ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان شہید مجاہدینِ پاکستان و برِّ صغیر کے درمیان کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کے یہاں ڈاکٹر ابو خالد کے نام سے معروف ہیں۔ پیش تر ان کی کتاب ’عصرِ حاضر کے جہاد کی فکری بنیادیں‘ زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو کر عام و خاص قارئین تک آج سے گیارہ سال قبل پہنچ چکی ہے ۔ ڈاکٹر ابو خالد رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری کتاب ’غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں‘ ، مؤلف شہید نے مارچ ۲۰۱۲ء میں مکمل کی، لیکن مختلف النوع وجوہات کی بنا پر اب تک شائع نہ ہو سکی۔
باب چہارم: ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ (۲)
تغلق خاندان (۱۳۲۰ء تا ۱۴۱۴ء)
غازی ملک جنہیں غیاث الدین تغلق کے نام سے ہندوستان کا سلطان بنایا گیا تھا ترک نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ علاؤ الدین کے زمانے میں جب منگولوں کے حملوں کا خطرہ موجود رہتا تھا توعلاؤ الدین نے اپنے وفا دار اور آزمودہ کار سالاروں کو لاہور اور ملتان کے علاقوں میں حاکم تعینات کیا تھا۔ غازی ملک بھی انہی سالاروں میں سے ایک تھے۔ انہیں لاہور کے قریب دیپال پور کے علاقے میں حاکم بنایا گیا۔ علاؤ الدین کے زمانے میں ہونے والے تمام منگول حملوں میں غازی ملک نے انتہائی دلیری، شجاعت اور دانشمندی کا ثبوت دیا اور کئی دفعہ اکیلے ہی منگولوں کے لشکروں کو شکست دی۔ خسرو خان کے فتنے کو ختم کر کے انہیں غیاث الدین تغلق کے نام سے سلطان بنا دیا گیا۔ غیاث الدین تغلق کا دور صرف چار سال اور چند ماہ پر مشتمل تھا مگر اس کا دور تاریخ میں بہت اہم ہے۔ اس دور کی اہمیت کو ہم مندرجہ ذیل نقاط میں پیش کر تے ہیں :
- غیاث الدین نے حکمران بننے کے چند ماہ کے اندر ہی ملک میں پھیلی طائف الملوکی کو ختم کر دیا۔
- انہوں نے تمام خلجی امراء اور خاندان خلجی کی تمام خواتین کی عزت بحال کی اور ان کے وظائف مقرر کیے۔
- غیاث الدین نے ٹیکس کو کم کر کے دسواں یا گیارہواں حصہ مقرر کیا۔ انہوں نے قابل کاشت زمینوں میں اضافہ کیا اور نہریں کھدوائیں۔
- غیاث الدین نے خسرو کے زمانے میں دیے جانے والے انعامات و اکرام واپس لے لیے۔
- غیاث الدین خود بھی شریعت کے پابند تھے اور انہوں نے سختی سے اس کو نافذ بھی کیا۔ انہوں نے علماء کی سرپرستی کی اور بے شمار مدارس اور مساجد تعمیر کیں اور ان کے وظائف مقرر کیے۔
- ان کے ان اقدامات سے ایک طرف تو کا خزانہ بھر گیاتیسری طرف دین اور شریعت کا بول بالا ہوا۔
غیاث الدین تغلق ۱۳۲۵ء میں انتقال کر گئے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے سلطان محمد تغلق کے نام سے تخت پر بیٹھے۔ محمد تغلق نے ستائیس سال حکومت کی۔ گو محمد تغلق ایک قابل حکمران تھے مگر انہوں نے کئی بڑی سیاسی غلطیاں کیں جس کی وجہ سے ان کی حکومت کا آخری دور بغاوتوں کا گھر بن گیا۔ مگر محمد تغلق ہر دفعہ ان بغاوتوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ محمد تغلق کے دور کے کارناموں اور سیاسی غلطیوں کو ہم ذیل میں اختصار کے ساتھ درج کرتے ہیں:
- محمد شاہ کو ایک وسیع حکومت اور بھرا ہوا خزانہ وراثت میں ملا تھا۔ انہوں نے اس خزانے سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہر خاص اور عام کو اس خزانے سے نوازا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ رعایا خوش حال ہو۔
- محمد شاہ خود بھی ایک عالم تھے، انہوں نے علم کی ترقی کے لیے بھی بے پناہ خزانہ خرچ کیا۔ انہوں نے جگہ جگہ مدارس و مساجد تعمیر کیں اور علماء کے وطائف مقرر کیے۔
- ان کے خزانے کا تیسرا مصرف فوج تھی، انہوں نے ایران اور چین کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا اور ایک بڑی فوج فراہم کی۔
- محمد شاہ ایک عدل پسند بادشاہ تھے، انہوں نے عدل و انصاف کے لیے بھی بہت سا پیسہ خرچ کیا۔
- محمد شاہ نے جو فوج چین کی فتح کے لیے بھیجی تھی وہ فوج چین پہنچنے سے پہلے ہی موسم کی بےرحمی کا شکار ہو گئی۔ اس فوج میں نہ صرف بہت سے قیمتی لوگ شہید ہو گئے بلکہ اس نے بادشاہ کے خزانے پر بہت برا اثر ڈالا۔
- انہوں نے جو رقم لوگوں پر بے دریغ خرچ کی تھی اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اسے زراعت کی ترقی پر صرف کریں۔ مگر انکے عمال کی بد عملی کی وجہ سے بہت سی رقم عام لوگوں تک نہ پہنچ سکی اور اس کا کم فائدہ ہوا مگر اس کا نقصان یہ ہو کہ اس کا خزانہ مزید خالی ہو گیا۔
- اپنے خزانے کو دوبارہ بھرنے کے لیے انہوں نے ٹیکسوں میں اضافہ کیا مگر اس کا اثر یہ ہوا کہ لوگ بد گمان ہو گئے۔ اس بد گمانی کے نتیجے میں لوگوں نے زراعت کا کام چھوڑنا شروع کر دیا اسی دوران قحط پڑا اور اس نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔
- ایک اور یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ انہوں نے جو تانبے کے سکے جاری کیے تھے اس کے ٹکسال کا نظام نہیں بنایا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے جالی سکے بنانا کر انہیں سونے کے سکوں سے تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ اس سے خزانے پر مزید برا اثر پڑا۔
اس صورت حال میں محمد شاہ ٹیکس میں اضافہ کرتے تو حالات مزید خراب ہو جاتے۔ اس لیے محمد شاہ کا آخری زمانہ انہیں بغاوتوں کو ختم کرنے میں گزر گیا۔ محمد شاہ ۱۳۵۰ء میں ٹھٹھہ کے قریب سندھ کی ایک بغاوت کو کچلنے کے دوران فوت ہو گئے۔ محمد شاہ کے بعد ان کے چچاذاد بھائی فیروز شاہ تغلق حکمران بنے۔ انہوں نے چالیس سال حکومت کی۔ ان کا دور امن آتشی اور ترقی کا دور تھا۔ ان کے زمانے میں رعایا خوش حال تھی اور اشیاء کی فروانی اور ارزانی تھی۔ ان کی حکومت کی اہم باتیں درج ذیل ہیں :
- فیروز تغلق نے محمد شاہ کے زمانے کے ٹیکس معاف کر دیے صرف زکوۃ اور مال غنیمت کا حصہ رہنے دیا۔
- شاہی خوان پر سونے اور چاندی کے برتن کا استعمال منع کر دیا۔
- عورتوں کا قبروں پر جانا منع کر دیا۔
- محمد تغلق نے جن لوگوں کو قتل کرایا تھا یا سزائیں دے کر معذور کریا تھا ان کو خوب انعامات اور بخشیں دے کر ان سے معافی نامے لکھوائے کہ ہمارا اب محمد تغلق کے ساتھ کوئی دعویٰ نہیں۔
- اس نے بازاروں کا نظام بہتر بنایا۔ غلہ کی ترسیل کے نظام پر خاص توجہ دی۔ دوآبہ کی زمین میں کوئی ایک انچ کی زمین بھی ایسی نہی رہی جو پیدا وار نہ دیتی ہوا۔ اس وجہ سے ملک میں بے انتہاء فراوانی اور ارزانی کا دور دورہ ہو گیا۔
- فیروز شاہ کے زمانے میں پانچ بڑی نہریں کھودی گئیں اس نے ملک کی زراعت کو چار چاند لگا دیے۔
- فیروز شاہ کے پاس ایک لاکھ نوے ہزار غلام تھے۔ انہوں نے ان سب غلاموں کی تربیت پر انتہائی توجہ دی، انہیں پڑھایا لکھایا، ان کی مختلف فنون میں تربیت کی۔ انہوں نے اپنے امراء کو بھی غلاموں کی تربیت کا حکم دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ غلام ان کی حکومت کے مختلف شعبوں میں کام کرنے لگے اور ان کے وفادار بھی رہے۔
- فیروز شاہ نے اپنے زمانے میں بہت سے فلاحی کام کرائے۔ انہوں نے شفا خانے بنوائے اور غریبوں اور بیواؤں کے لیے وظیفے مقرر کیے۔
- فیروز شاہ نے بے روز گاری کو ختم کر نے کے لیے خاص اقدام کیے۔ وہ اس بات کا خود خیال رکھتے تھے کہ ہر خاندان کا روزگار کا انتظام ہو۔
- فیروز شاہ کے زمانے میں علم دین پر خاص توجہ دی گئی۔ ان کے زمانے میں تفسیر تاتارخانی اور فتاویٰ تاتارخانی دو ایسی کتابیں تصنیف ہوئیں جو کہ آج بھی فقہ حنفی کی مشہور کتب ہیں۔
- فیروز شاہ کے زمانے میں مختلف ایجادات پر بھی توجہ دی گئی۔ اس زمانے میں ایک گھڑی کی ایجاد ہوئی جو نمازوں کے اوقات اور رمضان میں سحر اور افطار کے اوقات بناتی تھی۔
فیرو زشاہ تغلق کی وفات کے بعد ان کا پوتا تغلق شاہ ثانی کے نام سے تخت پر بیٹھا مگر اپنی حرکتوں کی وجہ سے ایک سال بعد قتل ہو گیا۔ اس کے دوسرے پوتے ابوبکر کو بادشاہ بنایا گیا مگر اس کے چچا ناصر الدین نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ اب اس میں اور نصرت خان میں جنگ شروع ہو گئی۔ ابھی یہ جنگ ہو رہی تھی کہ تیمور لنگ نے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔ محمود شاہ نے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر شکست کھائی اور پہاڑوں میں جا چھپا۔ تیمور نے دہلی میں قتل عام کیا، غنیمت لوٹی اور جہاں سے آیا تھا وہاں واپس ہو گیا۔ اس کے جانے کے بعد ایک سالار اقبال خان نے نصرت شاہ کو شکست دے دی۔ کچھ عرصے کے بعد ملتان کے حاکم خضر خان نے اقبال خان کو شکست دی اور اسے قتل کر دیا۔ ۱۴۱۴ء میں ناصر الدین مرگیا۔ اس کا کوئی وارث نہ تھا۔ خضر خان نے دہلی کے تخت پر قبضہ کر لیا یوں بادشاہت تغلق خاندان سے سادات خاندان میں چلی گئی۔
خاندان سادات(۱۴۱۴ء تا ۱۴۵۲ء)
تیمور کے حملے کے بعد ہندوستان کی معاشی حالت بہت خراب ہو گئی۔ بستیوں کی بستیاں ویران ہو گئیں۔ اس دور میں تغلق خاندان زوال پزیر ہو گیا اور اس کی جگہ خضر خان دہلی کے تخت پر بیٹھا۔ اس کی زندگی کے سات سال ہندوستان کو ایک دفعہ پھر سے ایک مرکزی حکومت کے تحت منظم کرنے کی کوشش میں صرف ہو گئے، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا مبارک شاہ تخت پر بیٹھا۔ اس نے بھی اپنی زندگی اسی جدوجہد میں گزار دی۔ مبارک شاہ نیک سیرت بادشاہ تھا اور شریعت کا پابند تھا۔ اسے ہندوؤں کے ایک گروہ نے قتل کر دیا۔ مبارک شاہ کے قتل کے بعد اس کے وزیر نے اس کے بیٹے محمد شاہ کو تخت پر بیٹھا دیا۔ اس کی حالت ایک یرغمال سے زیادہ نہ تھی۔ اس وزیر کے خلاف بغاوت ہو گئی، اور وہ قتل ہوا۔ محمد شاہ ہندوستان کے حالات کے میں کو ئی بہتری نہیں لا سکا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا علاؤ الدین بادشاہ بنا اس میں کوئی صلاحیت نہ تھی۔ اس نے اپنا دار الحکومت دہلی سے بدایوں منتقل کر دیا۔ اس طرح دہلی کا تخت خالی ہو گیا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر لاہور کا حاکم بہلول لودھی دہلی کے تخت پر قابض ہو گیا۔ علاؤ الدین نے اسے پیغام بھیجا کہ تم میرے بھائی ہو اس لیے میں نے دہلی کی حکومت تمہیں دے دی ہے۔ اس طرح بادشاہت سید خاندان سے لودھی خاندان میں منتقل ہو گئی۔
لودھی خاندان( ۱۴۵۲ء تا ۱۵۲۶ء)
لودھی خاندان افغان پشتون خاندان تھا۔ اس خاندان کے لوگ تجار ت کے لیے ہندوستان آتے رہتے تھے۔ ان میں بہلول لودھی کا دادا بہرام خان گیروز شاہ کے زمانے میں ملتان کے حاکم مردان دولت کی فوج میں شامل ہو گیا۔ خضر خان نے اس بہرام کے بیٹے ملک شاہ کو سرہند کا حاکم بنا دیا۔ بہلول لودھی ملک شاہ کا بھتیجا اور داماد تھا۔ ملک شاہ کے مرنے کے بعد تمام پنجاب بہلول لودھی کے قبضے میں آگیا۔ سید خاندان کے بادشاہ علاؤ الدین کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بہلول لودھی ہندوستان کے پائے تخت دہلی پر قابض ہو گیا۔ بہلول لودھی جب ہندوستان کا بادشاہ بنا تو ہندوستان تیمور کے حملے کے بعد سے ہونے والے اثرات سے ابھی نہیں نکل سکا تھا اور تیمور کے بعد خاندان سادات ہندوستان کو ایک منظم مملکت میں تبدیل کر نے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ بہلول لودھی نے ہندوستان کو ایک دفعہ پھر ایک منظم مملکت میں تبدیل کر دیا۔ بہلول لودھی نے ۳۸ سال حکومت کی، اس کے بعد اس کا بیٹا سکندر لودھی تخت پر بیٹھا۔ سلطان سکندر لودھی کا زمانہ ہندوستان کے عروج کا زمانہ تھا۔ عدل و انصاف، معاشی ترقی میں یہ دور اپنی مثال آپ ہے۔ سکندر لودھی نے انتیس سال حکومت کی، اس کے بعد اس بیٹا ابراہیم لودھی تخت پر بیٹھا۔ ابراہیم لودھی کا دور بھی عروج کا دور تھا۔ ابراہیم لودھی مزاج کا سخت واقعہ ہوا تھا۔ اس کا چچا دولت خان اس سے ناراض ہو گیا اور وہ بابر سے جا ملا۔ اس نے بابر سے وعدہ کیا کہ اگر وہ اس کی مدد کرے تو لاہور تک کا علاقہ اس کو دے دیا جائے گا اور لاہور سے آگے دولت خان کی حکومت ہو گی۔ مگر بابر کے ارادے کچھ اور تھے۔ یوں ۱۵۲۶ء میں بابر نے ابراہیم لودھی کی فوج کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔ یوں ہندوستان کی حکومت لودھی خاندان سے نکل کر مغلیہ خاندان میں منتقل ہو گئی۔
مغلیہ سلطنت(۱۵۲۶ء تا ۱۸۵۷ء)
مغلیہ سلطنت کا آغاز ۱۵۲۶ء میں پانی پت کی لڑائی میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر دہلی پر قبضے سے ہوتا ہے۔
بابر (۱۵۲۶ء تا ۱۵۳۰ء)
بابر ۱۴۸۳ء میں سمرقند میں پیدا ہوا۔ بابر کا تعلق چنگیز خان کی آٹھویں اور تیمور لنگ کی چوتھی نسل سے تھا۔ اس کا باپ سمرقند کا حاکم تھا۔ باپ کا انتقال بابر کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ اس کے چچا نے اس کے باپ کی حکومت پر قبضہ کر لیا اور بابر کو سمرقند سے بھاگنا پڑا۔ اس نے ہمت نہ ہاری اور دوبارہ سمرقند پر قبضہ کر لیا، مگر کچھ عرصے بعد اس کو یہاں سے پھر نکلنا پڑا۔ سمرقند سے مایوس ہو کر اس نے کابل پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔ کابل میں بھی اسے بہت سی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سازشوں سے مقابلہ کرنے کے بعد اس نے ایک دفعہ پھر سمرقند پر حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا۔ مگر آٹھ ماہ بعد اسے دوبارہ سمرقند سے نکلنا پڑا۔ اب اس نے سمرقند کا خیال چھوڑ دیا اور اپنی نظریں ہندوستان پر جما دیں۔ وہ پنجاب کوتیموری سلطنت کا حصہ سمجھتا تھا۔ حالات نے اس کا ساتھ دیا جب ابراہیم لودھی کے اپنے رشتے دار اس کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے بابر کو ہندوستان آنے کی دعوت دی۔ بابر نے بہت کم فوج کے ساتھ ابراہیم لودھی کو شکست دے دی۔ اس کے بعد بابر نے رانا سنگھا کو شکست دی اور اس طرح اس کا اقتدار ہندوستان میں قائم ہو گیا۔
ہمایوں (۱۵۳۰ ءتا ۱۵۴۰ء)( ۱۵۵۵ء تا ۱۵۵۶ء)
بابر کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں بادشاہ بنا۔ جس دور میں ہمایوں بادشاہ بنا اس وقت بہت سے افغان سردار مغلوں سے حکومت چھننے کے لیے جد جہد کر رہے تھے۔ ان میں ایک بہادر شاہ گجرات میں دوسرا محمود شاہ لودھی اور تیسرا فرید خان جو بعد میں شیر شاہ سوری کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے ہمایوں سے ہندوستان کی حکومت چھین لی۔ ہمایوں ہندوستان سے بھاگ کر ایران کے بادشاہ طہماسپ شاہ کے پاس چلا گیا۔ طہماسپ شاہ نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ہمایوں بارہ سال طہماسپ شاہ کے پاس رہا۔ جب شیر شاہ سوری انتقال کر گیا اور اس کے بیٹے حکو مت کو نہ سنبھال سکے تو ہمایوں نے دوبارہ ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ اس فتح کے بعد ہمایوں سیڑھی سے پھسل کر انتقال کر گیا۔
شیرشاہ سوری(۱۵۴۰ء تا ۱۵۴۵ء)
تاریخ کے اس موڑ پر یہ ضروری ہے کہ ہم اس شخص کا ذکر ضرور کریں جس نے مغلوں کو شکست دے کر نہ صرف ہندوستان کے تخت پر قبضہ کر لیا بلکہ پانچ سالوں کے قلیل عرصے میں ہندوستان میں ایک ایسا نظام قائم کر دیا کہ جس کی بنیاد پر مغلوں نے مستقبل میں اپنی حکومت کے نظام کو منظم کیا۔ یہ نظام آج بھی کسی نہ کسی سطح پر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں قائم ہے۔ یہ شخص فرید خان ہے جو تاریخ میں شیر شاہ سوری کے نام سے مشہور ہے۔ فرید خان سہسرام کے حاکم حسن خان کے ہاں پیدا ہوا۔ حسن خان کی چار بیویاں تھیں، اس کی سب سے چھوٹی بیوی ایک نو مسلم ہندو تھی۔ حسن خان مکمل طور پر اس بیوی کے زیر اثر تھا۔ اس بیوی کا نام چاندنی تھا۔ اس کی خواہش یہ تھی کہ اس کے بیٹے حسن خان کی جاگیر کے وارث بنیں۔ مگر اس کے راستے کا سب سے بڑا کانٹا فرید خان تھا۔ وہ ہر وقت فرید خان کو اپنے باپ کی نگاہ سے گرانے کی کوشش میں مصروف رہتی۔ اس کام میں اسے بہت کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کا باپ اس سے ناراض ہو گیا۔
فرید خان جونپور کے حاکم کے پاس آگیا جو کہ اس کے باپ کا دوست تھا۔ یہاں فرید خان نے تعلیم حاصل کی اور فن حرب میں تربیت حاصل کی۔ جونپور میں اس کے جوہر سامنے آنا شروع ہوئے۔ اس کے باپ نے جب اس کی شہرت سنی تو وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا اور جاگیر اس کے حوالے کر دی۔ فرید خان نے پوری جاگیر میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ اس نے پوری جاگیر کی ترتیب کو بدل دیا۔ اس نے مالک اور مزارع اور کسان کے درمیان اتنا مضبوط تعلق پیدا کر دیا کہ سب مل کر جاگیر کی پیدا وار میں اضافہ کرنے لگے۔ اس بات نے فرید خان کی اہمیت کو بہت بڑھا دیا۔ مگر اس کی سوتیلی ماں اس کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی اور اس نے حسن خان کی ناک میں دم کر دیا جس کے نتیجے میں حسن خان نے اپنے بیٹے فرید خان سے درخواست کی کہ وہ یہ جاگیر چھوڑ دے۔ فرید خان باپ کا فرماں بردار تھا، اس نے جاگیر کو چھوڑ دیا۔
جاگیر سے نکل کر فرید خان بابر کے ایک افسر جنید برلاس کی توسط سے بابر کے محافظ دستے میں شامل ہو گیا۔ بابر نے جب فرید خان کی صلاحیتوں کو دیکھا تو اسے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ اس صورت حال میں فرید خان نے بابر سے بنگال میں جاگیر حاصل کی اور اپنی جاگیر پر چلا گیا۔ یہاں سے فرید خان کا عروج شرو ع ہوتا ہے۔ اس نے بنگال اور بہار کے حاکموں کو معزول کر کے دونوں صوبوں پر قبضہ کر لیا۔ فرید خان کی اس قوت کا سن کر ہمایوں نے اس کے خلاف فوج کشی کی۔ اس فوج کشی کے دوران ایک بغاوت کو ختم کرنے کے لیے اس کو گجرات جانا پڑا۔ اس نے شیر شاہ (فرید خان) کے ساتھ صلح کر لی۔ اب شیر شاہ کو منظم ہونے کا موقع مل گیا۔ اس نے پہلے گنگا کے کنارے چونسہ کے مقام پر ہمایوں کی فوج کو شکست دی اور پھر قنوج کے میدان میں دوبارہ شکست دی اس کے بعد اس نے ہمایوں کا تعاقب پنجاب تک کیا۔ ہمایوں ایران بھاگ گیا اور فرید خان شیر شاہ کے نام سے ہندوستان کا بادشاہ بن گیا۔
شیر شاہ سوری نے صرف پانچ سال حکومت کی۔ مگر اس نے ہندوستان کے زرعی ، معاشی ، مالیاتی اور حکومتی نظام میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک کا اختصار سے ذیل میں ذکر کرتے ہیں :
- شیر شاہ سوری کا ایک بڑا کارنامہ پورے ہندوستان کوبڑی شاہ راہوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرنا تھا۔ ایک شاہراہ بنگال، آگرہ، دلی اور لاہور سے ہو کر مغرب میں کابل کی طرف جاتی تھی۔ دوسری شاہراہ لاہور سے ملتان کی طرف جاتی تھی۔ تیسری شاہراہ آگرہ سے مانڈو کی طرف جاتی، چوتھی شاہراہ آگرہ سے چتور کی طرف جاتی تھی۔
- ان شاہراہوں کے ساتھ ساتھ اس نے سترہ سو سرائے بنائے اور درخت لگائے۔ ان سرائیوں میں ہندو اور مسلم دونوں کی رہائش کا علیحدہ انتظام کیا۔ ہر سرائے کے ساتھ مسجد بنائی ان مساجد میں مؤذن اور امام کا انتظام کیا گیا۔ ہر سرائے کے ساتھ پانی کے لیے کنویئں موجود تھے۔
- شیرشاہ سوری نے ڈاک کا ایک انتہائی منظم نظام بنایا۔ ہر سات کوس1 اردو لغتوں میں درج ہے کہ ایک کوس 3.2 کلومیٹر یا ۲ میل کا فاصلہ ہوتا ہے۔ (ادارہ) پر تازہ دم گھوڑے موجود ہوتے جو کہ ڈاک والوں کو میسر ہوتے اس طرح ملک کے دور دروز علاقے میں بھی اس کا پیغام چند دنوں میں پہنچ جاتا۔
- شیر شاہ سوری نے زمیندارہ اور مالیات کا نیا نظام بنایا جس کے اثرات اب بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
- شیر شاہ سوری نے تانبے، چاندی اور سونے کے سکے جاری کیے۔ اس نے چاندی کے سکے کا نام روپیہ رکھا جو آج پورے برصغیر کی کرنسی کا نام ہے۔
- امورِ حکومت چلانے کے لیے شیرشاہ نے امور خارجہ، امور داخلہ، دفاع ، خزانہ اور اوقاف کے محکمے بنا ئے۔
جلال الدین اکبر(۱۵۵۶ء تا ۱۶۰۶ء)
ہمایوں کی وفات کے بعد جلال الدین محمد اکبر ۱۵۵۶ء میں تخت نشین ہوا۔ اس وقت وہ دہلی سے باہر اپنے استاد بیرم خان کے ساتھ ایک مہم پر تھا۔ بیرم خان نے گورداس پور کی ایک عید گاہ میں اس کی رسم تاج پوشی کی۔ اس کے بعد اس نے پانی پت کے میدان میں ہیمون کو شکست دے کر دہلی اور آگرہ پر قبضہ کر لیا۔ دہلی میں اس نے اپنی رسم تاج پوشی دوبارہ ادا کی۔ اکبر نے سن ۱۵۵۶ء سے ۱۶۰۵ء تک تقریباً پچاس سال حکومت کی۔ اس کی حکومت کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کی حکومت کا پہلا ۱۵۵۶ء سے ۱۵۷۹ء تک محیط ہے۔ اس دور میں اکبر ایک راسخ العقیدہ مسلمان کی حیثیت سے نظر آتا ہے جس کا مقصد دین اور رعایا کی خدمت ہے۔ ۱۵۷۹ء سے لے کر ۱۶۰۵ء تک کا دور وہ دور ہے جسے اس کی دینی گمراہی کا دو کہا جاتا ہے۔ اس دور میں اکبر نے ایسے عقائد کا برملا اظہار شروع کر دیا اور اس کی دعوت دوسروں کو دینا شروع کردی جسے کسی صورت بھی اسلام کے دائرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ ذیل میں اکبر کے دور بادشاہت کے دونوں ادوار کا ایک اجمالی خاکہ پیش کر تے ہیں :
- اکبر کا پہلا دور ایک رحم دل اور عادل بادشاہ کا دور ہے۔ اس دور میں اکبر عقیدے اور عمل دونوں لحاظ سے ایک باعمل مسلمان تھا۔ وہ صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا۔ ہر سال حاجیوں کو رخصت کرنے کے لیے خود جاتا۔ ان کے حج میں ان کی امداد کرتا۔ علماء کی عزت کرتا۔ مدارس اور مساجد کی تعمیر اور ترقی میں مدد کرتا۔
- اس دور میں اس کی سلطنت مغرب کی طرف کابل اور قندھار تک پھیل گی۔ مشرق میں یہ اڑیسہ تک اور شمال میں کشمیر تک پھیلی ہوئی تھی۔
- انتظام سلطنت میں اکبر نے شیر شاہ کے بنائے ہوئے نظام کو مزید ترقی دی۔ اس نے زمیندارہ کے نظام کو زمینوں کی پیمائش کروا کر دوبارہ منظم کیا۔
- اس نے سلطنت کے کاموں کوچار محکموں میں تقسیم کیا تھا جن میں ایک سرکارِ آتش جو آلات جنگ، اور افواج کی تربیت کو دیکھتا تھا۔ دوسرا محکمہ سرکار ہوائی کہلاتا تھا جس کاکام باورچی خانہ، اصطبل، فیل خانہ وغیرہ کی دیکھ بھال تھی۔ تیسرا محکمہ سرکار آبی کہلاتا تھا جس کا کام نہری نظام کی دیکھ بھال تھی۔ چوتھا سرکار خاکی کہلاتا تھا جس کا کام زراعت اور عمارت کی دیکھ بھال تھا۔
- اکبر نے اپنے مفتوحہ علاقے کو اٹھارہ صوبوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ہر صوبے پر ایک نائب سلطنت تعینات تھا۔ اس کے تحت تین صیغے کام کر تے تھے۔ ان میں پولیس اور عدالتوں کا نظام کام کرتا تھا۔
اکبر کی حکومت کا دوسرا دور سن ۱۵۷۹ء سے شروع ہو کر اس کی موت ۱۶۰۵ء تک چلتا ہے۔ اس دور میں اس کے عقائد میں تبدیلی واقعہ ہونا شروع ہو گئی یہاں تک کہ یہ ایک مکمل دین کی شکل اختیار کر گیا۔ اکبر اس دین میں شامل ہونے کی دعوت دیتا تھا۔ جس کو دین الہٰی کہا جاتا ہے۔ اکبر کے دین کے عقائد کیا تھے؟ دین الہٰی کو قبول کرنے کی وجوہات کیا تھیں ؟ اس بارے میں ہم ذیل میں اختصار سے ان کا ذکر کرتے ہیں۔
- اکبر نے اپنے آپ کو سلطان عادل قرار دے کر خود کو ہر مذہب کا مجتہد مطلق قرار دیا۔
- اس نے اپنے مرید بنا شرو ع کر دیے۔
- مریدوں سے بیعت لیتا تھا ان کو وظائف بتاتا تھا جو کہ کسی طرح بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں تھے۔
- اکبر صبح شام سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے اوقات میں عبادت کرتا اس کے چیلے بھی اس کا ساتھ دیتے۔
- اس نے اپنا دیدار کرنے کا بھی سلسلہ شروع کیا۔
- ہر مرید کو شجرے کے عوض اپنی تصویر عطا کرتا۔
- اس نے مسنون سلام کی جگہ یہ طریقہ نافذ کیا کہ ایک اللہ اکبر کہتا دوسرا جل جلالہ کہتا۔
- اکبر نے ہندؤوں کو خوش کر نے کے لیے گائے کو ذبح کرنے کی ممانعت کر دی تھی ۔
- ہندوؤں کے تہوار دیوالی کو منانے کا اہتمام کیا۔
غرض کہ اکبر کا یہ دین ہندو مت ، بدھ مت ، جین مت ، پارسی مذاہب کا مرقع تھا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکبر نے یہ دین الٰہی کیوں شروع کیا ؟اس کی بہت سی وجوہات ہیں جو کہ علماء نے بیان کیں ہیں جنہیں ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں :
- اکبر جلاوطنی میں پیدا ہوا تھا اس لیے اس کی تربیت پر توجہ کم رہی۔ دین کا صحیح شعور اس میں پختہ نہ تھا۔
- اکبر جب بادشاہ بنا تو اس نے فتح پور سکری میں ایک عمارت بنا ئی جہاں وہ علماء کے ساتھ مذہبی بحثوں میں مشغول رہتا۔ اس عمارت کا نام اس نے عبادت خانہ رکھا۔ یہاں مذہبی بحثوں کے دوران بعض درباری علماء کے دین کے ساتھ روئیوں اور لڑائیوں سے وہ مذہب بیزار ہو گیا۔
- اکبر کے ذہن میں ہندوستان کے تمام مذاہب میں رواداری پیدا کر نے کا سودا سوار تھا۔
- اس دین الٰہی کی ایجاد میں اور اس کا دماغ خراب کرنے میں اس کے نورتنوں نے خاص کردار ادا کیا۔ جن میں مبارک شاہ اور اس کے بیٹے ابو الفضل اور فیضی شامل ہیں۔
- اکبر چونکہ ایران میں کافی عرصہ رہا تھا اور اس کے ایران کے صفوی بادشاہوں سے اچھے تعلقات تھے۔ اس لیے اس کے دربار میں ایران کا اثر زیادہ ہو گیا تھا جہاں سے رافضی اور عقل پرستی کے نظریات اس کے دربار میں عام ہو گئے۔ جنہوں نے اکبر کی گمراہی میں اہم کردار ادا کیا۔
- اکبر نے مذہبی رواداری کے نام پر ہندوؤں کو بڑی بڑی وزارتیں اور عہدے دیے اور ہندو مہارانیوں سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے اس کی اس دینی گمراہی میں کو کسر ہی نہ رہی۔
اکبر کے دین الٰہی نے ہندوستان میں مذہبی رواداری کی نئی تشریح پیش کی تھی۔ مذہبی روداری کی آڑ میں اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس کے اس عمل سے اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید اور اس کے مسلمہ اصولوں پر کیا زد پڑتی۔ یا دوسری بات یہ تھی کہ وہ اس بات کو جانتا تھا اور اس نے یہ بات جانتے بوجھتے ہوئے اور شعور کے ساتھ کی۔ صورتحال جو بھی ہو اکبر کے اس دین الہٰی کی وجہ سے مسلمانوں اور ہندوؤں میں ایک نئے معاشرتی تعلقات کا آغاز ہوا۔ یہ تعلقات اب ذاتی اور کاروباری سطح سے بڑھ کر ہندو مسلم شادیوں تک پھیل گئے۔ بادشاہ خود بھی مشرک عورتوں سے شادیاں کرتے اور ان کے شہزادے اور امراء بھی یہ کام کرنا شروع ہو گئے۔ جہانگیر کے زمانے میں بھی یہ کام جاری رہا۔ اس طرح ہندو مسلم شادیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی نسل میں توحید کے عقیدے، شریعت کی پابندی اور احترام وہ نہ رہا جو اس سے پہلی نسلوں میں موجود تھا۔ ہندو مسلم رواداری کی یہ نئی تشریح اب ایک بیماری کی طرح مسلم معاشرے میں پھیل گئی۔ جب دین کے مسلمہ عقائد اور شریعت کا احترام کے معیار کم ہونا شروع ہو ا تو اس نے انسان کے ذاتی مفاد اور مقاصد زندگی کوبھی تبدیل کر دیا۔ اب دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہو گئی۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کے زوال میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کا ذکر ہم بعد میں انشا اللہ کریں گے۔
نورالدین جہانگیر(۱۶۰۶ء تا۱۶۲۷ء)
۱۶۰۶ء میں اکبر کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا سلیم نور الدین جہانگیر کے لقب سے تخت پر بیٹھا۔ جہانگیر کا دور ۱۲۲۶ء میں اس کی موت کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ جہانگیر کا دور ہندوستان میں امن اور عدل کا دور تھا۔ گو اس کے دور میں چند ایک بغاوتیں بھی اٹھیں مگر ان کو دبا دیا گیا۔ جہانگیر کے زمانے کے اہم واقعات مندرجہ ذیل ہیں :
- اس کے بیٹے خسرو نے اس کے خلاف بغاوت کی، جسے دبا دیا گیا۔ خسرو کو اندھا کرو ا کر جیل میں بند کر دیا گیا مگر بعد میں اسے آزاد کر دیا۔ ۳۵ سال کی عمر میں خسرو مر گیا۔
- جہانگیر کے زمانے میں عدل کے لیے اس نے ایک گھنٹی اور اس کے ساتھ ایک زنجیر لٹکا رکھی تھی۔ جسے کوئی بھی انصاف کا طالب ہلا کر بادشاہ سے انصاف طلب کر سکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دھوبن نے اس زنجیر کو ہلا کر بادشاہ سے انصاف مانگا۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ بادشاہ کی چہیتی ملکہ نور جہاں نے اس کے خاوند کو قتل کر دیا تھا۔ بادشاہ نے نہ صرف نور جہاں کو گرفتار کر لیا بلکہ دھوبن کو بھاری دیت ادا کر کے راضی کر لیا۔
- جہانگیر کے عہد کا ایک اور مشہور واقع ہندوستان میں طاعون کی وبا کا پھیلنا تھا جس میں ہزاروں لوگ مرے۔ بستیوں کی بستیاں ویران ہو گئیں۔
- جہانگیر کے عہد کا سب سے اہم واقع ۱۶۱۲ء میں انگریزوں کی سفارت کا آنا تھا۔ ۱۶۰۰ء میں ملکہ الیزبتھ اول نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارت کو منظور کیا۔ تھامس رو انگلستان کے بادشاہ جیمز اول کے سفیر کی حیثیت سے جہانگیر کے دربار میں آیا۔ اس کا مقصد ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے تجارتی مراعات حاصل کرنا تھا۔ شروع شروع میں جہانگیر اور اس کا بیٹا شاہ جہاں اس کے حق میں نہیں تھے۔ مگر نور جہاں کے بھائی آصف خان نے ان دونوں کو آمادہ کر لیا۔ اس طرح انگریزوں کو ہندوستان سے تجارت کرنے کے لیے مراعت دے دی گئیں۔ اس فیصلے نے ہندوستان کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تجارت کے لیے آئے ہوئے انگریز آہستہ آہستہ مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر پورے ہندوستان پر غالب آ گئے۔
- جہانگیر کے زمانے میں اس کی چہیتی بیوی نورجہاں اور اس کے بھائی آصف خان کا اثر و رسوخ جہانگیر کے اوپر حد سے بڑھ گیا۔ نور جہان اور اس کا بھائی جہانگیر کے سب سے چھوٹے بیٹے کو بادشاہ بنانا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے اس کا بیٹا شاہ جہاں اس کے خلاف ہو گیا۔ شاہ جہان کی بغاوت ختم کرتے کرتے جہانگیر بیمار ہو گیا۔ وہ موسم کی تبدیلی کے لیے کشمیر گیا، واپسی میں گجرات کے قریب فوت ہو گیا۔ اس کو لاہور کے قریب دریائے راوی کے کنارے شاہدرہ کے مقام پر دفنایا گیا۔
شاہجہان (۱۶۲۷ء تا ۱۶۵۹ء)
جہانگیر بادشاہ کے انتقال کے بعد شاہجہان ہندوستان کا بادشاہ مقرر ہوا۔ شاہجہان۱۶۲۷ء سے ۱۶۵۸ء تک تقریباً تیس سال تک ہندوستان کا بادشاہ رہا۔ اس کا دور مغل دور کے عروج کا دور ہے۔ شاہ جہان کے دور میں ہندوستان کی خوشحالی اور تعمیرات ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے۔ اس کے دور کے اہم واقعات کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں :
- شاہ جہاں نے تخت پر بیٹھ کر اکبر کے زمانے میں دربار میں شامل کئی ایسی رسومات کو، جو اسلام اور شریعت کے منافی تھیں، ختم کر دیا۔ خاص طور پر سجدے کا نظام جس میں شرک کا عنصر شامل تھا۔ اکبر کے زمانے کی دین الہیٰ کے اثرات گو حضرت مجدد الف ثانی کی کوششوں سے جہانگیر کے زمانے میں ختم ہو گئے تھے، مگر اس کے کچھ اثرات باقی تھے۔ ان اثرات کو ختم کرنے کے لیے شاہجہان نے کافی کوشش کی۔ اس نے ہندو مسلم شادیوں پر پابندی لگا دی۔ اس طرح اکبر اور جہانگیر کے زمانے میں مسلمان معاشرت میں جو کمزوری واقع ہو گئی تھی اس کا کافی کچھ علاج ہوا مگر مکمل طور پر اس کا علاج نہ ہو سکا۔
- شاہ جہاں کے دورِ حکومت کی وجہ شہرت اس کے زمانے کی تعمیرات تھیں۔ شاہ جہاں کے زمانے میں تعمیر ہونے والا تاج محل، موتی مسجد ، لال قلعہ، لاہور قلعے کا شیش محل اور تخت طاؤس اور اس طرح کی بے شمار عمارتیں آج بھی ہندوستان اور پاکستان کی سر زمین میں موجود ہیں۔
- شاہ جہاں کا ایک اہم کارنامہ پر تگالیوں کے خلاف کامیاب کاروائی تھا۔ پر تگالی جو کہ انگریزوں کی طرح تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے تھے، انہوں نے سورت میں اپنی کالونی بنا ئی اس کے بعد اپنی تجارت کو بنگال تک پھیلا دیا۔ ان پرتگالیوں نے آہستہ آہستہ اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ انہوں نے سورت اور بنگال میں ناجائز طور پر زمین پر قبضہ شروع کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں کی آبادی جو کہ مسلمانوں اور ہندوؤں پر مشتمل تھی کو غلام بنانا شروع کر دیا۔ اس کےعلاوہ انہوں نے اپنی تجارت کی جگہوں پر قلعے بنانا شروع کر دیے اور اسلحہ رکھنا شروع کر دیا۔ شاہجہان کے پاس یہ شکایات پہنچیں تو اس نے اپنے مقامی حاکم قاسم خان کو ان کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دیا۔ قاسم خان نے کافی بڑی کاروائی کے بعد ان کا زور ختم کیا۔ اس میں دس ہزار کے قریب پر تگالی قتل ہوئے تین سو قیدی بنائے گئے۔
- شاہجہاں کے دور میں اسے اپنے آبائی وطن سمر قند کو فتح کرنے کا شوق سوار ہو گیا۔ اس نے ایک فوج اپنے بیٹے مراد کی سرکردگی میں بھیجی۔ اس مہم میں مراد کی کارکردگی کچھ تسلی بخش نہ تھی۔ اس نے مراد کو واپس بلا کر اورنگ زیب کو اس مہم پر بھیجا۔ اس نے اس مہم کو کامیاب بنایا اور بدخشاں تک کا علاقہ فتح کر لیا۔ اس مہم کو ایران کے بادشاہ عباس صفوی کی درخواست پر ختم دیا گیا۔
- شاہجہان کے عہد کا ایک اور اہم واقعہ اس کا ایران کی حکومت سے تعلقات کا خراب ہو جانا تھا۔ ایران پر صفوی خاندان کی حکومت تھی، یہ حکومت مغل بادشاہوں کی محسن سمجھی جاتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شیر شاہ سوری کے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد صفوی بادشاہ شاہ طہماسپ نے ہمایوں اور اس کے بیٹے اکبر کو ایران میں پناہ دی تھی۔ شیر شاہ کی وفات کے بعد جب ہمایوں نے ہندوستان کو دوبارہ فتح کرنے کی مہم کا آغاز کیا اس وقت بھی شاہ طہماسپ نے اس کی مدد کی۔ ہمایوں نے سب سے پہلے قندہار کو فتح کیا۔ قندھار کو فتح کرنے میں بھی ایرانی فوج نے اہم کردار ادا کیا۔ اس زمانے سے قندھار مغل حکومت کے قبضے میں تھا۔ شاہجہان کے زمانے میں ایران کے بادشاہ شاہ عباس نے اس پر قبضہ کر لیا۔ شاہجہان نے قند ھار کو فتح کر نے کی بہت کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔
- شاہجہان کے دور کا سب سے اہم واقعہ اس کے دو بیٹوں دارا شکوہ اور اورنگ زیب عالمگیر کے درمیان ایک تیس سالہ سرد جنگ تھی جو بعد میں باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ اس جنگ نے آنے والے دور میں ہندوستان کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ جنگ جہاں ایک طرف تو تخت ہندوستان پر قبضہ کرنے کی سیاسی جنگ تھی وہاں یہ نظریاتی اور فکری جنگ بھی تھی۔ ایک طرف تو شاہجہان کی آنکھوں کا تارا سب سے بڑا بیٹا دارا شکوہ تھا جس کے نظریات عقل پرستی، اکبر کے صلح کل کے نظریے، ویدانیت کے ہندو فلسفے اور بدعت پرستانہ عقائد سے بھر پور تھے تو دوسری طرف ہر معاملے کو دین اور شریعت کی کسوٹی پر پرکھنے والا اورنگ زیب عالمگیر تھا جو کہ شاہجہان کا تیسرا اور سب سے با صلاحیت بیٹا تھا، مگر جو ہر وقت بادشاہ کے عتاب کا شکار رہتا تھا۔ شاہجہان دارا شکوہ کو بادشاہ بنانا چاہتا تھا اور اس کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتا اور مانتا تھا۔ جب تک شاہ جہان بادشاہ رہا اس وقت تک ہر بات دارا شکوہ کی مانی جاتی۔ دارا شکوہ نے اورنگ زیب کو ذلیل اور بد نام کرنے اور اپنی راہ سے ہٹانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ مگر جب شاہ جہان بیمار ہوا اور اس کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو اورنگ زیب کے چار بیٹوں کی آپس میں جنگ شروع ہو گئی،جس میں اورنگ زیب کامیاب ہوا اور بادشاہ بن گیا جب کے دوسرے تمام بیٹے مارے گئے۔ شاہجہان کو دہلی کے قلعے میں نظر بن کر دیا گیا۔ اورنگ زیب کی اس فتح میں اس کا دین پسند ہونے نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ اس جنگ کے ہندوستان پر فکری اور سیاسی اثرات پر ہم آئندہ انشاء اللہ بحث کریں گے۔
اورنگ زیب عالمگیر (۱۶۵۹ ءتا ۱۷۰۷ء)
اورنگ زیب عالمگیر ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا سب سے مضبوط اور طاقت ور آخری بادشاہ تھا۔ اس نے پچاس سال حکومت کی۔ اس کی حکومت ہندوستان میں مسلمانوں کا آخری عروج ثابت ہو کیونکہ اس کے بعد اورنگ زیب عالمگیر کے جانشین اس کی حکومت کو سنبھال نہ سکے اور یہ حکومت بتدریج زوال پذیر ہوتے ہوئے بالآخر۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے کے ساتھ ختم ہو گئی۔ اورنگ زیب کے دور کے اہم واقعات درج ذیل ہیں :
- اورنگ زیب کی بادشاہت کا اہم واقعہ تخت نشینی کی جنگ تھی جس میں شاہجہاں کے چاروں بیٹے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کر رہے تھے۔ داراشکوہ دہلی پر قابض تھا۔ اس نے ایک فوج شجاع کے مقابلے اپنے بیٹے سلیمان شکوہ کی قیادت میں بھیجی جس نے شجاع کو شکست دی۔ شجاع پٹنہ کی طرف بھاگ گیا۔ وہاں کے راجہ نے اس کو پناہ دی مگر جب اس نے اس راجہ کے خلاف سازشیں شروع کیں تو راجہ نے اس کو قتل کروا دیا۔ مراد نے پہلے تو اورنگ زیب کا ساتھ دیا مگر اس کے بعد اس نے سازشیں شروع کر دیں تو گرفتار ہوا اور ایک شخص کے قصاص میں قتل کیا گیا۔ دارا شکوہ شکست کھا کر سندھ بھاگ گیا جہاں اورنگ زیب کے وفادار بلوچ سردار نے اس کو گرفتار کر کے اورنگ زیب کے حوالے کر دیا۔ اس پر مقدمہ چلا اور ملحد قرار دے کر اس کو قتل کر دیا گیا۔
- اورنگ زیب عالمگیر نے بادشاہ کے درشن کو ختم کر دیا جو کہ اکبر کے زمانے سے چلا آ رہا تھا۔ سجدے کا رواج تو شاہ جہاں نے ختم کر دیا تھا مگر درشن کا رواج چل رہا تھا۔ اورنگ زیب عالمگیر نے اس کو الوہیت کی ہی ایک قسم قرار دے کر اس نظام کو ختم کر دیا۔
- اورنگزیب بیت المال سے کبھی کچھ نہ لیتا بلکہ قرآن لکھ کر اور ٹوپیاں بنا کر اپنے لیے اتنا کما لیتا جس سے اس کا گزر اوقات چلتا تھا۔ اس کی موت کے وقت اسی پیسے سے اس کا کفن دفن کیا گیا اور باقی بچ جانے والے پیسے کو صدقہ کر دیا گیا۔
- اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے کا ایک بڑا کارنامہ قتاویٰ عالمگیری کی تدوین ہے۔ یہ فقہ حنفی کے مطابق مسائل کی بارے میں ایک کتاب تھی۔ اس کتاب کی تدوین میں اس وقت کے جید علماء کے بورڈ نے حصہ لیا۔ بادشاہ ذاتی طور پر اس کتاب کی تدوین میں دلچسپی لیتا اور خود اس کتاب کی سماعت کرتا اور اہم امور میں راہنمائی کرتا۔
- اورنگ زیب عالمگیر کے دور کا ایک اور اہم واقعہ وسطی ہند میں مرہٹہ قوت کا ظہور تھا جسے اورنگ زیب عالمگیر نے بار بار شکست دے کر قابو کر لیا۔ مگر اس کی وفات کے بعد یہی مرہٹہ قوت ایک بار پھر اکٹھی ہو گئی اور ایک وسیع مرہٹہ سلطنت وجود میں آئی جس کو احمد شاہ ابدالی نے شکست دی۔
- اورنگ زیب ہی کے زمانے میں پشتون اورا فغان بغاوت ہوئی جس کی قیادت پشتو زبان کا مشہور شاعر خوشحال خان خٹک کر رہا تھا۔ اس بغاوت کو دبا دیا گیا۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1اردو لغتوں میں درج ہے کہ ایک کوس 3.2 کلومیٹر یا ۲ میل کا فاصلہ ہوتا ہے۔ (ادارہ)









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



