نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | ساتویں قسط

شریعت اسلامیہ کی روشنی میں

by سیف العدل
in جون و جولائی 2026ء, فکر و منہج
0

بسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

7- حوصلے (Morale) کی اسٹریٹجی

تکافل، یکجہتی اور قربانی کی حقیقی روح

اللہ پر ایمان، واضح منہج،  ربّانی قیادت،  مخلصانہ اخوت، راہیوں کی دیانت داری، عدل کا فروغ، نوجوانوں کے جوش و ہمت اور بزرگوں کی حکمت کے درمیان ہم آہنگی، ذات کی نفی اور ٹیم سے وابستگی، پیش گوئیاں اور بشارتیں، کارنامے اور انہیں انجام دینے والے ابطال، پرچم اور نعرے، علامات اور نمونۂ عمل (رول ماڈل)،  یہ سب حوصلہ ؍ مورال بڑھانے کی بنیاد ہیں اور انہی سے حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ پس ہم ایک امت ہیں جسے اکٹھا کیا گیا ہے: ایک خدا، ایک ہی نبی، ایک کتاب، ایک پیغام، ایک قبلہ  اور ایک ہی امت کے ذریعے۔

اسلام نے حوصلے یا روحِ معنوی کو بہت اہمیت دی ہے اور مسلمان فرد کی ’’میں‘‘ کو امت کے ’’ہم‘‘ میں ڈھالنے پر کام کیا ہے، اور اس کا ثمرہ دنیا میں اجتماعی کامیابی قرار دیا ہے، اور دنیا میں سربلندی دین کے لیے رکھی  اور اس کے لیے غلبہ اور انسانوں کے لیے ہدایت کو مقصد [یعنی رضائے الہٰی] تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا، اور واضح کیا کہ عزت اور وقار کا اچھا مفہوم  صرف دین کے ذریعے اور پوری امت کے لیے ہوتا ہے، کسی  امیر، حاکم  یا ان کے وارثوں کی جاگیر یا پہنایا ہوا لباس نہیں، ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت دی، اور اسلام نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ فرد کے لیے حقیقی اجر آخرت میں ہے  اور دنیا کے حصے (لذتوں) سے بے رغبتی کی ترغیب دی اور اس سے سبکدوشی کو پاکیزہ اور صاف راستے کی نشانیاں قرار دیا۔

٭٭٭٭

پس حوصلے یا روحِ معنوی بلند کرنے کا مثالی طریقہ یہ ہے کہ دین کو ہی رمز و علامت بنایا جائے اور فرد، جماعت، سلطنت، وسائل، اشیاء اور آلات محض ایک دائرے کے اجزا  ہوں جو باہم تکمیل پا کر بنیادی قضیے کی خدمت کریں،  یعنی زبان اور تلوار دونوں سے اللہ کی طرف دعوت۔ دین فرد کے ضمیر کو ’کُل‘ کے ساتھ جوڑتا ہے اور قربانی و تواضع کے ذریعے اس کا تزکیہ کرتا ہے تاکہ اس کے سینے کو خود غرضی (انانیت)، تکبر اور غرور سے خالی کر دے، غیب پر ایمان کو راسخ کرے اور یہ یقین پیدا کرے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے، اور یہ کہ ان کی دعوت اور ان کا جہاد ایک عادلانہ قضیے اور ایک منصفانہ مقصد کے لیے ہے۔ یوں اجزا جمع ہو کر ایک ہم آہنگ ’کُل‘ بن جاتے ہیں، اور یہ ہر صاحبِ ایمان نفس اور ہر مومن روح کو سیراب کرتا ہے۔ یہ انہیں اپنے ذاتی مفادات سے نکال لیتا ہے، ایثار و قربانی کے پہلو کو غالب کر دیتا ہے اور انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات کے ساتھ قطع کر دیتا ہے۔ پس عزت و افتخار اسلام کی نصرت میں ہے اور ذلت و رسوائی اسے بے یار و مددگار چھوڑنے یا کسی اور چیز کی مدد کرنے میں ہے۔ چنانچہ فرد کا اپنے دین سے حسنِ التزام اسے اجتماعی ضمیر کے بارے میں نہایت حساس بنا دیتا ہے جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔

٭٭٭٭

ایمان ایک نورانی کیفیت ہے، جذبات کی بلندی اور احساس کی لطافت کی حالت، جو فرد کو کُل کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور اجتماعی ضمیر کو خالقِ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ وابستگی کی حقیقت کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ خشیت اور شوق کی ایک کیفیت ہے:

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ؀ (سورۃ الزمر: ۲۳)

’’ اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، جس کی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں اپنے پروردگار کا رعب ہے ان کی کھالیں اس سے کانپ اٹھتی ہیں، پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لے آتا ہے، اور جسے اللہ راستے سے بھٹکا دے، اسے کوئی راستے پر لانے والا نہیں۔ ‘‘

یہاں قربانیاں شیریں ہو جاتی ہیں، مشکلات آسان ہو جاتی ہیں، روح بلند ہوتی ہے اور جسم کا فنا ہو جانا، نجات کی ایک کشتی بن جاتا ہے، جو روح کو عالمِ برزخ کی زندگی سے اٹھا کر سبز پرندوں کے قالب میں بسنے تک پہنچا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا  ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ؁ (سورۃ آل عمران: ۱۶۹)

’’ اورجو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے۔‘‘ 

مسروقؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی تو انہوں نے فرمایا:

’’ہم نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا: ’ان کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں ہیں، ان کی قندیلیں عرش کے ساتھ معلق ہیں، وہ جنت (کے میووں) سے جہاں سے چاہتے ہیں کھاتے ہیں، پھر انہیں قندیلوں میں واپس آ جاتے ہیں، پھر ان کا رب ان کی طرف دیکھ کر فرماتا ہے: کیا تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم کس چیز کی خواہش رکھیں، ہم جنت میں جہاں چاہیں جاتے اور وہاں سے من پسند چیزیں کھاتے ہیں، رب تعالیٰ ان سے تین مرتبہ یہی سوال فرمائے گا جب وہ دیکھیں گے کہ ان کو چھوڑا نہیں جائے گا، ان سے سوال ہوتا رہے گا تو وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹائی جائیں حتیٰ کہ ہم تیری راہ میں پھر شہید کر دیے جائیں، جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا‘۔‘‘  رواہ مسلم۔

٭٭٭٭

کچھ قائدین شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر، علم کے ساتھ یا لاعلمی میں، حوصلہ بلند کرنے کے لیے تعریف اور تزکیہ (سفارش) میں مبالغہ کرتے ہیں، یا انعامات و عطیات میں اور عہدوں کی تقسیم اور اختیارات کی بخشش میں فراخ دلی دکھاتے ہیں، وغیرہ۔ یہ رویّہ نُفوس کو تباہ کرتا ہے، عقلوں کو بگاڑتا ہے، ضمیروں کو خریدتا ہے، نورانی کیفیت کو تاریک کرتا ہے اور روحانی معاہدے کو توڑ دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل انہیں اسباب کی دنیا میں بھٹکنے کا موقع دیتا ہے، جہاں نہ تو کوئی اندرونی واعظ ہوتا ہے نہ ہی بیرونی، جو انہیں لوٹا سکے۔ آخر کار قائد پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ اس نے حد سے زیادہ لاڈ پیار سے انہیں بگاڑ دیا ہے، جس نے ان میں خود غرضی، انا کا جذبہ، دنیا کی محبت اور قربانی سے بے رغبتی کو پروان چڑھایا ہے۔ پھر جب قائدین اصلاح کی کوشش میں سزا اور نظم و ضبط کی طرف رجوع کرتے ہیں تو مصنوعی محبت حقیقی نفرت میں بدل جاتی ہے، یا جب وہ خطیبانہ تقاریر یا اجتماعی سرگرمیوں کے ذریعے ان کے ضمیروں کی ازسرِنو تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو انہیں محض تمسخر اور حقارت بھرے الفاظ ہی ملتے ہیں۔ اجساد بگڑ چکے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ روحیں اور ضمیر بھی، جبکہ عقلیں ماؤف ہو چکی ہوتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس قائد نے ان کی وفاداری عطیات اور نوازشوں کے ذریعے خریدی، وہ اللہ کے لیے نہیں تھی بلکہ صرف اس کی علامتی حیثیت کے لیے تھی۔ اس نے ان کی وفاداری خریدنا شروع کی تو انہیں بگاڑ دیا، پھر جب ان کا علاج کرنا چاہا تو ان کی دشمنی مول لے لی۔ اب جو بھی تبدیلی ان کی عادت کے خلاف ہو گی، وہ اپنی حاصل شدہ مراعات کو بچانے کے لیے دفاعی رویّے کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گے۔ چنانچہ کتنے ہی لوگ لاڈ، دولت اور مال نے بگاڑ دیے۔ اس کا کوئی اصلاحی حل نہیں مگر قیادت اور اس کے قریبی حلقے کی اصلاح کے ذریعے، جو علامتی حیثیت کی خرابی اور رویّوں کی خرابی پر متنبہ ہوں اور ابتدا ہی سے اس طریقے پر عمل کریں جس سے اولین مردوں نے کامیابی حاصل کی تھی۔

٭٭٭٭

ان لوگوں کے علاج کے لیے جنہیں لاڈ، دولت، عہدوں اور قرابت داری نے بگاڑ دیا ہے، ایک راستہ ہے۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ حوصلہ اور روحِ معنوی متعدی ہوتی ہے، منفی بھی اور مثبت بھی۔ اس لیے مطلوب یہ ہے کہ انہیں دوبارہ ایسے گروہوں میں مقرر کیا جائے جن کی تربیت درست انداز میں کی گئی ہو، ایسے تربیت یافتہ، ہم آہنگ اور سرگرم گروہ، جو بھٹکی ہوئی روحوں اور منتشر ذہنوں کو اپنی طرف کھینچ لیں اور فطری انداز میں حوصلے بلند کرنے کے لیے ایک صحیح منہج کے مطابق ان کی رہنمائی کریں۔ یہ اجتماعی وجدان خود غرضانہ رویّوں کی طرف ان کی واپسی کی کوشش کو محدود کرتا ہے۔ جو اس کے بعد بھی انکار کرے گا، اسے آسانی سے تنہائی اور برطرفی کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ وہ آخری چیز ہے جس کی کوئی انسان آرزو کرتا ہے۔

اور تاکہ ہم ایسے سرگرم اور مؤثر گروہ تشکیل دے سکیں جو بحرانوں کو سمیٹنے اور رکاوٹوں سے کامیابی سے گزرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ذیل میں چند ہدایات اور رہنما خطوط پیش کیے جاتے ہیں جنہیں قائدین کو راسخ کرنا یا نافذ کرنا چاہیے:

  • غیب پر ایمان اور یہ یقین کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے،
  • نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسی عبادات کو وقت پر ادا کرنے کی پابندی،
  • دنیا سے بے رغبتی کے اصولوں کو راسخ کرنا اور باہمی تعاون و تکافل اور ایثار و قربانی کی روح کو عام کرنا،
  • ایسی سچی قیادت کا نمونہ پیش کرنا جو اسی ماحول میں ان کے ساتھ شریک ہو جس میں وہ چل رہے ہیں،
  • فکری وحدت کا حصول،
  • جنگ میں فتح کے حصول کے لیے درست اسٹریٹجی کے مطابق معرکوں میں اترنا،
  • مجاہدین کے لیے اعلیٰ درجے کی تربیت فراہم کرنا،
  • مناسب اسلحہ اور سازوسامان کی فراہمی،
  • باصلاحیت، ہنر مند اور مومن قیادتوں کا تقرر،
  • عسکری کارروائیوں کے لیے کامیابی کے عناصر مہیا کرنا،
  • ہر طبقے کے لیے مناسب معاش1مالی بنیاد سب کے لیے ایک ہی ہے، پھر اس کے بعد اس کے زیرِ کفالت افراد کی تعداد کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اگلا مرحلہ تقّدم (سنیارٹی/Seniority) کا ہے، پھر تجربہ کار اور ماہر افراد کو ترجیح دی جاتی ہے، یہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنت ہے جب انہوں سابقین اولین اور بعد میں آنے والوں کے درمیان فرق کیا۔، محنت کرنے والوں کے لیے انعامات،
  • امت کے عام لوگوں کے لیے اچھے طریقے سے عذر تلاش کرنا اور نرمی اور حلم کے ساتھ انہیں دعوت دینا اور تذبذب کا شکار افراد کے ساتھ خوش اسلوبی سے مانوس ہونا۔

ان میں سے بعض کی تفصیل آگے بیان کی جائے گی (ان شاء اللہ)۔

٭٭٭٭

میدانِ جنگ میں سپاہیوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے اہم نکات

اوّلًا: جس قضیے کے لیے وہ لڑ رہے ہیں اس کا مبنی بر انصاف ہونا

پس وہ حملہ آور دشمن (عدو الصائل) جو دین و دنیا دونوں کو بگاڑتا ہے، ایمان کے بعد اسے دفع کرنے سے بڑھ کر کچھ بھی واجب نہیں، اس کے لیے کسی شرط کی ضرورت نہیں بلکہ حسبِ استطاعت اسے روکا جائے گا۔ ذمہ داران، کارکنان اور اہلِ علم پر لازم ہے کہ وہ اپنے سپاہیوں میں شعور بیدار کریں اور ان کے اذہان سے اس حقیقت پر پڑے پردے ہٹائیں جس میں وہ جی رہے ہیں۔ یہاں ہمارے لیے دو حقیقتیں اہم ہیں: پہلی، یہ کہ جو کچھ اللہ ان سے چاہتا ہے، اور دوسری، انسانی وجود کا جوہر۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا   ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ    ۭ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ  ۭ اِنَّ رَبِّيْ قَرِيْبٌ مُّجِيْبٌ ؀(سورۃ ھود: ۶۱)

 ’’اور قوم ثمود کے پاس ہم نے ان کے بھائی صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔  انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اور اس میں تمہیں آباد کیا۔ لہٰذا اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ یقین رکھو کہ میرا رب ( تم سے) قریب بھی ہے، دعائیں قبول کرنے والا بھی۔ ‘‘

[توحید اور زمین کی آبادکاری و تعمیر]، ان دونوں کی اچھی وضاحت سے لوگوں میں تبدیلی کا ارادہ پیدا ہوتا ہے، اور سپاہیوں میں ایک طرف اپنے عقیدے کی نصرت کے لیے فدا کاری و قربانی کی خواہش دوچند ہو جاتی ہے اور دوسری طرف اس کے سائے میں باعزت زندگی گزارنے کی تمنا بڑھتی ہے۔ بہت سے لوگ انقلاب کے محرک کے طور پر دین کے کردار کو مشکل سمجھتے ہیں، لیکن سبھی معاشرتی ناانصافی و سماجی ظلم، دولت کی غلط تقسیم اور اقتدار پر قبضے کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ یقیناً یہ بھی شرعی مطالبات ہیں جنہیں اسلام نے عدل کے قیام، باہمی کفالت اور امور کو دیانت دار اہلِ ایمان کے سپرد کرنے کے ذریعے بلند کرنے کی ترغیب دی ہے۔ قضیے کا مبنی بر انصاف ہونا  اور اس کا اللہ کی رضا سے تعلق دونوں، سپاہیوں اور عوام کو جہاد و قتال اور قربانی دینے کا بنیادی محرک فراہم کرتے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں شریعت کے سائے میں آزادی، وقار اور بہتر مستقبل کے مواقع کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

٭٭٭٭

ثانیًا: انسان روح اور جسم پر مشتمل ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک کی اپنی ضروریات ہیں اور ان ضروریات کو پورا کرنے میں احتیاط لازم ہے

روح:   روح اللہ پر ایمان اور عالمِ غیب پر یقین میں اضافہ ہونے سے متحرک ہوتی ہے، روح الفاظ و کلمات، حالات و واقعات، مبشرات اور پیش گوئیوں سے غذا حاصل کرتی ہے اور انہی کے ذریعے جوش و جذبے کے ماحول میں پرواز کرتی ہوئی اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کی رغبت رکھتی ہوئی آسمان کے قریب پہنچتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کلام (یعنی قرآن و حدیث) سے بڑھ کر کوئی کلام نہیں، سوائے اس کے جو آیات و احادیث کے درمیان ربط قائم کرے اور ان کی تشریح کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ   ۭ  (سورۃ التوبہ: ۱۱۱)

’بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے اس طرح کہ بدلے میں ان کے لیے جنت ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ  (سورۃ محمد: ۷)

’’اگر تم اللہ تعالیٰ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا ۔‘‘

اور فرمایا:

اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۚ (سورۃ آل عمران: ۱۶۰)

’’ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی  تم پر غالب آنے والا نہیں۔‘‘

اور فرمایا:

وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ  ۭ  (سورۃ النسآء: ۱۰۴)

’’ اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے جو وہ نہیں رکھتے ۔‘‘

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

والله ليتمن هذا الأمر، حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت لا يخاف إلا الله والذئب على غنمه، ولكنكم تستعجلون

’’اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اور سوائے اللہ کے یا اپنی بکریوں کے سلسلہ میں بھیڑئے کے، کسی اور سے نہیں ڈرے گا لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔‘‘

اور آپ ﷺ نے فرمایا:

أبشر يا أبا بكر! أتاك نصر الله، هذا جبريل على ثناياه النقع

’’اے ابوبکر! تمھیں خوشخبری ہو کہ تمہارے پاس اللہ کی مدد آ گئی ہے، یہ جبرئیل ؑ اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہیں۔‘‘

اور آپ ﷺ نے فرمایا:

الآن نغزوهم ولا يغزوننا، نحن نسير إليهم

’’اب ہم ان پر حملہ کریں گے، وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے بلکہ ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔‘‘

اور آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

تلك غنيمة المسلمين غدًا إن شاء الله

’’ان شاءاللہ یہ سب کل ہم مسلمانوں کا مال غنیمت ہو گا۔‘‘

 اور جہاں تک حالات و واقعات، مبشرات اور پیش گوئیوں کا تعلق ہے تو وہ بہت زیادہ ہیں۔ انہی میں سے (سیف الدین) مظفر قُطُز کا وہ واقعہ ہے جب انہوں نے تاتاری حملوں کا جواب دیا:

’’پس بادشاہ مظفر قُطُز (رحمہ اللہ) خود اپنے لشکر کے ایک دستے کے ساتھ حملہ آور ہوئے اور میسرہ (بائیں بازو) کو پیچھے سے سہارا دیا یہاں تک کہ وہ سنبھل گئے اور لوٹ آئے۔ مظفر نے خود لڑائی میں کُود کر براہِ راست قتال کیا اور اس دن نہایت عمدہ کارنامہ سر انجام دیا، جنگ شدید ہو گئی اور باوجود تاتاریوں کی کثرت کے، دونوں فریق ڈٹے رہے، مظفر اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے، انہیں اچھی موت کی تلقین کرتے رہے، ان کے ساتھ بار بار خود بھی حملہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے اسلام کو فتح عطا فرمائی اور اسے عزت بخشی، تاتاری شکست کھا گئے اور اپنے سرداروں میں سے اکثر کے قتل ہو جانے کے بعد نہایت بدترین حالت میں پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔‘‘

اور مبشرات سے متعلق شیخ محمد المنجد (حفظہ اللہ) فرماتے ہیں:

’’پھر وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ [11 ستمبر] کے بعد (مغربی دنیا کے) مقامی لوگوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد تین گنا بڑھ گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کے لوگ اسلام کو جاننا اور اس کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘2امت کی موجودہ حالت اور داعیان و مبلغین کا فرض کہ وہ حوصلہ بڑھائیں، شیخ محمد المنجد کے دروس۔

اور پیش گوئیوں میں سے وہ ہے جو طائفۂ منصورہ کے بارے میں وارد ہوئی ہے:

’’میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، جو اسے چھوڑ دے وہ اسے نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے۔‘‘

یہ ایک عجیب امت ہے، بارش کی طرح، معلوم نہیں اس کا پہلا حصہ بہتر ہے یا آخری۔

٭٭٭٭

جسم: میدانِ عمل قربانی، فداکاری، ایثار اور عطا کا میدان ہے، پس تم اپنی روح، جسم اور مال سب کچھ اس کے بدلے پیش کرو کہ آنے والی نسلیں اسلام کے سائے میں زندگی گزاریں، یہ سخاوت کی انتہا ہے، اور یہی اس انسان کی مثالی حالت ہے جو اپنے ذاتی تقاضوں سے بالاتر ہو کر اپنے دین کی نصرت اور لوگوں کی محبت میں جیتا ہے۔ لیکن جنگ اور انسانی نفس کی اہم ضروریات ہوتی ہیں، جن کے بغیر ہم توانائی اور حوصلے کا ایک حصہ کھو دیتے ہیں۔ جنگ کے جسمانی میدان میں ضروری ہے کہ سپاہیوں کے پیٹ بھرے ہوں اور ان کے بدن پر ایسا لباس ہو جو کارروائیوں کے مطابق ہو اور موسموں کے بھی موافق ہو، تاکہ ان کی جنگی پیش قدمی جاری رہے اور ان کے حوصلے مستحکم رہیں۔ نفسیاتی میدان میں لازم ہے کہ ان کی جیبوں میں رقم بھی ہو، کیونکہ ان کے پیچھے ایسے لوگ ہیں جنہیں زندگی کی ضروریات کا سامنا کرنے کے لیے اس رقم کی ضرورت ہے۔

یہ احساس و التزام دونوں کے لحاظ سے ایک ذمہ داری و جوابدہی ہے اور اسے ایک لفظ، ایک حدیث اور ایک ادراک میں بیان کیا جا سکتا ہے: [رعایہ]، [تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے]، [اگر عراق میں ایک خچر بھی ٹھوکر کھا جائے تو میں خود کو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ (مسؤل) سمجھوں گا کہ میں نے اس کے لیے راستہ ہموار کیوں نہ کیا]۔

جنگی کارروائی کے اخراجات عموماً قابلِ حساب ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ جڑے اور اس کے واقعات کے بعد آنے والے اخراجات کا حساب نہیں لگایا جا سکتا۔ ہر جنگ میں فاتح اور مفتوح دونوں کو قیمت چکانی پڑتی ہے، کیونکہ جنگ ہلاکتیں چھوڑ جاتی ہے، جس کا مطلب بیوائیں اور یتیم ہیں۔ زخمی بھی ہوتے ہیں، جس کا مطلب طبی اور نفسیاتی نگہداشت ہے، اور جنگ میں قیدی ہوتے ہیں، جس کا مطلب سیاسی، مالی یا عسکری کوشش ہے۔ نیز جنگ اپنے پیچھے لا پتہ افراد بھی چھوڑ جاتی ہے، جس کا مطلب سماجی بے چینی اور معاشرتی اضطراب ہے۔

لہٰذا قائدین کو اپنے کندھوں پر موجود امانت کے حجم کا اِدراک ہونا چاہیے اور انہیں صف کی مضبوطی، حوصلوں کے استحکام اور اعتماد کی بتدریج افزائش کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری سے وابستہ رہنا چاہیے۔ انہیں جن چیزوں کی فراہمی کے لیے بھر پور کوشش کرنی چاہیے وہ یہ ہیں: مضبوط انتظامی امور، اہل ترین اور متحرک عناصر کو ان کی ذمہ داری سونپنا اور خود ان کی نگرانی کرنا۔

میدانی طور پر: جنگ کے دوران باقاعدہ کھانے فراہم کیے جائیں اور جنگی دنوں کے دوران کم از کم ایک گرم کھانا لازماً فراہم ہو، ایسے موزوں لباس اور جوتے مہیا کیے جائیں جو میدانِ جنگ میں سپاہی کے کام کو آسان بنائیں، زخمیوں کے انخلا اور انہیں میدانِ معرکہ سے منتقل کرنے کی مہارت میں تخلیقی انداز اختیار کیا جائے۔

معاشرتی طور پر: کفالت اور مناسب معاش کی فراہمی لازمی ہے، جس میں تقّدم (سنیارٹی/Seniority)، تجربہ اور کیڈرز کو مدِنظر رکھا جائے، محنتی افراد کی قدر دانی انعامات کے ذریعے کی جائے، غنائم کی تقسیم، شہداء کے خاندانوں، بیواؤں اور یتیموں، کی کفالت اور انہیں تنظیمی اتار چڑھاؤ سے دور با عزت زندگی کی فراہمی، زخمیوں کے لیے بہتر طبی نگہداشت، لا  پتہ افراد کی تلاش کے لیے کوششوں میں اضافہ، قیدیوں کی رہائی کے لیے مال کے ذریعے یا لڑائی کے ذریعے یا اغوا کے ذریعے بھر پور کوشش،  وغیرہ۔

٭٭٭٭

ثالثًا: قائدین عملی نمونہ اور رول ماڈل بنیں، محض لیکچر جھاڑنے پر اکتفا  نہ کریں

صفِ اوّل میں رہیں، سپاہیوں کے ساتھ حسی رابطہ قائم کریں اور اپنی گاڑی کی شان و شوکت یا اپنے ہتھیاروں اور ساز و سامان کی چمک دمک سے ان کے دل نہ توڑیں، خصوصاً جب بعض قائدین سپاہیوں کے نزدیک اس حد تک نمونہ بن جائیں کہ وہ افسانہ محسوس ہوں۔

جب تنظیم وجود میں آتی ہے تو قائد پر لازم ہے کہ وہ سامنے سے قیادت کرے، پیچھے سے نہیں، کیونکہ یہ مرحلہ ابھی بہت دور ہے، اسے ان سے زیادہ محنت کرنی ہوتی ہے، وہ ایک میدانی کمانڈر کے مانند ہوتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے سپاہیوں کے لیے عملی نمونہ پیش کرے تاکہ وہ اس کی پیروی کریں، تاکہ اس کی سر زنش یا تعریف بر محل ہو بلکہ ایک مؤثر محرک بن جائے جو اس کے سپاہیوں کو درکار ہوتا ہے، تاکہ ان کے حوصلے بلند اور ان کی ہمت اعلیٰ رہے۔ کمانڈر کے لیے انسانی نفسیات کی گہرائیوں کو سمجھنا نہایت اہم ہے تاکہ وہ اسے بہترین طریقے سے منظم کر سکے، اس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے سپاہیوں اور معاونین کے درمیان مثبت مسابقت کی جبلّت کو متحرک کرے۔

نبی کریم ﷺ سب سے بڑھ کر خوبصورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ (ایک آواز سن کر) خوف زدہ ہو گئے، لوگ آواز کی طرف نکل کھڑے ہوئے، تو نبی کریم ﷺ انہیں اس جگہ سے واپس آتے ہوئے ملے۔ آپ سب سے پہلے آواز (کی جگہ) تک پہنچے، آپ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی (بغیر زین) ننگی پیٹھ پر سوار تھے، آپ کی گردن مبارک میں تلوار تھی اور آپ فر ما رہے تھے: ’’خوف زدہ نہ ہو، خوف زدہ نہ ہو‘۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’ہم نے اس (گھوڑے) کو سمندر کی طرح پایا ہے یا فرمایا: یہ تو سمندر ہے‘‘۔ اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔

قائد اور کمانڈر کی بلند حِسِّ معنوی اور حوصلہ متعدی ہوتا ہے، اور بطورِ قائد آپ خود رفتار (Rhythm) متعین کرتے ہیں، لہذا اسے سپاہیوں پر نہ چھوڑیں۔ اگر معاونین اور سپاہی یہ جان لیں کہ آپ خود کسی بھی قربانی کے لیے تیار ہیں تو وہ اس میں سبقت کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے، لیکن اس کے برعکس معاملہ بھی درست ہے۔ اپنے آپ کو عملی نمونہ اور رول ماڈل بنانا، کام کے لیے درست رفتار قائم کرنے اور حوصلے بلند کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جب معاونین اور سپاہی آپ کے اخلاص اور مقصد کے لیے آپ کی وابستگی دیکھتے ہیں تو وہ آپ کے بلند حوصلے، روحانیت اور آپ کی ذاتی قربانی سے توانائی حاصل کرتے ہیں، وہ آپ کے معیار تک پہنچنے کے لیے آپ سے سبقت کریں گے اور آپ انہیں اپنے پیچھے دوڑتے پائیں گے۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ مقصد تلاش کریں، اپنے سپاہیوں کے ارادوں کو یکجا کریں اور انہیں اس کے حصول کے لیے ہم آہنگ بنا دیں۔

امام مسلم نے اپنی صحیح میں غزوۂ حنین کے بارے میں روایت کیا ہے۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’اللہ کی قسم! جب لڑائی شدت اختیار کر جاتی تو ہم آپؐ کی اوٹ لیتے تھے اور ہم میں سے بہادر وہ ہوتا جو آپؐ کے، یعنی نبی کریم ﷺ کے ساتھ قدم ملا کر کھڑا ہوتا‘‘۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لیڈر اور قائد ایک بت میں بدل جاتا ہے۔ اگر لیڈر پر فخر اور حسد غالب آ جائیں تو یہ تسلّط [آمریت] کے راستے کا آغاز ہے۔ وہ بعض کیڈرز اور بہادروں کے نمایاں ہونے سے جلنے لگتا ہے اور انہیں نظر انداز کرنا یا سپاہیوں کی نظروں سے دور محض مشیروں میں تبدیل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہاں لیڈر نے ٹوٹ پھوٹ اور اختلافات کے بیج بو دیے ہوتے ہیں اور اُس تنظیم کے خاتمے کی تاریخ متعین ہو جاتی ہے جس کی طویل عمر کبھی متوقع تھی۔ پس لیڈروں اور قائدین پر لازم ہے کہ وہ اطاعت، تجرد اور صالح صحبت کے ذریعے خود پر محنت کریں۔

٭٭٭٭

چہارم: جوش و جذبہ بیدار کرنا، اسے برقرار رکھنا اور اس کی چنگاری کو روشن رکھنے کی منصوبہ بندی کرنا، ساتھ ہی آگے بڑھتے وقت رفتار ر و اعتدال اختیار کرنا

سستی اور جمود جوش و جذبے کے قاتل ہیں، اس لیے سپاہیوں کا اگلے ہدف کی جانب حرکت اور سرگرمی کی حالت میں رہنا ضروری ہے3کچھ فوجیں اپنے سپاہیوں کی توانائی کو فضول کاموں میں ضائع کرتی ہیں جن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ ان کی توانائی کو خرچ اور ضائع کیا جائے تاکہ وہ ناکام قیادت کے خلاف غصے میں تبدیل نہ ہو۔۔ اسلام روح اور جسم دونوں کو مخاطب کرتا ہے اور جذبات کو بھڑکانا، نہ تو فریب ہے اور نہ ہی اداکاری۔ بلکہ روح اور نفس کو اس بات کے لیے تیار کرنا ہے کہ وہ جس چیز پر ایمان رکھتا ہے اس کی تکمیل کے لیے پوری قوت صرف کرے۔ صرف سچے قائدین ہی ترغیب دینے اور جوش و جذبہ ابھارنے کے فرض کو احسن طریقے سے ادا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْكِيْلًا؀ (سورۃ النسآء: ۸۴)

’’لہٰذا تم اللہ کے راستے میں جنگ کرو، تم پر اپنے سوا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں مومنوں کو ترغیب دیتے رہو، کچھ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کا زور توڑ دے۔ اور اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست ہے اور اس کی سزا بڑی سخت۔‘‘ 

اور جوش و جذبے کی آگ کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیم اسپرٹ کو پروان چڑھانا، اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور ٹیم سے وابستگی کا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، نیز سپاہیوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کسی ایسے دستے یا گروہ میں شامل ہوں جس کی خاص صلاحیتیں ہوں، فتوحات سے بھر پور ریکارڈ ہو، اور جس کا شعار، پرچم، وردی اور ایسی علامتیں ہوں جو نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچیں اور انہیں اس کے ارکان ہونے پر فخر کا احساس دلائیں۔

ٹیم کی روح بنیادی تربیت کے ذریعے بھی پروان چڑھتی ہے، کیونکہ تربیتی کیمپ (معسکر) میں آنے والا ہر نیا دستہ پہلے ہی دن سے لے کر شہادت یا تمکین (فتح) حاصل کرنے تک خود کو ہتھیاروں اور جدوجہد کا ساتھی سمجھتا ہے اور جوں جوں وہ اگلی تربیتوں میں اکٹھے آگے بڑھتے ہیں، ان کے اندر یہ احساس گہرا ہوتا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی ہم آہنگ ٹیم ہیں جو اپنی صلاحیتوں اور اپنے ممکنہ کاموں کو جانتی ہے۔ جتنا زیادہ تربیت سنجیدہ اور مضبوط ہوتی ہے اتنا ہی ان کے درمیان اعتماد بڑھتا ہے اور فرد کی ٹیم کے لیے اور ٹیم کی فرد کے لیے جان نثاری اور قربانی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ یہ ایمان اور مسؤولیت (ذمہ داری) ہے، ہتھیاروں کے بھائی چارے کا رشتہ مضبوط ترین رشتوں میں سے ایک ہے۔

ہتھیاروں کی بہتری اور ان کا معیار بھی سپاہیوں کے حوصلے کو دو چند کر دیتا ہے، مثلاً طیارہ شکن ہتھیار کی موجودگی اس کے مقابلے میں بے بسی کے احساس کو دور کر دیتی ہے اور دشمن کی فضائی قوت کو غیر مؤثر بنانے کے اطمینان کے ساتھ سپاہیوں کو جوش و جذبے سے آگے بڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔

ہر ٹیم اپنے مقصد پر یقین رکھنے والے افراد کے ایک گروہ سے تشکیل دی جاتی ہے، جو اس مقصد کی خاطر قربانی دینے کے لیے آمادہ ہو۔ انہیں ایک ورکنگ ٹیم (Working Team) میں جمع کیا جا سکتا ہے اور وہ خود بھی ایک ورکنگ ٹیم تشکیل دے سکتے ہیں۔ گوریلا جنگ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مشترک صفات رکھنے والے افراد کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ نظم و ضبط کے پابند ہو سکتے ہیں یا وہ افراتفری اور انتشار کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، البتہ اہم صفت یہ ہے کہ جو ذمہ داریاں انہیں سونپی جائیں وہ انہیں بہترین طریقے سے ادا کرنے کا عزم رکھتے ہوں۔ یہ گروہ فوج کے حوصلے بلند رکھتے ہیں اور اُس دستے کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں جسے (آج کل) سپیشل فورسز کہا جاتا ہے۔ مختصراً، ٹیم بنائی بھی جا سکتی ہے یا خود بخود بھی وجود میں آ سکتی ہے، اہم بات اس کی اچھی دیکھ بھال ہے تاکہ اس کی کوششوں سے بہترین فائدہ اٹھایا جا سکے۔

چار بہادر سپاہی جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے، شیر پر حملہ نہیں کر سکتے، جبکہ چار سپاہیوں کی ایک ٹیم جو ان سے کم بہادر ہو، مگر ایک دوسرے کو جانتی ہو اور اس بات پر اعتماد رکھتی ہو کہ وہ ایک دوسرے پر بھروسہ کر سکتے ہیں، تو وہ دلیری سے حملہ کرے گی۔ یہی فوجوں کی تنظیم کے علم کا نچوڑ ہے۔4فرانسیسی کرنل چارلس آردن ڈو پیک (French Colonel Charles Ardant du Picq 1821-1870)

٭٭٭٭

پنجم: حلم (بردباری) اور حزم (احتیاط) کو یکجا کریں

بردبار، عادل اور محتاط رہیں، اور جزا و سزا کے درمیان بہترین توازن قائم رکھیں، کیونکہ کسی بھی سبب سے انعامات کی کثرت ان کے مقصد کو خراب کر دیتی ہے اور سزا کی زیادتی حوصلے کو تباہ کر دیتی ہے۔ عدل کی درست پابندی معاشرے کو سلامتی، فوج کو قوت اور حکومت کو ہیبت و وقار عطا کرتی ہے۔

جزا و سزا کے نظریے کا معیار یہ ہے:

  1. حق، عدل اور انصاف کی پیروی کرنا۔

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا  ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا؀ (سورۃ النسآء: ۵۸)

’’یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔‘‘ 

2. نیکی کرنے والے سے کہنا کہ تم نے اچھا کیا، اور برائی کرنے والے سے کہنا کہ تم نے غلط کیا۔

هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ۝ (سورۃ الرحمن: ۶۰)

’’اچھائی کا بدلہ اچھائی کے سوا اور کیا ہے؟‘‘

3. سچائی نہ کہ خوشامد۔

اللهم إني أبرأ إليك مما صنع خالد

رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد﷜ کی اجتہادی خطا پر فرمایا: ’’اے اللہ میں خالد کے فعل سے بری ہوں‘‘۔

4. دلوں کو جوڑنا نہ کہ ضمیروں کو خریدنا۔

وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ  ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۭاِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ؀ (سورۃ الانفال: ۶۳)

’’اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کر دی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کر لیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقیناً اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ ‘‘

5. مدارات اختیار کرنا، نہ کہ مداہنت دکھانا۔

مدارات کا معنی ہے  دین کے فائدے کے لیے دنیا کو خرچ کرنا اور اس کے برعکس مداہنت سے مراد ہے  دنیا کے فائدے کے لیے دین کو بیچ دینا۔

6. سزا دینا، نہ کہ انتقام لینا۔

مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا  ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ؁ (سورۃ الانعام: ۱۶۰)

’’ جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا ثوب ہے اور جو شخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تو اس کو صرف اسی ایک بدی کی سزا دی جائے گی، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔‘‘ 

کیونکہ مقصد رویّے کی اصلاح، جرم کے مرتکب کو باز رکھنا، اس کے دوبارہ وقوع کو یقینی طور پر روکنا اور دوسروں کو ڈرانا اور نصیحت کرنا ہے۔

لوگ حقوق میں برابر ہیں، لہذا جانبداری (امتیازی سلوک) کی کوئی گنجائش نہیں، ایمان، عدل اور صلاحیت وہ صفات ہیں جو اہلیت (Merit) رکھنے والوں کو کردار، مشن و ذمہ داری حتیٰ کہ القاب تک عطا کرتے ہیں۔

بخاری شریف میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کی لڑائی کے دن ارشاد فرمایا:

’’کل میں ایسے شخص کے ہاتھ میں یہ جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول بھی محبت رکھتے ہیں۔‘‘

اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب﷢ کو ان کے فطری اوصاف کے مطابق القاب اور کنیتیں عطا فرمائیں:

امینِ اُمت(امت کا امین)، صدیق (تصدیق کرنے والا)، فاروق (حق و باطل میں فرق کرنے والا)، ذوالنورین (دو نور والا)، تاجرُالرحمن (رحمٰن کا تاجر)، اسدُاللہ (اللہ کا شیر)، سیفُ اللہ (اللہ کی تلوار)، اسد فی براثنہ (شیر اپنے پنجوں کے ساتھ)، مؤذنِ رسول، خطیبِ انصار، سفینہ (کشتی)، ذاتُ النطاقین (دو کمر بند والی)، اور خود رسول اللہ ﷺ الصادقُ الامین (سچے اور امانت دار) کے لقب سے معروف ہوئے۔

قرآنی تربیت ہمیں ہمیشہ ترغیب کو ترہیب (ڈرانے) پر مقدم رکھنے کی رہنمائی کرتی ہے، کیونکہ اجر و ثواب لوگوں کا ہاتھ تھام کر انہیں نیکی پر ابھارتا ہے، البتہ سزا بھی ضروری ہے، کہ بعض لوگوں کے لیے کوڑے کا دیکھ لینا ہی کافی ہوتا ہے اور بعض کے لیے لازم ہے کہ کوڑا ان کی جِلد کو چُھوئے۔ پس لشکر کے کمانڈر کو چاہیے کہ وہ حلیم و بردبار بھی ہو اور حازم و محتاط بھی، کسی کے ساتھ جانبداری نہ کرے اور لوگوں کو ان کی صلاحیت اور محنت (Competence and Devotion) کے مطابق مقدم و مؤخر رکھے (ترقی و تنزلی کا فیصلہ کرے)۔

٭٭٭٭

ششم: افواہوں اور جوابی پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں، گرتے ہوئے حوصلے کے خلاف مزاحمت کریں، ایک نئی عوامی رائے تشکیل دیں۔

افواہیں اور سیاہ پروپیگنڈا ذیل میں بیان کئے گئے عوامل سے تقویت پاتے ہیں: قیادت کی عدم وضاحت، معاہدات کی رازداری، الفاظ و مواقف کی دھندلاہٹ و ابہام، ان کی حقیقت سے ملتے جلتے تاریخی یا معاصر واقعات سے شواہد کی غلط مثالیں بیان کرنا اور ناقص حوالے دینا۔ افواہوں اور سیاہ پروپیگنڈے کا مقابلہ قائد، اس کے قریبی رفقاء اور اس کی شوریٰ کی نیک نیتی سے کیا جاتا ہے اور اس بات سے کہ وہ خود ان چیزوں میں نہ پڑیں جو ہم نے اوپر بیان کیں ہیں اور جو افواہوں کو غذا دیتی ہیں۔ نیز افواہوں کا مقابلہ افواہیں پھیلانے والوں اور حوصلہ شکنی کرنے والوں کے ساتھ سختی، انہیں جلد از جلد الگ تھلگ کرنے اور انتہائی پابند، منضبط اور پُرجوش عناصر کو آگے لانے سے بھی کیا جاتا ہے،  یہی لوگ ان افواہ ساز حوصلہ شکنی کرنے والوں کے مقابل ایک ڈھال ہوں گے۔

الفاظ، چاہے وہ جوابی افواہیں ہوں یا حوصلہ افزا ترغیبی الفاظ، یا ایسے الفاظ جو تکبر اور کھوکھلے فخر کے رویّوں کے ساتھ ہوں جو سپاہیوں کو باہر سے متاثر کرتے ہیں، جو جذبات کو چھوتے ہیں اور شاید خواہشِ نفس کو بھی، مگر ایمان کو نہیں چھوتے۔ ابوجہل متکبرانہ فخر کے ساتھ خطیب بن کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا:

’’واللہ ہم واپس نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ بدر پہنچیں، وہاں تین دن قیام کریں، اونٹ ذبح کریں، کھانا کھلائیں، شراب پلائیں، گانے والیاں ہمارے لیے ساز بجائیں اور عرب ہم سے، ہمارے سفر اور ہمارے اجتماع سے باخبر ہوں، پھر وہ ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں گے‘‘۔

وہ کلمات جو قیادت کے ایمان افروز مواقف کے ساتھ ہوں اور جو دل سے اور سچائی و تواضع کے ساتھ نکلتے ہوں، وہ دلوں کو اندر سے متاثر کرتے ہیں خصوصاً مشکل ترین اوقات میں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن مقداد﷜ کے سوا ہم میں سے کوئی بھی گھوڑے پر سوار نہیں تھا اور (رات کے پڑاؤ کے دوران) ہم میں سے کوئی بھی نہیں جاگ رہا تھا سوائے رسول اللہ ﷺ کے جو درخت کے نیچے کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور روتے جا رہے تھے یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور جب ملاقات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے خطاب کیا، جس میں فرمایا:

’’اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمان و زمین ہے جو متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘۔

گرتے ہوئے حوصلے [یعنی مایوسی، نااُمیدی اور بے بسی] کا مقابلہ کرنا: ایک بُرا اور نکمّا کمانڈر اپنے ماتحتوں (کیڈرز)اور اپنی ہیئتِ ارکان (اسٹاف) کو مایوسی کی ایسی حالت میں مبتلا کر دیتا ہے جو سستی اور نااُمیدی کا باعث بنتی ہے، یوں ان کے اندر بیک وقت متضاد کیفیت پیدا ہو جاتی ہے [یعنی انقلابی جوش اور جمود]۔ یہاں اس کمانڈر کی تبدیلی نا گزیر ہے جس کے پروگرام نے یہ حالت پیدا کر دی اور بعد ازاں جس کے نتیجے میں شکستیں ہوئیں۔ نئے کمانڈر کو اپنے ماتحتوں (کیڈرز) اور سپاہیوں میں ازسرِنو اعتماد قائم کرنے کے لیے توانائی کے ذرائع تک پہنچنے کا بالواسطہ اسلوب اختیار کرنا چاہیے اور انہی کے ذریعے انہیں متحرک کرنا چاہیے۔ اسے میدان میں انہیں دوبارہ تربیت دینی چاہیے اور تمام سطحوں کے درمیان باہمی رابطہ بڑھانا چاہیے، اور ان مثبت مفاہیم پر گفتگو کرنی چاہیے جو ایک عرصے سے غائب رہے ہیں، جو اصولوں سے وابستگی رکھتے ہیں اور شجاعت، وفاداری اور مردانگی کو نمایاں کرتے ہیں، توانائی کو متحرک کرتے ہیں اور جوش و جذبے کو بھڑکاتے ہیں، اور ان منفی تصورات پر بات کرنے سے گریز کرے جو کرنے والے کو رسوائی اور عار سے دوچار کرتے ہیں۔ سپاہیوں کے گروہوں (مجموعات) کی ایک اجتماعی شخصیت ہوتی ہے، اچھے انداز میں رہنمائی سے اس کی مثبت مضبوطی وقت کے ساتھ بڑھتی ہے، لیکن اس کے برعکس معاملہ بھی درست ہے۔ فعالیت اور سرگرمی پر زور دیں کیونکہ یہ کامیابی تک لے جاتی ہیں؛ اور کامیابی حوصلے بلند کرتی ہے اور یہی مطلوب ہے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک باصلاحیت، متاثر کن، کامیاب، تخلیقی و اختراعی اور تجدیدی کمانڈر تھے۔ معرکۂ مؤتہ میں قیادت سنبھالنے کے بعد ناکامی ان کے قدموں تک نہ پہنچ سکی اور وہ اپنے سپاہیوں کی نظر میں ایک عسکری افسانہ (Legend) بن گئے۔ ان کے سپاہیوں نے محسوس کیا کہ وہ بھی اس افسانے (Legend) کا حصہ ہیں، اس لیے وہ اللہ کی طرف سے حضرت خالد﷜ کی تائید پر ایمان و اعتماد کے ساتھ ان کے ہمراہ رہے، حالانکہ خالد نہ تو خود سوتے تھے اور نہ دوسروں کو سونے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے سپاہیوں کو ناز و نعم سے بگاڑا نہیں، نہ ہی اہلِ صلاحیت کے علاوہ کسی کو اپنے قریب آنے دیا۔ وہ زاہد تھے، اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسی کے طالب تھے، وہ ہمیشہ اپنے سپاہیوں سے عزت و مردانگی کی بات کرتے تھے اور نفسانی لالچ کو مخاطب نہیں کرتے تھے۔ جب وہ کسی کو انعام دیتے یا ترقی دیتے تو وہ استحقاق (Merit) کی بنیاد پر ہوتی، نہ کہ قبائلی یا سیاسی حساب کتاب پر۔ خالد﷜ نے ہمیشہ آگے بڑھ کر قیادت کی، ان کے ہاتھ میں تلواریں ٹوٹیں اور انہوں نے سپاہیوں کے درمیان جوش و فدائیت کی ایسی کیفیت پیدا کر دی کہ وہ دلیری میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگے۔ حضرت خالد﷜ کی جنگوں کا مطالعہ کرنے والا دیکھتا ہے کہ خالد﷜ میں قیادت کی صفات کا ایسا سبق ہے کہ صفحات کے صفحات ان صفات کو سمو نہیں پاتے اور حروف اظہار سے عاجز ہو کر بھٹک جاتے ہیں۔ چنانچہ خالد﷜ کے متعلق حضرت ابوبکر﷜ نے فرمایا: عورتیں خالد﷜جیسے لوگوں کو جنم دینے سے عاجز رہیں، حضرت عمر﷜ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ: ابوبکر﷜ پر رحم فرمائے، وہ لوگوں کو مجھ سے بہتر پہچانتے تھے،  اور حضرت عمر﷜ نے فرمایا: خالد جیسے لوگوں پر ہی رونے والے روئیں۔

٭٭٭٭

جنگ ارادوں کا تصادم ہے، خواہ وہ سرد جنگ ہو یا گرم۔ جنگ صرف مسلح قوتوں کے درمیان واقع نہیں ہوتی بلکہ قوموں کے درمیان وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اللہ پر ایمان حوصلے اور روحِ معنوی کا جوہر اور ارادے کا منبع ہے۔ یہ ایک روحانی، ایمانی، ذہنی اور نفسیاتی کیفیت ہے جو جرأت اور امید کو مضبوط کرتی ہے اور ٹیم اسپرٹ، وحدت سے محبت اور عزم و استقلال میں مجسم ہوتی ہے۔ ٹیم اسپرٹ دین، قیادت، نظم و ضبط، عزتِ نفس، خود داری اور محرکات و اسباب کے عدل پر پختہ یقین سے پھوٹتی ہے۔ جو فریق حوصلے اور معنوی قوت کو برقرار رکھتا ہے وہ تمام رکاوٹوں کے باوجود کامیابی سے آخر تک پیش قدمی کر سکتا ہے، لیکن اگر یہ معنوی و روحانی قوت اور حوصلہ کھو جائے تو تمام منصوبے، اقدامات اور صلاحیتیں بے کار ہو جاتی ہیں۔

بلند حوصلے فوج کی کارکردگی کو دوگنا کر کر دیتے ہیں اور مجاہد کی صلاحیتوں کو اپنے سے دگنے دشمنوں سے برتر بنا دیتے ہیں، بلکہ اس کی برتری دس بلکہ شاید ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا  مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ؀ اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا  ۭفَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفَيْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ  ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ؀  (سورۃ الانفال: ۶۵، ۶۶)

’’اے نبی ! مومنوں کو جنگ پر ابھارو۔ اگر تمہارے بیس آدمی ایسے ہوں گے جو ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔ اور اگر تمہارے سو آدمی ہوں گے تو وہ کافروں کے ایک ہزار پر غالب آ جائیں گے، کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔   اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کر دیا، اور اس کے علم میں ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزوری ہے۔ لہٰذا (اب حکم یہ ہے کہ) اگر تمہارے ثابت قدم رہنے والے سو آدمی ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے، اور اگر تمہارے ایک ہزار آدمی ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آ جائیں گے، اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘‘

اور صحابہؓ کے بعض سوار جنگ میں ایک ہزار آدمیوں کے برابر شمار ہوتے تھے، ان میں حضرت زبیر﷜ بن العوام، حضرت محمد﷜ بن مسلمہ، حضرت مقداد﷜ بن الاسود، حضرت عبادہ﷜ بن الصامت، حضرت مسلمہ﷜ بن مخلد، حضرت خارجہ﷜ بن حذافہ اور حضرت طلحہ﷜ بن خویلد الاسدی سب شامل ہیں۔

ہمیں سچے مومنوں کی ضرورت ہے جو نماز قائم کرتے ہیں، اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں، گمانوں اور حوادث نے جو کچھ بگاڑا ہے اسے درست کرتے ہیں، اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں، اور جب وہ اسے یاد کرتے ہیں تو ان کے دل لرز اٹھتے ہیں، جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پس وہ اللہ پر بہترین توکل کرتے ہیں، جب وہ اللہ سے فریاد کرتے ہیں تو وہ ان کی دعا قبول کرتا ہے، انہیں بشارت دیتا ہے، ان کے دلوں کو مضبوط کرتا ہے، ان کے قدم جما دیتا ہے اور انہیں سکھاتا ہے:

وَاتَّقُوا اللّٰهَ   ۭ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ  ۭ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ؁ ّ(سورۃ البقرۃ: ۲۸۲)

’’اور اللہ کا خوف دل میں رکھو، اللہ تمہیں تعلیم دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ‘‘

اللہ سے اور اللہ کے دین سے حقیقی وابستگی امت کی وحدت کو جنم دیتی ہے، جبکہ کسی صحیح مرجعیت (مضبوط اتھارٹی) کے التزام کے بغیر افراد یا تنظیموں کے پیچھے اندھا دھند چلنا، ایک تنظیم کی سطح پر صفوں میں انتشار پیدا کرتا ہے، جبکہ متعدد فعال تنظیموں کی سطح پر، مستقبل میں اتحاد کے تصور کو معدوم کر دیتا ہے۔ یہاں ان باتوں سے تنظیموں یا جماعتوں کی تحقیر ہمارا مقصود نہیں ہے، ایسا وہی لوگ کہتے ہیں جن کا تبدیلی کے منصوبوں میں کوئی حصہ نہیں۔ بلکہ ہمارا مقصود یہ ہے کہ فرد، تنظیم اور جماعت سب کی وفا داری، وابستگی اور مرجعیت اللہ اور اس کے دین کے ساتھ ہونی چاہیے جسے اس نے پسند فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا    ۭ (سورۃ المآئدۃ: ۳)

’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کر لیا ۔‘‘

یہاں سے اور صرف یہیں سے، دل مطمئن ہوتے ہیں کہ یہ سفر درست اور صحیح (سمت میں) ہے، اور سنتیں باقی رہتی ہیں، اور اسباب بھی باقی رہتے ہیں۔

اور خوش خبری سن لو اے اللہ کے بندو! امام احمد نے اپنی مسند میں تمیم داریؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’یہ دین ضرور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں، اور اللہ نہ کسی کچے گھر کو چھوڑے گا اور نہ کسی اون کے خیمے کو، مگر یہ کہ اللہ اس دین کو اس میں داخل کر دے گا، یا تو کسی باعزت کی عزت کے ساتھ، یا کسی ذلیل کی ذلت کے ساتھ، وہ عزت کہ اللہ جس کے ذریعے اسلام کو سربلند کرے گا، اور وہ ذلت کہ اللہ جس کے ذریعے کفر کو ذلیل کرے گا۔‘‘

٭٭٭٭

(ہاں یہ بھی یاد رکھو کہ) اگر ہم فتح حاصل نہ کر سکیں اور نتیجہ اس کے برعکس نکل آئے تو خبردار! اس پر پردہ نہ ڈالنا اور نہ ہی اس کے بنیادی اسباب سے انکار کرنا۔ مضبوطی سے اٹھ کھڑے ہونے کے لیے غلطیوں کی اصلاح پر کام شروع کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ دوبارہ ان کے شکنجے میں نہ آئیں اور شکست کے سبق سے مستقبل کی فتح کے بیج بوئیں، نہ کہ ناکامی کی ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کر کے (اگلی شکست کا انتظار کریں)۔

معرکۂ ’’حمراء الاسد‘‘ وہ عنوان ہے جس پر میں لکھنا چاہتا ہوں، یہاں اس کے واقعات درج کیے جا رہے ہیں تاکہ آپ ان سے یہ اخذ کر سکیں کہ کسی بھی خسارے کے بعد کیسے اٹھنا ہے:

چنانچہ غزوۂ  اُحد کے سانحے کے بعد اگلے دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ کو حکم فرمایا کہ وہ اعلان کریں: ’’بے شک رسول اللہ ﷺ تمہیں اپنے دشمن کے تعاقب کا حکم دیتے ہیں اور ہمارے ساتھ وہی نکلے گا جو کل لڑائی میں شریک تھا‘‘۔ حالانکہ ان پر گہرے زخم تھے، حتیٰ کہ خود رسول اللہ ﷺ بھی زخمی تھے۔ پس وہ حمراء الاسد میں جمع ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ دن کے وقت انہیں لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دیتے اور جب شام ہو جاتی تو آگ جلانے کا حکم فرماتے، چنانچہ ہر آدمی ایک آگ جلاتا۔ وہ رات کو آگ کے پانچ سو الاؤ روشن کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ دور دراز مقام سے بھی نظر آتی تھی۔ یوں مسلمانوں کے لشکر اور ان کی آگ کا چرچا ہر سمت پھیل گیا، حتی کہ یہ ان اسباب میں سے تھا جن کے ذریعے اللہ نے ہمارے دشمن کو زیر کر دیا۔

اور قریش بھی اپنے دل میں یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ جلدی میں نکل آئے اور کوئی خاطر خواہ کام انجام دیے بغیر واپس ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ معبد بن ابی معبد ان سے آ ملا۔ اس نے ابو سفیان اور قریش کو روحاء کے مقام پر پایا، وہ ایک دوسرے کو ملامت کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ’’نہ تو تم نے محمد (ﷺ) کو پایا اور نہ ہی جوان لونڈیوں کو اپنے ساتھ لے جا سکے، تم نے بہت برا کام کیا، پس وہ سب واپسی پر متفق ہو چکے تھے‘‘۔ اور عکرمہ بن ابی جہل نے کہا: ’’ہم نے کچھ نہیں کیا، ہم نے ان کے اشراف کو قتل کیا پھر واپس لوٹ آئے اس سے پہلے کہ انہیں جڑ سے اکھاڑ دیتے، اس سے پہلے کہ انہیں دوبارہ قوت حاصل ہو‘‘۔ معبد جب ابو سفیان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: ’’یہ معبد ہے اور اس کے پاس خبر ہے، اے معبد! تمہارے پاس کیا خبر ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’میں محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو اپنے پیچھے چھوڑ آیا ہوں، وہ تم پر آگ کی مانند غصے میں جل رہے ہیں اور ان کے ساتھ کل پیچھے رہ جانے والے اوس اور خزرج کے لوگ بھی جمع ہو چکے ہیں، انہوں نے عہد کر لیا ہے کہ وہ واپس نہیں لوٹیں گے جب تک تمہیں جا نہ پکڑیں اور تم سے بدلہ نہ لے لیں، وہ اپنی قوم کے لیے اور اپنے اُن اشراف کے لیے جنہیں تم نے قتل کیا ہے سخت غضب ناک ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا: ہلاکت ہو تجھے! تو کیا کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نہیں سمجھتے کہ ہم کوچ کریں یہاں تک کہ (ان کے) گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھ لیں۔ اور ان باتوں میں سے جن کے ذریعے اللہ نے ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کو واپس پلٹا دیا، صفوان بن امیہ کا وہ کلام بھی تھا جو اس نے معبد کے آنے سے پہلے کہا تھا، اس نے کہا: ’’اے لوگو! ایسا نہ کرو، بے شک وہ لوگ غمگین ہو چکے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ وہ خزرج میں سے پیچھے رہ جانے والوں کو تمہارے خلاف جمع نہ کر لیں، پس واپس لوٹ جاؤ، فتح تمہاری ہے، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم لوٹے تو کہیں فتح تمہارے خلاف نہ ہو جائے‘‘۔ اور ابو سفیان کے پاس عبد القیس کے چند آدمی گزرے جو مدینہ جا رہے تھے، تو اس نے کہا: ’’کیا تم محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں تک وہ بات پہنچا دو گے جس کے لیے میں تمہیں بھیج رہا ہوں، اس شرط پر کہ میں کل عکاظ میں تمہارے اونٹوں کو کشمش سے بھر دوں، اگر تم میرے پاس آؤ؟‘‘ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: ’’جہاں کہیں تم محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں سے ملو، انہیں بتا دینا کہ ہم نے ان کی طرف دوبارہ پلٹ کر آنے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے‘‘۔

یہ ان دونوں لشکروں کی حالت تھی۔ ان میں سے ایک زخمی تھا مگر اپنے دشمن کا تعاقب کرنے کا خواہاں، اور دوسرا خیالات میں گھرا ہوا تھا اور فرار پر متفق ہو چکا تھا۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کی اس حالت کو اپنے اس فرمان کے ذریعے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا:

اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ  لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ؁ اَلَّذِيْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِيْمَانًا ڰ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ؁ فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْھُمْ سُوْۗءٌ  ۙ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍ؁(سورۃ آل عمران: ۱۷۲- ۱۷۴)

’’وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار کا فرمان برداری سے جواب دیا، ایسے نیک اور متقی لوگوں کے لیے زبردست اجر ہے۔   وہ لوگ جن سے کہنے والوں نے کہا تھا : یہ ( مکہ کے کافر) لوگ تمہارے ( مقابلے) کے لیے (پھر سے) جمع ہو گئے ہیں، لہٰذا ان سے ڈرتے رہنا، تو اس (خبر) نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بول اٹھے کہ : ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔    نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل لے کر اس طرح واپس آئے کہ انہیں ذرا بھی گزند نہیں پہنچی، اور وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔ ‘‘

اسی جذبے کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ﷢ کو متحرک کیا، ان کے حوصلے بلند کیے اور غزوۂ اُحد میں جو کچھ وہ کھو بیٹھے تھے وہ انہیں واپس دلایا، اور اللہ کی جانب سے آنے والا یہ جواب ان کے شکستہ دلوں کا مداوا اور ان کے زخموں کا مرہم بن گیا، چنانچہ اللہ نے ان سے اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا، ان کے ایمان کی خوبی کو واضح کیا اور ان کے عمل پر ان کی تعریف فرمائی۔ یوں غزوۂ احد (میں اٹھائے گئے نقصان) کے اثرات مٹ گئے، حوصلے بحال ہوئے، روحِ معنویہ واپس آ گئی، اور تکلیفوں اور زخموں کی کوکھ سے فتح کے بیج بو دیے گئے۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

  • 1
    مالی بنیاد سب کے لیے ایک ہی ہے، پھر اس کے بعد اس کے زیرِ کفالت افراد کی تعداد کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اگلا مرحلہ تقّدم (سنیارٹی/Seniority) کا ہے، پھر تجربہ کار اور ماہر افراد کو ترجیح دی جاتی ہے، یہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنت ہے جب انہوں سابقین اولین اور بعد میں آنے والوں کے درمیان فرق کیا۔
  • 2
    امت کی موجودہ حالت اور داعیان و مبلغین کا فرض کہ وہ حوصلہ بڑھائیں، شیخ محمد المنجد کے دروس۔
  • 3
    کچھ فوجیں اپنے سپاہیوں کی توانائی کو فضول کاموں میں ضائع کرتی ہیں جن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ ان کی توانائی کو خرچ اور ضائع کیا جائے تاکہ وہ ناکام قیادت کے خلاف غصے میں تبدیل نہ ہو۔
  • 4
    فرانسیسی کرنل چارلس آردن ڈو پیک (French Colonel Charles Ardant du Picq 1821-1870)
Previous Post

خطوط سُوئے مغربِ اسلامی

Next Post

مدرسہ و مبارزہ | چودہویں قسط

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جون و جولائی 2026

3 جولائی 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | پندرہویں قسط

3 جولائی 2026
چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ

3 جولائی 2026
غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)
غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | پانچویں قسط

3 جولائی 2026
پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | سترہویں قسط

3 جولائی 2026
Next Post
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط

مدرسہ و مبارزہ | چودہویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version