گھر کے اندر قدم رکھتے ہی وہ ایک لمحے کوٹھٹک کر رہ گئے۔ صبح گھر سے جاتے ہوئے وہ اسی لاؤنج سے گزر کر نکلے تھے، مگر اب کہیں سے لگ ہی نہ رہا تھا کہ یہ وہی کمرہ ہے۔ پورے کمرے میں جگہ جگہ اصلی و نقلی پھولوں سے آرائش کی گئی تھی۔شیفون، سِلک اور جالی کے رنگ برنگے دوپٹے بڑے قرینے سے مختلف جگہوں سے یوں لٹکائے گئے تھے کہ وہ نہایت حسین تاثر دے رہے تھے۔ کمرے کی چاروں دیواروں پر رنگین برقی قمقموں کی تار بل کھاتی گزر رہی تھی، اور اس پر جلتے بجھتےقمقمے کسی تقریب کی سی فضا پیدا کیے ہوئے تھے۔ وہ حیران نظروں سے اس تمام آرائش و زیبائش کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھے۔ لاؤنج، اس سے متصل چھوٹی سی گیلری، گیلری میں کھلنے والے تمام دروازے بند تھے مگر یہاں انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر دروازے پر لگے آرائشی پھولوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی کارڈ آویزاں تھا جس پر کوئی ننھا سا پیغام تحریر تھا۔ پہلے ہی دروازے پر چسپاں کارڈ پر افشاں رنگ مارکر سے لکھا تھا ’میں پھول ہوں، مجھے مہکنے دو!‘، اگلا دروازہ یہ پیغام لیے ہوئے تھا’مسلی ہوئی کلیوں کو ہر رنگ میں کہنے دو!‘ ۔ گیلری کا اختتام ڈائننگ روم کے دروازے پر ہوتا تھا، اور اسی میں کچن کا دروازہ بھی کھلتا تھا۔ وہ ڈائننگ روم میں داخل ہوئے مگر ڈائننگ روم اپنے معمول کے مطابق ہی تھا۔ گویا کہ تقریب اور اس کی تمام سج دھج لاؤنج اور گیلری تک محدود تھی۔ انہیں اپنے پیچھے کسی دروازے کے کھلنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی ہلکی ہلکی ہنسی کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی۔وہ فوراً پلٹے، سامنے ہی فائزہ بیگم اور بینش، دونوں اپنے بہترین جوڑوں میں ملبوس، ہادیہ و جویریہ کے کمرے سے نکل رہی تھیں۔
’فائزہ!‘، ان کی آواز پر وہ ٹھٹک کر پلٹیں، بینش بھی رک گئی تھیں۔’یہ سب کیا ہو رہا ہے آج؟‘، انہوں نے ہاتھ سے اپنے اطراف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے استفسار کیا۔
’یہ…… عثمان آج بچیوں نے خاص طور پر اپنا دن منایا ہے، پھولوں کے دن کے نام سے۔ یہ سب کچھ انہوں نے خود کیا ہے۔ صبح سے لگی ہوئی تھیں ساری کاموں پر۔ سارا گھر سجایا ہے، کچھ سنیکس کا بھی انتظام خود ہی کیا۔ مجھے تو ان کی ساری پلاننگ معلوم ہی نہ تھی، دوپہر کو میڈیا والے آئے تو پتہ چلا کہ ان بچیوں نے تو پوری تقریب کا انتظام کیا ہوا ہے……‘، فائزہ بیگم فخریہ مسکراتے ہوئے انہیں تفصیل سنا رہی تھیں۔
’……میڈیا والے؟؟ کون سے میڈیا والے آئے ہیں؟…… یہ کیا ہو رہا ہے؟ کون سا دن منایا ہے تم سب نے؟……‘ عثمان صاحب حیران و ششدر کھڑے تھے۔
’پھولوں کا دن…… یعنی لڑکیوں کا دن۔ آج سے ان بچیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائیں گی۔اصل میں تو یہ سب نسرین کی خاطر کیا ہے۔ تاکہ نسرین کے ساتھ جو زیادتی ہوئی ہے، آئندہ کبھی کوئی اور لڑکی ایسی زیادتی کا شکار نہ ہو۔ اس کے لیے انہوں نے پورا لائحہ عمل طے کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ لڑکیوں کو بہادر، آزاد اور خود مختار بننا ہو گا، اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے۔ پھر یہ جو تقریب کی ہے ناں ساری، اس کی کوریج کے لیے بی بی سی اردو والوں کے دو رپورٹر بھی آئے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پوری ویڈیو رپورٹ جاری کریں گے۔ ٹی وی پر تو شاید نہیں……مگر انٹرنیٹ پر کریں گے……‘ فائزہ بیگم کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا۔
’اور یہ سب کس کی اجازت سے ہو رہا ہے؟…… کیا صولت آپا بھی ہیں یہاں؟‘، عثمان صاحب نے قدرے سخت لہجے میں ان سے پوچھا۔
ان کے اس سوال پر بینش نے انہیں عجیب نظروں سے دیکھا تھا۔ اس سے پہلے کہ فائزہ بیگم کوئی جواب دیتیں، وہ بول اٹھی تھی،’ آپا نہیں آئیں، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ لیکن جہاں تک اجازت کا سوال ہے تو کیا عورت کو کوئی اچھا اور نیک کام کرنے سے پہلے بھی پوری دنیا سے اجازت لینے کی ضرورت ہے؟‘۔
_______________________
نبیلہ، فاطمہ، ہادیہ اور جویریہ کی مصروفیات اپنے عروج پر تھیں۔ چھوٹے چھوٹے نعروں اور پیغامات کی صورت میں اپنی دعوت پھیلانے کا کام جویریہ کے سپرد تھا۔ اس کا دماغ رنگوں اور آرائش و زیبائش کے کاموں میں خوب چلتا تھا، لہذا وہ چارٹ پیپر سے ننھے ننھے کارڈز کی صورت میں انتہائی خوبصورت اور دیدہ زیب شو کارڈ، پوسٹر اور پلے کارڈز تیار کرتی جنہیں وہ گھر میں جگہ جگہ آویزاں کر دیتی۔ فاطمہ نے انٹرنیٹ کا محاذ سنبھال رکھا تھا۔ وہ اپنی تحریک میں پیدا ہونے والی نئی صورت حال لمحہ بہ لمحہ انٹرنیٹ پر اپڈیٹ کرتی رہتی۔ ہر نیا نعرہ اور ہر نیا پوسٹر جو گھر میں آویزاں ہوتا، وہ ساتھ ہی فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام اور دیگر ویب سائٹس پر بھی چڑھ جاتا، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کے لیے پوری علیحدہ پلاننگ تھی۔ مگر ان سب میں شاید سب سے زیادہ مصروف نبیلہ اور ہادیہ ہی تھیں۔ کہ انہیں ذہنوں اور دلوں کا محاذ درپیش تھا۔ لوگوں کے سوالات کے جواب، اعتراضات کا ردّ، اپنی دعوت کے حق میں دلائل اور پورے گھر کی ذہنی تیاری انہوں نے اپنے ذمّے لے رکھی تھی۔
نبیلہ کی کوشش ہوتی کہ نسرین کو بھی ساتھ ساتھ رکھے، تاکہ وہ جس صدماتی کیفیت کا شکار ہو کر حد سے زیادہ تنہائی پسند اور گوشہ نشین ہوتی جا رہی تھی، وہ اس سے باہر نکلے۔ وہ اس کے سامنے مسلسل ان باتوں کی تکرار کرتی رہتی کہ اسے اپنے آپ کو مضبوط بنا کر اپنے مسائل کا حل خود تلاشنا ہو گا۔ وہ چاہتی تھی کہ نسرین اپنے آپ کو اس حد تک مضبوط، بااختیار اور قابل بنائے کہ ارشد سے ہر ظلم و زیادتی کا پورا پورا بدلہ لے سکے۔ صولت بیگم اس کی اس سوچ سے متفق نہ تھیں، ان کا خیال تھا کہ یہ محض قسمت کی بات تھی کہ نسرین کے حصّے میں جو شخص آیا، وہ اس کے قابل نہ تھا۔ وہ نبیلہ کے اندر دہکتی انتقام اور غصّے کی آگ سے خائف تھیں اور ہر وقت اسے یہ سمجھانے کی کوشش کرتیں کہ عورت کو زندگی میں بہت دیکھ بھال اور سنبھل کے قدم اٹھانا ہوتے ہیں۔ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کسی بھیانک انجام پر منتج ہو سکتی ہے۔ مگر اس معاملے میں نبیلہ ان کی ایک بھی سننے پر تیار نہ تھی۔
’آپ لوگوں نے سب کی ایک سوچ بنا دی ہے۔ آپ لوگوں کا ذہن اس طرح کام کرتا ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو اور وہ اسے خاموشی سے سہتی رہے، بس اللہ کا نام لے کر برداشت کرتی رہے اور دعاؤں سے کام چلاتی رہے، وہ بہت اچھی نیک بی بی ہے۔ ہاں اگر وہی عورت اپنے اوپر مزید ظلم برداشت کرنے سے انکار کر دے، کہے کہ میں اپنے حق کی خاطر لڑوں گی، اپنی قسمت خود بناؤں گی، کوئی زیادتی نہیں برداشت کروں گی، تو وہ بری ہے۔ بس وہ تو بے حیا ہے، چڑیل ہے، آزاد عورت ہے۔ اس کا ذکر کرنا بھی آپ لوگ معیوب سمجھتے ہیں۔ لیکن اچھی طرح سن لیں، اگر میں بدتمیز اور چڑیل ہوں تو یونہی سہی، مگر میں نہ تو اپنے ساتھ اور نہ اپنی بہنوں کے ساتھ مزید کوئی زیادتی برداشت کروں گی اور نہ آپ لوگوں کے پرانے فرسودہ طریقوں اور خیالات پر عمل کر کے انہیں کسی اور تجربے کی نذر کروں گی‘۔ اس کا انداز صاف اور دو ٹوک تھا۔
ماں کی جانب سے مخالفت کی وجہ سے اس کا اکثر وقت عثمان اور جاوید صاحب والے پورشن میں گزرتا تھا۔ بینش چچی اس کے خیالات اور ارادوں سے صد فیصد متفق تھیں، اور ہر ہر کام میں ان کی جانب سے مدد اور حمایت یقینی ہوتی تھی۔ فائزہ چچی سادہ مزاج اور طبیعت کی مالک تھیں۔ وہ اکثر اس کے انقلابی خیالات سن کر قدرے پریشان ہو جاتیں، کہ اتنے بڑے بڑے خیالات اور ارادے ان کے نزدیک چند لڑکیوں کے بس کی بات نہ تھی۔ مگر اگر وہ ان کی حوصلہ افزائی اور حمایت نہ کرتی تھیں تو مخالفت بھی نہ کرتی تھیں۔ نبیلہ کے لیے اتنا بھی بہت تھا۔ اس کی دعوت کا ہدف خواتین تھیں، اسے جہاں کہیں دونوں چچیاں، یا نسرین یا اور کوئی نہیں تو سلمٰی، لبنیٰ یا آپا جی ہی فارغ نظر آتیں تو وہ ان کے پاس پہنچ جاتی اور کوئی نہ کوئی مسئلہ چھیڑ دیتی۔
’……آپ ہی بتائیے، کیا والدین کی خدمت بیٹیوں پر فرض نہیں؟ مگر ہمارے ہاں عجیب اصول ہے۔ بیٹی شادی کے بعد دوسرے گھر چلی جاتی ہے اور وہاں جا کر ساس سسر کی تو خوب خدمت کروائی جاتی ہے مگر اگر والدین کی خدمت کے لیے گھر جانے کی بات کرے تو فوراً سب کے موڈ بگڑ جاتے ہیں……‘، یہ فائزہ بیگم کی دکھتی رگ تھی، ان کے والدین بزرگ بھی تھے اور ضعیف بھی مگر دوسرے شہر میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے انہیں کئی کئی ماہ بعد میکے جانے کا موقع ملتا تھا۔
’……حالانکہ اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ساس سسر کی خدمت بیٹے کا فرض ہے، بہو کا نہیں۔ مگر ہمارے یہاں کے مرد اپنی سب ذمہ داریاں بیوی کے کندھے پر ڈال کر خود ہر چیز سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ کبھی احساس دلاؤ تو آگے سے اپنا یہ احسان جتلا دیتے ہیں کہ میں تمہارے لیے کما کر نہیں لاتا؟ بھئی میں تو کہتی ہوں کہ عورت اپنے لیے خود کمائے مگر کسی مرد کی دست نگر نہ بنے‘، نبیلہ تنفر سے کہتی۔
’…… شادی کے شروع میں تو جاوید اکثر ہی مجھے گھر لے جاتے تھے، مگر اب تو جب بھی بات کرو گھر جانے کی تو فوراً ناراض ہو جاتے ہیں کہ تمہیں اپنے گھر کی کوئی پروا نہیں ، بس میکے جانے کا شوق ہے……‘، بینش کو بھی اپنا دکھ یاد آ گیا۔
’…… حالانکہ یہ مرد سارے اتنی دین کی باتیں کرتے ہیں…… مگر سب کچھ صرف اپنے مفاد کے لیے۔ اگر دین ہی سے پوچھا جائے تو معلوم ہو گا کہ بیوی کو ہفتے میں کم از کم ایک بار ماں باپ سے ملوانا شوہر کا فرض ہے……‘، نبیلہ نے دونوں چچیوں کی معلومات میں اضافہ کیا۔
’کیا واقعی……؟‘، فائزہ چچی نے حیرت و استعجاب سے پوچھا۔
’…… اور کیا چچی ! اور بیوی کو والدین سے ملنے سے منع کرنا تو قطعاً جائز نہیں ہے مگر دین کی یہ باتیں تھوڑا ہی بتائیں گے یہ مرد…… یہ تو اپنے آپ کو پھنسانے والی بات ہو گی‘۔
موضوعات کی کوئی کمی نہ تھی، ایک لا متناہی فہرست تھی۔ کبھی یہ زیادتی نمایاں کی جاتی کہ مرد کس بھرپور انداز سے اپنی زندگی جیتے ہیں، جہاں چاہا گئے، جب چاہا گھر آئے۔ ان کے سیر سپاٹے ، ان کی ہوٹلنگ، ان کا دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اور پھر اس سب کا موازنہ کیا جاتا خواتین کی گھر کی چار دیواری میں مقید روکھی پھیکی زندگی سے۔ کہیں جانا ہو تو پہلے اجازتوں کا طویل مرحلہ، پھر اپنے ساتھ ساتھ کسی نگران داروغہ کی طرح کسی مرد کی موجودگی، پھر مردوں کا مسلسل جلدی جلدی کا شور مچانا، کہیں سیر کے لیے لے بھی گئے تو اس میں اتنی روک ٹوک، پابندیاں اور ڈانٹ ڈپٹ ہوتی کہ سارا مزہ ہی غارت ہو جاتا۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے، جیسے پر کاٹ کر کبوتر کو فضا میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور یہ باور کرایا جائے کہ تمہیں تو ہر نعمت میسر ہے، آزاد فضا اور بہترین غذا۔
بینش کو رہ رہ کر اس بات کا دکھ کھائے جاتا کہ شادی کے محض کچھ ہی عرصہ بعد وہ ساری توجہ، محبت اور احترام و عنایات کا سلسلہ ختم ہو گیا جس کی وہ شادی کے آغاز میں بہت جلد عادی ہو گئی تھی۔ کہاں تو یہ حال تھا کہ دن میں ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد جاوید کی کال آ جاتی تھی، پیغامات کا سلسلہ اس کے علاوہ تھا، اور کہاں یہ حال کہ کبھی بھولے سے وہ فون کر بھی لے تو جاوید چڑ کر کہتے کہ کتنی بار کہا ہے بارہ سے تین بجے کے دوران کم سے کم فون کیا کرو، مصروفیت عروج پر ہوتی ہے۔ یہ وہی جاوید تھےجو شام کو روزانہ جلدی گھر پہنچنے کی کوشش کرتے تاکہ بینش کو اس کے والدین کے گھر یا کسی دوست یا سہیلی کے گھر یا اور کہیں نہیں تو باہر کہیں گھمانے پھرانے ہی لے جاتے۔ وہ سارا دن شام کے انتظار میں گزارتی تھی اور جاوید کے آنے سے پہلے خوب اچھی طرح تیار ہو کر بڑی چادر اوڑھ کر اس کی منتظر بیٹھ جاتی۔ جیسے ہی وہ آتا تو بمشکل ہی چائے کا ایک کپ یا کوئی چھوٹی موٹی چیز کھانے پینے کے لیے رکتا، ورنہ روز ہی اس کا اصرار ہوتا تھا کہ کھانا باہر کھائیں گے۔ مگر سال بعد ہی شہیر کی پیدائش کے بعد یہ سب آہستہ آہستہ کم ہوتا چلا گیا تھا۔ اور اب تو یہ حال تھا کہ کہیں باہر جانے سے پہلے بینش کو کم از کم ایک دن پہلے جاوید سے اپائنٹمنٹ لینی پڑتی تھی تاکہ وہ اپنی مصروفیات میں سے اس کے لیے کچھ فرصت کے لمحات نکال لے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جاوید نے اسی عرصے میں دکان کی تیسری برانچ کھولی تھی اور اس کا تمام تر کام اسی کے کندھوں پر تھا مگر اصل بات تو یہی تھی کہ جہاں چاہ، وہاں راہ۔ جب چاہ ہی نہ ہو تو کتنی ہی فرصت کیوں نہ ہو، بیوی کے لیے وقت نہیں نکل سکتا۔ جاوید سے بات کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا، کیونکہ وہ بینش کے اس قسم کے شکوے شکایتوں اور باتوں سے سخت نالاں تھا۔ ادھر وہ ایسا کوئی ذکر چھیڑتی، ادھر وہ چڑ کر کوئی نہ کوئی سخت بات کہہ کر موضوع لپیٹنے کی کوشش کرتا، یا اگر بالکل ہی بس نہ چلتا تو اٹھ کر کمرے سے واک آؤٹ کر جاتا۔ بینش بیچاری من ہی من میں کڑھتی جلتی کلستی رہ جاتی۔
نبیلہ، ہادیہ اور جویریہ کی باتیں سن سن کر کبھی کبھی تو فائزہ بیگم کے دل میں بھی یہ گلہ پیدا ہونے لگتا کہ انہوں نے زندگی کا ایک طویل عرصہ عثمان صاحب جیسے خشک پتھر سے سر پھوڑتے پھوڑتے گزار دیا۔ شاید پے در پے تین بیٹیوں کی پیدائش نے ان کا دل بیوی بچوں سے اچاٹ کر دیا تھا اور انہوں نے اپنی دنیا دکان کے کام اور گھر میں آ کر اپنی کتابوں کی کولیکشن تک محدود کر لی تھی۔ پھر کتابوں میں وہ جو کھوئے تو ایسا کھوئے کہ گھر میں دو بیٹوں کی آمد کے بعد بھی ان کی دلچسپی کا محور گھر اور بچے کبھی نہ بن سکے تھے۔ ایسے ہی کسی وقت وہ دل میں پیدا ہوتے اس خیال کے تحت عثمان صاحب سے ان کی بے نیازی کا شکوہ کر بیٹھیں تو وہ اچھل ہی پڑے۔
’کیا مطلب مجھے آپ کی اور بچوں کی پروا نہیں ہے؟……‘، انہوں نے حیرت سے پوچھا۔ ’کیا میں آپ لوگوں کو وقت نہیں دیتا؟ یوں کہیے بیگم صاحبہ کہ بچے سب بڑے ہو گئے ہیں، ان کے اپنے اپنے مشاغل اور مصروفیات ہیں، وہ ہمیں وقت نہیں دیتے۔ رہیں آپ، تو آپ ہی بتائیے کہ میں نے کب آپ کو وقت دینے سے انکار کیا ہے؟‘۔
’نہیں……وہ……میرا مطلب ہے…… آپ کبھی خود سے آکر کوئی بات ہی نہیں کرتے……میں کوئی بات کروں تو بس جواب دے دیتے ہیں……‘، وہ فوراً ہی بوکھلا گئیں۔
’تو محترمہ…… گفتگو کے لیے یہ تو شرط نہیں ہے کہ میں ہی آغاز کروں۔ اگر آپ کو یہ گلہ ہے کہ ہم آپس میں گفتگو کم کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی کم ہی کوئی موضوع چھیڑتی ہیں۔ یعنی کہ مجھے بھی یہ شکایت ہو سکتی ہے کہ آپ مجھ سے کوئی بات چیت ہی نہیں کرتیں، مجھے وقت نہیں دیتیں، آپ کو میری پروا نہیں ہے‘، عثمان صاحب نے تفصیل سے ان کے اعتراض کا رد کیا۔ لبوں کے کونوں میں شریر مسکراہٹ چھپی ہوئی تھی۔ فائزہ بیگم سدا کی سادہ تھیں، کسی کی بھی خفگی سے وہ فوراً پریشان ہو اٹھتیں، وہ اپنے بچوں میں سے کسی کی ناراضگی برداشت نہ کر پاتی تھیں تو یہاں تو مجازی خدا تھا، جو ان سے لاپروائی برتنے کا شکوہ کر رہا تھا۔ وہ اپنے گلے شکوے سب بھول بھال کر حیرت سے عثمان صاحب کا چہرہ تک رہی تھیں، کہیں کسی سنجیدہ ناراضگی کے آثار تو بظاہر نظر نہ آ رہے تھے۔
اس وقت تو بات آئی گئی ہو گئی لیکن چونکہ نبیلہ اور کمپنی کا زیادہ تر وقت عثمان صاحب کے پورشن میں ہی گزرتا تھا، اس لیے اکثر ہی کوئی نہ کوئی بات بھی ان کے کانوں میں پڑتی ہی رہتی۔ جس کی وجہ سے وہ آج کل کافی پریشان رہنے لگےتھے۔ اپنی بیگم کی طبیعت سے وہ واقف تھے، وہ تو جس کے ساتھ رہتیں، اسی کے رنگ میں ڈھل جاتیں، سو آج کل بچیوں سے سنی ہوئی باتیں ان کی زبان پر بھی رواں ہوتیں۔ بچیاں سب بڑی ہو رہی تھیں، ان سے خود ان کے حقوق اور فرائض کے حوالے سے بات کرنا عثمان صاحب کو بے حد عجیب لگ رہا تھا۔ جوان ہوتی بیٹیوں سے بات کرتے ہوئے انہیں حیا آ تی تھی۔ مگر جو کچھ آج کل ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا وہ بھی انہیں شدید تشویش میں مبتلا کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا، کسی کو تو کچھ کرنا ہی تھا۔ اور معاملہ ہاتھ سے نکلتا ہوا ہی لگ رہا تھا۔
حد تو یہ تھی کہ گھر میں مسلسل ہوتی ان باتوں کی تکرار سن سن کر سلمیٰ کو بھی لگنے لگا تھا کہ نذیر اس کے ساتھ تمیز سے پیش نہیں آتا۔ اور سلمیٰ تو سلمیٰ، لبنیٰ نے نجانے کس کیفیت میں آ کر پرویز سے کہہ دیا کہ وہ آئندہ اپنی مہینے بھر کی تنخواہ میں سے صرف آدھے روپے باپ کو دیا کرے گی۔ جس پر پرویز نے اس کی تو جو طبیعت صاف کی سو کی، مگر اگلے ہی دن عمیر سے بھی شکایت کی کہ نبیلہ باجی کی باتوں سے ان کے گھر میں فساد پیدا ہو رہا ہے۔
نبیلہ ، فاطمہ، ہادیہ اور جویریہ اپنی تمام تر کوششیں اور صلاحیتیں کھپائے ہوئے تھیں۔ جس کے کچھ کچھ نتائج بھی انہیں نظر آ رہے تھے، مگر سب کچھ اتنا آسان بھی نہ تھا۔ صولت بیگم کی مخالفت اپنی جگہ موجود تھی جس سے نبیلہ کو بے حد تکلیف ہوتی تھی۔ جو کچھ بھی تھا وہ بہر حال اس کی ماں تھی۔ اور اپنی ماں سے انسان حمایت کی توقع کرتا ہے، مخالفت کی نہیں۔ نسرین کا رویہ بھی حوصلہ افزا نہیں تھا۔ وہ جتنا اس کو محفلوں میں گھسیٹنے کی کوشش کرتی، وہ اتنا ہی اس سے کنی کتراتی تھی۔ حتی کہ اب تو وہ عبد اللہ کو بھی بہنوں کے پاس نہ جانے دیتی بلکہ اس کی کوشش ہوتی کہ وہ اور عبد اللہ، زیادہ سے زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی بند ہو کر گزاریں۔
مگر گھر کے لڑکوں کا جو رویہ تھا وہ سب سے خراب تھا۔ وہ نبیلہ، فاطمہ، جویریہ یا ہادیہ کو دیکھتے ہی ہُوٹنگ کرنا اور سیٹیاں بجانا شروع کر دیتے۔ مذاق اڑانا، قہقہے لگانا، بات بات میں ان کے جملے اور نعرے بگاڑ بگاڑ کر انہیں سنانا، یہ سب تو انہوں نے معمول بنا لیا تھا۔ زوار اس سب میں پیش پیش تھا۔ وہ ان کی تضحیک و توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا۔ حیرت انگیز طور پر لڑکوں کے اس رویّے کے جواب میں نبیلہ کا رویّہ بہت صبر و تحمل اور برداشت والا تھا۔ وہ ان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف اور صرف خواتین کی ذہن سازی پر توجہ دے رہی تھی۔ یہ اور بات تھی کہ آپس میں فاطمہ، جویریہ اور ہادیہ کو وہ یہ باور کرانا نہ بھولتی کہ گھر کے لڑکوں اور مردوں کا رویّہ بالکل وہی ہے جس کی اسے توقع تھی، آخر ان کے مفادات جو زد پہ تھے۔
_______________________
اور پھر وہ ہو گیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔نبیلہ کی خاتون مہم پوری سرگرمی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ زمینی طور پر اس کا اتنا وجود نہیں تھا جتنا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر تھا۔ اسے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی دیگر تنظیموں کی جانب سے زبردست حمایت اور حوصلہ افزائی وصول ہوئی تھی۔ نوجوان نسل میں اس کی دعوت اور پیغام بہت تیزی سے بہت زیادہ مقبول ہوا تھا۔ اس زبردست پذیرائی نے نبیلہ اور اس کی تینوں مشیران کے حوصلے اور عزم کو بے حد بُوسٹ کیا تھا۔ اسی کے نتیجے میں انہوں نے گھر میں ایک ٹی پارٹی کا بندوبست کیا تھا، جس میں بعض چنیدہ ٹی وی چینل کے رپورٹر بھی مدعو تھے۔
پارٹی کا سارا انتظام گھر کے لان میں کیا گیا تھا۔لان کے کونے میں پھولوں کے کنج کے عین سامنے بڑے قرینے سے کرسیاں ترتیب وار رکھی گئی تھیں۔ نبیلہ کے دائیں بائیں ہادیہ اور فاطمہ بیٹھی تھیں، جبکہ دو خواتین رپورٹر ذرا فاصلے پر ان کے مقابل رکھی کرسیوں پر بیٹھی تھیں۔ کیمرہ مین اپنے اپنے مقام پر چوکس کھڑے اپنے فرائض تندہی سے انجام دے رہے تھے ۔چاروں اطراف کیمرے ایسے سیٹ کیے گئے تھے کہ وہ نبیلہ کو فوکس میں لیے ہوئے تھے مگر لان اور گیٹ تک کا تمام حصّہ کَوَر کر رہے تھے۔ نبیلہ کے عین سامنے لان ٹیبل پر مائیک اور وائس ریکارڈر وغیرہ سیٹ کیے گئے تھے۔ پوری تقریب کی ریکارڈنگ کی جا رہی تھی۔
اب نجانے یہ نبیلہ کی بدقسمتی تھی یا عثمان صاحب کی، کہ جس وقت وہ گھر میں داخل ہوئے، تقریب اپنے عروج پر تھی۔ گیٹ سے گاڑی اندر لاتے ہوئے وہ لان کے مناظر کی چند جھلکیاں دیکھ چکے تھے، اور کیمروں اور دیگر آلوں کی موجودگی میں انہیں یہ سمجھنے میں بالکل دشواری نہ ہوئی کہ آج بھی گھر میں میڈیا مدعو تھا۔ گھر کی بچیوں کے اس انتظام و انصرام پر اس بار وہ حیران نہیں ہوئے تھے۔ البتہ انہیں شدید غصّہ آ رہا تھا۔پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے وہ باہر نکلے اور تیزی سے ڈگ بھرتے ہوئے لان کے سرے تک پہنچ گئے۔ وہاں لحظہ دو لحظہ رک کر انہوں نے پورے منظر نامے کا جائزہ لیا اور پھر بلا توقف سیدھا ان کے عین درمیان جا پہنچے۔
’یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم سب نے؟ کیا ہو رہا ہے یہاں؟……بند کیجیے یہ کیمرے……! اٹھائیں یہ سارا سامان……! یہ میرا گھر ہے کوئی تماشا خانہ نہیں……جب دیکھو میڈیا والے اپنی ریڑھی لگائے کھڑے ہوتے ہیں……!‘، اونچی آواز میں بولتے ہوئے انہوں نے اپنے قریب ترین کیمرہ مین کا کیمرہ آف کرتے ہوئے کہا۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے باقیوں کو بھی اپنا بوریا بستر سمیٹنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ ان کی اچانک آمد پر ہادیہ اور نبیلہ ، دونوں ہی پریشان ہو کر اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ لان میں موجود باقی سارے کیمرے گھوم کر اب عثمان صاحب کو فوکس میں لیے ہوئے تھے۔ پوری تقریب میں ایک عجیب ہلچل پیدا ہو گئی تھی۔
’چچا جان یہ لوگ…… یہ لوگ ہماری دعوت پر آئے ہیں……!‘، انہیں سب کو چلتا کرتا دیکھ کر نبیلہ نے پریشانی کے عالم میں انہیں پکارا۔ ان کی اچھی خاصی تقریب میں اچانک ہی عثمان صاحب نے رخنہ ڈال دیا تھا۔
’خاموش رہو تم……! تم کب سے اتنی بڑی ہو گئی ہو کہ گھر میں دعوتیں کرتی پھر رہی ہو……؟ کس نے تمہیں اجازت دی اس سب کی……؟‘، وہ پلٹ کر دھاڑے ۔ ان کی دھاڑ نے نبیلہ کو تو خاموش کروایا ہی، ہادیہ پر کپکپی طاری ہو گئی تھی۔ عثمان صاحب آگے بڑھ بڑھ کر میڈیا والوں سے ان کا سامان اٹھوا رہے تھے۔ وہ تو سب کو رخصت کیے بغیر دم لینے والے نہ تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر ایک خاتون رپورٹر آگے بڑھی اور نبیلہ کو اس کے سکتے سے باہر نکالا۔
’میڈم نبیلہ ……! آپ نے گھر کے مردوں کی جانب سے اس مخالفت کا ذکر نہیں کیا……؟ کیا یہی وہ رویّہ ہے جس نے آپ کو اس مہم کا آغاز کرنے پر مجبور کیا……؟‘، وہ مائیک اس کی جانب بڑھائےاس کے جواب کی منتظر تھی۔ جواباً نبیلہ محض خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’سنا نہیں آپ نے محترمہ……؟ میں نے کہا اٹھائیے اپنا سامان اور جائیے یہاں سے……اس گھر میں میں مزید کوئی تماشہ برداشت نہیں کروں گا۔ اس قسم کے تماشے آپ لوگ گھر سے باہر لگایا کیجیے……!‘، عثمان صاحب ان کی طرف آتے ہوئے کڑک کر بولے۔ ’اور تم سب……اٹھو اور فوراً اپنے کمروں کا رخ کرو……! اور اگر اب میں نے تم میں سے کسی کو بھی باہر دیکھا تو ٹانگیں توڑ دوں گا تم سب کی……!‘، آخر میں انہوں نے بیٹیوں کو مخاطب کر کے سختی سے حکم جاری کیا۔
اس تقریب کی ریکارڈنگ تین مختلف چینل کر رہے تھے۔ اسے انٹرنیٹ سمیت ٹی وی پر بھی نشر ہونا تھا۔ اتنی بہترین تقریب سے اتنی بد ترین صورتحال کا تو نبیلہ نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ عثمان چچا نے پوری دنیا کے سامنے ان کو بے عزت کر دیا تھا۔ کتنی شرم کی بات تھی ان کے لیے کہ خود جس تقریب کا اہتمام کیا تھا، اسے یوں بے دردی سے عثمان صاحب نے ختم کر دیا تھا۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ان کی عزت افزائی کے یہ سارے مناظر تمام کیمروں نے محفوظ کر لیے تھے۔ یہی سوچ تھی جس نے آخر کار نبیلہ کے اندر کچھ کرنے کی روح پھونکی۔ اسے اس تقریب کو بچانا تھا، اپنی مہم کو بچانا تھا، اتنے ہفتوں کی اپنی محنت کو اکارت جانے سے بچانا تھا۔ یہ اس کی عزت کا سوال تھا۔ وہ اپنی تمام تر توانائی جمع کر کے عثمان صاحب سے مخاطب ہوئی۔
’چچا جان یہ تقریب ہم نے لڑکیوں کے حقوق کی حفاظت کی خاطر ……‘، اس نے کہنا چاہا۔
’خاموش ہو جاؤ نبیلہ……کون سے حقوق ہیں جو تم لوگوں کو نہیں مل رہے……عجیب پاگل پن اور دیوانگی ہے جو تم سب پر چھائی ہوئی ہے……!‘، وہ اس کی بات کاٹ کر سختی سے بولے۔
’چچا جان……!‘، نبیلہ نے حیرت اور صدمے سے ان کی جانب دیکھا،’چچا جان……یہ ہماری اتنے ہفتوں کی محنت ہے……آپ اس طرح یہ سب ختم نہیں کر سکتے۔ کیوں بھیج رہے ہیں آپ ان لوگوں کو……‘۔
’میڈم نبیلہ……میڈیا کا فرض سچے حالات کو بیان کرنا ہے……اگر آپ کہتی ہیں تو ہم یہاں سے نہیں جائیں گے، جب تک آپ کہیں گی، ہم تقریب کی کوریج کریں گے……‘، یہ وہی خاتون رپورٹر تھیں جنہیں گرم گرم خبروں کے لیے بہترین مواد میسر آ گیا تھا۔ مزید چسکے لینے کے لیے وہ غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر نبیلہ کی مدد کو آئیں۔
’شَٹ اَپ……! اینڈ کلئیر آؤٹ……! ……آپ لوگ میرا مکان ابھی اور اسی وقت خالی کریں ورنہ مجھے قانونی مدد حاصل کرنی پڑے گی……!!‘، عثمان صاحب نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے انتہائی درشتی سے ان خاتون کو جواب دیا۔
اگر وہ خاتون نہ ہوتی تو اب تک وہ اسے گریبان سے پکڑ کر باہر کا راستہ دکھا چکے ہوتے۔ دیگر میڈیا والے بھی اپنا اپنا سامان سمیٹتے ہوئےمڑ مڑ کر انہی کو دیکھ رہے تھے۔ کیمرہ مین اب اپنے کیمرے کندھوں پر لیے حتی المقدور ریکارڈنگ کر رہے تھے۔
’چچا جان……آپ کیوں یہ سب کر رہے ہیں…… آپ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس گھر میں ہمیں کوئی حقوق حاصل نہیں……آپ اس طرح ہماری بے عزتی نہیں کر سکتے……میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دوں گی……‘، نبیلہ اپنی ساکھ بچانے کی خاطر چچا کے مد مقابل آ کر چیخ رہی تھی۔ اسے انہیں روکنا تھا، ہر قیمت پر۔ اور پھر وہ ہو گیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ سدا کے دھیمے، متحمل مزاج، صبر اور حلم والے عثمان صاحب کا ہاتھ اٹھا اور نبیلہ کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑ گیا۔
(جاری ہے ان شاء اللہ)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



