’’خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر چچا کا بھتیجی پر بہیمانہ تشدد‘‘……
’’حقوقِ نسواں کے لیے منعقد تقریب میں باپ کا بیٹیوں پر شدید تشدد، ٹانگیں توڑ ڈالنے کی دھمکی‘‘……
’’حقوقِ نسواں کے لیے کام کرنے والی نبیلہ ہاشمی کو شدید تشدد کا سامنا، پاگل پن اور دیوانگی کا الزام‘‘……
عمیر ہر اخبار کی شہ سرخی پڑھ پڑھ کر ان کے سامنے ڈھیر کر رہا تھا۔ اس نے ذرا توقف کرتے ہوئے ایک گہری نظر سامنے بیٹھے ابوبکر صاحب اور عثمان صاحب پر ڈالی، اور پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے اخبار کی سرخی کے نیچے درج تفصیل پڑھ کر سنانے لگا۔
……’’جمعرات کے روز ہاشمی ہاؤس میں منعقد حقوقِ نسواں کی حفاظت اور فراہمی سے متعلق ایک تقریب میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب چئیر پرسن نبیلہ ہاشمی کے چچا عثمان ہاشمی نے وہاں پہنچ کر اچانک تقریب ختم کرنے کا اعلان کیا اور میڈیا کو فوراً گھر خالی کرنے کو کہا۔ ان کے اس اعلان پر نبیلہ ہاشمی نے احتجاج کرنے کی کوشش کی تو نہ صرف یہ کہ عثمان ہاشمی نے سختی سے ان کے تمام اعتراضات ردّ کر دیے بلکہ میڈیا کے سامنے انہیں سخت برا بھلا کہا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ مزید بر آں انہوں نے میڈم نبیلہ سمیت خاتون مہم کے تمام کارکنان کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے حقوقِ نسواں سے متعلق اپنی جدو جہد ترک نہ کی تو انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے انہیں ایک کمرے میں محبوس کر رکھا ہے اس دھمکی کے ساتھ کہ اگر وہ کمرے سے باہر نکلیں تو ان کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی‘‘……
’’……اپنی نوعیت کے منفرد اور مثالی گھرانے، خالص جمہوری روایات کے امین ہونے کے دعویدار ہاشمی ہاؤس میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب ہاشمی ہاؤس کی خاتون رکن پارلیمنٹ، حقوقِ نسواں کی حفاظت اور فراہمی کے لیے سرگرم سماجی کارکن نبیلہ ہاشمی کی منعقد کردہ ایک تقریب کو ان کے چچا نے نفسیاتی مرض اور پاگل پن کہہ کر ختم کر دیا اور وہاں موجود میڈیا کے کارکنان سے اپنے سامان سمیت گھر سے فوراً جانے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ ہاشمی ہاؤس میں ایک خالص جمہوری نظام نافذ ہے جو کہ تمام اہالیان کو مکمل آزادی اظہارِ رائے فراہم کرنے کا دعویدار ہے۔ اس کے باوجود جمعرات کے روز ان دعووں کی قلعی اس وقت کھل گئی جب نبیلہ ہاشمی کے ہر قسم کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے چچا نے تقریب کا نہ صرف خاتمہ کر دیا بلکہ نبیلہ ہاشمی سمیت ان کی تمام کارکنان پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے میڈیا کی نظروں کے سامنے خاتون مہم کے کارکنان بشمول میڈم نبیلہ، کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان پر پاگل پن اور نفسیاتی مریض ہونے کے الزامات عائد کیے۔‘‘
’مہینوں کی محنت تھی…… کتنے مہینوں کی محنت…… ٹاک شوز…… انٹرویوز…… تقریبات…… دورے…… اہم شخصیات سے ملاقاتیں……کتنی محنت سے میں نے دنیا کے سامنے اتنی اچھی اور مکمل تصویر پیش کی تھی ہاشمی ہاؤس کی……… جو ایک دن میں برباد کر دی آپ نے‘، گو کہ عمیرنے دانستہ اپنی آواز آہستہ اور اپنے جذبات قابو میں رکھے تھے، مگر اس کا چہرہ اور لہجہ دونوں ہی اس کے غم و غصّے کے عکاس تھے۔ ’ارشد کے گھرانے پر پریشر ڈالنا تھا خواتین کے حقوق کے حوالے سے……اب کس منہ سے میں یہ بات کر سکتا ہوں؟‘۔ اس نے سامنے رکھا اخبار ایک بار پھر اٹھا لیا اور بآوازِ بلند ایک جملہ پڑھ کر سنانے لگا۔
’’……خبر رساں ایجنسی کی اطلاعات کے مطابق ہاشمی ہاؤس کے مردوں کی اکثریت میڈم نبیلہ کی خاتون مہم کے خلاف ہے اور انہیں درونِ خانہ بہت سی مشکلات، پابندیوں اور سختیوں کا سامنا ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے بھی انہیں کوئی حمایت یا مدد حاصل نہیں جو افسوس ناک امر ہے۔‘‘……
اس نے ایک اور شکایتی نظر بھائیوں پر ڈالی۔
’’……آپ لوگوں کو سرے سے احساس ہی نہیں ہے کہ میں یہ گھر کتنی محنت سے چلا رہا ہوں۔ کتنی سر کھپائی اور مغز ماری کرنی پڑتی ہے……لوگوں سے ، دنیا سے اچھے تعلقات قائم کرنے کے لیے۔ میں نے سوچا تھا ہمارے گھرانے کا ایک سوفٹ امیج دنیا کے سامنے آئے تو کاروبار میں کتنی آسانی ہو گی۔ کتنے سارے امکانات تھے……کتنے پلانز تھے……سارے منصوبوں پر پانی پھیر دیا آپ کی ایک غلطی نے……‘‘۔
’’……ایسی بات نہیں ہے عمیر، تم زیادہ محسوس کر رہے ہو……‘‘، ابوبکر صاحب نے اسے جذباتی ہوتے دیکھ کر تسلّی دینا چاہی۔ عثمان صاحب ہنوز خاموش بیٹھے تھے۔
’’چھوڑئیے بھائی جان………ایسی بات نہیں ہے تو کیسی بات ہے……پتہ نہیں آپ کو خبر ہوئی یا نہیں لیکن کل شام کالج کے لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک گروپ ہاتھ میں پلے کارڈز اٹھائے عین ہمارے گیٹ کے سامنے نبیلہ سے اظہارِ یک جہتی کرنے کے لیے اکٹھا ہوا تھا۔ گھنٹہ بھر وہ لوگ نعرے بازی کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے نذیر کو بھیجنا پڑا کہ انہیں رخصت کرے۔ کل سے اس کی ساری خبریں مسلسل فیس بک اور ٹوئٹر پر چھائی ہوئی ہیں ۔ آپ دونوں کی تو خیر ہے، اپنے اپنے کمروں میں جا کر باقی سب بھلا دیتے ہیں مگر اس کرسی پر بیٹھ کر مجھے اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے پڑتے ہیں……‘‘، عمیر نے تلخی سے جواب دیا۔
اور یہ سچ بھی تھا۔ دو دفعہ تو عمیر زوار کے ساتھ نبیلہ کو منانے کے لیے اس کے کمرے تک جا چکا تھا، مگر نبیلہ نے دروازہ کھولنے تک سے انکار کر دیا کہ اب وہ مزید کسی مرد پر اعتبار کرنے کا رِسک نہیں لے سکتی۔ اور یہ عمیر اور اس کی انتظامیہ کے لیے کتنی شرم کی بات تھی کہ ان کے تمام تر دعووں کے برخلاف، ان کے گھرانے کا ایسا متشدد رخ دنیا کے سامنے آیا تھا۔ عمیر اس کا جتنا بھی ماتم کرتا کم تھا۔
آدھا گھنٹہ اس کے شکوے شکایتیں اور الزامات کی فہرست سننے کے بعد جب وہ دونوں اس کے آفس سے باہر نکلے تو عثمان صاحب، جو عمیر کے سامنے اول تا آخر، بالکل خاموش بیٹھے رہے تھے، نے آخرکار اپنی چپ توڑ ڈالی۔
’’بھائی جان! مجھے اپنے کسی فعل پر کوئی شرمندگی یا ندامت نہیں ہے۔ نبیلہ آپ کی بیٹی ہے، مگر جس قسم کی حرکتیں وہ کر رہی ہے اور اپنے ساتھ باقی سب لڑکیوں کو بھی اس نے لگا رکھا ہے، تو وہ اس سے کہیں زیادہ سخت سلوک کی مستحق ہے جو میں نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ اور میں یہ بات پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں، مگر اب ایک بار پھر کہتا ہوں اور صاف صاف کہتا ہوں…… گھر میں یہ جمہوریت والا تجربہ ہماری بہت بڑی غلطی تھی، اگر اب بھی ہم نے سبق نہ سیکھا اور اس تماشے کو ختم کر کے گھر کے حالات سدھارنے کی کوشش نہ کی تو مجھے ڈر ہے کہ ہم جلد ہی بہت بڑا نقصان اٹھائیں گے‘‘، وہ سنجیدگی سے کہہ کر ان کے جواب کے منتظر تھے، مگر ابوبکر صاحب سوائے بے بسی سے انہیں دیکھنے کے، کچھ بھی نہ کر سکے۔
’بھائی جان! آخر کب تک ایسے چلتا رہے گا؟ آپ کب اپنی یہ خاموشی ختم کریں گے؟‘، ان کی خاموشی نے عثمان صاحب کو اشتعال دلا دیا تھا۔
’میں کیا کر سکتا ہوں عثمان ……تم ہی بتاؤ……میرے ہاتھ میں کیا ہے؟تم لوگوں کے ووٹوں کی بدولت ہی آج عمیر گھر کی سربراہی سنبھالے بیٹھا ہے۔ میری کیا حیثیت ہے کہ میں کسی معاملے میں دخل اندازی کروں یا زور زبردستی کروں؟ جہاں تک بس چلتا ہے پارلیمان میں بات کرتا ہوں، ہر معاملے میں مشورہ دیتا ہوں۔ مگر مشورہ ،مشورہ ہوتا ہے، حکم نہیں۔ اب تم کیا چاہتے ہو کہ سارے اصول قاعدے ایک طرف رکھ کے زبردستی اپنی بات منوانا شروع کر دوں ……؟ آمر بن کر بیٹھ جاؤں تم سب پر……؟ عمیر کی سب باتیں……اس کے اعتراضات کو سچ ثابت کر دوں……؟‘، ابوبکر صاحب پھٹ پڑے تھے۔ آخر ہر شخص انہیں ہی کیوں موردِ الزام ٹھہراتا تھا، انہی سے کیوں سب کو یہ توقع تھی کہ وہ حالات سدھاریں گے۔ جب حالات کے بگاڑ کے وہ ذمہ دار نہیں تھے، تو سدھار کی توقع ان سے کیوں کی جا رہی تھی۔ انہیں طیش میں آتا دیکھ کر عثمان صاحب نے ایک گہری سانس لے کر خود کو پرسکون کرنا چاہا۔ معاملات کا حل بحثا بحثی اور آپسی لڑائی جھگڑے میں نہیں تھا۔
’’آپ آئیے میرے ساتھ …… کہیں چل کر بات کرتے ہیں‘‘۔
وہ ان کا ہاتھ تھامے سیدھا پورچ کی طرف آ گئے۔ خوش قسمتی سے اس وقت گھر میں موجود گاڑیوں کی قطار میں سب سے آخری گاڑی انہی کی کھڑی تھی۔ چند منٹ بعد وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر باہر نکل رہے تھے۔ کوئی خاص منزل تو عثمان صاحب کے ذہن میں نہ تھی کیونکہ وہ تو محض پر سکون ماحول میں ابوبکر صاحب سے باتیں کرنا چاہتے تھے، لہذا انہوں نے گاڑی کینال روڈ کی جانب موڑ دی، کہ نہر والی سڑک طویل بھی تھی اور سیدھی سیدھی ڈرائیو گفتگو کا بہترین موقع بھی فراہم کر دیتی۔
’’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سارے جہان کے مسائل ہمارے گھر میں جمع ہو گئے ہوں……بیویاں ہیں تو ہر وقت گلے شکوے لیے بیٹھی ہوتی ہیں، ……بچے ہیں تو قابو سے باہر……کسی کی کوئی خبر نہیں کہ تعلیمی کارکردگی کیسی جا رہی ہے، مشاغل کیا ہیں، دلچسپیاں کیا ہیں……بس اگر کچھ نظر آتا ہے تو یہ کہ ہر وقت موبائلز، لیپ ٹاپس ،فیس بک اور نجانے کیا کیا بلائیں ہیں، جن کے بارے میں یہ باتیں کرتے رہتے ہیں……‘‘، عثمان صاحب کو سمجھ نہ آ رہا تھا کہ بات کی ابتدا کہاں سے کریں۔ مسائل کی ایک لامتناہی فہرست تھی دماغ میں، سو وہی بڑے بھائی کے گوش گزار کرنی شروع کر دی، اور کچھ نہیں تو دل ہی ہلکا ہو جائے گا۔’’……جو کوئی وقت بچتا ہے تو اس میں ٹی وی سے چپک کر بیٹھ جاتے ہیں، یہ بھی اچھی مصیبت ہم نے پال لی ہے……‘‘، اس پر ابوبکر صاحب نے شاکی نظروں سے انہیں دیکھا،وہی تو تھے جو اس ٹی وی کے گھر میں آنے کے سب سے بڑے مخالف تھے، کتنا کہا تھا انہوں نے کہ اسے مت آنے دو، مگر اس وقت باقی سب آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے۔
’’پتہ نہیں کسی کی نظر لگ گئی ہے ہمارے گھرانے کو یا کسی بد عملی کی سزا ہے……مگر اتفاق اور محبت تو جیسے بالکل ہی اٹھ گیا ہے ہمارے درمیان سے……گھر آؤ تو مسئلے ہی مسئلے ہوتے ہیں۔ اِس کو اُس سے مسئلہ ہے، اُس کو اِس سے مسئلہ ہے…… بھابھیوں کی آپس میں نہیں بن رہی …… بچے ہیں تو دادا تک سے شکایت ہے کہ وہ کزنز کو ہم پر فوقیت دیتے ہیں۔ بہنوں اور بیٹیوں کو بھائیوں اور باپوں پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ ان کا بھلا چاہتے ہیں…… اور خود گھر سے تو جیسے کسی کو بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے، …… اور معاف کیجیے گا بھائی جان…… مگر اس سے آپ بھی مبرا نہیں ہیں……آپ بھی یوں لاتعلق ہو کر رہتے ہیں جیسے سرے سے کوئی پروا ہی نہ ہو کہ گھر اور گھر والے کس سمت جا رہے ہیں…… ‘‘، نہ چاہتے ہوئے بھی وہ دوبارہ ابوبکر صاحب سے شکوہ کر بیٹھے تھے۔
’’……عثمان!……کوئی کب تک بولے……؟ کب تک میں اکیلا ہی چیختا رہوں کہ ہم صحیح سمت نہیں جا رہے؟ تم سمجھتے ہو مجھے کوئی پروا نہیں…… گھر کی کوئی فکر نہیں……مگر ہر الیکشن پر یہ تم سب کا ہی چناؤ ہوتا ہے کہ میرے بجائے عمیر کو سربراہِ خانہ ہونا چاہیے۔ ……میں خود تو الگ نہیں ہوا تم سب سے، مگر تمہارا کیا خیال ہے کہ تم لوگوں کا یہ انتخاب مجھے ہر بار یہ بات باور نہیں کراتا کہ عمیر بہر لحاظ مجھ سے بہتر منتظم ہے……پھر آخر میں کیوں مسلط کروں اپنے آپ کو تم سب پر……؟ اور جب یہ انتخاب تم سب کا ہے تو پھر آخر مجھ سے کس بات کا شکوہ ہے؟‘‘، ابوبکر صاحب تھکے ہوئے انداز میں بولے۔
’’رہنے دیجیے بھائی جان……انتخاب……چناؤ……میری پسند اور مرضی کا سربراہ……میں نہیں جانتا یہ کن چڑیاؤں کے نام ہیں۔ آپ کے خیال میں میں عمیر کو اپنا ووٹ دیتا ہوں……کیا واقعی آپ کو مجھ سے یہ توقع ہے……؟ بلکہ مجھ سے ہی کیا، جاوید، ابّا جی یا صولت آپا سےآپ یہ توقع کرتے ہیں……؟‘‘۔ عثمان صاحب نے براہِ راست ان کی آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا۔ ابوبکر صاحب نظر چرا گئے تھے۔
’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے……؟ تمہاری نہ سہی، گھر کی اکثریت کی تو یہی مرضی و منشا ہوتی ہے ناں……؟ نتیجہ تو بہر حال یہی نکلتا ہے……‘‘۔
’’مگر ایسا ہونا تو نہیں چاہیے ناں……گھر میں بہر حال بڑوں کی نسبت بچوں کی اکثریت ہے……یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ عقل والوں کی نسبت کم عقلوں کی اکثریت ہے۔ اس لیے نتیجہ تو یہی نکلے گا۔ بھلا میرےاور شہیر کے ووٹ کی ایک ہی قیمت اور حیثیت ہے……؟ کیا یہ انصاف ہے بھائی جان؟‘‘، انہوں نے جاوید صاحب کے بیٹے شہیر کی مثال دیتے ہوئے کہا جو ابھی حال ہی میں سات سال کا ہواتھا، اور آنے والے الیکشن میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والا تھا۔’’……میں سوچ سمجھ کر ، بہت سی مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے، ماضی و مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا ووٹ ڈالتا ہوں، شہیر اس لیے ووٹ ڈالتا ہے کہ کونسا نمائندہ اسے زیادہ بڑی چاکلیٹ آفر کرتا ہے……کیا یہ دونوں ووٹ برابر ہیں؟……اور نتیجہ کیا نکلتا ہے…… کہ زیادہ چاکلیٹیں کھلانے والے جیت جاتے ہیں اور میں اپنے اکلوتے ووٹ کے ساتھ منہ دیکھتا رہ جاتا ہوں…… ‘‘۔
’’مگر عثمان……جمہوریت میں تو یونہی ہوتا ہے……اس بارے میں کیا بحث کریں۔ تم یہ بھی تو دیکھو ناں کہ اس میں ہماری کوتاہی ہے کہ بچے زیادہ چاکلیٹیں کھلانے والے کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اپنے بچوں پر محنت ہی نہیں کی، ان کے ذہن ہی تیار نہیں کیے کہ ووٹ ڈالنے سے پہلے وہ کن چیزوں کو مد نظر رکھیں……‘‘۔
’’معذرت کے ساتھ بھائی جان…… میں نہیں سمجھتا کہ اتنا چھوٹا بچہ اتنی بڑی باتیں سمجھ سکتا ہے۔ بلکہ شہیر تو بہت چھوٹا ہے ، مجھے تو ان بڑوں سے جو بالغ ہونے کے باوجود ذہنی طور پر نابالغ رہ گئے ہیں، کسی طور یہ توقع نہیں ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے سے پہلے اپنے اپنے ذاتی مفاد کے علاوہ بھی کچھ سوچتے سمجھتے ہیں……اور اس سلسلے میں ہماری تعلیم و تربیت شاید ہی کوئی فائدہ یا اثر دکھائے …… نہیں……میرے تو خیال میں یہ سسٹم ہی غلط ہے‘‘، عثمان صاحب شاید مایوسی کی انتہا پر تھے۔
’’……نہیں عثمان، تم خواہ مخواہ جذباتی ہو رہے ہو……اس میں سسٹم کا کیا قصور ہے؟ سسٹم بالکل ٹھیک ہے، ہمیں اپنی غلطی اور کوتاہی پر نظر کرنی چاہیے۔ ہم نے ذہنی طور پر اپنے گھر اور بچوں پر کوئی محنت ہی نہیں کی۔ آٹھ مہینے پہلے ہم نے یہ محنت کی تھی تو کیا نتائج مختلف نہیں تھے؟…… مگر ایک بار عمیر سربراہ بنا تو اس کے بعد ہم اپنی ساری کوشش اور جدو جہد ترک کر کے بیٹھ گئے۔ ہم صرف اس وقت کام کرتے ہیں جب الیکشن سر پر آ جاتے ہیں……حالانکہ ضرورت اس چیز کی ہے کہ سربراہی ہمارے ہاتھ میں ہو یا نہ ہو، مگر ہم ہر ٹرم میں اپنے گھر والوں کی ذہنی تیاری کریں‘‘، عثمان صاحب کی بات نے ان کے ذہن میں کسی اور کی یاد تازہ کر دی تھی، وہ اس یاد کو جھٹکتے ہوئے بے چینی سے بولے ۔
’’مجھے ہر ٹرم کے دوران بچوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت سے کوئی اختلاف نہیں، بحیثیت باپ یہ ہمارا فرض بھی ہے……لیکن اس کے باوجود…… اس کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ جمہوریت والا سسٹم ٹھیک نہیں ہے……یا کم از کم ہمارے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ پچھلی ٹرم میں بہت محنت کی تھی، اس کے نتیجے میں آپ سربراہ بنے بھی، مگر پھر کہاں گئی وہ ساری تربیت……؟ چار مہینے نہ نکال سکی اور اگلی ٹرم میں پورے گھر نے عمیر کو بطور سربراہ چن لیا!……اب کیا ہر ٹرم میں میں اپنے بچوں کو از سرِ نو یہ بات سمجھایا کروں کہ انہیں ووٹ کس کو دینا چاہیے؟ کیا ہر چار مہینے بعد یہ ثابت کیا کروں کہ میں تمہارا باپ ہوں، اس لیے تم لوگوں کے ووٹوں کا حق دار ہوں؟‘‘۔
’’یہی تو میں تمہیں سمجھانا چاہ رہا ہوں عثمان……اگر ہم پوری پوری ٹرم اس بات پر محنت کیا کریں، بلکہ اس کو اپنا نصب العین بنا لیں، مستقل یہ بات اپنے بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے ذہنوں میں ڈالیں تو ہمیں ہر چار ماہ بعد از سرِ نو یہ محنت نہیں کرنی پڑے گی……میرے خیال میں ہمیں ایک بار پھر مل بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے، کہ اب کیسے حالات کو سدھارا جائے ……‘‘۔ عثمان صاحب کی باتوں نے ابوبکر صاحب میں کچھ کرنے کا حوصلہ تازہ کر دیا تھا، ان کو اپنے سامنے راستہ صاف نظر آ رہا تھا۔ وہ ایک بار پھر منصوبہ بندی اور محنت کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ خود عثمان صاحب جانےقائل ہوئے تھے یا نہیں، لیکن خاموش ضرور ہو گئے تھے۔
٭٭٭٭٭
آج عثمان صاحب اور نبیلہ والے حادثے کو گزرے پانچواں دن تھا، مگر اس کے باوجود گھر کی فضا شدید ٹینشن کا شکار تھی۔نبیلہ اور فاطمہ اپنے پورشن میں بالکل کمرہ نشین ہو کر رہ رہی تھیں۔ نہ وہ کھانے پینے کے اوقات میں باہر نکلتیں نہ ہی کسی سے بات چیت کرنے پر راضی نظر آتی تھیں۔ گو کہ گھر کی تقریباً تمام خواتین کو نبیلہ سے اس حوالے سے ہمدردی تھی کہ بھرے مجمع میں عثمان صاحب نے اس پر ہاتھ اٹھا لیا، مگر نبیلہ اور اس کی مشیران گھر کی خواتین سے بھی چند ناگزیر جملوں کے سوا کوئی بات نہ کرتی تھیں۔ دوسرے پورشن میں ہادیہ و جویریہ بھی نبیلہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے کمرے میں بند رہنے کی کوشش کرتیں مگر انہیں اس سلسلے میں نبیلہ کی طرح کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ پہلے دن کے بعد ہی عثمان صاحب نے سختی سے حکم جاری کر دیا کہ سب بچے کھانے کے اوقات میں کھانے کی میز پر موجود ہونے چاہیئں۔ اسی طرح شام کی چائے بھی اب وہ تمام بچوں کے ساتھ پابندی سے لاؤنج میں بیٹھ کر پیتے تھے، اور اس وقت میں سب بچوں کی موجودگی انہوں نے لازم قراردے دی تھی۔ سو چار و ناچارہادیہ اور جویریہ کو بھی تعمیل کرنی پڑتی۔ مگر وہ ستے ہوئے چہروں اور خفگی بھرے دلوں کے ساتھ باپ کے پاس آ کر بیٹھتیں اور الّا یہ کہ ان سے کوئی سوال کیا جائے، وہ خاموش ہی رہتیں۔ نور آج کل اپنے کمرے سے غیر رسمی طور پر بے دخل ہو چکی تھی مگرہادیہ اور جویریہ کے لیے فیملی کے دیگر افراد کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بھی وہی تھی۔ قصّہ مختصر یہ کہ ان کا خاموش احتجاج جاری تھا۔ اور گو کہ عثمان صاحب حد درجہ بے نیازی کا اظہار کرتے تھے لیکن اندر ہی اندر وہ اپنے بچوں کے رویوں پر شدید پریشانی اور الجھن کا شکار تھے۔
گھر کے لڑکے خلافِ معمول سارے معاملے پر خاموش رہے تھے۔ بہنوں کو ستانا، چڑانا اور ان کے جذباتی جملوں اور ارادوں کا مذاق اڑانا وغیرہ سب آج کل بالکل بند تھا۔ زوار نے تو عثمان چچا کے رویّے کی کھلم کھلا مذمت بھی کی تھی، باقیوں میں سے کوئی کچھ بولا تو نہ تھا، مگر گھر کے افراد میں سے کوئی بھی اس واقعے سے خوش نظر نہ آتا تھا، گو کہ بعض کا خیال یہ بھی تھا کہ نبیلہ آپی واقعی حد سے گزر رہی تھیں۔ گھر کی فضا اس وقت مزید خراب ہو جاتی جب باہر گلی سے نعروں اور ہوٹنگ کی آواز آتی۔ شروع میں تو یہ سلسلہ بہت زیادہ تھا گو کہ دوسرے تیسرے دن کے بعد اس میں کافی کمی آ گئی۔نبیلہ سے ہمدردی رکھنے والے عموماً شام کے یا صبح کے اوقات میں ان کے گیٹ کے باہر جمع ہو جاتے اور کچھ دیر نعرہ بازی کرنے اور اکّا دکّا پتھر ان کے لان میں اچھالنے کے بعد منتشر ہو جاتے۔ یہ ہجوم زیادہ تر کالج اور قریب واقع ہائی سکول کے لڑکے لڑکیوں پر مشتمل ہوتا، جو فیس بک پر مسلسل خاتون مہم کے ارکان سے رابطے میں تھے اور ان کی مشکلات پر ان سے ہمدردی رکھتے تھے۔ اظہارِ یکجہتی کے لیے انہیں یہ طریقہ سوجھا تھا۔ جس جس کے کمرے کی کھڑکی گیٹ کی جانب کھلتی تھی، وہ براہِ راست مشاہدہ بھی کر لیتا، ورنہ آوازیں تو سبھی کے کانوں میں پہنچتی تھیں۔ اور صولت بیگم، فائزہ بیگم اور گھر کی بڑی خواتین کے لیے یہ سلسلہ بہت تکلیف دہ تھا۔ انہیں کئی سال ہو چکے تھے اس محلّے میں رہتے ہوئے، مگر ایسی خجالت اور شرمندگی سے ان کا پہلی بار واسطہ پڑا تھا۔
عمیر اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کر چکا تھا نبیلہ کو منانے کی۔ مگر نبیلہ کی ایک ہی رٹ تھی کہ جب تک گھر کے مرد خواتین کے وجود، ان کی اہمیت اور ان کے حقوق کو تسلیم نہیں کریں گے، وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کرے گی۔ اسے عثمان صاحب یا عمیر کی جانب سے کسی معذرت کی طلب نہیں تھی۔ اس کی نظر میں خواتین کے حقوق کا تحفظ تبھی ممکن تھا جب گھر میں کسی خاتون کو سربراہِ خانہ کے مساوی اختیار دیا جاتا اور سربراہِ خانہ کو اس بات کا پابند کیا جاتا کہ وہ ہر معاملے میں اپنی اس ہم منصب سے مشورہ کرے گا۔ گو کہ وہ مشورہ قبول کرنے کا پابند نہیں ہو گا، لیکن اگر کسی معاملے میں خاتون ہم منصب کی رائے اس کی رائے کے ساتھ مطابقت نہ رکھتی ہو تو سربراہِ خانہ کو اکیلے اس معاملے کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہ ہو گا۔ یا بصورتِ دیگر چونکہ وہ ایک آزاد و خود مختار جمہوریت تھے، تو تین ایسی ٹرمز کے بعد کہ جن میں گھر کی سربراہی مردوں کے ہاتھ میں رہی تھی، اب ایک موقع خواتین کو بھی ملنا چاہیے۔
اور اس سب پر مستزاد الیکشن کے دن تیزی سے قریب آ رہے تھے۔ گو کہ نبیلہ نے رسمی طور پہ الیکشن کا بائیکاٹ کر رکھا تھا، اور اس کی گھر کی خواتین سے بات چیت بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ مگر اب جب بھی اسے موقع ملتا تو وہ نسرین، بینش ، فائزہ بیگم اور گھر کی دیگر خواتین کے سامنے چھوٹے چھوٹے تلخ جملوں کی صورت میں یہ بات ضرور کرتی کہ گھر میں ان سب کی پوزیشن کس قدر کمزور اور بے حقیقت تھی۔ اور یہ کہ ان کے گھر کو ایک خاتون سربراہ کی کس قدر اشد ضرورت تھی۔ ایسی سربراہ جو خواتین کے مسائل اور خواہشات کو سمجھتی ہو۔ جو مردانہ تعصب کی نظر سے ہر خاتون کو نہ دیکھتی ہو، بلکہ جو خواتین کی مشکلات اور پریشانیوں کا حقیقی ادراک رکھتی ہو۔ اس کی باتیں عموماً ان تلخیوں اور نانصافیوں کے گرد گھومتیں جن کا ان سب کو بحیثیت عورت وقتاً فوقتاً سامنا کرتے رہنا پڑتا تھا۔ ان کے بر عکس عمیر کی پارٹی بہت سر گرم تھی۔ آج کل جگہ جگہ نوجوان پارٹی کے اسٹِکر اور نعرے چسپاں نظر آتے۔جوں جوں الیکشن کے دن قریب آ رہے تھے گھر کے لڑکوں کا انتظار بڑھتا جا رہا تھا کہ دیکھیں اس بار عمیر کیا آفر کرتا ہے۔ کسی کا کہنا تھا کہ موبائل کے بعد لیپ ٹاپ تقسیم ہونا چاہیے، کہ وہ وقت کی ضرورت ہے۔ کوئی کہتا کہ نہیں چونکہ اس بار خواتین نے اپنی پارٹی الگ کر لی ہے، اور نوجوان پارٹی اب خالصتاً مردانہ پارٹی بن گئی ہے، سو اس بار شاید چاچو کوئی مردانہ چیز آفر کریں گے، جیسے موٹر بائیک۔ یہ صہیب کا نادر خیال تھا۔ اور اس بار وہ ہر حال میں اپنے آپ کو انعام کا حق دار ثابت کرنے کے لیے پر عزم تھا۔
گھر میں ایک تیسری پارٹی بھی تھی۔ گو کہ یہ پارٹی بہت مختصر سی تھی مگر شاید عزم و ہمت کے اعتبار سے دیگر دونوں پارٹیوں سے کہیں آگے تھی۔ یہ ابوبکر، عثمان اور جاوید صاحب کی پارٹی تھی۔ گھر کے حالات کو دیکھتے ہوئے وہ تینوں ایک بار پھر کمر کس کے میدان میں اترے تھے۔ اور اس بار انہوں نے بہت عرق ریزی سے تفصیلی منصوبہ بندی کی تھی۔ نہ صرف الیکشن مہم چلانے کی بلکہ اس کے بعدحکومت بنانے اور اس کے نظم و نسق کی بھی۔ انہیں نظر آ رہا تھا کہ معاملات تیزی سے ان کے اختیار اور قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا اب انہیں گھر کے حالات سدھارنے تھے، اور یہ ان کی اولین ترجیح بن گئی تھی۔تینوں بھائی اٹھتے بیٹھتے اپنے اپنے گھر میں، اپنی بیگمات اور بچوں کے سامنے ذہن سازی کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہر دوسرے تیسرے دن اپنے گھر والوں کے لیے تحفے تحائف لانا، انہیں باہر گھمانے پھرانے کے لیے لے جانا اور ان کی فرمائشیں پوری کرنے کی بھی غیر معمولی کوشش کر رہے تھے۔ چونکہ اب سب کو ماہانہ جیب خرچ ایک قانون کے تحت ملتا تھا اس لیےتینوں بھائیوں میں سے کسی کے پاس بھی ان کاموں کے لیے اضافی رقم موجود نہیں تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے کچھ ابّا جی کی مدد سے اور کچھ اپنے اپنے کھاتے جمع کر کے اتنی رقم جمع کر لی تھی کہ جس کے ذریعے یہ اضافی خرچے پورے کیے جا سکیں۔
٭٭٭٭٭
رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ نبیلہ نے ہاتھ میں پکڑی کتاب کا صفحہ پلٹتے ہوئے ایک بار پھر ایک محتاط نظرفاطمہ پر ڈالی۔ مگر اسے اتنی احتیاط کی ضرورت نہ تھی۔ فاطمہ پچھلے دس منٹ سے اونگھ رہی تھی۔ وہ ٹیبلِٹ سے ائیر فونز کونیکٹ کیے کچھ سنتے سنتے بہت دیر سے اونگھ رہی تھی۔ لیکن اب تو وہ یقینی طور پر نیند کی وادی میں پہنچ چکی تھی۔ نبیلہ نے آہستگی سے کتاب سائڈ پر رکھی اور اپنے سنگل بیڈ سے اٹھ کر بغیر آواز پیدا کیے فاطمہ کی طرف بڑھی۔ نہایت آہستگی سے اس نے اس کے کانوں سے ائیر فونز نکالے اور گود سےٹیبلٹ اٹھا کر واپس اپنے بیڈ پر آ بیٹھی۔ چند ٹَیپس اور سکرولز کے بعد سکرین پر اس کا فیس بک اکاؤنٹ کھلا ہوا تھا۔ پیغامات کے خانے میں سامنے ہی آج صبح موصول ہونے والا وہ پیغام رکھا تھا، جس کی خاطر وہ ابھی تک جاگ رہی تھی۔
’’تمہارا خاموش احتجاج اب چند روز سے زیادہ چلنے والا نہیں۔ اگر اس کے اپنے آپ دم توڑ دینے سے پہلے کوئی فائدہ اٹھانا چاہتی ہو تو آج رات سرونٹ کوارٹر کی جانب والے ٹیرس پر مجھ سے ملو‘‘۔
پیغام میں کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا تھا۔ وہ اس بارے میں ہادیہ یا فاطمہ سے مشورہ کرنا چاہتی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ فاطمہ توچھوٹتے ہی یہ کہتی کہ یقیناً یہ مردوں میں سے کسی کی سازش ہو گی اور انہیں قطعاً اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جبکہ ہادیہ خود اسی کو پریشان نظروں سے دیکھتی اور کہتی کہ آپی! ہمیں کسی کی مدد کی کیا ضرورت ہے؟ جب ہم حق پر ہیں تو جیت تو ہر صورت میں ہماری ہی ہو گی۔ مگر وہ اتنی بیوقوف نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ حالات کو اپنے حق میں ڈھالنے کے لیے خود اپنے ہاتھ پاؤں کچھ نہ کچھ ہلانے پڑتے ہیں۔حالات خود بخود آپ کے موافقِ حال نہیں ہو جاتے۔ یہ دنیا کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر کھڑی ہے۔اور لین دین کے اس کھیل میں جیت اس کھلاڑی کی ہوتی ہے جو اپنی ترجیحات اپنے سامنے واضح رکھے۔ دینے کی صورت میں وہ کیا کچھ دے سکتا ہے اور لیتے ہوئے اسے کس چیز کو اپنی ترجیح بنانا ہے، کس وقت کیا لینا ہے اور کس وقت کیا دینا ہے، اور اگر موقع ملے تو کس وقت جھپٹ لینا ہے، ان تمام امور کا فیصلہ بہت زیادہ ہوشیاری اور ہوش مندی کا تقاضا کرتا ہے۔
اس کے ذہن میں صبح نسرین آپا سے ہونے والی گفتگو تازہ ہو گئی۔ وہ ناشتہ کے بعد ابوبکر صاحب کا پیغام لے کر اس کے پاس آئی تھیں۔ ابوبکر صاحب چاہتے تھے کہ وہ اپنی ناراضگی بھلا کر ان کے پاس آ جائے۔ وہ اس کے تمام گلے شکوے اور شکایات سنیں گے اور انہیں رفع کریں گے۔ وہ ان کی بہت سمجھدار بیٹی تھی اور انہیں اس سے بہت سی توقعات تھیں، وہ سمجھتے تھے کہ اگر نبیلہ خود بھی ٹھنڈے دل سے غور کرے تو اسے اپنے چچا سے شکایت نہ ہو گی، لیکن اگر پھر بھی اس کا دل صاف نہ ہوا تو عثمان صاحب اس کو منانے کے لیے تیار تھے۔ اور گو کہ یہ ابوبکر صاحب کے الفاظ نہ تھے، مگر شاید نسرین کے اس مشورے کے پیچھے کارفرما خواہش ابوبکر صاحب ہی کی تھی، کہ نبیلہ کے لیے بہترین راستہ یہی تھا کہ وہ اپنے والد اور چچا سے مصالحت کر لے، اس طرح تمام مسائل کا حل آسان ہو جائے گا اور پچھلے کچھ عرصے میں جتنی زیادہ غلط فہمیاں اور دوریاں ان باپ بیٹیوں کے درمیان پیدا ہو رہی تھیں، ان کا بھی ازالہ ہو جاتا۔
نسرین آپا کے اس پیغام پر وہ اور فاطمہ دونوں بھڑک اٹھی تھیں۔ اس پیغام نے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائےنمک چھڑکنے کا کام کیا۔ آخر وہ کیوں اپنے والد یا چچاؤں میں سے کسی پر اعتبار کریں، جب ابھی چند دن پہلے ہی ان کے ایک چچا نے انہیں پوری دنیا کے سامنے ذلیل و بے عزت کیا تھا۔ ان کے مسائل کا حل جھکنے اور مصالحت کرنے میں نہیں تھا، یہ سب تو وہ ساری زندگی کرتی آئی تھیں۔ اب تو سر اٹھا کر جینے کا وقت تھا، اب تو صنفِ مخالف کی باری تھی کہ وہ ان کے سامنے جھکتے اور ان سے مصالحت کی کوشش کرتے، ابھی ہی تو وہ اپنے حقوق کے حوالے سے آگاہ و بیدار ہوئی تھیں، اب ہی تو انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی معاملے میں صنفی تفریق برداشت نہ کریں گی۔ وہ کیسے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کر لیتیں۔ سمجھوتے کا مطلب تھا دوبارہ اس زندگی پر راضی ہو جانا جس میں سارے کام اور سارے بوجھ عورت کے کندھوں پر آتے ہیں جبکہ ساری عیاشیاں اور راحتیں مرد کے حصّے میں۔
نسرین آپا کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی اسے اپنے موبائل پر فیس بک میسنجر پر موصول ہونے والے پیغام کا نوٹیفیکیشن ملا۔ پیغام جس اکاؤنٹ سے آیا تھا وہ اس کے لیے انجان تھا۔ مگر پیغام کھولتے ہی وہ اس کا مطلب و مقصد واضح طور پر سمجھ گئی تھی۔ پھر سارا دن اس کا یہی تانے بانے بنتے گزرا تھا کہ کیا کیا جائے۔ وہ جائے یا نہ جائے؟ وہ مشورہ کرنا چاہتی تھی مگر کس سے کرتی۔ ابھی بمشکل گھنٹہ بھر پہلے تو کتنے واشگاف انداز میں اس نے نسرین آپا سے کہا تھا کہ وہ اور اس کی ساتھی ہر گز ہرگز اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں گی۔ہادیہ اور فاطمہ کے جوابوں کا اسےبہت اچھی طرح اندازہ تھا۔ جویریہ سے بات کرنا بالکل بیکار تھا، وہ ہادیہ کے سائے میں رہتی تھی، جو کچھ ہادیہ کہتی، وہ بھی بنا سوچے سمجھے دہرا دینے کی عادی تھی۔ ہاں شاید بینش چچی کوئی اچھا مشورہ دے سکتیں۔ مگر یہ نکتہ اٹھائے بغیر، بلکہ جتائے بغیر وہ بھی نہ رہنے والی تھیں کہ مثبت جواب دینے کی صورت میں وہ لا محالہ کسی مرد کی احسان مند یا کم سے کم مصالحت تو کرنے ہی والی تھی۔
وہ ٹیبلٹ بند کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ قریب رکھی کرسی کی پشت پر اس کی سنہری بارڈر والی سفید بڑی چادر لٹک رہی تھی۔ اس نے وہ اٹھا کر سلیقے سے اوڑھی اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ ہلکا سا بے رنگ لِپ گلوس اس نے عادتاً ہی اٹھا کر ہونٹوں پر لگا لیا۔ سفید چادر کے ہالے میں، موٹا سا چشمہ آنکھوں پر لگائے، اس کا چہرہ کم ہی دکھائی دے رہا تھا۔ دروازے تک پہنچ کر بھی وہ گو مگو کی کیفیت میں گھری ہوئی تھی۔ اب تک وہ جانے یا نہ جانے کا فیصلہ نہیں کر پائی تھی۔ اور اب تو یہ اضافی بے یقینی بھی تھی کہ نجانے پچھلی جانب والے ٹیرس پر کوئی اس کا منتظر بیٹھا بھی ہو گا یا نہیں۔ دروازے کا ہینڈل گھماتے ہوئے اس نے مڑ کر دیوار گیر گھڑی پر نظر ڈالی۔ بارہ بجنے میں پانچ منٹ تھے۔
وہ بہت احتیاط سے دبے قدموں چلتے ہوئے بالائی منزل پر پہنچی، اور پھر لاؤنج کے پچھلی طرف بنے ٹیرس کے دروازے تک۔ لاؤنج میں کھلنے والے چاروں دروازے اس وقت بند تھے اور سوائے نسرین کے کمرے سے آتی ہلکے سے نائٹ بلب کی روشنی کے، کہیں کوئی اور روشنی جلتی نظر بھی نہ آ رہی تھی۔ اس نے آہستگی سے ٹیرس کا دروازہ کھولا اور باہر قدم رکھا۔ ٹیرس پر چند قدم آگے بڑھنے اور محتاط نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے پر کسی کو بھی نہ پا کر اس نے ایک گہری سانس خارج کی۔ گویا کہ پیغام بھیجنے والا اس کا انتظار کر کے جا چکا ہے……یا پھر شاید وہ کبھی آیا ہی نہ تھا۔ جو کچھ بھی تھا، وہ شاید یہ موقع گنوا چکی۔
’’مجھے یقین تھا کہ تم ضرور آؤ گی……تم نے اتنا وقت لگایا کہ میں اب جانے ہی والا تھا……مگر بہر حال تم نے اچھا فیصلہ کیا‘‘، اپنے عقب سے ابھرتی یہ ہلکی سی آواز نبیلہ کی جان لینے کو کافی تھی۔ وہ تیزی سے گھومی، ٹیرس کے دروازے کے بالکل ساتھ کرسی پر بیٹھا، وہ اسی کا منتظر تھا۔ ’’آؤ بیٹھو!……بیٹھ کر بات کرتے ہیں……‘‘، اس نے اپنے ساتھ رکھی کرسی کی جانب اشارہ کر کے کہا۔
٭٭٭٭٭
جمعۃ المبارک۔ ۲۸ دسمبر، ۲۰۱۸ء
آج الیکشن کا دن تھا۔ آج جمہوریت کو ہاشمی ہاؤس میں نافذ ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا تھا۔ اگلے دن بروز ہفتہ، عمیر نے سب گھر والوں کے لیے اپنی جانب سے دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا کہ ۲۹ تاریخ کو وہ اپنے گھر میں جمہوریت کی پہلی سالگرہ منا رہے تھے۔ آج سے ایک سال قبل اس گھر میں پہلا الیکشن منعقد ہوا تھا۔ سبھی کے ذہنوں میں آج اس کی یاد بھی تازہ تھی۔ ایک سال کے اندر وہ کتنا طویل سفر طے کر آئے تھے۔ آج بھی وہ سب گھر کے ڈرائنگ روم میں جمع تھے۔ پردے کی ایک جانب مرد اور دوسری جانب خواتین۔ مگر آج کے الیکشن اور سال بھر پہلے کے الیکشن میں بہت فرق تھا۔ آج دونوں کمرے الیکشن جیسی تقریب کے شایانِ شان سجائے گئے تھے۔ جگہ جگہ تینوں پارٹیوں کے لوگو، ان کے سٹکر اور سلوگن، ان کے نعرے اور اہداف بیان کرتے پوسٹر اور بینر آویزاں تھے۔ دونوں کمروں میں مناسب جگہوں پر کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے جو پوری تقریب کی ریکارڈ نگ کر رہے تھے۔
ایک عجیب مگر خوشگوار اتفاق یہ ہوا تھا کہ الیکشن سے محض تین روز قبل نبیلہ اور اس کی پارٹی نے اپنی ناراضگی ختم کر کے الیکشن میں حصّہ لینے کا اعلان کر دیا تھا۔ گو کہ یہ سبھی کے لیے غیر متوقع تھا مگر ایک عرصے کے بعد انہیں سب میں گھلتا ملتا دیکھ کر سبھی نے شکر ادا کیا اور اس تبدیلی کو خوش آئند سمجھ کر قبول کر لیا۔
تین بجتے ہی ابّا جی اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس ایک سال کے اندر ابّا جی پہلے کی نسبت بہت ضعیف ہو گئے تھے۔ گو کہ وہ آج بھی اپنی لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے تھے لیکن ان کے وجود کا زیادہ تر بوجھ جاوید صاحب نے اٹھایا ہوا تھا، جو آہستہ آہستہ انہیں سہارا دے کر ان کے کمرے تک لے گئے، جہاں انہوں نے جلدی سے اپنی پرچی کمرے کے وسط میں رکھے شیشے کے ڈبے میں ڈالی اور جاوید صاحب کو اشارہ کیا کہ انہیں ان کے بیڈ تک پہنچا دیں۔ شام پانچ بجے تک سبھی اپنا ووٹ ڈال کر فارغ ہو چکے تھے۔ نسرین آپا ووٹوں کا ڈبہ اٹھائے ابّا جی کے بستر پر براجمان، ووٹ شمار کرنے کی خدمت سر انجام دے رہی تھیں، جبکہ باقی سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے، نتائج کے اعلان تک چائے اور ہلکے پھلکے سنیکس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
آج بھی ان سب کے چہروں سے ان کی اندرونی کیفیات کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔ عمیر اور زوار کے چہرے ایک خاص اطمینان اور اعتماد لیے ہوئے تھے، جیسے انہیں پہلے ہی خبر تھی کہ نتائج انہی کے حق میں ہوں گے۔ ان کی باتیں ، حرکتیں اور خوش گپیاں، سبھی اس اعتماد کا مظہر تھیں۔ ابوبکر، عثمان اور جاوید صاحب اپنی اپنی جگہ خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے چہرے امید کی روشنی لیے ہوئے تھے مگر فکر کی پرچھائیں بھی صاف نظر آ رہی تھیں۔ جبکہ خواتین کی جانب نبیلہ، ہادیہ اور فاطمہ بھی خاموش بیٹھی تھیں۔ ہادیہ کے ہونٹ مختلف دعاؤں اور وظیفوں کے ورد میں بے آواز ہل رہے تھے۔انہیں اپنی جیت کی کوئی خاص توقع نہ تھی، تین روز قبل ہی تو وہ میدان میں اتری تھیں، لیکن بہر حال ایک امید انہیں بھی تھی، اور امید پر ہی تو دنیا قائم ہے۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر خواتین نے مڑ کر دیکھا، نسرین آپا اندر داخل ہوئیں، ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پرچہ تھا۔
’’ابّا جی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے……وہ کہہ رہے تھے کہ وہ آرام کریں گے، سو میں ہی نتائج کا اعلان کر دوں……‘‘، وہ معذرت خواہانہ انداز میں بولیں۔
’’ٹھیک ہے……نذیر! تم باہر چلے جاؤ……نسرین اس طرف آ کر اعلان کر دے گی……‘‘، سب کی خاموشی پر آخر عمیر کو ہی کہنا پڑا۔ نذیر کے جاتے ہی درمیانی پردہ سرکا دیا گیا اور نسرین آپا دونوں کمروں کے درمیان ایسی جگہ کھڑی ہو گئیں کہ جہاں سے دونوں اطراف تک ان کی آواز بآسانی پہنچ جاتی۔
’’……آہم…‘‘، وہ ہلکا سا کھنکھاریں،’’……کل پچیس ووٹ ڈالے گئے تھے……‘‘، وہ رکیں۔ سب کی سانسیں گویا ان کی آواز کے ساتھ ہی رک گئی تھیں۔ کمرے میں ایک جامد خاموشی تھی۔
’’پچیس میں سے پانچ ووٹ ملے ہیں عمیر ہاشمی کو……‘‘
’’۶ ووٹ …… ابّو!آپ کو……میرا مطلب ہے ابوبکر ہاشمی کو……‘‘
’’……اور بقیہ ۱۴ ووٹ نبیلہ ہاشمی کے حصّے میں آئے ہیں……!!‘‘۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



