نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | بارہویں قسط

امارت اسلامیہ افغانستان کے مؤسس عالی قدر امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد﷬ کی مستند تاریخ

by عبد الستار سعید
in جنوری ۲۰۲۶ء, افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
0

مشرقی صوبوں اور کابل کی فتح

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ طالبان فروری ۱۹۹۵ء میں کابل کے دروازوں تک پہنچ گئے تھے، تھوڑی مدت کی پُرامن صورتحال کے بعد مسعود کے مسلح لشکر کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی۔ ۱۹۹۵ء کے ابتدائی مہینوں سے لے کر ۱۹۹۶ء میں سردیوں کے آغاز تک طالبان کابل کے جنوب، جنوب مغرب اور مغربی اطراف میں مسعود کی افواج سے وقفے وقفے سے جنگ میں مشغول رہے۔

مغربی حصے میں جاری جنگ کے ساتھ ساتھ کابل کے اطراف میں جاری جنگوں کی نگرانی بھی ملا صاحب خود کر رہے تھے۔ جس وقت طالبان کابل کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے، ملا صاحب ہیلی کاپٹر کے ذریعے مسلسل غزنی، میدان وردگ اور لوگر صوبوں کا اور وہاں جاری جنگوں اور حالات کا جائزہ لیتے رہے۔ کابل کی فتح سے کچھ ماہ پہلے لوگر اور میدان شہر میں کابل کے گھیراؤ کے لیے بنائی گئی جنگی صفوں کا معائنہ بھی کیا۔ اس سفر کے دوران ایک حادثہ بھی پیش آیا، ملا محمد عمر مجاہد کے دفتری ملازم بیان کرتے ہیں کہ ملا صاحب نے جب جنگی محاذوں کا جائزہ لینے کے لیے سفر کا ارادہ کیا تو اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ گاڑی میں قندھار ائیر پورٹ پہنچے، وہاں ذمہ داران کو بلایا تاکہ سفر کے لیے ضروری انتظامات کیے جا سکیں۔ غلام جان نامی پائلٹ نے کہا کہ دو ہیلی کاپٹرز میں سفر کیا جائے کیونکہ افراد زیادہ ہیں۔ یوں اس سفر کے لیے ایک فوجی ہیلی کاپٹر اور ایک عام ہیلی کاپٹر کو تیار کیا گیا۔ ملا صاحب پائلٹ غلام جان کے ساتھ برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ جب لوگر پہنچے تو وہاں لوگر کے والی مولوی عبدالکبیر اور دیگر طالبان راہنما استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے۔ چونکہ یہ علاقہ کابل کے قریب تھا، اور مسعود کے جنگی جہاز یہاں بمباریاں کرتے رہتے تھے، اور ملا صاحب کا ارادہ تھا کہ کچھ وقت یہاں ٹھہریں، لہٰذا ہیلی کاپٹر کو فضائی حملوں میں نقصان سے بچانے کے لیے غزنی بھیج دیا گیا، تاکہ قندھار واپسی تک وہاں رہے۔ ملا صاحب مولوی عبد الکبیر کی میزبانی میں طالبان کے ایک خفیہ مرکز گئے، وہاں محاذ جنگ کے قریب ہی مجلس کے لیے ایک جگہ کا انتخاب ہوا۔ رات کو ملا بور جان اخند اور ملا مشر اخند کے علاوہ چہار آسیاب اور میدان شہر میں مختلف محاذوں پر سرگرم کئی مجاہدین اور ذمہ داروں سے ملاقاتیں ہوئیں، جنگ کی کیفیت کا جائزہ لیا گیا اور کابل کی جانب پیش قدمی کرنے کے لیے نیا منصوبہ بنایاگیا۔ اس مجلس کے بعد صبح تک عام مجاہدین سے ملاقاتیں ہوئیں، صبح جب ملا صاحب نے قندھار واپسی کا ارادہ کیا تو اطلاع آئی کہ جس فوجی ہیلی کاپٹر میں یہاں آئے تھے، وہ گزشتہ روز غزنی جاتے ہوئے پہاڑی سلسلے میں گر کر تباہ ہو گیا اور اس کا پائلٹ غلام جان بھی اس میں شہید ہو گیا۔

اگرچہ ہیلی کاپٹر کے گرنے کا سبب معلوم نہ ہو سکا، لیکن اتنا سب کو پتہ تھا کہ پچھلی حکومت کے چھوڑے گئے اکثر ہیلی کاپٹر اپنے استعمال کی رسمی مدت پوری کر چکے ہیں، اور ان میں سے اکثر میں تکنیکی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان ہیلی کاپٹروں کے گرنے کے واقعات زیادہ رونما ہو رہے تھے۔ ملا صاحب نے قندھار واپسی کے لیے غزنی تک کا سفر بذریعہ گاڑی کیا، پھر وہاں سے دوسرے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے۔ ملا صاحب کے ایک ہم سفر بیان کرتے ہیں کہ دوران سفر قندھار پہنچنے سے پہلے راستے میں نماز عصر کا وقت نکلنے لگا اور قندھار پہنچنے تک نماز قضا ہو جاتی۔ اس وقت ملا صاحب نے پائلٹ سے کہا کہ ہیلی کاپٹر کو کسی ندی کے قریب مناسب جگہ اتاریں، تاکہ ہم وضو اور نماز ادا کر سکیں۔ ہیلی کاپٹر کو پانی کی ایک ندی کے پاس اتارا گیا، تمام لوگوں نے نماز پڑھی اور پھر قندھار روانہ ہو گئے۔

اس سفر کے بعد متعدد رہنماؤں نے ملا صاحب کو تاکید کی کہ وہ موجودہ ہیلی کاپٹروں میں سفر کرنے سے اجتناب کریں، کیونکہ ان میں حادثات کثرت سے ہو رہے تھے اور ہر پرواز کسی خطرے سے خالی نہ تھی۔ بہرحال بات فتحِ کابل کی چل رہی تھی۔

آخرکار یہ تاریخی مرحلہ ملا بور جان ﷫کی قیادت میں شروع ہونے والی اُن عظیم کارروائیوں پر منتج ہوا جو پکتیکا اور پکتیا سے شروع ہو کر ننگرہار، لغمان اور کنڑ کے کامیاب معرکوں سے گزرتی ہوئی بالآخر کابل کی فتح پر اختتام پذیر ہوئیں۔

جون ۱۹۹۶ء میں طالبان کے دو بڑے مخالفین، برہان‌الدین ربانی او گلبدین حکمت یار کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے ’’معاہدۂ ماہیپر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے چند ہی دن بعد گلبدین حکمت یار کو وزیرِ اعظم مقرر کیا گیا، اور وہ کابل پہنچ گیا۔

حکمت یار جو گزشتہ ڈیڑھ برس سے طالبان اور ربانی کے مابین جاری خانہ جنگی کا تماشائی بنا ہوا تھا، اب ربانی کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف ایک جارحانہ مؤقف (offensive stance) اختیار کر چکا تھا۔ اُس کے مختلف کمانڈروں نے ملک کے کئی حصوں میں جنگی تیاریوں کا آغاز کیا۔

میدان وردگ صوبے میں اس کا کمانڈر ظفر الدین طالبان پر حملہ آور ہوا اور ضلع نرخ پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح پکتیکا کے ضلع ارگون میں حکمت یار کا مشہور کمانڈر خالد فاروقی بھی برسرِ پیکار ہوا اور متعدد علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔

جولائی میں، طالبان نے ملّا بور جان اخند کی قیادت میں ایک بڑا لشکر پکتیکا کے ضلع ارگون کی طرف روانہ کیا۔ یہ لشکر آگے بڑھا اور وہاں موجود حکمت یار کے کمانڈروں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ ارگون سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد یہی دستہ صوبہ پکتیا کی طرف بڑھا اور وہاں کے مشرقی علاقوں میں کارروائیاں شروع کیں، جو اس سے پہلے حکمت یار اور سیّاف کے کمانڈروں کے زیرِ اثر تھے۔

اسی سال ستمبر میں، طالبان نے اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے احمد خیل، زازی اریوب، علی خیل چونی، توربابا غونڈ اور پھر سپینہ شگہ کے علاقے اپنے قبضے میں لے لیے، اور اس کے بعد صوبہ لوگر کے ضلع ازری کی سمت بڑھنے لگے۔

لوگر کے ضلع ازری اور ننگرہار کے علاقے حصارکپر قبضہ حاصل کرنے کے بعد طالبان نے جلال آباد کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ جلال آباد میں برسرِ اقتدار انتظامیہ کے اکثر ارکان (حاجی قدیر گروپ کے علاوہ) پہلے ہی طالبان سے رابطے میں تھے، چنانچہ طالبان کی آمد پر انہوں نے ان کا پر جوش استقبال کیا۔

اس وقت طالبان ایک سمت سے حصارک کے راستے جلال آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، جبکہ دوسری جانب طورخم، جو فرضی سرحدی لکیر پر موجود اہم شہر تھا، وہاں موجود کمانڈروں سے مفاہمت کے نتیجے میں بغیر کسی لڑائی کے طالبان کے قبضے میں آ گیا۔

جلال آباد انتظامیہ کے کئی سر کردہ افراد، جن میں انجینئر محمود، حاجی سازنور، نادر عرب، نعیم پاچا، محمد اکبر مجددی اور دیگر شامل تھے، طالبان کے خیرمقدم کے لیے طورخم کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک مسلح کمانڈر نے ان پر گھات لگا کر شدید حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تمام افراد موقع ہی پر شہید ہو گئے۔

۱۰ ستمبر ۱۹۹۶ء کو طالبان کا تقریباً ایک ہزار افراد پر مشتمل لشکر جلال آباد شہر کی طرف روانہ ہوا، جہاں اس وقت حضرت علی اور احمد شاہ مسعود کے مسلح کارندے پہلے سے موجود تھے۔ شہر کے مضافاتی علاقے درونٹی میں طالبان پر گھات لگائی گئی، لیکن تھوڑی ہی دیر میں حضرت علی کو شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا اور وہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے لغمان کی طرف بھاگ نکلا۔

اب شہر میں صرف کابل انتظامیہ کے چند اہلکار باقی رہ گئے تھے، جن کی مزاحمت نہ ہونے کے برابر تھی۔ چنانچہ مختصر ہی وقت میں پورا جلال آباد طالبان کے مکمل کنٹرول میں آگیا۔

جلال آباد پر قبضے کے بعد کابل انتظامیہ نے مسلسل فضائی بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اسی دوران حضرت علی نے ایک بار پھر لغمان کے راستے سے جلال آباد پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور دوراہی کے علاقے سے گزر کر شاہراہِ عام پر وہ آگے بڑھنے لگا۔ طالبان، ملا بورجان اخند کی قیادت میں، اس کے تعاقب میں نکلے، انجامِ کار حضرت علی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس معرکے کے نتیجے میں طالبان نے نہ صرف لغمان کے مرکزی شہر مہترلام پر قبضہ کر لیا بلکہ آس پاس کے کئی دیگر علاقے بھی ان کے زیرِ تسلط آ گئے۔

حضرت علی کے دستے علی شنگ اور دولت شاہ کے پہاڑی علاقوں کی طرف پسپا ہو گئے۔ اس کامیابی کے بعد طالبان، ملا بور جان اخند کی سربراہی میں، ۲۰ ستمبر ۱۹۹۶ء کو صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد میں داخل ہوئے۔ وہاں کابل انتظامیہ کے ایک کمانڈر شیر افضل نے طالبان کے خلاف لڑتے ہوئے جان گنوائی۔ اس کے مارے جانے کے بعد باقی تمام حکومتی اہلکار علاقہ چھوڑ کر فرار ہو گئے، اور یوں کنڑ مکمل طور پر طالبان کے زیرِ اثر آگیا۔

کابل کیسے فتح کیا گیا؟

طالبان کا فتحِ کابل آپریشن افغانستان کی جنگی تاریخ کا ایک بے مثال باب ہے۔ ایک مغربی صحافی، ڈیوڈ لاین، ایک عسکری ماہر کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’یہ آپریشن افغانستان کی جاری جنگ کی پوری تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے، اس سے پہلے کسی بھی گروہ نے اتنے بڑے پیمانے پر، اتنے پیچیدہ اور فیصلہ کن نوعیت کا کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔‘‘

فتحِ کابل کے عظیم آپریشن میں طالبان کی تعداد سینکڑوں میں تھی، جن کی قیادت ملا بور جان اخند کے ہاتھ میں تھی۔ اسی کے ساتھ وریشمن تنگی (درۂ ریشم) اور لتہ بند کی سمت سے ملا فاضل، ملا عبدالرزاق، ملا دوست محمد، ملا سلام راکٹی، ملا سیف الرحمن منصور، مولوی خوشال ملنگ اور بے شمار دیگر جانباز کمانڈرز کابل کے چاروں اطراف سے معرکہ کی رہنمائی کر رہے تھے۔ اس پورے آپریشن کی نگرانی، کمک کی تنظیم اور فتح ہونے والے علاقوں کا نظم و نسق سنبھالنے کی ذمہ داری ملا محمد ربانی اخند کے سپرد تھی، جو مسلسل میدانِ کارزار کی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

طالبان کے مقابلے میں حکمت یار اور مسعود کے سینکڑوں جنگی دستے کابل کے مشرقی علاقوں سروبی اور ماہیپر کے پہاڑی دروں میں مورچہ زن تھے۔ کابل کے حکومتی دستوں کی زمینی قوت نہ صرف تعداد میں زیادہ تھی بلکہ انہوں نے پیشگی منصوبہ بندی کے تحت ان علاقوں میں سڑکوں، پہاڑوں کے دامن، دریا کے کناروں، پلوں کے نیچے اور متعدد دیگر مقامات پر بارودی سرنگیں بھی بچھا رکھی تھیں۔

لتہ بند کی سمت سے آپریشن کی قیادت کرنے والے ملا فاضل اخند بیان کرتے ہیں کہ مشرقی افغانستان سے طالبان کی پیش قدمی جب ازری کے علاقے سے ہوتی ہوئی ننگر ہار کے حصارک تک پہنچی، تو آپریشن کے مرکزی کمانڈر ملا بور جان اخند نے مجھے حکم دیا کہ چند مجاہدین کے ہمراہ حصارک ہی میں ٹھہروں۔ ان کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ کابل پر دو جانب، وریشمن تنگی اور حصارک، سے بیک وقت حملہ کیا جائے، تاکہ دشمن کی افواج ایک وسیع محاذ پر الجھادیا جائے اور ان کی جنگی طاقت تقسیم ہو جائے۔

وریشمن درے کی جانب سے آپریشن میں مصروف کمانڈر ملا عبد الرزاق اخند نے روزنامہ ہیواد کی پانچویں جلد کے شمارہ نمبر ۳۲۸ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا:

’’وریشمن درے میں دو روز انتظار کے بعد ۳ میزان ( ۲۳ ستمبر ۱۹۹۶ء) کو ملا بورجان اخند کنڑ سے یہاں پہنچے اور کابل پر حملے اور اس کے قبضے کا منصوبہ مرتب کیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ ملا فاضل اخند کی قیادت میں طالبان حصارک کی سمت سے لتہ بند، جگدلک اور پلِ چرخی کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گے، جبکہ ہم اس طرف سے سروبی کے راستے آگے بڑھیں گے۔‘‘

۲۳ ستمبر ۱۹۹۶ء کی دوپہر ایک بجے، وریشمین درے میں شہید ملا بور جان اخند کی قیادت میں دشمن کی دفاعی پوزیشنوں پر یلغار کا آغاز ہوا۔ کچھ دیر کے سخت معرکے کے بعد دشمن کی دفاعی صفیں ٹوٹ گئیں اور طالبان نے پیش قدمی جاری رکھی۔ اسی روز عصر کے وقت دشمن کی جانب سے ۸۲ ملی میٹر توپ کا ایک گولہ ملا بور جان اخند کے قریب لگا، جس کے پارچے انہیں براہِ راست جا لگے اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ ان کے قریبی ساتھیوں نے ان کے جسد پر ایک چادر ڈال کر گاڑی میں منتقل کیا تاکہ دیگر مجاہدین کو ان کی شہادت کا علم نہ ہو اور ان کا مورال متاثر نہ ہو۔

اسی روز اگرچہ طالبان کو مسلسل بمباری، فائرنگ اور بارودی سرنگوں کا سامنا تھا، پھر بھی وہ پیش قدمی کرتے ہوئے سروبی تک پہنچ گئے۔ رات کے وقت طالبان نے سروبی میں حکمت یار کے کمانڈر زرداد کے کیمپ پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ اسی دوران ملا فاضل کی قیادت میں حصارک کی سمت سے بڑھنے والے طالبان بھی سروبی پہنچ گئے۔

ملا فاضل حصارک کی مزاحمت کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

’’وریشمین درے کی طرف سے حملے سے ایک روز قبل حزبِ اسلامی کے افراد نے ہم پر یورش کی، مگر ہم نے مقابلہ کیا تو وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اگلے دن ملا بورجان اخند نے پیغام بھیجا کہ آج عمومی حملہ ہو گا، تم بھی اپنی سمت سے تیاری کرو۔ چنانچہ ہم نے بھی حملہ کیا اور پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے نغلو بند تک پہنچ گئے۔ اس کے بعد وریشمین درے کی جانب سے آنے والے مجاہدین بھی ہمارے ساتھ آ ملے۔

اس وقت تک ملا بورجان اخند شہید ہو چکے تھے، مگر ان کے ساتھیوں نے ان کی شہادت کو خفیہ رکھا۔‘‘

اسی مقام پر عشاء کے وقت ملا عبد الرزاق، ملا فاضل اخند، ملا دوست محمد، ملا سلام راکٹی اور ثانی ملا مشر سمیت تمام کمانڈروں نے جمع ہو کر اگلے دن کی جنگ کے لیے منصوبہ بندی کی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ جلال آباد اور حصارک سے آنے والے مجاہدین کو ایک جگہ جمع کرنے کے بجائے الگ رکھا جائے، چنانچہ طے پایا کہ حصارک کے مجاہدین لتہ بند کی سمت حملہ کریں گے، جبکہ جلال آباد کے مجاہدین ماہیپر کے پہاڑی سلسلے کی طرف پیش قدمی جاری رکھیں گے۔

اگلے روز، ۲۴ ستمبر کو، دونوں جانب سے جنگ کا آغاز ہوا۔ ملا فاضل کی قیادت میں طالبان نے چکڑی پر حملہ کیا اور علاقے کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد پیش قدمی کرتے ہوئے غازی بند تک پہنچ گئے۔

ماہیپر کے محاذ کے بارے میں ملا عبد الرزاق یوں بیان کرتے ہیں:

’’دن کے تقریباً دس بجے ہم نے سروبی کی جانب سے حملہ شروع کیا۔ پیش قدمی جاری تھی اور دشمن کے طیارے اور ہیلی کاپٹر شدید بمباری کر رہے تھے۔ جب ہم بجلی گھر کے قریب والے پل تک پہنچے تو پل کے نیچے سے دھواں اٹھتا محسوس ہوا۔ ایک مجاہد فوراً آگے بڑھا اور دیکھا کہ پل کے نیچے بڑی مقدار میں بارودی مواد رکھا ہوا ہے اور اس کے ساتھ جڑی آتش گیر بتی (فتیل/فیوز) سلگ چکی ہے، جو لمحہ بہ لمحہ بارود کے قریب بڑھ رہی تھی۔ اس مجاہد نے بڑھ کر بتی کو درمیان سے کاٹ دیا اور یوں پل تباہ ہونے سے بچ گیا۔

دشمن کی کوشش یہ تھی کہ جنگ کے دوران سرنگوں اور پلوں کو دھماکوں سے تباہ کر کے ہمارا راستہ روکے۔ جب ہم ماہیپر پہنچے تو دیکھا کہ وہ مضبوطی سے مورچہ بند تھے۔ تین گھنٹے تک سخت لڑائی جاری رہی۔ دوپہر تک جنگ طول پکڑ گئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک بھرپور اور آخری حملہ کیا جائے۔ اگر کامیابی نہ ملی تو رات وہیں گزار کر دفاعی پوزیشن مضبوط کریں گے۔

اس آخری حملے کے لیے ہم نے ٹینکوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا تاکہ سرنگ کے قریب دشمن کے مورچوں پر ضرب لگائی جا سکے۔ انہی ٹینکوں میں سے ایک ٹینک جب سرنگ کی طرف بڑھا تو دشمن کا گولہ اس پر آ لگا، جس سے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ سرنگ کے دہانے پر رک گیا جس سے پورا راستہ بند ہو گیا۔ ہم سب انتہائی پریشان ہوگئے، ایک تو راستہ مسدود ہو گیا تھا، دوسرا یہ کہ ٹینک میں موجود گولوں کے پھٹنے کا خدشہ تھا۔ کوئی دوسرا راستہ بھی موجود نہ تھا۔

اسی اضطراب کے عالم میں اللہ کی نصرت کا ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ شعلہ زدہ ٹینک خود بخود پیچھے کی جانب سرکنے لگا، سڑک کنارے بنی پکی دیوار کو توڑتا ہوا نیچے دریا میں جا گرا۔ یوں ہمارا راستہ کھل گیا۔ اس منظر کو دیکھ کر تمام مجاہدین کے حوصلے بلند ہو گئے اور سب جوش و جذبے کے ساتھ سرنگ کی طرف دوڑ پڑے۔

جب ہم سرنگ کے اندر پہنچے تو معلوم ہوا کہ اسے تباہ کرنے کے لیے بڑی مقدار میں بارود، پٹاخے اور دیگر دھماکہ خیز مواد جمع کیا گیا تھا، مگر دشمن کو اسے نصب کرنے کا موقع نہ مل سکا تھا۔‘‘

۲۴ ستمبر کو طالبان نے سخت اور فیصلہ کن جنگ کے بعد ماہیپر کے راستے پر قبضہ کر لیا۔ شام کے وقت جب طالبان کے دستے ماہیپر سے آگے بڑھ رہے تھے، تو لتہ بند کی سمت سے دیگر مجاہدین نے پیغام بھیجا کہ وہ بھی پل چرخی کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

اسی دوران مس عینک (لوگر) سے یہ خبر موصول ہوئی کہ طالبان کے حملے میں دشمن کا کمر بند، یعنی دفاعی خط ٹوٹ چکا ہے، جس سے مجاہدین کا مورال مزید بلند ہو گیا۔

اسی رات دشمن نے قوائے چہار کے علاقے میں اپنی دفاعی لائن سنبھالی، جبکہ طالبان کے دستوں نے ان کے بالکل نزدیک شب گزاری۔

۲۵ ستمبر کو طالبان نے میدان شہر اور چہار آسیاب کے جنگی خطوط کو پیغام بھیجا کہ وہ بھی اپنے حملے شروع کریں۔

صبح آٹھ بجے قوائے چہار کے محاذ پر دشمن کے خلاف بھرپور یلغار کی گئی، دشمن کی دفاعی لائن ٹوٹ گئی، اور پل چرخی کا علاقہ فتح ہو گیا۔ اسی دوران لتہ بند کی سمت سے آنے والے مجاہدین بھی پہنچ گئے اور دونوں لشکر پل چرخی کے پل پر آ کر یکجا ہو گئے۔

اسی دن، یعنی ۲۵ ستمبر کو ایک طرف کابل کے مشرق میں گمرک (کسٹم) اور عسکری یونیورسٹی / ملٹری اکیڈمی کے علاقوں میں شدید لڑائی جاری تھی، دوسری طرف ملا فاضل اخند کی قیادت میں مجاہدین نے کارتہ نو اور تپہ مرنجان پر حملے شروع کردیے اور دشمن کو اس کی دفاعی خطوط سے پیچھے دھکیل دیا۔

سہ پہر تک کابل کے مشرق میں جنگ شدت اختیار کر چکی تھی۔ دشمن کے جنگی ٹینکوں نے زبردست گولہ باری کی، اور ساتھ ہی ٹیلیویژن پہاڑی سے توپ خانے کے حملے بھی جاری رہے۔

انہی حالات میں رات گئے مجاہدین کے کمانڈروں تک اطلاعات پہنچیں کہ دشمن شہر سے پسپائی کی تیاری کر رہا ہے۔

رات گہری ہوتی گئی تو دشمن کی کارروائیاں کم بلکہ نا ہونے کے برابر ہو گئیں، اور ساتھ ہی چہار آسیاب کی سمت سے بھی یہ خبر آئی کہ وہاں دشمن کا دفاعی خط ٹوٹ چکا ہے۔

یوں رات تک دشمن کی ہمت جواب دے گئی، اور طالبان کے جنگی قائدین اس بات پر غور کرنے لگے کہ کابل میں داخلے اور پیش قدمی کی حکمتِ عملی کس طرح طے کی جائے۔

یوں طالبان نے ۲۵ اور ۲۶ ستمبر ۱۹۹۶ء کی درمیانی شب، تقریباً گیارہ بجے، کابل کے دارالحکومت میں قدم رکھا اور شہر پر اپنا قبضہ جما لیا۔ دارالحکومت پر قبضے کے فوراً بعد ان کا پہلا کام یہ تھا کہ لاکھوں مظلوم افغانوں، بیواؤں اور یتیموں کی خواہش پوری کرنی تھی۔

ڈاکٹر نجیب نے، جو سوویت یونین کی باقیات میں شامل تھا اور سابق کمیونسٹ رجیم کے انٹیلی جنس ادارے خاد کا سربراہ رہ چکا تھا، سینکڑوں مسلمانوں کو صرف مسلمان ہونے کے جرم میں قتل یا زندہ دفن کیا۔ بعد ازاں وہ کمیونسٹ پارٹی کا رہنما اور ملحد رجیم کا حکمران بھی مقرر ہوا۔ اس نے مظالم کی ایسی انتہا کی کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

اس وقت وہ کابل میں نظربند تھا۔ طالبان نے اسے اس کے سنگین جرائم کی سزا دی، یوں مظلوم عوام کی خواہش اور ان کا بدلہ لے لیا گیا۔ کابل کی فتح کے بعد، طالبان نے آنے والے دنوں میں کابل کے شمال میں واقع صوبہ پروان اور صوبہ کاپیسا کے مراکز بھی اپنے کنٹرول میں لے لیے اور احمد شاہ مسعود کو درہ پنجشیر کی طرف پسپا کر دیا۔

ملا محمد عمر مجاہد دیگر آپریشنز کی طرح مشرقی افغانستان اور فتح کابل کے آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہے تھے اور جنگی کمانڈروں کے ساتھ بلا توقف رابطے میں رہتے تھے۔ وہ ان کی ضروریات پوری کرتے اور لازمی ہدایات جاری فرماتے۔

جب ملا صاحب کو ملا بور جان اخند کی شہادت کا علم ہوا، تو انہوں نے ملا محمد ربانی کو مجاہدین کا سربراہ مقرر کیا۔ تاہم، اس تقرری کا اعلان فتح کابل تک ملتوی رکھا گیا تاکہ جنگ میں مصروف طالبان کو ملا بور جان اخند کی شہادت کی خبر نہ پہنچے، کیونکہ ایسی صورتحال میں جنگی قائد کی شہادت کی خبر جنگی مورال پر منفی اثر ڈال سکتی تھی۔

کابل کی فتح کے بعد، ملا صاحب نے ایک فرمان جاری کیا جس میں سابقہ نظام کے تحت کام کرنے والے تمام کابل کے رہائشی ملازمین اور فوجی اہلکاروں کو عمومی معافی سے نوازا گیا۔ اس معافی کے ساتھ انہیں یقین دلایا گیا کہ اسلامی نظام کے سائے تلے انہیں دیگر تمام مسلمانوں کی مانند ہر مادی و معنوی حق حاصل ہو گا، اور ان کی جان، مال، وقار اور عزت کی مکمل حفاظت کی جائے گی۔

نظام کی بحالی اور شہر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ملا صاحب نے ایک چھ رکنی کمیشن تشکیل دیا جس کی قیادت ملا محمد ربانی کے سپرد تھی۔ اس کمیٹی میں ملا محمد حسن، ملا عبد الرزاق، سید غیاث الدین آغا، ملا محمد غوث اور ملا محمد فاضل اخند شامل تھے۔

فتح کے بعد یہ کمیٹی دارالحکومت میں رسمی تقرریوں کی نگرانی، عوامی فلاح و بہبود اور عسکری امور کی ترتیب و تنظیم کی ذمہ دار تھی، تاکہ شہر میں انتشار، چوری، ڈاکے اور دیگر بدامنی کے عوامل کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔

فتحِ کابل کے بعد امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد ﷫ کی جانب سے انتظامی امور سے متعلق تیسرا حکم نامہ جاری کیا گیا، جو درج ذیل نکات پر مشتمل تھا:

  1. آج کے بعد پورے افغانستان میں خالص اسلامی نظام کی حاکمیت ہو گی۔

  2. بیرونِ ملک متعین تمام افغان سفیروں کو ان کے عہدوں سے معزول کیا جاتا ہے، اور انہیں سفارت خانوں سے متعلق تمام رسمی اختیارات سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ ممالک افغانستان کے تمام نقدی ذخائر اور دیگر اثاثوں کی مکمل حفاظت کے پابند ہوں گے۔

  3. کابل کے تمام باشندوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ شہر سے نقل مکانی نہ کریں، اور جو لوگ کسی وجہ سے نکل چکے ہیں وہ بلا خوف و خطر اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئیں، کیونکہ طالبان ان کی جان، مال اور عزت و آبرو کے محافظ ہیں۔

  4. بارودی سرنگوں کی صفائی پر مامور تمام ادارے کابل کے داخلی اور خارجی راستوں کو فوری طور پر محفوظ بنائیں، تاکہ شہریوں کی آمد و رفت میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔

  5. تمام تاجر برادری کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اہلِ کابل کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے خوراک اور ایندھن کی بروقت اور وافر فراہمی کو یقینی بنائیں، تاکہ شہری کسی بھی قسم کی پریشانی یا قلت کا شکار نہ ہوں۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان

Next Post

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026

23 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

20 جنوری 2026
غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان
طوفان الأقصی

غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان

20 جنوری 2026
ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!
طوفان الأقصی

ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!

20 جنوری 2026
اخباری کالموں کا جائزہ | اگست ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | جنوری ۲۰۲۶ء

20 جنوری 2026
Next Post
سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version