ہماری یہ گزارشات ہندوستان کے مسلمان بھائیوں کے نام ہیں ۔ علمائے کرام ،داعیان ِ دین ، اصحابِ فکر ،نوجوانانِ اسلام اور ہندوستان کے وہ سب اہلِ دل ہمارے مخاطب ہیں جویہاں مسلمانوں کی حالت ِ زار پر دردمند اور ان کے مستقبل کے حوالہ سے فکر مند ہیں ، پھر محمدِ عربی ﷺ کےخاص وہ غلام ہمارے مخاطب ہیں جن کے چہرے نورِ ایمان سے روشن ہیں ، شرک وظلم کے اندھیروں سے جو دبنے اور ڈرنے والے نہیں ، اور جو کفر و الحاد کے طوفانوں کا مقابلہ کرنے اور اسلام دشمن سیلابوں کا رُخ اسلام ہی کے حق میں پھیرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
وہ کیا امور ہیں کہ جو اسلامیان ہند کو خصوصی طور پر اپنے سامنے رکھنے چاہیے اور کیا عملی اقدامات ہیں کہ جن کو اٹھا کرہم بے رحم طوفانوں سے اپنی حفاظت کرسکتے ہیں؟ اللہ ہماری رہنمائی فرمائے اور توفیق و مدد سے نوازے ، اس سے متعلق نکات کی صورت میں چند گزارشات ہیں جو آپ کی خدمت میں رکھ رہے ہیں ۔
پہلا نقطہ، اللہ سبحانہ ٗ و تعالی کی طرف بحیثیت مجموعی رجوع ہو ، اللہ ہمارا خالق و مالک ہے ، وہی ہمارا معبود اور حاکم ہے، لہٰذا اللہ کی عظمت کے مقابل کسی مخلوق کی عظمت ہم قبول نہ کریں۔اُس رب عظیم کے مقابل کسی عدالت ،کسی ریاست، عوام یا خواص کے کسی حکم وفیصلے کی تقدیس ہم نہ کریں۔وطنیت اور جمہوریت ،یہ سب عصر حاضر کے تراشیدہ بت ہیں ، ان سب کا انکار جبکہ صرف للہیت اور اسلامیت کا ہم اقرار کریں ۔
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے
غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبویؐ ہے
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تُو مصطفوی ہے
صرف اللہ کے سامنے ہم جھکیں ،اللہ کے احکامات کی پیروی کریں اور اللہ کےاحکامات کےمقابل کسی کے اصول واحکامات کو ہم خاطر میں نہ لائیں ۔ یہی ’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘ کا تقاضہ ہے ۔
دوسرا، ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘کی یہ دعوت ہم عام کریں ،اس کلمے کا معنی و مفہوم ، فرائض اور تقاضے خود بھی ہم سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں ،یہ کلمہ تمام معبودوں اور بادشاہوں سے انکار جبکہ صرف ایک اللہ کی عبادت اور اطاعت کا اعلان ہے ۔ یہ دعوت ہم اپنوں کے سامنے بھی رکھیں اور پرایوں کے سامنے بھی ۔ سب کو ہم سمجھائیں کہ ہماری دنیا و آخرت کی تمام تر بھلائیاں بس اس کلمہ کو ماننے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ہیں ۔ہمارے اخلاق و کردار ، معاشرت و معاملات ، دعوت و خدمت خلق ، ،دوستی ودشمنی کا ڈھنگ سب شریعت کے مطابق اور کلمۂ توحید کی عملی تصدیق کرنے والے ہوں ۔ اسلام و شریعت پر عمل اور اس کی دعوت کے سبب اگر مشاکل و محرومی کا سامنا ہو ، تو سامنا کیا جائےاور اگر اس کی خاطر سب کچھ کی قربانی بھی دینی پڑےاس سے دریغ نہ ہو۔ہماری دعوت وتحریک اور فکرو سعی شرعی اصولوں کے گرد ہو ، نہ کہ قومی و شخصی مفادات کے گرد ۔ہمیں یقین ہونا چاہیےکہ اس طرز ِفکر و عمل کا فائدہ اسلام کو بھی ہوگا اوربطورِ قو م ہم مسلمانوں کو بھی ، لیکن قومی فوائد کے نام پراگر احکام ِ الٰہی کی خلاف ورزی ہم کریں ، تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ ہماری قوم کے لیے بھی کبھی کوئی برگ وبار نہیں لائے گی ۔
تیسرا ، ہندوستان میں جو ہمیں کچھ نہ کہے،یعنی ہمارے اوپرجوہاتھ نہ اٹھائے، ہم بھی اسے کچھ نہ کہیں اور ہم بھی اس کے لیے مکمل طور پر ا من کے پیغامبر ہوں، لیکن اگر کوئی ہمیں ، ہمارے بچوں ، ماؤں اور بہنوں کو مارنے آ ئے، کیا اس کے سامنے بھی ہم پرامن ہوں؟ نہیں، قطعاًنہیں … تمام علماء وفقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ عدو ِصائل، حملہ ور دشمن کو روکنا اوراپنے دین و دنیا کو اس کے فساد سے محفوظ کرنا نماز کے بعد اہم ترین فرض ہے ۔ ہندو کی فطرت ہے کہ یہ کمزور کو مارتا اور پسے ہوئے کو مزید پیستا ہے جبکہ طاقت ور کو دیوتا بناکر اس کی پوجا کرتا ہے۔برما میں قتل عام صرف وہاں ہی ہوا جہاں مزاحمت نہیں ہوئی ، مگر جہاں مزاحمت ہوئی ،محض لاٹھی اور پتھروں سے بھی جہاں دفاع ہوا ، وہاں دشمن بھاگنے پر مجبور ہوا۔پھرعزیز بھائیو! اعدادو تیاری چونکہ خود ایک مستقل فرض ہے ۔ اس لیے علماء کرام اور داعیانِ دین کی خدمت میں ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس کی بھرپور ترغیب دیں اور اس کے لیے باقاعدہ ابھی سے صف بندی کریں ۔ دلوں میں شہادت کا جذبہ پیداکیا جائے، ظاہر ہے شہادت سے بڑھ کرکوئی سعادت نہیں اور اپنے دین وایمان ، اہل و عیال اور مسلمانوں کے دفاع میں جان دینا افضل شہادت ہے ۔
چوتھا ، دنیا بھر میں الحمدللہ جگہ جگہ میادین ِ جہاد گرم ہیں ،یہاں غلبۂ دین اور مظلوموں کی نصرت کے لیے مجاہدینِ اسلام برسر پیکار ہیں، دفاعِ امت کے اس ہر اول دستے ، ان ابطالِ اسلام سے آپ لاتعلق مت رہیے ۔ضروری ہے کہ ان میدانوں میں آپ بھی شریک ہوں اور تحریک ِ جہاد کی نصرت و تائید میں آپ کا بھی بھرپور حصہ ہو۔آپ کا قریب ترین میدان ، جہادِ کشمیر ہے ،اس جہاد میں آپ جان ومال سے شریک ہوں۔ تحریکِ جہاد میں آپ کی یہ شمولیت اور کسی بھی سطح پر آپ کی شرکت ہندوستان بھر میں اسلام اور مسلمانوں کی تقویت کا ان شاءاللہ سبب بنے گا ۔
پانچواں اور آخری نقطہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا نقاط پر زیادہ سے زیادہ اتفاق و اتحاد پیدا کریں اور ان تمام امور کو مکمل نظم وضبط کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کیجیے۔
اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانان ِ ہند کو وہ عزت ، قوت اور شوکت سے نوازے… …یا اللہ ،ہندوستان میں ہمارے بھائیوں کے دین وآبرو ، جان و مال اور اہل و عیال کی حفاظت کیجیے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم برصغیر میں غلبۂ اسلام کی تحریک میں اپنا سب کچھ لگائیں۔اللہ سبحانہٗ وتعالی ٰ ہمیں وہ دن دکھائے جب پاکستان و ہندوستان اور پورے برصغیر میں اللہ کی رحمانی شریعت کا راج ہو اور ظلم وکفر کے جھنڈے سب سرنگوں ہو، آمین یا رب العالمین ۔
وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ.
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین.







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



