بسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
جب انتخاب ایک آسائش بن جائے
عدم واپسی کی اسٹریٹیجی
سب سے بڑا دشمن جس کا آپ کو پوری سختی سے مقابلہ کرنا چاہیے، وہ خود آپ ہیں۔ کیونکہ دن میں خواب دیکھنا اور خیالی دنیا میں کھو جانا حقیقت سے بھاگنے کے مترادف ہے، اور لازماً اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ اپنے سامنے موجود حالات کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ تباہی کا وہ مقام ہے جہاں سے آپ ایک ایسی دنیا میں نکلتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور وہاں آپ خطرات خود گھڑتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے طریقے خود ایجاد کرتے ہیں اور آسانی و سہولت سے ان پر فتح پا لیتے ہیں، اور ایک ہی نشست میں اپنی فتوحات کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ اس پر حاصل ہونے والا اطمینان کا احساس گمراہ کن ہوتا ہے، آپ کچھ نہیں کریں گے جب تک آپ اطمینان میں مبتلا ہیں، آپ کو ضرورت کا احساس نہیں ہو گا، آپ عدم توجہی کا شکار اور حوصلے سے محروم رہیں گے، کیونکہ آپ کے سامنے نہ کوئی ہنگامی صورتحال ہے اور نہ ہی کوئی فوری خطرہ۔ آپ حقیقی دشمن کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ اس دشمن کے بارے میں سوچتے ہیں جسے آپ نے خود ایجاد کیا ہے کیونکہ آپ اپنی خیالی دنیا کے قیدی بن چکے ہیں۔
دن کے خوابوں سے چھٹکارا پانے کا پہلا قدم یہ یقین کرنا ہے کہ دشمن کبھی آرام نہیں کرتا، اور وہ آپ کے قریب آنے کے لیے بہت سے قدم اٹھا چکا ہے، اور اچانک وہ آپ پر جھپٹنے ہی والا ہے۔ اور جب آپ نے وہموں میں پناہ لی تو آپ کی اندرونی صف میں خواہشات اور نفسانی میلانات نے کھیل کھیلا، اور اندرونی تعمیر و ترقی پر آپ کی توجہ کے باوجود، وہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو آپ کے خلاف سازش کرتے ہیں تاکہ وہ اس کا فائدہ اٹھا سکیں جو آپ حاصل کر رہے ہو۔
اگلا قدم یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اولین فاتحین اور عظیم بانی خود کو آرام کا وقت نہیں دیتے، وہ جانتے ہیں کہ بیرونی یلغار کب روکنی ہے، اندرونی صف کو کب پاک کرنا ہے، اور تعمیر کب شروع کرنی ہے۔
اس سے پہلے کہ باہر یا اندر سے آپ پر حملہ ہو، آپ کو عملی طور پر حرکت کے ذریعے پیش قدمی کر کے دونوں طرف کے دباؤ کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ خود کو حقیقت پسندانہ اختیارات (آپشنز) کے سامنے رکھیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ اگر آپ وقت اور وسائل کو بغیر سوچے سمجھے مہمات میں ضائع کریں تو آپ کو کس قدر نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آپ موت کی سرزمین میں ہیں، اپنی صفوں کو سازشیوں سے پاک کریں اور اندرونی محاذ کو بیرونی محاذ میں مصروف رکھیں، تاکہ بعد میں آپ تعمیر کی طرف لوٹ سکیں۔
٭٭٭٭٭
خود کو ذہنی و فکری طور پر موت کی سرزمین میں رکھیں، آپ کی پیٹھ دیوار سے لگی ہو اور آپ کو پوری قوت کے ساتھ لڑنا ہو گا تاکہ وہاں سے زندہ نکل سکیں۔ اپنی ذہنی صلاحیتیں اور اپنے مشیروں کی ذہنی صلاحیتیں استعمال کریں۔ آپ کے فیصلے کی تائید اور پشت پناہی، آپ کے سپاہیوں کے بارے میں آپ کے علم، آپ کی صلاحیتوں کے بارے میں آپ کی تفہیم اور اپنے اتحادیوں کی مدد و حمایت سے ہوتی ہے۔ پھر جب آپ پختہ عزم کر لیں تو اللہ پر توکل کریں۔ یہ محض کہی جانے والی بات نہیں، کیونکہ جب آپ اسباب کی دنیا میں اپنی پوری کوشش کر لیتے ہیں تو توکل آپ کے لیے وہ پورا کر دیتا ہے جو آپ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح اللہ پر حسنِ توکل حاصل ہوتا ہے، یوں آپ تذبذب، الجھن اور حیرت سے نجات پا لیتے ہیں۔
متبادل اپنانے کا اختیار (یعنی دستیاب آپشنز کا ہونا) ہچکچاہٹ اور تردد کے لامحدود امکانات کا دروازہ کھول دیتا ہے، مگر قائدین امکانات کے درمیان زندہ نہیں رہ سکتے بلکہ انہیں ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ہوتا ہے۔ کچھ امکانات ارادے کو توڑ دیتے ہیں اور کچھ اسے بلند کرتے ہیں۔ زندگی کی خواہش، حاصل شدہ فوائد کی حفاظت اور ہاتھ میں موجود چیز کو برقرار رکھنے کی چاہت، آپ کو شکست خوردہ کر کے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر سکتی ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ذلت کا انتخاب کیا اور ہر روز مرنے کو گوارا کر لیا۔ جبکہ جنگ و قتال کا انتخاب اور ہر قدم کے ساتھ موت کا احساس آپ کو زندگی کی طرف دھکیلتا ہے اور آپ کو قوت و تمکنت اور عزت کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی لیے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمیشہ کہا کرتے تھے:
’’میں تمہارے پاس ایسے لوگ لے کر آیا ہوں جو موت سے اسی طرح محبت کرتے ہیں جیسے تم زندگی سے محبت کرتے ہو۔‘‘
یہاں ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ غزوۂ مؤتہ میں لڑنے کا فیصلہ کرنا قائدین کے لیے کتنا مشکل تھا، اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت خالد کس حد تک ذہین تھے۔
٭٭٭٭٭
ایک دانا قائد پر لازم ہے کہ وہ جنگ میں اپنی مہم کی کامیابی اور مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ابتدائی اور بنیادی اقدامات کرے۔ جہاں گفتگو کارگر ہو وہاں چھڑی کی ضرورت نہیں، اور جہاں چھڑی نظم قائم کر دے وہاں تلوار اٹھانے کی نوبت نہیں آتی، یوں تلوار کے ذمہ کم سے کم کام رہ جاتے ہیں۔ لڑائی کی طرف پیش قدمی کے دوران جہاں تک ممکن ہو مخالفین کو بے اثر کرو اور ہر اُس فریق سے اتحاد قائم کرو جو تمہارے دشمن سے نفرت کرتا ہو، ان سے دشمن کے بارے میں وہ معلومات حاصل کرو جو تمہیں درکار ہیں۔ پھر چھوٹی چھوٹی اکائیاں بھیجو تاکہ دشمن سے ابتدائی رابطہ قائم ہو سکے۔ جو بھی معلومات تم تک پہنچیں، اُن سے حملے کے منصوبے کی تشکیل میں فائدہ اٹھاؤ اور جن سے تم نے اتحاد کیا ہو اُن کے کردار، حملے میں واضح طور پر مرتب کرو۔
دانا قائد داخلی منظر نامے سے غافل نہیں رہتا، جس کی صفائی کے لیے جرّاح (Surgeon) جیسی مہارت درکار ہوتی ہے، کیونکہ اندرونِ خانہ بھی بعض کو بے اثر کرنا اور بعض سے اتحاد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دانا قائد لوگوں میں سے کچھ کو مانوس کرتا ہے تاکہ اُن کی شرارت سے بچا رہے اور اُن کی وفاداری یقینی بنائے، کچھ کے ساتھ حسنِ تعلق قائم کرتا ہے تاکہ اُن کی وفاداری برقرار رہے، کچھ کو نظم و ضبط کے لئے قید کر کے تادیب کرتا ہے اور کچھ سے قصاص لیتا ہے۔
داخلی سازشوں کا خاتمہ، دشمن کے مخالفین سے اتحاد اور معلومات کی دستیابی، یہ سب فتح کے حصول کے لیے ایک معاشرتی اور سکیورٹی مرکب ہیں۔ اب اس میں دستیاب عسکری و معاشی وسائل کا اضافہ کرنا باقی ہے، یوں سیاسی باورچی خانہ کام کرتا ہے تاکہ ہر میدان میں، حتیٰ کہ موت کی سرزمین کے میدان میں بھی، موجودگی برقرار رہے۔
٭٭٭٭
اور چونکہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس بہت سے انتخاب (آپشنز) ہیں، اس لیے آپ کسی ایک کام میں اتنی گہرائی سے نہیں الجھتے کہ اسے انجام تک پہنچا سکیں، یوں وقت، توانائی اور وسائل متبادل اپنانے کے انتخاب کے درمیان ضائع ہو جاتے ہیں اور آپ کبھی بھی وہ حاصل نہیں کر پاتے جس کی آپ خواہش رکھتے ہیں1قبل از مسیح میں چینی جرنیل ’سُن تزو‘نے (چینی شہر بوجو کی جنگ میں) اور 1521ء میں ہسپانوی جرنیل ’کورٹیز‘(Cortes) نے (میکسیکو سٹی کی جنگ میں) اسی حکمت عملی کے تحت فتح پائی تھی، کیونکہ دونوں کے پاس فوجوں کی سطح پر کامیابی کے اسباب موجود تھے۔ تاہم اس کے نتائج نہایت سنگین ہوتے ہیں اگر معاملہ ویسا ہی ہو جیسا کعب بن الاشرف نے کہا تھا، جبکہ وہ اس سازش سے بے خبر تھا جو اس کے خلاف تیار کی جا رہی تھی: (بے شک شریف آدمی اگر رات کی تاریکی میں نیزے کی ضرب کے لیے بھی بلایا جائے تو وہ لبیک کہے گا)، چنانچہ اسی میں اس کی ہلاکت ہوئی، وللہ الحمد والمنۃ۔ یا پھر وہ واقعہ جو معرکۂ یرموک میں رومی لشکر کے ساتھ پیش آیا، جہاں وادیِ الرقاد ان کے پیچھے تھی اور وہ انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکی۔ میرا یقین ہے کہ اس اسٹریٹجی کی طرف صرف مجبوری کے عالم میں ہی رجوع کیا جانا چاہیے۔ نیز یہ وضاحت مفید ہے کہ تاریخی روایات میں اس بات کی کوئی صحیح سند نہیں ملتی کہ اندلس کی فتح (711ء – 92ھ) کے موقع پر طارق بن زیاد نے کشتیاں جلائی تھیں، اور نہ ہی وہ مشہور قول ثابت ہے: ’’دشمن تمہارے سامنے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے۔‘‘
موت کی سرزمین میں کام کرنے کے لیے آپ کو آسان اور درست کے درمیان انتخاب کرنا ہو گا، آپ کو مسئلے کی جڑ کا تعین کرنا ہو گا اور وہ آپ کے ارد گرد کے لوگوں میں نہیں بلکہ خود آپ میں ہے، جب آپ تصادم اور مقابلے کے انتخاب کا سامنا کرتے ہیں تو آپ کی سوچ کے پس منظر میں فرار کا ایک راستہ جھلک دکھاتا ہے، اگر آپ اپنے خوف پر قابو نہ پائیں تو حالات بگڑنے پر آپ کو کوئی نہ کوئی سہارا مل ہی جاتا ہے، ٹال مٹول اور لمبی امیدیں ہمیشہ آپ کے سامنے وقت کی گنجائش کھول دیتی ہیں، آپ اس پناہ گاہ کو نعمت سمجھ سکتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ایک لعنت ہے۔
حالتِ ضرورت کا ایک غیر معقول اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ سپاہیوں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ مایوسی کو حد سے بڑھی ہوئی بہادری و جرات میں بدل ڈالیں، یہ موت کی سرزمین کی اسٹریٹجی ہے، جس کی اپنی خاص بنیادیں ہوتی ہیں تاکہ آپ اس میں داخل ہو سکیں اور بچنے کے امکانات آپ کے حق میں ہوں۔
٭٭٭٭٭
ان خاص بنیادوں میں شامل ہیں:
- جنگ سے آپ کا مطلوبہ مقصد،
- سپاہیوں کے نکلنے کا محرک اور تحریک (اللہ کی راہ میں، جس کا ثمرہ جنت ہے)،
- مقابل کمانڈر کی فطرت کو جاننا اور اس کے خیالات اور ارادوں کو پڑھنے کی صلاحیت،
- دھوکا دینے کی آپ کی قدرت، کہ ایک ممکنہ خطرہ اس طرح ذہن نشین کریں جو دشمن کے کمانڈر کی نفسیات سے ہم آہنگ ہو اور اسے اس بات سے غافل کر دے جس کا آپ ارادہ رکھتے ہیں،
- اس میدان کی نوعیت کو سمجھنا جس میں آپ داخل ہو رہے ہیں (زمین)،
- اس وقت کی سمجھ بوجھ جسے آپ نے مقابلے کے لیے چُنا ہے اور اس کے ساتھ فطری عوامل (آب و ہوا، مرئیت و بصارت، سالانہ موسم)،
- آپ کے سپاہیوں کی قوتِ ارادہ، ان کی تربیتی مہارت اور ہتھیاروں کی کارکردگی،
- آپ کی یونٹوں اور دشمن کی یونٹوں کی نفسیاتی و اخلاقی حالت،
- وہ باتیں جو آپ دشمن کے فوجیوں کے سامنے رکھ سکتے ہیں تاکہ آپ مقابلے سے پہلے ہی انہیں شکست دے دیں (یعنی جس قضیے میں وہ اپنی جانیں کھپا رہے ہیں وہ عادلانہ اور جائز نہیں)،
- اور خبردار رہو کہ اپنی متکبرانہ حرکات سے انہیں مشتعل نہ کرو،کہیں تم ان کے اندر ’’موت کی سرزمین‘‘ کا فلسفہ پروان نہ چڑھا دو، ان جنگی اخلاقیات کی پابندی کرو جن میں تم مشہور رہے ہو،
- معرکے میں دشمن کے فوجیوں کے لیے فرار اور نجات کے راستے کھولو، اور دشمن کے شہروں کو قتل سے سلامتی اور املاک کے لیے امان دو، اور حد سے بڑھ کر تذلیل کرنے سے بچو۔
ان امور کی پابندی سے آپ کے لیے موت کی سرزمین میں بچاؤ اور فتح کی شرح میں اضافہ ہو گا۔
٭٭٭٭٭
دستیاب آپشنز کی کثرت ایک دو دھاری تلوار ہے، ایک طرف یہ دستیاب امکانات کے حجم اور ان کی لچک کو نمایاں کرتے ہیں، اور دوسری طرف ان میں سے کسی ایک پر عمل کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے وقت خرچ کرتے ہیں اور قائد کو تذبذب یا الجھن کی حالت میں دکھاتے ہیں۔ جبکہ حریف کے پاس آپشنز محدود ہو سکتے ہیں، جو اسے کم وقت میں فیصلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں اور اسے واقعات کے ساتھ تیزی سے ردِعمل دینے میں مدد دیتے ہیں اور وہ اپنی حرکات سے ہمیں حیران کر دیتا ہے جبکہ ہم اب بھی دستیاب آپشنز کے درمیان موازنہ کر رہے ہوتے ہیں اور مفروضات کو عدمِ فیصلہ کی بھول بھلیاں میں رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔
اپنے آپ کو وقت کے دباؤ میں رکھیں، کیونکہ وقت اتنا قیمتی ہے کہ اسے ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ اختیارات (آپشنز) کے درمیان ترجیح طے کرنے کے لیے عملی مراحل کی ایک ترتیب بنائیں، اُن آپشنز کو خارج کر دیں جو پیچیدہ منصوبہ بندی یا مشکل ہم آہنگی کا تقاضا کرتے ہوں، کیونکہ آخر کار منصوبہ ایک سادہ سپاہی ہی نافذ کرتا ہے۔ وہ آپشن استعمال کریں جو آپ کے سپاہیوں کے خون کی حفاظت کرے اور حریف کو تھکا دے، وہ آپشن استعمال کریں جو حریف کو دھوکا دے اور اسے الجھا دے، وہ آپشن استعمال کریں جو دشمن کے سپاہیوں کے عزم کو توڑ دے اور آپ کے سپاہیوں کے حوصلے بلند کرے۔ ہمیشہ وہی انتخاب کریں جو آپ کے سپاہیوں کی مہارتوں سے ہم آہنگ ہو، آپ کے ہتھیاروں اور ساز و سامان کے مطابق ہو اور جس میں زمین، آب و ہوا، موسم اور وقت آپ کا ساتھ دیں۔
جب آپشنز (Options) پر گفتگو کی جائے تو ہمیشہ اصولوں کی طرف رجوع کریں اور جنگ کی نوعیت کے مطابق ہدایات پر عمل کریں [روایتی یا گوریلا]۔ اصولوں کی خلاف ورزی آپ کو ایک ہی انجام کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے یعنی شکست۔ جو کوئی جنگ کے بعض اصولوں کی خلاف ورزی کے باوجود فتح حاصل کرتا ہے وہ ایک نابغہ اور عبقری شخص ہوتا ہے جو مقابل کمانڈر کے ردِعمل کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ نہایت نایاب ہے۔ اس لیے اصولوں کی خلاف ورزی نہ کریں جب تک کہ آپ انہیں پوری طرح سمجھ نہ لیں اور برسوں تک ان پر عمل نہ کر چکے ہوں۔
موت کی سرزمین کا فلسفہ کسی جوئے میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے کہ محض زندگی کی یکسانیت توڑنے یا عسکری جمود کو شکستہ کرنے کے لیے ہم اس کی طرف لپک پڑیں۔ یہ دشمن کے خلاف حیرت اور صدمہ پیدا کرنے کے لیے تجدید کی ایک صورت ہے اور یہ ایک سوچا سمجھا چیلنج ہے جس کے ساتھ مجبوری کے ماحول میں، نہ کہ انتخاب کے ماحول میں، دلیری اور مہم جوئی کی نفسیات شامل ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭
تربیت کے دوران کمانڈروں کو چاہیے کہ سپاہیوں کو ایسے خطرات اور حالات کی ایک سلسلہ وار مشق سے گزاریں جن کا سامنا ممکن ہو۔ مثلاً گھات کے دوران کارروائی، محاصرے یا گھیراؤ کی حالت میں عمل، توپ خانے کی بمباری والے علاقے میں موجودگی، کیمیائی حملے کا سامنا، فضائی بمباری کا سامنا، بحری یا فضائی اترائی (لینڈنگ) کا سامنا، گولہ بارود ختم ہونے پر دُوبدُو قریبی لڑائی، زخمیوں کا انخلا یا مالِ غنیمت کی منتقلی وغیرہ۔
فیصلہ کن لمحات [ہونا یا نہ ہونا/زندگی یا موت] سے پہلے ہمیشہ سپاہیوں کی نفسیاتی تیاری ہوتی ہے، جیسے چیلنج کی روح اور جذبہ پیدا کرنا، انہیں نہایت درست انداز میں ناپی تولی گئی متعدد مہمات میں داخل کرنا اور ان کے کئی معرکے لڑنے کے نتائج سے اطمینان حاصل کرنا، تاکہ ان کی برداشت کی آخری حد معلوم کی جا سکے۔ کیونکہ آج اسلام کی جنگ اور معرکے کی نوعیت یہ ہے: ’’پوری امتِ مسلمہ اپنی تمام اقوام کے ساتھ اور اس کے صفِ اوّل کے مجاہد دستے‘‘ بمقابلہ ’’عالمی اتحاد اور نام نہاد ابراہیمی معاہدوں میں شامل حربی اتحاد، جو امریکی سرپرستی میں یہودی قیادت کے تحت قائم ہے‘‘۔
٭٭٭٭٭
عسکری کمانڈر کی تاریخ اور اس کی کامیابیاں، اپنے سپاہیوں اور جنگوں کی قیادت، نظم و نسق کی صلاحیتیں، اپنے سپاہیوں کے ساتھ اس کا انسانی برتاؤ، ان کی اور ان کے پیچھے رہ جانے والوں کی اچھی دیکھ بھال، کمانڈر کا عسکری علم اور میدانی مہارتیں، پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کرنے اور انہیں اپنا فرض ادا کرنے پر پابند کرنے کی صلاحیت، جنگ کے نقشے اور اس کی مکمل تصویر کی سمجھ اور اس کی بہتر تقسیم اور ذمہ داریوں کی درست تقسیم، ماہرین اور اپنے شعبہ جات کے قائدین کے انتخاب و تربیت میں اس کا حسنِ انتخاب اور خوشامدیوں کے بجائے مخلص لوگوں کے ساتھ کام کرنا، اس کی نفسیاتی و اخلاقی تعمیر اور بہادری و رحم دلی، عمدہ تیاری اور منصوبہ بندی کا امتزاج۔ یہ سب اور دیگر عوامل اعتماد کی ایسی بنیاد بناتے ہیں جو سپاہ اور اس کے کمانڈروں کو فیصلہ کن لمحات کے لیے تیار کر دیتے ہیں۔
وہ لمحات جن میں نابغہ و عبقری قائدین [ہم ہوں گے یا نہیں / زندگی یا موت] جیسے فیصلے پر مجبور ہوتے ہیں، کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ وہ اس فیصلے کے لیے تیار نہیں تھے! وہ اس گھڑی کے لیے پوری طرح مستعد تھے، انہوں نے ہر ممکن سبب اختیار کرنے کی پوری کوشش کی، دستیاب وسائل کو درست وژن کے مطابق بروئے کار لائے، اور اپنے دشمن کی تیاری سے پہلے حرکت میں آ گئے۔ یہ بدر کی جنگ ہے، یہاں حسنِ توکل کے ساتھ بلند ہمتی کا مقابلہ کفر کی نخوت اور حماقت و سستی سے ہے۔
٭٭٭٭٭
سپاہیوں کو کیسے متحرک کیا جا سکتا ہے؟ اور انہیں زیادہ مؤثر اور قربانی کے لیے زیادہ آمادہ کیسے بنایا جائے؟
جنگی جرنیل پُرجوش تقریروں اور آتشیں خطابات پر انحصار کرتے رہے، ان پُرجوش تقاریر نے سپاہیوں کو طاقتور آغاز کرنے اور سیلابی ریلے جیسی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔ لیکن آتشیں خطابات ہمیشہ ایک جیسا نتیجہ نہیں دیتے، کیونکہ کچھ عملی مقدمات بھی ہوتے ہیں جنہیں سپاہی محسوس کرتے ہیں۔اگر وہ پہلے سے میسر نہ ہوں تو تقریروں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بدر کے دن ابو جہل خطیب بن کر کھڑا ہوا، لیکن جنگ میں اس کی ناکامی عبرتناک تھی۔
اپنی ایک لڑائی میں سُن تزو نے پُرجوش تقریروں اور آتشیں خطابات کو ’’موت کی سرزمین‘‘ کی اسٹریٹجی کے ساتھ سہارا دیا، یہی کام کورٹیز (Cortes) نے بھی کیا جب اس نے جہاز جلا دیے۔ یہ ایک [نفسیاتی] اسٹریٹجی ہے جو اس فوری ضرورت پر مبنی ہوتی ہے کہ ضرورت کے وقت کسی بھی طرح کے پسپائی یا رخ بدلنے کے آپشن موجود نہ ہوں، یا پھر کمانڈر اور سپاہیوں کی نفسیات پسپائی کو قبول ہی نہ کرے اور وہ اسے زندگی پر ترجیح دیتے ہوئے موت کو قبول کر لیں۔ ایسا کمانڈر یا تو لاپرواہ و مہم جو ہو سکتا ہے یا پھر ذہین و نابغہ، جب وہ یہ دیکھے کہ یہی حکمتِ عملی معرکہ فیصل کرنے کا واحد حل ہے اور یوں اپنے سپاہیوں کو اس آزمائش میں ڈال دے۔ [ضدی مگر تجربہ کار] کمانڈر اپنے سپاہیوں کو اس حکمتِ عملی کے تابع نہیں کرتا جب تک وہ تمام لازمی عوامل میسر نہ ہوں جن میں سے بعض کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اگر یہ عوامل موجود نہ ہوں تو نتیجہ تباہ کن ہو گا۔
مسلمانوں نے اپنے سپاہیوں کو غیب سے جوڑنے اور ایمان باللہ پر اعتماد کیا اور اس یقین پر انحصار کیا کہ ان کا اجر و ثواب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پاس ہے۔ چنانچہ ان کے دلوں نے اسے قبول کیا اور اس پر مطمئن ہو گئے اور استطاعت کی حد تک اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حرکات و سکنات اور پر جوش باتیں بھی اسی کے مطابق ہونے لگیں۔ چنانچہ غزوۂ بدر کے دوران (جب مشرکین قریب آ گئے تو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس جنت کی طرف بڑھو، جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے“۔ حضرت عمیر بن حمام انصاری کہنے لگے: یا رسول اللہ! جنت جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ”ہاں“ انہوں نے کہا، واہ واہ، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا، ”تم کلمۂ تحسین واہ، واہ کیوں کہہ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! اس امید کے سوا اور کسی وجہ سے نہیں (کہا) کہ میں (بھی) جنت والوں میں سے ہو جاؤں۔ (آپؐ نے فرمایا: ” بلاشبہ تم اہلِ جنت میں سے ہو“)، تو حضرت عمیر نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانی شروع کیں، پھر کہنے لگے: اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ تو بہت طویل زندگی ہو گی، پھر انہوں نے، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں، پھینکیں اور لڑائی شروع کر دی یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
اور مسلمانوں نے ہدایتِ الٰہی کو پا لیا، پھر اس سے جدا نہ ہوئے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۭ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ يُّصِيْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖٓ اَوْ بِاَيْدِيْنَا فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ (سورۃ التوبہ: 52)
’’ کہہ دو کہ تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ( آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔ ‘‘
اور اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ وہ انہیں زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس سب کا وارث بنا دے۔
پس قربانی اور فدا کاری کے عناصر یہ ہیں: ایک آسمانی دین جو ملاوٹ اور تحریف سے پاک ہو اور ایک ربانی قیادت جو اپنے سپاہیوں کے ساتھ رفاقت اور نرمی سے پیش آئے، اور پھر سپاہی تنگی و فراخی، رغبت و کراہت ہر حال میں اس الہی قیادت کی پیروی کرتے ہیں۔ ایسی قیادت جو بھرپور کوشش کرتی ہے کہ آنے والی نسلیں اسلام کے سائے تلے زندگی گزاریں۔
اور امت اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ حاضر ہے کہ جو کچھ اس کے پاس سب سے قیمتی ہے اسے قربان کر دے، بشرطیکہ اسے میسر ہو: ایک مخلص ہراول دستہ، اس کی مضبوط اور سنجیدہ تنظیم، اس کا واضح نقطہ نظر اور وژن، اور اس کی دانا، امانت دار اور مخلص قیادت جو قرآن کے تابع ہو اور تلوار سے حفاظت کرے۔
اسی طرح ہمیں اپنے سپاہیوں کو جہاد میں پوری کوشش کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے اور امت کے دیگر اداروں میں بھی خوب محنت کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
آج بعض محاذوں پر جہادی تحریک کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے، جبکہ اس کے خلاف عالمی (مغربی) اتحاد کے پاس ہماری سرزمین پر، اپنی سرزمین پر اور اپنے اتحادیوں کی سرزمینوں پر کھونے کو بہت کچھ ہے۔ لہذا یہ موت کی سرزمین کا ماحول ہے، تبدیلی سے مایوسی استشہادی روح کو جنم دیتی ہے۔ یہ ہولناک حالات جو جنگ اور تنازع کو اس کی انتہائی حدود تک لے جاتے ہیں اور اسے روایتی میدانِ جنگ سے بھی آگے لے جاتے ہیں، یہ وہ حالات ہیں جو امریکہ، یہودیوں اور ان کے (مقامی) ایجنٹوں اور ان کے ساتھ سازش کرنے والوں نے ہماری امت، ہماری سرزمین اور ہماری دولت و وسائل پر مسلط کر دیے ہیں، جو تمام دروازے بند کر دیتے ہیں اور اب صرف ایک ہی دروازہ کھلا ہے۔
اور یہ بات ہر اُس شخص کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے جو یہ خواب دیکھتا ہے کہ وہ یہودی اور مغربی دشمن، یا جسے وہ نام نہاد بین الاقوامی برادری کہتے ہیں، کے ساتھ سیاسی جنگ لڑ سکتا ہے یا تنازع کو سیاسی لحاظ سے سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
٭٭٭٭
عدمِ واپسی کی اسٹریٹجی کو اختیار کرنے میں مجبوری کا ماحول اثرانداز ہوتا ہے، کیونکہ یہ اسٹریٹجی (کوئی جنگ آخری نہیں) والی اسٹریٹجی سے متصادم ہے۔ نیز ایسے فیصلے کرنے والے نہایت بلند حوصلہ قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو خود کو آرام کی اجازت نہیں دیتے، وہ مسلسل سرگرمی اور حرکت میں رہتے ہیں اور یوں تھکن کو مار دیتے ہیں، کیونکہ تھکن، روٹین (Routine) اور اکتاہٹ کی پیداوار ہے۔ ان کا حوصلہ انہیں اپنے مستقبل کے لیے نیم خودکُشی جیسی مہمات میں کود پڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس راستے میں دن کے خوابوں میں ڈوبے ہوئے لاپرواہ لوگ کامیاب نہیں ہوئے، اور اسے صرف وہی پار کر سکے جنہوں نے اس کے لیے بہترین تیاری کی۔
٭٭٭٭
اور اس اسٹریٹجی کے سلسلے میں ایک آخری بات
مسلمان سمت نہیں بھولتے جب لوگ اسے کھو بیٹھتے ہیں، اور ضائع نہیں ہوتے جب لوگ ضائع ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس ہمیشہ لَوٹنے کے لیے ایک بنیاد موجود ہوتی ہے جو ان کے قدم سیدھے کرتی ہے اور ان کے راستے کو درست کرتی ہے۔ عقیدے کے لحاظ سے وہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں اور اس کی مرضی کے مطابق اپنے اعمال سرانجام دیتے ہیں، اور ان کی زندگی کا سفر ایک مقدس پیغام ہے جو وہ انسانوں تک پہنچاتے ہیں، سب انسانوں تک۔ اس کائنات میں مکمل آزادی ممکن نہیں اور نہ ہی یہ ممکن ہو سکتی ہے، آزادی کو دین، اقدار، رواج، روایات اور فطرتِ سلیمہ کے ذریعے سنوارا جا سکتا ہے۔ اگر گزشتہ صدی میں مغربی دنیا مسلمانوں کو جہالت میں نہ ڈالتی، اور اگر ان کی افواج اور حکمران مغربی مفادات کے لیے کام نہ کرتے اور جو بُرا متبادل مسلمانوں کے درمیان پیدا کرنے کی کوشش وہ کرتے ہیں، نہ کرتے، تو لوگ اس زمین پر امن و سکون اور خوشحالی کے ساتھ زندہ رہتے، وہ بھی اس سایہ اور نعمت میں جو اللہ نے ان کے لیے منتخب کی ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ وَيَخْتَارُ ۭ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (سورۃ القصص: ۶۸)
’’ اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔اللہ ان کے شرک سے پاک ہے اور بہت بالا و برتر ہے۔ ‘‘
مسلمان رحمٰن کے سپاہی، الٰہی عقیدے کے محافظ اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے اللہ کے سفیر ہیں۔ وہ انسانوں کو حقیقی آزادی پہنچاتے ہیں اور محبت، مہربانی اور اخلاص کے ساتھ اسے پیش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی جنگیں بھی خدائی ہدایات کے مطابق ہوئیں اور انسانیت کے لیے رہنمائی لے کر آئیں، اور جنگوں میں دشمنوں سے جو بدترین سلوک کیا جاتا ہے، انہوں نے اس سے خود کو الگ رکھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے دشمنوں نے انہیں ’مہربان فاتح‘ کا لقب دیا۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1قبل از مسیح میں چینی جرنیل ’سُن تزو‘نے (چینی شہر بوجو کی جنگ میں) اور 1521ء میں ہسپانوی جرنیل ’کورٹیز‘(Cortes) نے (میکسیکو سٹی کی جنگ میں) اسی حکمت عملی کے تحت فتح پائی تھی، کیونکہ دونوں کے پاس فوجوں کی سطح پر کامیابی کے اسباب موجود تھے۔ تاہم اس کے نتائج نہایت سنگین ہوتے ہیں اگر معاملہ ویسا ہی ہو جیسا کعب بن الاشرف نے کہا تھا، جبکہ وہ اس سازش سے بے خبر تھا جو اس کے خلاف تیار کی جا رہی تھی: (بے شک شریف آدمی اگر رات کی تاریکی میں نیزے کی ضرب کے لیے بھی بلایا جائے تو وہ لبیک کہے گا)، چنانچہ اسی میں اس کی ہلاکت ہوئی، وللہ الحمد والمنۃ۔ یا پھر وہ واقعہ جو معرکۂ یرموک میں رومی لشکر کے ساتھ پیش آیا، جہاں وادیِ الرقاد ان کے پیچھے تھی اور وہ انہیں کچھ فائدہ نہ دے سکی۔
میرا یقین ہے کہ اس اسٹریٹجی کی طرف صرف مجبوری کے عالم میں ہی رجوع کیا جانا چاہیے۔ نیز یہ وضاحت مفید ہے کہ تاریخی روایات میں اس بات کی کوئی صحیح سند نہیں ملتی کہ اندلس کی فتح (711ء – 92ھ) کے موقع پر طارق بن زیاد نے کشتیاں جلائی تھیں، اور نہ ہی وہ مشہور قول ثابت ہے: ’’دشمن تمہارے سامنے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے۔‘‘








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



