چند اعتراضات اور ان کا جائزہ
کیا امارت اسلامیہ کو عوامی حمایت حاصل نہیں تھی؟
امارتِ اسلامیہ کے خلاف جاری پروپیگنڈا مہمات میں ایک نمایاں اعتراض یہ اٹھایا جاتا رہا ہے کہ یہ تحریک محض ایک مخصوص طبقے تک محدود تھی، اور معاشرے کے وسیع حلقوں میں اسے نہ تو کوئی نمایاں حیثیت حاصل تھی اور نہ ہی عوامی تائید میسر تھی۔ اسی بنا پر یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اس محدود طبقے کے سوا معاشرے کے دیگر طبقات نے اس کی حکومت میں شرکت اختیار نہیں کی۔
تاہم، حقیقت اس یک رُخی تاثر سے کہیں زیادہ وسیع اور مختلف ہے۔ اس اسلامی تحریک کی بنیاد اگرچہ ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں مدارس کے طلبہ نے رکھی، لیکن اس کے آغاز کے فوراً بعد افغان معاشرے کے مختلف طبقات نے اس کی حمایت میں لبیک کہا۔ نہ صرف انہوں نے مالی و عسکری تعاون فراہم کیا، بلکہ خود بھی عملی طور پر اس جدوجہد کا حصہ بن کر میدان میں اتر آئے۔
افغانستان کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار ایسے مجاہدین، کمانڈرز اور بااثر شخصیات جو سوویت یونین کے خلاف جہاد میں شریک رہے تھے، امارتِ اسلامیہ کی صفوں میں شامل ہوئے اور انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔
جب قندھار، کابل، مزار شریف، ہرات، جلال آباد اور غزنی جیسے بڑے شہر فتح ہوئے، تو سابقہ افغان حکومت کے وہ تمام سرکاری ملازمین جن کا کمیونسٹ نظام سے کوئی تنظیمی یا نظریاتی تعلق نہیں تھا، بلکہ جو محض عوامی خدمت کے جذبے کے تحت حکومتی ذمہ داریوں پر فائز تھے، ان کی اکثریت نے امارتِ اسلامیہ کے قیام کے بعد بھی اپنی ملازمتیں جاری رکھیں۔ یوں محکماتی و ریاستی مناصب سے لے کر وزارتوں کی معاونیت اور نیابت تک مختلف سطحوں پر افراد کو مناسب عہدوں پر فائز کیا گیا، انہیں ذمہ داریاں سونپی گئیں، اور حکومتی نظم و نسق کو فعال بنانے میں ان سے بھر پور استفادہ کیا گیا۔
امارتِ اسلامیہ نے صرف ان افراد کو حکومتی ذمہ داریوں سے الگ کیا جو کمیونسٹ نظریات کے حامل تھے اور اپنے سابقہ دورِ حکومت میں افغان عوام پر ظلم و ستم کے مرتکب ہوئے تھے، یا وہ جو اب بھی اسی نظریاتی وابستگی پر قائم تھے۔ ان کے علاوہ، بیشتر وزارتوں، صوبائی انتظامیہ اور حتیٰ کہ دفاعی و حساس اداروں میں بھی وہی پرانے سرکاری ملازمین اپنے فرائض انجام دیتے رہے، خواہ ان کا تعلق مذہبی طبقے (مولوی حضرات) سے نہ بھی تھا۔
افغان عوام کا امارتِ اسلامیہ کے قیام، عسکری پیش قدمی اور اس کے استحکام میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن کردار رہا ہے۔ ابتدا میں امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین وسائل کی شدید کمی کا شکار تھے، حتیٰ کہ بنیادی ضروریات بھی محدود تھیں۔ ایسے حالات میں مختلف علاقوں کے عوام نہایت خلوص اور جذبۂ ایثار کے ساتھ مجاہدین کی خوراک، اسلحہ اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرتے رہے۔
اگرچہ جہادی گروپس میں قیادت اور کمانڈ کا محور طالبان ہی تھے، تاہم افرادی قوت کی ایک بڑی تعداد عام عوام پر مشتمل تھی، جو رضاکارانہ طور پر اس تحریک میں شامل ہوتی رہی۔ ضرورت اور بحرانی حالات میں یہی عوام منظم نفیرِ عام کی صورت اختیار کر کے مجاہدین کی مدد کو پہنچتے تھے۔
ستمبر 1995ء میں جب اسماعیل خان نے صوبہ فراہ کی جانب سے ایک بڑا حملہ کیا اور پیش قدمی کرتے ہوئے ہلمند کے گرشک علاقے تک پہنچ گیا، تو یہ صورتِ حال طالبان مجاہدین کے لیے نہایت دشوار اور سنگین تھی۔
اس نازک موقع پر قندھار شہر اور اس کے اطراف و اکناف کے اضلاع سے عوام اپنے ذاتی اسلحے سمیت اُٹھ کھڑے ہوئے اور امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین کی مدد کے لیے ہلمند کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔ قندھار کے عوام نے اس معرکے میں نہ صرف اپنے نوجوانوں کو دفاع کے لیے پیش کیا، بلکہ خوراک، مالی امداد اور نقد رقوم کے ذریعے بھی بھرپور تعاون فراہم کیا، جس نے اس جدوجہد کو ایک نئی توانائی اور استقامت عطا کی۔
جون ۱۹۹۷ءمیں شمالی صوبوں میں ایک تاریخی غداری ہوئی۔ مزارِ شریف میں پُرامن انداز میں داخل ہونے والے طالبان مجاہدین کی بڑی تعداد کو شہید کر دیا گیا، جبکہ بہت سے مجاہدین گرفتار کر لیے گئے۔ اسی دوران قندوز شہر میں بھی مجاہدین کی ایک بڑی جماعت محاصرے میں آ گئی، اور دوسری جانب احمد شاہ مسعود کے جنگجوؤں نے شمالی کابل کے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر کے دارالحکومت کابل کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔
اس نہایت نازک اور کٹھن مرحلے پر افغانستان کے عام عوام نے ایک بار پھر امارتِ اسلامیہ کے ساتھ اپنی گہری وابستگی اور غیر متزلزل حمایت کا عملی ثبوت پیش کیا۔ جنوبی اور جنوب مشرقی صوبوں سے عوام جوق در جوق لشکروں کی صورت میں نکل کھڑے ہوئے۔ خصوصاً قندھار زون اور پکتیا زون سے ہزاروں افراد کابل پہنچ گئے۔ ان کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ امارتِ اسلامیہ کے لیے سب کو اسلحہ فراہم کرنا اور منظم عسکری تشکیل دینا ممکن نہ رہا، چنانچہ بہت سے لوگوں کو واپس اپنے علاقوں کو لوٹ جانے کی ہدایت دی گئی۔
انہی عوامی قربانیوں، حمایت اور جذبۂ وفاداری کی بدولت امارتِ اسلامیہ اس سخت آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلی۔ یوں دارالحکومت کابل کا دفاع مزید مضبوط ہوا، جبکہ فضائی راستے سے مجاہدین کو قندوز منتقل کیا گیا، جنہوں نے دشمن پر پے در پے حملے کرتے ہوئے متعدد علاقوں کو دوبارہ فتح کر لیا۔
حالیہ امریکی حملوں اور عالمی استعماری اتحاد کے مقابلے میں امارتِ اسلامیہ کا مسلسل جہاد اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ امارتِ اسلامیہ کو افغان عوام میں گہری جڑیں اور وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ کیونکہ دنیا کی بڑی عسکری قوتوں پر مشتمل ایک طاقت ور اور حملہ آور دشمن کے مقابلے میں اتنے طویل عرصے تک کامیاب مزاحمت اور مسلسل جہاد، عوامی تائید و تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔
دشمن کی تمام تر عسکری قوت، وسیع پروپیگنڈا مشینری اور مسلسل کوششوں کے باوجود یکے بعد دیگرے ناکامیوں سے دوچار ہونا، اور امارتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کی خواہش کا شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکنا، درحقیقت اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید کے بعد افغان عوام کی بے لوث حمایت، قربانیوں اور وابستگی ہی کا نتیجہ ہے۔
کیا افغان طالبان کی تحریک پاکستان کے شہر کوئٹہ میں تشکیل دی گئی تھی؟
افغانستان کی معاصر سیاست، خصوصاً امریکی موجودگی میں قائم ہونے والے جمہوری نظام میں شریک بیشتر سیاسی جماعتیں بیرونِ ملک وجود میں آئیں۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد کے دوران پاکستان میں سات جبکہ ایران میں آٹھ تنظیمیں تشکیل دی گئیں۔ اسی پس منظر کی بنا پر بعض لوگوں نے طالبان کی تحریک کو بھی انہی جماعتوں پر قیاس کیا، اور آج بھی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ طالبان تحریک کی بنیاد پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں رکھی گئی تھی۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
طالبان کی اسلامی تحریک، جو بعد میں امارتِ اسلامیہ کے نام سے معروف ہوئی، افغانستان کے قدیم دارالحکومت قندھار میں وجود میں آئی۔ یہیں اس نے اپنی ابتدائی قوت حاصل کی، پروان چڑھی، اور پھر رفتہ رفتہ پورے افغانستان میں پھیل گئی۔ اس موضوع کی تفصیل کتاب کے ابتدائی ابواب میں بیان کی جاچکی ہے، تاہم مذکورہ بالا دعوے کی تردید اور حقیقت کی وضاحت کے لیے چند اہم نکات قابلِ ذکر ہیں:
- امارتِ اسلامیہ کے بانی ملا محمد عمر مجاہد نے اپنی زندگی میں کبھی پاکستان میں سکونت اختیار نہیں کی۔ حتیٰ کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد کے زمانے میں بھی اُن کا خاندان دیگر بہت سے افغان مہاجرین کی طرح ہجرت کر کے پاکستان نہیں گیا، بلکہ صوبہ ارزگان ہی میں مقیم رہا۔ اگرچہ جہادی دور میں ملا صاحب کبھی علاج معالجے کے لیے پاکستان گئے بھی ہوں، تو اُن کا قیام چند دنوں سے زیادہ نہ تھا۔
مزید یہ کہ تحریک کے آغاز سے لے کر اپنی وفات تک ملا محمد عمر مجاہد نے ایک لمحے کے لیے بھی افغانستان کی سرزمین نہیں چھوڑی۔ ایسی صورت میں یہ بات قرینِ قیاس نہیں کہ ایک شخص، جو پاکستان کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات سے عملاً ناواقف ہو، وہیں سے کسی منظم سیاسی سرگرمی کا آغاز کرے اور ایک عظیم سیاسی و عسکری تحریک کی بنیاد رکھ دے۔
اصل میں یہ ایک بے بنیاد اور جھوٹی افواہ تھی جو دشمن کی جانب سے پھیلائی گئی وگرنہ ہر شخص جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ - اگر طالبان تحریک پاکستان میں قائم کی گئی ہوتی تو لازماً وہ وہاں کے سیاسی اثرات سے بھی متاثر ہوتی۔ تاہم اس کے برعکس کوئی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ملا محمد عمر مجاہد نے اپنے کسی فیصلے میں پاکستان کے سیاسی مفاد کو معیار بنایا ہو۔ امارتِ اسلامیہ کے نزدیک تمام فیصلوں کی بنیاد صرف اور صرف اعلائے کلمۃ اللہ تھی۔
مزید برآں، امارتِ اسلامیہ کے پاکستان کے اثرات سے آزاد ہونے کی ایک واضح دلیل یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکام نے دیگر عالمی قوتوں کی طرح متعدد بار کوشش کی کہ امارتِ اسلامیہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کرے یا انہیں امریکہ کے حوالے کر دے۔ اسی مقصد کے لیے پاکستانی حکومت نے اعلیٰ سطحی وفود بھی قندھار روانہ کیے، تاہم ملا محمد عمر مجاہد نے ان مطالبات کو قبول نہ کیا اور اسی راستے پر قائم رہے جسے وہ اپنے ایمان اور ضمیر کے مطابق درست سمجھتے تھے۔
نصیر اللہ بابر کا قافلہ
1994ء میں افغانستان خانہ جنگی اور مختلف مسلح دھڑوں کے درمیان شدید لڑائیوں کی لپیٹ میں تھا۔ اسی زمانے میں پاکستان میں بے نظیر بھٹو کی حکومت برسرِ اقتدار تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی خواہش تھی کہ پاکستانی مصنوعات اور برآمدات کے لیے نو آزاد وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط استوار کیے جائیں۔ تاہم اس وقت افغانستان کا دارالحکومت کابل جنگ کا میدان بنا ہوا تھا اور ملک بھر میں کوئی مضبوط مرکزی حکومت موجود نہیں تھی۔
جون 1994ء میں حکومتِ پاکستان نے یہ منصوبہ بنایا کہ قندھار سے ہرات تک جانے والی شاہراہ کو استعمال کرتے ہوئے ترکمانستان تک رسائی حاصل کی جائے، تاکہ اس پورے زمینی راستے کو پاکستانی مصنوعات اور تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔ چونکہ افغانستان میں کوئی مقتدر مرکزی حکومت موجود نہ تھی، اس لیے پاکستانی حکام نے ہرات پر قابض اسماعیل خان اور قندھار و ہلمند کے مقامی مسلح کمانڈروں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا، تاکہ اس راستے پر پاکستانی مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے اجازت حاصل کی جا سکے۔
ستمبر 1994ء میں پاکستان کا وزیرِ داخلہ نصیر اللہ بابر اس تجارتی راہداری کو فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ وہ اپنے ہمراہ چھ یورپی ممالک کے سفیروں کو لے کر قندھار پہنچا، جہاں اس نے مقامی کمانڈروں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ پاکستانی مال بردار گاڑیوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کا مؤقف تھا کہ اس کے بدلے مقامی قوتوں کو حقِ راہداری کی مد میں معقول مالی فوائد حاصل ہوں گے۔
قندھار کے بیشتر کمانڈروں نےنصیر اللہ بابر کے اس منصوبے سے اتفاق کر لیا، تاہم ایک کمانڈر، جو امیر لالی کے نام سے معروف تھا، اس تجویز کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ قندھار سے واپسی پر نصیر اللہ بابر ہرات گیا، جہاں اسے اسماعیل خان کی حمایت بھی حاصل ہو گئی۔ اس وقت اسماعیل خان کو ہرات اور فراہ کے بیشتر علاقوں پر مؤثر کنٹرول حاصل تھا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اُس زمانے میں پاکستانی حکومت کے ہرات کے حکمران اسماعیل خان کے ساتھ نہایت خوش گوار اور قریبی تعلقات قائم تھے۔ اسی تناظر میں پاکستانی خفیہ ادارے سے وابستہ معروف افسر کرنل امام کو، اسماعیل خان کے دورِ اقتدار میں، ہرات میں پاکستان کا قونصل جنرل مقرر کیا گیا تھا۔
اکتوبر 1994ء میں نصیر اللہ بابر نے اپنے تجارتی منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے ترکمانستان میں ایک اور اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں اسماعیل خان اور جنرل دوستم بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر ترکمانستان کے صدر، صفر مراد نیازوف نے اسماعیل خان اور جنرل دوستم کو پاکستان کے ساتھ تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاکہ مجوزہ تجارتی راہداری کا منصوبہ کامیابی سے ہم کنار ہو سکے۔1افغانستان، طالبان و سیاست ہائے جہانی، ص: 121
اکتوبر 1994ء میں پاکستانی حکام نے فیصلہ کیا کہ آزمائشی طور پر تجارتی سامان سے لدی چند گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ روانہ کیا جائے، تاکہ اس مجوزہ تجارتی راہداری کی عملی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ چنانچہ 13 اکتوبر 1994ء کو پاکستانی تجارتی سامان سے لدی آٹھ گاڑیوں کا ایک قافلہ فرضی سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب قندھار کے ضلع اسپین بولدک پر طالبان نے حال ہی میں کنٹرول حاصل کیا تھا۔ قافلہ جب بولدک پہنچا تو اسے ایک غیر متوقع صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ دراصل پاکستانی حکام نے پہلے قندھار اور بولدک کے سابق مسلح کمانڈروں کے ساتھ راہداری کے حوالے سے معاہدے کر رکھے تھے، لیکن زمینی حقائق بدل چکے تھے۔ اسپین بولدک، ژڑی اور میوند کے اضلاع اب طالبان کے زیرِ کنٹرول آ چکے تھے۔
نتیجتاً پاکستانی حکام کے لیے یہ نا گزیر ہو گیا کہ تجارتی سامان کو اس راستے سے آگے لے جانے کے لیے طالبان کے ساتھ بھی مذاکرات کیے جائیں اور ان کی رضامندی حاصل کی جائے۔
امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت میں افغان جمعیتِ ہلالِ احمر کے سربراہ سید عبداللہ آغا، المعروف تورک آغا، جو ان واقعات کے عینی شاہد تھے، بیان کرتے ہیں:
’’ضلع اسپین بولدک پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان تحریک کے سرکردہ ذمہ داران وہیں باہمی مشاورت میں مصروف تھے کہ پاکستانی تجارتی قافلے کے نمائندے ان کے پاس آئے۔ انہوں نے اپنا معاملہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بولدک سے ہرات تک پورے راستے میں موجود تمام مسلح کمانڈروں کے ساتھ ان کے معاہدے ہو چکے ہیں اور ان سے تحریری ضمانتیں بھی حاصل کی جا چکی ہیں کہ وہ قافلے کو کسی قسم کی رکاوٹ یا نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ تاہم اب چونکہ بولدک، ژڑی اور میوند جیسے بعض علاقے طالبان کے کنٹرول میں آ چکے ہیں، اس لیے ان کی درخواست تھی کہ قافلے کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی جائے۔
یہ پہلا موقع تھا جب طالبان کو اس منصوبے اور قافلے کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہوئیں۔ چنانچہ مزید حقائق معلوم ہونے تک قافلے کو روک لیا گیا۔ بعد ازاں قندھار کے بعض مقامی کمانڈروں نے تحریری طور پر طالبان کو آگاہ کیا کہ مذکورہ قافلے کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔ جب طالبان نے پورے معاملے کا جائزہ لیا اور اس کی نوعیت کو سمجھ لیا تو انہوں نے بھی قافلے کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی، جس کے بعد تجارتی سامان سے لدی گاڑیاں قندھار کی جانب روانہ ہو گئیں۔
البتہ قندھار کے بعض کمانڈر، جن میں منصور اور امیر لالی نمایاں تھے، اس منصوبے کے مخالف تھے۔ انہوں نے قندھار ایئرپورٹ کے قریب قافلے پر حملہ کر دیا، تجارتی سامان لوٹ لیا اور ڈرائیوروں کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا۔ چند روز بعد جب طالبان نے قندھار شہر پر حملہ کر کے اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تو پاکستانی قافلے کی گاڑیاں اور ان کے ڈرائیور نساجی کے علاقے میں ملے، جہاں انہیں امیر لالی کے اہلکاروں نے محبوس کر رکھا تھا۔‘‘
اس تجارتی قافلے کی لوٹ مار اور ناکامی کے نتیجے میں نصیر اللہ بابر کا مجوزہ تجارتی منصوبہ بھی ناکام ہو گیا۔ بعد ازاں پاکستان نے اس منصوبے کو مستقل طور پر ترک کر دیا اور اس راہداری کو فعال بنانے کے لیے دوبارہ کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
اگرچہ طالبان تحریک ضلع اسپین بولدک پر قبضے سے تقریباً ڈھائی ماہ قبل قندھار کے مرکزی ضلع میوند (سنگ حصارک) میں وجود میں آ چکی تھی، لیکن اسپین بولدک پر طالبان کے قبضے اور پاکستانی تجارتی قافلے کے افغانستان پہنچنے کے واقعات زمانی اعتبار سے ایک دوسرے کے بہت قریب واقع ہوئے۔ انہی دو واقعات کے تقارب اور بظاہر اتفاقی ہم زمانی کے باعث متعدد مؤرخین، لکھاریوں اور صحافیوں نے غلط نتائج اخذ کیے ہیں۔
مثال کے طور پر انتھونی ڈیوس نامی ایک غیر ملکی صحافی نے انہی دنوں طالبان تحریک کے بارے میں ایک تفصیلی مقالہ تحریر کیا، جسے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی توجہ اور وسیع پذیرائی حاصل ہوئی۔ بعد ازاں بہت سے صحافیوں اور محققین نے بھی اسے بطور ماخذ استعمال کیا۔ انتھونی ڈیوس نے اپنے مقالے میں لکھا:
’’طالبان کی عسکری کارروائیاں نصیر اللہ بابر کے افغانستان کے پہلے دورے اور ضلع بولدک میں پاکستانی تجارتی قافلے کی آمد کے درمیانی عرصے میں شروع ہوئیں۔ 12 اکتوبر کو طالبان کے تقریباً 200 افراد پر مشتمل ایک لشکر نے چمن سے متصل افغان ضلع بولدک پر حملہ کیا، جو اس وقت حزبِ اسلامی کے کمانڈر اختر جان کے کنٹرول میں تھا۔ طالبان نے محض دو گھنٹوں میں اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔‘‘2How the Taliban Became a Military Force — Anthony Davis
انتھونی ڈیوس نے اس مبہم روایت کے ساتھ ایک اور دعویٰ بھی شامل کیا ہے۔ اس کے مطابق جب طالبان نے بولدک پر حملہ شروع کیا تو فرضی سرحد کے پاکستانی جانب موجود توپ خانے نے بھی ان کی مدد کی اور پوری لڑائی کے دوران طالبان کے مخالفین پر گولہ باری جاری رکھی۔
چنانچہ جب حقائق سے ناواقف کوئی عام قاری انتھونی ڈیوس یا دیگر متعصب اور طالبان مخالف صحافیوں کی ایسی تحریریں پڑھتا ہے تو اس کے ذہن میں فوراً یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ طالبان نے پاکستانی سرزمین سے اسپین بولدک پر حملہ کیا تھا اور ان کی کارروائی کا مقصد نصیر اللہ بابر کے تجارتی قافلے کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔
اس طرح انتھونی ڈیوس نے واقعات کے زمانی تقارب کو بنیاد بنا کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس سے حقائق مسخ کر دیے گئے اور واقعات کی تعبیر ایک مخصوص رخ اختیار کر گئی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طالبان تحریک ضلع اسپین بولدک پر قبضے سے تقریباً ڈھائی ماہ قبل ضلع میوند کے علاقے سنگ حصارک میں وجود میں آ چکی تھی۔ تحریک نے یہیں سے اپنی پیش قدمی کا آغاز کیا، پہلے ضلع میوند کے مرکز تک پہنچی، پھر ضلع ڈنڈ کی جانب بڑھی اور بعد ازاں انہی علاقوں سے پیش قدمی کرتے ہوئے ضلع اسپین بولدک پر حملہ آور ہوئی، جہاں اتفاقاً اس کا سامنا پاکستانی تجارتی قافلے کے معاملے سے ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے ضلع اسپین بولدک پر مشرقی سمت، یعنی چمن (پاکستان) کی جانب سے حملہ نہیں کیا تھا، بلکہ مغربی سمت، یعنی قندھار شہر کی جانب سے پیش قدمی کرتے ہوئے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا۔ تاہم جیسے ہی طالبان کے ہاتھوں اسپین بولدک پر قبضے کی خبر ذرائع ابلاغ میں نشر ہوئی، تقریباً اسی وقت نصیر اللہ بابر کے تجارتی قافلے کی خبر بھی میڈیا کی شہ سرخیوں میں شامل تھی۔
ان دونوں واقعات کے زمانی تقارب اور بیک وقت منظرِ عام پر آنے کی وجہ سے متعصب اور طالبان مخالف حلقوں کو یہ تاثر دینے کا موقع ملا کہ طالبان تحریک دراصل نصیر اللہ بابر کے تجارتی منصوبے کا حصہ تھی یا اسی منصوبے کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل تھی۔
مزید یہ کہ اگر طالبان تحریک واقعی نصیر اللہ بابر کے زیرِ سرپرستی محض پاکستانی تجارتی قافلوں کی حفاظت اور ان کے لیے راستہ ہموار کرنے کی غرض سے وجود میں آئی تھی، تو یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور نصیر اللہ بابر نے اس سے قبل قندھار کے مختلف کمانڈروں، ہرات کے اسماعیل خان اور ترکمانستان کے حکومتی نمائندوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر معاہدے کیوں کیے تھے؟ ان معاہدوں کا مقصد بھی تو انہی تجارتی راستوں کو محفوظ اور قابلِ استعمال بنانا تھا۔
اسی طرح اگر طالبان کو پاکستانی تجارتی قافلوں کا محافظ قرار دیا جائے، تو یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ طالبان کے قندھار شہر میں داخل ہونے سے قبل ہی مذکورہ تجارتی قافلہ قندھار کی جانب کیوں روانہ ہوا؟ اور پھر راستے میں مسلح افراد کے ہاتھوں لوٹ مار کا شکار کیوں بنا؟
مزید برآں، جب طالبان نے قندھار، ہلمند، فراہ اور ہرات سمیت وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا، تو اس کے بعد پاکستانی تجارتی قافلوں نے افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک باقاعدہ تجارتی آمد و رفت کیوں شروع نہ کی؟
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس بات کا مستند ثبوت پیش نہیں کر سکتا کہ امارتِ اسلامیہ کے پورے دورِ حکومت میں پاکستان کا ایک بھی تجارتی قافلہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک پہنچا ہو۔
یہ تمام حقائق اس دعوے کی کمزور بنیادوں کو واضح کرتے ہیں کہ نصیر اللہ بابر کے تجارتی قافلے کو طالبان تحریک کے قیام کی وجہ قرار دیا جائے۔ درحقیقت یہ ان بے بنیاد اور غیر مستند الزامات میں سے ایک ہے جنہیں بعض طالبان مخالف حلقے اور صحافی اپنے قارئین کو متاثر کرنے کے لیے دہراتے رہتے ہیں، حالانکہ ان دعوؤں کے حق میں نہ کوئی مضبوط منطقی استدلال موجود ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ اعتماد تاریخی شہادت دستیاب ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
- 1افغانستان، طالبان و سیاست ہائے جہانی، ص: 121
- 2How the Taliban Became a Military Force — Anthony Davis









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



