ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم حقائق کا بہادری سےسامنا کریں اور حقائق سے نظریں نہ چرائیں۔پس یہ بات مسلَّم ہے کہ القدس کے کھونے اور اس میں ہونے والے واقعات کا انتہا ئی اہم سبب ہم خود ہیں۔ہماری اپنی غیر ذمہ داری ، القدس کے معاملے سے دست برداری،دنیا کی محبت ،اپنے بچاؤ میں ہی عافیت سمجھنا، اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینا اور سارا الزام امریکیوں اور یہود کویا ہم پر ان کے مسلط کردہ حکمرانوں کو ہی دینا، القدس کو کھونے کے اہم اسباب ہیں۔ہم اس لیے القدس کو کھونے کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ ہم نے امریکہ،یہود اور ان کے پروردہ حکمرانوں کے خلاف جہاد کی بجائے ان کی اطاعت اختیار کر لی ۔ ہم نے غلامی کو قبول کیا جو ہمارے کچھ لوگوں کے اندر رچ بس گئی اور نسل در نسل ان کو وراثت میں ملی۔ یہاں تک کہ ہمارے اندر سے ایسے لوگ نکلے جو کفار سے قربت اور ان کے ساتھ سلامتی ہی سے پیش آنے کے مناہج کی پیروی کرنے لگے جس کی ناکامی کا انہیں خود بھی یقین ہے۔ بات یہاں تک آ پہنچی کے ہم میں سے ایسے لوگ نکلے جو کہتے ہیں کہ امریکہ کے خلاف جہاد فساد ہے۔ حالانکہ امریکہ اپنی فوجوں کو مسلمان ملکوں کی جانب اکٹھاکر چکا ہے ۔ ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کفار کبھی مسلم ممالک پر حملہ آور ہوئے ہی نہیں تھے،جیسے کہ گیارہ ستمبر سے قبل امریکہ کے فوجی اڈے مصر ، اردن اور جز یر ۃ العرب میں تھے ہی نہیں! جیسے ہمیں اس بات کا علم ہی نہ ہو کہ اسرائیل امریکہ سے باہر امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے۔
ہم ہی القدس کو کھونے کا سب سے بڑا سبب ہیں کیونکہ ہم نے اس غلامی کو قبول کیاجس نے ہمیں بتایا کہ ہمارے ملکوں میں مسلط نظام کے ساتھ ٹکرانا منع وحرام ہے یا ہمارے لیے ضروری نہیں کہ ہم ان عرب صہیونیوں (عرب ممالک پر مسلط حکمران )کا مقابلہ کریں بلکہ ضروری ہے کہ ان کے ساتھ امن کے ساتھ رہا جائے اور نرمی کا معاملہ کیاجائے۔ اگر ایسے لوگ سچ بولتے اور اپنے دل کی بات کو ظاہر کر دیتے تو وہ کہتے کہ ’ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کا مقابلہ نہ کریں مگر صرف اس طریقے سے جس سے ہماری نوکری ،تنخواہ ،منصب اوردنیا کے جن ٹکڑوں کے ہم حریص ہیں وہ خراب نہ ہوں‘۔
ہم ہی القدس کو کھونے کا بڑا سبب ہیں کیوں کہ ہم اپنے اندر کے غصے اور کڑھن کو کچھ گھنٹوں کے مظاہروں میں نکالتے ہیں اور پھر لوٹ جاتے ہیں تا کہ ہم اپنی مغلوبیت اور ذلت والی زندگی میں پھر سے مشغول ہو جائیں۔
ہم ہی فلسطین کو کھونے کا سب سے بڑا سبب ہیں کیونکہ ہم میں ایسے بھی ہیں جو صہیونیوں کے ساتھ اتحاد چاہتے ہیں اور انہیں بھائی ،عزت مآب ، شقیق(سگا بھائی) اور ان جیسے دیگر جھوٹے القابات سے پکارتے ہیں جن کے جھوٹے ہونے کا انہیں بھی بخوبی یقین ہے۔
انہی عرب صہیونیوں1 کے بارے میں شاعر کہتا ہے(عربی اشعار کا نثری ترجمہ):
یہ نام نہاد اسلامی قائدین خائن ہیں ،دھوکے کا سر چشمہ ہیں ،یہ کتنے زیادہ مغرور اور نشے میں دھت ہیں۔
یہ حکمران……ان کی حکومت تو بس امریکہ ہی ہے،پس وہ جب بھی انہیں کوئی حکم دیتا ہےتو یہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
جب بھی انہیں امریکہ کوئی منصوبہ دیتا ہے تو یہ اسے ذلیل ہو کر قبول کرتے ہیں اور اگر وہ ان کو سزا سے ڈراتے ہیں تو یہ ڈر جاتے ہیں۔
اور جب بھی عرب میں کوئی غیر متوقع معاملہ پیش آتا ہے تو کانفرنس منعقد کی جاتی ہے اور کانفرس اسی کے گیت گاتی ہے۔
اور جب بھی وہ جمع ہوتے ہیں تو ان کے اوامر دہراتے ہیں، اور جب بھی وہ ان سے کوئی وعدہ کرتے ہیں غدر کرتے ہیں۔
اور جب بھی یہ کسی بات پر اتفاق کر تے ہیں تو وہ اس کے بعد ان سے اختلاف کر لیتے ہیں اور اگر یہ کسی معاملے کو بڑا سمجھتے ہیں تو وہ اس کو حقیر بنا لیتے ہیں۔
اور جب بھی کہاجائے کہ یہ اپنی بھلائی کی طرف لوٹ آئے اور کہا جائے کہ ایمان لے آئے تو یہ اپنے رب کے ساتھ پھر سے کفر کرتے ہیں۔
اور جب بھی ان کے وطنوں میں سکون ہوتا ہے تو وہ اسے خراب کر دیتے ہیں اور اگر یہ کسی راستے پر چلتے ہیں تو وہ اس میں گڑھے بنا دیتے ہیں۔
اور جب بھی یہ جنگ کی دھمکی دیتے ہیں اور اس کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ کامیاب ہو گئے جب کہ یہ اپنی جنگ میں ناکام ہو چکے ہوتے ہیں۔
پس ان کامعاملہ انتہائی عجیب ہےاور ان کی سنجیدگی ہی الٹا کھیل کود ہے ،ان کے وعدے جھوٹے اور ان کا عزم انتہائی پست ہے۔
اے زمانے اور تاریخ کی بد بختی کیا تم اس دنیا سے جا نہیں سکتے کہ جہاں نہ کوئی آنکھ دیکھنے والی ہو نہ کوئی آثار باقی رہیں؟
زمین تم پہ ہر گز نہ روئے گی اور قومیں تمہارے ختم ہو جانے پر ہر گز افسوس نہیں کریں گی بلکہ انسان تمہارے جانے پر خوش ہوں گے۔
اے آزاد قوم عرب! پس اٹھ کھڑی ہو کہ موت سے نہ خوف بچا سکتا ہے نہ ہی کوئی تدبیر
ان تختوں کوتاراج کر دو جن کا عزت و شرف ختم ہو چکا ہے اور ان میں آگ بھڑکا دو کیوں کہ اصل خطرہ انہی سے ہے۔
ہم ہی فلسطین کو کھونے کا سب سے بڑا سبب ہیں کیوں کہ ہم نے جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیا اور ہم اللہ کے راستے میں قتل ہونے ،اپنے گھروں اور وطنوں کو چھوڑنے ،بچوں کے یتیم ہونے اور عورتوں کے بیوہ ہونے سے ڈر گئے،کیوں کہ ہم اپنے اموال اور مناصب کے کھونے اور طویل مدت کے لیےجیلوں میں ڈالے جانے سے ڈر گئے۔ جیسا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول سنا ہی نہ ہو:
يااَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ (سورۃالتوبۃ: ۳۸)
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) کوچ کرو تو تم بوجھ ہو کر زمین سے لگ گئے ؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی پر راضی ہوچکے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو (یاد رکھو کہ) دنیوی زندگی کا مزہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، مگر تھوڑا۔ ‘‘
اور جیسے ہم نے یہ آیات پڑھی ہی نہ ہوں:
وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ ۚ فَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يَّنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَاَوْلٰى لَهُمْ طَاعَةٌ وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ (سورة محمد :۲۰-۲۲)
’’ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کیا اچھا ہو کہ کوئی (نئی) سورت نازل ہوجائے، پھر جب کوئی جچی تلی سورت نازل ہوجائے، اور اس میں لڑائی کا ذکر ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے، تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف اس طرح نظریں اٹھائے ہوئے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو۔ بڑی خرابی ہے ایسے لوگوں کی۔ یہ فرماں برداری کا اظہار اور اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب (جہاد کا) حکم پکا ہوجائے اس وقت اگر یہ اللہ کے ساتھ سچے نکلیں تو ان کے حق میں اچھا ہو۔ پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے ؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ، اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔ ‘‘
ہم ہی القدس کو کھونےکا سب سے بڑا سبب ہیں کیوں کہ ہم میں اس بات کی تشہیر کرنے والے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ جہاد صرف یہود کے خلاف ہی واجب ہے اور ان کے خلاف بھی صرف فلسطین میں ہی واجب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل اور اس کے حریفوں کوفلسطین سے باہر امن میسر آ گیا اور وہ اور بھی بڑھ چڑھ کر اسرائیل کی معاونت کرنے لگے۔اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ فلسطینی اور غیر فلسطینی مجاہدین کا فلسطین سے باہر بھی پیچھا کرنے سے بالکل بھی باز نہ آئے۔ اور اس سے بھی بڑی مصیبت یہ ہوئی کہ ہم میں سے کچھ شیطان کے اس دھوکے میں آگئے کہ جہاد صرف فلسطین میں واجب ہے جبکہ وہ خود فلسطین سے باہر تھے لہٰذا ان پر جہاد واجب نہیں! اور وہ اپنا غصہ کچھ مظاہروں ،کانفرنسوں، مقالوں اور کبھی تو الیکشن کے ڈرامے میں شریک ہو کر نکالتے ہیں۔
کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ یہود پوری دنیا سے اپنے یہودی بھائیوں کی مدد کے لیے جمع ہو رہیں اور ہم اپنے شیشانی بھائیوں اور ان عرب صہیونیوں کے خلاف اپنے بھائیوں کی مدد سے بری ہو جائیں!
کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ یہود اور ان کے حلیف پوری دنیا میں مجاہدین کا تعاقب کرتے ہیں، جہاں بھی مجاہدین پر قدرت پاتے ہیں ان کوقتل کرتے ہیں اور ہم اس خام خیالی میں مبتلا رہیں کہ جہاد صرف اور صرف فلسطین میں ہی واجب ہےیا صرف یہود کے خلاف ہی جائز ہے!!!؟
اے میرے محبوب فلسطین میں بسنے والے ہمارے بھائیو اور اہالیانِ فلسطین!
اسرائیل اور اس کے حلیف ہم سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم دو میں سے ایک بات اختیار کر لیں ، یا تو ہم ان کے سامنے تسلیم ہو جائیں ، ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں، ذلت کے ساتھ رہنا قبول کر لیں ،فلسطین کا یہودی گڑھ ہو جانا تسلیم کر لیں اور مسجد اقصیٰ کا مسمار ہونامان لیں اور یا تو پھر پابندیاں ، آگ اور بموں کی برسات ہے ۔ پس حل یہ ہے کہ اسرائیل ،امریکہ اورعرب صہیونیوں کامقابلہ ان کے یہ حصار توڑ کے کیا جائےجو کہ جہاد کو صرف فلسطین میں محدود کرتا ہے۔
اے فلسطین اور بیت المقدس کے پڑوس میں رہنے والے میرے مجاہد بھائیو! بلا شبہ ہمارا فلسطین کا قضیہ فقط کسی وطن کی آزادی کا قضیہ نہیں بلکہ یہ تو جہاد فی سبیل اللہ کا قضیہ ہےتا کہ دین سارے کاسارا اللہ تعالیٰ کا ہی ہو جائے:
وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ……اور (مسلمانو) ان کافروں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ فتنہ (کفر)باقی نہ رہے، اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔
ہم پر لازم ہے کہ فلسطین میں ہماری جانوں ،مال و اہل کی قربانی اورقید پر صبر …… اسلام کی نصرت ،اللہ تعالیٰ کی شریعت کے قیام اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے ہو جو صرف شریعت کے مطابق ہی فیصلے کرے۔ مومنین سے دوستی کرے اور کافروں سے دشمنی کرے،کمزوروں کی مدد کرے ،عدل کو عام کرےاور شوریٰ کو قائم کرے، نہ کہ ہماری قربانیاں وطن و قوم پرست ،لبرل حکومت کے لیے ہوں جو اکثریت کی خواہشات کے مطابق فیصلے کرے اور ہمارے بھائیوں کی نصرت سے دست بردار ہو جائے۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمین!
1 عرب صہیونی سے شیخ کی مراد عرب حکمران ہیں جو اسرائیل کا دفاع کرتے ہیں۔

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



