نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

امام کے ساتھ گزرے ایام | پانچویں نشست

by ایمن الظواہری
in مئی 2026ء, تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
0

أیام مع الإمام، اسم با مسمیٰ ’امام کے ساتھ گزرے ایام‘، شیخ اسامہ بن لادن کے دستِ راست و نائب، حکیم الامت فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کا ایک نابغہ سلسلۂ خطبات ہے جو انہوں نے وقتاً فوقتاً ’ادارہ السحاب‘ کو ریکارڈ کروایا۔ یہ کم و بیش دس عدد خطبات ہیں جو عربی زبان میں شائع ہوئے۔ ان میں سے چار عدد کا ترجمہ ’نوائے افغان جہاد‘ (مجلّۂ ہٰذا کا سابقہ نام) میں ایک عشرے قبل شائع ہو چکا ہے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ اردو زبان میں ترجمہ ہو کر شائع ہونے سے رک گیا تھا۔ اس بار ماہِ مئی میں شیخ اسامہ کی شہادت کو پندرہ سال پورے ہونے پر دوبارہ اس کے تراجم کا آغاز کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان قابلِ قدر ساتھیوں کو جزائے خیر دیں جنہوں نے ان خطبات کے ترجمے کی ہامی بھری اور ایک بار پھر بشکلِ سلسلہ شیخ ایمن الظواہری کے یہ خطبات نذرِ قارئین کیے جا رہے ہیں۔ (ادارہ)


تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول، ان کی آل، صحابہ اور ان تمام لوگوں پر جنہوں نے ان کی پیروی کی۔ اما بعد!

دنیا بھر میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

یہ سلسلہ ’’ایام مع الإمام‘‘ کی پانچویں نشست ہے، جس میں میں  اُن خوشگوار یادوں کا تذکرہ کر رہا ہوں جو مجدد، مجاہد، امام، شیخ اسامہ بن لادنؒ کے ساتھ رہتے ہوئے گزریں۔ اللہ تعالیٰ اُن پر اپنی وسیع رحمت نازل فرمائے اور ہمیں بھی خیر کے ساتھ اُن سے جا ملائے۔

گزشتہ نشست میں، میں نے تورا بورا کی یادوں کا ذکر شروع کیا تھا، اور کہا تھا کہ میں دوستوںاور دشمنوں کا تذکرہ کروں گا۔ چنانچہ پہلے میں نے دوستوں کا ذکر کیا۔ ابتدا مجاہد عالم شیخ یونس خالص رحمہ اللہ سے کی، پھر عظیم مجاہد قائد شہید معلم اول گل رحمہ اللہ کا ذکر کیا، اور اس کے بعد قاری عبد الاحد رحمہ اللہ کا تذکرہ کیا۔

میں یہ بات دوبارہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں صرف شہداء کا ذکر کرتا ہوں، زندہ افراد کا نہیں، ان کی حفاظت اور سلامتی کے پیش نظر۔ کیونکہ معرکہ ابھی اپنے عروج پر ہے، اور دشمن ہر اطلاع کے لیے گھات لگائے بیٹھا ہے۔ البتہ ان زندہ افراد کے ہمارے اوپر ایسے احسانات ہیں جنہیں ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے، اور ان شاء اللہ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان کے احسانات کا کچھ حق ادا کرنے کی توفیق دے، اور اگر ہم ایسا نہ کر سکیں تو اللہ خود ہماری طرف سے انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔

یہ زندہ مجاہد ہمارے لیے انتہائی قابلِ قدر، محبت اور احترام کے مستحق ہیں۔ ان شاء اللہ وہ دن بھی آئے گا جب ہم کھلے طور پر ان کے کارناموں، فضائل اور جہادی تحریک پر ان کے احسانات کا تذکرہ کریں گے۔

اس نشست کی ریکارڈنگ سے پہلے میری ایک بھائی سے تورا بورا کے محاصرے کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی، تو اس نے مجھے شام کے شہر حمص کے محاصرے کی یاد دلا دی، اور یہ کہ کس طرح اقوامِ متحدہ نے ہمارے شامی بھائیوں کو دھوکا دیا۔ یہ وہ خبیث ادارہ ہے جس پر دنیا کے پانچ بڑے مجرم قابض ہیں، تاکہ وہ اس کے ذریعے دنیا کو فریب دیں اور یہ ظاہر کریں کہ یہاں انسانی حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں صرف انہی پانچ طاقتوں کے حقوق محفوظ ہیں!

انہوں نے انسانی حقوق کا عالمی منشور جاری کیا اور دعویٰ کیا کہ اس میں تمام انسانوں کو برابر قرار دیا گیا ہے، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے اپنی کتاب فرسان تحت رایة النبي ﷺ کے دوسرے ایڈیشن میں ذکر کیا تھا، یہ ایک دھوکا ہے۔

میں نے وہاں لکھا تھا کہ یہ لوگ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ مذہب اور جنس کے فرق کے بغیر سب انسانوں کو برابر سمجھتے ہیں، لیکن در حقیقت وہ دو بڑے پیمانوں پر انسانوں میں تفریق کرتے ہیں:

ان میں پہلا پیمانہ : وطنیت اور سرزمین کی بنیاد پر تفریق۔

چنانچہ وہ کہتے ہیں: یہ شامی ہے، یہ مصری ہے، یہ ہندوستانی ہے، یہ پاکستانی ہے، حالانکہ ہم سب ایک ہی امت ہیں۔ اس تقسیم کا اصل مقصد امتِ مسلمہ کو، جو کبھی ایک سلطنت تھی، پچاس سے زائد ممالک میں بانٹ دینا ہے۔

دوسرا: طاقت کی بنیاد پر تفریق۔

یہ لوگ جمہوریت، مساوات اور انصاف کے خوش نما نعرے لگاتے ہیں، لیکن حقیقت میں طاقت کے بل پر انسانوں کو درجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ چند طاقتور ممالک دنیا پر قابض ہیں، اور باقی انسان ان کے نزدیک دوسرے درجے کے ہیں۔

اسی خبیث ادارے نے حمص کے مسلمانوں کو بھی دھوکا دیا۔ انہیں محاصرے سے نکالنے کا جھوٹا وعدہ کیا، اور پھر بشار الاسد کے درندوں کے حوالے کر دیا تاکہ وہ انہیں جیلوں میں ڈال دیں۔ آگے چل کر ان شاء اللہ ذکر آئے گا کہ یہی پیشکش ہمیں بھی تورا بورا میں کی گئی تھی کہ تم محاصرے سے نکل آؤ اور اپنے آپ کو اقوامِ متحدہ کے حوالے کر دو۔ لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے اس سے انکار کر دیا، اور کہا: یا تو ہم خود اپنی مرضی سے نکلیں گے(تسلیم نہیں ہوں گے) یا لڑتے ہوئے جان دے دیں گے۔ الحمد للہ، اللہ نے(مزاحمت کرنے اور تسلیم نہ ہونے کی) توفیق عطا فرمائی۔

اب میں دوبارہ تورا بورا اور وہاں کے دوستوں کے تذکرے کی طرف لوٹتا ہوں، اور آج میں ایک ایسے عظیم شہید مجاہد کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس نے تورا بورا میں ہماری بے مثال مدد کی۔ وہ تھے بطلِ اسلام، شہید مولوی نور محمد رحمہ اللہ۔

یہ مردِ مجاہد اسلام کے شیروں میں سے ایک شیر تھا، جس کی پاکیزہ اور خالص فطرت آزمائشوں اور سختیوں میں کھل کر سامنے آئی۔ وہ عالمِ دین، بلکہ نوجوان مجاہد علماء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا تعلق جلال آباد کے علاقے میں آباد وزیر قبیلے سے تھا۔

طالبان کے دورِ حکومت میں وہ ایک سرکاری ذمہ داری پر فائز تھے، اور ’’ولسوال‘‘ کے منصب پر خدمت سرنجام دیتے تھے۔ ’’ولسوال‘‘ سے مراد، جیسا کہ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے، کسی ضلع یا شہر کا نگران، تحصیلدار یا ضلعی منتظم ہوتا ہے، یعنی وہ انتظامی عہدہ جو والی (گورنر) کے ماتحت ایک انتظامی تقسیم کی نگرانی کرتا ہے۔

چنانچہ یہ شخص طالبان کے دور میں ایک سرکاری عہدے پر فائز تھا، لیکن جب افغانستان پر صلیبی حملہ ہوا تو وہ فوراً مجاہدین کے ساتھ آ ملا۔ اور جب ہم تورا بورا کی طرف منتقل ہوئے تو یہ بہادر مجاہد بھی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ہمارے پاس آیا، پہاڑ پر چڑھ کر ہم سے ملا اور شیخ اسامہ بن لادنؒ سے ملاقات کی۔ اس نے شیخ سے کہا:

”میں آپ کے حکم کا پابند ہوں، آپ جیسے فرمائیں گے، میں اپنی استطاعت کے مطابق اسے پورا کروں گا۔ “

بعد میں یہ مردِ مجاہد تورا بورا کے واقعات کے کچھ عرصے بعد شہید کر دیا گیا۔ میرا گمان ہے کہ اسے امریکیوں کے ایجنٹ منافقوں نے قتل کیا۔ یہ اپنے بھائی سمیت پاکستان کے شہر پشاور میں شہید کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی وسیع رحمت نازل فرمائے۔

مولوی نور محمد ہمارے ساتھ پہاڑ پر رہے اور انہوں نے ہماری بے حد مدد کی۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے، بعض دوسرے انصار اور چند مجاہد بھائیوں کے ساتھ، شیخ اسامہ بن لادن سے اس بات پر عہد کیا کہ یہ بھائی چارہ دنیا اور آخرت دونوں میں قائم رہے گا۔ الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اس مجلس میں حاضر ہونے اور ان کے ساتھ شیخ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اسے قبول فرمائے۔

ایک دلچسپ واقعہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ مولوی نور محمد نے مجھ سے پوچھا:

” ایمن الظواہری کہاں ہیں؟ میں نے سنا ہے کہ وہ زخمی ہوئے تھے اور شہید ہو چکے ہیں!“

میں ہنس پڑا اور کہا: نہیں، وہ موجود اور زندہ ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے ان سے کہا:

”مولوی صاحب! اس وقت ہماری حالت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما جیسی ہے، ہم محاصرے میں ہیں اور دشمن چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔“

تو انہوں نے فوراً کہا:

”واقعی، اللہ کی قسم! ہم حسین بن علی ہی کی مانند ہیں۔“

مولوی نور محمد نے ہماری کئی طرح سے مدد کی۔ ان کی ایک بڑی خدمت یہ تھی کہ وہ جلال آباد کے قبائلی عمائدین سے رابطے کرتے اور بعض کو ہمارے پاس لے آتے۔ انہی میں ایک قبائلی سردار بھی تھا جو طالبان کے دور میں بھی ایک سرکاری ذمہ دار رہ چکا تھا، اور جب منافقین کی حکومت قائم ہوئی تو وہ اس میں بھی عہدے دار بن گیا۔

یہ جنگوں کے عجائبات میں سے ہے کہ انسان کو ایک طرف خالص وفادار لوگ ملتے ہیں، دوسری طرف کھلے دشمن، اور ان دونوں کے درمیان ایک ایسی جماعت بھی ہوتی ہے جو ہر زمانے اور ہر جگہ اسی کشمکش کا شکار رہتی ہے۔

یہ شخص جب امریکی آئے تو نئی منافق حکومت میں بھی ایک انتظامی منصب پر فائز ہو گیا، لیکن اس کے دل میں اقتدار کی محبت اور مجاہدین سے تعلق، دونوں کی کشمکش نمایاں تھی۔ جب وہ ہمارے پاس پہاڑ پر آیا تو اس کے چہرے سے یہ اندرونی اضطراب صاف محسوس ہو رہا تھا۔

شیخ اسامہ بن لادنؒ نے اپنی دانائی اور تجربے کے ساتھ اس سے کہا:

”ہم تمہارے بھائی ہیں، مجاہد، مہاجر، پردیسی اور مسافر (یہ امور افغانوں کے دلوں پر بہت اثر رکھتے ہیں) ہم تمہارے عرب بھائی ہیں جنہوں نے تمہارے ساتھ روس کے خلاف جہاد میں شرکت کی۔ ہم تم سے کچھ نہیں چاہتے۔ ہماری اور امریکیوں کی جنگ ہے، تم اس میں کیوں مداخلت کرتے ہو؟ “

یہ سن کر وہ شخص بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا:

”نہیں، نہیں! میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میری طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔“

شیخ نے فرمایا:

”نہیں، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تم ہماری مدد کرو ۔“

اس نے جواب دیا:

”میں آپ کی مدد کروں گا، آپ تک رسد اور سامان پہنچاؤں گا“۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ شخص تورا بورا میں ہمارے گرد قائم محاصرے کے دوران منافق فوج کے سپاہیوں کا ذمہ دار بھی تھا۔ واقعی یہ جنگوں کے حیرت انگیز پہلوؤں میں سے ایک تھا۔

افغان قوم اپنی فطرت میں صلیبی طاقتوں سے نفرت رکھتی ہے۔ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ وہی قوم ہیں جس نے انگریزوں کو شکست دی اور جسے انگریز کبھی مکمل طور پر غلام نہ بنا سکے۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی کو گالی دینا چاہیں تو کہتے ہیں: ”یہ تو انگریز ہے!“

اسی لیے اگر وہ بظاہر امریکیوں سے کچھ نرمی یا دوستی دکھائیں بھی، تب بھی دلوں میں ان کے لیے نفرت ہی رکھتے ہیں۔

اس شخص نے شیخ سے کہا:

’’میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میری طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘

شیخ نے فرمایا:

’’ہم چاہتے ہیں کہ تم ہمیں کچھ اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کرو‘‘۔

اس نے جواب دیا:

’’میں حاضر ہوں‘‘۔

پھر شیخ نے اسے اس مقصد کے لیے کچھ رقم دی تاکہ وہ سامان خرید سکے۔

اس شخص نے کہا:

’’بہت اچھا، ان شاء اللہ میں یہ کام آپ کے لیے انجام دوں گا‘‘۔

پھر شیخ اسامہ بن لادنؒ نے اس سے کہا:

’’میں تم سے ایک اور خدمت چاہتا ہوں‘‘۔

اس نے پوچھا: وہ کیا؟

شیخ نے فرمایا:

’’میں چاہتا ہوں کہ تم اپنے علاقے کے خطباء، ائمہ مساجد اور علماء کو آمادہ کرو کہ وہ جمعہ کے خطبات میں لوگوں کو امریکیوں کے خلاف جہاد پر ابھاریں، اور یہ واضح کریں کہ یہ حملہ آور اور قابض ہیں، اور ان کے خلاف جہاد فرض ہے‘‘۔

اس شخص نے اس کا وعدہ کیا، البتہ مجھے معلوم نہیں کہ اس نے اپنے وعدے کو پورا کیا یا نہیں۔ بہرحال، اس شخص کے ساتھ ہمارا ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا، وہ محاصرے کے ایک حصے کا ذمہ دار تھا۔ ہوا یوں کہ ایک بھائی، جو شیخ ابن اللیبی رحمہ اللہ کے معاون تھے، اور میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ شیخ اللیبی تورا بورا کی جنگ کے عسکری ذمہ دار تھے، انہوں نے ایک انصار بھائی کے ساتھ مل کر، بغیر شیخ کی اجازت کے، فیصلہ کیا کہ اس شخص کے گاؤں پر حملہ کیا جائے۔ وہ گاؤں اسی پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع تھا جہاں ہم موجود تھے۔ چنانچہ وہ چند مجاہدین کو ساتھ لے کر پہاڑ سے اترے اور اس گاؤں پر کچھ مارٹر گولے داغے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور حملہ بھی کیا گیا یا نہیں۔ پھر وہ کارروائی کے بعد واپس آ گئے۔

اس کے بعد اس شخص نے شیخ کو پیغام بھیجا اور کہا:

’’میں نے تو آپ سے کہا تھا کہ میری طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، پھر مجھ پر یہ حملہ کیوں کیا گیا؟‘‘

اللہ کا شکر تھا کہ وہ گولے کسی کو نہیں لگے تھے۔ شیخ رحمہ اللہ نے فوراً اس مجاہد بھائی کو بلایا۔ وہ پرانے اور نہایت معزز مجاہدین میں سے تھے۔

شیخ نے ان سے فرمایا:

’’بھائی! یہ تم نے کیا کیا؟‘‘

انہوں نے جواب دیا:

’’میں چاہتا تھا کہ محاصرہ کرنے والوں پر دباؤ ڈالوں‘‘۔

شیخ نے فرمایا:

’’کیا تم نے اس بارے میں ہمیں یا قیادت کو اطلاع دی تھی؟‘‘

انہوں نے کہا:

’’نہیں، لیکن میں نے اپنی رائے سے یہ مناسب سمجھا‘‘۔

تب شیخ نے فرمایا:

’’بھائی! اللہ سے ڈرو۔ ہم اس وقت انتہائی نازک مرحلے میں ہیں۔ ایسا کوئی بھی اقدام ہمارے خلاف حالات کا رخ بدل سکتا ہے۔ ہم تو کوشش کر رہے ہیں کہ محاصرہ کرنے والوں کی صفوں میں اختلاف پیدا ہو، لہٰذا آئندہ کبھی ایسا نہ کرنا‘‘۔

یہ بھی ان مواقع میں سے ایک تھا جہاں مولوی نور محمد نے ہماری مدد کی۔ مولوی نور محمد آخر وقت تک تورا بورا میں ہمارے ساتھ رہے۔ ان کی ایک بہت بڑی فضیلت اور نمایاں خدمت ہے، جس کا ذکر میں آج پہلی مرتبہ کر رہا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں کہ امریکی اس بات کو جانتے ہیں یا نہیں، لیکن میں یہ بات انہیں غیظ و غم میں مبتلا کرنے کے لیے بیان کر رہا ہوں، اور وہ یہ ہے کہ:

مولوی نور محمد ہی وہ شخص تھے جنہوں نے شیخ اسامہ بن لادنؒ کو تورا بورا سے نکالا تھا۔

گذشتہ قسط میں ذکر کیا تھا کہ شیخ اسامہ بن لادنؒ کو جلال آباد سے بحفاظت نکالنے والے بطلِ اسلام معلم اول گل تھے جبکہ شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کو تورا بورا کے پہاڑوں سے نکال کر میدانی علاقے تک پہنچانے والے مولوی نور محمد اور ان کے ساتھی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی وسیع رحمتیں نازل فرمائے۔

چنانچہ مولوی نور محمد کا مجاہدین پر یہ ایک بہت بڑا احسان اور عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے تورا بورا کے پہاڑی سلسلے سے شیخ اسامہ بن لادن کے انخلا کو ممکن بنایا۔ ان شاء اللہ آگے چل کر میں یہ بھی بیان کروں گا کہ شیخ نے کس طرح اس انخلا کی منصوبہ بندی کی، اور کس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سفر کامیابی سے طے ہوا۔

یقیناً اس وقت پوری دنیا کی نظریں تورا بورا پر جمی ہوئی تھیں۔ تمام صلیبی اتحاد کی توجہ اسی مقام پر مرکوز تھی۔ امریکی یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ تورا بورا میں اسامہ بن لادنؒ اور ان کے ساتھیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو مسئلہ ختم ہو جائے گا، افغانستان کا معاملہ بھی ختم ہو جائے گا اور جنگ بھی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔

 لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی مشیت اور تقدیر کے مطابق کچھ اور ہی فیصلہ فرمایا۔ اسی کی تدبیر اور ارادہ تھا کہ اس نے ایسے لوگوں کو ہمارے لیے ذریعہ بنایا جنہوں نے شیخ اسامہ بن لادن کو اس محاصرے سے نکالا، اور اپنے دوسرے مجاہد بھائیوں کو بھی حصار سے باہر لے جانے میں مدد دی، جیسا کہ میں ان شاء اللہ آگے بیان کروں گا۔

یقیناً شیخ اسامہ بن لادنؒ کو محاصرے سے نکالنے کی یہ داستان ایک طویل قصہ ہے، جسے میں بعد میں تفصیل سے بیان کروں گا۔ مولوی نور محمد کے علاوہ بھی تورا بورا میں صرف وہی ایک شخص نہیں تھے جو ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے، بلکہ بہت سے لوگ ہمارے ساتھ تعاون اور ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے، جن میں خود اس علاقے کے عام باشندے بھی شامل تھے۔

مولوی نور محمد رحمہ اللہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ جب انہوں نے اپنے چند ساتھیوں کو اسلحہ اور سامان کے ساتھ جمع کیا اور وہ پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ تورا بورا کی چوٹیوں پر پہنچ سکیں، تو ایک بوڑھی عورت نے انہیں دیکھ لیا۔ اس نے گمان کیا کہ یہ لوگ ہم (عرب مجاہدین) سے لڑنے جا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ بڑھیا انہیں بد دعائیں دینے لگی اور کہنے لگی:

’’تم عرب مجاہدین سے لڑنے جا رہے ہو! اللہ تمہیں برباد کرے، تم پر مصیبتیں نازل کرے!“

مولوی نور محمد کہتے تھے:

”میں خاموش کھڑا رہا اور وہ بوڑھی عورت مسلسل ہمیں بد دعائیں دیتی رہی‘‘۔

انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا:

”میں جانتا ہوں کہ آپ پہاڑ پر عرب بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں، سوائے اس مونگ پھلی کے تھیلے کے۔ خدا کے لیے اسے پہاڑ میں موجود عرب مجاہدین تک پہنچا دیجیے، شاید یہ ان کے کام آ جائے اور انہیں ثابت قدم رہنے میں سہارا دے۔“

اسی طرح ہمیں یہ اطلاع بھی ملی کہ ایک گاؤں کی مسجد میں جمعہ کے دن ایک مقامی شخص کھڑا ہوا اور اس منافق حکومت کے خلاف بد دعا کرتے ہوئے کہا:

” اللہ تمہیں تباہ کرے گا اور تم پر مصیبتیں نازل ہوں گی، کیونکہ پہاڑوں میں صحابہ کے بیٹے موجود ہیں اور تم ان سے لڑ رہے ہو اور ان کا محاصرہ کیے ہوئے ہو۔ جلد تم اپنے انجام کو دیکھ لوگے!“

ایسے بے شمار واقعات اور نہایت اثر انگیز قصے ہمارے سامنے آئے۔ بہت سے گاؤں دیہات ایسے تھے جنہوں نے ہمیں پناہ دی، ہماری مدد کی اور ہمیں سامان و رسد پہنچائی۔ ایک عجیب بات جو ہم نے ان علاقوں میں محسوس کی، وہ یہ تھی کہ بعض قبائلی عمائدین اور سردار شیخ اسامہ بن لادنؒ  کے پاس آتے اور ان سے درخواست کرتے کہ وہ ان کے لیے ایک تحریر لکھ دیں کہ انہوں نے اس جنگ میں ان سے ملاقات کی ہے، انہوں نے ان کی مدد کی ہے، اور وہ ان لوگوں کو اپنے قابلِ اعتماد بھائی سمجھتے ہیں۔

وہ لوگ کہتے تھے:

”ہم اس تحریر کو بطورِ فخر محفوظ رکھیں گے کہ شیخ اسامہ بن لادن نے ہماری تعریف کی، ہمارے ہاں قیام کیا اور ہم نے ان کی مدد کی۔  “

یہ افغان قوم کے عجیب اور منفرد اوصاف میں سے ایک وصف تھا۔

اسی دوران ہمارے بعض مقامی انصار بھائیوں کو منافق حکومت کی جانب سے سخت دھمکیاں بھی دی گئیں۔ آگے چل کر میں حاجی دین محمد کا ذکر کروں گا، وہ شخص جو کفار کی صف میں شامل تھا اور دنیا و آخرت کی ذلت مول لی تھی۔ اس وقت وہ جلال آباد میں تقریباً گورنر کے معاون یا گورنر جیسے درجے پر تھا۔ اس نے ہمارے بعض انصار کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:

”اگر تم نے عربوں کا ساتھ نہ چھوڑا تو امریکی تمہارے گاؤں پر پچاس طیارے بھیج دیں گے اور اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے۔ “

واقعی بعد میں امریکیوں نے اس گاؤں پر شدید فضائی حملہ کیا۔ پورا گاؤں تباہ ہو گیا، اور ہمارے انصار کے تقریباً تمام اہلِ خانہ شہید ہو گئے، سوائے اس کی ماں اور ایک چھوٹے بچے کے۔ اس کے گاؤں میں تقریباً پچاس بے گناہ مسلمان شہید ہوئے، اور صرف اس کے اپنے خاندان سے اٹھارہ افراد شہادت کے مرتبے کو پہنچے، ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان سب پر رحم فرمائے۔ اس سب کے باوجود، وہ انصاری بھائی اور ان جیسے دوسرے مخلص افراد ہمارے ساتھ ڈٹے رہے اور آخری لمحے تک ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔

اسی طرح ایک گاؤں ایسا بھی تھا جس کے تمام باشندوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ شیخ اسامہ بن لادنؒ نے ان سے جہاد اور قتال پر عہد لیا، اور انہوں نے بھی وفاداری کا وعدہ کیا۔ انہوں نے شیخ سے کہا:

”ہم جانتے ہیں کہ اس جنگ میں ہمارے گاؤں پر شدید بمباری ہوگی، اس لیے ہم اجازت چاہتے ہیں کہ پہلے اپنے اہل و عیال کو محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیں، پھر واپس آ کر آپ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں گے۔ “

شیخ نے اس کی اجازت دی اور فرمایا:

’’میں ہر خاندان کو اپنی طرف سے کچھ مالی مدد دوں گا تاکہ وہ ہجرت میں آسانی محسوس کریں۔ ‘‘

ہم ان لوگوں کو سچا اور مخلص سمجھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے ہمیں پناہ دی اور کبھی ہم سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا۔ لیکن بعد میں حالات اس قدر تیزی سے بدل گئے کہ جنگ نے انہیں جگہ بدلنے کی مہلت ہی نہ دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دنوں کے حالات کو صحیح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ خوف اور دہشت اپنی انتہا پر تھی۔ امریکی اور ان کے حامی عجیب و غریب افواہیں پھیلاتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ امریکی ہر چیز دیکھ سکتے ہیں، ان کے پاس ایسے ہتھیار ہیں کہ اگر وہ کسی کلاشنکوف پر ڈال دیے جائیں تو وہ پگھل جائے، اور وہ گھروں کے اندر تک دیکھ سکتے ہیں۔

خود تورا بورا کا منظر ہی نہایت خوفناک تھا۔ میں خود جب بعد میں تورا بورا سے نکلا جیسا کہ آگے ذکر کروں گا، اور باہر سے اس علاقے کو دیکھا تو اس کا منظر انتہائی ہولناک تھا۔ رات کے وقت گولوں اور میزائلوں کی آگ یوں دکھائی دیتی تھی جیسے آگ کے ستون آسمان کی طرف اٹھ رہے ہوں، اور پوری وادی روشنی سے بھر جاتی تھی۔

الحمد للہ، ہم جب تورا بورا کے اندر تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں پر سکینت نازل فرمائی تھی، لیکن باہر کے لوگ کہتے تھے کہ تورا بورا عرب مجاہدین، انصار اور مہاجرین کے لیے ایک بھٹی بن چکا ہے۔ ایسے خوف و ہراس کے ماحول میں بھی یہ سادہ، غریب اور عام لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن طریقے سے ہماری مدد کرتے رہے۔

میں یہ بات کئی مرتبہ ذکر کرچکا ہوں کہ ان آزمائشوں اور مصیبتوں میں ہم نے توکل اور توحید کے عظیم اسباق سیکھے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے عمامہ پوش، داڑھی والے، ڈگریوں اور اسناد کے حامل لوگ، جو توحید پر کتابیں لکھتے اور اسے پڑھاتے ہیں، انہیں دراصل اس مدرسے میں جا کر دوبارہ توحید سیکھنے کی ضرورت ہے،کیونکہ ان کی توحید حقیقت میں ناقص اور کمزور ہے۔

جیسا کہ شیخ استاد محمد یاسر رحمہ اللہ کہا کرتے تھے:

”بعض علماء علم میں تو پروفیسر اور ڈاکٹر کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن ایمان کے اعتبار سے منافقین کے درجے پر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔ “

الحمد للہ، ہم نے ان سادہ، غریب اور عام لوگوں کے ہاتھوں توحید اور توکل کے حیرت انگیز عملی اسباق دیکھے۔ ان کے نزدیک معاملہ بالکل واضح تھا:

”یہ کافر ہے، اسلام کا دشمن ہے۔ اور یہ مسلمان ہے، مسلمانوں کا ساتھی ہے۔ یہ مجاہد ہے، لہٰذا میں اس کی مدد کروں گا، اور وہ کافر ہے، اس کا مقابلہ کرنا چاہیے“۔

اسی سادہ اور پاکیزہ فطرت کے مطابق یہ لوگ ہمارے ساتھ پیش آتے تھے۔ اس شدید خوف و دہشت کے زمانے میں، اور آپ جانتے ہیں کہ جنگ میں ابتدائی صدمے کا مرحلہ سب سے زیادہ سخت ہوتا ہے، خصوصاً گوریلا جنگ میں۔ انہی سادہ اور غریب لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ ان میں سے اکثر عام لوگ تھے، علم کے اعتبار سے تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ ممکن ہے وہ صرف عبادات، شعائرِ اسلام اور بنیادی ارکانِ دین ہی جانتے ہوں۔ نہ ان کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں تھیں، نہ بڑے مناصب اور نہ وہ دنیاوی اعزازات، جن میں سے بہت سی چیزیں بعض اوقات ایمان کو خراب اور توحید کو کمزور کر دیتی ہیں۔

اسی دوران دوسرے علاقوں سے مجاہدین بھی ہم سے رابطہ کرتے تھے اور معذرت کرتے ہوئے کہتے تھے:

”ہماری دلی آرزو ہے کہ آپ کے پاس آئیں اور آپ کے ساتھ شریک ہوں، لیکن ہم اس کی استطاعت نہیں رکھتے“۔

عوام کی ہمارے ساتھ ہمدردی کا ایک عجیب واقعہ مجھے یاد آتا ہے۔ جب گیارہ ستمبر کے بعد، جنگ شروع ہونے سے پہلے، مجاہدین نے تورا بورا میں اپنے مراکز قائم کرنا شروع کیے تو انہوں نے انتظامی طور پر کچھ نظم بنایا۔ چنانچہ جلال آباد شہر میں انہوں نے ایک مکان یا مرکز قائم کیا تھا، جو گویا پچھلے محاذ یا مرکز کی حیثیت رکھتا تھا، تاکہ اگر کسی مجاہد کو علاج کی ضرورت ہو، کوئی چیز خریدنی ہو، کسی سے رابطہ کرنا ہو یا کسی اور ضرورت کے لیے شہر آنا پڑے تو وہ وہاں ٹھہر سکے۔ بعض اوقات مجاہد بھائی مختصر آرام یا رخصت کے لیے بھی وہاں آ جاتے تھے۔ مختصراً یہ کہ جلال آباد میں عرب مجاہدین کے لیے ایک مہمان خانہ یا مرکز قائم تھا۔

جب جلال آباد شہر منافقین کے قبضے میں چلا گیا اور امارتِ اسلامیہ طالبان کے مجاہدین وہاں سے نکل گئے، کیونکہ انہوں نے براہِ راست محاذ آرائی چھوڑ کر گوریلا جنگ کی حکمتِ عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور شہروں سے نکل کر پہاڑوں اور دیہی علاقوں کا رخ کیا تھا، اور یہی وہ کامیاب حکمتِ عملی تھی جس کے ذریعے بعد میں انہوں نے صلیبی اتحاد کو شکست دی، یہاں تک کہ امریکیوں کو بھی اپنی ناکامی تسلیم کرنا پڑی اور افغانستان سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے پڑے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جلد دوبارہ افغانستان کو امارتِ اسلامیہ کے سپرد فرمائے، اور امیر المؤمنین ملا محمد عمر کو ان شاء اللہ دوبارہ قندھار میں اپنے مرکز امارت پہنچائے، اور ہمیں بھی ان شاء اللہ وہاں ان کے ہاتھ پر دوبارہ بیعت کی سعادت نصیب فرمائے۔

جب منافقین جلال آباد میں داخل ہوئے، تو انہوں نے عرب مجاہدین کو امریکیوں کے ہاتھ فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ہر شخص جلال آباد میں بچے کھچے عرب مجاہدین کی تلاش میں تھا تاکہ انہیں گرفتار کر کے امریکیوں کے حوالے کرے۔ چنانچہ ایسے ہی چند مسلح منافقین اس عرب مہمان خانے یا مرکز پر پہنچے۔ اس مرکز کا ایک نگہبان اور ذمہ دار شخص تھا، جو نیک اور صالح شخص تھا۔

انہوں نے اس سے کہا:

”ہم گھر کے اندر جانا چاہتے ہیں“۔

لیکن نگہبان نے انہیں روک دیا، کیونکہ اس وقت وہاں ایک عرب مجاہد موجود تھا جسے ابھی تک جلال آباد کے سقوط کی خبر نہیں ملی تھی۔

وہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ اندر عرب مجاہد موجود ہوں گے، جنہیں پکڑ کر امریکیوں کے ہاتھ فروخت کیا جا سکے گا۔ مگر اس امانت دار نگہبان نے، اللہ اسے بہترین جزا دے، ان منافقوں کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ وہ مسلسل ان سے بحث کرتا رہا، اور وہ زبردستی اندر گھسنے کی کوشش کرتے رہے۔

اسی شور و جدال کے دوران اندر موجود مجاہد بھائی متوجہ ہو گئے۔ وہ فوراً گھر سے نکلے، دیوار پھلانگ کر ایک دوسرے گھر میں گئے، پھر وہاں سے کئی گھروں کے ذریعے آگے بڑھتے رہے۔

بعد میں مجاہدین انہیں ”زندہ شہید“ کہا کرتے تھے، کیونکہ سب انہیں شہید سمجھ بیٹھے تھے۔ خود انہوں نے بعد میں ہمیں بتایا کہ وہ ایک گھر میں داخل ہوئے اور کچھ دیر کے لیے مرغیوں کے ایک ڈربے میں چھپے رہے، یہاں تک کہ حالات کچھ پُرسکون ہوئے اور تلاش کا سلسلہ کم ہوا تو وہ وہاں سے نکلے اور جلال آباد کی گلیوں میں چلنے لگے، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے۔ انہوں نے بتایا:

”میں ایک راستے پر چل پڑا، مگر مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ راستے کے سب لوگ مجھے کیوں گھور رہے ہیں۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ وہ گلی بند تھی، اور وہاں رہنے والے سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے، جبکہ میں ان کے لیے اجنبی تھا، اس لیے سب حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے کہ یہ شخص کہاں جا رہا ہے۔“

جب انہوں نے دیکھا کہ راستہ بند ہے تو پریشان ہو کر کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں اس گلی کے ایک رہائشی نے انہیں آواز دی: ادھر آؤ!

پھر اس نے ان سے پوچھا: تم کہاں جانا چاہتے ہو؟

انہوں نے کوئی بہانہ بناتے ہوئے کہا: میں اپنے ایک دوست کو تلاش کر رہا ہوں یا اس طرح کی کوئی بات کی۔

اس شخص نے کہا: آؤ میرے ساتھ۔

اور پھر انہیں اپنے گھر لے گیا۔

اس نے کہا:

”میں جانتا ہوں کہ تم عرب ہو، اور یہاں سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہو۔ لیکن ابھی رات کا وقت ہے، اس لیے تم اس وقت نہیں نکل سکتے۔ تم صبح تک میرے گھر میں رہو۔ ان شاء اللہ، جب تک میں زندہ ہوں تم بھی زندہ رہو گے، اور اگر میں مارا گیا تو پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ خود تمہارا محافظ ہے۔ “

اس مجاہد بھائی نے اس شخص سے کہا:

’’اللہ تعالیٰ آپ کو میری طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے‘‘۔

وہ کہتے تھے کہ میں نے دیکھا کہ اس شخص کا بیٹا ایک دینی مدرسے میں طالبِ علم تھا، جو طالبان نے قائم کیا تھا۔ تو میں نے دل میں کہا:

’’سبحان اللہ! یہ طالبان کی برکتوں میں سے ایک برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی کے قائم کردہ مدرسے کے سبب مجھے فائدہ پہنچایا۔‘‘

بہرحال، وہ شخص انہیں صبح تک اپنے گھر میں پناہ دیے رہا۔ پھر صبح انہیں اپنے گھر سے نکالا اور راستہ بتاتے ہوئے کہا:

’’تم اس راستے سے جاؤ، یہ سیدھا تورا بورا کے پہاڑی علاقے کی طرف جاتا ہے‘‘۔

وہ مجاہد بھائی بیان کرتے تھے کہ راستے میں انہیں کسی چیز کی ضرورت پیش آئی، تو وہ ایک دکان پر گئے اور کچھ سامان خریدا۔ جب وہ وہاں سے نکلے تو دکاندار کو اندازہ ہو گیا کہ یہ شخص عرب ہے۔ چنانچہ وہ دکان سے باہر نکلا اور پیچھے پیچھے یہ دیکھنے لگا کہ یہ کہاں جا رہا ہے۔

وہ کہتے تھے:

’’میں غلط راستے پر چل پڑا تھا اور میں نے دکاندار سے کچھ نہیں کہا تھا‘‘۔

لیکن دکاندار نے انہیں آواز دی اور کہا:

’’ادھر آؤ، ادھر آؤ! تمہارا راستہ اِس طرف ہے!‘‘

اس نشست میں اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔

سبحانک اللھم وبحمدک، اشھد ان لا الہ الا انت، استغفرک واتوب الیک،

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين. وصلى الله على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم.

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

٭٭٭٭٭

Previous Post

نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل

Next Post

قبائلِ ازواد میں جاری جہاد کے حوالے سے عمومی ہدایات

Related Posts

کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | آٹھویں قسط

25 مئی 2026
قبائلِ ازواد میں جاری جہاد کے حوالے سے عمومی ہدایات
فتح مالی

قبائلِ ازواد میں جاری جہاد کے حوالے سے عمومی ہدایات

25 مئی 2026
نہایت  اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل
اداریہ

نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل

25 مئی 2026
مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

25 مئی 2026
اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان دورانِ معرکہ مشاورت نہیں ہوتی!
تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

شیخ اسامہؒ کے کارہائے نمایاں

31 مئی 2024
اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان دورانِ معرکہ مشاورت نہیں ہوتی!
تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان دورانِ معرکہ مشاورت نہیں ہوتی!

23 مئی 2023
Next Post
قبائلِ ازواد میں جاری جہاد کے حوالے سے عمومی ہدایات

قبائلِ ازواد میں جاری جہاد کے حوالے سے عمومی ہدایات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version