نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

رمضان المبارک کے آداب

by مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید
in مارچ و اپریل 2022, شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
0

یہ مہینہ پھر کہاں!

میرے بزرگو اور دوستو! دن بھی آتے رہیں گے اور راتیں بھی آتی رہیں گی۔ مہینے بھی آتے رہیں گے لیکن یہ مہینہ پھر نہیں آئے گا۔ یہ مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے، عبادت و مغفرت کا سالانہ جشن ہے، نہ معلوم پھر میسر آئے یا نہیں۔ ہمارے کتنے ہی جاننے والے گزشتہ سال ہمارے اندر موجود تھے اور آج نہیں ہیں، اور جو آج موجود ہیں نہ معلوم ان میں سے کتنے اگلے سال نہیں ہوں گے۔ پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ صحت اور فرصت کے لمحات جو ہمیں آج میسر ہیں وہ اگلے سال میسر نہ ہوں۔ خدارا! اس مہینے کی عظمت پہچانیے، ان لمحات کی قدر کیجیے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں شیاطین قید کردیے جاتے ہیں، یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایسی رات بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں جنت آراستہ کی جاتی ہے، روزانہ بے شمار لوگوں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ دیا جاتا ہے، عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں، اللہ کا منادی پکار پکار کر کہتا ہے؛ اے نیکی کرنے والے! آگے بڑھ، جلدی کر، اور اے گناہ کرنے والے! رک جا، باز آجا، یہ گناہوں کا مہینہ نہیں، یہ تو توبہ اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ ارے ظالم! لوگ اپنی گردنیں جہنم سے آزاد کر رہے ہیں، تُو کیوں محروم رہتا ہے؟ اپنے مالک و خالق کے سامنے جھک جا اور دامن پھیلا کر درخواست کر:

اللھم اعتق رقابنا من النار ورقاب اٰبائنا وأمھاتنا وازواجنا واولادنا واقاربنا وجمیع المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات اللھم اعتقھم جمیعا اللھم اعتق رقابھم من النیران

اے اللہ! ہماری گردنوں کو جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرما نیز ہمارے والدین، آباواجداد، ہماری بیویوں، اولاد، عزیزواقارب اور تمام مسلمان اور مومن مردوں اور عورتوں کو بھی اے اللہ! آزاد فرما دے۔ اے اللہ! جہنم کی آگ سے بچا لے۔

اللھم إنا نسئلک الجنۃ ونعوذبک من النار

اے اللہ! ہم آپ سے جنت کی درخواست کرتے ہیں اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔

رمضان کی عظمت پہچاننے والے:

جن لوگوں نے رمضان کی عظمت کو پہچان لیا تھا اور روزوں کی فضیلت کو جان لیا تھا، وہ رمضان المبارک کا ایسے انتظار کرتے تھے جیسے کسی انتہائی قریبی اور معزز مہمان کا انتظار کیا جاتا ہے۔ مشہور تابعی معلی بن الفضل رحمہ اللہ رمضان المبارک کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اشتیاقِ انتظار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

کانو یدعون اللہ ستۃ اشھران یبلغھم رمضان ثم یدعونہ ستۃ اشھران یتقبلہ منھم

’’چھ ماہ تک وہ یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں رمضان تک پہنچا پھر بقیہ چھ ماہ تک وہ یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! ہمارے صوم و صلوٰۃ کو قبول فرما۔‘‘

خود رسول کائنات ﷺ کے بارے میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ جب رجب کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرماتے:

اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان

’’اے اللہ! ہمیں رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔‘‘

جب شعبان کا مہینہ آتا تو حضور اکرم ﷺ کے اشتیاق کا یہ عالم ہوتا کہ آپ شعبان ہی میں روزے رکھنا شروع فرمادیتے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ قریب قریب شعبان کا پورا مہینہ آپﷺ روزے رکھتے تھے اور جب رمضان المبارک کا مہینہ آجاتا تو پھر آپﷺ کی عبادت و تلاوت اور جودوسخاوت کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا۔ آپﷺ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔

تلامذہ کا حال:

جب استاذ کا یہ عمل اور یہ انداز تھا تو اس باکمال استاد کے سعادت مند تلامذہ کیوں پیچھے رہتے! وہ رمضان المبارک کا حق ادا کرتے تھے، راتوں کو قیام اور دن کو صیام ان کا دستور تھا، حالتِ سفر میں اگرچہ روزہ رکھنا فرض نہیں لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس حالت میں بھی سخت تکلیف برداشت کرکے روزہ رکھ لیتے تھے۔ اگر کبھی غلطی سے صحابہ کرامؓ سے روزہ ٹوٹ جاتا تو ان پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا۔ ایک صحابی روزہ توڑ بیٹھے تو بال نوچتے ہوئے اور سینہ کوبی کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے؛ ’’میں تو ہلاک ہوگیا‘‘۔ صحابہ کرام صرف خود ہی روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے بچوں سے بھی روزے رکھواتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے کسی بدمست کو بازار میں کھاتے ہوئے دیکھا تو اسے سزا دی اور فرمایا: ’’ہمارے بچے بھی روزہ رکھتے ہیں اور تمہارا یہ حال ہے!‘‘۔

صحابہ کرامؓ صرف فرض روزے ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ نفلی روزے بھی رکھتے تھے۔ حضرت زیدؓ بن سہل نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مسلسل چالیس سال روزے رکھے اور عید کے علاوہ کسی دن کا روزہ نہیں چھوڑا۔ حضرت عبداللہؓ بن عمرو ہمیشہ روزہ رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو منع کیا اور فرمایا کہ ہر مہینہ صرف تین دن روزہ رکھا کرو، لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت ہے، تو آپﷺ نے ان کو صومِ داؤدی کی اجازت دے دی، یعنی ایک دن کا ناغہ دے کر دوسرے دن کا روزہ رکھو۔

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس حقیقت کو پالیا تھا کہ لذت صرف پیٹ بھر کر کھانے ہی میں نہیں بلکہ اسے خالی رکھنے میں بھی ہے۔ مزہ صرف ٹھنڈے مشروبات کے پینے ہی میں نہیں بلکہ پیاس کی تلخی برداشت کرنے میں بھی ہے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہیں مرغن غزاؤں اور رنگا رنگ مشروبات میں وہ مزہ نہیں آتا جو اللہ والوں کا بھوکا اور پیاسا رہنے میں آتا ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو ریشم و کمخواب کے بستر پر کروٹیں بدلتے ہوئے رات گزار دیتے ہیں اور انہیں نیند تو کیا اونگھ بھی نصیب نہیں ہوتی اور کتنے ہی ایسے خداشناس ہیں جو سنگ ریزوں کے فرش پر لیٹ کر اپنی نیند پوری کرلیتے ہیں۔ کتنے ہی دولت و ثروت میں ڈوبے ہوئے لوگ ہیں جو سنگ مرمر سے بنے ہوئے وسیع و عریض محلات میں بے چین رہتے ہیں اور کتنے ہی فقر آشنا اہلُ اللہ ہیں جو خس پوش جھونپڑیوں میں سکون اور راحت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

یاد رکھیے! راحت اور چیز، اور اسبابِ راحت اور چیز ہیں۔ ضروری نہیں کہ جو راحت کے اسباب جمع کرلے اسے راحت بھی حاصل ہوجائے۔ حقیقی راحت دولت سے نہیں، محلات سے نہیں، گاڑیوں سے نہیں، کارخانوں سے نہیں، خوردونوش کے سامان کی فراوانی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پورا کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

جس بندے کی نظر اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہوتی ہے وہ اس کی راہ میں بھوکا اور پیاسا رہتا ہے تو اسے سکون ملتا ہے، وہ اللہ کی راہ میں مال لٹاتا ہے تو اسے خوشی حاصل ہوتی ہے، وہ جان کی بازی لگاتا ہے تو اس کا دل مطمئن ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ گنوا کے بھی کہتا ہے؛

فزت ورب الکعبۃ

رب کعبہ کی قسم میں تو کامیاب ہوگیا!

اور سچی بات تو یہ ہے کہ کسی عمل میں کچھ نہیں رکھا ہے، نہ نماز میں کچھ رکھا ہے، نہ روزے میں کچھ رکھا ہے، نہ جہاد میں کچھ رکھا ہے، نہ صدقہ و خیرات میں کچھ رکھا ہے، نہ حج و عمرہ میں کچھ رکھا ہے، نہ تبلیغ و تدریس میں کچھ رکھا ہے، جو کچھ ہے وہ مالکِ حقیقی کی رضا میں ہے۔ ایسی نمازیں، ایسے روزے، ایسے صدقات اور ایسے عمرے، جن سے اس مالک کی رضا حاصل نہ ہو، وہ کسی کام کے نہیں۔ حضرت ذکی کیفی مرحوم ومغفور کیا خوب فرما گئے ہیں۔

عشق تسلیم و وفا کے سوا کچھ بھی نہیں
وہ وفا سے خوش نہ ہوں تو پھر وفا کچھ بھی نہیں

اور غالبؔ نے اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے

نہ تو ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے
یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے

روزہ رکھنے والے دوست یاد رکھیں کہ ہم سے کوئی ایسا عمل نہ ہوجائے جو ہماری صبح سے شام تک کی بھوک پیاس کو غارت کردے اور ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے بجائے ان کو ناراض کر بیٹھیں۔

میرے محبوب میری ایسی وفا سے توبہ
جو ترے دل کی کدورت کا سبب بن جائے

روزے کے آداب:

ظاہر ہے ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کا دن بھوکا پیاسا رہنا اور راتوں کا قیام ضائع ہوجائے اور ماہِ مبارک اس کے لیے عطا کے بجائے حرمان کا سبب بن جائے۔ اس لیے ہمیں روزے کے آداب کا اہتمام کرنا ہوگا، اگر ہم ان آداب کا اہتمام کرتے ہوئے روزے رکھیں گے تو ان شاء اللہ یہ روزے قیامت کے دن ہماری شفاعت کریں گے اور ہم ’باب الریّان‘ سے جنت میں داخل ہوں گے۔ علما اور مشائخ نے روزے کے چھ آداب بیان فرمائے ہیں:

۱۔ نگاہ کی حفاظت

روزے کا سب سے پہلا ادب یہ ہے کہ نگاہ کی حفاظت کی جائے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

’’نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔‘‘

یہ تیز جا کے سیدھا دل پر لگتا ہے اور دل کو زہرناک کر دیتا ہے، دل میں تقویٰ اور ایمان کا نور اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک نگاہ کی حفاظت نہ کی جائے اور جب اللہ تعالیٰ کے خوف سے نگاہ کی حفاظت کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ دل میں ایسا ایمانی نور نصیب فرماتے ہیں، جس کی حلاوت اور لذت دل میں محسوس ہوتی ہے۔

۲۔ زبان کی حفاظت:

روزے کا دوسرا ادب زبان کی حفاظت ہے، زبان اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے اور امانت بھی، زبان کا صحیح استعمال ہمیں جنت میں لے جاسکتا ہے اور اس کا غلط استعمال جہنم میں لے جانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ترمذی شریف میں حدیث ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

’’لوگوں کو جہنم میں چہروں کے بل ان کی زبانوں کی کرتوتیں ہی لے کر جائیں گی۔‘‘

حضرت عقبہؓ بن عامر روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نجات کا کیا طریقہ ہے؟ تو آپﷺ نے جواب دیا کہ تین کام کرلو، تم جنت میں داخل ہونے کے حق دار ہوجاؤ گے۔ ایک تو یہ کہ اپنی زبان کی حفاظت کرو۔ دوسرا، اپنا زیادہ وقت گھر میں گزارو (اِدھر اُدھر بازاروں میں بھی فضول نہ گھومو)، تیسرا، یہ کہ اپنے گناہوں پر رویا کرو۔

زبان کی حفاظت تو ہر حال میں ضروری ہے لیکن روزے کی حالت میں اس کی حفاظت اور بھی زیادہ ضروری ہے، اسی لیے حضور اکرم ﷺ نے روزہ دار کو خاص طور ہر فحش بات یا جہالت کی بات کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ اگر دوسرا لڑائی جھگڑے کی بات کرے بھی تو تم نہ کرو اور اس سے کہہ دو کہ میرا روزہ ہے، میں تمہاری لغویات کا جواب نہیں دے سکتا۔ خاص طور پر روزہ کی حالت میں غیبت اور جھوٹ سے بچنا بہت ضروری ہے۔ بعض علما کے نزدیک تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

۳۔ کان کی حفاظت:

روزے کا تیسرا ادب کان کی حفاظت ہے۔ یاد رکھیے! جن چیزوں اور باتوں کا زبان سے نکالنا ناجائز ہے، ان کا سننا بھی ناجائز ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ غیبت کرنے والا اور سننے والا دونوں گناہ میں شریک ہیں۔ کتنے ہی لوگوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ روزہ تو رکھ لیتے ہیں، پھر روزہ گزارنے کے لیے گانے سنتے ہیں، فلمیں اور ڈرامے دیکھتے ہیں۔ گویا کانوں اور آنکھوں کے راستے گناہوں کی غلاظت اپنے دل کے برتن میں اتارتے ہیں۔ بتلائیے! ایسے روزے سے کیا حاصل ہوا؟ اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ہم روزہ گزارنے کے لیے ایسا کرتے ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ واقعی ایسے لوگوں کا روزہ گزر جاتا ہے۔ جیسے لوگ کہتے ہیں فلاں گزر گیا یعنی مر گیا، تو ایسے ہی ان لوگوں کا روزہ بھی گزر جاتا ہے۔ کتنے خسارے کی بات ہے کہ دن بھر بھوکے پیاسے بھی رہے لیکن حاصل بھی کچھ نہ ہوا۔

۴۔ تمام اعضا کی حفاظت:

روزے کا چوتھا ادب یہ ہے کہ زبان، کان اور آنکھ کے علاوہ باقی اعضا کی بھی گناہ سے حفاظت کریں۔ یہ جو اعضا اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیے ہیں، یہ اعمال پیدا کرنی کی مشینیں ہیں۔ آنکھ عمل پیدا کرنے کی مشین ہے، زبان عمل پیدا کرنے کی مشین ہے، کان عمل پیدا کرنے کی مشین ہے، ہماری مرضی ہے کہ ہم ان مشینوں سے اللہ تعالیٰ کی رضا والے اعمال پیدا کریں یا اس کی ناراضی والے اعمال پیدا کریں۔

ہاتھوں سے کسی پر ظلم نہ کریں، کسی کی چیز نہ چرائیں، پیروں سے گناہ کی جگہ اور گناہ کی طرف چل کر نہ جائیں، پیٹ میں حرام غذا نہ جانے دیں۔ حرام کی مثال زہر کی سی ہے، زہر جسم کے لیے خطرہ ہے اور حرام روح کے لیے خطرہ ہے۔ حرام کھانے سے دل میں کثافت پیدا ہوتی ہے، دل تاریک ہوجاتا ہے اور حرام سے جو جسم پلتا ہے، اس پر جہنم واجب ہوجاتی ہے۔ کم ازکم رمضان المبارک میں اس بات کا اہتمام کر لیجیے کہ حرام کا ایک لقمہ بھی ہمارے پیٹوں میں نہ جانے پائے۔ شاید اس ماہِ مقدس کی برکت سے ہمیں سال کے باقی گیارہ مہینوں میں بھی حلال روزی پر قناعت کرنے کی توفیق نصیب ہوجائے۔

۵۔ زیادہ نہ کھائیں:

روزے کا پانچواں ادب یہ ہے کہ اگرچہ مال حلال ہو پھر بھی بہت زیادہ نہ کھائیں بلکہ جب کچھ بھوک باقی ہو تو کھانا چھوڑ دیں۔

صوفیا رمضان کے علاوہ عام دنوں میں چار چیزوں کا مجاہدہ کراتے تھے: ۱۔ تقلیلِ طعام (کم کھانا)، ۲۔ تقلیلِ کلام (کم بولنا)، ۳۔ تقلیلِ منام (کم سونا)، ۴۔ تقلیلِ اختلاط مع الانام (لوگوں سے کم ملنا)۔

صوفیائے کرام اپنے مریدین کو کم کھانے پر بڑے بڑے مجاہدے کرایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ فاقہ کشی کی نوبت آجاتی تھی۔ لیکن حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب قدس اللہ سرہٗ فرماتے ہیں کہ یہ زمانہ اس قسم کے مجاہدوں کا نہیں، اب تو لوگ ویسے ہی کمزور ہیں۔ اگر کھانا کم کردیں گے تو کئی بیماریاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

آج کے دور میں انسان ایک بات کی پابندی کرلے تو تقلیل طعام کا مقصد حاصل ہوجائے گا۔ وہ یہ کہ جب کھانا کھانے بیٹھے تو ایک مرحلہ ایسا آئے گا جب دل میں تردد پیدا ہوگا کہ اب مزید کچھ کھاؤں یا نہ کھاؤں، پس جب یہ تردد پیدا ہوجائے تو اس وقت کھانا چھوڑ دے تقلیل طعام کا منشا پورا ہوجائےگا۔

مگر یاد رکھیے کہ تقلیل طعام سے مسلمان کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے ضمن میں صحت کی درستگی اور وزن اعتدال پر رہنے کا مقصد بھی خودبخود حاصل ہوجائے گا۔ جب عام حالات میں تقلیل طعام پر زور دیا جاتا ہے تو رمضان المبارک میں تو اس کا اور بھی زیادہ اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ روزے سے مقصود شہوانیہ اور بہیمیہ کا کم کرنا اور قوت نورانیہ اور ملکوتیہ کا بڑھانا ہے، مگر ہمارے ہاں تو جناب حال یہ ہے کہ رمضان المبارک میں لوگ جتنا کھاتے ہیں، شاید غیرِ رمضان میں نہ کھاتے ہوں۔ افطاری میں اتنا کچھ کھا لیتے ہیں کہ پھر نمازِ عشاء اور قیام اللیل کی ہمت نہیں ہوتی اور اگر بالفرض نماز کے لیے کھڑے بھی ہوجائیں تو نماز میں اونگھتے رہتے ہیں۔

سحری میں اتنا کھاتے ہیں کہ نمازِ فجر کا پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے اور پھر کمال یہ کہ اتنا کھانے کے بعد پھر سو بھی جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بخارات دماغ کو چڑھ جاتے ہیں۔ چنانچہ جب سو کر اٹھتے ہیں تو دماغ بوجھل ہوجانے کی وجہ سے کسی کام کے قابل نہیں رہتے۔ ایک جگہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ آدمی کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے کمر سیدھی رہے، اگر کوئی شخص بالکل کھانے پر تُل جائے تو اس سے زیادہ نہیں کہ ایک تہائی (پیٹ) کھانے کے لیے رکھے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی خالی رکھے۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب نور اللہ مرقدہٗ کو پورے رمضان المبارک میں دیکھا ہے کہ افطار و سحر دونوں وقت کی مقدار تقریباً ڈیڑھ چپاتی سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ کوئی خادم عرض بھی کرتا تو فرماتے کہ بھوک نہیں ہوتی، دوستوں کے خیال سے بیٹھ جاتا ہوں۔ اور اس سے بڑھ کر حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق سنا ہے کہ کئی کئی دن مسلسل ایسے گزرجاتے تھے کہ تمام شب کی مقدار سحر و افطار بے دودھ کی چائے کے چند فنجان کے سوا کچھ نہ ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت کے مخلص خادم حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری نور اللہ مرقدہٗ نے لجاجت سے عرض کیا کہ ضعف بہت ہوجائے گا، حضرت کچھ تناول ہی نہیں فرماتے، تو حضرت نے فرمایا کہ الحمدللہ جنگ کا لطف حاصل ہورہا ہے۔

حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا پیارا شعر ہے، فرماتے ہیں:

ندا ندا تن پروراں آگہی
کہ پر معدہ باشدز حکمت تہی

پیٹ بھر کر کھانے والوں کو اس بات کی خبر نہیں کہ بھرا ہوا معدہ حکمت سے خالی ہوتا ہے۔

۶۔ خوف و رجا:

روزے کا بلکہ ہر عبادت کا ایک اہم ادب یہ ہے کہ انسان قبولیت کی امید رکھے مگر ڈرتا بھی رہے کہ شاید میرا قیام و صیام اور صدقہ و خیرات قبول بھی ہوا یا نہیں، کیونکہ قیامت کے دن بہت سے ایسے لوگوں کو بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا جو بظاہر دنیا میں بڑی عبادت کرتے تھے مگر دل میں اخلاص نہ تھا، اللہ کی رضا پیشِ نظر نہ تھی بلکہ نمود و نمائش اور ریاکاری کا جذبہ دل میں بیٹھا ہوا تھا۔ صاحبِ ایمان کا شیوہ ہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کرتا ہے، قبولیت کی امید بھی رکھتا ہے مگر ڈرتا بھی ہے کہ کہیں میری محنت ضائع نہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں خرچ کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ(سورۃ المؤمنون: ۶۰)

’’اور وہ جو دیتے ہیں (اللہ کی راہ میں) تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایمان والوں کی نشانی بتائی ہے کہ میرے راستے میں خرچ بھی کرتے ہیں اور ڈرتے بھی ہیں کہ ایک دن اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، معلوم نہیں وہاں قبول ہوتا بھی ہے یا نہیں ہوتااور اصل چیز تو میرے دوستو! قبولیت ہے، چھوٹا سا عمل ہو لیکن رب کی بارگاہ میں قبول ہوجائے تو ہمارے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ اور بہت بڑا عمل ہو لیکن وہاں قبول نہ ہو تو کس کام کا؟

عمل کرنے کے بعد اکڑنا، اِترانا اور جتلانا عمل کو باطل کردیتا ہے اور عمل کرنے کے بعد ڈرتے رہنا اور مزید عاجزی اختیار کرنا، اسے قبولیت کے قریب کردیتا ہے۔

کوشش اور دعا:

آئیے ہم بھی کوشش کریں اور دعا بھی کریں کہ ہمارا رمضان المبارک ان آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے گزر جائے اور یہی دو چیزیں اہم ہیں یعنی کوشش اور دعا۔

خالی خولی دعا بھی کافی نہیں اور نری کوشش بھی کافی نہیں بلکہ دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ اپنی سی کوشش بھی کرتے ہیں کہ کم از کم اس مہینے میں ہم حلال روزی پر اکتفا کرلیں، حرام کے قریب نہ جائیں، گناہوں کو یکسر چھوڑ دیں۔ آنکھ، کان، زبان کی حفاظت کرلیں، غیبت، جھوٹ اور بہتان تراشی سے باز آجائیں۔ اپنے نفس کو بہلائیں کہ میاں صرف ایک مہینے کی بات ہے، ایک مہینہ اللہ کی رضا کیے مطابق گزار لو، اگر آپ اپنے نفس کو بہلانے اور گناہوں سے باز رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو ان شاء اللہ سال کی بقیہ گیارہ مہینے بھی اسی طرح گزارنے کی توفیق مل جائے گی۔ کوشش کے ساتھ دعا بھی کرتے رہیں کہ اے اللہ! میں کمزور ہوں، چاہتا ہوں کہ ماہِ مقدس تیری رضا کے مطابق گزر جائے، مگر میرا چاہنا کس کام کا، جب تک تو نہ چاہے! بس اپنے فضل و کرم سے اس مبارک مہینے کو اس طریقے سے گزارنے کی توفیق عطا فرما دے کہ مجھے تیری رضا حاصل ہوجائے، میں جہنم سے بچ جاؤں اور جنت میں داخل ہونے کا حق دار بن جاؤں۔

میرے بھائیو! آخری گزارش یہ ہے کہ اگر کسی کو اس طریقے سے رمضان المبارک گزارنے کی توفیق حاصل ہوجائے تو حیًّا و میّتًا اس گناہ گار کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ کیونکہ میں آپ کی دعاؤں کا بہت زیادہ محتاج ہوں، دامن نیک اعمال سے خالی ہے اور آخرت کا سفر بڑا مشکل ہے۔ جب مخصوص اوقات میں اپنے لیے دعا کریں تو اس ناقص انسان کے لیے بھی دعا کردیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس احسان کا بدلہ ضرور دیں گے۔

٭٭٭٭٭

Previous Post

رمضان المبارک میں مجاہدین کے کرنے کے کام

Next Post

ہلالِ رمضان کا پیغام

Related Posts

روزوں کی حکمت
شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

روزوں کی حکمت

14 مارچ 2025
رمضان المبارک میں مجاہدین کے کرنے کے کام
شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

رمضان المبارک میں مجاہدین کے کرنے کے کام

14 مارچ 2025
رمضان المبارک کی آمد پر سرورِ دو عالم ﷺ کا خطبۂ استقبالیہ
شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

رمضان المبارک کی آمد پر سرورِ دو عالم ﷺ کا خطبۂ استقبالیہ

14 مارچ 2025
رمضان المبارک کا استقبال،قرنِ اول میں!
شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

رمضان المبارک کا استقبال،قرنِ اول میں!

14 مارچ 2025
رمضان المبارک میں مجاہدین کے کرنے کے کام
شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

رمضان المبارک میں مجاہدین کے کرنے کے کام

30 مارچ 2024
دو روزے
شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن

دو روزے

30 مارچ 2024
Next Post

ہلالِ رمضان کا پیغام

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اکتوبر ۲۰۲۵ء

اکتوبر 2025ء

by ادارہ
4 نومبر 2025

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2025 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version