نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

سید احمد شہید ﷫ کی تحریک پر اعتراضات کا مختصر جائزہ

by عبد الرب بلوچ
in جون و جولائی 2026ء, فکر و منہج
0

 برصغیر میں دعوت و اصلاح اور جہاد کی بیک وقت جامع تحریکات میں اولین تحریک سید احمد شہیدؒ کی تحریک مجاہدین تھی ۔ ظاہری ناکامی کے باوجود اس تحریک کے اثرات برصغیر پاک و  ہند اور بنگلہ دیش تک پہنچے اور سید صاحبؒ کے روحانی فرزندوں نے آپؒ کے بعد آج تک کسی نہ کسی صورت میں آپ کی وراثت کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحریک مجاہدین چونکہ برصغیر میں مسلمانوں کے زوال اور انگریزی استعمار کے ابتدائی زمانے میں برپا ہوئی تھی، اس لیے استعمار اور اس کے گماشتوں نے اس دور سے ہی تحریک مجاہدین کے بارے میں افواہوں اور پراپیگنڈے کا بازار گرم کیا۔ بدقسمتی سے انگریزی استعمار کے قدیم پراپیگنڈہ کی جگالی، آج تک نہ صرف آپؒ کے روحانی وارثین بلکہ خود سید صاحبؒ کی ذات مبارکہ تک کے بارے میں، مختلف افراد مختلف صورتوں میں کر کے خود کو تاریخ کے غلط رخ پر رکھنے کی کوشش  میں ہیں، جس کا ظاہر ہے سوائے ان کی ذات کے کسی کو نقصان نہیں۔

ایسا ہی برا پراپیگنڈہ  کر کے اور  سید صاحبؒ اور آپؒ کے رفقاء کے بارے میں زبان کی بدنصیبی آج کل کے ایک مشہور سوشل میڈیائی ’’دانشور‘‘ محمد دین جوہر اور جناب کے دو چار ہمراہیوں کے مقدر میں آئی ہے1واقفان حال جانتے ہیں کہ جوہر صاحب اور ان کے لائق شاگردوں نے محض ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ کے مصداق اپنی خجالت مٹانے کےواسطے بزرگان دین کی پگڑیاں اچھالنا مناسب سمجھا۔ بحث تاریخی و علمی حدود تک ہی رہتی تو بھی شاید قرین قیاس تھا،  لیکن جوہر صاحب کے بعضے ’لائق‘  شاگردوں نے ان بزرگان اور ان کی طرف سے مدافعت کرنے والے حضرات کے بارے ایک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس  گروہ نے بھی استعمار ، اس کے گماشتوں اور مسلکی تعصب کا شکار بعض علماء اور گدی نشینوں کی ہی عبارات کی جگالی کرنے کو اپنی کُل متاع سمجھا۔ اس گروہ کی اس حرکت پر مناسب معلوم ہوا کہ ہم بھی ان اعتراضات کے مناسب تاریخی رد کے ساتھ موجودہ دور میں جہادی تحریکات پر وارد اعتراضات سے ان کی حیرت انگیز مماثلت بھی واضح کر دیں۔

تحریک مجاہدین پر اعتراضات کا جائزہ لیا جائے تو حسبِ سابق ان میں تحریک پر کیے گئے قدیم اعتراضات کی جگالی کے سوا قطعاً کوئی نئی بات نہیں. البتہ کسی حد تک کچھ نیا ہے تو شاہ اسماعیل شہیدؒ کی مایہ ناز تصنیف ’’منصبِ اِمامت‘‘ پر  بعض بُودے اعتراضات کا اضافہ ہے۔  ان تمام اعتراضات کی علمی حیثیت اور فرداً فرداً سب کے جواب تو اس مختصر سے مضمون میں دینا ممکن نہیں، البتہ اس ضمن میں چند عمومی اشکالات کے بارے میں معروضات پیش کرنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔

جوہر صاحب اور ہمنواؤں کی جانب سے تحریک مجاہدین پر وارد  کیے جانے والے اعتراضات کو درج ذیل چند نکات میں سمویا جا سکتا ہے:

  1. تحریک مجاہدین نے انگریزوں کی بجائے سکھوں کے خلاف ہی کیوں جہاد کیا؟ حالانکہ انگریز سکھ کی بنسبت زیادہ بڑا دشمن تھا۔
  2. تحریک مجاہدین کو سکھوں کے خلاف جنگ میں انگریزوں کی حمایت حاصل تھی۔
  3. تحریک مجاہدین نے پشتون قبائلی مسلمانوں کے خلاف قتال کیا۔
  4. تحریک مجاہدین ’’وہابی تحریک‘‘ سے متاثر تھی۔
  5. تشریعی الہام اور خارجیت کا الزام۔

انگریزوں کی بجائے سکھوں سے جہاد کی ابتدا پر اعتراض

تحریک مجاہدین کی تاریخ سے ادنیٰ سی مناسبت رکھنے والا بھی ان اعتراضات کی حیثیت جانتا ہے کہ ایسے

اعتراضات در حقیقت تاریخ کے ایک مخصوص جانبدارانہ (اور متعصب) فہم کی پیداوار ہیں۔ اس لیے کہ سید صاحبؒ کا مطمح نظر فقط سکھوں کی مخالفت یا محض اپنی امارت قائم کرنا نہیں تھا (جیسا کہ بعض معترضین کہتے ہیں) بلکہ شمالی ہند کا میدان منتخب کر کے سکھوں کے خلاف وہ اس جہاد کا آغاز کرنا چاہتے تھے کہ جس کی وجہ سے بالآخر مکمل ہندوستان سے مشرکین و نصاریٰ (یعنی انگریزوں) کا زور ٹوٹ جائے، جیسا کہ آپؒ ایک مکتوب میں فرماتے ہیں (ترجمہ) :

’’ایک تقدیر سے چند سال سے ہندوستان کی حکومت و سلطنت کا یہ حال ہو گیا ہے کہ عیسائیوں اور مشرکین نے ہندوستان کے اکثر حصے پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور ظلم و بیداد شروع کر دی ہے، کفر و شرک کے رسوم کا غلبہ ہو گیا ہے ، اور شعائر اسلام اٹھ گئے ، یہ حال دیکھ کر ہم لوگوں کو بڑا صدمہ ہوا، ہجرت کا شوق دامن گیر ہوا، دل میں غیرت ایمانی اور سر میں جہاد کا جوش و خروش ہے۔‘‘2سیرت سید احمد شہید، از مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ، ص:409

اپنے اسی مقصد کی صراحت ایک اور مکتوب میں اس طرح فرماتے ہیں:

’’جس وقت ہندوستان ان غیر ملکی دشمنوں سے خالی ہو جائے گا اور ہماری کوششوں کا تیر مراد کے نشانے تک پہنچ جائے گا، حکومت کے عہدے اور منصب ان لوگوں کو ملیں گے، جن کو ان کی طلب ہو گی اور ان ( ملکی ) حکام و اہل حکومت کی شوکت و قوت کی بنیاد مستحکم ہو گی ، ہم کمزوروں کو والیانِ حکومت ، اور بڑے بڑے سرداروں سے صرف اسی بات کی خواہش ہے کہ جان و دل سے اسلام کی خدمت کریں اور اپنی مسند حکومت پر برقرار رہیں۔‘‘3 ایضاً ص ۴۰۷

اسی مقصد میں اعانت کے لیے آپؒ والئ گوالیار کو ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:

’’اس صورت میں ان بڑے سرداروں کے لیے مناسب یہی ہے جو سالہا سال سے اپنی مسند ریاست پر متمکن چلے آ رہے ہیں کہ اس وقت ان کمزوروں کی ہر طرح امداد کریں اور اس بات کو اپنی حکومت کے استحکام کا باعث سمجھیں۔‘‘4ایضاً

سید احمد شہیدؒ نے جہاد کی ابتدا سکھوں کے خلاف جہاد سے کچھ مخصوص وجوہات کی بنا پر کی تھی۔

بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ اس زمانے میں سکھ حکومت مسلمانوں پر مظالم اور شعائر اسلامی کی بے حرمتی میں انگریزی حکومت سے کہیں زیادہ سختی کی مرتکب ہو رہی تھی۔  پنجاب میں مساجد کو اصطبل بنانا، نمازوں اور اذان سے روکنا وغیرہ جیسے مظالم عام ہو  چکے تھے۔

دوسرا انگریزی قوت کو توڑنے کے لیے جو افرادی قوت اور حالات چاہیے تھے وہ شمالی ہند میں میسر نہ تھے جبکہ سرحد کے علاقوں پر سکھوں کی حکومت تھی۔ سید صاحبؒ بوجوہ (جن کا ذکر اگلی سطور میں آئے گا) سرحد ہی سے تحریکِ جہاد کی ابتدا کرنا چاہتے تھے۔

شمالی ہند (یعنی دلی، لکھنؤ و نواح کے علاقے، جہاں سے سید صاحب اور خانوادہ ولی اللہی کا تعلق تھا) کے باشندوں میں فنون سپہ گری کی کمی تھی جس کی وجہ سے ان علاقوں سے ایسے جنگجو طبیعت کے افراد کا ملنا مشکل تھا کہ جو ایک جہادی تحریک کو ایندھن فراہم کر  سکتے۔

دوسری وجہ جغرافیہ تھا، شمالی ہند کے علاقے زیادہ تر میدانی علاقے تھے جہاں سے سید صاحب کی مجوزہ گوریلا کارروائیاں کرنا تزویراتی طور پر سہل نہ تھا، بالخصوص جب کے مقامی باشندے فنون سپہ گری سے ناواقف اور مقامی حمایت ملنا اس قدر آسان نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سید صاحب نے اپنی تحریک کی ابتدا سرحدی قبائلی علاقوں سے کی جہاں انہیں افرادی قوت اور مناسب تزویراتی ماحول ملنے کی توقع تھی۔ اسی امر کی وضاحت سید صاحبؒ کے پنجتار کے ایک خطاب سے ہوتی ہے جس میں آپؒ نے فرمایا:

’’میں نے ہندوستان میں خیال کیا کہ کوئی جگہ ایسی مامون ہو کہ وہاں مسلمانوں کو لے کر جاؤں اور جہاد کی تدبیر کروں، باوجود اس وسعت کے کہ صدہا کردہ ( کوس ) میں ملک ہند واقع ہوا ہے، کوئی جگہ ہجرت کے لائق خیال میں نہ آئی، کتنے لوگوں نے صلاح دی کہ اسی ملک میں جہاد کرو جو کچھ مال ، خزانہ ، سلاح وغیرہ درکار ہو ہم دیں گے، مگر مجھ کو منظور نہ ہوا، اس لیے کہ جہا د سنت کے موافق چاہئے ، بلوہ کرنا منظور نہیں، تمہارے ملک کے ولایتی بھائی حاضر تھے، انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اس کے واسطے بہت خوب ہے ۔ اگر وہاں چل کر کسی ملک میں قیام اختیار کریں تو وہاں کے لاکھوں مسلمان جان و مال سے آپ کے شریک ہوں گے، خصوصاً اس سبب سے کہ رنجیت سنگھ والی لاہور نے وہاں کے مسلمانوں کو نہایت تنگ کر رکھا ہے، طرح طرح کی ایذا پہنچاتا ہے اور مسلمانوں کی بے آبروئی کرتا ہے۔ جب اس کی فوج کے لوگ اس ملک میں آتے ہیں، مسجدوں کو جلا دیتے ہیں، کھیتیاں تباہ کرتے ہیں، مال و اسباب لوٹ لیتے ہیں ، بلکہ عورتوں اور بچوں کو پکڑ لے جاتے ہیں، اور اپنے ملک پنجاب میں لے جا کر بیچ ڈالتے ہیں۔ پنجاب میں وہ مسلمانوں کو اذان بھی نہیں کہنے دیتے ، مسجدوں میں گھوڑے باندھتے ہیں، گاؤ کشی کا تو کیا ذکر، جہاں سنتے ہیں کہ کسی مسلمان نے گائے ذبح کی تو اس کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ یہ سن کر میرے خیال میں آیا کہ یہ سچ کہتے ہیں، اور یہی مناسب ہے کہ ہندوستان سے ہجرت کر کے وہیں چل کر ٹھہریں اور سب مسلمانوں کو متفق کر کے کفار سے جہاد کریں اور ان کے ظلم سے مسلمانوں کو چھڑائیں۔‘‘5سیرت سید احمد شہید؛ 15-416

یہ وہ چند بنیادی وجوہات تھیں جن کی بنا پر سید صاحب نے تحریک جہاد کی ابتدا سکھوں کے خلاف جہاد سے کی۔

انگریزوں کی امداد حاصل ہونا

تحریک مجاہدین پر دوسرا اہم اعتراض یہ تھا کہ تحریک کو انگریزی حکومت کی در پردہ حمایت حاصل تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جتنا واویلا مخالفین اس الزام کا مچاتے ہیں اس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک بھی ٹھوس ثبوت آج تک نہیں دیا جا سکا۔ یہ الزام سید صاحبؒ کی حیات مبارکہ میں ہی متعدد مرتبہ آپؒ کے مخالفین نے آپؒ پر لگایا جیسا کہ خوانین پشاور کی مخالفت کی وجہ جب سید صاحبؒ نے ان سے دریافت کی تو انہوں نے ہندوستانی علماء و مشائخ کا ایک محضر نامہ پیش کر دیا جس کے مضمون کا خلاصہ کچھ یوں تھا:

’’تم سرداروں اور خوانین کو اطلاعاً لکھا جاتا ہے کہ سید احمد نامی ایک آدمی چند علمائے ہند کو متفق کر کے اس قدر جمعیت  کے ساتھ تمہارے ملک میں گئے ہیں، وہ بظاہر جہاد فی سبیل اللہ کا دعویٰ کرتے ہیں، یہ صرف ان کا مکر و فریب ہے، وہ ہمارے اور تمہارے دین و مذہب کے مخالف ہیں، انہوں نے ایک نیا دین و مذہب نکالا ہے۔ وہ کسی ولی بزرگ کو نہیں مانتے ، سب کو برا کہتے ہیں۔ وہ انگریزوں کے بھیجے ہوئے تمہارے ملک کا حال معلوم کرنے گئے ہیں، تم کسی طرح ان کے وعظ و نصیحت کے دام میں نہ آنا۔ عجب نہیں کہ تمہارا ملک چِھنو ا دیں جس طرح تم سے ہو سکے، ان کو تباہ کرو اور اپنے ملک میں جگہ نہ دو۔ اگر اس معاملے میں سستی اور غفلت سے کام لو گے، تو پچھتانا پڑے گا اور ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ ‘‘6سیرت سید احمد شہید؛ 32-331

مسلمانوں کے خلاف قتال اور ’وہابیت‘ کا الزام

سید صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی بیعت نہ کرنے والے قبائلی مسلمانوں کی تکفیر کی اور محض اس وجہ سے مسلمانوں کے خلاف قتال کیا۔

یہ بھی نرے اعتراض کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے کہ سید صاحب نے امارت کے قیام کے بعد کسی کو بیعت پر مجبور نہیں کیا، نہ ہی بیعت نہ کرنے والوں کی معاذ اللہ تکفیر کی، نہ ہی ان کے خلاف قتال کیا۔ ہاں جن قبائلی خوانین اور سرداروں نے آپ کی بیعت کے بعد آپ ہی کے خلاف ریشہ دوانیوں سے کام لیا ان کے خلاف ضرور تادیبی کارروائیاں کی گئیں جو کہ کسی بھی حکومت کے استحکام اور بقا کے لیے ضروری ہے جس میں کوئی دو رائے نہیں۔  جبکہ سید صاحب تو ایک امارت شرعیہ کے امیر تھے جس کی مدد و نصرت کرنا اور اس کے استحکام کی کوشش کرنا ان کے زیر انتظام علاقوں کے افراد کے لیے ضروری تھا۔ اگر کوئی مدد نہ بھی کرے تو بھی حکومت شرعیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں کی اجازت تو کسی قیمت نہیں دی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ سید صاحب کے مکتوبات یا ان کے رفقاء کی بعض تحاریر میں اگر کسی کی تکفیر کی گئی یا سخت زبان استعمال کی گئی تو وہ ٹھوس شرعی وجوہات اور دلائل پر مبنی تھی۔

تحریک مجاہدین کی مخالفت کرنے والے ان پر سب سے زیادہ ’وہابیت‘ سے متاثر ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ برصغیر بالخصوص اور امت مسلمہ بالعموم کے تناظر میں ’وہابیت‘ کا الزام ایک حساس مسلکی نوعیت کا حامل مسئلہ ہے لیکن اس الزام کا ازالہ کیا جانا بھی از حد ضروری ہے اس لیے ذیل کی چند سطور میں اس بارے میں اختصار سے چند معروضات پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ تحریک وہابیت دراصل تو شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی کی تحریک کو کہا  جاتا ہے۔ اس زمانے کے مخصوص حالات اور بعد ازاں ان کی تحریک کے افراد کی جانب سے بعض شدت پسندانہ اقدامات کی وجہ سے اس زمانے میں حجاز اور عرب میں تحریکِ وہابیت کے بارے میں عمومی تاثر کچھ اچھا نہیں تھا۔ انہی حالات کی وجہ سے برصغیر میں بھی وہابیت کے بارے میں منفی تاثر نے جنم لیا۔ وہابیت کے بارے میں اسی منفی تاثر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ”Divide and rule“ (تقسیم کرو اور حکومت کرو) کی پالیسی پر عمل پیرا فرنگی حکومت نے بھی سید احمد شہیدؒ کی تحریک کو ’وہابی‘ مشہور کرنا شروع کر دیا۔ حالانکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ تحریکِ وہابیت اور سید احمد شہیدؒ کی تحریک کے افکار و نظریات اور طریقۂ کار، الغرض ہر لحاظ سے بُعد المشرقین تھا۔ موضوع کی حساسیت کے پیشِ نظر محض یہی کہنا مناسب ہے کہ عرب کی وہابی تحریک کی اصلاح پسندی سے مشابہت پر تحریکِ مجاہدین پر  ’وہابیت‘ کا الزام قطعی طور پر غلط ہے۔

[شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد شہید برصغیر کی علمی روایت کے ہی امین تھے جس میں فقہ ، حکمت الٰہیہ اور تصوف و سلوک برابر اہمیت کے حامل تھے۔ برطانوی استعمار نے تحریکِ مجاہدین پر ’وہابی‘ لیبل چسپاں کر کے کافی مفادات حاصل کیے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لٹریچر میں مسلسل ’وہابی‘ کا لقب  ان نفوسِ قدسیہ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر قیام الدین احمد صاحب7ڈاکٹر صاحب تحریک مجاہدین کے بارے میں ایک اہم انگریزی کتاب “Wahabi Movement In India” کے مصنف ہیں ۔، جو سید احمد شہید کی تحریک سے کوئی متعصبانہ تعلق نہیں رکھتے، کا کہنا ہے کہ سید احمد بریلوی کے پیروکاروں کو وہابی قرار دے کر انگریزی سرکار ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتی تھی، ایک طرف حکومت کے اعلیٰ حلقوں میں تحریکِ مجاہدین کو باغی ثابت کرنا اور دوسری طرف عام مسلمانوں کی نظر میں انہیں ’’انتہا پسند‘‘ اور ’’مزاروں کا مخالف‘‘ ظاہر کرنا تھا۔ چنانچہ یہ لقب بعد ازاں برصغیر میں مذہبی و سیاسی بدنامی کا آلہ بن گیا۔ انیسویں صدی میں برطانوی ہند کے نوآبادیاتی حکام نے ’وہابی‘ کا لقب ہر ایسی اسلامی اصلاحی تحریک کے لیے  استعمال کرنا شروع کر دیا  جسے وہ اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھتے تھے اور  سید احمد شہید کی تحریک اس میں پہلے نمبر تھی۔

سب سے پہلے 1832ء میں Journal of the Asiatic Society of Bengal نے سید احمد شہید کی تحریک کو وہابی تحریک قرار دیا تھا۔ اس لیے تحریکِ مجاہدین کے لیے ’وہابی‘ کا لقب جوہر صاحب کی تازہ ’تحقیق‘ نہیں  بلکہ یہ در اصل اسی برطانوی پراپیگنڈہ کی جگالی ہے۔ اس جرنل میںJ.R. Colvin کا مقالہ بھی شائع ہوا تھا، جس میں تحریکِ مجاہدین پر عرب وہابیوں کی ہندوستانی نقل کا طعن کیا گیا۔ مذکورہ مقالہ کا عنوان تھا “Notice of the Peculiar Tenets Held by the Followers of Syed Ahmed, Taken Chiefly from the Sirat-ul-Mustaqim.” 

اسی طرح 1867ء میں Colonel Adye نے اپنی کتاب “Sitana: A Mountain Campaign on the Borders of Afghanistan“میں تحریک کے ستھانہ میں موجود بیس کیمپ کو نشانہ بنانے کا تذکرہ کیا  اور تحریک کو ’وہابی دہشت گرد‘ قرار دیا۔ مذکورہ کتاب برطانوی فوجی نقطہ نظر سے لکھی گئی ایک روداد ہے، جس میں 1863ء کی مشہورِ زمانہ ”امبیلہ مہم“ (Ambela Campaign)اور ستھانہ میں موجود مجاہدین کے خلاف فوجی کارروائی کا احوال بیان کیا گیا ہے، چنانچہ  تحریکِ مجاہدین کو اکثر برطانوی حکام ہندوستانی جنونی(Hindustani Fanatics) قرار دیتے رہے۔ ]8چوکورقوسین کی عبارت ڈاکٹر محمد مسلم صاحب کی فیسبک تحریر سے مع تغیر یسیر نقل شدہ ہے۔

خارجیت اور تشریعی الہام کا الزام

جوہر صاحب و ہمنواؤں کی ایک اور قبیح حرکت مسلسل تحریک مجاہدین پر خارجیت کا الزام ہے۔ تحریک مجاہدین اور خوارج کی فکر میں بعد المشرقین ہے ہی، لیکن قارئین کے لیے مختصر اتنی وضاحت کر دیتے ہیں کہ خوارج عہد صحابہ ہی میں حضرت علیؓ و حضرت معاویہؓ کے مابین اختلافات کے دوران پیدا ہونے والا فرقہ تھا جس میں بعد ازاں مختلف فرقے بنتے گئے۔ امام عادل (یعنی حضرت علی و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم دونوں ہی کے خلاف خروج کیا تھا)  کے خلاف خروج کرنے کی وجہ سے انہیں خوارج کہا گیا۔ ان کے متفرق عقائد ہیں لیکن ایک سب سے اہم عقیدہ جو اہل السنة والجماعة سے انہیں جدا کرتا ہے وہ ’’مرتکب کبائر‘‘ کی تکفیر ہے۔ خوارج کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے جبکہ جمہور اہل السنة و الجماعة مرتکب کبیرہ کو گناہ گار لیکن مسلمان اور دائرہ اسلام میں داخل سمجھتے ہیں اور اس کی تکفیر ناجائز سمجھتے ہیں۔

تحریک مجاہدین نہ تو ’امام عادل‘ کے خلاف خروج کرنے والے تھے (جوہر صاحب رنجیت سنگھ یا انگریزی سرکار کو امام عادل سمجھتے ہوں تو الگ بات ہے) نہ ہی مرتکب کبیرہ کے کفر کے قائل تھے۔ یہ الزام جوہر صاحب  بار بار دہراتے رہتے ہیں لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس حسب سابق کچھ نہیں۔

دوسرا نیا الزام شاہ اسماعیلؒ شہید کی تصنیف ’’منصبِ امامت‘‘ کو لے کر جوہر صاحب کا الزام ہے کہ شاہ صاحبؒ الہام کی بنیاد پر امامت کے قائل اور  شریعت میں تبدیلی وغیرہ تک کے قائل ہیں۔ شاہ اسماعیلؒ کے ’’تصورِ امامت‘‘ کے بارے میں جوہر صاحب  طعنہ زن ہوتے ہیں کہ شاہ اسماعیل شہیدؒ:

  1. ایسے امام کے قائل ہیں جو کمالاتِ انبیاء کا حامل ہو،
  2. اپنے الہام کو تشریعی سمجھتا ہو،
  3. اپنے الہام کو سیاسی و عسکری طاقت سے معاشرے پر نافذ کرنے کا مجاز ہو۔

ان تینوں نکات کا نتیجہ وہ نکالتے ہیں کہ اس عمل میں وہ شریعتِ مطہرہ کو قطعی مسترد کر دیتے ہیں۔ ہمیں ان الزامات پر قطی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وہ شاہ اسماعیل شہید کی طرف ایسی ایسی باتیں منسوب کر رہے ہیں کہ عدالت و دیانت سر پیٹ کر رہ جائے۔ بہر حال ہم ان تینوں طعنوں کا جائزہ شاہ اسماعیل شہید کی کتب سے پیش کرتے ہیں۔ چونکہ وہ امام و خلافت کے مختلف درجات قائم کرتے ہیں اس لیے ہر طبقے کے لیے شریعت کا دستور ہونے کا حوالہ دے دیتے ہیں۔

پہلا طعن یہ کہ وہ ایسے امام کے قائل ہیں جو کمالاتِ انبیاء کا حامل ہو۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ امامت کے مراتب قائم کرتے ہیں اور جس قدر کوئی امام خصائص نبوت سے خود کو ہم آہنگ کرتا ہے اسی قدر اس کا مرتبہ بلند شمار کرتے ہیں۔ وہ علوِ مرتبہ کمالاتِ انبیاء کی پیروی اور ان کے رنگ میں رنگنے کی وجہ سے ہے۔ جب احادیث میں اﷲ کے رنگ میں رنگنے اور اﷲ کے اخلاق کے مطابق اپنے اخلاق کو ڈھالنے ، اﷲ کے دوست اور اولیاء جیسی باتیں قابلِ قبول ہیں تو یہاں کیا شبہ ہے؟ جہاں ویسے ہی نبی علیہ السلام کی کی اطاعت ہر مومن کے لیے لازمی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ جوہر صاحب انبیاء علیہم السلام کے خصائص کو بیان کرنے پر بھی معترض ہیں حالانکہ یہ سیاستِ ایمانی کے لیے اگر انبیاء کی سیرت بیان نہ ہو گی تو کیا چیز بیان ہو گی؟ یہاں بھی وہ لکھتے ہیں :

’’انبیاء علیہم السلام کے درجات و کمالات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار و احاطہ مجھ جیسے امتی سے مشکل بلکہ ناممکن ہے لیکن میں ان کمالات کا بیان کروں گا جو حقیقتِ امامت سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘9منصبِ امامت، ص ۹

جب شاہ اسماعیل شہید انبیاء کے کمالات کے شمار کو بھی عام انسانوں کے لیے ناممکن قرار دیتے ہیں تو یہ کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایسے امام کے قائل ہوں گے جو کمالاتِ انبیاء کا کلی طور پر حامل ہو، البتہ ہر شخص کے منصب کے مطابق بعض کمالات کا حصول تسلیم کرتے ہیں وہ بھی تفاوتِ درجات کے ساتھ۔ اس کے لیے انہوں نے میٹھے پانی اور کھاری پانی اور ان کی باہم ملاوٹ کے درجات کی مثال دی ہے جو در حقیقت فرق مراتب کو ہی ظاہر کرتی ہے۔

شاہ شہید، خلفائے راشدین کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’پس دین کے احکام کے اصول منزل کتاب سے بدلیل ثابت ہیں اور ان کے فروع کا مفہوم مسلسل حدیث سے ہوتا ہے پس کتاب اﷲ و سنت بین کے مجموعے کا نام دین و شریعت ہے۔ ایسے ہی بہت سے احکام ہیں جو اختلافِ زمانہ کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں……‘‘10ایضاً ص127

واضح رہے کہ وہ اختلافِ زمانہ سے بدلنے والے احکامات میں خلیفۂ راشد کی اطاعت کو واجب قرار دیتے ہیں۔ اس کے بعد سلطانِ کامل کے بارے میں بھی لکھتے ہیں:

’’سلطانِ کامل، حکمی خلیفہ راشد ہے یعنی اگرچہ خلافتِ راشدہ تک نہیں پہنچا لیکن خلافتِ راشدہ کے عمدہ آثار بعض ظواہرِ شریعت کی خدمت صدق و اخلاص سے اس سے صادر ہوں۔‘‘ 11ص147

حتیٰ کہ سلطانِ جابر کے بارے میں بھی لکھتے ہیں:

’’نفس کی فرمانبرداری میں نہ تو شرع کا لحاظ رکھتا ہے اور نہ عوام ہی کی پاسداری کا خیال۔ نفسِ امّارہ جو بھی اس سے کہے بلا تکلف بجا لاتا ہے اس بات کی پروا نہیں رکھتا کہ شریعت کی مخالفت ہے یا موافقت بلکہ اپنی لذاتِ نفسانیہ کے پورا کرنے کو اپنے سلطنت کا ثمرہ سمجھتا ہے ہم اسے سلطنتِ جابرہ کہتے ہیں۔‘‘ 12ص 151

ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کا نفاذ اور اس کے مطابق احکامات کو نافذ کرنا ہی خلفاء کا اصل مقصد ہے۔ آج کے دور میں اسے ہم رٹ آف دا گورنمنٹ کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں تو احکامِ الٰہیہ تو اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کو نافذ کیا جائے ۔

لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۝ (سورۃ الصف: ۹)

’’تاکہ اﷲ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔‘‘

تو ان حالات میں ان کا یہ کہنا کہ ’’مولانا شاہ صاحب شریعتِ مطہرہ کو قطعی مسترد کر دیتے ہیں‘‘، کس حد تک مبنی بر انصاف ہے؟ اور قطعی الفاظ کا استعمال کس حد تک تحقیقی مزاج کا پتا دیتا ہے؟

جب شریعت ہی بالا دست ہوئی تو اپنے الہام کو مطلقاً تشریعی سمجھنے کا طعن کس حد تک قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے؟

جہاں تک دوسرے طعن کا ذکر ہے تو واضح رہے کہ انبیاء کے الہام کو وحی اور انبیاء کے علاوہ کے الہام کو وہ تحدیث کا نام دیتے ہیں13ص58۔ وہ تو نام میں بھی فرق کر رہے ہیں البتہ یہ تسلیم کرتے ہیں وحی اور الہام دونوں کا مصدر ایک ہے وہ ذات باری تعالیٰ ہے۔ لیکن مراتب اور صحت میں فرق کو لازم سمجھتے ہیں۔ وہ اولیاء کے تیسری قسم کے الہام کو (جس میں خود بخود صاحبِ الہام کے دل میں کوئی بات جوش مارتی ہے تو وہ اسے زبان پر لاتا ہے) اگر انبیاء سے ہو تو نفث الروع کہتے ہیں اور اگر یہ اولیاء کا الہام ہو تو اس کو نطق سکینہ کہتے ہیں۔ اسی طرح الہام بذریعہ خواب جیسے حدیث میں مبشرات کہا گیا ہے۔ یقیناً الہام کے وجود پر اور غیر انبیاء کے لیے اس کے ثبوت پر جوہر صاحب کو اعتراض نہ ہو گا کیونکہ اہل سنت سب اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جوہر صاحب یہ طعن کرتے ہیں کہ شاہ شہید نے اسے شریعت پر حکم بنا دیا ہے جبکہ شاہ شہید نے ایسا کہیں نہیں کہا۔ اس کی بجائے وہ اسے حکمتِ اولیاء کی قبیل میں رکھتے ہیں14ص63۔ اس پر لقمان علیہ السلام کی حکمت اور حضرت علیؓ کی قوتِ فیصلہ ، ابن عباسؓ کی حکمت، ابن مسعودؓ کے تفقہ جیسی چیزوں کو اس پر دلیل بناتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک الہام ہر شخص کی ذمہ داری اور اس کی صلاحیتوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کے نزدیک حکیمانہ اسلوب میں مسائل حل کرنے کا ملکہ پیدا ہو جانا بھی الہام کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’الہامِ مومن اور کسی قدر توکل بھی لوازمِ ایمان سے ہے جس سے انسان اسبابِ شرک اور محرمات شرعیہ کی طرف راغب نہیں ہوتا۔‘‘15ص79

البتہ کشف و اسرار کا اظہار کرنا عام اولیاء کے لیے سلب و زوال کا موجب ہو سکتا ہے لیکن امام کے لیے اس کا اظہار ترقی و کمال کا باعث ہے۔ اس کی دلیل وہ فخر کے کلمات جو آئمہ ہدیٰ سے صادر ہوئے بناتے ہیں جیسا کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی طرف منسوب ہے کہ:

’’میں صدیقٍ اکبر ہوں میرے بعد یہ لفظ سوائے کذاب کے کوئی نہ کہے گا اور میں قرآن ناطق ہوں۔‘‘16 ص 105

وہ تو واضح طور پر الہام کا دائرہ کار یہ متعین کرتے ہیں کہ وہ شریعت پر کاربند رکھنے کے لیے ایک آلہ ہے۔ اس طرح ایک امام جو صفت ولایت سے بھی متصف ہو اس کا الہام اس میں وہ صلاحیت پیدا کرے گا جس سے وہ امورِ سلطنت کو شریعت کے مطابق اور بہتر طریقے سے سر انجام دینے کے قابل بنائے گا نہ کہ اسے شریعت سے انحراف کی طرف لے کر جائے گا۔ ہاں البتہ وہ اپنے نورِ ولایت سے باہم متعارض نصوص میں ترجیح قائم کر سکتا ہے اور غیر منصوص امور میں اپنی بصیرتِ ملہمہ سے فیصلہ جاری کر سکتا ہے جس کی اطاعت لازم ہو جاتی ہے کیونکہ وہ نائب رسول ہوتا ہے۔ یہ بصیرت جب فقہاء میں پیدا ہوتی ہے تو وہ انہیں انبیاء کے مقصود کے قریب ترین اجتہاد تک رہنمائی کرتی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’چونکہ احکام کی نسبت اوائل امت میں کشف و الہام کی طرف عرف نہ تھا پس اس فن میں انبیاء کے ساتھ مشابہ مجتہدین مقبولین ہیں سو ان کو آئمہ فن سے جاننا چاہیے جیسا کہ آئمہ اربعہ۔‘‘17ص84

حالانکہ آئمہ اربعہ نے کبھی الہام کا دعویٰ نہیں کیا لیکن ان کی فقہی بصیرت معروف امر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ شہید کے نزدیک الہام کئی قسم کا ہے اور کسی امر کی اہلیت و صلاحیت کا پیدا ہو جانا جو اسے صحیح فیصلہ تک پہنچا دے بھی الہام کی ایک قسم ہے۔ ایسی صلاحیت حکمرانوں کے لیے بھی درکار ہوتی ہے اور جس قدر ان کی شریعت اور قرآن و سنت سے (شریعت سے) نسبت قوی ہو گی اور ذکر و فکر سے نسبتِ نبوت قوی ہو گی اسی قدر وہ منصبِ امامت سے زیادہ انصاف کر سکیں گے۔ اس کی مثال میں وہ خلفائے راشدین کو سب سے بلند مقام پر رکھتے ہیں۔

کمالاتِ انبیاء کو جب مومنین کے لیے (امام اور خلیفہ بھی اس میں شامل ہے بلکہ بدرجہ اولیٰ شامل ہے) ثابت کرتے ہیں تو لکھتے ہیں:

’’تفاوتِ ایمان کے اعتبار سے ان کمالات کے مراتب میں بھی تفاوت ہوتا ہے یہاں تک کہ مرتبہ نبوت تک ان کی انتہا ہے، کیونکہ ہر کمال مقامِ نبوت میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے ۔  ……میں ہر گز انبیاء کے کمال کے مراتب کو دوسروں کے مراتب کے سلسلے میں شمار نہیں کرتا۔ کیونکہ انبیاء کرام اور ہیں اور دوسرے عوام اور۔ لہذا اس مرتبہ کمال کو جو انبیاء کے مرتبہ کمال کے متصل ہے مذکورہ کمالات کے سلسلے کا انتہائی نچلا درجہ تصور کریں۔ یعنی انبیاء کے کمال کو درجہ اول میں رکھیں اور اس مرتبہ کو دوسرے درجہ میں۔‘‘18ص80

اب خود فیصلہ کر لیجیے کہ جوہر صاحب کا نتیجہ  درست ثابت ہوتا ہے یا اس کے خلاف نتیجہ درست ثابت ہوتا ہے؟ نہ جانے انہوں نے یہ کہاں سے اخذ کر لیا ہے کہ ان کا الہام شریعت کی جگہ لے لیتا ہے؟ شاہ شہید شریعت کو مسترد نہیں کرتے بلکہ امام کو شریعت کے تابع کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں انبیاء کا حقیقی جانشین بنانا چاہتے ہیں۔

حقیقت  اور ظاہریت کا طعن

اس کے بعد جوہر صاحب شاہ اسماعیل شہید کی طرف اپنی دانست میں ایک نہایت ’’شنیع‘‘ عقیدہ منسوب کرتے ہیں اور اپنی دانست میں اسے ایک بڑا اعتراض سمجھتے ہیں جبکہ یہ بھی ان کی فہم کا مسئلہ ہے۔ وہ منصبِ امامت ص87 کے حوالہ سے لکھتے ہیں ”اکثر احکام شرعیہ کی ایک حقیقت  ہوتی ہے اور ایک ظاہریت‘‘19یہاں حقیقت سے مراد صوفیاء کے نزدیک احکام کی حقیقت ہے جو حکم کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطنی اثرات کے مجموعے کا مرکب سمجھی جا سکتی ہے۔ (ناقل)۔ یہاں مزید رنگ آمیزی کرنے کے لیے وہ اکثر کے لفظ کو بطورِ خاص واضح کرتے ہیں اور اپنے زعم میں حکمِ شرعی میں ظاہر و باطن کے طے کرنے کے اختیارات فردِ خاص (امام) کو منتقل کرنے کو نشانہ تنقید بناتے ہیں اور اس کو حسبِ روایت متشددانہ انداز میں شریعت کو رد کرنے اور اپنے سیاسی عمل کو الہامِ تشریعی کے تابع کرنے کا طعن کرتے ہیں۔

وہ شریعت کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟ یہ ہم پہلے واضح کر چکے ہیں۔ یہ بھی اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ ان کے نزدیک الہام شریعت کا تابع ہوتا ہے نہ کہ شریعت الہام کے تابع ہوتی ہے۔ یہاں اصل مسئلہ حقیقت اور ظاہریت کا طعن ہے۔ جسے انہوں نے اسے اسماعیلیہ کی طرح شریعت کے ظاہر و باطن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی اس طرح مکتب تشیع میں تصور امام سے شاہ اسماعیل شہید کے تصور امام کو جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ فقط امامت اور ظاہر و حقیقت جیسے الفاظ سے ایسا ثابت نہیں ہوتا۔ ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے شاہ شہید نے اس حوالہ سے کیا وضاحت دی ہے؟ چنانچہ اسی صفحہ پر لکھتے ہیں:

’’لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصل مقصود ایک نہایت نازک اور باریک نکتہ ہوتا ہے کہ اکثر آدمیوں کے ذہن اس تک نہیں پہنچ سکتے، اور اگر پہنچ بھی جائیں تو وہ لطیف نکتہ دوسرے امور کے ساتھ جو اس کی جنس سے نہیں ان کے ذہن میں مشتبہ ہو جاتا ہے اور غیر مقصود سے مقصود کی تمیز ان کے لیے مشکل ہو جاتی ہے اسی واسطے بعض ظاہری امور کو اس سر خفی کی جگہ رکھ دیتے ہیں اور صورت کو معنی کا حکم دے دیتے ہیں اور اسی ظاہری حکم کا اجرا کرتے ہیں اور اسی ظل کو قائم مقام اصل کے بنا دیتے ہیں۔‘‘20ص87-88

یہاں واضح رہے کہ اسماعیلیہ باطنیہ کے آئمہ باطنی معنی کی آڑ میں ظاہری معنی کو معطل کرنے کا کام کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں مطعون کیا جاتا رہا ہے جبکہ شاہ اسماعیل شہید ظاہری معنی کو معطل کرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ وہ ظاہری حکم کی پوشیدہ حکمتوں اور علل کو دریافت کرنے کی طرف متوجہ کر رہے ہیں اور احکام میں مضمر مصالح کے حصول کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ اس کی بہت سے مثالیں شریعت سے مل جاتی ہیں۔ خود امام ابو حنیفہ کو اہل الرائے اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ وہ ظاہر الفاظِ نصوص کی بجائے احکام کی علل و حکمتوں پر غور کر کے وہ فقہی مسائل حل کر لیتے ہیں جو عام فقہاء کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ یہاں جوہر صاحب جو ’’اکثر احکام‘‘ کے لفظ پر حاشیہ آرائی کی کوشش کر رہے ہیں ان کی اطلاع میں عرض ہے کہ احکامِ شریعت میں سے کوئی بھی حکمت سے خالی نہیں، اور حکمت احکام میں پوشیدہ ہوتی ہے جسے شاہ شہید احکام کی حقیقت کا نام دیتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ اکثر احکام کی حکمت ہمارے ذہن میں غور و فکر سے آ جاتی ہے لیکن بعض احکام کی حکمت ہماری فہم سے ماورا ہوتی ہے تو اس صورت میں بھی اس حکم کو ترک نہیں کیا جاتا بلکہ حکمت کی تلاش میں غور و فکر کیا جاتا ہے اور غیر مشروط اطاعتِ شریعت تب بھی جاری رہتی ہے۔ جیسے نماز کی رکعتوں اور سجدے کی ایک رکعت میں دو ہونے اور رکوع کے ایک ہونے جیسے امور کہ ان کی حکمت کے بارے میں ہم واضح طور پر کچھ نہیں جان سکتے کیونکہ شارع نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا اور ہماری رائے اس حوالے سے غور و فکر کے نتیجے میں جو بھی بنے وہ بہر حال غلط ہونے کے امکان کے ساتھ ہمارے فہم میں اضافہ کرے گی اور جو شخص شریعت (قرآن و سنت) سے اور انبیاء علیہم السلام کی نسبتوں سے جتنا زیادہ نسبت رکھے گا اتنی زیادہ عمدہ طریقہ سے اس کی حقیقت تک رسائی کر لے گا۔

یہاں انہوں نے بہت سی مثالیں پیش کی ہیں جن میں سے چند ظاہر و حقیقت کے فرق کو جاننے کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ نماز کی حقیقت حضورِ قلب جبکہ ظاہر اس کی ظاہری ہیئت کا قیام ہے، زکوٰۃ کی حقیقت سخاوت اور لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی سعی ہے، ظاہر مقررہ مقدار میں رقم صدقہ کرنا ہے۔ حج میں حقیقت عشق و محبت سے طواف و سعی کرنا ہے جبکہ ظاہر ارکان کی ادائیگی ہے۔ جہاد کا ایک ظاہر ہے کہ دشمن کے خلاف تلوار چلانا اور مال غنیمت کے حصول کی سعی کرنا ایک اس کی حقیقت ہے کہ غیرت ایمانی کا اظہار ہو، جمیعتِ اسلامی کی خواہش ہو وغیرہ کی طرف شاہ شہید نے اشارہ کیا ہے۔ ان میں سے کسی عمل کو بھی کبھی بھی معطل نہیں کیا جاتا لیکن ظاہر سے حقیقت تک پہنچنے کی سعی کرنا ضروری ہے تاکہ شریعت کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطنی فیوض و برکات تک رسائی ہو۔ مزید وہ مثال دیتے ہیں کہ احکام کے ظاہر کی مثال جسمِ انسانی ہے اور باطن کی مثال روحِ انسانی ہے۔ دونوں ضروری ہیں لیکن روح کی تہذیب زیادہ جسم سے بھی بڑھ کر ہے۔21ص88-89

اسی طرح مومن و منافق کے ایمان کی مثال دیتے ہیں کہ منافق کے باطن میں کفر لیکن ظاہر میں ایمان ہے اس کے باوجود اس کو مومن حکمی قرار دے کر دنیا میں اس سے مومنین کی طرح سلوک کیا جاتا ہے، لیکن آخرت میں اسے سزا و عقاب ہو گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں مصدق مومن مومنِ حقیقی ہے جسے دنیا کے ساتھ آخرت کی نعمتیں بھی ملیں گی۔ اسی طرح ریا کار نمازی دنیا میں تعزیر سے بچ جائے گا لیکن آخرت میں اسے کوئی اس کا اجر نہ ملے گا، لیکن خالص حقیقی نمازی قربِ خدا کے ساتھ نزول رحمت و برکت کے ساتھ جنت اور اس کی تمتعوں کے حصول کا سبب بھی بنے گا۔22ص90

یہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاہ شہید چاہتے ہیں کہ اہل ایمان اعمالِ شرعیہ کے ظاہر تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ اس کے باطن میں موجود اس کی حقیقت تک پہنچیں تاکہ دنیا و آخرت میں شریعت پر عمل کے ثمرات حاصل کر سکیں ، لیکن جوہر صاحب یہ بد گمانی پالے بیٹھے ہیں کہ وہ حقیقت یا باطن کے نام پر باطنیہ کی طرح شریعت کو معطل کر کے اپنی شریعت چلانا چاہتے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے یہ مفہوم کیسے اخذ کیا؟ جس مقام کا انہوں نے حوالہ دیا اسی جگہ سے میں نے مثالیں پیش کی ہیں۔ وہ خود ہی ایک طعن گھڑتے ہیں اور خود ہی نیت پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

منصبِ امامت شاہ اسماعیلؒ شہید کی نا مکمل کتاب ہے جو سیاست، تصوف و کلام کی جامع ہے جسے سمجھنے کے لیے بھی ان علوم اور ان کی اصطلاحات سے واقفیت  بنیادی شرط ہے۔ جوہر صاحب اور ان کے حلقے کے متعلق تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ ان سب علوم میں ایسی مہارت کے حامل قطعاً نہیں جو انہیں شاہ صاحبؒ کی عبارات پر حَکم تسلیم کیا جائے۔

ہماری دانست میں  ان حضرات کا مدعا محض ان علوم سے قطعی جاہل عوام الناس کو مغالطے در مغالطے میں مبتلا کر کے دراصل تحریکِ مجاہدین اور اس کے اکابر کو متنازع کرنا اور ان حضرات سے واسطے اور تعلق کے سبب برصغیر کی پوری علمی روایت یعنی علمائے  دیوبند اور اہل حدیث، ہر دو مکتب فکر پر شب خون مارنا ہے۔ ان حضرات کی بابت   ہماری یہ رائے محض رائے نہیں بلکہ ان کی دیگر کارستانیوں اور متنازع نظریات کی بدولت ہی قائم ہے جن کا تذکرہ طوالت کے پیش نظر یہاں ممکن نہیں۔

٭٭٭٭٭

  • 1
    واقفان حال جانتے ہیں کہ جوہر صاحب اور ان کے لائق شاگردوں نے محض ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ کے مصداق اپنی خجالت مٹانے کےواسطے بزرگان دین کی پگڑیاں اچھالنا مناسب سمجھا۔ بحث تاریخی و علمی حدود تک ہی رہتی تو بھی شاید قرین قیاس تھا،  لیکن جوہر صاحب کے بعضے ’لائق‘  شاگردوں نے ان بزرگان اور ان کی طرف سے مدافعت کرنے والے حضرات کے بارے ایک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔
  • 2
    سیرت سید احمد شہید، از مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ، ص:409
  • 3
     ایضاً ص ۴۰۷
  • 4
    ایضاً
  • 5
    سیرت سید احمد شہید؛ 15-416
  • 6
    سیرت سید احمد شہید؛ 32-331
  • 7
    ڈاکٹر صاحب تحریک مجاہدین کے بارے میں ایک اہم انگریزی کتاب “Wahabi Movement In India” کے مصنف ہیں ۔
  • 8
    چوکورقوسین کی عبارت ڈاکٹر محمد مسلم صاحب کی فیسبک تحریر سے مع تغیر یسیر نقل شدہ ہے۔
  • 9
    منصبِ امامت، ص ۹
  • 10
    ایضاً ص127
  • 11
    ص147
  • 12
    ص 151
  • 13
    ص58
  • 14
    ص63
  • 15
    ص79
  • 16
     ص 105
  • 17
    ص84
  • 18
    ص80
  • 19
    یہاں حقیقت سے مراد صوفیاء کے نزدیک احکام کی حقیقت ہے جو حکم کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطنی اثرات کے مجموعے کا مرکب سمجھی جا سکتی ہے۔ (ناقل)
  • 20
    ص87-88
  • 21
    ص88-89
  • 22
    ص90
Previous Post

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چھٹی قسط

Next Post

کفار کا معاشی بائیکاٹ | نویں قسط

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جون و جولائی 2026

3 جولائی 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | پندرہویں قسط

3 جولائی 2026
چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ

3 جولائی 2026
غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)
غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | پانچویں قسط

3 جولائی 2026
پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | سترہویں قسط

3 جولائی 2026
Next Post
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط

کفار کا معاشی بائیکاٹ | نویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version