زبان و ادب، ثقافت و معاشرہ اور ان سے بڑھ کر تعلیم اور اس سے بھی بڑھ کر ذرائع ابلاغ کی اثر پذیری ثابت ہے۔ کرگسوں کی معیت شاہینوں کو رہ و رسم شاہ بازی سے عاری رکھتی ہے اور صحبتِ زاغ شاہین بچوں کو خراب کر دیتی ہے۔ اس ضمن میں اسی لیے شریعت نے اقامتِ دین و نفاذ شریعت کے ذریعے ایک اسلامی معاشرے کے قیام کا حکم دیا اور کفار کی معیت اور کفار کے درمیان بود و باش کو ممنوع قرار دیا۔ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ1، الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ2 اور لاَ تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ3 جیسے فرامین کی روشنی میں بھی اس بات کو سمجھا جا سکتا ہے۔
ہر ’فتنے‘کے زمانے میں ’مباحث‘ فتنے اور اس کی فکر کی نسبت سے ہی ہوتے ہیں۔ عقل پرستی کے زمانے میں عقل کی نسبت سے، فلسفے کے غلغلے میں بنسبتِ فلسفہ، سائنس کے زمانے میں سائنسی طور سے۔
دنیا میں بستے موجودہ انسانوں کی اکثریت نے ’نیشن سٹیٹس‘کے زمانے میں آنکھ کھولی ہے اور اگر آنکھ اس زمانے میں نہیں بھی کھولی تو کم از کم پانچ دہائیوں سے ایک صدی کے درمیانی عرصے میں اسی نظام کو غالب اور نافذ دیکھا ہے۔ سو دیکھنے سمجھنے کے سبھی زاویے اور جہتیں عموماً اسی ’فکری ڈبے‘ میں محبوس و محدود ہیں۔
ہم بھی ’جوئے بنگلہ‘، ’جیوے پاکستان ‘اور ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘کے وقت میں پیدا ہوئے ہیں اور ہر چیز کو حتیٰ کہ دین و احکامِ دین کو بھی اسی مذہب، دین یا نظام میں رہتے ہوئے سمجھتے ہیں۔ نیشن سٹیٹس سے وفاداری یا وطنیت (بقول اقبالؒ وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے) ہمارے خمیر میں ’گندھی‘ ہوئی ہے اور ہمارا دینی و مذہبی پیکج بھی حبِّ وطن کے (سیاسی تصور کے)بغیر پورا نہیں ہوتا اور اسی غرض سے شاید حُبّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ 4جیسی حدیثیں گھڑی گئی ہیں۔
غزوۂ ہند، رسولِ مبارک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک الہامی پیشین گوئی ہے اور اس غزوۂ موعودہ کو بھی ہمارے یہاں نیشن سٹیٹس کے تصور میں ہی رہتے ہوئے سمجھا جاتا ہے۔
بنیادی دو گروہ یا قومیں ہیں جو ’غزوۂ ہند‘ سے براہ راست وابستہ ہیں یا ہو سکتی ہیں اور جنہوں نے غزوۂ ہند کو اپنے اپنے سانچے میں ڈھال رکھا ہے۔
تاریخی طور پر ’ہند‘ کا جغرافیہ معلوم ہے اور کوئی نئی تحقیق اس جغرافیے کو شاید تبدیل نہیں کر سکتی۔بالفرض اگر آج کوئی مسلمان تحقیق کے نام پر جان بچانے کے لیے ’ہند‘ کے جغرافیے کو بدلنا چاہے تو بھی’شیو‘ کا ’تِرشُول‘ اس کو آج نہیں تو کل ضرور ’اکھنڈ بھارت‘ کا مطلب سمجھا دے گا5۔ موجودہ بنگلہ دیش، بھارت (ہندوستان) اور پاکستان کا قابلِ ذکر حصہ وہ ہند ہے جس کا ذکر مخبر صادق علیہ الصلاۃ والسلام کے فرامینِ مبارکہ میں آیا ہے (کشمیر بھی گلگت و آزاد جموں و کشمیر اور لداخ و بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت میں قریباً قریباً آدھا ہندوستان اور آدھا پاکستان کے پاس ہے، باقی اکسائی چین کا فی الحال ذکر نہیں کرتے)۔
آج کی نیشن سٹیٹ پاکستان کے ساتھ جب غزوۂ ہند کو عام طور پر جوڑا جاتا ہے تو درج ذیل نقاط عموماً سامنے آتے ہیں:
پاکستان میں چونکہ عوام کی اکثریت مسلمان ہے، اور یہ پہلے ہی ’اسلام کا قلعہ‘ ہے، سو یہاں نہ اس آخر الزمان کے اس غزوے کا ظہور ہو سکتا ہے نہ ہی پاکستان میں کسی جوہری اصلاح و تبدیلی کی ضرورت ہے۔ چونکہ یہ ایک ایسی عمارت ہے جس کے باہر ’مسجد‘ کی تختی لگی ہوئی ہے سو یہ متبرک ہے (درونِ عمارت جو مرضی ہو رہا ہو)۔
ہندوستان میں چونکہ ہندو ؍ کافروں کی اکثریت بستی ہے تو پاکستان اور پاکستان کی فوج وہ ’قوت‘ ہے جو ہندوستان کے خلاف غزوۂ ہند لڑے گی۔
چونکہ حدیث میں مذکورہ لفظ ہند ہے سو آج تو ہند بس انڈیا ہے جس میں نہ پاکستان(کے قدیم طور پر ہند کہلانے والے علاقے) شامل ہیں نہ بنگلہ دیش۔
پاک فوج کے بعض سپاہی اور زید حامد (’’یہ ریڈیو پاکستان ’دہلی‘ ہے ‘‘والا)قسم کے، اسلام آباد کی کسی سڑک پر جڑے اس سنگ میل کے پاس کھڑے تصویریں کھنچواتے پائے جاتے ہیں جس پر مری اتنے کلومیٹر، مظفر آباد اتنے کلومیٹر، سری نگر اتنے اور پھر نئی دہلی اتنے کلومیٹر لکھا ہوا ہے۔ گویا یہ جنگجو غزوۂ ہند لڑنے کو سڑک ماپ رہے ہوں۔
آج کی نیشن سٹیٹ بھارت کے ساتھ کچھ اس قسم کی باتیں وابستہ ہوتی ہیں:
اہلِ بھارت بھی محض آج کے انڈیا ہی کو ہند جانتے ہیں جو حدیث میں مذکور ہوا، لہٰذا یہی سمجھتے ہیں کہ عزوۂ ہند شاید پاکستان کی کوئی سازش ہے اور پاک فوج شاید جو جنگ لڑتی ہے وہ غزوۂ ہند ہے اور مستقبل میں یہ انڈیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اب تو بھارت میں ’غزوۂ ہند‘ سے متعلق ایک نیا ’بیانیہ‘ بھی تشکیل پا رہا ہے کہ یہ سنگھ پریوار کا پراپیگنڈا ہے۔
غزوۂ ہند کی احادیث اور ان احادیث کی صحت و سند ، اس غزوۂ موعودہ کے جائے وقوع وغیرہ کے متعلق ذی قدر حضراتِ علمائے کرام نے بہت کچھ لکھا ہے اور اسی حوالے سے مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ میں بھی بہت کچھ شائع ہوتا رہتا ہے۔
ہمیں بس ایک عرض کرنی ہے اور وہ یہ کہ غزوۂ ہند کو دین و شریعت کے علاوہ تمام مفادات، ذاتی، وطنی، قومی، سیاسی، کاروباری وغیرہ سے بالا ہو کر سمجھا جائے۔ غزوۂ ہند کو سمجھنے کے لیے اپنی بھارتی ، پاکستانی یا بنگلہ دیشی شناخت کا سینے پر سجا ’دو رنگا‘ یا ’ترنگا‘ بیج اتاریے اور:
غزوۂ ہند کی پیشین گوئی کو سمجھیے: یہ رسولِ مبارک صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی زبان سے ادا ہونے والا ارشاد ہے۔ اُن کا ارشاد ہے کہ
؏جن کا ’’ہاں‘‘، ’’نہیں‘‘ کہنا بھی ہے قرآن کے جیسا
یہ وہ غزوہ ہے جس کو لڑنے کی تمنا حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے عالمِ ذی شان و جلیل القدر صحابی فرمایا کرتے تھے۔
غزوۂ ہند کا مقصد سمجھیے: جو کہ اعلائے کلمۃ اللہ اور مسلمانانِ برِّ صغیر (سمیت تمام انسانیت)کو ہر طوقِ غیر اللہ اور ظلم سے آزادی دلانا ہے ۔
غزوۂ ہند جن کے خلاف لڑا جائے گاان کو سمجھیے: سندھ و ہند کے وہ حکمران جنہوں نے غیر اللہ کا نظام نافذ کر رکھا ہے چاہے وہ جمہوریت ہو، امریکی غلامی ہو، ہندوتوا کی حکمرانی ہو یا بنگلہ دیش میں ہندوتوا کی غلامی۔
غزوۂ ہند لڑنے والوں کو سمجھیے: امریکہ و بھارت سے ٹکرانا اس دنیا میں صرف مجاہدین کا کام ہے۔ اس غزوے کو وہی مجاہدینِ صادقین لڑیں گے جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی شریعت کو اپنی جانوں اور گھروں سے لے کر (سندھ و ہند) برِّ صغیر سمیت پوری دنیا پر اللہ ہی کے فرمان کے مطابق غالب و نافذ کر دینا چاہتے ہیں: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ6! یہ غزوہ لڑنے والوں کا آخری گروہ جب حکمرانانِ ہند کو اغلباً امام محمد بن عبداللہ المہدی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں زنجیروں میں کَس کر شام کے جہاد میں حصہ ڈالنے جائے گا تو وہاں عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کو پائے گا، جو اللہ کی رضا سے اس دنیا سے کفر کا خاتمہ کر دیں گے۔
اگر ہم اللہ کا کلمہ سربلند دیکھنا چاہتے ہیں، کفر و کفار سے نفرت رکھتے ہیں اور ایمان و اہلِ ایمان سے تعلقِ الفت رکھتے ہیں تو ہم سب غزوۂ ہند کے سپاہی ہیں اور ہم اگر کلاشن کوف اٹھانے کی قوت نہیں رکھتے، تو اللہ نے ہمیں دعوت و بیان کی قوت سے نوازا ہے اور اگر یہ بھی نہیں ہے تو ہم اللہ کے یہاں اخلاص کے ساتھ اپنا عذر پیش کرتے ہوئے غزوۂ ہند کے تمام متعلقات کے لیے دعا تو کر ہی سکتے ہیں۔
غزوۂ ہند، امتِ مسلمہ کی جنگ ہے جو مختلف محاذوں پر، مختلف جہتوں میں لنڈی کوتل تا رنگون برپا ہے۔ آئیے اس کا حصہ بنتے ہیں!
٭٭٭٭٭
1 ’’اور تم میں سے جو شخص ان (کفار)کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔ ‘‘ (سورۃ المائدۃ: ۵۱)
2 ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔‘‘ (مسندِ احمد)
3 ’’مشرکین کی آگ سے روشنی مت لینا‘‘ (ان سے مشورہ و استعانت، بلکہ ان کو مشورہ و استعانت تو دور کی بات ہے)۔ (سنن النسائی)
4 ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘ میں لکھا ہے کہ یہ ’موضوع‘ حدیث ہے۔
5 عجیب بات ہے کہ کفار عالمی حکومت اقوامِ متحدہ کے نام پر قائم کریں تو سب کو قبول اور خلافت کے عنوان تلے عالمی حکومت کا ذکر آئے تویہ مردود (نعوذباللہ)۔ اکھنڈ بھارت جس میں آج کا پاکستان ، بنگلہ دیش، انڈیا، بھوٹان، سری لنکا، نیپال اور برما آئے تو ہضم، لیکن برِّ صغیر کی عظیم مسلم سلطنت کا نام آئے تو سب حیرت سے اچھلتے ہیں؟!
6 ’’ وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔ ‘‘(سورة التوبۃ: ۳۳ و سورۃ الصف: ۹)






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



