلاف یہ تحقیقات 2013ء میں اس وقت شروع ہوئیں جب اس وقت کے لیبیائی رہنما کے بیٹے سیف الاسلام نے پہلی بار الزام لگایا کہ سرکوزی نے اس کے والد کے انتخابی فنڈز سے لاکھوں یورو لیے۔ اگلے سال لبنانی بزنس مین زیاد تقی الدین، جو طویل عرصے تک فرانس اور مشرق وسطیٰ کے درمیان رابطہ کار رہا، نے کہا کہ اس کے پاس تحریری ثبوت ہیں کہ سرکوزی کی انتخابی مہم کو طرابلس کی طرف سے ’بھرپور‘ فنڈنگ ملی اور یہ ادائیگیاں اس کے صدر بننے کے بعد بھی جاری رہیں، جن کی مالیت 50 ملین یورو (43 ملین پاؤنڈ) تھی۔ اس مقدمے میں دیگر ملزمان میں سابق وزرائے داخلہ کلود گینت اور بریس ہورتفیو بھی شامل تھے۔ عدالت نے گینت کو کرپشن سمیت دیگر الزامات میں مجرم قرار دیا جبکہ ہورتفیو کو مجرمانہ سازش میں ملوث پایا۔نکولس سرکوزی کی اہلیہ، اطالوی نژاد سابق ماڈل اور گلوکارہ کارلا برونی سرکوزی پر بھی گزشتہ سال قذافی کیس سے متعلق شواہد چھپانے اور دھوکہ دہی کے لیے غلط کاموں کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ 2012ء کے انتخابات ہارنے کے بعد سے نکولس سرکوزی کو کئی فوجداری تحقیقات کا سامنا ہے۔اس نے فروری 2024ء کے اس فیصلے کے خلاف بھی اپیل کی ہے جس میں اسے 2012ء کی انتخابی مہم میں زیادہ اخراجات کرنے اور پھر اسے چھپانے کے لیے پی آر فرم رکھنے کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ اسے ایک سال کی سزا ہوئی تھی جس میں سے چھ ماہ معطل تھے۔
مسلم ممالک پر مسلط حکمرانوں کا اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے یہ کیس انوکھی نوعیت کا ہرگز نہیں ہے۔ قیصر بنگالی نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ مشرف دور میں سٹیٹ بینک کی پالیسی تبدیل کرکے غیرملکی بینکوں کو غیرمعمولی منافع حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے ۔ جس سے غیرملکی بینکوں نے خوب فائدہ اٹھایا ۔ برکلے بینک اسکی واضح مثال تھی۔ پاکستان پر مسلط فوجی و سیاسی رہنماؤں کے لیے اقتدار اور طاقت میں رہنے کا یہ اہم فارمولہ رہا ہے کہ غیرملکی طاقتوں کے مفادات پورے کرو اور پاکستان کے لوٹے گئے وسائل ان کے حوالے کرو اور بدلے میں یہ ان خائن حکمرانوں کی حمایت جاری رکھتے ہیں۔
امریکہ،جزیرہ نما سینا میں فوجی موجودگی میں کمی کے لیے، مصر پر دباو ڈالے: اسرائیل کا مطالبہ |
نیتن یاہو نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مصر پر جزیرہ نما سینامیں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے ۔
ایکسیوس کی خبر کےمطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سےسینا میں مصر کی فوجی موجودگی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا مرکز بن گئی ہے۔ ایکسیوس نے ایک امریکی اور دو اسرائیلی عہدیداروں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ قاتل نیتن یاہو نے پیر کو القدس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران سینا میں مصری سرگرمیوں کی ایک فہرست پیش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہےکہ سینا میں مصر کی سرگرمیاں 1979ء میں طے پانے والے امن معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور یہ معاہدہ امریکہ کی ضمانت میں طے پایا تھا۔ واضح رہے کہ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر 1979ء میں اس وقت کے مصر کے صدر انور سادات اور اسرائیلی وزیر اعظم میناخیم بیگن نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت جزیرہ نما سینا کو فوج اور اسلحے کی پابندیوں والے کچھ فوجی زونوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دو اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ مصر اپنے فوجی ڈھانچے کو بڑھا رہا ہے اور اس میں سے کچھ کو ان علاقوں میں جارحانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں معاہدے کے تحت صرف چھوٹے ہتھیاروں کو گزرنے کی اجازت ہے۔ اسرائیل نے یہ بھی کہا ہےکہ سینا میں ہوائی اڈوں پر رن وے کو بڑھا دیا گیا اور زیر زمین تنصیبات تعمیر کی گئی ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کا خیال ہے کہ یہ تنصیبات میزائلوں کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
مصر پہلا عرب ملک تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء کے امن معاہدے پر دستخط کرنے اور کئی دہائیوں کی جنگوں کے خاتمے کے بعد اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس کے بعد سے مصر نے آہستہ آہستہ اسرائیل سے تعلقات استوار کیے، انٹیلی جنس کا تبادلہ کیا، توانائی کے بڑے سودے کیے اور دونوں ممالک کے مابین براہ راست رابطے کو برقرار رکھا۔ لیکن ان تمام اقدامات حتیٰ کہ غزہ میں ہونے والے قتل عام پر مصر کی مجرمانہ خاموش حمایت نے بھی اسے اسرائیل کو راضی کرنے میں ناکام کردیا۔ اسرائیل نے کرم ابو سالم کے مقام پر ایک فوجی غبارہ فضا میں چھوڑا ہے جو مصر سے صاف دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ذریعے مصری فوجی نقل و حرکت کی باریک بینی سے نگرانی کی جارہی ہے۔ العربی الجدید نے بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی کے ماہر اور سابق مصری کرنل حاتم صابر کے بیان کو نقل کیا ہے۔ بقول صابر: ’’مصر غزہ کی مشکلات کو اپنی زمین پر منتقل کرنے کی کسی سازش کو قبول نہیں کرے گا۔‘‘
ٹرمپ کی اقوام متحدہ کی تقریر اور مغرب کے فلسطین کو تسلیم کرنے کی بےوقعتی |
رونی پی سسمیتا جو انڈونیشیا کے سٹریٹیجک اینڈ اکنامکس ایکشن انسٹی ٹیوشن میں ایک سینئر تجزیہ کار ہیں، ٹرمپ کی اقوم متحدہ میں تقریر اور یورپی ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کیے جانے کے اقدام کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
’’ڈونلڈ ٹرمپ کی ۲۳ ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کبھی بھی نفیس نہیں ہونے والی تھی۔ اپنے انداز کے مطابق، امریکی صدر نے اس روایتی سفارتی پلیٹ فارم کو قوم پرستی کے تکبر، کثیر الجہتی اداروں کے لیے تحقیر، اور اقوام متحدہ کے دعویٰ کردہ نظریات کے لیے کھلی حقارت کے تماشے میں تبدیل کر دیا۔ اس سال سب سے نمایاں چیز ٹرمپ کی اقوام متحدہ کے لیے تحقیر ہی نہیں تھی، اس نے اسے ’’کمزوروں کا کلب‘‘ قرار دیتے ہوئے طنز کیا اور کہا کہ اس نے ’’کبھی کوئی حقیقی مسئلہ حل نہیں کیا‘‘۔ لیکن دنیا کے دیرپا بحرانوں میں سے ایک، غزہ کی تباہی اور فلسطینی عوام کی انصاف کی فریاد پر وہ دانستہ طور پر خاموش ہی رہا۔
یہ خاموشی اتفاقیہ نہیں تھی۔ ٹرمپ نے ہمیشہ اسرائیل فلسطین تنازع کو نظریاتی اندھے پن اور تجارت کے حساب سے ہی دیکھا ہے۔
ٹرمپ اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو (Prabowo Subianto) کے درمیان تضاد اس سے زیادہ واضح نہیں ہو سکتا تھا۔ چند دن پہلے ہی، پرابوو نے اپنی اقوام متحدہ کی تقریر میں فلسطینیوں کے حق کا پرجوش دفاع کیا، اسرائیل کے حملوں کو روکنے اور غزہ کے شہریوں کی عزت بحال کرنے کے لیے فوری بین الاقوامی عمل کی اپیل کی۔ پرابوو کے لیے، جو خود ایک طاقتور رہنما بننے کی خواہش رکھتا ہے، فلسطین صرف ایک اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریجک معاملہ بھی ہے۔ فلسطینی مؤقف کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر کے ، پرابوو اپنے ملک میں اپنی رسمی حیثیت مضبوط کرنا چاہ رہا ہے، جہاں فلسطین کے لیے گہری عوامی حمایت پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ وہ عالمِ اسلام میں انڈونیشیا کو ایک اخلاقی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں اس طرح کی بیان بازی کو ’’نمائشی ڈھونگ‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
اس کے حقارت آمیز لہجے سے ظاہر ہوتا تھا کہ پرابوو کا فلسطین کا دفاع محض سیاسی تماشہ تھا جو داخلی استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اور کسی حد تک ٹرمپ درست بھی تھا۔ پرابوو دیگر طاقتور رہنماؤں کی طرح، سمجھتا ہے کہ خارجہ پالیسی اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک سٹیج کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ لیکن ٹرمپ کے طنز نے ایک اور تاریک حقیقت کو بھی واضح کیا: ایک ایسی عالمی سوچ جس میں انصاف، یکجہتی، یا انسانی حقوق کی اپیلوں کو مضحکہ خیز سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی نظر میں پرابوو جیسے رہنما غزہ پر بات کر سکتے ہیں، لیکن طاقت بالآخر ان کے پاس ہوتی ہے جو غزہ کو نظر انداز کرتے ہیں اور اسرائیل جیسے مضبوط اور دولت مند اتحادیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوتے ہیں۔
ستمبر میں مغربی ممالک کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی لہر میں ظالمانہ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ لہر اس وقت آئی جب عالمی نظام اسے معنی خیز تبدیلی میں بدلنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتا ہے۔ جن یورپی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی پیشکش کی، وہ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے یقیناً خود کو تاریخ میں درست سمت میں کھڑا محسوس کرتے ہوں گے، تاہم، عملی طور پر، یہ علامتی اقدامات ٹرمپ طرز کی طاقتور کی سیاست کی حقیقت سے متصادم ہیں۔
ٹرمپ کی تقریر نے ایک سادہ پیغام دیا ہےکہ فلسطین کو اس دنیا میں انصاف نہیں ملے گا جو طاقتور لوگوں کے زیر اثر ہے…… اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ابھی تک امریکہ کی ویٹو پاور کی یرغمال ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ’’ناجائز‘‘ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اور اس طرح وہ نظام جو (فلسطینی ریاست کو) تسلیم کرنے کو جوابدہی یا حقیقی ریاستی حیثیت میں تبدیل کر سکتا ہے، طاقتور (ٹرمپ) کی تحقیر سے منہدم ہو جاتا ہے………… نفاذ کے بغیر تسلیم کرلینا محض ڈرامہ ہے، اور ٹرمپ کی اقوام متحدہ میں تقریر نے اس نکتے کو بے رحمانہ وضاحت کے ساتھ واضح کیا۔
ٹرمپ اکیلا نہیں ہے، اس کی تقریر میں ولادیمیر پوٹن سے لے کر نریندر مودی تک، دیگر طاقتور رہنماؤں کی آوازوں کی گونج تھی، جنہوں نے کثیر الجہتی اداروں پر اعتماد کو منظم طور پر کمزور کیا…… جب ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور اس کی ناکامیوں کا مذاق اڑایا، تو یوکرین سے لے کر میانمار تک کے دیگر تنازعات کے لیے پیغام واضح تھا کہ کثیر الجہتی حل متروک ہو چکے ہیں۔ طاقتور رہنماؤں کا دور ایک ایسا دور ہے جس میں قانون سے زیادہ طاقت کی آواز بلند ہوتی ہے۔ اور ایسے دور میں غزہ کے لیے انصاف کی پکار ہمیشہ دبی رہے گی۔
ستمبر میں مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا شاید ایک علامتی فتح ہو، لیکن نفاذ کی عدم موجودگی میں، یہ زمینی سطح پر کچھ بھی تبدیل نہیں کرتی۔ ٹرمپ جیسے طاقتور (بدمعاش) رہنما یہ بات یقینی بناتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کھوکھلے، آسانی سے مسترد کیے جانے والے، اور سیاسی طور پر غیر مؤثر رہیں۔
ٹرمپ کی تقریر محض قوم پرستانہ بہادری کا مظاہرہ نہیں تھی، یہ ایک یاد دہانی تھی کہ طاقتور رہنماؤں کے دور میں، فلسطین اور غزہ کے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے انصاف صرف مؤخر نہیں کیا جاتا۔ یہ غیر معینہ مدت کے لیے مسترد کیا جاتا ہے۔
سرکاری افسران، بیوروکریٹس اور پولیس افسران نے آدھا کینیڈا خرید لیا ہے: رؤف کلاسرا |
معروف صحافی رؤف کلاسرا پاکستان کی بیوروکریسی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ہر وزارت کا پرنسپل اکاونٹنگ آفسر فیڈرل سیکرٹری ہوتا ہے۔ سیکرٹری چھوڑیں اگر ایک سیکشن افسر بھی وزیراعظم اور وفاقی وزیر کے entertainment allowance کی منظوری نہ دے تو وزیراعظم اور وزیر سرکاری خزانے سے چائے تک نہیں پی سکتا۔ وہ چاہے تو سب خرچے روک دے کہ یہ جعلی بلز ہیں۔ اس سیکشن آفسر کا مطمئن ہونا ضروری ہے کہ وزیر اعظم کا خرچہ درست ہے۔ یہ قانونی پاورز ہیں بیوروکریسی کے پاس۔ کسی دن ذرا کینڈا کا چکر لگا آئیں اور دیکھیں کن کن سرکاری افسران، بیوررکریٹس اور پولیس افسران نے آدھا کینڈا خرید لیا ہے۔ ایک ڈی آئی جی نے کینڈا میں بیس لاکھ ڈالرز کا گھر خرید کر بچے شفٹ کیے اور پاکستان لوٹ کر پھر ڈیوٹی جوائن کر لی۔ پرتگال تو اب نیا نیا مارکیٹ میں متعارف ہوا ہے ورنہ دبئی، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، لندن، امریکہ تو بہت پرانے ہوچکے ہیں۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ بڑے سے بڑا حکمران یا وزیراعظم یا وزیر زیادہ سے زیادہ آپ کو او ایس ڈی بنا سکتا ہے جس پر تنخواہ اور دیگر مراعات آپ کو ملتی رہتی ہیں لیکن وہ بیوروکریٹ کی منظوری کے بغیر چائے تک نہیں پی سکتا، کنٹریکٹ اور بڑے بڑے چھکے مارنا تو دور کی بات ہے۔ لہذا نہ تو یہ مظلوم ہیں نہ ہی اتنے معصوم ہیں کہ جی وہ بڑی سخت نوکری ہے۔ میں نے ستائیس سال قریب سے دیکھا اور سمجھا ہے کہ یہاں سول ملٹری بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ کے بغیر کرپشن یا لوٹ مار نہیں ہوسکتی۔ چند اچھے افسران ضرور ہیں لیکن آٹے میں نمک جتنے اور انہیں کوئی اعلیٰ عہدے بھی نہیں دیتا۔ ابھی سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے چار ارکان 40 کروڑ لے اڑے اور ان کی منظوری میں سیکرٹری فنانس، سیکرٹری قانون اور سیکرٹری تجارت شامل تھے۔ ان کے بغیر یہ قانون کے نام پر چالیس کروڑ کا ڈاکہ نہیں پڑ سکتا تھا۔ یہ سب ایک ہیں اور نیک بھی ہیں۔‘‘
کچھ ایسے ہی انکشافات گزشتہ ماہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملک کی بیوروکریسی کے بارے میں کیے تھے۔ اس نے کہا کہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے۔ آدھی سے زیادہ یہ بیوروکریسی شہریت لینے کی تیاری کر رہی ہے، یہ نامی گرامی بیوروکریٹس ہیں، مگر مچھ اربوں روپے کھا کر آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ خواجہ محمد آصف نے الزام عائد کیا کہ بزدار کا قریب ترین بیوروکریٹ بیٹیوں کی شادی پر 4 ارب روپے صرف سلامی وصول کر چکا، وہ بیوروکریٹ آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔ سیاست دان تو بیوروکریسی کا بچا کھچا کھاتے اور چولیں مارتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست دانوں کے پاس پلاٹ ہے نہ غیر ملکی شہریت، انہیں الیکشن لڑنا ہوتا ہے، پاک سر زمین کو یہ بیوروکریسی پلید کر رہی ہے۔ جون 2025ء میں خواجہ آصف نے ملک میں رائج ’ہائبرڈ نظام‘ کے لیے تعریفی کلمات کہے تھے۔ یہ اصطلاح اُس غیر رسمی طاقت کی تقسیم کے بندوبست کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جس کے تحت ملک کی فوج موجودہ سول حکومت پر خاصا اثر رکھتی ہے، اور ریاست کے امور چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سوڈان: نماز جمعہ کے دوران الفاشر کی مسجد پر ڈرون حملہ، 75 شہید |
خرطوم، سوڈان کی نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ آر ایس ایف) نے جمعہ کو مغربی شہر الفاشر میں ایک مسجد پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 75 افراد شہید ہو گئے۔ امدادی ٹیموں کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب آر ایس ایف دارفور کے وسیع مغربی علاقے میں سوڈانی فوج کے زیر انتظام آخری بڑے شہر پر قبضے کی کوششیں تیز کر رہی تھی۔ یہ حملہ شہر کے الدرجہ محلے میں واقع ایک مسجد پر ہوا۔ اس واقعے پر آر ایس ایف کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
الفاشر، جو تقریباً 18 ماہ سے محاصرے میں ہے، دارفور کی ریاست کا دارالحکومت ہے اور سوڈان کی فوج کے کنٹرول میں رہنے والا آخری بڑا شہر بھی ہے۔ سوڈان کی فوج اپریل 2023ء سے آر ایس ایف کے ساتھ جاری تباہ کن جنگ میں مصروف ہے۔ سوڈان میں جاری خانہ جنگی اب تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے، جس کے دوران ہزاروں افراد جاں بحق اور تقریباً 12 ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس خانہ جنگی نے ملک کو تقسیم کر دیا ہے، جہاں سوڈانی فوج نے شمال، مشرق اور وسطی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے، وہیں ریپڈ سپورٹ فورسز نے جنوب اور دارفور کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
الفاشر اور قریبی زمزم نقل مکانی کیمپ جیسی جگہوں کو قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں RSF نے اندازاً دو لاکھ ساٹھ ہزار شہریوں کو محصور کررکھا ہے، جن میں ایک لاکھ تیس ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، کل 24.6 ملین افراد، تقریباً نصف آبادی، خوراک کی شدید قلت کا شکار ہے، جب کہ ۶ لاکھ ۳۷ ہزار کو بھوک کی تباہ کن سطح کا سامنا ہے۔ سڑکوں کی بندش اور افسر شاہی کی رکاوٹوں کی وجہ سے اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں کے امدادی قافلے شاذ و نادر ہی دارفر پہنچتے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کارکن دونوں فریقوں پر خوراک کو ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔
دریں اثنا، بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے کہا کہ ملک کے جنگ سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے سوڈان کو برسوں میں ہیضے کی بدترین وبا کا سامنا ہے۔ ہیبا مورگن نے 23 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ دارالحکومت کے ایک علاقے میں، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور ڈینگی بخار کے پانچ ہزارسے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں درجنوں اموات ہوئیں۔
سوڈانی مہاجرین بحیرہ روم میں بھی مر رہے ہیں جب وہ جنگ سے بچنے کے لیے سمندری راستوں سے ہجرت کی کوشش کرتے ہیں۔ بحیرہ روم میں سوڈانی مہاجرین کو لے جانے والے جہاز میں آگ لگنے سے کم از کم 50 جاں بحق ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں دونوں فریقین پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے جنگ میں عوام کے قتل عام، تشدد، اور جنسی زیادتی سمیت ہر حربے کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہیہ جام ہڑتال |
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تاجروں اور ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی کال پر 29 ستمبر کو ایک بار پھر ریاست میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ احتجاج سے نمٹنے کی خاطر حکام نے کشمیر کے مختلف علاقوں میں لینڈ لائن، موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا جزوی طور پر بند کر دیا جبکہ کشمیر کی حکومت نے وفاق سے اضافی پولیس اور فورسز طلب کیں۔
ہڑتال کی کال دینے والوں کا کہنا ہے کہ خطے میں آٹے اور بجلی کی لگاتار اور رعایتی نرخوں پر فراہمی کے لیے دو سال قبل شروع ہونے والی اس تحریک میں اب کشمیری اشرافیہ کو حاصل مراعات میں کمی، مخصوص اسمبلی نشستوں کے خاتمے اور مفت تعلیم و صحت کی سہولیات جیسے اضافی مطالبات کو شامل کیا گیا ہے۔
ایکشن کمیٹی کا الزام ہے کہ اس مرتبہ احتجاج اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ حکومت دو سال قبل طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد میں بھی ناکام رہی ہے۔
بعض مقامات پر فورسز کی جانب سے فائرنگ کے سبب کئی شہری جاں بحق بھی ہوئے۔ فوج کا پروپگینڈہ پھیلانے والے وہ سوشل میڈیا اکاونٹس جن پر عموماً مجایدین ، بلوچ مزاحمت کاروں یا فوج کے مخالفین سیاسی کارکنان کے خلاف جھوٹ پھیلایا جاتا تھا، انہی اکاونٹس پر آزاد کشمیر کے حالات پر اور ان مظاہروں کی قیادت کرنے والے رہنماؤں کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی رہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاستی اداروں کے پاس مسائل کا حل بس یہی ہے کہ حقوق مانگنے والوں اور تنقید کرنے والوں کو شرپسند اور غیرملکی ایجنسیوں کا ایجنٹ قرار دیا جائے۔کستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہیہ ہڑتال
معدنی ذخائر نکالنے کے لیے پاکستان کی “فوجی کمپنیوں” کا امریکی کمپنی سے معاہدہ |
امریکہ کے ایک اعلیٰ سطح کے سرمایہ کاری وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔اسلام آباد میں پرائم منسٹر آفس سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق وفد میں امریکی سٹریٹجک میٹلز اور موٹا اینجیل کمپنی کے نمائندے شامل تھے۔ ملاقات میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزراء بھی شریک ہوئے۔ امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں مائننگ آپریشنز بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا جس پر اُن کو پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمپنیوں کے نمائندوں نے تانبے، گولڈ اور ریئر ارتھ ایلیمنٹس کو نکالنے کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر غور کیا۔ اس دوران پاکستانی فوجی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور یو ایس ایس ایم کے درمیان معاہدہ طے پا گیا جس کے مطابق امریکی کمپنی 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔
پاکستان میں جدید پالی میٹلک ریفائنری قائم کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا گیا جس کے ابتدائی مرحلے میں تانبے، سونے اور ٹنگسٹن کی برآمد شروع ہو گی۔ فوجی کمپنی این ایل سی اور موٹا اینجیل کے درمیان بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ موٹا اینجیل نے پاکستان میں لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب کے دوران پاکستان آرمی کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھا۔ بعد ازاں امریکی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک ملاقات کی تصویر بھی انٹرنیٹ پر وائرل رہی اور تنقید کا نشانہ بنی جس میں عاصم منیر کسی سیلز مین کی مانند ٹرمپ کو قیمتی پتھر دکھا رہا ہے۔
فوج کو معدنیات کے حوالے سے پاکستان میں بالخصوص خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں کافی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فوج کے ترجمان نے اس پر سیخ پا ہوتے ہوئے ایک دفعہ بیان جاری کیا کہ پشتون یہ معدنیات جہیز میں نہیں لائے اس بیان پر مفتی منیر شاکر کی جانب سے نہایت سخت جواب دیا گیا جس کے فورا بعد ہی ان پر حملہ ہوا جس میں وہ شہید ہوئے۔ مفتی منیر شاکر فوج کی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے مگر جو آخری تبصرہ انہوں نے فوج کے ترجمان کو جواب دیتے ہوئے کیا وہ شاید ریڈ لائن کراس کرگیا تھا ۔
بھارت کی جانب سے اسلحے ، میزائل ، جہازوں ہیلی کاپٹروں سمیت دفاعی سازوسامان کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ |
بھارت اور برطانیہ نے چار سو ۶۸ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ہندوستانی فوج کو برطانوی ساختہ میزائل ملیں گے۔
ہندوستان نے مارچ 2025ء میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) سے 7.3 بلین ڈالر سے زیادہ مالیت کے مقامی طور پر بنائے گئے 156 لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹرز (LCH)، جسے ’’پراچند‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کے لیے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے میں فضائیہ کے لیے 66 اور فوج کے لیے 90 ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ یہ اقدام بھارت کے اپنی فوج کو جدید بنانے اور ملکی دفاعی پیداوار بڑھانے کے بڑے ہدف کا حصہ ہے۔
ہندوستانی حکومت نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HIAE.NS) سے مقامی لڑاکا طیارے خریدنے کے لیے سات بلین ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تیجس Mk-1A قسم کے 97 ملکی لڑاکا طیاروں کے آرڈر میں مالی سال 2027-28ء سے چھ سال کے عرصے میں ترسیل کی تکمیل ہوگی۔
بھارت نے یو ایس جنرل ایٹمکس سے اکتیس MQ-9B اونچائی پر اڑنے والے والے اور لانگ اینڈیورنس (HALE) ڈرونز کے لیے ایک بڑے معاہدے کو حتمی شکل دی ہے، اور الگ سے ایک مقامی کمپنی، پارس، سے مقامی اینٹی ڈرون سسٹمز کے لیے5.2 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے بھی ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کوئی ایڈونچر خارج از امکان نہیں ہے۔ فوج کے حمایت یافتہ پروپگینڈہ اکاونٹس سے بھی اس تاثر کو تقویت دی جارہی ہے کہ بھارت ایک دفعہ پھر پاکستان پر حملے کے منصوبے بنا رہا ہے۔
بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے حال ہی میں وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں اپنے تربیتی مرکز میں ‘’’ڈرون وارفیئر اسکول‘‘ کا آغاز کیا ہے، جہاں عملہ اپنے زیرِ تربیت اہلکاروں کو مستقبل کے ‘’’ڈرون کمانڈوز‘‘ قرار دے رہا ہے۔ ڈرون کمانڈوز کو اس انداز میں تربیت دے جارہی ہے کہ وہ ڈرون کو ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہوئے نگرانی، گشت، دشمن کے ڈرونز کو ناکارہ بنانے اور ضرورت پڑنے پر بم گرانے کے قابل ہوں۔ بھارت جلد ہی ’’کولڈ اسٹارٹ‘‘ کے نام سے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈرون جنگی مشقیں شروع کرنے جا رہا ہے، جن میں بحریہ، بری فوج اور فضائیہ شامل ہوں گی۔
٭٭٭٭٭












