موجودہ عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں اسلام اور جہاد کا مستقبل، بہت سے عوامل اور درست فیصلوں پر منحصر ہے جنہیں اہلِ اسلام، اہلِ علم، اہلِ دعوت اور اہلِ جہاد کو پوری ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ اپنانا چاہیے۔
چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں، آج ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں وہ بدل رہی ہے اور تیسری عالمی جنگ کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم، اگر اس کی ابتدائی سرد علامات اور گرم تیاریاں پہلے ہی شروع نہیں ہو چکیں، تب بھی یہ ایک واقعی حقیقت ہے جس میں ہم جی رہے ہیں اور مشاہدہ کر رہے ہیں، نہ کہ کوئی پیشن گوئی جو شاید مستقبل میں پوری ہو۔ تمام اشارے، نشانیاں، علامات، حتیٰ کہ آنکھیں بھی اسی حتمی انجام اور ناگزیر قسمت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ تہذیبوں کے تصادم افق پر نمودار ہو رہے ہیں، ہر سمت ان کے طبل بج رہے ہیں، اور ان کے بادل آہستہ آہستہ فضا میں ابھر رہے ہیں۔
اور ہم دیکھتے ہیں کہ وبائیں زمین کے کونے کونے میں پھیل رہی ہیں جن سے لاکھوں لوگ مر رہے ہیں، آتش فشاں، زلزلے، سیلاب اور قحط و خشک سالی جیسی قدرتی آفات نازل ہو رہی ہیں اور ابتدائی جنگوں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ تجارتی راستے منقطع ہو رہے ہیں، بڑی طاقتوں کے درمیان چھیڑ چھاڑ اور اشتعال انگیزیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور وہ کمزوروں پر ظلم و ستم میں حد سے گزر چکی ہیں۔ اسی دوران صہیونی صلیبی گھمنڈ اور استبداد کے خلاف اسلامی اور عالمی غصہ بڑھ رہا ہے اور اسلامی جہادی تحریک کے ہراول دستے سے مثبت ردِعمل ظاہر ہو رہا ہے۔ یہ سب اور دیگر عوامل نے شدید اقتصادی و معاشی بحران پیدا کر دیا ہے جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک لہر پھیل گئی ہے۔ اگر ہم ان سب عوامل میں ملٹی نیشنل کمپنیوں، کاروباریوں اور تاجروں کی لالچ اور ناجائز منافع خوری، عوام کی فضول خرچیوں اور عیاشی، ہر ملک میں معاشرتی تقسیم، جہاں ایک طبقہ حد سے زیادہ امیر اور دوسرا حد سے زیادہ غریب ہے، کا بھی اضافہ کریں، تو نتیجہ ایک تباہ حال دنیا کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کا اعتماد علماء، مبلغین، مفکرین، اراکینِ پارلیمنٹ، حکومتی اہلکاروں اور ریاستی اداروں سے اٹھ چکا ہے۔ موجودہ ریاستیں اخلاقی زوال، الحاد و لادینیت اور روحانیت کے خاتمے کو فروغ دے رہی ہیں۔ اس سب نے دنیا کو معاشرتی، اخلاقی، سیاسی اور معاشی بگاڑ کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ لہٰذا دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر ہے اور اقوام اپنے ظالم و کرپٹ حکمرانوں کے خلاف بغاوت کے راستے پر گامزن ہیں۔ ہر ملک کے عوام اپنے حکمرانوں سے لڑیں گے جنہوں نے انہیں قید کیا، انہیں ذلت و عار اور پستی میں مبتلا کیے رکھا۔
آنے والے چند سالوں میں جنگیں چھڑنے والی ہیں اور دنیا جنگوں کے بعد کے دور کی نئی حقیقت میں داخل ہونے والی ہے۔ جو لوگ مستقبل کی اچھی منصوبہ بندی اور بہتر تیاری کریں گے، وہی آنے والی جنگوں کے ثمرات سمیٹیں گے۔ یہ سب حالات و حقائق اہلِ دعوت، اہلِ علم، اور اہلِ جہاد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زیادہ ہمت، درست فہم اور صحیح شعور کے ساتھ اپنی تیاری جاری رکھیں، کیونکہ آنے والی جنگیں ہماری توقع سے کہیں زیادہ خونریز اور شدید تر ہوں گی اور ان جنگوں سے دنیا کا نقشہ بدل جائے گا۔ جبکہ ہمیں یعنی مجاہدین کی جماعت کو اس راستے پر اپنی عزیز امتِ مسلمہ کی موجودگی اور مدد کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ ہمارے ساتھ اس سفر میں شریک ہو۔ اس وقت ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ احتیاج ہے وہ یہ ہے کہ ہم اور ہماری امت کی اقوام ایک ہی موقف پر اور ایک ہی بنیاد پر کھڑی ہوں، پس یہ ایک تاریخی موقع ہے جس سے ہمیں بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان ہونے والا یہ تصادم، دونوں طاقتوں کو کمزور کر دے گا اور اس تصادم کے سائے میں بہت سی اقوام اپنے حکمرانوں کے جبر و تسلط سے نجات پا جائیں گی، چاہے انقلاب کے ذریعے ہو، یا قتال اور لڑائی کے ذریعے، یا سیاسی معاہدوں اور اتفاقِ رائے سے۔ پس ایک طرف عالمی جہادی مزاحمتی دعوت کی تحریکیں مضبوط ہوں گی (جو دعوت و جہاد کے ذریعے اسلام کی طرف تبدیلی چاہتی ہیں)، اور دوسری طرف لادین، قوم پرست، اور وطنی تحریکیں کھڑی ہوں گی اور آنے والے وقت میں ان دونوں قسم کی تحریکوں کے درمیان زبردست مقابلہ ہو گا۔ ہمیں دعوتی، امنیاتی (سکیورٹی) اور عسکری میدانوں میں مرحلہ وار ترقی کرتے ہوئے ان تمام جاہلی تحریکوں کو غیر مؤثر بنانے، کمزور کرنے اور اگر ممکن ہو تو ان کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرنی ہو گی۔ جہاں تک (قومی شراکت) اور (اجتماعی ذمہ داری) کے نام پر ان سیکولر تحریکوں کے ساتھ اتحاد کا تعلق ہے تو یہ ایک غلطی ہے۔ ہمیں اپنے ماضی کے تجربات اور دوسروں کے تجربات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ مثلاً جب مصر میں حکومت گری تو قوم پرست اور سیکولر جماعتوں نے اخوان المسلمون کے ساتھ غداری کی، انہیں دھوکہ دیا اور فوج کے ساتھ مل گئے۔ نتیجتاً اخوان المسلمون ایک اعتدال پسند جماعت سے ’’دہشت گرد جماعت‘‘ قرار پائی، اور پُر امن تبدیلی کے حصول کے تمام راستوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد صرف مجاہدین ہی سے امید باقی رہی جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی مدد و نصرت سے نوازتا ہے۔ قدیم کہاوت ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں، لہٰذا ہمیں کبھی بھی ان لوگوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے جو اسلام کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان کی بنیاد وطنی، سیکولر، جمہوری یا قوم پرستانہ ہوتی ہے، کیونکہ یہ سب مغرب کی خدمت کرتے ہیں اور اسلام اور اسلامی نظام کے دشمن ہیں۔ پس ہمیں ان سے ہوشیار رہنا چاہیے، ان کے ساتھ اتحاد نہیں کرنا چاہیے، نہ ان سے وعدے کرنے چاہییں اور نہ ہی انہیں تحفظ فراہم کرنا چاہیے، بلکہ ان کی جدوجہد کے طریقۂ کار کی خامیوں کو واضح کرنا چاہیے، پھر ان کو کمزور کرنے، ان کی صفوں کو توڑنے، ان کی جمعیت کو منتشر کرنے اور بالآخر ان کا خاتمہ کرنے پر کام کرنا چاہیے تاکہ عالمی اصلاحی و جہادی دعوتی محاذ مضبوط ہو۔ پھر ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے جیسا وہ ہم سے کریں گے اگر کبھی تنازع کا فیصلہ ان کے حق میں ہو جائے، جیسا کہ مصر میں ہوا، مگر یہ سب ہمارے دین کی عدل پر مبنی تعلیمات اور ہمارے منہج کی اعتدال پسند روش کے مطابق ہونا چاہیے (نہ کہ غلو پسند جاہلوں کی طرح)۔ ہمیں اپنی صفوں کو ان لوگوں کے ذریعے مضبوط کرنا چاہیے جو دین پر مضبوطی سے قائم ہیں اور ہمیں اپنی امت اور اپنی اقوام کے عام افراد کو بھی تبدیلی سے پہلے، دورانِ تبدیلی، اور تبدیلی کے بعد اپنے ساتھ شامل کرنا چاہیے، تاکہ ہم اسلام کو غالب کر سکیں اور دین کو اسی طرح قائم کریں جیسے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور جس پر وہ راضی ہوتا ہے۔
1990ء کی دہائی میں، (اکابر اہلِ جہاد کی) مجالسِ شوریٰ میں اہم ترین موضوعات میں سے ایک موضوع یہ تھا کہ امریکہ کی نرم طاقت (Soft Power) ہماری امت کی اقوام کے درمیان اثر و رسوخ حاصل کر رہی ہیں اور بڑھتی جا رہی ہیں، اور امریکہ اپنی اس نرم طاقت سے آئندہ نسلوں کی امیدوں پر قابو پا رہا ہے۔ اُس وقت اہلِ جہاد کا یہ یقین تھا کہ آنے والی نسلیں کبھی بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھ پائیں گی کہ صہیونی مغرب دراصل ہماری امتِ مسلمہ کا دشمن ہے، بلکہ ہماری نسلیں ان کے کارندوں اور ایجنٹوں میں سے ایک بن جائیں گی۔ چنانچہ اہلِ دعوت و جہاد پر یہ لازم تھا کہ وہ ان نسلوں کو ان کی غفلت سے بیدار کریں۔ اُس وقت اسلامی دعوتی تحریک کو میڈیا محاذ اور سیاسی محاذ پر سخت حملوں کا سامنا تھا، جبکہ مجاہدین کے پاس نہ وہ ادارے تھے، نہ وسائل، جو دشمنوں اور ان کی ایجنٹ مقامی حکومتوں کے پاس تھے جن سے وہ عوام تک اپنی دعوت پہنچا سکیں۔ بہت سے میدانوں میں اہلِ جہاد کے تمام ذرائع اور وسائل محدود کر دیے گئے تھے اور اگرچہ اسلامی بیداری کی لہر بڑھ رہی تھی، لیکن رائے عامہ کی تشکیل کے ذرائع مجاہدین کے ہاتھ میں نہیں تھے۔ اُس وقت دشمنوں کو روکنے اور اپنی امت کو جگانے کا واحد راستہ مسلح جدوجہد ہی تھا اور اس تناظر میں یہ ایک مسلمہ حقیقت تھی کہ افغانستان کا جہاد، اللہ عزوجل کی توفیق کے بعد، امت کی غفلت سے بیداری کے اہم ترین عوامل میں سے ایک تھا۔ لہذا، اس میں کوئی شک نہیں کہ جہادِ افغانستان نے موجودہ دور میں، امتِ مسلمہ کے صفِ اوّل کے مجاہد و جانباز دستے کی بنیاد رکھنے کے لیے مضبوط زمین فراہم کی۔ اس وقت، امریکہ اور صہیونی صلیبی مغرب کے ساتھ تنازع کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک یہ تھا کہ ہم اپنی نئی نسلوں پر تنازع کی حقیقت کو واضح کریں، انہیں شعور دیں اور بیدار کریں۔ پس اللہ کے فضل و کرم اور اس کی عنایت سے، تنظیم القاعدہ، امریکہ کی ’’نرم طاقت‘‘ (Soft Power) کو تنازع سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی اور اُسے سخت طاقت (Hard Power) کی لڑائی میں گھسیٹ لیا۔ یہ بیداری صرف امتِ مسلمہ تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اس کی سرحدوں سے باہر دوسرے ممالک تک بھی پھیل گئی، یہاں تک کہ چند برس قبل ایک اعلیٰ چینی عہدیدار نے کہا تھا: ’’القاعدہ نے چین اور روس، دونوں کو ترقی، تعمیرِ نو اور عالمی بالا دستی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے کافی وقت فراہم کیا ہے، کیونکہ اُس نے مغرب کو اپنے ساتھ سخت جنگ میں مصروف رکھا‘‘، یہ بیان غور و فکر کے لائق ہے۔ لیکن ہم مجاہدین کا کہنا ہے کہ ’’القاعدہ نے مسلمانوں کو عالمی فیصلہ سازی کے لیے تنازع اور مقابلے کے میدان میں واپس لا کھڑا کیا ہے‘‘، یہ جملہ ہمارے لیے اور ہماری امت کے لیے بے حد معنی رکھتا ہے۔ اور ان شاء اللہ، چند دہائیاں نہیں گزریں گی کہ مغرب، عالمی فیصلہ سازی میں اپنی برتری کھو دے گا۔ یقیناً آج مغرب ہر سطح پر ناکام ہو چکا ہے ، اُس نے دنیا کو کوئی ایسا نظریہ یا نظام نہیں دیا جو اسے معنویت بخشے اور اس کے وجود کو برقرار رکھے، بلکہ اس نے موقع پرستی اور دنیا کے وسائل پر لالچ اور ہوس کا بازار گرم کیا اور انسانیت و روحانیت کی تباہی پیش کی اور اُس نے وسائل کے اسراف سے انہیں ضائع کیا اور پوری زمین کو آلودہ کر کے رکھ دیا، اور وہ اب بھی انسانی عنصر اور انسانیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری رکھے ہوئے ہے۔ لہٰذا لازم ہے کہ مغرب کو سیاسی مسابقت سے نکالنے اور عالمی فیصلہ سازی سے باہر کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کی جائے، تاکہ اسلام کے دو میدانوں، دعوت اور جہاد، کے لیے راہ ہموار ہو جائے۔
حال ہی میں احمق قزاق ٹرمپ نمودار ہوا ہے تاکہ ہر میدان میں عالمی تبدیلی کے عمل کو تیز کر دے:
داخلی طور پر: وہ اپنے اس خواب و خیال میں جی رہا ہے کہ وہ امریکہ کا پہلا بادشاہ بن جائے، اسی لیے توقع ہے کہ وہ آنے والے انتخابات کو کسی بھی بہانے منسوخ کر دے گا یا اقتدار میں رہنے کے لیے آئین میں ترمیم کرے گا۔ اللہ کے حکم سے یہ بلیک میلر، بھتہ خور قزاق، اپنے ملک امریکہ کو خانہ جنگی اور داخلی تنازع میں جھونک دے گا، جو امریکہ کی عالمی فیصلہ سازی کی بالادستی اور اس کے عالمی تسلط کو کمزور کر دے گا۔ جہاں تک اس کے مشابہ خواب دیکھنے والے نیتن یاہو کا تعلق ہے، تو وہ بھی یہی کر رہا ہے اور پوری سنجیدگی سے کوشش میں ہے کہ یہودیوں کا بادشاہ بن جائے۔ کسی بھی قوم کو اس کے اندرونی انتشار اور ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی مؤثر علاج نہیں کہ اس کی لڑائیاں بیرونی دشمنوں کی طرف منتقل کر دی جائیں، خصوصاً اگر اس قوم کا مقصد مفاد پرستی ہو، نہ کہ دین و مذہب پرستی۔ یہی وہ عمل ہے جو انہوں نے صدیوں کے فکری اور عسکری تصادم کے ذریعے ہم پر اور دیگر اقوام پر کیا ہے، مگر ہم اللہ کے فضل سے اور اسلام سے اپنی وابستگی کے باعث بچ گئے اور مادورو اور لاطینی امریکہ کے حکمران اپنے دینی و روحانی خالی پن کے باعث ناکام ہوئے، اور اسی طرح باقی تمام اقوام جو دینی و روحانی لحاظ سے کھوکھلی ہیں، وہ بھی ناکام ہو جائیں گی۔
بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ نے امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ، طاقت کے تصور کو اس کے دو پہلوؤں ’’نرم‘‘ اور ’’سخت‘‘ سے نکال کر ’’ڈینگیں مارنے والی طاقت‘‘ کے زاویے میں منتقل کر دیا۔ اُس نے مادورو کو اغوا کیا اور اس کے پیچھے موجود لاطینی امریکہ کے ممالک کے سربراہوں کو دھمکیاں دیں۔ اُس نے عرب بادشاہوں سے تکبر سے کہا کہ ’’ہم مفت میں کسی کی حفاظت نہیں کریں گے، تمہیں تحفظ کی قیمت ادا کرنا ہو گی‘‘۔ یہ معاملہ صرف مسلم ممالک کے حکمرانوں یا امریکہ کے کمزور اتحادیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یورپ، نیٹو کے رکن ممالک، حتیٰ کہ یوکرین تک جا پہنچا، جو روسیوں کے خلاف یورپ اور مغرب کی پہلی دفاعی لائن ہے۔ ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں‘‘ اور ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ جیسے نعرے، اللہ کے حکم سے، مغربی دنیا کے مکمل زوال کو حقیقت کا روپ دے دیں گے۔
اسی طرح بین الاقوامی سطح پر اپنے مخالفین اور حریفوں کے ساتھ، ٹرمپ نے وہ سب کچھ کھلے عام کر دکھایا جو امریکہ خفیہ طور پر کیا کرتا تھا۔ وہ کرۂ ارض پر موجود ہر ایک کو دھمکی دیتا ہے، ہر اُس قوم کو بلیک میل کرتا ہے جس کی مزاحمت کی قوت کمزور ہو، (نام نہاد) بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کو تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے، اور سامراجی طاقت کی حکمرانی اور جنگل کے قانون کے اصول کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔ اُس نے وینزویلا کے حکمران مادورو کو اُس کی فوج اور محافظوں کے درمیان سے اغوا کر لیا اور پھر کیوبا، ایران اور دیگر ممالک کو بھی دھمکیاں دینے لگا۔ ٹرمپ واقعی جنگل کا قانون نافذ کر رہا ہے اور مکمل طور پر سامراجی و استعماری غنڈہ گردی کے راستے پر چل رہا ہے۔ جن لوگوں نے استعماری دور نہیں دیکھا، وہ آج حقیقی استعماری غارت گری کا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔ پوری دنیا کو، اپنے ساتھیوں اور اہلکاروں کو، صحافیوں کو، حتیٰ کہ اپنے خاندان تک کے خلاف ٹرمپ کی روزانہ کی دھمکیوں کی گنتی کرنا بھی مشکل ہے۔ وہ بادشاہت کا جنون رکھتا ہے اور مطلق العنان حکمرانی چاہتا ہے۔ جو بھی شخص اپنے مقاصد میں سے کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، اُسے صرف ٹرمپ کی خوشامد اور چاپلوسی کرنی ہے اور اُس کی حمایت کرنی ہے تاکہ وہ امن کا نوبل انعام حاصل کر سکے۔ لیکن وہ اسے کیسے حاصل کر سکتا ہے جبکہ وہ صبح و شام دنیا کو دھمکاتا ہے، لاطینی امریکہ کے کمزور ممالک کے خلاف طاقت استعمال کرتا ہے، خلیجی ریاستوں سے پیسہ نچوڑتا ہے اور اپنی وزارت کا نام وزارتِ دفاع سے بدل کر وزارتِ جنگ رکھ دیتا ہے، چاہے جنگ اندرونی ہو یا بیرونی، تاکہ سب اُس کی مرضی کے تابع ہو جائیں۔ وہ ایک ایسا احمق ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے، ہر دور کے ظالم حکمرانوں کی طرح۔
اور دوسری طرف جہاں تک چین کا تعلق ہے، جو عالمی میدان میں سب سے بڑا حریف ہے، وہ اپنی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی تمام طاقتوں کو کمزور کیا جائے، خواہ وہ مادی ہوں یا روحانی۔ اسی لیے وہ کمزوروں کو مزید کمزور کرتا ہے، سب کو مالی امداد فراہم کرتا ہے، سب کے ساتھ اور سب کے خلاف اتحاد بناتا ہے، اور دنیا کے سامنے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ محض ایک بڑا تجارتی کارخانہ نہیں بلکہ ایک ایسی قوم ہے جو دنیا کی قیادت کرنے اور اس کا انتظام کرنے کی کوشش میں ہے۔ لیکن یہ اس کی پہنچ سے دور ہے اور اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی، کیونکہ وہ اپنی خود پسندی میں مگن ہے، ایک حکمران کی بلند امنگوں کو دوسرا محتاط حکمران زائل کر دیتا ہے، اور اس کی نفسیاتی کمزوری سے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
ہم تصدیق کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ نہ صرف چین، بلکہ روس، ایران اور ترکی، نیز ان جیسے بہت سے ممالک یا گروہ جو مغرب کی مخالفت کرتے ہیں اگرچہ صرف ظاہری حد تک ہی ہو، وہ سب ہمارے ساتھ اتحاد نہیں کر سکتے۔ بلکہ وہ تو ہماری کوششوں اور جہاد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہم اس مرحلے پر ان کے ساتھ کسی ٹکراؤ میں داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ خود اس کی ابتدا نہ کریں۔ اس کے برعکس یہ ممالک، مستقبل کے حالات کا اندازہ لگا کر، ضرور ہمارے مخالفین اور ہماری صفوں کو تقسیم کرنے والوں کی حمایت و مدد کریں گے۔ ممکن ہے فی الحال ان میں سے بعض کچھ مدد بھی فراہم کریں، مگر بخل، احتیاط اور محتاط انداز میں، اتنی ہی جس سے ہم (ان کے نقطۂ نظر سے) زندہ رہ سکیں اور مغرب کے ساتھ ہمارا جاری تصادم قائم رہے تاکہ مغرب کو کمزور کیا جا سکے۔ تاہم، ان کی یہ مدد ہمیں مستقبل میں کسی مقابلے کی طاقت نہیں دے گی۔ اس لیے ہمیں ان پر نہ بھروسہ کرنا چاہیے، نہ انحصار۔ بلکہ ہمیں موجودہ اور آئندہ کے معرکوں کو حکمت و بصیرت، شعور اور اللہ عزوجل پر کامل توکل کے ساتھ سنبھالنا چاہیے اور اپنی امتِ مسلمہ کے عام لوگوں اور اپنے دین پر مضبوطی سے قائم فرزندانِ امت پر اعتماد کرنا چاہیے۔
مسلم ممالک پر مسلط عرب اور غیر عرب حکمرانوں کے فرائض کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اقتدار میں رہنے کے لیے انہیں کن احکامات پر عمل کرنا ہو گا؟
مسلم ممالک پر مسلط عرب اور غیر عرب طاغوتی حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دشمنوں کے حوالے کرنے اور آنے والے قبضے کے لیے تیار کریں، اپنی قوموں کو ناکام زرعی اور معاشی پالیسیوں کے ذریعے مزید فقر اور غربت میں دھکیلیں، تاکہ ان کے عوام پے در پے بحرانوں میں مبتلا رہیں اور مایوسی کا شکار ہو جائیں۔ انہیں چاہیے کہ رزق اور روزی کے ذرائع تنگ کر کے معاشرتی فساد پیدا کریں تاکہ نکاح اور شادی ناقابل حصول بن جائے اور خواہشات کی تکمیل بے حیائی و فحاشی سے کی جائے، اس طرح خاندانی اکائی کو تباہ کر دیا جائے۔ عوام کو کمزور رکھنے کے لیے انہیں اسلحے سے محروم رکھا جائے اور جنگ کا اختیار ایک ایسے طبقے (یعنی فوج) کے ہاتھ میں دیا جائے جو آرڈر اور اطاعت کے لیے تربیت یافتہ ہو، نہ کہ سوچنے یا انتخاب کرنے کے لیے۔ صنعتیں صرف کھپت پر مبنی ہوں، ترقی یافتہ نہ ہوں، تاکہ قوم مغرب کی تابع رہے، اس کی ٹیکنالوجی کی محتاج اور اس کی نرم طاقت سے مرعوب ہو کر اس کے پیش کردہ نظریات کو آسانی سے قبول کر لے۔ انہیں چاہیے کہ دینی مدارس، تعلیم و تربیت کے نظام، اور اسلامی عدالتی اداروں کو تباہ کر دیں تاکہ جہالت عام ہو جائے اور شرعی مرجعیت ان سے چھن جائے۔ ان حکمرانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو افراد قیادت کے اہل بن سکتے ہیں، انہیں پختہ ہونے سے پہلے ختم کر دیا جائے، تاکہ تجربہ ضائع ہو جائے، رعایا بے راہبر رہے اور عمارت اپنی بنیاد کھو بیٹھے۔ یوں کوئی مرجع نہ رہے، نہ کوئی طاقت دفاع کرے، نہ کوئی قلم علم پھیلائے، نہ کوئی زبان شعور کی جنگ لڑے اور ماحول فقر و محتاجی سے بھرا رہے۔ معاشرہ گمراہی اور بھٹکاؤ میں کھو جائے، بغیر کسی راہبر کے۔
اسی طرح سلطنتوں اور مملکتوں کا گلا گھونٹا جاتا ہے اور عوام کو پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے۔ پے در پے حملوں کے خلاف ہمارے آبا و اجداد کی بہادرانہ مزاحمت سے، آج دشمنوں کی جامع حکمتِ عملی ظاہر ہو چکی ہے۔ نوآبادیاتی طاقتیں نکل گئیں لیکن اپنے پیچھے اپنی باقیات چھوڑ گئیں تاکہ وہ اُن کاموں کو انجام دیں جن میں وہ خود ناکام رہے۔ پس اسلام کے خلاف جنگ اعلانیہ ہے، لیکن اسلامی سرزمینوں پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنا ایک ناکام تجربہ ثابت ہوا ہے، سو، اُنہیں اسلامی سرزمینوں پر غلبہ حاصل نہ ہو سکے گا۔ البتہ ان کے ایجنٹ اپنے مبلغین اور میڈیا کے ترجمانوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ وطن پرستی کو بھی کمزور کر دیتے ہیں اور غیرت کو مٹانے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔
موجودہ عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں اسلام اور جہاد کا مستقبل، بہت سے عوامل اور درست فیصلوں پر منحصر ہے جنہیں اہلِ اسلام، اہلِ علم، اہلِ دعوت اور اہلِ جہاد کو پوری ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ اپنانا ہو گا۔ تیاری کے لوازمات، درست منصوبہ بندی، اور تعلیمی، عسکری، دعوتی اور سیاسی غرض تمام محاذوں پر سنجیدہ عمل، یہی وہ عناصر ہیں جو اِن شاء اللہ اس روشن مستقبل کو طے کریں گے۔ ہر وہ شخص جو اسلام کے لیے کام کر رہا ہے، اُسے اپنے کردار و مقام کو سمجھنا چاہیے، اس کے مطابق خود کو تیار کرنا چاہیے، اور سب کو نیکی اور تقویٰ پر باہمی تعاون کے ذریعے متحد ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی، علمائے ربانیین اور مخلص داعیان سے مشاورت لازم ہے، اور امت کے نوجوانوں میں درست شعور پھیلانا ضروری ہے تاکہ قافلہ درست سمت میں آگے بڑھے۔ تاہم، اس سے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد بھی اصل سہارا ’کتاب اللہ‘ اور ’ سنت رسول اللہ ﷺ‘ سے وابستگی، ان پر مضبوطی سے قائم رہنا اور ان کا دفاع کرنا ہے۔ کامیابی درحقیقت اُسی کے لیے ہے جو اللہ کے ساتھ ہے، اور اللہ کے مخلص انصار کے ساتھ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰي عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ (سورۃ الصف: ۱۴)
’’ اے ایمان والو ! تم اللہ ( کے دین) کے مددگار بن جاؤ، اسی طرح جیسے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے حواریوں سے کہا تھا کہ : وہ کون ہیں جو اللہ کے واسطے میرے مددگار بنیں ؟ حواریوں نے کہا : ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں۔ پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا، اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا، چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے ہم نے ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کی، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غالب آئے۔‘‘
٭٭٭٭٭











