مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب (زید مجدہٗ) کی تالیف ’أصول الغزو الفکری‘ یعنی ’نظریاتی جنگ کے اصول‘، نذرِ قارئین ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو اہل باطل کی جانب سے ایک ہمہ گیر اور نہایت تند و تیز فکری و نظریاتی یلغار کا سامنا ہے۔ اس یلغار کے مقابلے کے لیے ’الغزو الفکری‘ کو دینی و عصری درس گاہوں کے نصاب میں شامل کرنا از حد ضروری ہوچکا ہے۔دینی و عصری درس گاہوں میں اس مضمون کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ’الغزو الفکری‘ یعنی نظریاتی جنگ کے مضمون و عنوان کو معاشرے کے فعال طبقات خصوصاً اہلِ قلم، اسلامی ادیبوں اور شاعروں، اہلِ دانش، صحافیوں، پیشہ ور (پروفیشنل)حضرات نیز معاشرے کہ ہر مؤثر طبقے میں بھی عام کرنا از حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ’اصول الغزو الفکری‘کے عنوان سے اس علم کے اہم مباحث کو مختصر طور پر مولانا موصوف نے پیش کیا ہے۔ مولانا موصوف ہی کے الفاظ میں ’در حقیقت یہ اس موضوع پر تحریر کردہ درجنوں تصانیف کا خلاصہ ہے جس ميں پاک و ہند کے پس منظر کا نسبتاً زیادہ خیال رکھا گیا ہے‘۔ یہ تحریر اصلاً نصابی انداز میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود خشکی سے پاک ہے اور متوسط درجۂ فہم والے کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کو نظریاتی و عسکری محاذوں کو سمجھنے، ان محاذوں کے لیے اعداد و تیاری کرنے اور پھر ہر محاذ پر اہلِ باطل کے خلاف ڈٹنے کی توفیق ملے۔ اللہ پاک مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب کو جزائے خیر سے نوازیں کہ انہوں نے ایسے اہم موضوع کے متعلق قلم اٹھایا، اللہ پاک انہیں اور ہم سب اہلِ ایمان کو حق پر ثبات اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین! (ادارہ)
کیف نقاوم الغزو الفکری؟
ہم الغزو الفکری کا مقابلہ کیسے کریں؟
جنگ لڑنے سے پہلے کیا دیکھا جاتا ہے:
ہمارا مقابلہ کس سے ہے؟ دشمن کون ہے؟
دشمن کا حملہ کس سمت سے ہورہا ہے؟
اس کے اہداف کیا ہیں؟
مقابلے کا میدان کون سا ہے، کیسا ہے؟
جنگ کے ہتھیار کیا کیا ہیں؟
ہماری پوزیشن کیسی ہے؟ یعنی ہماری قوتیں کیا ہیں جن سے ہم کام لے سکتے ہیں اور کمزوریاں کون سی ہیں جن سے ہمیں بچنا ہے؟
دشمن کی پوزیشن کیا ہے؟ یعنی اس کی قوتیں کیا ہیں، اور کمزور پوائنٹ کون سے ہیں جن پر ہم کارگر حملہ کرسکتے ہیں؟
ایک بھرپور جنگ جس میں کامیابی کی امید کی جاسکے، تب ہی لڑی جاسکتی ہے جب پہلے سے مذکورہ نکات کا جواب ہمارے پاس ہو۔
ہماری کمزوریاں
اس جنگ میں ہماری بارہ بڑی کمزوریاں ہیں جن سے عیار دشمن پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
(۱) ایمانی کمزوری۔ (۲) اعمال کی کمزوری۔ (۳) علم دین کی کمزوری۔ (۴) علم دنیا کی کمزوری۔ (۵) صحت کی کمزوری اور امراض۔ (۶) اقتصادی کمزوری اور سودی معیشت۔ (۷) میڈیا وار میں ہماری کمزوری۔ (۸) سیاسی ابتری۔ (۹) مخلص اور اہل قائدین کا انحطاط۔ (۱۰) غربت۔ (۱۱) جمود اور تعطل۔ (۱۲) نظم و ضبط کی کمی۔
ہماری قوتیں
ہماری اہم ترین قوتیں درج ذیل ہیں:
(۱) ہمارا بر حق ہونا۔ (۲) اللہ کی معیت و نصرت۔ (۳) حوصلہ بڑھانے والے وعدے۔ (۴)فتنوں کی پیش گوئیاں اور آنے والے امتحانات کی خبریں۔ (۵) دلوں کو مسخر کرنے کی حقیقی طاقت۔ (۶) محفوظ شریعت۔ (۷) افرادی قوت۔ (۸) جغرافیائی حیثیت۔ (۹) معدنی دولت۔
دشمن کے کمزور پہلو
ہمارے حلیف کے کمزور پہلو یہ ہیں:
(۱) باطل عقیدہ و نظریہ۔ (۲) بے چین روح اور مضطرب ذہن۔ (۳) کھوکھلا معاشرہ، کمزور خاندانی نظام۔ (۴) موت کا خوف، حب دنیا۔ (۵) غرور و نخوت، غیظ و غضب، انتقامی جنون اور عجلت پسندی۔ (۶) تباہ ہوتی معیشت۔ (۷) افرادی قلت۔ (۸) اندرونی انتشار۔
کام کے طریقے
اپنی اور اپنے حریف کی قوتوں اور کمزوریوں کو سمجھنے کے بعد ہمیں کام کا آغاز کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ہم درج ذیل باتیں سمجھیں گے:
ہمارے اہداف کیا ہوں گے؟
کن اوصاف کے ساتھ کام کرنا ہے؟
کن پر کام کیا جائے گا؟
کن میدانوں پر تسلط حاصل کرنا ہوگا؟
ہتھیار کیا ہوں گے؟
کن مراکز سے توانائی لی جائے گی؟
ہمارے اہداف کیا ہوں گے؟
الغزو الفکری کے لیے ہمارے اہداف درج ذیل ہوں گے:
(۱) اللہ کی خوشنودی۔ (۲) بندوں کا اللہ کی طرف رجوع۔ (۳) اپنی تمام کمزوریوں کو دور کرنا جو باطل کو پنپنے کا موقع دیتی ہیں۔ (۴) استعمار، استشراق، التنصیر اور عالمگیریت کے خطرات کا مقابلہ۔ (۵) اسلام کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا تدارک۔ (۶) خلافت اسلامیہ کے لیے اذہان کو ہموار کرنا۔ (۷) غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت۔ (۸) شریعت کا نفاذ اور اسلامی معاشرے کے ایک مکمل نمونے کی تشکیل۔ (۹) پوری دنیا میں اسلام کا فکری و نظریاتی غلبہ۔
کام کرنے کے لیے لازمی اوصاف:
کام کرنے کے لیے لازمی اوصاف درج ذیل ہیں:
(۱) ایمانِ محکم۔ (۲) خلوصِ نیت۔ (۳) ذکراللہ کی کثرت۔ (۴) رزق حلال اور صدقہ خیرات۔ (۵) زہد و قناعت، سادہ زندگی۔ (۶) ادائیگیٔ واجبات اور ترکِ منکرات۔ (۷) حقوق العباد کی ادائیگی۔ (۸) ضروری علم دین۔ (۹) امت کی فکر۔ (۱۰) حالات حاضرہ اور تاریخ سے آگاہی۔ (۱۱) استقامت۔
کن پر کام کرنا ہے؟
الغزو الفکری میں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے مخاطب کون ہوں گے؟ ہماری محنت کا محور کون ہوں گے؟
(۱) اپنی ذات۔ (۲) گھر کے افراد، اہل و عیال۔ (۳) برادری، محلہ۔ (۴) غریب طبقات۔ (۵)اصحابِ ثروت۔ (۶) طلبہ۔ (۷) خواتین۔ (۸) بچے۔ (۹) رول ماڈل۔ (۱۰) حکام۔
ہمارے کام کے میدان:
وہ میدان جن میں ہمیں دخیل ہوکر الغزو الفکری کے معرکے لڑنا ہے، درج ذیل ہیں:
(۱) ایمان کامل اور اعمال صالحہ کی طرف دعوت کا میدان۔ (۲) سیاست کا میدان۔ (۳) غیر مسلموں میں تبلیغ کا میدان۔ (۴) دینی مدارس کا قیام اور ترقی۔ (۵) مساجد اور خانقاہوں کی آبادی۔ (۶) دینی ماحول کی حامل عصری علوم کی معیاری درسگاہوں کا قیام۔ (۷) عصری تعلیم گاہوں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کا رخ درست کرنا اور ان کے طلبہ، اساتذہ و انتظامیہ کو دین کے قریب لانا۔ (۸) میڈیا۔ (۹) مسلم دنیا کی تجارت و معیشت کو اسلامی خطوط پر استوار کرکے مضبوط اور خود کفیل بنانا۔ (۱۰) رفاہی خدمات کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلانا۔ (۱۱) شرعی حدود میں کھیل کود، تفریح، دلچسپ و معلوماتی سرگرمیوں کو فروغ دینا۔
ہمارے ہتھیار کیا ہوں گے؟
ہمارے ہتھیار وہی ہوں گے جن کا ذکر وسائل الغزو الفکری میں گزرچکا ہے۔
ہماری توانائی کے ذرائع(ہمارے مراکز):
ہماری توانائی کے ذرائع تین ہیں:
(۱) مسجد۔ (۲) مدرسہ۔ (۳) خانقاہ۔
یہی ہمارے تین بنیادی مراکز ہیں۔ تمام کاموں میں ان مراکز سے دم بدم رابطہ ضروری ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



