مائیں بہت عظیم ہوتی ہیں اور ان کے لیے جذبات واحساسات بیان بھی اکثر کیے جاتے ہیں، ماں کا وجود ہی جذبات سے مرقع ہے اور یقیناً ماں ہی وہ ہستی ہےکہ خدمت کے معاملے میں جس کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے،البتہ علما فرماتے ہیں کہ ادب کے معاملے میں باپ کا حق زیادہ ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹے کا باپ کے خلاف پیش کردہ مقدمہ سن کر اور جبرئیل امین ؑکے خبر دینے پر اس باپ کے منہ سے وہ دل گداز اشعار سن کرجو اس نے دل ہی دل میں کہے تھے، بیٹے سے یہ کہنا کہ ’تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے‘، یقیناً باپ کے حق کو اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ آج میرا قلم بھی اپنے بوڑھے والد، جن کے بارے میں مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ حیات ہیں بھی یا نہیں اور بڑھاپے کی سرحدوں کو چھوتے اور بڑھاپے کے دور سے گزرتے ان تمام باپوں کی خدمت میں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اٹھا ہےجنھوں نے اپنی اولاد کی جائز دنیوی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور کوشش کےساتھ ساتھ ان کی روح کی نشوونما کا بھی بھرپور خیال رکھا اور پھر اپنے دل پر صبر کا بھاری پتھر رکھتے ہوئے، گویا ابراہیم خلیل اللہ ؑکی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے جگر گوشوں کو اپنے ہاتھوں سے سوئے مقتل روانہ کیا، انھیں راہ حق میں جہاد کرنے کی خاطر ہجرت کی اجازت دی اور پھر اپنی اولاد، بالخصوص اپنی بیٹیوں کی جدائی پر ایسا صبر کیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔
یہ وہ باپ ہے جس نے دن رات محنت کی، حتیٰ کہ نائٹ شفٹوں میں بھی کام کیا تاکہ اس کی اولاد پڑھ لکھ سکے اور اس کی زندگی کی بنیادی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہوسکیں۔ اس نے اپنی خوشی سے اپنی اولاد میں سے ہر ایک کو اس کی مرضی کی تعلیم دلوائی اور اس سلسلے میں اخراجات کی کبھی پروا نہ کی ۔ جب کبھی اس کی اولاد میں سے کوئی بیمار پڑا تو ذرا سی بیماری کے لیے بھی اس نے شہر کے بہترین ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی کوشش کی۔
یہ وہ باپ ہے کہ جس نے اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے مواقع پر باوجود محدود استطاعت کے یہ کوشش کی کہ بیٹی کی نگاہ جس بہترین چیز پر بھی پڑے، اور جسے وہ صرف اس لیے چھوڑ دے کہ یہ مہنگی ہے، وہی چیز اسے دلائی جائے۔ اس نے اپنی بیٹی کے دل کی پروا تو کی مگر اپنی جیب پر پڑنے والے اضافی بوجھ کی مطلق پروا نہ کی۔
یہ وہ باپ ہے کہ جس نے بہنوں و بیٹیوں کی میکے آمد پر ہمیشہ دیدہ وہ دل فرش راہ کیے، ان کا ماتھا چوما اور انھیں ہر مرتبہ یہ احساس دلایا کہ یہ ٹھنڈی چھاؤں اب بھی تمہارے لیے سراپا انتظار ہے…… تم جب آؤ گی اسے بانہیں پھیلائے اپنا منتظر پاؤ گی۔
یہی وہ باپ ہے جس نے بیٹی کا رشتہ ایک مجاہد فی سبیل اللہ کو دیتے ہوئے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کئی مرتبہ اپنا فیصلہ بدلنا چاہا، مگر بیٹی کی تڑپ، بیوی کا صبر و ثبات اور اللہ کے وعدوں پر یقین اسے حوصلہ دینے کا سبب بنا۔ اس نے اپنے دل کے ٹکڑے سے فقط رب کی رضا کی خاطر جدائی گوارا کی اور جدائی بھی ایسی جس میں اس دنیا میں دوبارہ ملنے کا یقین تک نہ تھا۔
اور پھر جب اس باپ نے اپنی مہاجرہ بیٹی کا چہرہ کئی سال بعد دیکھا تو شفقت پدری سے مغلوب ہوکر اسے گلے لگایا، اس کا ماتھا چوما، بھیگی آنکھوں اور بھیگے لہجے کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور بیٹی ابھی گھر کے سب افراد سے فرداً فرداً ملنے کے بعد پھر سے ماں باپ کی طرف متوجہ ہی ہوئی تھی کہ بوڑھے باپ نے دل کی تڑپ سے مجبور ہو کر کہا، ’بیٹا! ایک بار پھر ملیں اور میرے سینے میں ٹھنڈک ڈالیں‘؛ پھر سے بیٹی کا ماتھا چوما اور اپنے آنسوؤں کو بمشکل تمام اپنے دل کے اندر اتار لیا۔
جب اس باپ کی بیٹی نے ایک مرتبہ کہا کہ ’ابو! آپ کم از کم میرے لیے اتنے مہنگے کپڑے اور قیمتی سامان نہ خریدا کریں ‘ تو باپ نے مسکرا کر شفقت سے بیٹی کو دیکھا اور کہا، ’بیٹی! آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے، مگر آپ ہمیں خود سے محبت کرنے اور اس محبت کے اظہار سے نہیں روک سکتیں‘۔
لیکن اپنی اولاد، بالخصوص اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے والہانہ محبت کے جذبات رکھنے والا یہی باپ جب اپنی بیٹی کی زبان سے یہ سنتا ہے کہ میری ساس کو فلاں چیز فلاں طریقے سے پکی ہوئی پسند ہے مگر مجھے اس طریقے سے پکانی نہیں آتی لہٰذا انھیں خود ہی پکانا پڑتی ہے، تو اس کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے ، فوراً بیٹی کو ٹوکتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’یہ کیا بات ہوئی کہ مجھے نہیں آتی؟ آپ پر لازم ہے کہ آپ ان سے وہ چیز اسی طرح پکانا سیکھیں جس طرح انھیں پسند ہے اور پھر ان کے لیے پکائیں‘‘۔ اسی طرح اپنی ایک بہن کے شوہر سے روٹھ کر میکے آجانے پر، یہ معلوم کرلینے کے بعد کہ غلطی سراسر بہن کی ہے، مسلسل اسے سمجھاتا رہا ، یہاں تک کہ وہ بخوشی اپنے گھر جانے پر راضی ہوگئی اور پھروقت نے ثابت کردکھایا کہ بھائی کا بہن کو اس کے گھر واپس بسانے کا فیصلہ ہی درست تھا۔
میں اپنے باپ کا حق کہاں ادا کرسکتی ہوں، میرا تو رواں رواں ان کی شفقتوں کا بار اٹھائے ہوئے ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم بہنیں چھوٹی تھیں اور ابو ہمارے لیے سائیکل خرید کر لائے اور پھرروزانہ باری باری ہمیں سائیکل پر بٹھا کر خود پیچھے سے سائیکل کا کیریر پکڑلیتے، ہم سائیکل چلاتیں اور وہ سائیکل پکڑے پکڑے ساتھ ساتھ بھاگتے کہ بچیاں کہیں سڑک پر گر کر چوٹ نہ لگوا بیٹھیں، حتیٰ کہ ہمیں اچھی طرح سائیکل چلانی آگئی۔
یہی وہ باپ ہے کہ جس نے دنیوی معاملا ت میں اپنی اولاد کو کبھی روکا ٹوکا اور نہ ہی کبھی ڈانٹا ڈپٹا مگر نماز کے معاملے میں جسے کوئی کوتاہی قطعاً گوارا نہیں تھی۔ جب کبھی انھیں علم ہوتا کہ بڑھتی ہوئی عمر کے بچوں میں سے کسی نے نماز کے معاملے میں سستی دکھائی ہے تو ہم سب کو حکم ہوتا کہ میرے سامنے اونچی آواز سے نماز پڑھیں اور یوں بچوں کی ساری سستی و کوتاہی رفو چکر ہوجاتی۔
یہ وہ باپ ہے کہ ہم بچے جن کے قد سے اپنا قد ناپا کرتے تھے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے باپ کے گھٹنوں کو پکڑ کر سہارا لے کر کھڑے ہونے والے بچوں کے قد باپ کے قد سے بھی نکلتے گئے۔ حتیٰ کہ میں نے وہ دن بھی دیکھا کہ مجھے اپنے والد کے جھکے کندھوں اور خمیدہ کمر کے باعث ان کا قد پہلے سے گھٹا ہوا دکھائی دیا اور یہ دیکھ اور محسوس کرکے میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ خیال آیا کہ جب اولاد جوان ہوجاتی ہے، تن کر کھڑے ہونے کے قابل ہوجاتی ہے تو وہ شجر سایہ دار جس کی شاخوں سے جھول کر، جس کے سائے میں پل کر، جس کی رگوں سے توانائی حاصل کرکے وہ اولاد کڑیل جوان ہوئی تھی، وہ شجر سایہ دار مضمحل ہوجاتا ہے، جھک جاتا ہے، اس کی آواز کا رعب و دبدبہ اپنے سے اونچے اپنے بیٹوں کے سامنے عاجزی و انکساری میں تبدیل ہوجاتا ہے، خواہ وہ بیٹے کیسے ہی فرماں بردار، سعادت مند اور باادب و خدمت گزار ہی کیوں نہ ہوں؛ اور وہی باپ کہ جس نے ساری زندگی اولاد کے لیے بھاگ دوڑ کرنے اور روزی کمانے میں مصروف ہوکر گزاری تھی ، جب ریٹائرڈ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے تو اپنے آپ کو ایک عضو معطل ہی سمجھنے لگتا ہے اور اسے لگتا ہے گویا وہ اپنے انھی گھر والوں کے اوپر ایک بوجھ ہے جنھیں اس نے پالا پوسا اور جن کی پرورش کی اور ساری زندگی جن کی کفالت کی۔
میں نہیں جانتی کہ میرے والد اس دنیا میں ہیں بھی یا نہیں مگر میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ کوئی بھی نیک عمل جو میں اللہ رب العزت کی توفیق سے کرپاؤں، اس کے اجر میں میرے والدین کا بہت بڑا حصہ ہے ان شاء اللہ۔ میں ان کا کچھ حق خدمت ادا نہیں کرسکی، حتیٰ کہ ان کے دل کی تسلی کے لیے اپنی خیریت کی اطلاع تک ان تک پہنچانے کا، ان کی آواز سننے اور اپنی سنانے کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں، مگر میں اپنے رب سے ان کے حق میں ویسی ہی شفقت اور رحمت کی طلب گار ہوں جیسی رحمت اور شفقت سے انھوں نے ہمیں سرآنکھوں پر بٹھا کر اور دل کا ٹکڑا ، ہتھیلی کا چھالا بنا کر پالا۔ آج جب ان کو میری ضرورت ہے تو میرے پاس ان کو دینے کے لیے دعاؤں اور ان کی جانب سے کیے گئے صدقات و خیرات کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ ہی سے مانگتی ہوں کہ مجھ نالائق و ناکارہ کو میرے والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔
اپنے ابو سے بس میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ پیارے ابو! آپ نے ہمارے لیے نیک، دین دار ماں کا انتخاب کیا ، ہمیں حلال کھلایا، حلال پہنایا اور ہماری جسمانی صحت کے ساتھ ہماری روحانی ضروریات کا بھی مداوا کیا…… تو پیارے ابو! مجھے آپ سے یہ کہنا ہے کہ ان شاءاللہ آپ کی محنت، آپ کی تپسیا رائیگاں نہیں گئی…… تہجد کے وقت دعا کے لیے اٹھے آپ کے ہاتھوں کی لرزش ، آنسوؤں کی نمی اور اپنے رب کے حضور التجائیں رنگ لائیں گی ان شاءاللہ۔
پیارے ابو! آج میں آپ سے دور ہوں مگر میرا رواں رواں آپ کے لیے دعاگو ہے۔ میرے ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھنا آپ ہی نے سکھایا ہے، آج اپنے رب کے حضور اٹھے ہوئے یہی ہاتھ آپ کے لیے رحمت، مغفرت، آسانی اور عافیت کی دعا لیے ہوتے ہیں۔ میں اپنے تصور میں اپنے شفیق باپ کی پیشانی چومتی ہوں اور اپنے ابو کو، اپنے پیاروں کو اس رب کے سپرد کرتی ہوں جس کے سپرد کرنے کے بعد نقصان کا خوف نہیں رہتا۔ استودعھم اللہ الذی لا تضیع ودائعہ۔ اور اپنی اس تحریر کا اختتام اس دعا پر کرتی ہوں، رب ارحمھما کما ربّیٰنی صغیرا، آمین۔



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



