پیراڈائمز کے تین اہم بنیادی مبادیات و مباحث
عموماً پیراڈائم شفٹنگ بالفاظ دیگر دارۂ نظر کا سفرِ تجدید درجِ ذیل تین اہم مراحل سے ناگزیر طور پر گزرتا ہے جیسا کہ اجمالاً گزشتہ قسط میں اشارہ دیا گیا:
علمیات کی بحث (epistemology)
وجودیات کی بحث (Ontology)
اخلاق و اقدار کی بحث (Moral Philosophy)
اب انہیں حسب امکان و ضرورت تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اصل ان کے سمجھنے سے مقصود مغربی لا دینی و الحادی افکار کے اصول سمجھنا ہے اور جائزہ لینا ہے کہ آیا یہ اصول و افکار فطرتِ انسانی کے موافق ہیں یا اس سے متصادم۔ جس کو گہرائی نہیں بلکہ سطحی نظر سے دیکھ کر ہی شاید دل گواہی دے دے کہ واقعی انسان اپنے بنائے ہوئے اصول جو دراصل نفس پرستی اور شیطانی وسواس سے مخلوط ہوتے ہیں ان کی وجہ سے روحانی فقدان اور اخلاقی بحران کا شکار ہو رہا ہے، جو فرد اور معاشرے ہر ایک کی تباہی پر انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ اور پھر ایک تقابلی انداز کا جائزہ پیش کیا جائے گا جس میں اسلام کے پیراڈائم (مذکورہ تین فنون) کو سمجھنے کی کوشش ہوگی۔
علمیات (epistemology)
معرفت یا علمیات (Epistemology) فلسفے کی وہ اہم اور ابتدائی شاخ ہے بلکہ شاید پیراڈائم شفٹ کی جڑ ہے جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ علم حقیقتاً کیا ہے ؟ اس کے حصول کے اصل اسباب کیا ہیں؟
زیادہ قابل غور و بحث دوسرا سوال (اسباب علم کا) ہوتا ہے کہ علم کے اصولی ذرائع کیا ہیں۔ علمی ذرائع کو اہمیت دینے میں باریک نکتہ یہ ہے کہ جس طرح نظریات و افکار کئی بار بے ارادہ آنے والے ذہنی خیالات سے تکوین ہوتے ہیں اسی طرح معلومات و علم سے بھی نظریات و افکار تکوین ہوتے ہیں اور معلومات کے ثمرات و تاثیر بیشتر اپنے ذرائع کے تابع ہوتی ہیں، مثال سے یوں سمجھیں کہ ایک برتن اگر مٹی کا ہو تو اس میں پانی یا کوئی اور مشروب بھر کر رکھے رکھنے سے پانی کی (ذائقے اور احساس میں) الگ تاثیر ہو گی (جیسا کہ بعض مشروب شراب تک بن جاتے ہیں)، ایسے ہی اگر چمڑے کا مشکیزہ ہو تو الگ اور ایسے ہی اگر تانبے کا برتن ہو تو الگ، الغرض ذریعے (برتن)کے اختلاف سے تاثیر، حکم و حقیقت اور انجام میں فرق واقع ہوتا ہے۔ بس اسی طرح علم کے حصول و فہم میں اسباب و ذرائع کا بھی اثر ہوتا ہے۔
تو یہ سوالات صرف ذہنی یا فلسفیانہ کھیل نہیں ہیں بلکہ یہ انسانوں اور معاشروں کی تہذیبی سمت طے کرتے ہیں، جس طرح کوئی قوم علم کو سمجھتی ہے، اسی بنیاد پر وہ اپنے تعلیمی نظام، سیاسی ڈھانچے، اخلاقی قدریں حتیٰ کہ اپنے تمدنی و سائنسی منصوبے بھی تشکیل دیتی ہے۔
اسی زاویے سے جب ہم مغربی فکر اور اسلامی فکر کو دیکھتے ہیں تو ایک نمایاں فرق سامنے آتا ہے کہ مغرب کی معرفت زیادہ تر عقل اور تجربے پر مرکوز ہو گئی جبکہ اسلام کی معرفت میں وحی، عقل اور حواس سب ایک مربوط اور متوازن نظام کے طور پر موجود ہیں، یہی فرق آگے چل کر دونوں تہذیبوں کے انجام اور ان کے اثرات میں ظاہر ہوا۔
اب مغربی epistemology کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ epistemology جو عموماً عالمی تعلیمی اداروں میں رائج ہے اور اسی کی ماتحت سارا تعلیمی نصاب و تربیتی دستور چل رہا ہے جس کے نتیجے میں ایک مادہ پرست (Materialistic) سوچ اور روحانیت سے عاری زندگی کا ڈھانچہ سامنے آ رہا ہے اور عقائد و ایمان کے عروۃ الوثقیٰ کی گانٹھ ڈھیلی ہونے کے سبب لا مذہبیت سے ملمع شدہ بے شعوری کا طوق گلے میں پڑ رہا ہے۔
مغربی علمیات (Western Epistemology) اور اس کے اثرات
علم کیا ہے ؟
غیر مذہبی مغربی فکر جو اکثر امور میں یونانی فلسفے پر اپنی اساس قائم کرتے ہوئے دکھتی ہے1مزے کی بات یہاں یہ ہے کہ اس نام نہاد جدید تہذیب کے دلدادہ جو پوری دنیا اور خاص طور پر اہل مذاہب جن میں اہل اسلام کثیر الہدف ہوتے ہیں کو طنز کرتے ہیں کہ تم سب ایک قدیم دستور کے متبع ہو، قدامت پرست (Conservative) سوچ کے حامل ہو، زمانے سے ہزاروں سال پیچھے ہو، جبکہ حال و حقیقت یہ ہے کہ اس طنز کے وہ خود مستحق اعلیٰ ہیں کیونکہ ان کی بنیادیں اور اصول کا تعلق اکثر و بیشتر یونان کے قدیم حکماء کی تحقیقات اور ضابطوں کے نہج پر جاتا ہوا ہی دکھتا ہے۔، اس کے مطابق علم کی تعریف ہے: ’’جواز یافتہ حقیقی عقیدہ‘‘ (Justified True Belief)۔ جس کے مطابق علم وہ اعتقاد ہے جو نہ صرف سچا ہو بلکہ اس کے پیچھے ٹھوس جواز(Justification) بھی موجود ہو۔
تو یہ تعریف تین اجزاء سے مرکب ہوئی:
وہ بات جو حقیقت ہو۔ وہمی اور فرضی بات نہ ہو۔
جو اعتقادی حیثیت رکھتی ہو۔ عارضی خبر یا نظریہ نہ ہو۔
جو جواز یافتہ یعنی مقبول و مسلم ہو۔ اگر اس حقیقی اعتقاد پر دل مطمئن نہ ہوا بالفاظ دیگر ظاہر پر مبنی مادہ پرست ناقص انسانی عقل کو تسلیم نہ ہوا تو وہ برحق عقیدہ ہونے کے باوجود علم نہیں ہو گا بلکہ افسانہ یا فرضی سوچ کا مترادف و عکس ہو گا جس کی وجہ سے وہ ایک امر مردود ہو گا، اس پر یقین و عمل کا تقاضہ درست نہیں ہو گا۔
علم کی یہ تعریف افلاطون کی وضع کردہ ہے اور یہی تعریف حالیہ مغربی فلسفے میں زیادہ تر معروف و مقبول ہے، اسی تعریف کو بنیاد بنا کر مغربی تعلیمی اداروں میں تربیت دی جاتی ہے۔
بظاہر یہ تعریف علم کی ایک معقول وضاحت ہے، لیکن اس کا تیسرا جزء (جس بات کو آپ حق جان رہے ہو اس کا “Justified” ہونا) اس تعریف میں ایک اہم شرط ہے، یہ شرط اگر مطلق ہو اور Justified ہونے میں کوئی معیار و حدود طے نہ ہو کہ کن کن باتوں کا justified ہونا ضروری ہے اور کس حد تک ہونا ضروری اور کن کن باتوں کا Justified ہونا ضروری نہیں ہے تو ایسے آزاد ضابطے کے دو اساسی ثمرے برآور ہوتے ہیں:
انسانی نفس میں مزاجِ تکبر کا غلبہ: جب تک مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئے گی تو میں اسے نہیں مانوں گا، جو در اصل ابلیس کا ذوقِ خسیس اور اصل اعلیٰ تھا اور پھر یہی ذوق Individual Reasoning کے ذوق کی طرف لے جاتا ہے۔ اس نکتے پر آگے کچھ گفتگو ہوگی ان شاء اللہ۔
غیر حتمی اور مختلف فیہ انداز کا مشوَّش Confused نظریہ: ظاہر ہے جب بر حق اعتقاد Justified ہونے تک مسلَّم مقبول نہیں ہو گا تو چونکہ ہر ایک شخص کا درجۂ فہم، معیار، اندازِ ادراک مختلف ہوتا ہے، اس اعتبار سے اس کا Justified ہونا نہ ہونا بھی مختلف ہو گا۔ لہذا وہ عقیدہ اتفاقی طور پر قبول نہ ہونے کی وجہ سے اشکالی اور شدید اختلافی ہو گا۔ پھر کسی بھی فکر و نظر کا انجام ایک غیر حتمی نظریے کے علاوہ اور کیا ہو گا؟ یہی وجہ ہے کہ آج ملحدین کے پاس دستورِ تعامل، اخلاقی اقدار، سیاسی قوانین، معاشی نظام میں کوئی حتمی مؤقف نہیں ہوتا۔ پھر اسی وجہ سے وہ جمہوری رائے اور رجحان کو فیصلہ کن تجویز طے کرتے ہیں، پھر چند سالوں بعد ایک نئی حکومت جمہوری رائے کے اصول سے قائم ہوتی ہے اور اسی جمہوری رائے کے دستور سے گزشتہ جمہوری رائے سے طے کردہ قوانین و ضوابط کو باطل کر دیتی ہے۔ پس سیاست و معیشت سے لیکر معاشرت و طبیعیت تمام شعبوں کی جڑیں بے ثبات و بے ٹھکانہ بیج سے نکلتی ہیں۔
پھر ستم بالائے ستم یہ کہ یہ قومیں اپنے غیر واضح و ظلمت آمیز نظریات اور تکبر بھرے کچے ستونوں پر قائم اندازوں سے یہ طے کرنے نکلتی ہیں کہ خدا و مذہب کی حقیقت کیا ہے؟ انبیاء و اولیاء جیسی ذوات قدسیہ کے کلمات مبارکہ کی حیثیت کیا ہے؟
ایسے ہی متکبرانہ غیر مدبرانہ سماج کے تناظر میں گویا یہ آیات قرآنیہ اتری ہیں غالباً:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ ثَانِيَ عِطْفِهٖ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّنُذِيْقُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِيْقِ (سورۃ الحج: ۸،۹)
’’اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں، جو اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس نہ کوئی علم ہے، نہ ہدایت، اور نہ کوئی روشنی دینے والی کتاب۔ وہ تکبر سے اپنا پہلو اکڑائے ہوئے ہوتے ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کریں، ایسے ہی شخص کے لئے دُنیا میں رُسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اُسے جلتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘
ایک شدید مغالطے پر مبنی مشہور شبہ اور اس کا ازالہ
اکثر عوامی خیال اور سوال ایسے موقع پر یوں سامنے آتا ہے کہ اگر مغربی افکار و نکتہ ہائے نظر اتنے ہی قابل تردید اور ساقطِ وقعت ہے جیسا کہہ آپ کہ رہے ہیں تو پھر ان کو مادی و ظاہری دنیا میں اتنا بے مثال عروج کیسے حاصل ہوا بلکہ ہو رہا ہے؟ وہ قومیں دنیا کی اعلیٰ ترقی یافتہ کیسے ہیں یہاں تک کہ دوسری اقوام انہیں ہی اپنا رول ماڈل جان کر قابل تقلید مانتی ہیں؟
تو دیکھیں!
اولاً: وہ جدید دور کی مادہ پرست سادہ لوح عام فکر رکھنے والے افراد کی مضحکہ خیز غلطی ہے جو کئی تصوراتی مغالطوں پر قائم اور دھوکوں سے مربوط ہے جسے ہم ایک clear epistemic mistake کہہ سکتے ہیں۔ اور اسی غلط تاثر کی وجہ سے یورپ و مغرب سے مرعوبیت بلکہ ذہنی غلامی تک کا تعلق بن جاتا ہے۔ اور حقیقتاً یہ ذہنی غلامی کا ہی ثمرہ ہے جس کی وجہ سے عمومی طبقہ محض ان کی تکنیکی و تحقیقی ترقی کو اعلیٰ و برتر جانتے جانتے ان کی ثقافت، تعلیم، سیاسی نظام، معاشی نہج، افکار و اعتقادات تمام چیزوں کو برتر و اعلی سمجھ لیتا ہے اور ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معاشرے کی بلکہ اپنی نسلوں کی تربیتی خاکہ بندی کرتا ہے۔ تکنیکی و تحقیقی عروج تو مشرقی اقوام روس و چین، جاپان و کوریا کو بھی اچھا خاصا حاصل ہے، زیادہ تر ٹیکنالوجیکل آئیڈیاز میں مشرقی اقوام پیش رفت اور غلبہ رکھتی ہیں، لیکن ان کی برتری کے وہ چرچے نہیں، ان کی تعلیم کی وہ حرص نہیں جو مغرب کے حوالے سے ہے۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے یہ اور ایسے دیگر suprematic تصور مغرب سے متعلق ذہنی غلامی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ شاید مغرب و یورپ کا حسی استعمار (Physical colonization) تو بظاہر ختم ہو چکا لیکن ذہنی استعمار(Mental Colonization)میں آج تک دنیا میڈیائی چالوں اور سیاسی جالوں اور تعلیمی نظاموں کے سبب طوقِ عبدیت میں ہے۔
حالانکہ، ان تکنیکی ترقیات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ کبھی حادثاتی یا اتفاقی انکشاف (Accidental Discovery) کے طور پر سامنے آتی ہیں، جس میں کسی قوم و فرد کا نہ اپنا کمال ہے نہ ان چیزوں پر اپنی جاگیرداری حق ہے۔ کبھی ایک بیدار (Concious) گہرے خیال کے طفیل کوئی حقیقت کھلتی ہے اور کبھی فردی تجرباتی تحقیق سے اور پھر جب ان کو میڈیا، ادارہ جاتی وسائل کی کثرت، سیاسی سر پرستی اور مالی قِوام حاصل ہو جاتا ہے تو اسے کسی قوم کا علامتی شعار یا عکاسی کرنے والا معیار بتا اور بنا دیا جاتا ہے۔
تو مادی اور تکنیکی ترقی کسی مخصوص تہذیب یا نظریے کی جاگیر نہیں ہوتی، ایک سائنسی دریافت بسا اوقات کسی ایک فرد یا خطے میں جنم لیتی ہے، کسی دوسری تہذیب میں اس کی فکری نشو و نما ہوتی ہے اور کسی تیسری طاقت کے ہاتھوں وہ عملی غلبے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس پورے عمل میں اصل فیصلہ کن عنصر اکثر مالی اور ادارہ جاتی طاقت ہوتی ہے نہ کہ فکری برتری۔ چنانچہ یہ کہنا کہ جو قوم ٹیکنالوجی میں آگے ہے وہ لازماً علم اور نظریے میں بھی کامل ہے،ایک سادہ لوح کی ناسمجھی کا نتیجہ ہے۔
ثانیاً: اس بات کا تجزیہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مغرب کا یہ فلک بوس علاماتی انفراسٹرکچر، مایہ ناز ٹیکنالوجکل سسٹم، حیرت انگیز تحقیقاتی ادارے، کیا سب کے پیچھے مغرب اور بالخصوص امریکہ کا اپنا علمی کمال اور ان کی فکری برتی اور Intellectual سوچ کار فرما ہے ؟ کیا سب ان کے اپنے وسائل و حصائل کا ثمرہ ہے ؟
تو آئیں کچھ پسِ پردہ حقائق کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں (جو اب پیشِ پردہ ہوتے جا رہے ہیں بفضل اللہ)
امریکہ اور مغرب کی تکنیکی برتری کو اکثر داخلی علمی محنت، آزاد تحقیق اور جمہوری فضا کا نتیجہ بتایا جاتا ہے، لیکن جب اس بیانیے کو حقیقی تاریخی واقعات کی روشنی میں پرکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ عروج ایک منظم عالمی عمل کے بغیر ممکن نہ تھا، اس عمل میں دنیا کے مختلف خطوں کے مادی، انسانی اور فکری وسائل کو بتدریج مغربی طاقتوں نے اپنے حق میں منتقل کیا بلکہ دہشت گردانہ انداز سے قتل عام کر کے لوٹا اور مکارانہ طریقوں سے بیوقوف بنا کر ہائی جیک کیا جس کے شواہد تاریخ کے ہر دور میں موجود ہیں۔
کچھ مثالیں:
برطانوی ہندوستان اس کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں ہندوستان دنیا کی مجموعی صنعتی پیداوار کا تقریباً 23 فیصد حصہ رکھتا تھا، خصوصاً ٹیکسٹائل کے میدان میں ہندوستانی کپڑا یورپی منڈیوں پر چھایا ہوا تھا۔ لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کی پالیسیوں کے نتیجے میں مقامی صنعت کو دانستہ تباہ کیا گیا، ہندوستانی کاریگروں پر بھاری ٹیکس عائد کیے گئے، جیسا کہ سرمایہ دارانہ طبقے کا طرز ہوتا ہے جو آج تک کرتے آرہے ہیں، جبکہ برطانوی مشین سے تیار کردہ کپڑے کو ٹیکس فری داخلے کی اجازت دی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مانچسٹر کی فیکٹریاں پھلیں پھولیں اور ہندوستان کے ہنرمند لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار ہو گئے۔ یہی سرمایہ جو ہندوستان سے نچوڑا گیا، برطانیہ کے ریلوے نیٹ ورک، بندرگاہوں اور صنعتی انفراسٹرکچر کی بنیاد بنا۔
افریقہ میں کانگو فری اسٹیٹ کا واقعہ اس استحصال کی ایک اور المناک مثال ہے،انیسویں صدی کے آخر میں بیلجیئم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم نے کانگو کو ذاتی ملکیت کے طور پر استعمال کیا، ربڑ اور معدنی وسائل کے حصول کے لیے مقامی آبادی پر وحشیانہ تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں اندازاً ایک کروڑ افراد ہلاک ہوئے، یہی ربڑ یورپ اور امریکہ کی ابھرتی ہوئی آٹو موبیل اور الیکٹریکل صنعت کی ریڑھ کی ہڈی بنا، مغرب میں صنعتی سہولتیں بڑھتی گئیں، جبکہ افریقہ نسلوں تک عدم استحکام اور پسماندگی کا شکار رہا ،جیسا کہ آج تک Apple جیسی سرمایہ دارانہ کمپنیوں کے سبب ہے۔2کانگو (Democratic Republic of Congo) دنیا کے اُن خطّوں میں شامل ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کے لیے نہایت قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں، جیسے سونا، ٹِن، ٹینٹلم اور ٹنگسٹن، جنہیں مجموعی طور پر Conflict Minerals کہا جاتا ہے۔ یہی معدنیات اسمارٹ فونز، بالخصوص iPhone جیسے آلات میں استعمال ہوتی ہیں، کیونکہ یہ چِپس، سرکٹس، بیٹریوں اور دیگر حساس پرزہ جات کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کانگو کے کئی معدنی علاقوں پر دہائیوں سے مسلح گروہوں کا قبضہ رہا ہے، جو ان معدنیات کی کان کنی، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے ذریعے اپنی جنگی سرگرمیوں کو مالی سہارا دیتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں قتل و غارت، جبری مشقت، بچوں سے مشقت، خواتین پر تشدد اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی جنم لیتی ہے۔ Apple جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں براہِ راست کانگو کی کانوں سے معدنیات نہیں خریدتیں، بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ عالمی سپلائی چین کے ذریعے یہ مواد ان تک پہنچتا ہے۔ الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ کانگو سے نکالی گئی یہ معدنیات پہلے پڑوسی ممالک، مثلاً روانڈا یا یوگنڈا، منتقل کی جاتی ہیں اور وہاں سے “صاف” یا قانونی ذرائع کے نام پر عالمی منڈی میں داخل ہو جاتی ہیں۔ اسی پس منظر میں کانگو کی حکومت اور بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے Apple پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس کی سپلائی چین میں شامل معدنیات بالآخر انہی جنگ زدہ علاقوں سے آتی ہیں، اور یوں بالواسطہ طور پر iPhone جیسی مصنوعات مسلح گروہوں کی معیشت کو تقویت دیتی ہیں۔ Apple کا موقف یہ ہے کہ وہ صرف آڈیٹ شدہ اور ذمہ دار سپلائرز سے ہی معدنیات حاصل کرتا ہے اور ہر سال Conflict Minerals Report جاری کرتا ہے، تاہم ناقدین کے نزدیک مسئلہ صرف براہِ راست خرید کا نہیں بلکہ اس پورے عالمی نظام کا ہے جس میں بڑی کارپوریشنز کی طلب، کانگو جیسے خطّوں میں جاری خونریز تنازعات کو زندہ رکھتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ Apple پر الزام کسی ایک کمپنی کی نیت سے زیادہ اُس جدید مادی تہذیب پر سوال ہے جس میں تکنیکی ترقی کی قیمت اکثر کمزور اقوام کے خون، درد اور عدم استحکام کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔
پھر بیسویں صدی میں یہ عمل خام مال سے آگے بڑھ کر علم اور سائنس تک بڑھ گیا اور سائنسی افراد کی ہائی جیکنگ تک جا پہنچا۔ چنانچہ مغرب و امریکہ کو آئن سٹائن جیسے فری میسن (Free Mason) شیطانی مفکر3ایلبرٹ آئنسٹائن کو شیطانی مفکر کہنے کی وجہ: سب سے پہلی بات اس کا فری میسن ہونا اور یہودی تنظیم صہیونیت کا مشیر خاص ہونا، دوسری بات اس کا باوجود یہودیت کی طرف منسوب ہو کر ایک پر اسرار خدا “Spinoza’s god” کا قائل ہونا جس کی تعریف وہ تو nature کے طور پر کرتا ہے لیکن اس کی طرف سے اشارات کسی باشعور ذات پر دلالت کرتے تھے، تیسری بات اس کے اپنے شیطانی کرتوت، مثلاً ناجائز اولادیں اور بیوی پر شدید مظالم پھر اپنی ہی بیٹی سے شادی کے ارادے وغیرہ۔ اس کی ابتدائی زندگی یہ تھی کہ یہ بالکل بلید دماغ کا مالک تھا اور تین سال تک گونگا تھا، لیکن سن 1900ء کے بعد اس کی تاریخ بدلتی ہے اور یکایک حیرت انگیز علوم کا ماہر بن جاتا ہے، اس طرح کی حیوانی زندگی گزارنے والا انسان جب اچانک ایسی تعجب خیز صلاحیتوں کا حامل ہو جائے اور عالمی پیمانے پر اس کا شہرہ بج جائے تو شیطانی مفکر کہنے میں کم از کم مجھے تردد نہیں۔ نظر آ گئے جن کو پھر باضابطہ خفیہ برادریوں نے نوبل پرائز وغیرہ دلوا کر خصوصی تشہیر کے ذریعے آگے بڑھایا۔ جبکہ آئن سٹائن کی کئی تھیوریز ایسی تھی جو کسی سابق مفکر کے تحقیقی نتائج پر ایک نئی ترمیم تھی، مثلاً آئین سٹائن کی مشہور زمانہ equation (E=MC²) ،جس کے ذریعے اس نے Theory of relativity پیش کی، خود دراصل اطالوی صنعت کار اولنٹو ڈی پریٹو (Italian Industrialist Olinto De Pretto) کا اس کے تجربات پر مبنی اتفاقی حساب تھا جو اس نے دریافت کیا۔ بلکہ بعض شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ De Pretto سے پہلے بھی اس پر مباحث ہوئے ہیں (واللہ اعلم)۔ بہر حال جو ہو مقصد اس مثال سے یہ بتانا تھا کہ کس طرح عمومی معاملوں میں آئن سٹائن کو ہیرو اور بڑا چہرہ ثابت کر کے پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کا تاثر بھی پھیلے، فری میسنز کی عظمت بھی قائم ہو اور پھر جو مفکرین خفیہ برادری کے سرمایے دارانہ Capitalist ایجنڈوں، تعلیمی منصوبوں، سازشی ارادوں پر نہیں چلتے، انہیں بے قیمت کر کے پس پشت ڈال کر گمنام کر دیا گیا جیسے نکولا ٹیسلا (Nikola Tesla)، والٹر رسل (Walter Russell)، رینی گینوں (René Guénon)4انیسویں اور بیسویں صدی میں چند ایسے غیر معمولی اذہان پیدا ہوئے جنہوں نے محض ٹیکنالوجی یا فلسفہ نہیں بلکہ علم، کائنات اور انسان کے مروجہ تصور کو چیلنج کیا۔ نکولا ٹیسلا ایک ایسا سائنسدان تھا جس کا خواب توانائی کو آزاد، ارزاں اور عالمگیر بنانا تھا۔ اس کا نظریہ تھا کہ بجلی اور توانائی انسانیت کی مشترکہ میراث ہے، نہ کہ کارپوریٹ ملکیت۔ یہی تصور اس وقت کی سرمایہ دارانہ قوتوں، خصوصاً توانائی کی اجارہ داری قائم کرنے والے صنعتی گروہوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ نتیجتاً ٹیسلا کو مالی طور پر تنہا کر دیا گیا، اس کے منصوبے بند ہوئے اور اس کی وفات کے بعد اس کی تحقیق کو ریاستی تحویل میں لے لیا گیا۔ وہ جسمانی طور پر غائب نہیں ہوا، مگر علمی طور پر سائڈ لائن کر دیا گیا۔ والٹر رسل ایک ہمہ جہت مفکر تھا جو سائنس، فلسفہ اور روحانیت کو ایک وحدت میں دیکھتا تھا۔ اس کا کائناتی ماڈل مادّی سائنس کے میکانکی تصور کے خلاف تھا اور شعور کو کائنات کی بنیاد قرار دیتا تھا۔ چونکہ جدید صنعتی سائنس محض قابلِ فروخت نتائج چاہتی تھی، اس لیے رسل جیسے مفکر کو ادارہ جاتی سائنس نے سنجیدگی سے قبول نہ کیا۔ اسے دبایا نہیں گیا، بلکہ نظر انداز کیا گیا، جو بعض اوقات غائب کرنے کی سب سے مہذب مگر مؤثر صورت ہوتی ہے۔ رینی گینوں مغربی تہذیب پر ایک فکری ضرب تھا۔ اس نے جدیدیت، مادیت اور عقلیت پرستی کو روحانی انحطاط کی جڑ قرار دیا اور روایت (Tradition) کو علم کا اصل سرچشمہ بتایا۔ اس کی تحریریں مغربی فکری ڈھانچے کے لیے خطرہ تھیں، کیونکہ وہ پورے epistemic نظام کو چیلنج کر رہی تھیں۔ نتیجتاً گینوں نے خود کو یورپ سے الگ کر لیا اور مصر میں گوشہ نشینی اختیار کی۔ یوں اسے طاقت کے نظام نے نہیں، بلکہ خود نظام سے ٹکراؤ نے سائڈ لائن کر دیا۔ ان تینوں کی مشترکہ تقدیر یہ تھی کہ یہ علم کو انسانی نجات سے جوڑتے تھے، جبکہ سرمایہ دارانہ طاقتیں علم کو کنٹرول اور منافع کا ذریعہ بنانا چاہتی تھیں۔ وغیرہ کو کیا گیا اور آج تک ایسے مفکرین سائنسدانوں کو راستے سے ہٹائے جانے کا پراسس جاری ہے جس کی واضح مثال اس دور میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے۔ لہذا یہ باتیں کوئی قیاس آرائی یا سازشی نظریہ conspiracy theory نہیں ہیں بلکہ مبنی بر حق معاملہ ہے کہ کوئی کتنا بھی بڑا اور با صلاحیت کیوں نہ ہو یا تو خفیہ برادری کے مخصوص ارادوں کے فریم ورک میں کام کرے یا خاموش و گمنام رہے اور ان کے نظام و مقاصد کے لیے چیلنج بننے کی ہرگز کوشش نہ کرے ورنہ انجام کے ظالمانہ چہرے کا شکوہ کناں ہو گا۔
پھر دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد امریکہ نے ’’آپریشن پیپرکلپ‘‘5دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا میں طاقت کا اصل معیار زمین یا فوج نہیں رہا بلکہ علم اور ذہانت بن گیا۔ اسی تناظر میں آپریشن پیپر کلپ سامنے آیا، جس کے تحت امریکہ نے نازی جرمنی کے سینکڑوں سائنسدانوں کو اپنے ہاں منتقل کیا۔ مقصد انصاف نہیں بلکہ فائدہ تھا۔ جن دماغوں نے جنگی مشینری بنائی تھی، وہی دماغ اب نئی عالمی طاقت کے لیے کام کرنے لگے۔ یوں علم کو اخلاقیات سے الگ کر کے طاقت کے تابع کر دیا گیا۔ کے تحت نازی جرمنی کے سینکڑوں سائنس دانوں اور انجینئروں کو خفیہ طور پر امریکہ منتقل کیا۔ ورنر فان براؤن جیسے سائنس دان، جو نازی راکٹ پروگرام کا حصہ تھے، بعد میں ناسا NASA کے مرکزی معمار بنے۔ امریکی خلائی پروگرام، بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور بالآخر چاند پر قدم رکھنے کی صلاحیت، بڑی حد تک اسی علمی ہائی جیکنگ کا نتیجہ تھی۔ اگر یہ دماغ جرمنی میں رہتے یا غیر جانب دار علمی اداروں میں کام کرتے تو شاید عالمی سائنسی توازن مختلف ہوتا۔
اسی ماڈل کو بعد میں ترقی پذیر دنیا پر نرم مگر مؤثر منصوبہ بند انداز میں نافذ کیا گیا۔ سرد جنگ کے دوران ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ذہین طلبہ کو فولبرائٹ، روڈز اور دیگر اسکالرشپس کے ذریعے مغربی جامعات میں بلایا گیا۔ ان میں سے بڑی تعداد وہیں کی ہو کر رہ گئی۔ مثال کے طور پر بھارت اور پاکستان کے ہزاروں سائنس دان، جوہری طبیعیات دان اور آئی ٹی ماہرین امریکہ منتقل ہوئے، جہاں ان کی تحقیق نے سلیکون ویلی، پینٹاگون اور ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو تقویت دی، جبکہ ان کے اپنے ممالک تحقیقی اداروں کی کمی اور کمزور انفراسٹرکچر کا شکار رہے۔ اس عمل کو بظاہرBrain Gain6برین گین آپریشن پیپر کلپ کی نرم شکل ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے قابل ترین ذہن بہتر سہولیات کے نام پر ترقی یافتہ ممالک کی طرف کھینچ لیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً غریب معاشرے صرف خام مال ہی نہیں، بلکہ اپنے فکری سرمایہ سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ جدید نوآبادیات ہے، جس میں بندوق نہیں بلکہ ویزا اور ادارے استعمال ہوتے ہیں۔ کہا گیا، مگر حقیقت میں یہ ترقی پذیر معاشروں کے لیے شدید ’’Brain Drain‘‘ تھا، جس نے ان کے اپنے تحقیقی ڈھانچوں کو کمزور کر دیا۔
عالمی مالیاتی اداروں نے بھی علم کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا،1980ء اور 1990ء کی دہائی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے Structural Adjustment Programs کے تحت افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک کو اپنی جامعات، تحقیقی مراکز اور سائنسی بجٹ کم کرنے پر مجبور کیا گیا، نیز انہیں خام مال برآمد کرنے والی معیشتوں تک محدود رکھا گیا۔ گھانا اور زیمبیا جیسے ممالک میں اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق پر اخراجات میں شدید کمی آئی، جبکہ مغربی ممالک انہی وسائل سے اپنی ٹیکنالوجی اور تحقیق کو مزید مضبوط کرتے رہے۔
ادویات اور زراعت کے میدان میں پیٹنٹ سسٹم7پیٹنٹ سسٹم اس پورے ڈھانچے کی قانونی بنیاد ہے۔ بظاہر یہ جدت کی حفاظت کے لیے ہے، مگر حقیقت میں یہ علم کو چند کمپنیوں اور ریاستوں کی ملکیت بنا دیتا ہے۔ دوا، بیج، ٹیکنالوجی حتیٰ کہ زندگی سے جڑے بنیادی تصورات تک کو قانونی قید میں دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح علم، جو کبھی انسانیت کی مشترکہ امانت تھا، ایک تجارتی شے بن جاتا۔ اس عدم توازن کی واضح مثال ہے۔ AIDS کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی اینٹی ریٹرو وائرل ادویات طویل عرصے تک مغربی کمپنیوں کی پیٹنٹ گرفت میں رہیں، جس کے باعث افریقہ میں لاکھوں افراد سستی ادویات سے بھی محروم رہے بعد ازاں جب بھارت اور برازیل نے جنیرک ادویات تیار کیں تو مغربی کارپوریشنز نے قانونی دباؤ کے ذریعے انہیں روکنے کی کوشش کی۔
اسی طرح باسمتی چاول اور نیم جیسے پودوں پر مغربی اداروں کی جانب سے پیٹنٹ کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقامی علوم اور وسائل کو عالمی منڈی میں کس طرح ہائی جیک کیا جاتا ہے۔8مغرب کے ترقیاتی ان تمام پر حقائق پر تفصیلی مطالعہ درکار ہو تو یہ مراجع قابل رجوع ہیں: Globalization and Its Discontents – Joseph، Stiglitz، Biopiracy – Vandana Shiva، Orientalism – Edward said، اور انتہائی اہم Kicking away the ladder – Haa joon chang
مزید برآں میڈیا اور تعلیمی بیانیہ نے ان تمام واقعات کو ایک اخلاقی پردے میں لپیٹ دیا۔ مغرب کو جدت، عقل اور ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا، جبکہ باقی دنیا کو ’’ترقی کے مراحل میں پیچھے‘‘ دکھایا گیا۔ اس بیانیے کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود ترقی پذیر معاشروں کے اذہان میں یہ تصور جڑ پکڑ گیا کہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کا مرکز فطری طور پر مغرب ہی ہے، اور باقی دنیا کا کردار محض صارف یا پیروکار بننا ہے۔ لہذا وہ اسی شبہ کے شکار بنے کہ جب ان کا مادی عروج ایسا مثالی ہے تو ان کا تعلیمی و تربیتی دستور بھی قابل تقلید ہو گا، سارا نظام قابل اخذ ہو گا جو کہ جیسا عرض کیا گیا اصل میں ذہنی غلامی کا تاثر ہے۔
ثالثاً: ایک نادر بلکہ شاید ناقابل تسلیم بات جو ممکناً Controversial یا Conspiracy theory کا لقب پا لے لیکن بہر حال راقم الحروف کا اپنے مطالعے و تحقیق پر مبنی ایک یقین کے قریب ظن غالب ہے کہ ان غیر معمولی عروج و تطورات کے ماوراء باضابطہ شیطانی معاونت بھی بذریعہ وحیٔ شیطانی کارکردگی نبھا رہی ہے۔ گو یہ بات اجنبی اور اچھمبی معلوم ہو لیکن شرعاً ممکن ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم صاف ذکر کرتا ہے:
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا (سورة الأنعام:١١٢)
’’اور (جس طرح یہ لوگ ہمارے نبی سے دشمنی کر رہے ہیں) اسی طرح ہم نے ہر (پچھلے) نبی کے لیے کوئی نہ کوئی دشمن پیدا کیا تھا، یعنی انسانوں اور جنات میں سے شیطان قسم کے لوگ، جو دھوکا دینے کی خاطر ایک دوسرے کو وحی کرتے (بڑی مکر و گمراہی کی باتیں سکھاتے رہتے) تھے۔‘‘
آگے اسی سورت میں آیت 121 پر پھر شیطان کے وحی کرنے پر آیت اس طرح موجود ہے:
وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ(سورة الأنعام،۱۲۱)
’’ شیاطین اپنے دوستوں کو وحی کرتے (ورغلاتے) رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں۔‘‘
سورۃ الشعراء تو مزید گہرے الفاظ میں اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔ چنانچہ فرمان باری ہے:
هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ تَنَزَّلُ عَلٰي كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِـيْمٍ يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ (سورۃ الشعراء: ۲۲۱: ۲۲۳)
’’کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اتر تے ہیں، وہ ہر ایسے شخص پر اترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گناہگار ہو، وہ سنی سنائی بات لا ڈ التے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔‘‘
پھر احادیث صحیحہ میں موجود قصۂ ابن صیاد مزید افق کھول دیتا ہے اس حوالے سے کہ شیطانی راہنمائی اور رسائی انسان تک کیسے ہوتی ہے۔
اب جب شرعاً ممکن ہے تو صاحب ایمان کے لیے عقلاً و عادتاً بھی ممکن ہونے میں تردد نہیں۔ پس یہ ہونا ممکن ہے لیکن ہوا ہے اس کے لیے شواہد درکار ضرور ہیں اور وہ شواہد کی طرف نشان دہی کی ہے مفتی ابولبابہ صاحب شاہ منصور (دامت برکاتہم) نے اپنی کتاب ’’دجال کب کہاں کون‘‘ میں۔ اور مولانا عاصم عمر شہید (تقبلہ اللہ) نے اپنی کتاب ’’برمودا تکون اور دجال‘‘ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح مغربی جدید مفکرین کا شیطانی افراد سے تعلق رہا اور کیسے انہوں نے سحر آلود راستوں سے (باذن الہی) گہری باتیں کھوج نکالیں، ان پر حادثاتی تجربوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ اس انواع کی باتوں کو لےکر کئی نظریاتی آراء کی جہتیں الگ الگ ہو جاتی ہیں اس لیے ٹھوس انداز ہونے کے باوجود باتیں قاری کے لیے دھندلی ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا وہ مضبوط یقینی نظریہ بن پائے اس کا دعویٰ مشکل ہے۔ پھر بھی راقم الحروف کی تجویز ہے کہ اہل ذوق حضرات کے لیے ان کتابوں کی طرف رجوع ضرور کریں۔ اور اگر ان کا مطالعہ ہو چکا ہو تو بھی مکرر رجوع کریں اور بغور تجزیاتی انداز سے تقابلی قسم کا مطالعہ کریں۔ ذکر کردہ حقائق کو دیگر تحقیقی ذرائع کے شواہد سے بھی جوڑ کر دیکھیں، شاید کہ بہت کچھ فہم کو دستک دینے لگے اور اس نکتے کو باوجود ضعیف الواقع ہونے کے ذکر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ کئی بار اس طرح کے نکتوں سے بھی دقائق و حقائقِ زمانہ کو سمجھنے میں راہ مل جاتی ہے۔ پیچیدہ الجھنوں کی گتھی کافی بساط تک سلجھ جاتی ہے۔ راقم یہاں ان کی حتمیت باور کرانا نہیں چاہتا اور نہ ہی اس کو درست سمجھتا ہے البتہ ان کو گوشۂ ذہن میں جگہ دینے سے کوئی معقول مانع بھی نظر نہیں آتا۔ تو بجائے اس نکتے کو طول دینے کے، حوالے پر اکتفا کرتا ہوں بوجہ ضیق مقام اور بات کے غیر مقصود بالذات ہونے کے اور وہاں کی باتیں بھی یہاں نقل کرنا بلا ضرورت تکلف سمجھتا ہوں۔
خلاصۂ کلام یہ کہ مغرب کا مادی ترقی و ظاہری ٹیکنالوجکل عروج اولاً اس کی سلیمانہ فکر، مستقیمانہ ذوق، با قدر اقدار اور با وقار اخلاق کی دلیل نہیں نہ تعلیمی و ثقافتی علویت و سموحیت کی علامت ہے۔ ثانیاً وہ رفعت و بلندی جس کے نیچے ایسے بد خصلت مفسدانہ اور بد فطرت مجرمانہ حقائق ہوں تو کسی صورت قابل برتری و عظمت نہیں ہو سکتی اور نہ انہیں نگاہِ رشک سے دیکھنا سمجھداری ہے۔ ثالثاً اس وقت تو بالکل نہیں اگر اس کے شیطانی قطرات کے مظہر ہونے کے امکانات ہوں، ہاں اگر کوئی عقل سلیم سے محروم ہو اور طبع مستقیم سے دور ہو تو الگ معاملہ ہے۔
فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ (سورۃ غافر: ۴)
’’پس ان کا دنیا میں (اتراتے ہوئے) چلنا پھرنا دھوکے میں نہ ڈالے۔‘‘
آج جب دنیا ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، تو ضروری ہے کہ اس تاریخ کو محض الزام تراشی کے لیے نہیں بلکہ فکری بیداری کے لیے سمجھا جائے، ترقی پذیر معاشروں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ مغرب نے کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ آئندہ اپنے وسائل، اپنی ذہانت اور اپنے علمی ورثے کو کس طرح خود مختار، منصفانہ اور مقصدی ترقی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ حقیقی تحقیق اور مضبوط انفراسٹرکچر اسی وقت جنم لے سکتا ہے جب علم کو محض طاقت کا آلہ نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کا ذریعہ سمجھا جائے۔
تنبیہ:
مذکورہ تبصرے سے مقصود یہ تاثر ہرگز نہ ہو کہ اسلامی فکر مادی عروج، جدید تعلیمی مہارت، ترقی یافتہ ٹیکنالوجیکل صلاحیت سے انحراف کی داعی ہے۔ نہیں یہ بڑی کج فہمی ہو گی کیونکہ اسلامی ادوار نے خود ان امور کے معیاری نمونے پیش کیے ہیں۔ کلام بس اس صورت میں ہے جب مذکورہ امور کو ہی اصل جانا جائے اور Materialism کی وادیوں میں بھٹک کر روحانی دنیا سے بیزاری آ جائے نیز ان کے ذریعے مغربی برتری اور ذہنی غلامی کا اثر عقل و مزاج پر چھانے لگ جائے اور یہ حالت الحادی، لا دینی سوچ پر منتج ہو جائے۔
فاللہم احفظ و سلِّم
مغربی علمیات میں معتبر اسباب علم
اسباب علم
یہاں تک تو گفتگو تھی مغرب کے نزدیک علم کی حقیقت کو لے کر۔ اب آگے مغرب کے نزدیک اسبابِ علم اور اس کے نتائج پر کچھ باتیں عرض کی جاتی ہیں۔
بنیادی طور پر اس معاملے میں بھی مغربی ذہن کی عمارت یونانی قدیم فلاسفہ کے اصولوں پر تعمیر ہوتی ہے۔ اساسی اعتبار سے مغربی epistemology میں اسباب علم سے متعلق دو نظریے رہے، لیکن بعد میں جدید فلاسفہ نے انہی دو اصل سے الگ الگ نظریے بنا لیے۔
1.حواس انسانی (Human Senses)
مغرب کے قدیم نظریے کے مطابق (میڈیکل اور سائنس کے میدان میں آج بھی) حقیقی سببِ علم انسان کے حواس خمسہ ہیں۔ (دیکھنے،سننے،سونگھنے،چکھنے،چھونے کی صلاحیتیں)
چنانچہ ارسطو اور دیگر کے نزدیک ذرائع علم انسانی حواس ہیں۔ اور جان لاک، ڈیوڈ ہیوم وغیرہما حکماء نے تو اس بات پر زور دیا کہ جو چیز حواسِ خمسہ سے ثابت نہ ہو وہ علم کے دائرے میں آتی ہی نہیں بلکہ محض عقیدہ یا گمان ہوتی ہے۔ اس کے مثبت اثرات یہ کہے جا سکتے ہیں کہ اس فکر کے تحت طبیعیات (Physics)،کیمسٹری اور حیاتیات جیسے علوم کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی جو مادی و کیمیاوی دریافتوں کا بیج بنی۔ اس ذہنیت کو Empiricism کا نام دیا گیا، دوسرے الفاظ میں تجربہ کاری پر مبنی علم، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ علم حواس ظاہرہ سے حاصل تجربات سے اخذ کیا جاتا ہے۔
اس فکر کے مثبت سے زیادہ اثرات منفی صورت میں برپا ہوئے۔ اولاً اس کے سبب انسان محدودیت کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ ہر چیز کا حواس سے معلوم ہونا یہ عادتاً ناممکن بات ہے۔ واضح امر ہے کہ 4=2+2 کا ادراک حواس ظاہرہ سے (اصولاً) نہیں ہوتا، اسی طرح ہر موجود کو محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً وقت موجود ہے، یہ عالمی تسلیم شدہ بات ہے جسے تمام سائنسدان اور فلاسفہ ایک حقیقت کے طور پر مانتے ہیں، لیکن حواس خمسہ سے وقت محسوس نہیں ہوتا۔
ثانیاً محدودیت کے ساتھ سطحیت بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے علم و فہم کو دھوکا کثرت سے ہوتا ہے۔ صاحب حواس کو کسی معاملے کو واقعی جاننے میں یا تو کامیابی ہی نہیں ملتی یا ملتی ہے تو مکمل نہیں ملتی، کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ محسوس چیز موجود ہو مثلاً آئینے میں نظر آنے والا وجود حاسۂ بصر سے محسوس ہوتا ہے لیکن موجود نہیں ہوتا۔
ثالثاً اصل بڑا خلا یہ کہ Empiricistic سوچ محض مادیت اور ظاہر کا پجاری بنا دیتی ہے۔ کامیابی کا مفہوم مادہ (مال و دولت،اسباب و سائل) کی کثرت و برتریت سے عبارت ہوتا ہے یعنی مادہ پرستی (Materialism) اور سائنسی ہیضہ(scientism)۔ مطلب ہر چیز کو سمجھنے، جاننے اور ماننے کا معیار ظاہر پر مبنی امر ہوتا ہے جس کا پیمانہ سائنس طے کرے گی۔ یہ ذوق و مزاج اسی Empiricism کا اثر ہے۔
ایک امکانی نتیجہ اس نظریے پر شدت سے جمنے کا یہ ہو سکتا ہے جو اسلامی جہت سے نہایت سنگین و پر خطیر نتیجہ ہے کہ جب دجال دنیا کے سامنے خروج کرے گا تو حسی صورت میں اپنی خدائیت کو ظاہر کرے گا اور اپنے خارق عادت (Supernatural) انداز کے مظاہر دکھائے گا۔ (اللہ ہی کے حکم سے) جس کی وجہ سے وہ طبقہ جو خدا کو محض نظامِ قدرت (nature) میں تلاش رہا ہے، اس کے نزدیک خدا کوئی حکیم و علیم ذات نہیں، اور وہ طبقہ جو خدا سے متعلق حتمی سوچ نہیں رکھتا بلکہ احتمالی مؤقف رکھتا ہے (Agnostics)، جو کہتا ہے ’’کائنات کے غیر معمولی نظام سے کبھی لگتا ہے کہ ہو سکتا ہے خدا ہو اور کبھی لگتا ہے نہ بھی ہو۔‘‘ (العیاذ باللہ) وہ طبقہ ممکن ہے بلا جھجھک دجال کو خدا مان لے، جیسا کہ اب ایلون مسک (Elon Musk) جیسے لوگ خدا کے وجود کا اقرار تو کر رہے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ وہ خدا کون ہے یہ نہیں کہا جا سکتا۔ تو ایسے لوگ جو حواس اور Empiricism کے تابع ہیں بعید نہیں ہے کہ دجال کی خدا ہونے کو تسلیم کر لیں، نیز ان ذہنوں کے حوالے سے یہ نکتہ غایت درجے سنجیدہ ہے جو مغربی افکار سے تاثر حاصل کرتے کرتے مسلمان کہلانے کے باوجود اسی Empiricism والے انداز کو ترجیح دیتے ہیں۔ اندازہ کریں کہ مغرب کا یہ تربیتی نظام کس حد تک لے جا سکتا ہے۔
دوسرے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اور جدیدیت سے وابستہ فلاسفہ بالخصوص ایمانویل کانٹ (Emanuel Kant) وغیرہ نے اگرچہ اس سوچ میں ترقی دی، (جس کا آگے تذکرہ موجود ہے) لیکن آج بھی مغربی تہذیب اور مغربی paradigm کے مطابق وضع کردہ epistemology کے راستے سے تعلیم حاصل کرنے والے طبقے میں یہ Empiricism کا طرز واضح نظر آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج اس Materialistic تعلیمی نظام اور میڈیائی سرگرمیوں سے وابستہ طبقہ (جو اسلامک بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتا ہے) یا تو اپنی زبانِ قال سے ہی خدا و دین کا انکار کر دیتا ہے یا اپنی زبان حال سے انکار کر دیتا ہے۔ ایسی زندگی گزارتا ہے جیسے دنیاوی برکت و آخرت، روحانیت و نورانیت کا انہیں تصور ہی نہ ہو، یہ چیزیں کوئی قابل توجہ شے ہی نہ ہوں ان کے یہاں، جیسے دیسی لبرل لوگوں کا حال ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک کامیابی کا مفہوم بھی اصل میں مادہ (مال و اسباب) کی کثرت و برتریت میں عمدگی ہوتا ہے، یہاں تک کہ دولت و شہرت (جو اسلامی نقطۂ نظر سے از قبیل مقدرات ہے) پیمانۂ رضاء الٰہی ہوتا ہے ان کی سوچ میں۔ پس جو ہے وہ دنیا اور ظاہری عالم ہے ان کے عزائم و مقاصد میں۔
ظاہر ہے جب focus ایک سمت (مادیت) میں ہو گا تو روحانی وجود محسوس تو دور معقول بھی نہیں لگے گا۔ نتیجہ ایک بڑی سعادت سے محرومی، روحانی حواس (Spiritual senses) جو زندگی کا اصل مغز ہیں ان سے بالکل انقطاع ہوگا لہٰذا جب روحانی قوت احساس ہی مفقود ہوتی ہے تو نہ اعمال روحانی کا ذائقہ آتا ہے نہ ان کی ٹھنڈک کا اندازہ۔
پس پھر نہ تو فحش و منکرات سے کوئی خاص فاصلہ نہ حیا و صالحات سے کوئی خاص رابطہ، نہ گمراہی کی کوئی پرواہ نہ ہدایت کا کوئی احساس، بس موڈ کے مطابق جو چاہت ہو۔
اسی کو قرآن کہتا ہے:
لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ (سورۃ الاعراف: ۱۷۹)
’’اُن کے پاس دِل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، اُن کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ وہ اُن سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
تو محض حواس علم کا حتمی ذریعہ نہیں ہیں، عقلاً بھی نہیں اور شرعاً تو بالکل نہیں۔
2.انسانی عقل (Human Rationality)
دوسرا مغربی مکتبہ فکر وہ ہے جو عقلِ انسانی کو علم کا بنیادی اور معتبر ذریعہ قرار دیتا ہے اس کے مطابق کچھ حقائق ایسے ہیں جو نہ تجربے کے محتاج ہیں اور نہ حواس کے، بلکہ انسانی عقل انہیں بذاتِ خود دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یوں عقل صرف علم کو ترتیب دینے والا آلہ نہیں بلکہ خود علم کی پیداواری قوت بن جاتی ہے۔ اس نظریے کو کہا جاتا ہے Rationalism۔
اس نظریے کی ابتدائی فکری سند جڑتی ہے افلاطون سے۔ چونکہ حواس دھوکہ دیتے ہیں اور اشیاء مسلسل تغیر میں ہیں اس لیے اس نے ’’نظریۂ مُثُل (Theory of Forms)‘‘ پیش کیا، جس کے مطابق ہر مادی شے کی ایک کامل، غیر متغیر اور عقلی صورت (Form) موجود ہے جو حسی دنیا سے ماورا ہے، پھر جدید دور میں اسے منظم صورت رینی ڈیکارٹ نے دی، ڈیکارٹ کا مشہور قول ’’I think, therefore I am‘‘ دراصل یہ عقل کو علم کی پہلی یقینی بنیاد بنانے کی کوشش تھی۔
عقلیت (Rationalism) کے اثرات:
عقلیت کی سب سے بڑی تاثیر یہ ہوئی کہ اس نے سائنسی فکر کو منطقی بنیاد فراہم کی، جدید سائنس میں قوانینِ فطرت، ریاضیاتی ماڈلز اور منطقی ساخت اسی عقلی روایت کی مرہونِ منت ہیں۔ عقل نے انسان کو توہمات، اساطیر اور غیر عقلی تصورات سے نکال کر ترتیب، قانون اور دلیل کی طرف متوجہ کیا۔ سیاسی فلسفہ، قانون اور اخلاقیات میں بھی ’’عقلی اصول‘‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔
تاہم، تاریخِ فکر یہ بتاتی ہے کہ جب عقل کو حتمی اور خود مختار اتھارٹی بنا دیا جائے، اور اسے ہر حقیقت کا واحد میزان سمجھ لیا جائے، تو یہی عقل انسان کو یقین کے بجائے اضطراب، ہدایت کے بجائے انتشار، اور سکون کے بجائے فکری خلفشار تک لے جاتی ہے۔ درج ذیل سطروں میں عقل پرستی کے تین مبنی بر حقیقت سنگین نتائج عرض ہیں:
عقل پرستی کا پہلا اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انسانی عقل بذاتِ خود محدود ہے اور افراد کے درمیان مزاج، پس منظر اور استعداد کے اعتبار سے مختلف بھی۔ چنانچہ محض عقل پر اعتماد کرتے ہوئے کسی حقیقت تک قطعی اور آفاقی انداز میں پہنچنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی کائنات، ایک ہی سائنسی طریقِ تحقیق اور ایک ہی مشاہداتی مواد سے مختلف اذہان مختلف نتائج اخذ کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر آئزک نیوٹن اور اسٹیفن ہاکنگ دونوں عظیم سائنس دان کہلائے۔ دونوں نے اسی کائنات کو دیکھا، اسی طبیعیات پر غور کیا، مگر خدا کے وجود کے باب میں ان کے نتائج مختلف بلکہ متضاد نکلے۔ آئزک نیوٹن انہیں طبیعیاتی اصول کی بنا پر اپنی عقلی گواہی سے کہتا ہے:
“This most beautiful system of the sun, planets, and comets, could only proceed from the counsel and dominion of an intelligent and powerful Being.”
’’سورج، سیاروں اور دمدار ستاروں پر مشتمل یہ نہایت حسین اور منظم نظام صرف کسی عقل مند اور قادر ہستی کی تدبیر اور اقتدار ہی سے وجود میں آ سکتا ہے۔‘‘9Principia Mathematica
جبکہ دوسری جانب اسٹیفن ہاکنگ کی عقل کہتی ہے:
“Because there is a law such as gravity, the universe can and will create itself from nothing.”
’’چونکہ کششِ ثقل (Gravity) جیسے قوانین موجود ہیں، اس لیے کائنات کچھ بھی نہ ہونے سے خود بخود وجود میں آسکتی ہے۔‘‘10The Grand Design
یہ اختلاف اگر کسی پیچیدہ چیز میں دھندلے دلائل کی بنیاد پر ہوتا تو سمجھ آ سکتا تھا، لیکن ایک سادہ بات کو لے کر دونوں ماہر فن کا اتنا بڑا اختلاف جبکہ اصول ایک۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عقل جب وحی یا ماورائی رہنمائی سے آزاد ہو جائے تو وہ حتمی علم کے بجائے محض آراء پیدا کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقل پرستی علمی نسبیت (Relativism) کا دروازہ کھول دیتی ہے۔
عقل پرستی کا دوسرا منفی اثر انسانی مزاج میں فکری تکبر کا پیدا ہونا ہے۔ جب انسان یہ سمجھنے لگے کہ ’’جو بات میری عقل نے مان لی وہی حق ہے، اور جو میری عقل سے بالاتر ہے وہ یا تو غیر عقلی ہے یا باطل‘‘، چونکہ مغربی epistemology میں علم ہے ہی وہ چیز جو Justified ہو مقبول ہو، لہذا ہر شخص میں Individual reasoning فردی عقل پر چلنے کا جذبہ ہوتا ہے، تو اس کے اندر کسی کی تابعداری و اطاعت کا ملکہ بھی نہیں رہتا اور خود کی عقل بھی محدود، لہٰذا نہ کسی کے توسط سے راستہ پاتا ہے نہ ہی اپنی محدود عقل سے صحیح منزل۔ محض اپنی ہوائے نفس کی راہ پر چل کر سوائے گمراہی کے کچھ حاصل نہیں کرتا۔ جیسا کہ ہر عاجزی و انکساری سے خالی طبیعت کا انجام یہی ہوتا ہے جس کی واضح مثال ابلیس ملعون ہے۔
اسی موقع پر قرآن کہتا ہے:
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ ۭ (سورۃ القصص: ۵۰)
’’اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔‘‘
اس نکتے پر رک کر یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ ہر وہ بات جو بروقت عقل کو سمجھ نہ آئے ضروری نہیں کہ وہ غلط ہی ہو یا فرضی ہی ہو یا غیر معقول ہی ہو جس سے اس کی مردودیت طے کر دی جائے۔ بہت سے معاملے عقل سے بالا ہوتے ہیں لیکن خلاف نہیں، جو کبھی کسی اور سے سمجھ آتے ہیں تو کبھی بعد از وقت سمجھ آتے ہیں اور کبھی زندگی بھر سمجھ نہیں آتے لیکن نفس الامر میں معقول و مقبول اور بر حق ہوتے ہیں، قابل ایمان و یقین ہوتے ہیں۔ جیسے اسلام نے 1400 سال پہلے اقوال و افعال کے محفوظ ہونے بلکہ ان کے ناپے اور تولے جانے کا تصور پیش کیا کہ آخرت میں ان کا میزان (ترازو) قائم ہو گا جب کہ معنوی چیزیں ہیں ان پر مذکورہ اطلاقات محاورتاً تو ہو سکتے تھے لیکن لفظاً و حقیقتاً یہ بات عقل سے بالا تھی کہ افعال اقوال محفوظ کیسے ہوں گے، پھر ناپے اور تولے کیسے جائیں گے۔ چنانچہ عمریں نکل گئیں سمجھنے والوں کی بلکہ زمانے گزر گئے لیکن کما حقہ یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ مگر کیا آج Memory chip کے اس دور میں یہ بات عقل سے بالا کہی جا سکتی ہے؟ ان کی محاوری تشریح کے تکلف کی ضرورت ہے ؟
الغرض، واضح رہے کہ ہر مسئلے، معاملے، بات کے بروقت سمجھ نہ آنے سے ان کا غیر معقول و غیر مقبول ہونا لازم نہیں آتا۔
عقل پرستی کا تیسرا منفی اثر انسانی عقل کا مایوسی حتیٰ کے بے کاری کا شکار ہو جانا۔ چونکہ عقل پرست جب اپنی محدود عقلی تاروں سے کسی بات کو حتمی نتیجے تک فرض کر جاتا ہے تو اس کے لیے وہ بات عقیدہ بن جاتی ہے۔ پس جب وہ بات خلاف تصور اور توقع واقع ہوتی ہے تو عقل پرست بسا اوقات تحمل نہیں کر پاتا جسے Existential Shock اور ذہنی انہدام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی مشہور مثال خدا کا انکاری Friedrich Nietzsche ہے جس نے Superman کا تصور دیا، لیکن خود گیارہ سال تک اپنی زندگی میں ذہنی انہدام کا شکار رہا۔ ایسے ہی مشہور فلسفی ڈیوڈ ہیوم عقلی بے بسی کو پہنچ گیا۔
خاص طور پر یہ مرض اس وقت عام ہو کر پھیلتا ہے جب ظالم مغربی قومیں اپنے عقل کے فیصلے پر مستعد ہو کر مجاہدین کے خلاف میدانوں میں اترتی ہیں۔ ان کا یہ ایمان ہوتا ہے گویا کہ ہمارے مقابلے کوئی ٹک نہیں پائے گا، ہم ان سرفروشوں کو چند دنوں میں ختم کر دیں گے اور پھر ہوتا اس کا بالکل برعکس ہے۔ تو کرایے پر اکڑ کر اترنے والی یہ جدید اسلحوں اور ٹیکنالوجی سے لیس فوجیں دیوانہ وار خود کشی کرنے پر گویا مجبور ہو جاتی ہیں۔ امریکہ و افغان جنگ میں اس کی مثالیں ان گنت ہیں اور یہی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ فلسطین میں بھی ہوتا دکھ رہا ہے۔
بہرحال،یہ ہے حقیقت ہے انسانی عقل کی جب وہ حتمی فیصل بن جائے اور حدود کے بغیر کسی بھی سمت میں چلے جائے۔
ایمانویل کانٹ (Immanuel Kant) کا فلسفہ
مذکورہ بالا دو نظریوں (تجربیت/Empiricism اور عقلیت/Rationalism) کے علاوہ مزید ایک فلسفہ تیار ہوا جس کی طرف باضابطہ 300 سال قبل جرمن فلسفی ایمانویل کانٹ نے رخ موڑا، اگرچہ اس کی طرف قدیم فلاسفہ کے اشارے ملتے ہیں لیکن انہوں نے حیثیتی طور پر اس فلسفے کو نہیں اپنایا تھا۔
کانٹ کا پیش کردہ نظریہ دراصل مغربی epistemology میں ایک انقلابی موڑ تھا۔ اس نے دراصل عقل و تجربہ کی صدیوں پرانی کشمکش کو ایک نئے سانچے میں ڈھال دیا۔ کانٹ نے یہ محسوس کیا کہ یہ دونوں مکاتب فکر اپنی اپنی جگہ ناقص ہیں، کیونکہ عقل کی حصولِ علم میں اپنی حدود ہیں اور تجربات کی اپنی۔ چنانچہ اس نے ایک نیا نظریہ پیش کیا جسے اس نے تنقیدی فلسفہ (Critical Philosophy) کہا، اور یہی اس کی فکری عظمت کی بنیاد ہے۔ اس کا مشہور انقلابی جملہ ہے:
“Knowledge begins with experience, but does not arise from experience alone.”
’’علم کا آغاز تجربے سے ضرور ہوتا ہے، مگر وہ محض تجربے سے پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
گویا اس نے عقل و تجربے دونوں کو جمع کر دیا۔ اور تجربیت و عقلیت دونوں کی محضیت سے مغرب کو باہر نکالا۔ اس کا نظریہ محض ایک فلسفیانہ مؤقف نہیں بلکہ جدید مغربی ذہن کی فکری بنیاد ہے، جس کے اثرات آج تک علم، اخلاق اور حقیقت کے تصورات میں نمایاں ہیں۔ اس نے سائنس کو metaphysics سے آزاد کر کے محفوظ کر دیا، جس سے جدید سائنسی تمدن مضبوط ہوا، ترقیاتی و تکنیکی دنیا میں مزید استحکام آیا۔
لیکن بات پھر وہیں آ کر رک جاتی ہے کہ مغرب کے اس سارے غور و فکر کا موضوع کیا ہے؟ مادہ اور مشین فقط، فکری حدود بظاہر آزاد لیکن دائرہ محض طبیعی physical دنیا میں قید، زندگی کا مقصد کچھ نہیں محض دولت شہرت کمانا، اخلاقیات صرف نسبتی (Subjective) نظریہ اور انسانی زندگی بس ایک مشین کی طرح، مرد کا عورت سے تعلق محض جنسی ضرورت کی چاہ میں، عورت کا مرد سے تعلق مالی منفعت کی چاہ میں اور جب ایک سے مطلب حاصل تو اگلے کا نمبر۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرہ نکاح سے بیزار، خاندانی نظام سے بے کنار نظر آتا ہے۔ پھر تجارتی طبقے کو بس مال کمانا ہے، اپنا مستقبل بنانا ہے چاہے عوام برباد ہو جائے۔ یہی حال پیشہ ور اور ہنر مند طبقے کا نظر آتا ہے، یعنی گھر تو سنور گیا، طرح طرح کی سہولتوں سے آراستہ ہو گیا، نت نئے غیر معمولی اور طاقتور آلات Gadgets سے لیس ہو گیا لیکن صاحب مکان؟ صاحب مکان اس سجے سنورے گھر میں اب بھی ایک جنگلی وحشی حیوان نما حالت میں ہے۔
خلاصہ یہ کہ مغربی Epistemology پر مبنی علم نے طاقت دے دی لیکن ہدایت سے ناآشنا کر دیا جس کا نتیجہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی صورت میں سامنے آیا اور American Imperialism تو آج اس کا سب واضح نمونہ ہے۔
طبی مہارت دے دی لیکن دردِ انسانیت نہیں، لہٰذا ادویات ساز کمپنیاں (Pharma Industries) یہاں ایک سادہ طبی ادارہ نہیں بلکہ ایک کارپوریٹ منافع بخش نظام ہے۔ اس نظام میں بیماری کو مکمل ختم کرنا تجارتی مفاد کے خلاف ہے، مستقل مریض زیادہ فائدہ مند ہیں، دائمی امراض (chronic diseases) سب سے زیادہ منافع دیتے ہیں۔ اس تناظر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لیبارٹری میں صرف دوائیں ہی نہیں بنتیں بلکہ ایک مخصوص طرزِ زندگی، خوراک اور ذہنی دباؤ کے ذریعے بیماریوں کا ماحول بھی تیار کیا جاتا ہے جس کے پیچھے پتہ نہیں کن کن لوگوں کے کیا کیا منافع شامل ہوتے ہیں۔11Deadly Medicines and Organised Crime – Peter C. Gøtzsche، Bad Pharma – Ben Goldacre، Side effects – Alison Bass ان کتابوں کا مطالعہ اس حوالے سے مفید ثابت ہوگا ان شاء اللّٰہ ۔
اسی طرح اس علم و نظام نے راحت و اسباب سہولت تو دے دیے لیکن قلبی طمانیت نہ دے سکا۔ آپ دیکھیں آج دنیا میں سب سے زیادہ خود کشی کے پوائنٹس کہاں ہیں؟ تمام طرح کے مادی اسباب، عیاشی کے ہر انداز کے وسائل و مواقع کے باوجود بے پناہ اضطراب کا شکار اور پھر اس اضطراب کی بنا پر بے تحاشا نشے کی چیزوں میں ڈوب کر نیم مردہ زندگی والا طبقہ آپ کو کہاں ملتا ہے؟ ان ہی ترقی یافتہ ممالک میں ان ہی بلند و بالا عمارتوں والے خطوں میں، وہ بیچارے نہیں جانتے کہ وہ کس اضطراب کا شکار ہیں، جہاں کی امیدوں اور خوابوں میں ہمارا معاشرہ رشک کرتے کرتے مرا جاتا ہے، وہ درحقیقت روحانی اضطراب کا شکار ہیں لیکن انہیں روح اور روحانی اضطراب کی باتیں بھی اجنبی اور افسانہ لگتی ہیں۔ (ھداھم اللہ)
واضح رہے کہ اسلام مذکورہ دونوں ذرائع (حس اور عقل) سے حصول علم کو غیر معتبر نہیں جانتا اور نہ ہی ان پر تنقید کرتا ہے۔ اسلام در اصل ان کی بے لگامی اور ان کو حاکم بنا دینے کی غلطی کی اصلاح کرتا ہے۔ اسلام خود عقل کے استعمال اور حواس کو بروئے کار لانے کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم تو خود بکثرت کہتا ہے:
أفلا تبصرون،أفلا تعقلون
’’کیا تم دیکھتے نہیں؟ کیا تم سوچتے نہیں؟‘‘
نگاہیں استعمال نہیں کرتے؟ عقل استعمال نہیں کرتے؟ تو اسلام در اصل عقل و حواس کو خود راہ و نظم دیتا ہے، محسوس اور طبعی دنیا کی محدود سر حد سے باہر نکال کر Metaphysical حقائق (خدا، وحی، رسالت و نبوت، آخرت وغیرہ) سے روشناس کراتا ہے، جس سے کئی سارے شگاف کھل جاتے ہیں، صبر و شکر کا تصور، تقدیر اور توکل کا راستہ، تقوی اور اعمال صالحہ کی تربیت، یہ سب خود عقل و حواس کو سکون، تازگی اور تہذیب دینے کے ضامن ہیں اور اس سے ایک بہت بڑا وہ خلا پر ہو جاتا ہے جس کے خالی رہنے کی وجہ باوجود لاکھوں ترقی و وسائل کے انسانی زندگی Collapse کر جاتی ہے۔
تو بہر حال،یہ مغربی علمیات epistemology پر کچھ نظر تھی۔
یاد رکھیں! اگر آپ مغربی دجالی نظام کے خلاف فکری جنگ میں کامیابی چاہتے ہیں تو تعلیمی نظام کی تبدیلی اس کا پہلا قدم ہے اور تعلیمی نظام کی تبدیلی کا یہ محض مطلب نہیں کہ آپ کوئی اسلامک انسٹی ٹیوٹس قائم کر لیں یا نصاب میں کچھ جزوی تبدیلیاں کر دیں۔ بلکہ اصل مقتضی ہے پیراڈائم کو بدلنا اور پیراڈائم کو بدلنے میں پہلا قدم ہے اس مغربی Epistemology کی تردید و تجدید کر کے اسے خالص اسلامی Epistemology میں تحویل کرنا ۔
ایک اسلامک اسکول، کالج، یونیورسٹی قائم کر کے آپ عیسائی مشنری تعلیمی اداروں سے تو نجات پا سکتے ہیں، مرد و زن کے مخلوط ماحول پر تو روک لگا سکتے ہیں، جو بیشک لائق تعریف کام ہے، لیکن بغیر epistemologic تبدیلی کے مغرب کے عالمگیر تعلیمی و فکری نظام سے نجات حاصل نہیں کر سکتے جو آگے چل کر دجالی ذہن سازی کی راہ ہموار کر دیتا ہے۔
چنانچہ آپ دیکھیں ہندوستان میں قائم ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ جیسی کئی یونیورسٹیاں کہنے کو مسلم یونیورسٹیاں ہوں گی لیکن سر سید جیسے افراد، جو مکمل western epistemology کے دلدادہ تھے، ان کے تاثرات کی وجہ سے اس یونیورسٹی سے نکلنے والا بڑا طبقہ الحاد و زندقیت کی طرف مائل ہوا ۔ جاوید اختر اور نصیر الدین شاہ جس کی کھلی مثال ہیں۔ وہ تو تبلیغی جماعت کی محنت تھی جس کی بنا پر یہ گمراہ کن سلسلہ قابو میں آیا ورنہ اس وقت نتائج باعتبار مستقبل تاریک نظر آ رہے تھے۔
حضرت مولانا قاسم نانوتوی کا قیامِ دار العلوم کا مقصد و منصوبہ وہ محض کوئی دینی ادارہ قائم کرنے کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ وہ انگریز کے خلاف فکری و عسکری یلغار کا ایک پلیٹ فارم تھا، جہاں 1857ء کی جنگِ شاملی کی ظاہری ناکامی کی تلافی کے ساتھ انگریز کے مقابلے ایک Islamic epistemology کا حامل اور حافظ طبقہ تیار کیا جا رہا تھا جسے اس epistemology کو پھر سے چہار دانگ عالم میں عام کرنا تھا۔ لہذا دار العلوم دیوبند میں علوم اسلامیہ کے ساتھ ساتھ زمانے کے لیے درکار عقلی علوم کا بھی شعبہ و نظام تھا۔
مارچ ۱۸۳۵ء میں لارڈ میکالے کی صدارت میں مشرقی زبانوں کی جگہ انگریزی زبان میں تعلیم کے مسئلہ کو طے کرنے کے لیے بنی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اراکین میں اختلاف رائے تھا، ایک فریق انگریزی زبان میں تعلیم دیے جانے کا مخالف تھا دوسرا حامی۔ دونوں فریق کے ووٹ برابر ہوئے تب لارڈ میکالے نے اپنا فیصلہ کن ووٹ انگریزی زبان کی تعلیم کی تائید میں دیا اور اس طرح انگریزی کے اجرا کا فیصلہ ہو گیا، اور لارڈ میکالے کا نظریہ تعلیم ملک پر تھوپ دیاگیا۔ اس تعلیمی پالیسی کے پس پردہ کیا مقاصد تھے؟ وہ لارڈ میکالے کی زبانی سنیے:
”ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہئے جو ہم میں اور ہماری کروڑوں رعایا کے درمیان مترجم ہو اور یہ ایسی جماعت ہونی چاہیے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو، مگر مذاق رائے، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو۔“
حضرات اکابرِ دیوبند نے لارڈ میکالے کے نظریہٴ تعلیم کو ناکام بنانے اور اعلیٰ تعلیمی و تربیتی مقاصد کے لیے دار العلوم دیوبند قائم فرمایا، کہ ایسے افراد تیار کیے جائیں جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی، ایرانی، ترکستانی، افغانی وغیرہ ہوں لیکن ذہن و فکر اور دل و دماغ کے اعتبار سے حجازی اور محمدی ہوں۔
اور اس تعلیمی نظام کا اثر یہ تھا کہ جنرل سلیمان12برطانوی فوج کا ایک جنرل تھا جو لارڈ میکالے کی معاونت (assistance) کیا کرتا تھا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ “General Solomon” کے نام سے جانا جاتا تھا، یعنی انگریز جرنیل تھا۔ لیکن چونکہ بہت مشہور نہیں ہو پایا اس لیے اس کا معتد بہ تعارف اتنا نہیں ملتا۔ (بحوالہ: ماہنامہ دار العلوم دیوبند) نے لکھا:
’’سات سال کے درس یعنی درجۂ فضیلت کے ایک ہندوستانی طالب علم اپنے سر پر، جو آکسفورڈ کے فارغ التحصیل طالب علم کی طرح علم سے بھرا ہوا ہوتا ہے، دستارِ فضیلت باندھتا ہے اور اسی طرح سقراط، ارسطو، افلاطون، بقراط، جالینوس اور بوعلی سینا وغیرہ پر گفتگو کر سکتا ہے جس طرح آکسفورڈ کا کامیاب طالب علم۔‘‘
الغرض، دجالی تعلیمی نظام کے مقابلے کے لیے وہ رنگ لے کر کھڑا ہونا نا گزیر ہے جس پر حضرت نانوتوی کھڑے ہوئے تھے اور ان کے ہم زمانہ دیگر انقلابی علماء و ائمہ، جو در حقیقت Western paradigm کو ناکام کرنے کی فکری جدوجہد تھی، مغربی epistemology کے خلاف ایک چیلنج تھا۔
ان شاء اللہ آئندہ قسط میں اس Islamic epistemology کے حوالے سے ایک تبصرہ عرض کیا جائے گا۔
فاللھم وفق و یسر۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1مزے کی بات یہاں یہ ہے کہ اس نام نہاد جدید تہذیب کے دلدادہ جو پوری دنیا اور خاص طور پر اہل مذاہب جن میں اہل اسلام کثیر الہدف ہوتے ہیں کو طنز کرتے ہیں کہ تم سب ایک قدیم دستور کے متبع ہو، قدامت پرست (Conservative) سوچ کے حامل ہو، زمانے سے ہزاروں سال پیچھے ہو، جبکہ حال و حقیقت یہ ہے کہ اس طنز کے وہ خود مستحق اعلیٰ ہیں کیونکہ ان کی بنیادیں اور اصول کا تعلق اکثر و بیشتر یونان کے قدیم حکماء کی تحقیقات اور ضابطوں کے نہج پر جاتا ہوا ہی دکھتا ہے۔
- 2کانگو (Democratic Republic of Congo) دنیا کے اُن خطّوں میں شامل ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کے لیے نہایت قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں، جیسے سونا، ٹِن، ٹینٹلم اور ٹنگسٹن، جنہیں مجموعی طور پر Conflict Minerals کہا جاتا ہے۔ یہی معدنیات اسمارٹ فونز، بالخصوص iPhone جیسے آلات میں استعمال ہوتی ہیں، کیونکہ یہ چِپس، سرکٹس، بیٹریوں اور دیگر حساس پرزہ جات کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کانگو کے کئی معدنی علاقوں پر دہائیوں سے مسلح گروہوں کا قبضہ رہا ہے، جو ان معدنیات کی کان کنی، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے ذریعے اپنی جنگی سرگرمیوں کو مالی سہارا دیتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں قتل و غارت، جبری مشقت، بچوں سے مشقت، خواتین پر تشدد اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی جنم لیتی ہے۔ Apple جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں براہِ راست کانگو کی کانوں سے معدنیات نہیں خریدتیں، بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ عالمی سپلائی چین کے ذریعے یہ مواد ان تک پہنچتا ہے۔ الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ کانگو سے نکالی گئی یہ معدنیات پہلے پڑوسی ممالک، مثلاً روانڈا یا یوگنڈا، منتقل کی جاتی ہیں اور وہاں سے “صاف” یا قانونی ذرائع کے نام پر عالمی منڈی میں داخل ہو جاتی ہیں۔ اسی پس منظر میں کانگو کی حکومت اور بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے Apple پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس کی سپلائی چین میں شامل معدنیات بالآخر انہی جنگ زدہ علاقوں سے آتی ہیں، اور یوں بالواسطہ طور پر iPhone جیسی مصنوعات مسلح گروہوں کی معیشت کو تقویت دیتی ہیں۔ Apple کا موقف یہ ہے کہ وہ صرف آڈیٹ شدہ اور ذمہ دار سپلائرز سے ہی معدنیات حاصل کرتا ہے اور ہر سال Conflict Minerals Report جاری کرتا ہے، تاہم ناقدین کے نزدیک مسئلہ صرف براہِ راست خرید کا نہیں بلکہ اس پورے عالمی نظام کا ہے جس میں بڑی کارپوریشنز کی طلب، کانگو جیسے خطّوں میں جاری خونریز تنازعات کو زندہ رکھتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ Apple پر الزام کسی ایک کمپنی کی نیت سے زیادہ اُس جدید مادی تہذیب پر سوال ہے جس میں تکنیکی ترقی کی قیمت اکثر کمزور اقوام کے خون، درد اور عدم استحکام کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔
- 3ایلبرٹ آئنسٹائن کو شیطانی مفکر کہنے کی وجہ: سب سے پہلی بات اس کا فری میسن ہونا اور یہودی تنظیم صہیونیت کا مشیر خاص ہونا، دوسری بات اس کا باوجود یہودیت کی طرف منسوب ہو کر ایک پر اسرار خدا “Spinoza’s god” کا قائل ہونا جس کی تعریف وہ تو nature کے طور پر کرتا ہے لیکن اس کی طرف سے اشارات کسی باشعور ذات پر دلالت کرتے تھے، تیسری بات اس کے اپنے شیطانی کرتوت، مثلاً ناجائز اولادیں اور بیوی پر شدید مظالم پھر اپنی ہی بیٹی سے شادی کے ارادے وغیرہ۔ اس کی ابتدائی زندگی یہ تھی کہ یہ بالکل بلید دماغ کا مالک تھا اور تین سال تک گونگا تھا، لیکن سن 1900ء کے بعد اس کی تاریخ بدلتی ہے اور یکایک حیرت انگیز علوم کا ماہر بن جاتا ہے، اس طرح کی حیوانی زندگی گزارنے والا انسان جب اچانک ایسی تعجب خیز صلاحیتوں کا حامل ہو جائے اور عالمی پیمانے پر اس کا شہرہ بج جائے تو شیطانی مفکر کہنے میں کم از کم مجھے تردد نہیں۔
- 4انیسویں اور بیسویں صدی میں چند ایسے غیر معمولی اذہان پیدا ہوئے جنہوں نے محض ٹیکنالوجی یا فلسفہ نہیں بلکہ علم، کائنات اور انسان کے مروجہ تصور کو چیلنج کیا۔ نکولا ٹیسلا ایک ایسا سائنسدان تھا جس کا خواب توانائی کو آزاد، ارزاں اور عالمگیر بنانا تھا۔ اس کا نظریہ تھا کہ بجلی اور توانائی انسانیت کی مشترکہ میراث ہے، نہ کہ کارپوریٹ ملکیت۔ یہی تصور اس وقت کی سرمایہ دارانہ قوتوں، خصوصاً توانائی کی اجارہ داری قائم کرنے والے صنعتی گروہوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ نتیجتاً ٹیسلا کو مالی طور پر تنہا کر دیا گیا، اس کے منصوبے بند ہوئے اور اس کی وفات کے بعد اس کی تحقیق کو ریاستی تحویل میں لے لیا گیا۔ وہ جسمانی طور پر غائب نہیں ہوا، مگر علمی طور پر سائڈ لائن کر دیا گیا۔ والٹر رسل ایک ہمہ جہت مفکر تھا جو سائنس، فلسفہ اور روحانیت کو ایک وحدت میں دیکھتا تھا۔ اس کا کائناتی ماڈل مادّی سائنس کے میکانکی تصور کے خلاف تھا اور شعور کو کائنات کی بنیاد قرار دیتا تھا۔ چونکہ جدید صنعتی سائنس محض قابلِ فروخت نتائج چاہتی تھی، اس لیے رسل جیسے مفکر کو ادارہ جاتی سائنس نے سنجیدگی سے قبول نہ کیا۔ اسے دبایا نہیں گیا، بلکہ نظر انداز کیا گیا، جو بعض اوقات غائب کرنے کی سب سے مہذب مگر مؤثر صورت ہوتی ہے۔ رینی گینوں مغربی تہذیب پر ایک فکری ضرب تھا۔ اس نے جدیدیت، مادیت اور عقلیت پرستی کو روحانی انحطاط کی جڑ قرار دیا اور روایت (Tradition) کو علم کا اصل سرچشمہ بتایا۔ اس کی تحریریں مغربی فکری ڈھانچے کے لیے خطرہ تھیں، کیونکہ وہ پورے epistemic نظام کو چیلنج کر رہی تھیں۔ نتیجتاً گینوں نے خود کو یورپ سے الگ کر لیا اور مصر میں گوشہ نشینی اختیار کی۔ یوں اسے طاقت کے نظام نے نہیں، بلکہ خود نظام سے ٹکراؤ نے سائڈ لائن کر دیا۔ ان تینوں کی مشترکہ تقدیر یہ تھی کہ یہ علم کو انسانی نجات سے جوڑتے تھے، جبکہ سرمایہ دارانہ طاقتیں علم کو کنٹرول اور منافع کا ذریعہ بنانا چاہتی تھیں۔
- 5دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا میں طاقت کا اصل معیار زمین یا فوج نہیں رہا بلکہ علم اور ذہانت بن گیا۔ اسی تناظر میں آپریشن پیپر کلپ سامنے آیا، جس کے تحت امریکہ نے نازی جرمنی کے سینکڑوں سائنسدانوں کو اپنے ہاں منتقل کیا۔ مقصد انصاف نہیں بلکہ فائدہ تھا۔ جن دماغوں نے جنگی مشینری بنائی تھی، وہی دماغ اب نئی عالمی طاقت کے لیے کام کرنے لگے۔ یوں علم کو اخلاقیات سے الگ کر کے طاقت کے تابع کر دیا گیا۔
- 6برین گین آپریشن پیپر کلپ کی نرم شکل ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے قابل ترین ذہن بہتر سہولیات کے نام پر ترقی یافتہ ممالک کی طرف کھینچ لیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً غریب معاشرے صرف خام مال ہی نہیں، بلکہ اپنے فکری سرمایہ سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ جدید نوآبادیات ہے، جس میں بندوق نہیں بلکہ ویزا اور ادارے استعمال ہوتے ہیں۔
- 7پیٹنٹ سسٹم اس پورے ڈھانچے کی قانونی بنیاد ہے۔ بظاہر یہ جدت کی حفاظت کے لیے ہے، مگر حقیقت میں یہ علم کو چند کمپنیوں اور ریاستوں کی ملکیت بنا دیتا ہے۔ دوا، بیج، ٹیکنالوجی حتیٰ کہ زندگی سے جڑے بنیادی تصورات تک کو قانونی قید میں دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح علم، جو کبھی انسانیت کی مشترکہ امانت تھا، ایک تجارتی شے بن جاتا۔
- 8مغرب کے ترقیاتی ان تمام پر حقائق پر تفصیلی مطالعہ درکار ہو تو یہ مراجع قابل رجوع ہیں: Globalization and Its Discontents – Joseph، Stiglitz، Biopiracy – Vandana Shiva، Orientalism – Edward said، اور انتہائی اہم Kicking away the ladder – Haa joon chang
- 9Principia Mathematica
- 10The Grand Design
- 11Deadly Medicines and Organised Crime – Peter C. Gøtzsche، Bad Pharma – Ben Goldacre، Side effects – Alison Bass ان کتابوں کا مطالعہ اس حوالے سے مفید ثابت ہوگا ان شاء اللّٰہ ۔
- 12برطانوی فوج کا ایک جنرل تھا جو لارڈ میکالے کی معاونت (assistance) کیا کرتا تھا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ “General Solomon” کے نام سے جانا جاتا تھا، یعنی انگریز جرنیل تھا۔ لیکن چونکہ بہت مشہور نہیں ہو پایا اس لیے اس کا معتد بہ تعارف اتنا نہیں ملتا۔ (بحوالہ: ماہنامہ دار العلوم دیوبند)












