نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | دوسری قسط

by ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان
in غزوۂ ہند, مارچ 2026ء
0

ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان شہید مجاہدینِ پاکستان و برِّ صغیر کے درمیان کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کے یہاں ڈاکٹر ابو خالد کے نام سے معروف ہیں۔ پیش تر ان کی کتاب ’عصرِ حاضر کے جہاد کی فکری بنیادیں‘ زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو کر عام و خاص قارئین تک آج سے گیارہ سال قبل پہنچ چکی ہے ۔ ڈاکٹر ابو خالد رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری کتاب ’غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں‘ ، مؤلف شہید نے مارچ ۲۰۱۲ء میں مکمل کی، لیکن مختلف النوع وجوہات کی بنا پر اب تک شائع نہ ہو سکی۔


باب ثانی: ہندوستان کا مختصر تعارف

تعارف

۱۹۴۷ء میں ہندوستان، پاکستان اور بھارت دو ملکوں میں تقسیم ہو گیا۔ یہ تقسیم انگریزوں کےہندوستان سے چلے جانے کے نتیجے میں ہوئی۔ ابھی اس تقسیم کو ۲۵ سال بھی نہ ہوئے تھے کہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ ہندوستان جو کبھی ایک ملک ہوا کرتا تھا اب تین ملکوں میں تقسیم ہو گیا۔ ہندوستان میں بسنے والی قومیں ایک دوسرے سے مذہب، تمدن و معاشرت میں بہت مختلف ہیں اور تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش آنے والے اہم واقعات نے ان کے درمیان اختلاف و اتفاق کی نئی بنیادیں قائم کی ہیں۔ ہندوستان میں برپا کی جانے والی کسی بھی ہمہ گیر تحریک کے لیے ہندوستان میں بسنے والی مختلف قوموں کے آپس میں تعلقات کی مختلف جہتوں اور انکی نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ خصوصاً مجاہدین کو ان تمام معاملات میں دین اسلام کا وہ موقف سمجھنے اور اس کو احسن انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے جس میں پوری انسانیت کی فلاح پوشیدہ ہے۔

ہندوستان دور جدید میں

حالت و واقعات کی گواہی یہ ہے کہ ہندوستان میں جہاد برپا کرنے کے لیے مغربی ہند (موجودہ پاکستان) اور خطہ خراسان کے مجاہدین کو خصوصی کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور نبی کریم ﷺ کی سچی پیشین گوئی بھی۔ تاریخ میں خراسانی مسلمانوں نے ہندوستان پر تاخت و تاراج تو بہت کی ہے اور ہندوستانی مسلم حکومتیں اکثر خراسان ہی کی طرف سے آنے والے حملہ آوروں نے قائم کی ہیں لیکن ابھی تک تاریخ میں یہ واقعہ رونما نہیں ہوا ہے کہ خراسانی مجاہدین پورے ہندوستان پر قبضہ کر کے ہندوستانی بادشاہوں کو گرفتار کر لیں اور نہ ہی ابھی تک امام مہدی کا ظہور ہوا ہے جن کے لشکر کی معاونت کے لیے خراسان سے ایک لشکر بھی نکلے گا اور ہندوستان پر حملہ آور لشکر بھی ہندوستان سے فارغ ہو کر امام مہدی کے لشکر سے مل جائے گا۔ پس یہ واقعہ ابھی ظہور میں آنا ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ یہ کام مستقبل قریب میں ہی ہونے والا ہے۔ ہندوستان میں جہاد قائم کرنے کے لیے خراسان اور مغربی ہند سے آنے والے مجاہدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہندوستانی علاقوں ، ان کی تاریخ، ان کی آبادی کے خواص سے مطلع رکھیں تاکہ انہیں ہندوستان میں جہاد میں یہ معلومات معاونت کریں۔ اس ذیل میں پہلے موجودہ ہندوستان کی آبادی کی تقسیم بیان کی گئی ہے۔

ہندوستان کی آبادی

ہندوستان دنیا کا علاقے کے حساب سے ساتواں اور آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس کی آبادی ایک عشاریہ دو ارب ہے اس کا اسی فیصد ہندو، چودہ فیصد مسلمان، دو فیصد عیسائی ، دو فیصد سکھ اور باقی آبادی بدھ ، پارسی، یہودی اور دیگر مذاہب پر مشتمل ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی دنیا کی تیسری بڑی آبادی ہے۔ اس کی سمندری حدود سات ہزار کلومیڑ لمبی ہے۔ جو کراچی کے قریب سے شروع ہو کر خلیج بنگال میں بنگلہ دیش تک جا تی ہے۔ اس کے اٹھائیس ریاستیں  اور آٹھ یونین ٹریٹریز ہیں۔ جن میں:

  1. آندھرا پردیس (۹ فیصد مسلم آبادی)،
  2. ارونچل پردیش (۱ فیصد مسلم آبادی)
  3. آسام (۳۰ فیصد مسلم آبادی)،
  4. بہار (۱۶ فیصد مسلم آبادی)،
  5. چھتیس گڑھ،
  6. گوا (۷فیصد مسلم آبادی)،
  7. گجرات (۹ فیصد مسلم آبادی)،
  8. ہریانہ،
  9. ہماچل پر دیش،
  10. تلنگانہ
  11. جھاڑ کھنڈ (۱۳ فیصد مسلم آبادی)،
  12. کرناٹک (۱۲ فیصد مسلم آبادی)،
  13. کرالہ (۲۴ فیصد مسلم آبادی)،
  14. مدھیا پردیش (۶فیصد مسلم آبادی)،
  15. مہارا شٹر (۱۰ فیصد مسلم آبادی)،
  16. منی  پور (۸فیصد مسلم آبادی)،
  17. میگالہ،
  18. میزورام (۱ فیصد مسلم آبادی)،
  19. ناگا لینڈ (۱ فیصد مسلم آبادی)،
  20. اوڑیسہ (۲ فیصد مسلم آبادی)،
  21. پنجاب (۲فیصد مسلم آبادی)،
  22. راجستھان (۸ فیصد مسلم آبادی)،
  23. سکم (۱ فیصد مسلم آبادی)،
  24. تامل ناڈو (۵فیصد مسلم آبادی)،
  25. تریپرہ (۸فیصد مسلم آبادی)،
  26. اتر پر دیش (۱۸ فیصد مسلم آبادی)،
  27. اترا کھنڈ
  28. مغربی بنگال (۲۵ فیصد مسلم آبادی) شامل ہیں۔

آٹھ یونین ٹیریٹریز یہ ہیں:

  1. جمو ں وکشمیر (۶۶ فیصد مسلم آبادی)،
  2. انڈمان اور نیکو بار کے جزائر (۸ فیصد مسلم آبادی)،
  3. چندی گڑھ (۳ فیصد مسلم آبادی)،
  4. دادراہ اورنگر حویلی،
  5. ڈمن اورڈو (۸فیصد مسلم آبادی)،
  6. لکشاد یپ،
  7. دہلی (۱۱ فیصد مسلم آبادی)،
  8. پانڈی چری (۶فیصد مسلم آبادی)۔

ہندوستانی فوج کی عددی قوت

ہندوستان کی فوج تیرہ لاکھ ہے۔ اور سات آپریشنل کمانڈز میں تقسیم ہے۔ مشرقی فوج بنگلہ دیش کے ساتھ ہے۔ شمالی فوج کشمیر میں ہے مغربی فوج پنجاب میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ جنوب مغربی فوج راجستھان میں پاکستان کے سندھ بارڈر پر تعینات ہے۔ جنوبی اور وسطی فوج بھارت کی سٹرائک فوج کہلاتی ہے جو جنگ کی صورت میں دشمن کے علاقے پر قبضہ کر نے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کو پاکستان پر2.23:1 کی عددی برتری حاصل ہے۔

ہندوستان کی جغرافیائی تقسیم

ہندوستان جغرافیائی طور پر  پانچ علیحدہ علیحدہ خطوں میں تقسیم ہے۔

  1. مشرقی ہند ،
  2. جنوبی ہند ،
  3. شمالی ہند،
  4. مغربی ہند،
  5. وسطی ہند

یہ پانچوں نسلی ، لسانی اور مذہبی اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل جدا جدا ہیں مگر خاص تاریخی اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہو ئے ہیں۔ اس تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔

۱۔ مشرقی ہند

مشرقی ہندمیں بنگال، بہار، بنگلہ دیش اور اڑیسہ کی ریاستیں شامل ہے۔ مشرقی ہند میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی بنگال میں ہے۔ بنگال کے دو حصے ہیں ایک مشرقی بنگال اور دوسرا مغربی بنگال۔ مشرقی بنگال میں مسلمان اکثریت میں ہیں جب کہ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد تک ہے۔ ۱۹۰۵ء میں انگریزوں نے بنگال کو مشرقی اور مغربی بنگال میں دو علیحدہ علیحدہ صوبوں میں تقسیم کر دیا۔ ہندوؤں کی مخالفت پر اس کو ۱۹۰۹ء میں دوبارہ ایک صوبہ بنا دیا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ایک دفعہ پھر تقسیم ہو گیا اور مشرقی بنگال مشرقی پاکستان بن گیا جب کہ مغربی بنگال بھارت کا حصہ بن گیا۔ ۱۹۷۱ء میں مشرقی بنگال پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اس علاقے کی جہاد کی تاریخ بھی ہے اور دشمن کے خلاف مزاحمت کی تاریخ بھی۔

۲۔ جنوبی ہند

جنوبی ہند جزیرہ نما ہے۔ مغرب میں بحر عرب اور مشرق میں خلیج بنگال ہیں جبکہ جنوب میں بحر عرب اور خلیج بنگال کا ملاپ ہے۔ جنوبی ہند میں تامل ناڈو، کرناٹک اور کیرالا وغیرہ شامل ہیں۔ جنوبی ہند میں چار بڑی قومیں رہتی ہیں ۔ یہاں پانچ زبانیں بولی جاتیں ہیں۔ جن میں ملیالم، تامل، تلنگا، تولو اور کناڈا شامل ہیں۔ یہاں کے چار بڑے دریا گوداوری، کرشنا، ٹنگا بھدرا اور کاوری ہیں۔ ٹیپو سلطان بھی اس علاقے سے تھا۔ سری لنکا کی تامل ٹائیگر کا بھی اس علاقے سے تعلق ہے۔ اس علاقے میں جنگل اور سمندر دونوں ہیں۔ اس علاقے میں مسلمان کمزور مگر مناسب تعداد میں ہیں۔

۳۔ وسطی ہند

وسطی ہند ہندوستان کا ترقی یافتہ علاقہ ہے۔ اس میں آندھرا پردیش، مہراشٹر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے مغل سلطنت کے زوال کے دوران مرہٹہ قوت نے اپنی سلطنت قائم کر لی تھی۔ شیوا جی کے مرنے کے بعد یہ چار ریاستوں میں تبدیل ہو گیا تھا۔ لیکن یہ چاروں ریاستیں مل کر ایک پیشوا کے تحت اکٹھی تھیں۔ انگریزوں نے بالترتیب ۱۷۸۱ء، ۱۸۰۶ء اور ۱۸۱۸ء کی پہلی دوسری اور تیسری مرہٹہ جنگ میں مرہٹہ حکومت کا خاتمہ کر دیا اور وسطی ہند کو ۱۴۸ ریاستوں میں تبدیل کر دیا۔ ۱۹۴۷ء میں یہ تما م ریاستیں ہندوستان میں شامل کر دیں گئیں۔ اور ان کو آندھرا پردیش، مہراشٹر کے صوبوں میں شامل کر دیا۔ آج کل یہ علاقہ بھار ت کا تجارتی مرکز ہے۔ یہ زیادہ تر ہندو اکثریت کا علاقہ ہے۔

۴۔ شمالی ہند

شمالی ہند کے تین حصے  بھارت میں ہیں اور آدھا کشمیر ہے اور تیسرا حصہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات۔ اس علاقے میں بدھ مذہب زیادہ ہے یہ ہمالیہ کا پہاڑی علاقہ ہے۔ اس علاقے میں مسئلہ کشمیر پہلے سے ہی پاکستان اور انڈیا کے درمیان چل رہا ہے۔ جہادی مقاصد کے لیے مسئلہ کشمیر پانچ حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اسی علاقے میں انڈیا اور چین کے درمیان تبت کا مسئلہ بھی مسئلہ کشمیر کی طرح ہے۔ اس مسئلہ میں امریکہ بھی تبت والوں کے ساتھ ہے۔

۵۔ مغربی ہند

مغربی ہند وہ علاقہ ہے جسے آج پاکستان کہا جاتا ہے۔ یہ آٹھ لاکھ مربع میل پر پھیلا ہوا علاقہ ہے۔ اس میں سات انتظامی علاقے ہیں۔ چار صوبے جس میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اورخیبر پختون خواہ شامل ہیں اس کےعلاوہ  فاٹا، کشمیر اور شمالی علاقاجات بھی اس کی انتظامی یونٹ ہیں1جس وقت یہ تحریر لکھی گئی اس وقت فاٹا کا خیبر پختون خواہ میں انضمام نہیں ہوا تھا اور نہ ہی گلگت بلتستان کو علیحدہ حیثیت ملی تھی۔ (ادارہ)۔ اس کی نوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔ یہ ہندوستان کا ایسا علاقہ ہے جو  بیرونی دنیا سے ہندوستان کو جوڑتا ہے۔ یہ در ہ ٔخیبر، درۂ بولان اور درۂ خوجک کے ذریعے ایران اور افغانستان سے ملتا ہے۔ اسے ہندوستان میں داخلے کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند میں یہ مغربی پاکستان بن گیا۔ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان بننے کے بعد یہ صرف پاکستان ہی رہ گیا۔

ہندوستانی اقوام میں تعلقات کی بنیادیں

ہندوستان میں مسلمان، ہندو، بدھ مت ، جین مت، سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والی قومیں آباد ہیں۔ یہ قومیں مشرقی ہند میں ہوں یا مغربی ہند میں، شمالی ہند سے تعلق رکھتی ہوں یا جنوبی ہند سے، یہ ایک دوسرے سے تعلقات کے اپنے نظریات اور اپنی بنیادیں رکھتی ہیں۔ ہندوستان میں بسنے والی مختلف قوموں کے مابین موجود تعلقات کی مندرجہ ذیل چھ اہم بنیادیں ہیں جن پر وہ ایک دوسرے سے اتفاق و اختلاف کرتے ہیں۔

  1. دین اور مذہب
  2. مسلمانوں کے ہندوستان پر قبضے کے اثرات
  3. انگریزی دور حکومت کے اثرات
  4. آزادیٔ ہند کی جدوجہد کی تاریخ
  5. تقسیمِ ہند کے اثرات
  6. نیو ورلڈ آرڈر کے نظام کے اثرات

۱۔ دین و مذہب کے اثرات

ہندوستان ہمیشہ سے ایک مذہبی قسم کا ملک رہا ہے اور مذہب کا یہاں کی عوام کی زندگی پر ایک گہرا اثر رہا ہے۔ یہ مذہب ہندوستانی باشندوں کے درمیان اتفاق و اختلاف کی اہم ترین بنیاد رہا ہے۔ مذہب نے ہی جنوبی ہند کے ہندو کو نیپال کے ہندو سے بھی جوڑا ہوا ہے۔ اسی طرح مشرقی ہند (بنگال) کا مسلمان اپنے آپ کو انتہائی مغربی ہند کے پشتونوں کے ساتھ منسلک سمجھتا ہے۔ تقریباً یہی معاملہ ہندوستان میں پائے جانے والے دیگر مذاہب کا بھی ہے۔

دینِ اسلام نے اپنی حقانیت کے ساتھ ساتھ اپنی رواداری کی وجہ سے ہندوستان کے غیر مسلم باشندوں پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ مسلمان ہمیشہ سے اعلیٰ اخلاقی صفات، دیانت و امانت، شجاعت و سخاوت اور عادلانہ حکومت کے باعث ممتاز رہے ہیں۔ ہندوستان کے تمام مذاہب آپس کے اصولی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر لڑائی جھگڑے انگریزوں کی آمد سے قبل شاذ و نادر ہی رہے ہیں۔ مسلمانوں کے اعلیٰ کردار ہی کی بدولت آج نصف امت مسلمہ صرف ہندوستان میں آباد ہے۔

۲۔ مسلمانوں کے ہندوستان پر قبضے کے اثرات

ہندوستانی عوام کے باہمی تعلق میں ایک اہم معاملہ مسلمانوں کا ہندوستان پر قبضہ ہے۔ مسلمان حملہ آوروں کی ہندوستانی غیر مسلم عوام نے روایتی انداز میں مخالفت ضرور کی ہے جو انسانی دفاعی جبلت کا خاصہ ہے لیکن مسلمان حکمرانوں کے کردار اور دین اسلام کی حقانیت نے مسلمانوں کو ہندوستان کا فطری حکمران بنا دیا۔ یہاں تک کہ آزادیٔ ہند کی ابتدائی تمام تحریکیں ہندوؤں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر چلائی ہیں۔ ہندو مسلمانوں کو ہی ہندوستان کا نہ صرف محافظ سمجھتے تھے بلکہ اپنے آپس کے مسائل کو بھی مسلمان حکمرانوں کے ہاتھوں حل کروانے کو ترجیح دیتے تھے۔ مسلمانوں نے ہندوستان کو جس آسودگی و خوشحالی سے روشناس کروایا اس کا ایک عام ہندو اپنے ذات پات کے غیر فطری نظام میں رہتے ہوئے صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا۔ مسلمان حکمرانوں نے ایک طرف ہندوستانی عوام کی کی ایک بڑی اکثریت کو شرک کی آلودگی اور ذلت سے نکال کر توحید کی عظمت سے روشنا س کروایا تو دوسری طرف ہندوستان کو وہ معاشی استحکام بخشا کہ تاریخ انسانی میں اسے سونے کی چڑیا کا خطاب ملا۔

۳۔ انگریزی دور حکومت کے اثرات

ہندوستانی تاریخ کا سیاہ ترین دور انگریزوں کے قبضے کا دور ہے جس میں ہندوستانی عوام کا وہ استحصال کیا گیا کہ خود انگریز مؤرخین بھی اس پر چیخ پڑے ہیں۔ وہ ملک جو سونے کی چڑیا کے لقب سے مشہور تھا اس کا یہ حال ہوا کہ لوگ بڑی تعداد میں فاقوں سے مرنے لگے۔ جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں نے بتدریج ہندوستان پر قبضہ کیا تو یہاں کا قدیم مغلوں کا نظام تبدیل کر دیا۔ ہندوستان میں نئی علاقائی اور انتظامی تقسیم کی گئی۔ شریعت کے قانون کو ختم کر کے برطانوی کامن لا ’’Common law‘‘ کو ملک کا قانون بنایا گیا۔ جمہوریت کو اس ملک میں متعارف کرایا گیا۔ پولیس ، فوج اور بیروکریسی کا نظام متعارف کرایا گیا۔ ہر قدیم چیز کو بدلنے کی کوشش کی گئی۔ انگریز چلے گئے مگر ان تینوں ملکوں میں انگریز کا نظام نہیں بدلا۔ پاکستان سے لے کر ہندوستان تک اور ہندوستان سے بنگلہ دیش تک ایک ہی طرح کا نظام آج پورے ہندوستان پر غالب ہے۔

انگریزوں نے نہ صرف ہندوستان کی لوٹ مار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ اس میں فتنہ و فساد کے وہ بیج بوئے جن کی فصل اب تک پھل دے رہی ہے۔ حیران کن بات ہے کہ مسلمان اپنی حکومت کے دوران کبھی ہندوؤں کو غاصب نہیں محسوس ہوئے لیکن انگریزوں کے اقتدار میں مسلم ہندو فسادات ہوتے رہے۔ یہ تصور کہ ہندو اور مسلمان ساتھ نہیں رہ سکتے یہ مغربی تصور وطنیت ہی کی ایک خاص شکل تھی جسے بعض کی سازشوں اور بعض کی نادانیوں نے ہندوستان پر مسلط کر دیا۔ انگریز کو خطرہ یہ تھا کہ اس کے ملک سے جانے کے بعد مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر لیں گے کیونکہ ہندو عوام فطری طور پر مسلمانوں کو حکمران کے طور پر تسلیم کر چکے تھے اور مسلمانوں اور ہندوؤں میں تاریخی طور پر حکمرانی کے مسئلہ میں اگر کوئی لڑائیاں ہوئی بھی ہیں تو وہ روایتی انداز میں ہوئی ہیں نہ کہ مذہب کی بنیاد پر۔ با صلاحیت مسلمان حکمرانوں کو بالاتفاق تمام غیر مسلم عوام بھی اپنا حاکم تسلیم کرتے رہے ہیں۔ انگریزوں نے اس خدشہ کے پیش نظر ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلافات کی ایک غیر فطری خلیج قائم کی جس نے ہندوستان کو فتنہ و فساد سے بھر دیا نتیجتاً ہندو جو کبھی بھی مغرب کے لیے عالمی خطرہ نہیں بن سکتے تھے وہ متحد ہو گئے اور مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہو گئے اور یہ تین بھی ایک دوسرے کے ممدود و معاون بننے کے بجائے ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے۔ یوں انگریز دور ہندوستان میں فساد کی نشوونما کا دور ثابت ہوا ہے۔

۴۔ آزادیٔ ہند کی جدوجہد کی تاریخ

 آزادیٔ ہند کی تاریخ نے ہندوستانی عوام کو متاثر کیا اور اس  کے اثرات آج تک ہندوستانی عوام پر نظر آتے ہیں۔ کیونکہ انگریز نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا اور مسلمان اپنے دین اسلام، جو زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے،  کے تقاضوں کی وجہ سے اپنے اوپر انگریزی بالادستی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ یوں اگرچہ تحریکِ آزادیٔ ہند میں دیگر غیر مسلم اقوام نے بھی حصہ ڈالا لیکن مسلمان ہمیشہ ان تحریکوں کی قیادت پر فائز رہے۔ تاہم آہستہ آہستہ انگریزوں کی سازشوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو اقتدار کی جنگ میں ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا۔ حقیقتاً ہندو یہ جانتے تھے کہ مسلمانوں کے زیر اقتدار ہندوستان کسی بھی صورت ہندوؤں کے لیے ان کے اپنے زیر اقتدار ہندوستان سے کم مفید ثابت نہیں ہو گا اور اس حقیقت کا وہ صدیوں سے مشاہدہ کرتے چلے آ رہے تھے لیکن ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے ہندو اکثریت کو مسلمانوں کی تحریکوں میں شمولیت اور ان کی پشت پناہی سے کاٹنا شروع کر دیا اور خود انگریزوں نے ہندوستانی عوام کو کانگریس نامی پارٹی تیار کر کے دی جس میں صلاحیت کے بجائے اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں کے بجائے ہندو قیادت کے منصب پر فائز ہو جائیں جس نے ہندوستانی معاشرے کا صدیوں سے قائم شدہ توازن بگاڑ دیا اور اس کے بعد سے لے کر تقسیم ہند تک کی تاریخ سازشوں کی تاریخ ہے جس کا نتیجہ بے شمار لا حاصل فسادات اور قتل و غارت کی صورت میں نکلا۔ خود انگریزی سازشوں اور سر سید احمد خان کی کوششوں کے نتیجے میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جہاد کے بجائے جمہوری جدوجہد کی لا حاصل جدوجہد میں کھو گیا۔

۵۔ تقسیم ہند کے اثرات

انگریزوں کی سازشوں کے نتیجے میں جب ہندوستان میں قیادت کا معیار اکثریت کی بنیاد پر قائم ہو گیا تو مسلمانوں کو قیادت اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرنے کے بجائے ہندو اکثریت کے خوف سے ڈرا کر اپنے لیے علیحدہ مسلم اکثریتی ملک بنانے کے کام پر لگا دیا گیا اور جس کے لیے انگریز اتنی آسانی سے تیار ہو گیا گویا وہ پہلے سے ہی اس کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ تقسیم ہند انگریز کی خواہش تھی جسے مسلمانوں نے قبول کر لیا یا مسلمانوں کا مطالبہ تھا جسے انگریز نے منظور کر لیا۔ نتیجہ وہی نکلا جو پہلے ہی بیان کیا جا چکا ہے کہ مسلمان تقسیم ہو گئے اور ہندو مضبوط ہو گیا اس کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کے موقع پر جو قتل عام ہوا اس کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں غیر حقیقی نفرت کا وہ بیج پڑا جس کا پھل پاکستان نے چار جنگوں کی صورت میں کاٹا اور ہندوستانی مسلمان صبح شام کاٹتے ہیں۔ اس تقسیم نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر، پانی کی تقسیم کا مسئلہ اور دیگر کئی مسائل کا تحفہ دیا جن مسائل کے گرداب سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکا۔

تقسیم کے موقع پر ہی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے پورے انتظامات کیے گئے ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تقسیم کے ساٹھ سال بعد ہندوستان کے حکمران (مسلمان) کس حال میں ہیں اور ہندو کہاں کھڑا ہے۔

یوں مسلمان حکمرانوں نے اپنی محنت، لیاقت اور صلاحیت سے جن ہندوؤں کو اپنا مطیع بنایا تھا اور اس میں سے کروڑوں کی تعداد کو مسلمان بھی کر لیا، وہی مسلمان جو ہندوؤں کے مسیحا کا کردار ادا کرتا رہا تھا اس مسلمان سے ہندو کو دشمنی کی اس سطح پر لا کھڑا کیا کہ جس نے درندے کو بھی شرما دیا۔ تقسیم ہند تاریخِ ہندوستان کا وہ واقعہ ہے جس نے ہندوستان میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تعلق کی تمام بنیادوں کو ختم کر کے صرف دشمنی کی بنیاد کو باقی چھوڑا ہے۔ ہندو عوام کو اس کی پرانی ذہنی سطح پر لانا مجاہدین کا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔

۶۔ نیو ورلڈ آرڈر کے نظام کے اثرات

عصر حاضر میں جمہوری نظام حکومت، قومیت و وطنیت کے مغربی تصورات، سرمایہ دارانہ نظام معاشرت و معیشت نے معاشروں کی نئی تشکیل کی ہے۔ ان نظاموں نے جہاں دنیا کے دیگر معاشروں کو انتشار کا شکار کیا ہے وہیں ہندوستان میں شامل تمام ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ترقی و خوشحالی کے نئے معیارات اور زندگی گزارنے کے نئے مقاصد نے معاشروں کی ٹوٹ پھوٹ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان نظاموں نے انسان کو حیوان کی سطح تک گرا دیا ہے یوں ایک حیوان کو کسی اعلیٰ مقصد کے لیے متحرک کرنا مجاہدین کا ایک بڑا چیلنج ہے۔

خلاصۂ  کلام

غزوۂ ہند کی علم بردار جماعتِ مجاہدین کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ تاریخ سے سبق لیں۔ مسلمانوں کی تاریخ کی گہرائی میں جا کر ان اسباب و عوامل کی تحقیقی کریں جن کی وجہ سے مسلمان قوم کی حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ اپنی تمام تر قوت کے باوجود تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر کر ہندو جیسی کمزور اور بے صلاحیت قوم کے ہاتھوں یر غمال بنی ہوئی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے ساتھ ہے لیکن اللہ تعالیٰ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت کو خود بدلنے پر تیار نہ ہوں۔ آگے کی تحریر میں ان عوامل کا اختصار سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے جن سے گزر کر ہندوستان کی موجودہ شکل بنی ہے۔ اس میں ہندوستان اور دنیا کی وہ تاریخ جس نے ہندوستان پر براہ راست یا بالواسطہ اثر ڈالا ہے ، اس کا بیان بھی شامل ہے اور خصوصاً ہندوستان میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ بھی مختصراً بیان کی گئی ہے۔ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ مجاہدین ان تاریخی حقائق کی روشنی میں غزوہ ہند کے علم بردار مجاہدین کے لشکروں کے درمیان وحدت فکر پیدا کریں اور مستقبل کا لائحہ عمل وضع کریں۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

  • 1
    جس وقت یہ تحریر لکھی گئی اس وقت فاٹا کا خیبر پختون خواہ میں انضمام نہیں ہوا تھا اور نہ ہی گلگت بلتستان کو علیحدہ حیثیت ملی تھی۔ (ادارہ)
Previous Post

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | چوتھی قسط

Next Post

اللہ سے حسنِ ظن | دوسری قسط

Related Posts

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)
غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | تیسری قسط

1 مئی 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | چھٹی قسط

8 مارچ 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | گیارہویں قسط

8 مارچ 2026
امت مسلمہ بالخصوص اہل صومالیہ کے نام پیغام
نشریات

یمن پر امریکی بمباری کے حوالے سے چند اہم نکات

8 مارچ 2026
رمضان المبارک میں مجاہدین کے کرنے کے کام
شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

رمضان المبارک میں مجاہدین کے کرنے کے کام

8 مارچ 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | تیسواں درس

8 مارچ 2026
Next Post

اللہ سے حسنِ ظن | دوسری قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اپریل 2026ء
اپریل 2026ء

اپریل 2026ء

by ادارہ
1 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version